انسانی خدمت کے منصوبے شہر شہر تعمیر کے جائیں، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا تاریخی دورۂ برطانیہ

انسانی خدمت کے منصوبے شہر شہر تعمیر کے جائیں، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری  کا تاریخی دورۂ برطانیہ

خصوصی رپورٹ

تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرستِ اعلی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے حال ہی میں UKکا ایک انتہائی اہم، دعوتی، تربیتی اور فکری دورہ کی۔ اس تاریخی دورے میں ان کے ہمراہ شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری بھی موجود تھے۔ اس دورہ کے دوران آپ نے مختلف شہروں میں مساجد، اسلامک کمیونٹی سینٹرز اور عظیم الشان سیرت کانفرنسز میں شرکت کی اور مسلم امہ کی فکری رہنمائی فرمائی۔ اس تاریخی دورہ کی اجمالی رپورٹ نذرِ قارئین ہے:

1۔ UK آمد اور شاندار استقبال:

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی UK آمد پر منہاج القرآن انٹرنیشنل UK کے عہدیداران اور وابستگان نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ استقبالی وفد کی قیادت صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل یوکے سید علی عباس بخاری کر رہے تھے۔

2۔ کرالی (Crawley)میں کلچرل اینڈ کمیونٹی سنٹر کا دورہ:

اپنے دورے کے دوران شیخ الاسلام نے منہاج القرآن انٹرنیشنل کرالی کی نئی سائٹ 'کلچرل اینڈ کمیونٹی سنٹر' کا دورہ کیا۔ اس موقع پر صدر منہاج القرآن یوکے سید علی عباس بخاری نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ سنٹر مقامی کمیونٹی کے لیے دینی تعلیم کی تفہیم، تاریخ و کلچر سے آگاہی، علم و امن اور انسانی خدمت کے فروغ کا عظیم مرکز ہے۔ منہاج القرآن کے اسلامک سنٹرز دیارِ غیر میں آباد مسلم کمیونٹی کو اسلام کی پرامن اور روشن تعلیمات سے جوڑنے کے لیے اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ شیخ الاسلام نے کرالی میں اس سنٹر کے قیام پر UK تنظیم کے ذمہ داران کو مبارکباد دی اور فرمایا کہ اس طرح کے پراجیکٹس شہر شہر تعمیر کیے جائیں تاکہ افراد اور فیملیز اپنی تاریخ، دینی و سماجی اقدار اور روایات کے مطابق اپنی ترقی کا سفر جاری رکھ سکیں۔ یہ سنٹر آنے والی نسلوں کے لیے امن، علم اور انسانیت کی خدمت کا مینار ثابت ہوگا۔

3۔ برمنگھم کی سرگرمیاں:

نمازِ جمعہ، تعزیت اور سلطان باہو ٹرسٹ کا دورہ: شیخ الاسلام نے جامع مسجد منہاج القرآن برمنگھم میں نمازِ جمعہ ادا کی۔ نماز کے بعد آپ نے "اللہ سے ملاقات" کے موضوع پر مختصر مگر فکر انگیز گفتگو کی۔ آپ نے فرمایا کہ جس طرح ہم کسی اہم شخصیت سے ملاقات کے لیے بہترین لباس اور تیاری کے ساتھ جاتے ہیں، اسی طرح 'نماز' اللہ رب العزت سے ہماری سب سے اہم ملاقات کی تیاری ہے۔ نماز کے ذریعے ہم خود کو پاک کرتے ہیں اور اپنا روحانی تعلق مضبوط کرتے ہیں۔

بعد ازاں شیخ الاسلام نے سلطان باہو ٹرسٹ مسجد کا دورہ کیا اور محترم سلطان نیاز الحسن قادری اور محترم سلطان فیاض الحسن قادری کی ہمشیرہ کی وفات پر فاتحہ خوانی کی۔ آپ نے 1970 کی دہائی کی اپنی یادیں تازہ کیں جب آپ پاکستان میں دربارِ سلطان باہو پر روحانی مراقبہ اور جید علمائے کرام کی مجالس میں وقت گزارتے تھے۔ یہاں محترم پیر نیاز الحسن قادری، محترم مفتی یار محمد قادری، محترم سید فاروق شاہ، محترم پیر طیب الرحمان، محترم علامہ غلام ربانی افغانی، محترم مفتی فیض رسول، محترم صاحبزادہ بلال سلطان نے آپ کا پرتپاک استقبال کی۔

