ارشاد باری تعالی ہے۔
وَمَآ أَرْسَلْنَـٰكَ إِلَّا رَحْمَةًۭ لِّلْعَـٰلَمِينَ
( اور ہم نے تمہیں نہ بھیجا مگر رحمت بنا کر سارے جہاں کے لیے)(الانبیاء-21-107)
نجات کل عالم
باری تعالی نے قرآن حکیم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو مختلف مقامات پر انسانوں کے لیے رحمت قرار دیا ہے اور اس کی بعثت کو تمام انسانوں کے لیے ہدایت سے تعبیر کیا ہے گویا آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب انسانوں کے لیے رحمت عالم ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور اس سب انسانوں کے لیے ہادی عالم ہیں اور آپ کی اس شان رحمت سے کامل طور پر وہ انسان مستفیض ہوں گے جو آپ کی لائی ہوئی ہدایات پر ایمان لائیں گے اور ان ہدایات کو اپنی حیات کا عمل اور اپنا کردار بنائیں گے اور اس آیت کریمہ میں لفظ رحمۃ للعالمین آپ ﷺ کی شان ہادی عالم کو ثابت کرتا ہے اسی حقیقت کو قرآن دوسرے مقام پر سورہ سبا میں ارشاد ہے:
وَمَآ أَرْسَلْنَـٰكَ إِلَّا كَآفَّةًۭ لِّلنَّاسِ بَشِيرًۭا وَنَذِيرًۭا وَلَـٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ۔
(اے رسول ہم نے آپ کو تمام لوگوں کے لیے خوشخبری دینے والا اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے ہیں۔ )(سبا-34-28)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر انسان کے لیے نجات ہیں آپ لوگوں کو اللہ کی ذات پر ایمان کی دعوت دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ اپنی رسالت و نبوت پر لوگوں کو ایمان کی طرف اور اسلام کی طرف بلاتے ہیں اور آپ ﷺ لوگوں کو قرآن پر ایمان رکھنے اور عمل بالقرآن کی طرف داعی ہیں آپ ﷺ کی یہ دعوت اور اس کی قبولیت ان لوگوں کے لیے آپ کے بشر ہونے کی وجہ سے جنت کی بشارت بنتی ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سب خلق کے لیے نظیر بھی ہیں اور جو لوگ کسی بھی خدا سے نہیں ڈرتے تھے آپ ﷺ ان کے لیے بھی نظیر ہیں اور سب لوگوں کو قیامت کا خوف دلاتے ہیں قیامت کے روز حساب و کتاب سے ڈراتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کریمہ میں لفظ کافه الناس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہادی عالم کو ثابت کرتا ہےکہ قرآن میں یہ گواہی آپ ﷺ کی رسالت اور آپ ﷺ کے نبوت کا دائرہ کار کافہ لناس کے لیے ہے آپ ہر ایک اطاعت گزار انسان کو اللہ کے انعامات اور اللہ کی جنت کی خوشخبری سنانے والے ہیں اور ہر ایک نہ فرما انسان اور معصیت کار انسان کو اللہ کا ڈر سنانے والے ہیں اور دوزخ کا خوف دلانے والے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اسی عمومی رسالت اور اسی عالمی نبوت کا اعلان قرآن حکیم ایک اور مقام پر یوں کرتا ہے۔
قُلْ يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنِّى رَسُولُ ٱللَّهِ إِلَيْكُمْ جَمِيعً
(آپ کہہ دیجیے اے لوگو میں تم سب کی طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں)(الاعراف -7-158)
