خاندانی نظم و نسق کا نبوی ﷺ طریق

خاندانی نظم و نسق کا نبوی ﷺ طریق

حافظہ سحر عنبرین

اسلام نے خاندان کو محض سماجی ضرورت یا معاشرتی ادارہ قرار نہیں دیا بلکہ اسے انسانی تہذیب، اخلاقی تربیت اور روحانی ارتقاء کی بنیاد بنایا ہے۔ قرآن مجید کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ خاندان وہ اولین درس گاہ ہے جہاں محبت، ایثار، ذمہ داری، احترام اور بندگیِ الٰہی کی صفات پروان چڑھتی ہیں۔ اگر خاندان صالح ہو تو معاشرہ صالح بنتا ہے، اور اگر خاندان کمزور ہو جائے تو پورا معاشرہ اخلاقی اور فکری بحران کا شکار ہو جاتا ہے۔

اسی حقیقت کے پیشِ نظر قرآن مجید نے نکاح کو اللہ تعالیٰ کی عظیم نشانیوں میں شمار کیا اور میاں بیوی کے تعلق کو صرف قانونی معاہدہ نہیں بلکہ سکون، محبت اور رحمت کا سرچشمہ قرار دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ

ترجمہ: "اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو، اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت رکھ دی۔ بے شک اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے بہت سی نشانیاں ہیں۔ " (سورۃ الروم: 21)

اس آیتِ کریمہ میں خاندانی زندگی کے تین بنیادی ستون بیان کیے گئے ہیں: سکون، مودّت اور رحمت۔ سکون سے مراد قلبی اطمینان، مودّت سے مراد باہمی محبت، جبکہ رحمت سے مراد ایک دوسرے کی کمزوریوں پر شفقت، درگزر اور تعاون ہے۔ یہی وہ اصول ہیں جن پر اسلامی خاندان کی پوری عمارت قائم ہوتی ہے۔

ان قرآنی اصولوں کی عملی تفسیر اگر کسی شخصیت میں مکمل طور پر جلوہ گر ہوئی تو وہ صرف ذاتِ اقدس حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ نے بحیثیت شوہر، والد، نانا اور خاندان کے سربراہ جو عملی نمونہ پیش فرمای، وہ رہتی دنیا تک ہر مسلمان کے لیے کامل راہنما ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِي رَسُولِ اللّٰهِ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ

ترجمہ: "یقیناً تمہارے لیے رسول اللہ ﷺ کی ذات میں بہترین نمونہ موجود ہے۔" (سورۃ الأحزاب: 21)

اس آیت سے واضح ہوتا ہے کہ خاندانی زندگی میں بھی مسلمان کے لیے اصل معیار نہ معاشرتی رسم و رواج ہیں، نہ وقتی رجحانات، بلکہ رسول اکرم ﷺ کی سنت اور اسوہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے خاندانی حسنِ سلوک کو ایمان کی علامت قرار دی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

خَيْرُكُمْ خَيْرُكُمْ لِأَهْلِهِ، وَأَنَا خَيْرُكُمْ لِأَهْلِي

ترجمہ: "تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہلِ خانہ کے لیے سب سے بہتر ہو، اور میں اپنے اہلِ خانہ کے لیے تم سب سے بڑھ کر بہتر ہوں۔ " (جامع ترمذی، کتاب المناقب)

یہ حدیث اسلامی خاندانی نظام کا بنیادی منشور ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فضیلت کا معیار عبادتوں کی کثرت یا معاشرتی مقام کو نہیں بلکہ گھر والوں کے ساتھ حسنِ اخلاق کو قرار دی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی گھریلو زندگی محبت، عدل، شفقت، خدمت، مشاورت اور حلم و بردباری کا حسین امتزاج تھی۔