برمنگھم میں شیخ الاسلان نے محترم سید زاہد حسین شاہ کی ہمشیرہ کے انتقال پر ان کی رہائش گاہ جا کر اظہارِ تعزیت اور درجات کی بلندی کے لیے دعا کی۔

4۔ Rotherham میں مسجد ابوبکر میں تربیتِ اولاد پر فکری خطاب:

شیخ الاسلام نے Rotherham کی مسجد ابوبکر میں نمازِ جمعہ ادا کی۔ آپ نے مسلم گھرانوں اور مساجد میں 'تربیت' کے احیاء پر انتہائی مؤثر اور جامع خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج کل مسلم گھرانے صرف رہائش کی جگہ بن گئے ہیں، جبکہ انہیں ایسی تربیت گاہ ہونا چاہیے جہاں بچے نماز، ذکر، حی، سچائی اور اچھے اخلاق سیکھیں۔ ماضی میں بچے اپنے بڑوں کو تہجد، ذکر اور اللہ کی محبت میں روتے دیکھتے تھے جس سے ان کی روحانی تربیت ہوتی تھی۔ آج بچوں کی فکری اور اخلاقی تربیت تین ذرائع سے ہو رہی ہے: سکول، معاشرہ، اور سوشل میڈی۔ اگر گھر میں شعوری تربیت نہیں ہوگی تو یہ بیرونی عوامل بچے کی پوری شخصیت اور شناخت کو بدل دیں گے۔ تربیت کا آغاز پیدائش سے قبل ہی ہو جاتا ہے۔ ماں کے اردگرد کا ماحول، سکون، تناؤ، اور قرآن کی تلاوت بچے کی نشوونما پر گہرا اثر ڈالتی ہے۔ نوعمری میں ظاہر ہونے والے رویے دراصل ان ہی ابتدائی سالوں کی عکاس ہوتے ہیں۔ والدین کا نیک اور محبت بھرا ماحول ہی بچے کے لیے اصل "تعویذ" ہے۔

5۔ شیفلڈ (Sheffield) کی سرگرمیاں اور فکری نشستیں:

شیخ الاسلام کا شیفلڈ آمد پر کونسل آف ساؤتھ یارکشائر موسکز کے چیئرمین پروفیسر سلیم صاحب اور مدینہ مسجد شیفلڈ کے ٹرسٹیز کی جانب سے شاندار استقبال کیا گیا اور ان کے اعزاز میں عشائیہ دیا گیا جس میں شرکاء نے آپ کی آمد کو اپنے لیے باعثِ فخر و برکت قرار دی۔

شیفلڈ میں شیخ الاسلام نے المعرفہ کے طلبہ سے "The Unbroken Chain" کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حصولِ علم محض کتابیں پڑھنے کا نام نہیں، یہ اللہ کی بارگاہ میں مناجات اور نیت کی درستگی کا نام ہے۔ علم کا مقصد اللہ کی معرفت اور اس کا حقیقی بندہ بننا ہونا چاہیے۔ آپ نے عاجزی کی تلقین کرتے ہوئے تین درختوں کی مثال دی: (1) بغیر پتوں کا بڑا درخت جو سایہ نہیں دیت، (2) پتوں والا درخت جو سایہ دیتا ہے، (3) پھل دار درخت جس کی شاخیں عاجزی سے جھک جاتی ہیں۔ اسی طرح سچا علم انسان کو عاجز بناتا ہے جبکہ بغیر روحانی تبدیلی کے علم انسان کو ضدی اور سخت کر دیتا ہے۔ سچا علم انسان کو "میں اور میری ذات" کے خول سے نکالتا ہے۔ صاحبِ علم کبھی ظالم نہیں ہو سکتا، یہاں تک کہ دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھنا بھی ظلم کی ایک شکل ہے۔