إِلَيْكُمْ جَمِيعًااور شروع میں يَـٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ کے الفاظ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہادی عالم ہونے کی شان کو واضح کرتے ہیں آپ کی رسالت اور آپ کی نبوت اپنے دائرے میں اور اپنے پیغام میں آفاقی ہے اور عالمگیر ہے اور جمیع الناس کی حامل ہے اسی طرح باری تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کو ہدایت الناس اور اس دین کے غلبے کو علی الدین کلہ پر قائم کیا ہے یہ دونوں حقیقتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہادی عالم ہونے کی شان کو ثابت کرتی ہیں ارشاد باری تعالی ہے۔
هُوَ ٱلَّذِىٓ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ وَدِينِ ٱلْحَقِّ لِيُظْهِرَهُۥ عَلَى ٱلدِّينِ كُلِّهِۦ وَلَوْ كَرِهَ ٱلْمُشْرِكُونَ۔
(وہی تو ہے جس نے اپنے پیغمبر کو ہدایت اور دین حق دے کر بھیجا تاکہ سب اس سب دینوں پر غالب کرے خواہ مشرکوں کو برا ہی لگے)( الصف 61-9)
ہدایت کا معنی مفسرین کرام یہ بیان کرتے ہیں کہ أَرْسَلَ رَسُولَهُۥ بِٱلْهُدَىٰ سے مراد علم نافع اور علم ساحل بھی ہے اور اس سے مراد قرآن اور ایمان بھی ہے اور ان سب چیزوں کے ساتھ آپ کو مبعوث کرنے کا مقصد یہ ہے کہ آپ ان چیزوں کے ذریعے لوگوں کو حق کی طرف رہنمائی دیں اور لوگوں کو کفر کی ظلمت سے نکال کر ایمان کی روشنی کی طرف لے کر آئیں باری تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کو کسی خاص قوم تک محدود نہیں کیا ہے بلکہ ہدایت اور دینی حق کے ساتھ مختص کیا ہے اور یہ ہدایت اسلام یہ دین حق کسی خاص زمان و مکان کے لیے محدود نہیں ہے اور آپ کی یہی ہدایت الہی اور آپ کا یہ دین حق قیامت تک قابل عمل ہے اور ہر انسانی حاجت کو مکمل کرنے کی یہ ہدایت اپنے اندر ضمانت رکھتی ہے اور یہ دین حق سب ادیان پر خالق و برتر ہے اور ہر اعتبار سے یہ دین کامل اور دین اکمل ہے اور اس دین پر کاملیت کی مہر باری تعالی نے خود لگائی ہے۔
ٱلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمْ وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِى وَرَضِيتُ لَكُمُ ٱلْإِسْلَـٰمَ دِينًۭا ۚ
(آج میں نے تمہارے لیے دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا)(المائدہ 5-3)
اس دین کو قیامت تک کے لیے باری تعالی نے اپنے بندوں کے لیے پسند فرمایا ہے اور منتخب فرمایا ہے اور اس دین کے ذریعے لوگوں پر اپنی نعمتوں کو تمام اور مکمل کیا ہے.
اس دین کو سب ادیان پر پہلے الوت اور غلبہ دیا جائے اور اس کا ذریعہ برہان و حجت اور دلیل کو بنایا جائے اور پھر اس دین کو ساری دنیا میں دعوت و تبلیغ کے ذریعے پھیلا دیا جائے اور پھر اس کو غالب کیا جائے اب یہ آیت کریمہِ" لیظهره علی الدین " واضح کرتی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت و رسالت کسی خاص قوم کے لیے محدود نہیں اور کسی خاص زمانے کے ساتھ مختص نہیں ہے بلکہ آپ کی نبوت اور رسالت کا دائرہ کار فقط قوم کی بجائے جمیع الناس ہے اور کسی اس زمانے کی بجائے لکل الازمنہ ہے۔