آج کا مسلم معاشرہ جن خاندانی مسائل، ناچاقیوں، طلاقوں، بے اعتمادی اور نسلوں کے درمیان فاصلے کا شکار ہے، ان کا بنیادی سبب اسوۂ نبوی ﷺ سے دوری ہے۔ اگر خاندان دوبارہ قرآن کے ان اصولوں اور رسول اکرم ﷺ کی سنت کو اپنی زندگی کا مرکز بنا لے تو گھر سکون کا گہوارہ، اولاد صالح کردار کی حامل، اور معاشرہ امن و استحکام کا نمونہ بن سکتا ہے۔

لہٰذا اس تحقیقی قسط وار مضمون میں اسوۂ نبوی ﷺ کی روشنی میں خاندانی نظم و نسق کے ان تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جائے گا جو نہ صرف عہدِ نبوی میں مثالی تھے بلکہ آج بھی ہر دور اور ہر معاشرے کے لیے یکساں قابلِ عمل اور رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔

اسوۂ نبوی ﷺ میں خاندانی نظم و نسق کی اہمیت

رسول اکرم ﷺ کی بعثت کا مقصد صرف چند عبادات کی تعلیم دینا یا انفرادی اصلاح تک محدود نہ تھا بلکہ آپ ﷺ نے ایک ایسے معاشرے کی تشکیل فرمائی جس کی بنیاد صالح خاندان پر استوار تھی۔ اسلام میں فرد کی اصلاح کا آغاز گھر سے ہوتا ہے، کیونکہ گھر ہی وہ پہلی درس گاہ ہے جہاں انسان محبت، احترام، ایثار، ذمہ داری اور اطاعت کے عملی اسباق سیکھتا ہے۔ اگر خاندان مضبوط ہو تو معاشرہ خود بخود مضبوط ہو جاتا ہے، اور اگر خاندان اپنی روح کھو دے تو معاشرہ بھی اخلاقی زوال کا شکار ہو جاتا ہے۔

اسی لیے قرآن مجید نے اہلِ ایمان کو صرف اپنی ذات کی فکر کرنے کا حکم نہیں دیا بلکہ اپنے اہل و عیال کی دینی اور اخلاقی تربیت کو بھی فرض قرار دی۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا قُوا أَنْفُسَكُمْ وَأَهْلِيكُمْ نَارًا وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ

ترجمہ: "اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو اس آگ سے بچاؤ جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں۔ " (سورۃ التحریم: 6)

اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ گھر کے سربراہ کی ذمہ داری صرف معاشی کفالت تک محدود نہیں بلکہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی دینی تعلیم، اخلاقی تربیت اور کردار سازی کا بھی جواب دہ ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اپنے اہلِ خانہ کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت سکھاؤ، نیکی کا حکم دو اور برائی سے روکو، کیونکہ یہی انہیں جہنم سے بچانے کا راستہ ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے بھی ہر فرد کو اپنے دائرۂ اختیار کا نگہبان قرار دیتے ہوئے فرمایا:

كُلُّكُمْ رَاعٍ وَكُلُّكُمْ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، فَالْإِمَامُ رَاعٍ۔ وَالرَّجُلُ رَاعٍ فِي أَهْلِهِ وَهُوَ مَسْئُولٌ عَنْ رَعِيَّتِهِ، وَالْمَرْأَةُ رَاعِيَةٌ فِي بَيْتِ زَوْجِهَا وَمَسْئُولَةٌ عَنْ رَعِيَّتِهَ

(صحیح البخاری، کتاب الجمعۃ، باب الجمعۃ فی القری والمدن؛ صحیح مسلم، کتاب الإمارة)

ترجمہ: "تم میں سے ہر شخص نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں سوال کیا جائے گ۔ حاکم اپنی رعایا کا نگہبان ہے، مرد اپنے گھر والوں کا نگہبان ہے اور اس سے ان کے بارے میں سوال ہوگ، اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور اس کی اولاد کی نگہبان ہے اور اس سے بھی اس کی ذمہ داری کے بارے میں پوچھا جائے گا۔ "