6۔ عظیم الشان اور تاریخی "سیرت النبی ﷺ کانفرنس" شیفلڈ:

اتوار 7 جون 2026 کو مدینہ مسجد، ولزلی روڈ شیفلڈ میں منہاج القرآن انٹرنیشنل یوکے کے زیرِاہتمام ایک سالانہ تاریخی "سیرتِ نبوی ﷺ کانفرنس" منعقد ہوئی، جس میں UK بھر سے ہزاروں مرد و خواتین، فیملیز، علم، طلبہ اور کمیونٹی لیڈرز نے شرکت کی۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اس کانفرنس میں؛ سیرتِ نبوی کیا ہے؟ سیرت اور قرآن کا رشتہ کیا ہے؟ امت کو اس سے کیا فیض مل سکتا ہے؟ ان تمام سوالات کے تشفی بخش جوابات دیتے ہوئے ایک انتہائی پرمغز اور تاریخی خطاب کی۔

آپ نے فرمایا کہ قرآن تین طریقوں سے ظاہر ہوا: (1) وحی کی صورت میں نبی اکرم ﷺ کے قلبِ اطہر پر، (2) سیرت کی صورت میں آپ ﷺ کی روح اور کردار میں جذب ہو کر، (3) تلاوت کی صورت میں آپ ﷺ کی زبانِ اقدس سے عالمِ انسانیت تک۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے قول مبارک کا حوالہ دیتے ہوئے آپ نے واضح کیا کہ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ دراصل انسانی شکل میں چلتا پھرتا قرآن ہے۔ آپ نے سیرت کے باطنی اور ظاہری پہلوؤں پر زور دی۔ آپ نے طائف میں پتھر مارنے والوں کے لیے دعائے مغفرت ("اے اللہ میری قوم کو بخش دے، وہ جانتے نہیں")، فتح مکہ کے دن عام معافی ("آج تم پر کوئی ملامت نہیں")، روتے بچے کی وجہ سے نماز مختصر کرنے، اونٹ کی تکلیف پر شفقت، ہرنی کو بچے پلانے کی اجازت دینے اور اپنی رضاعی بہن حضرت شیما رضی اللہ عنہا کے کہنے پر قیدیوں کو آزاد کرنے کے درخشاں واقعات بیان کیے۔

شیخ الاسلام نے حدیث مبارک "میرے گھر اور میرے منبر کے درمیانی جگہ جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے" کی روشنی میں کلاسیکی ائمہ کے حوالوں سے روضہ رسول ﷺ اور آپ کی آرام گاہ کی بے پناہ فضیلت اور روحانی مرتبے کو بیان کی۔ اس موقع پر آپ نے متنبہ کیا کہ قرآن کو سنت اور حدیث سے الگ کر کے نہیں سمجھا جا سکت۔ نماز سمیت عبادت کی تمام جزئیات سنت سے ہی ثابت ہیں۔

آپ نے امام مالک کی والدہ کی نصیحت، امام ابو حنیفہ کے کردار اور امام احمد بن حنبل کی مجالس کا حوالہ دیتے ہوئے واضح کیا کہ جہاں علم کے ساتھ عاجزی نہ ہو وہاں تفریق پیدا ہوتی ہے، لیکن ادب کے ساتھ حاصل کیا گیا علم حکمت اور اتحاد کا باعث بنتا ہے۔ آپ نے مسلم امہ میں بڑھتی ہوئی تفریق، پبلک تنازعات اور دشمنی پر گہری تشویش کا اظہار کی۔ صحابہ کرام اور ائمہ اربعہ کی مثالیں دے کر آپ نے ثابت کیا کہ علمی اختلاف ہمیشہ سے رہا ہے مگر اسے عداوت نہیں بلکہ باہمی احترام اور محبت کے ساتھ رحمت بنایا جانا چاہیے۔