اور کسی ایک عالم کی بجائے کل عالمین کے لیے ہے آپ کے دین کا غلبہ کسی ایک دین پر غلبے کی بجائے دین کلہ غلبہ مقصود ہے اور ہر ہر اس دین پر اس دین اسلام کا غلبہ مقصود و مطلوب ہے جسے کوئی بھی فرد بشر اپنی زندگی میں اختیار کے لیے ہوئے ہے اور اس دین پر اپنی زندگی کو وہ استوار کیے ہوئے ہے اب یہ سارا دین اور اس کے سارے خصائص کا حامل اس دین کا وہ نبی اور رسول ہے جس کی بعثت کفل الناس کے لیے ہے جس کی رحمت اللعالمین کے لیے ہے جس کی رسالت دائرہ کار الیکم جمیعا کی شان رکھنے والا ہے جو ہر انسان کے لیے بشیر بھی ہے اور جو ہر انسان کے لیے نظیر بھی ہے جس کی ہدایت لکل الناس ہے باری تعالی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہادی عالم کی اس اعتبار سے بھی قرآن میں بیان کی ہے کہ آپ کی ذات اقدس کو تمام لوگوں پر گواہ بنایا ہے اور اس کے ساتھ آپ کی ذات اقدس کو پہلے لوگوں پر بھی گواہ بنایا ہے اور آپ اپنی امت پر بھی گواہ ہیں گویا اس اعتبار سے آپ شاہد لکلی الناس فی کل الزمان کی شان رکھتے ہیں آپ ہدیہ عالم کی طرح شاہد لکل الناس اور شاہد لکل العالم ہیں اس حقیقت کو قرآن حکیم یوں واضح کرتا ہے ارشاد باری تعالی ہے۔
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَـٰكُمْ أُمَّةًۭ وَسَطًۭا لِّتَكُونُوا۟ شُهَدَآءَ عَلَى ٱلنَّاسِ وَيَكُونَ ٱلرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَهِيدًۭا
(اور اے مسلمانو اسی طرح ہم نے تمہیں اعتدال والی بہتر امت بنایا ہے تاکہ تم لوگوں پر گواہ بنو اور ہمارا یہ برگزیدہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تم پر گواہ ہو)(البقرہ 2-143)
یہ آیت کریمہ واضح کر رہی ہے کہ امت مسلمہ کو باری تعالی نے ایک افضل اور ایک اشرف اور ایک اعلی امت اس اعتبار سے بنایا ہے کہ انہوں نے خود کو امت مواحدہ بناتے ہوئے دین اسلام کے پیغام اور اس کی دعوت اس کی تبلیغ اور اس کل دعوت دین کو لوگوں تک پہنچایا ہے اور ان کی یہ ذمہ داری قیامت تک کے لیے ہے اس لیے کہ لفظ وسط عدل کے معنی میں ہے امن کے مفہوم میں ہے اسوہ حسنہ اور خیار کے معنی میں استعمال ہوا ہے یہاں ہم معنی خیار امت کے لیے لے رہے ہیں کہ یہ امت دین کی دعوت اور اس کی تبلیغ اور اس کے ابلاغ میں اعلی و افضل ہے اور اس امت نے دین کو تمام لوگوں تک پہنچایا ہے جو کہ بے صدر رسالت و نبوت محمدیت اور افاقیت پکی بنا پر امت مسلمہ پر لازم تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس ان تک دین کو اس طرح پہنچایا ہے کہ خطبہ حجۃ الوداع کے موقع پر ان سے شہادت لی ہے اور ان سے گواہی لی ہے۔
الا هل بلغت اللهم اشهد
(اے لوگو کیا دین اسلام کی دعوت میں نے تم تک پہنچا دی ہے)
اس پر سب صحابہ کرام نے بیک زبان کہا جی ہاں یا رسول اللہ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے باری تعالی کی بارگاہ میں عرض کیا!
اللهم فاشهد مولاه
ان کی گواہی و شہادت پر تم گواہ ہو جاؤ اسی طرح قیامت کے دن یہ امت مسلمہ دوسری امت پر گواہ ہوگی اور ان کے انبیاء پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گواہ ہوں گے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شاہدیت کی یہ شان بھی آپ کے ہادی عالم ہونے کی شان کا اظہار رسول اللہ کی سیرت کو باری تعالی نے تمام انسانوں کی سیرت کے لیے اسوہ حسنہ ایک قدوہ عرفہ ایک المثل الاعلی بنایا ہے آپ کی سیرت کا آفاقی ہونا عالمی ہونا اور ہر انسان کے نمونہ عمل ہونا ہی آپ کا ہادی عالم ہونا ہے اس لیے باری تعالی نے ارشاد فرمایا!
