نعت گوئی کے آداب اور حدودِ شریعت

نعت گوئی کے آداب اور حدودِ شریعت

سمیہ اسلام

حصہ اول

نعت گوئی محض ایک ادبی صنف نہیں بلکہ محبتِ رسولِ اکرم ﷺ کے اظہار کا نہایت مقدس ذریعہ ہے۔ چونکہ اس کا تعلق ذاتِ اقدسِ محمدی ﷺ سے ہے، اس لیے نعت کہنے والے پر لازم ہے کہ وہ ادب، احتیاط اور صحیح عقیدے کو ہر حال میں مقدم رکھے۔ نعت کا حسن صرف الفاظ کی خوبصورتی میں نہیں، بلکہ اس بات میں ہے کہ اس کا ہر مصرع قرآن و سنت کی تعلیمات سے ہم آہنگ ہو۔

اس حقیقت کو قرآنِ کریم بھی واضح کرتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی تعظیم و توقیر ایمان کا بنیادی تقاضا ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

لِتُؤْمِنُوا بِاللّٰهِ وَرَسُولِهِ وَتُعَزِّرُوهُ وَتُوَقِّرُوهُ

"تاکہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ، رسول کی مدد کرو اور ان کی تعظیم و توقیر بجا لاؤ۔ (الفتح: 9) " یہی تعظیم نعت گوئی کی روح ہے۔ نعت گو جب حضور اکرم ﷺ کی مدح سرائی کرتا ہے تو اسے یہ شعور ہر لمحہ پیشِ نظر رکھنا چاہیے کہ وہ کسی عام شخصیت کا نہیں بلکہ خاتم النبیین، رحمت للعالمین ﷺ کا ذکر کر رہا ہے۔ اس لیے نعت میں الفاظ کا انتخاب، اندازِ بیان اور تشبیہات نہایت محتاط اور باوقار ہونی چاہئیں۔ ایسی کوئی تعبیر اختیار نہ کی جائے جو مقامِ رسالت کے شایانِ شان نہ ہو یا جس سے اسلامی عقائد میں کسی قسم کا ابہام پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔

نعت گوئی کا اصل حسن اسی میں ہے کہ شاعر عشق و عقیدت کے جذبات کو علم، بصیرت اور شرعی حدود کے ساتھ ہم آہنگ کرے، تاکہ اس کے اشعار محبتِ رسول ﷺ کے ساتھ ساتھ دینِ اسلام کی صحیح تعلیمات کے بھی ترجمان بن جائیں۔ ایسی نعت نہ صرف دلوں کو گرما دیتی ہے بلکہ قاری اور سامع کو سیرتِ طیبہ سے وابستہ ہو کر اپنی زندگی کو سنتِ نبوی ﷺ کے مطابق ڈھالنے کی ترغیب بھی دیتی ہے۔

بنیادی شرعی حدود و آداب

عقیدے کی درستگی: نعت میں حضور ﷺ کو بشر اور عبد ہی مانا جائے، اور اللہ تعالی کے خاص اختیارات یا الوہیت میں شریک نہ کیا جائے۔

شاعر حضور اکرم ﷺ کی شان میں عقیدت کے ساتھ ساتھ حدودِ شریعت کا بھی مکمل لحاظ رکھے۔ محبت میں ایسا غلو نہ ہو جو عقیدۂ توحید کو متاثر کرے یا اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفات و اختیارات کو حضور ﷺ کی طرف منسوب کر دے۔ اسلام نے رسول اللہ ﷺ سے بے مثال محبت کا حکم دیا ہے، لیکن اس محبت کا اظہار ہمیشہ قرآن و سنت کی رہنمائی میں ہونا چاہیے۔ محبت اگرچہ جذبات کا نام ہے، لیکن اسلامی تعلیمات اسے علم، اعتدال اور ادب کے ساتھ وابستہ کرتی ہیں۔ اسی لیے نعت گو کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے اشعار میں ایسے الفاظ، تشبیہات اور استعارات سے اجتناب کرے جو شرعی حدود سے تجاوز کا سبب بنیں یا سامعین کے عقیدے میں کسی قسم کا اشتباہ پیدا کریں۔