اس عظیم الشان کانفرنس میں شیفلڈ، برمنگھم، مانچسٹر، لنڈن، گلاسگو، بریڈ فورڈ اور متعدد دیگر شہروں سے جید علماء اور مشائخ کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔

7۔ کمیونٹی سنٹر Nottinghamمیں خطاب:

شیخ الاسلام نے بابرز مل کمیونٹی سینٹر نوٹنگھم میں نمازِ جمعہ میں شرکت کی، جس کی امامت مسلم ہینڈز انٹرنیشنل کے چیئرمین محترم پیر سید لخت حسنین نے کی۔ یہاں کاریمیا انسٹیٹیوٹ کے سی ای او ڈاکٹر مشرف حسین، اور ایم کیو آئی نوٹنگھم کے صدر اور اولرٹن ٹاؤن کونسل کے ڈپٹی میئر راجہ محمد فاضل خان نے آپ کا استقبال کی۔ نمازِ جمعہ کے بعد آپ نے ہر مومن کے لیے چار بنیادی رشتوں کی استواری پر زور دیا: (1)۔ اپنے ارادوں کو اللہ کے حکم کے تابع کرنا اور اس کے فیصلوں پر صبر و شکر کرن۔ (2)۔ سنت پر عمل کرنا اور آپ ﷺ کی سیرت کو زندگی کا رول ماڈل بنان۔ (3)۔ لوگوں کے ساتھ شفقت، انصاف اور احترام سے پیش آنا اور معاشرے میں مثبت کردار ادا کرن۔ (4)۔ انا کو کنٹرول کرن، خود احتسابی اور ذکرِ الٰہی کے ذریعے نفس کا تزکیہ کرن۔

8۔ نوٹنگھم (Nottingham )میں علما و مشائخ کے ساتھ سوال و جواب کی خصوصی فکری و علمی نشست:

مسلم ہینڈز کے سرپرست محترم پیر سید لخت حسنین اور محترم پیر نیاز الحسن قادری کی صدارت و میزبانی میں نوٹنگھم میں ایک عظیم الشان اور یادگار علمی و فکری نشست کا انعقاد ہو، جس میں پورے UK سے 500 سے زائد علمائے کرام، مشائخ، ائمہ اور دانشوروں نے شرکت کی۔ محترم پیر سید لخت حسنین کے جاری کردہ اعلامیہ کے مطابق یہ نشست کوئی مناظرہ نہیں تھا بلکہ ہر شریک کو تحریری سوال پوچھنے کا موقع دیا گیا جس میں شرکاء نے کمال نظم و ضبط اور علمی ذوق کا مظاہرہ کی۔ شیخ الاسلام نے انتہائی عمیق علمی بصیرت، دلائل کی پختگی اور متانت کے ساتھ درج ذیل اہم سلگتے موضوعات پر تفصیلی جوابات دیے:

(1)اہلِ کتاب اور فقہی تفریق:

شیخ الاسلام نے امام ابو حنیفہ، امام ماتریدی، امام کاسانی (بدائع الصنائع)، امام مرغینانی (الہدایہ)، امام زیلعی (تبیین الحقائق) اور ابن نجیم (البحر الرائق) کے حوالوں سے واضح کیا کہ فقہ حنفی میں یہود و نصاریٰ کو ان کے الہامی کتاب کے دعوے کی بنیاد پر اہلِ کتاب مانا گیا ہے، گو کہ ان کے عقائد میں تحریف ہو چکی ہے۔ انہیں انگریزی میں "Believers" کہنے کا مطلب اسلامی نقطہ نظر سے مومن ہونا نہیں بلکہ ان کا آسمانی کتاب پر اعتقاد کا دعویٰ ہے۔

(2) کرسمس، ایسٹر اور مسلمانوں کی شرکت:

شیخ الاسلام نے ایسٹر (جس میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے مصلوب ہونے اور دوبارہ جی اٹھنے کا عقیدہ ہے)، اس تہوارمیں مسلمانوں کی شرکت کو ناجائز قرار دی، کیونکہ یہ قرآنی عقائد کے خلاف ہے۔ البتہ کرسمس کے موقع پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی معجزانہ ولادت کی خوشی میں (بغیر کسی باطل عقیدے یا حرام فعل کے) کیک کاٹنے اور شرکت کرنے کو جائز قرار دی۔

(3) بین المذاہب مکالمہ اور نبوی طریقہ:

آپ نے حکمت، موعظتِ حسنہ اور بہترین مکالمے کو دعوت کی بنیاد قرار دی۔ آپ نے تورات کو تکیہ پر رکھ کر عزت دینے اور نجران کے عیسائیوں کو مسجدِ نبوی میں اپنی عبادت کی اجازت دینے کے نبوی ﷺ طریقوں کو پیش کی۔

(4)خلفائے راشدین کے القابات اور اختلاف کا ادب:

حضرت ابوبکر کے لیے 'صدیقِ اکبر' اور حضرت عمر کے لیے 'فاروقِ اعظم' کے القابات کے حوالے سے آپ نے فرمایا کہ "صدیق" اور "فاروق" کا ثبوت احادیث میں موجود ہے، جبکہ "اکبر" اور "اعظم" کے تعظیمی الفاظ امت صدیوں سے استعمال کر رہی ہے۔ ان پر سوشل میڈیا پر فتنے کھڑے کرنا سخت ناپسندیدہ ہے۔

(5) خلافتِ راشدہ اور روحانی ولایت:

آپ نے غدیرِ خم کے حوالے سے واضح کیا کہ خلافتِ راشدہ دین کے ظاہری نظام اور ریاست کے تحفظ کا نام ہے، جبکہ ظاہری خلافت باطنی ولایت کی نفی نہیں کرتی۔ نبی کریم ﷺ نے مولا علی رضی اللہ عنہ کو وہ روحانی ولایت عطا کی جس سے امت میں تصوف اور روحانیت کے دروازے کھلے۔ یہ دونوں حقیقتیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔

(6) UK اور یورپ میں نمازِ عشاء کے اوقات:

موسمِ گرما میں طویل دنوں کی وجہ سے جب شفق غائب نہیں ہوتی، تو آپ نے واضح کیا کہ نماز کی فرضیت وقت سے ہے، علامات (جیسے سائے کی لمبائی یا شفق) محض انڈیکیٹرز ہیں۔ جب علامات موجود نہ ہوں تو وقت کا تناسب (Proportional division) نکالا جائے گا۔ آپ نے دجال کے وقت کے متعلق حدیثِ مسلم کا حوالہ دیا جس میں نبی ﷺ نے نمازوں کے اوقات کا اندازہ لگا کر ادا کرنے کا حکم دیا تھا۔

(7)مغرب میں مسلم نوجوان اور سوشل میڈیا کا فتنہ:

آپ نے سخت وارننگ دی کہ ہمارے نوجوانوں کو سوشل میڈیا پر الحاد (Atheism)، سیکولرزم، اور اخلاقی بے راہ روی کا سامنا ہے۔ کمیونٹی لیڈرز مسلکی اختلافات کو درآمد کرنے کی بجائے بچوں کے ایمان، شناخت اور روحانی خود اعتمادی پر کام کریں۔ آپ نے بغیر تحقیق کے فتویٰ دینے، تکفیر کرنے اور لاپرواہی سے بولنے کی بجائے صحابہ اور امام مالک کی طرح "میں نہیں جانتا" (لا ادری) کہنے کی عادت کو اپنانے پر زور دیا۔