لَّقَدْ كَانَ لَكُمْ فِى رَسُولِ ٱللَّهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌۭ
(فی الحقیقت تمہارے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات میں نہایت ہی حسین نمونہ حیات ہے)(الأحزاب-21-33)
اس آیت کریمہ میں لفظ لقد ہر عقل مند شخص کے لیے اور ہر ریب کا خاتمہ کر رہا ہے کہ آگے تصور ہے وہ محققہ ہے وہ ہر زمانے میں ثابت ہونے والا ہے اور مسلمہ ہے اور معتمدہ اور معتبرہ ہے بالخصوص اہل ایمان کے لیے اور ہر شخص کے لیے جو سچے دل سے طالب حق ہے اور طالب ہدایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے صادر ہونے والے اقوال اس کے لیے اسوہ حسنہ ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ظہور پذیر ہونے والے افعال اس کے لیے قد و رفع ہیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ظاہر ہونے والے اخلاق اس کے لیے المثل الاعلی ہیں آپ کی سیرت اقدس کا ایک ایک گوشہ اس کی اپنی سیرت کو عظیم بنا سکتا ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کا ایک ایک پہلو اس کی شخصیت کو قابل افتخار بنا سکتا ہے اگر وہ اپنے اندریقتدی بہ اور یطیع بہ کہ خصلت رکھتا ہے اگر اس کے وجود میں جذبہ پیروی ہے اور ولولہ اتباع ہے تو وہ خود کو اسوہ رسول ﷺ میں ڈھالنے کا جذبہ رکھتا ہے تو وہ آج کے دور میں بھی اتباع رسالت ﷺ کی بنا پر اور پیروی اسوہ رسول ﷺ کی بنا پر ایک عظیم اسوہ حیات اور ایک فی قدوہ سیرت کا مالک بن سکتا ہے اس لیے کہ یہ اسوہ حسنہ اس ہدیہ عالم کا اسوہ حسنہ ہے کہ جس کے اسوہ حسنہ کو باری تعالی نے کسی قوم کے لیے مخصوص نہیں کیا ہے اور نہ ہی اسوہ حسنہ کو کسی زمانے کے ساتھ مفید کیا ہے گویا یہ اسوہ حسنہ ایک عالمی اور ایک آفاقی اسوہ حسنہ ہے یہ ایک عالمگیر اسوہ ہے اور ایک ہمہ گیر اسوہ ہے اور یہ اس نبی کا اسوہ حسنہ ہے جو نبی خود اپنی بعثت کی عالمگیریت اور آفاقیت کا اعلان کر رہا ہے۔
وبعثت إلى الناس كافة
میری بعثت دنیا کے تمام انسانوں کی ہدایت اور رہنمائی کے لیے ہوتی ہے( صحیح بخاری رقم 335) اور اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا !
أنا سيد ولد آدم يوم القيامة ولا فخر
میں قیامت کے دن بھی اولاد آدم کا سردار ہوں گا اس بات کا اظہار بطور فخر نہیں ہے۔ ( صحیح مسلم رقم الحدیث 78 22)
اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے ہادی عالم ہونے کی شان آپ ﷺ کے اس فرمان سے بھی ظاہر ہوتی ہے۔
بعثت إلى الأحمر والأسود
(میں دنیا کے سرخ و سفید اور کالے و سیاہ انسان کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ )( مسند احمد 23408 )
آج ساری دنیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہی وہ واحد ذات ہے جس کو ساری دنیا کے انسانوں کے سامنے ایک ورلڈ لیڈر اور ایک گلوبل لیڈر کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے جن کی ذات و شخصیت میں کردار کا ایک ایک قابل مثال اور قابل اتباع اور قابل اطاعت وصف پایا جاتا ہے جن کے اس وقت سیرت کو ایک زندہ ایک تابندہ اسوہ حیات کی حیثیت سے اپنایا جا سکتا ہے اور ان کے عمل کا کردار کو اپنا عمل و کردار بنایا جا سکتا ہے اور ان کے اخلاق و احوال کو اپنا خلق اور اپنا رویہ بنایا جا سکتا ہے اور جن کے قائدانہ اوصاف کی پیروی ہمیں دنیاوی کامیابی سے بھی ہمکنار کرتی ہے اور اخروی نجات سے بھی سرفراز کرتی ہے اور جن کے اسوہ حسنہ کی پیروی ہمیں دنیاوی کامیابی اور اخروی نجات کی ضمانت دیتی ہے یہ مضبوط اور یہ محکم زمانہ دنیا کی کسی اور سیرت کو اور کسی اور اسوہ کو حاصل نہیں ہے یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس ہر شعبہ زندگی سے متعلق ہر اس شخص کے لیے ہادی کی شان رکھتی ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہادی کے منصب پر اس لیے بھی فائز ہیں۔