اس حدیث مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام میں خاندانی نظام باہمی ذمہ داریوں پر قائم ہے، نہ کہ صرف حقوق کے مطالبے پر۔ ہر فرد کو اس کے مقام کے مطابق ذمہ داری دی گئی ہے اور اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی بھی ہوگی۔

حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا گیا کہ رسول اللہ ﷺ گھر میں کیا کرتے تھے؟ انہوں نے فرمایا:

كَانَ يَكُونُ فِي مِهْنَةِ أَهْلِهِ، فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ خَرَجَ إِلَى الصَّلَاةِ(صحیح البخاری، کتاب الأدب)

ترجمہ: "رسول اللہ ﷺ اپنے گھر والوں کے کام کاج میں ہاتھ بٹاتے تھے، پھر جب نماز کا وقت ہو جاتا تو نماز کے لیے تشریف لے جاتے تھے۔ "

یہ روایت اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلامی خاندانی نظام خدمت، محبت اور تعاون پر قائم ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے عملاً ثابت فرمایا کہ گھر کے کام کرنا مرد کی شان کے خلاف نہیں بلکہ سنتِ نبوی ہے۔

آج جب خاندانی نظام مختلف داخلی و خارجی چیلنجز کا شکار ہے، اسوۂ نبوی ﷺ پہلے سے کہیں زیادہ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اگر گھر کے ہر فرد کو اس کی ذمہ داری کا شعور دیا جائے، محبت کو ترجیح دی جائے، باہمی مشاورت کو فروغ دیا جائے اور معاملات کو سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں طے کیا جائے تو گھر سکون کا گہوارہ اور معاشرہ صالح افراد کی آماج گاہ بن سکتا ہے۔

اس لیے اسوۂ نبوی ﷺ کا مطالعہ صرف تاریخی واقعات جاننے کے لیے نہیں بلکہ اپنے گھروں کو قرآن و سنت کے مطابق استوار کرنے کے لیے ناگزیر ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک مضبوط خاندان، صالح نسل اور مثالی اسلامی معاشرہ وجود میں آتا ہے۔

باب اول

رسول اکرم ﷺ بحیثیت شوہر: محبت، رحمت اور حسنِ معاشرت کا کامل نمونہ

اسلام نے میاں بیوی کے تعلق کو محض ایک سماجی معاہدہ نہیں بلکہ عبادت، امانت اور باہمی رحمت کا رشتہ قرار دیا ہے۔ اس رشتے کی کامیابی نہ مال و دولت پر موقوف ہے، نہ ظاہری وجاہت پر، بلکہ حسنِ اخلاق، محبت، اعتماد، ایثار اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول پر منحصر ہے۔ ان تمام اوصاف کا کامل اور روشن نمونہ ہمیں رسول اللہ ﷺ کی مبارک زندگی میں نظر آتا ہے۔

آپ ﷺ نے ازواجِ مطہرات کے ساتھ ایسا طرزِ عمل اختیار فرمایا جس میں محبت بھی تھی، عدل بھی، شفقت بھی تھی، وقار بھی، مشاورت بھی تھی اور تربیت بھی۔ یہی وجہ ہے کہ آپ ﷺ کی ازدواجی زندگی رہتی دنیا تک ہر مسلمان مرد و عورت کے لیے بہترین نمونہ ہے۔

اللہ تعالیٰ نے رسول اکرم ﷺ کی بعثت کے مقصد کو بیان کرتے ہوئے فرمایا:

لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنْفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ حَرِيصٌ عَلَيْكُم بِالْمُؤْمِنِينَ رَءُوفٌ رَّحِيمٌ

ترجمہ: "بے شک تمہارے پاس تم ہی میں سے ایک عظیم رسول تشریف لائے ہیں، تمہاری تکلیف ان پر بہت شاق گزرتی ہے، وہ تمہاری بھلائی کے نہایت حریص ہیں اور اہلِ ایمان کے لیے انتہائی مہربان اور رحم فرمانے والے ہیں۔ " (سورۃ التوبۃ: 128)