غلو سے پرہیز: مبالغہ آرائی یا غلو کرتے ہوئے آپ ﷺ کی شان میں ایسے الفاظ استعمال نہ کیے جائیں جو شرک کے زمرے میں آتے ہوں یا مقامِ نبوت سے تجاوز کریں۔

شاعر حضور اکرم ﷺ کی شان میں عقیدت کے ساتھ ساتھ حدودِ شریعت کا بھی مکمل لحاظ رکھے۔ محبت میں ایسا غلو نہ ہو جو عقیدۂ توحید کو متاثر کرے یا اللہ تعالیٰ کی مخصوص صفات و اختیارات کو حضور ﷺ کی طرف منسوب کر دے۔ اسلام نے رسول اللہ ﷺ سے بے مثال محبت کا حکم دیا ہے، لیکن اس محبت کا اظہار ہمیشہ قرآن و سنت کی رہنمائی میں ہونا چاہیے۔ محبت اگرچہ جذبات کا نام ہے، لیکن اسلامی تعلیمات اسے علم، اعتدال اور ادب کے ساتھ وابستہ کرتی ہیں

نعت گوئی میں اعتدال کی یہ تعلیم خود رسول اللہ ﷺ نے بھی عطا فرمائی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "میری تعریف میں حد سے نہ بڑھو، جیسے عیسائیوں نے حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام کے بارے میں حد سے تجاوز کی، میں تو اللہ کا بندہ ہوں، لہٰذا مجھے اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہی کہو۔ " (صحیح بخاری) اس ارشادِ نبوی ﷺ سے واضح ہوتا ہے کہ اسلام محبتِ رسول ﷺ کو ایمان کا حصہ قرار دیتا ہے، مگر اس محبت کو غلو اور افراط سے پاک رکھنے کی بھی تلقین کرتا ہے۔ چنانچہ نعت گوئی کا حقیقی کمال اسی میں ہے کہ شاعر حضور نبی کریم ﷺ کے بے مثال مقام و مرتبہ کو پوری عقیدت سے بیان کرے، مگر ہر لفظ میں عقیدۂ توحید، مقامِ رسالت اور اسلامی تعلیمات کا مکمل پاس و لحاظ بھی برقرار رکھے۔ ایسی نعت دلوں میں عشقِ رسول ﷺ کو تازہ کرتی ہے اور ساتھ ہی صحیح اسلامی فکر کی آبیاری بھی کرتی ہے۔

خلافِ شرع مضامین: ایسے اشعار اور مضامین سے پرہیز کیا جائے جو اسلامی تعلیمات، قرآن و سنت یا صریح احکام کے خلاف ہوں۔

نعت میں بیان کیے جانے والے واقعات، فضائل اور معجزات مستند روایات پر مبنی ہوں۔ غیر مستند قصے، من گھڑت روایات یا مبالغہ آمیز باتیں اگرچہ وقتی طور پر جذبات کو ابھار سکتی ہیں، لیکن دین کی صحیح تعلیمات کے مطابق نہیں ہوتیں۔ نعت گو کا قلم امانت دار ہونا چاہیے تاکہ اس کے اشعار عقیدت کے ساتھ ساتھ حق و صداقت کے بھی آئینہ دار ہوں۔ یہ احتیاط اس لیے بھی ضروری ہے کہ نعت محض جذبات کی ترجمان نہیں بلکہ امت کے عقیدے اور فکری رہنمائی کا ایک مؤثر ذریعہ بھی ہے۔ جب کوئی شعر زبان زدِ عام ہو جاتا ہے تو بہت سے لوگ اس کے مفہوم کو تحقیق کے بغیر درست سمجھ لیتے ہیں۔ اگر اس میں کوئی غیر مستند واقعہ، ضعیف روایت یا مبالغہ آمیز بیان شامل ہو تو وہ رفتہ رفتہ عوامی ذہن کا حصہ بن جاتا ہے، جس سے دینی فہم میں غلطیاں پیدا ہونے کا اندیشہ رہتا ہے۔ اس لیے نعت گو کے لیے ضروری ہے کہ وہ سیرتِ نبوی ﷺ ، احادیثِ صحیحہ اور معتبر اسلامی مآخذ کا مطالعہ کرے، تاکہ اس کے اشعار عشقِ رسول ﷺ کے ساتھ ساتھ علمی دیانت کے بھی مظہر ہوں۔