صادق اور امین
آپ ﷺ کی ذات میں ہادی کی صفات قیادت اور ساری صفات الوت پائی جاتی ہیں ہادی عالم کا سب سے پہلا اور نمایاں وصف قیادت یہ ہے کہ اس کے پیغام کو اس کے دین اور اس کے نظام ہدآیت کو آفاقیت کا مقام حاصل ہے اس کا کائناتی اور آفاقی Universality کی شان کا حامل ہے ایک سچا آفاقی لیڈر وہی ہوتا ہے جو ساری دنیا کو گائیڈ کرتا ہے اور ہر انسان اس کے پیغام اس کے مشن اور اس کی شمع ہدآیت سے مستفیض ہوتا ہے وہ کبھی بھی صرف ایک قبیلے ایک قوم اور ایک طبقے کا ہی رہنما نہیں ہوتا ہے وہ سب اقوام اور سب قبائل اور سب طبقات کا رہنما ہوتا ہے جس کی طرف قرآن نے یوں اشارہ کیا ہے۔
وَمَآ أَرْسَلْنَـٰكَ إِلَّا كَآفَّةًۭ لِّلنَّاسِ بَشِيرًۭا وَنَذِيرًۭ
(اور ہم نے آپ کو نہیں بھیجا مگر اس طرح کیا پوری انسانیت کے لیے خوشخبری سنانے والے اور ڈر سنانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ )( سبا 34-28)
یہ آیت کریمہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی شان ہادی عالم ہونے کو واضح کر رہی ہے ہادی عالم ذات انسانوں کے مسائل کو حل کرتی ہے خواہ وہ اخلاقی دینی مسائل ہوں قانونی و عدالتی مسائل ہوں معاشرتی و معاشی مسائل ہوں سیاسی ہوں اور روحانی عمرانی مسائل ہوں اور وہ سب سائل کو اپنے اصول انصاف اپنے اصول اخلاق اپنے اصول بعثت اور اپنے اصول روحانیت اپنے اصول معاشرت اپنے اصول سیاست کے ذریعے حل کرتا ہے اس ہر اصول اور اس کی تعلیمات زمان و مکان کی حدود سے ماورا ہوتی ہے اس لیے وہ ذات ہر دور کے لیے جملہ مسائل کو حل کر رہی ہوتی ہے اسی ذات کو ہادی عالم کہتے ہیں ہادی عالم کے منصب پر فائز ذات کا دوسرا بڑا امتیاز اور دوسرا بڑا خاصہ یہ ہوتا ہے کہ وہ Character based leadership کا وصف عظیم اور منفرد خاصہ قیادت بھی اپنے اندر رکھتا ہے اس کی ساری عظمت رفعت اس کے ثابت شدہ اور اس کے تسلیم شدہ کردار کی وجہ سے ہوتی ہے اور وہ اپنے کردار میں بے مثل ہوتا ہے اور وہ اپنے کردار میں عظیم ہوتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سارے انسانوں کو اپنے اخلاق و کردار کے ذریعے متاثر کیا ہے۔
آپ ﷺ کے عظیم اخلاق اور اعلی کردار نے لوگوں کے دلوں میں آپ ﷺ کی عظمت اور آپ کی فضیلت اور آپ ﷺ کے شرف کو ثابت کیا ہے اور آپ کے عظیم کردار نے آپ ﷺ کی ذات کو لوگوں کے لیے قابل اعتماد قابل بھروسہ اور قابل تکریم اور قابل احترام بنایا ہے جس کے نتیجے میں انہوں نے آپ کی ذات کی طرف دی جانے والی دعوت ہدایت اسلام کو دل و جان سے قبول کیا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس منصب character based leadership کا ذکر قرآن یوں کرتا ہے۔
وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍۢ
(بے شک آپ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم اخلاق کے بلند درجے پر فائز ہیں۔ ) (القلم 68-4)