یہ رحمت صرف امت کے لیے نہیں تھی بلکہ سب سے پہلے آپ ﷺ کے اپنے گھر میں جلوہ گر تھی۔ آپ ﷺ نے کبھی اہلِ خانہ پر سختی کو اپنی عظمت نہیں سمجھا بلکہ محبت، نرمی اور حسنِ اخلاق کو اپنی سنت بنایا۔

اسی حقیقت کو بیان کرتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

أَكْمَلُ الْمُؤْمِنِينَ إِيمَانًا أَحْسَنُهُمْ خُلُقً، وَخِيَارُكُمْ خِيَارُكُمْ لِنِسَائِهِمْ

ترجمہ: "ایمان کے اعتبار سے کامل ترین مؤمن وہ ہے جس کا اخلاق سب سے بہتر ہو، اور تم میں بہترین وہ ہے جو اپنی بیوی کے ساتھ سب سے بہتر ہو۔ " (جامع ترمذی، کتاب الرضاع، حدیث صحیح)

یہ حدیث اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اسلام میں انسان کی عظمت کا معیار گھر کے اندر اس کا کردار ہے۔ جو شخص اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ خوش اخلاق، نرم مزاج اور عادل ہے، وہی حقیقی معنوں میں بہترین مسلمان ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی گھریلو زندگی کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی اپنی ازواج کو حقیر نہیں سمجھ، نہ ان کی آراء کو نظر انداز کیا اور نہ ہی ان کے جذبات کو معمولی جان۔ بلکہ اہم ترین مواقع پر بھی ان سے مشورہ فرمایا۔

اس کی روشن مثال صلحِ حدیبیہ کے موقع پر سامنے آتی ہے۔ جب بعض صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم غم و اضطراب کے باعث فوراً احرام کھولنے کے لیے آمادہ نہ ہوئے تو رسول اللہ ﷺ خیمہ میں تشریف لائے۔ حضرت امِّ سلمہ رضی اللہ عنہا نے نہایت حکمت سے عرض کیا کہ آپ خود قربانی کریں اور سر منڈوا لیں، صحابہ کرام آپ کی پیروی کر لیں گے۔ رسول اللہ ﷺ نے اسی رائے پر عمل فرمایا، اور نتیجتاً تمام صحابۂ کرام نے فوراً آپ کی اتباع کی۔

آج جب خاندانی نظام مختلف داخلی و خارجی چیلنجز کا شکار ہے، اسوۂ نبوی ﷺ پہلے سے کہیں زیادہ ہماری رہنمائی کرتا ہے۔ اگر گھر کے ہر فرد کو اس کی ذمہ داری کا شعور دیا جائے، محبت کو ترجیح دی جائے، باہمی مشاورت کو فروغ دیا جائے اور معاملات کو سنتِ نبوی ﷺ کی روشنی میں طے کیا جائے تو گھر سکون کا گہوارہ اور معاشرہ صالح افراد کی آماج گاہ بن سکتا ہے

یہ واقعہ اس بات کا زندہ ثبوت ہے کہ نبی اکرم ﷺ اپنی ازواجِ مطہرات کی رائے کو اہمیت دیتے تھے اور مناسب مشورے کو خوش دلی سے قبول فرماتے تھے۔ اس سے یہ اصول بھی مستنبط ہوتا ہے کہ کامیاب خاندان وہی ہے جہاں باہمی اعتماد اور مشاورت کو فروغ دیا جائے۔

اسی طرح محبت کے اظہار میں بھی رسول اللہ ﷺ کا انداز نہایت لطیف تھا۔ حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے عرض کیا:

"یارسول اللہ! آپ کو سب سے زیادہ محبت کس سے ہے؟"