علاوہ ازیں، نعت گوئی میں حقیقت اور تخیل کے درمیان توازن برقرار رکھنا بھی نہایت اہم ہے۔ شاعری میں حسنِ بیان اور ادبی لطافت اپنی جگہ مسلم ہے، لیکن یہ حسن اس وقت مزید نکھر جاتا ہے جب وہ صداقت کے زیور سے آراستہ ہو۔ جو نعت مستند معلومات، صحیح عقیدے اور سیرتِ طیبہ کے روشن پہلوؤں پر مبنی ہو، وہ نہ صرف دلوں میں محبتِ رسول ﷺ کو فروغ دیتی ہے بلکہ قاری اور سامع کے علم میں بھی اضافہ کرتی ہے۔ یوں نعت گو کا قلم صرف جذبات کو مہمیز نہیں دیتا بلکہ ایمان، شعور اور اتباعِ سنت کی شمع بھی روشن کرتا ہے۔

باوقار لہجہ: ترنم اور آواز میں سنجیدگی، وقار اور ادب کا لحاظ ہو، نہ کہ بے باکی یا لہو و لعب کا انداز۔

اسی طرح نعت گوئی میں زبان کا وقار، الفاظ کی پاکیزگی اور اظہار کی شائستگی بھی ضروری ہے۔ ایسے الفاظ یا تراکیب سے اجتناب کیا جائے جو مقامِ رسالت کے شایانِ شان نہ ہوں یا جن سے غلط فہمی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو۔ نعت کا مقصد محض شعری مہارت کا مظاہرہ نہیں بلکہ سامع اور قاری کے دل میں عشقِ رسول ﷺ کے ساتھ اتباعِ رسول ﷺ کا جذبہ بیدار کرنا ہے۔

گانے کی طرز سے اجتناب: نعت کو موسیقی، ساز و آواز یا فلمی و گانے کی تال اور طرز پر پڑھنا یا سننا شرعاً منع ہے۔

اسلام میں رسول اللہ ﷺ کی شانِ اقدس میں نعت پڑھنا ایک نہایت مبارک اور باعثِ سعادت عمل ہے، بشرطیکہ اس میں شریعت کے آداب اور حدود کی مکمل رعایت کی جائے۔ نعت کا اصل مقصد حضور اکرم ﷺ کی محبت، عظمت، اتباع اور ادب کو دلوں میں اجاگر کرنا ہے۔ اگر یہ عظیم عبادت ایسے انداز میں پیش کی جائے جو گانوں، موسیقی یا فلمی دھنوں سے مشابہ ہو تو اس کی روح متاثر ہوتی ہے اور اس کے شرعی احکام بھی بدل جاتے ہیں۔

فقہائے اسلام نے واضح کیا ہے کہ اگر نعت کو موسیقی کے انداز، گلوکاری کی طرز، فلمی دھن، یا ایسے لہجے میں پڑھا جائے جو اہلِ لہو و لعب کے طریقے سے مشابہ ہو، تو یہ جائز نہیں۔ اسی طرح اگر نعت کے ساتھ ساز استعمال کیے جائیں، موسیقی کی دھنیں شامل ہوں، یا اسے باقاعدہ گانے کی شکل دی جائے تو یہ شرعاً ممنوع ہے۔