تقریباً چار گھنٹے پر مشتمل اس سیشن میں سوالات کے جوابات نہایت تفصیل اور فہم و تدبر کے ساتھ دیے گئے۔ سوالات کی ترتیب نہایت منظم اور علمی نوعیت کی تھی، جبکہ شیخ الاسلام نے اختصار، جامعیت اور دلائل کے ساتھ ان تمام موضوعات پر اپنا مؤقف پیش فرمایا۔ اس نشست کے دوران شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے سوشل میڈیا کے غلط استعمال، غیر ذمہ دارانہ فتووں، فکری گمراہی، مناظرانہ رجحانات، تکفیر اور توہین آمیز رویوں پر گفتگو کرتے ہوئے اس امر پر تنقید کی کہ آج کے دور میں علمی عاجزی کم ہو گئی ہے اور باہمی احترام کا جذبہ کمزور پڑ گیا ہے۔ آپ نے ان رویوں کی بھی نشاندہی کی جن میں بعض افراد اپنی رائے کو حتمی سچائی سمجھ کر پیش کرتے ہیں اور اختلافِ رائے کو غیر مہذب انداز میں لیا جاتا ہے۔

آپ نے اس بات پر زور دیا کہ اختلاف کا احترام ضروری ہے، کیونکہ معمولی علم کے ساتھ پیدا ہونے والا تکبر نقصان دہ ہے اور علمی دیانت کا تقاضا یہ بھی ہے کہ ضرورت پڑنے پر ’’میں نہیں جانتا‘‘ کہنے میں بھی کوئی عار محسوس نہ کی جائے۔

نشست کے اختتام پر شیخ الاسلام نے خوشخبری سنائی کہ آنے والے رمضان تک تین نئی تفاسیر شائع کی جا رہی ہیں: (1) تفسیری تربوی (اخلاقی و روحانی تربیت)، (2) اجمالی تفسی (3) عربی متنی تفسیر۔ اس کے علاوہ آپ نے فرمایا کہ انہوں نے مولا علی رضی اللہ عنہ سے مروی تقریباً 12,000 مستند احادیث کا عظیم الشان مجموعہ (موضوع وار ابواب پر مشتمل) مرتب کر لیا ہے جو کہ امت کے لیے ایک عظیم علمی خزانہ ثابت ہوگا۔ نیز، اہلِ بیت کے حوالے سے 150 جید علمائے اسلام کے کام کو بھی مرتب کیا جا رہا ہے۔

اس علمی نشست کے حوالے سے مسلم ہینڈز کے چیئرمین پیر سید لخت حسنین نے اپنے تاثرات میں لکھا کہ یہ محفل محض سوال و جواب نہیں بلکہ علم، حکمت، بصیرت اور روحانی فیوض کا ایسا حسین امتزاج تھی جس نے حاضرین کے قلوب و اذہان کو منور کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب کی عمیق علمی بصیرت اور دلائل کی پختگی نے پیچیدہ موضوعات کو انتہائی سادگی اور جامعیت کے ساتھ حل کر دیا۔

9۔ برمنگھم میں محترم پیر سید منور حسین شاہ جماعتی کا شیخ الاسلام کے اعزاز میں تقریب:

برمنگھم میں محترم پیر سید منور حسین شاہ جماعتی کی جانب سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے اعزاز میں ایک نجی ملاقات (Meet-and-greet) کی تقریب کی میزبانی کی گئی۔ اس تقریب میں جید مشائخ اور علماء کرام نے شرکت کی، جن میں محترم پیر نیاز الحسن، محترم پیر سید لختِ حسنین، محترم پیر سید بلال حسین چشتی، محترم قاضی عبدالعزیز چشتی اور محترم ڈاکٹر مشرف حسین سمیت کئی دیگر شخصیات شامل تھیں۔ تقریب میں منہاج القرآن انٹرنیشنل (MQI) یوکے کی قیادت کے نمائندے بھی موجود تھے۔

اس اجتماع نے معزز علماء اور مشائخ کو شیخ الاسلام سے ملاقات کرنے اور ایک پروقار و قریبی ماحول میں ان کی صحبت، رہنمائی اور علمی بصیرت سے مستفید ہونے کا موقع فراہم کی۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا دورہ UK علم و حکمت، اتحادِ امت، عشقِ رسول ﷺ اور نئی نسل کے ایمان کے تحفظ کا ایک تاریخی اور سنگِ میل دورہ ثابت ہوا ہے جس کے اثرات UK کی مسلم کمیونٹی پر دیرپا رہیں گے۔