آپ ﷺ نے فرمایا: عَائِشَةُ انہوں نے عرض کیا: "مردوں میں؟"

آپ ﷺ نے فرمایا: أَبُوهَا (صحیح البخاری، کتاب فضائل الصحابة؛ صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة)

یہ روایت اس حقیقت کی دلیل ہے کہ محبت کا اظہار کرنا سنتِ نبوی ﷺ ہے۔ ہمارے معاشرے میں بعض اوقات محبت کو دل میں چھپا لینا وقار سمجھا جاتا ہے، جبکہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی محبت کا اظہار فرما کر امت کو سکھایا کہ جائز محبت کا اظہار دلوں میں قربت پیدا کرتا ہے اور خاندانی تعلقات کو مضبوط بناتا ہے۔

غور کیا جائے تو رسول اللہ ﷺ کی پوری ازدواجی زندگی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی گھر کو حکم چلانے کی جگہ نہیں بنایا بلکہ اسے محبت، اعتماد، ایثار، عبادت اور سکون کا مرکز بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنہا نے نہ صرف آپ ﷺ سے بے پناہ محبت کی بلکہ آپ ﷺ کے وصالِ مبارک کے بعد بھی آپ کی سنت، تعلیمات اور گھریلو زندگی کو پوری امانت کے ساتھ امت تک پہنچایا۔

اسلامی خاندانی نظام کی حقیقی روح بھی یہی ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کے حریف نہیں بلکہ رفیقِ سفر ہوں، ایک دوسرے کی عزت، راحت اور دینی و اخلاقی ترقی کا ذریعہ بنیں۔ جب گھر کا ماحول محبت، عدل، حسنِ اخلاق اور مشاورت سے مزین ہو تو وہی گھر جنت کا نمونہ بن جاتا ہے، اور یہی اسوۂ نبوی ﷺ کا وہ روشن پیغام ہے جس کی آج کے دور میں پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔

حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے ساتھ رسول اللہ ﷺ کا مثالی حسنِ معاشرت

رسول اکرم ﷺ کی ازدواجی زندگی کا پہلا اور نہایت درخشاں باب حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کے ساتھ آپ ﷺ کی رفاقت ہے۔ یہ رفاقت تقریباً پچیس برس پر محیط رہی، اور اس عرصے میں ایسی محبت، وفاداری، اعتماد اور باہمی احترام کی مثال قائم ہوئی جس کی نظیر انسانی تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نہ صرف رسول اللہ ﷺ کی پہلی زوجۂ مطہرہ تھیں بلکہ اعلانِ نبوت کے بعد سب سے پہلے ایمان لانے والی خوش نصیب ہستی بھی تھیں۔ انہوں نے ہر مشکل گھڑی میں آپ ﷺ کا ساتھ دیا، اپنے مال، اپنی قوت اور اپنی پوری زندگی کو دینِ اسلام کی خدمت کے لیے وقف کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی پوری حیاتِ مبارکہ میں ان کی محبت اور وفاداری کو ہمیشہ یاد رکھا۔

غارِ حرا سے واپسی اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کا تاریخی کردار

جب غارِ حرا میں پہلی وحی نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ پر اس عظیم ذمہ داری کا بار طبعاً گراں گزر۔ آپ ﷺ گھر تشریف لائے اور فرمایا:

زَمِّلُونِي زَمِّلُونِي

"مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو۔ "

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے نہایت محبت اور شفقت سے آپ ﷺ کو تسلی دی اور وہ تاریخی کلمات کہے جنہیں رہتی دنیا تک ایمان، یقین اور وفاداری کی مثال کے طور پر یاد رکھا جائے گا:

كَلَّا وَاللَّهِ مَا يُخْزِيكَ اللَّهُ أَبَدً، إِنَّكَ لَتَصِلُ الرَّحِمَ، وَتَحْمِلُ الْكَلَّ، وَتَكْسِبُ الْمَعْدُومَ، وَتَقْرِي الضَّيْفَ، وَتُعِينُ عَلَى نَوَائِبِ الْحَقِّ