اس ممانعت کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں:

1۔ شعائرِ دین کا تقدس:

نعت عبادت اور محبتِ رسول ﷺ کا اظہار ہے، جبکہ گانا اور موسیقی لہو و لعب کی مجالس سے تعلق رکھتے ہیں۔ دونوں کو ایک دوسرے کے انداز میں پیش کرنا نعت کے تقدس کے خلاف ہے۔

2۔ غیر اسلامی طرز کی مشابہت:

فلمی یا گانوں کی دھنیں عام طور پر تفریح اور موسیقی کے لیے بنائی جاتی ہیں۔ انہی دھنوں پر نعت پڑھنے سے نعت کی ہیئت اور وقار مجروح ہوتا ہے اور اسلامی شعار میں غیر مناسب مشابہت پیدا ہوتی ہے۔

حسان بن ثابت نعت ریسرچ سنٹر، جو منہاج یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام قائم کیا گیا ہے، فروغِ نعت کے میدان میں ایک اہم علمی، ادبی اور تربیتی ادارے کی حیثیت رکھتا ہے

3۔ خشوع و ادب کا خاتمہ:

نعت سننے کا مقصد محبت، عقیدت اور اتباعِ رسول ﷺ کو بڑھانا ہے، جبکہ گانے کی طرز سامعین کی توجہ دھن، آواز اور لَے کی طرف منتقل کر دیتی ہے۔ اس سے نعت کا روحانی اثر کم ہو جاتا ہے۔

4۔ فتنے کا اندیشہ:

جب نعت گلوکاری، موسیقی یا اسٹیج پرفارمنس کا رنگ اختیار کر لیتی ہے تو مقصدِ ثواب کے بجائے شہرت، داد و تحسین اور محفل کو گرمانا مقصود بن جاتا ہے، جو اخلاص کے منافی ہے۔

علمائے امت نے اس مسئلے پر متعدد فتاویٰ صادر کیے ہیں کہ نعت کو فلمی دھنوں یا گانوں کی طرز پر پڑھنا جائز نہیں۔ اگرچہ الفاظ نعت کے ہوں، لیکن جب انداز، لے اور طرز گانے والی ہو تو اس سے اجتناب ضروری ہے، کیونکہ شریعت صرف الفاظ ہی نہیں بلکہ ان کے پیش کرنے کے طریقے کی بھی اصلاح کرتی ہے۔

البتہ خوش الحانی، خوبصورت آواز اور فطری حسنِ قراءت کے ساتھ، بغیر موسیقی، بغیر ساز، اور بغیر گانوں کی نقل کے نعت پڑھنا جائز بلکہ باعثِ ترغیب ہے۔ خود رسول اللہ ﷺ نے خوش آواز صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کی تحسین فرمائی، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ گلوکاری یا موسیقی کے انداز اختیار کیے جائیں۔

اسی طرح نعت سننے والے پر بھی لازم ہے کہ وہ ایسی محفلوں اور ریکارڈنگز سے بچے جن میں موسیقی، ساز، فلمی دھن یا گانے کا انداز غالب ہو۔ محبتِ رسول ﷺ کا تقاضا یہی ہے کہ آپ ﷺ کی مدح و ثنا بھی انہی آداب کے ساتھ کی جائے جو شریعت نے مقرر کیے ہیں۔ نعت ایک عظیم دینی عمل ہے، اس لیے اسے گانے، فلمی دھن، موسیقی یا ساز و آواز کے انداز سے پاک رکھنا ضروری ہے۔ نعت کو سادگی، وقار، ادب اور اخلاص کے ساتھ پڑھنا اور سننا ہی سنت کے مطابق طریقہ ہے۔ جو انداز گانوں کی مشابہت پیدا کرے یا موسیقی کی کیفیت پیدا کرے، اس سے اجتناب کرنا چاہیے تاکہ نعت کی عظمت، اس کا روحانی اثر اور اس کا شرعی ادب برقرار رہے۔

