تاریخِ عالم اس بات کی گواہ ہے کہ کوئی بھی قوم اس وقت تک سرفرازی اور آزادی کی منزل حاصل نہیں کر سکتی جب تک اس کی خواتین اپنے مردوں کے شانہ بشانہ میدانِ عمل میں نہ اتریں۔ برصغیر کے مسلمانوں نے جب اپنے لیے ایک الگ وطن کے حصول کا بیڑا اٹھای، تو یہ صرف ایک سیاسی جدوجہد نہیں تھی بلکہ تہذیبی، مذہبی اور معاشی بقا کی جنگ تھی۔ اس عظیم اور پرخلوص تحریک میں جہاں علمائے کرام، طلبہ اور جلیل القدر سیاسی رہنماؤں نے قربانیاں دیں، وہی مسلمان خواتین نے بھی ایثار اور شجاعت کی وہ داستانیں رقم کیں جو تاریخِ پاکستان کا سب سے روشن باب ہیں۔
تحریکِ پاکستان کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس سوال کا جواب برصغیر کے اس دور کے حالات میں پوشیدہ ہے جہاں مسلمان نہ صرف انگریز سامراج کے زیرِ تسلط تھے بلکہ ہندو اکثریت کے تعصب اور معاشی و تعلیمی استحصال کا شکار بھی بن رہے تھے۔ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد مسلمانوں کو مسلسل دیوار سے لگایا جا رہا تھ۔ ان کی مذہبی آزادی سلب ہو رہی تھی، ثقافت پر حملے ہو رہے تھے اور معاشی طور پر انہیں پسماندہ رکھا جا رہا تھا۔ اس تاریک دور میں علامہ اقبال کے خواب اور قائد اعظم محمد علی جناح کی بصیرت نے مسلمانوں کو ایک الگ پہچان دی۔ تحریکِ پاکستان دراصل برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک ایسا خطہ زمین حاصل کرنے کی جدوجہد تھی جہاں وہ اپنے عقیدے، تہذیب اور خودداری کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ یہ جنگ صرف زمین کے ٹکڑے کی نہیں بلکہ آزادانہ سانس لینے، انصاف کے قیام اور ایک محفوظ مستقبل کی جنگ تھی۔ اس بیداری کی لہر میں مسلمان خواتین نے گھریلو چاردیواری کے تحفظ کو چھوڑ کر قومی دھارے میں قدم رکھ۔ بیگم مولانا محمد علی جوہر (بی اماں)، بیگم رعنا لیاقت علی خان، بیگم جہان آرا شاہ نواز، بیگم سلمیٰ تصدق حسین اور بیگم شائستہ اکرام اللہ جیسی عظیم خواتین نے مسلمان عورتوں کو منظم کی۔ انہوں نے جلسے جلوس منعقد کیے، چندے جمع کیے اور غاصب حکومت کے مظالم کا ڈٹ کر مقابلہ کی۔ لاہور میں سول سیکرٹریٹ پر پرچم لہرانے والی نوجوان طالبات کی شجاعت نے انگریز حکومت کی بنیادیں ہلا دیں۔ ان تمام عظائم کے درمیان جو نام ستارہ بن کر چمکتا ہے، وہ مادرِ ملت محترمہ فاطمہ جناح کا ہے۔ محترمہ فاطمہ جناح صرف قائد اعظم کی ہمشیرہ نہیں تھیں، بلکہ وہ ان کی سب سے بڑی سیاسی مشیر، ہمدم اور تحریکِ پاکستان کی بے مثال قائد تھیں۔ پیشے کے اعتبار سے ڈینٹل سرجن ہونے کے باوجود انہوں نے قائد اعظم کی ذاتی زندگی اور صحت کی دیکھ بھال کے ساتھ ساتھ مسلم لیگ کی خواتین ونگ کو منظم کرنے کی ذمہ داری سنبھالی۔
قائد اعظمؒ نے خود فرمایا تھا: مجھے اپنی بہن پر فخر ہے، جس نے ہر مشکل وقت میں میرا ساتھ دیا اور میری ڈھارس بندھائی۔ محترمہ فاطمہ جناح نے برصغیر کے گوشے گوشے کا دورہ کر کے مسلمان عورتوں میں سیاسی شعور بیدار کی۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم ویمنز کمیٹی قائم کی اور خواتین کو تعلیمی اور معاشی طور پر مستحکم کرنے پر زور دی۔ قیامِ پاکستان کے بعد جب لاکھوں مہاجرین کٹ مٹ کر پاکستان پہنچے، تو فاطمہ جناح نے ان کی بحالی اور علاج معالجے کی دیکھ بھال میں دن رات ایک کر دی۔ آج جب ہم ایک آزاد فضامیں سانس لے رہے ہیں، تو ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ یہ ملک ان لاتعداد خواتین کی قربانیوں کا مرہونِ منت ہے جنہوں نے اپنے بچوں کو وطن کی قربان گاہ پر نچھاور کی۔ مادرِ ملت فاطمہ جناح کا سیاسی اور سماجی کردار آج کی پاکستانی عورت کے لیے ایک روشن مشعلِ راہ ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنی تاریخ کے اس روشن پہلو کو اجاگر کریں اور موجودہ دور میں خواتین کو تعلیم، سیاست اور معیشت میں وہ مقام دیں جس کا خواب بانیانِ پاکستان نے دیکھا تھا۔ ایک مستحکم، آزاد اور خوددار پاکستان کی تشکیل کے لیے آج بھی خواتین کا کردار اتنا ہی اہم ہے جتنا تحریکِ پاکستان کے دوران تھا۔
یہاں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کے ویمن امپاورمنٹ کے حوالے سے ویژن اور عملی اقدامات کا تذکرہ کرنا ضروری ہے کہ آپ سمجھتے ہیں کہ خواتین کو مضبوط اور خوشحال بنانے کے مرحلہ کی ابتدا خواتین کو تعلیم دینے سے ہوتی ہے، آپ نے اس ضمن میں منہاج کالج فار ویمن لاہور، منہاج کالج فار ویمن خانیوال، منہاج یونیورسٹی جیسے بے مثال ادارے قائم کر کے خواتین پر اعلیٰ تعلیم کے دروازے کھولے، اللہ رب العزت پاکستان کو سلامت رکھے، ہم قارئین دختران اسلام اور پوری اُمت کی خواتین کو یوم آزادی پر مبارکباد پیش کرتی ہیں۔