ترجمہ: "ہرگز نہیں! اللہ کی قسم، اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا، کیونکہ آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں، محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، مہمان نوازی کرتے ہیں اور حق کے کاموں میں لوگوں کی اعانت فرماتے ہیں۔" (صحیح البخاری، کتاب بدء الوحی؛ صحیح مسلم، کتاب الإیمان)

یہ الفاظ صرف ایک بیوی کی اپنے شوہر کو تسلی نہیں تھے بلکہ رسول اللہ ﷺ کے عظیم اخلاق کی پہلی گواہی بھی تھے۔ حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا نے خوف کی کیفیت میں بھی آپ ﷺ کے کردار، خدمتِ خلق اور اعلیٰ اخلاق کو دلیل بنا کر یقین دلایا کہ اللہ تعالیٰ ایسی صفات رکھنے والے بندے کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔

اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک نیک شریکِ حیات مشکل ترین حالات میں حوصلہ، اعتماد اور امید کا سب سے بڑا ذریعہ بنتا ہے۔ یہی اسلامی ازدواجی زندگی کی روح ہے۔

رسول اللہ ﷺ کی وفاداری کا بے مثال نمونہ

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے وصال کے بعد بھی رسول اللہ ﷺ نے ان کی محبت کو کبھی فراموش نہیں فرمایا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:

"مجھے رسول اللہ ﷺ کی کسی زوجہ پر اتنا رشک نہیں آیا جتنا حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا پر آتا تھ، حالانکہ میں نے انہیں دیکھا بھی نہیں تھ، کیونکہ رسول اللہ ﷺ ان کا بہت زیادہ ذکر فرمایا کرتے تھے۔ "(صحیح البخاری، کتاب المناقب؛ صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ جب کبھی کوئی بکری ذبح کی جاتی تو رسول اللہ ﷺ فرماتے:

"اس کا کچھ حصہ خدیجہ کی سہیلیوں کے گھر بھی بھیج دو۔ "

یہ عمل اس بات کی روشن دلیل ہے کہ اسلام میں وفاداری صرف زندگی تک محدود نہیں بلکہ وفات کے بعد بھی تعلق اور احسان کو یاد رکھنا سنتِ نبوی ہے۔

حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضرت جبرائیل علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا:

"یا رسول اللہ! خدیجہ ایک برتن لے کر آ رہی ہیں، جب وہ آئیں تو انہیں ان کے رب کی طرف سے سلام کہیے اور جنت میں موتیوں کے ایک ایسے محل کی بشارت دیجیے جس میں نہ کوئی شور ہوگا اور نہ کوئی مشقت۔ "(صحیح البخاری، کتاب المناقب؛ صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابة)

کتنا عظیم اعزاز ہے کہ اللہ رب العزت نے خود حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کو سلام بھیج۔ یہ ان کی بے مثال وفاداری، قربانی، صبر اور خدمتِ دین کا صلہ تھ۔

ہماری زندگیوں کے لئے سبق

رسول اللہ ﷺ اور حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کی ازدواجی زندگی ہمیں یہ تعلیم دیتی ہے کہ کامیاب گھر محبت سے بنتا ہے، دولت سے نہیں؛ اعتماد سے بنتا ہے، شک سے نہیں؛ اور قربانی سے بنتا ہے، خود غرضی سے نہیں۔

اگر میاں بیوی ایک دوسرے کے لیے سکون، حوصلہ، خیرخواہی اور وفاداری کا ذریعہ بن جائیں تو وہی گھر دنیا میں جنت کا نمونہ بن جاتا ہے۔ یہی اسوۂ نبوی ﷺ کا وہ روشن پیغام ہے جس کی ہر دور کے مسلمان خاندان کو ضرورت ہے۔