حقیقی نعت وہی ہے جو محبت کے ساتھ معرفت، عقیدت کے ساتھ اعتدال، اور جذبات کے ساتھ شریعت کی پاسداری کو یکجا کرے۔ جب نعت گو کا قلم ادب، علم اور اخلاص سے آشنا ہو جاتا ہے تو اس کے اشعار صرف زبان پر نہیں، بلکہ دلوں پر بھی اثر چھوڑتے ہیں اور محبتِ رسول ﷺ کو کردار و عمل کی روشنی میں ڈھالنے کا ذریعہ بنتے ہیں۔

نعت گوئی چونکہ ایک نہایت نازک اور مقدس صنفِ سخن ہے، اس لیے خصوصاً نوآموز شعراء کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے کلام کو کسی صاحبِ علم، باعمل اور صاحبِ ذوق استادِ شاعر کے سامنے پیش کریں۔ اردو شاعری کی روایت میں اصلاح (شعری رہنمائی) کو ہمیشہ بنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔ بڑے سے بڑے شعراء بھی اپنے اساتذہ سے اصلاح لیتے رہے ہیں۔ نعت گوئی میں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہاں صرف عروض، زبان اور فنی محاسن ہی مطلوب نہیں ہوتے بلکہ عقیدے کی صحت، ادبِ رسالت ﷺ اور شرعی حدود کی رعایت بھی لازم ہوتی ہے۔ ایک ماہر استاد معمولی سے معمولی لفظ یا ترکیب کی نشاندہی کر کے شاعر کے کلام کو اعتقادی اور ادبی دونوں اعتبار سے بہتر بنا سکتا ہے۔

آج کے دور میں سوشل میڈیا نے ہر شاعر کو اپنے کلام کی فوری اشاعت کا موقع فراہم کر دیا ہے، لیکن اس سہولت کے ساتھ ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ محض جذبات کی رو میں آکر نعت کہنا یا بغیر اصلاح کے اشعار نشر کر دینا بعض اوقات ایسے الفاظ یا مفاہیم کو جنم دیتا ہے جو غیر ارادی طور پر شرعی حدود سے تجاوز کر سکتے ہیں۔ اس لیے نوآموز نعت گو شعراء کو چاہیے کہ وہ نعت لکھنے سے پہلے سیرتِ نبوی ﷺ اور عقائدِ اسلامیہ کا مطالعہ کریں، اپنے کلام پر اہلِ علم اور صاحبِ نظر اساتذہ سے اصلاح لیں، اور تنقید کو خندہ پیشانی سے قبول کریں۔ یہی رویہ ان کے فن کو پختگی عطا کرے گا اور ان کی نعت گوئی کو عشقِ رسول ﷺ کے ساتھ علم، ادب اور شرعی بصیرت کا حسین امتزاج بنا دے گا۔

حسان بن ثابت نعت ریسرچ سنٹر، جو منہاج یونیورسٹی کے زیرِ اہتمام قائم کیا گیا ہے، فروغِ نعت کے میدان میں ایک اہم علمی، ادبی اور تربیتی ادارے کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس ادارے کا بنیادی مقصد نعت خوانی اور نعت نگاری کو باقاعدہ علمی بنیادوں پر فروغ دینا اور نئی نسل کو محبتِ رسول ﷺ کے جذبات سے آراستہ کرنا ہے۔ ادارہ نعت کے شرعی آداب، صحیح تلفظ، حسنِ ادائیگی، ادبِ رسالت اور نعتیہ ادب کی فنی و فکری جہات سے متعلق باقاعدہ تربیت فراہم کرتا ہے، تاکہ نعت کو محض ایک فن نہیں بلکہ ایک دینی اور روحانی ذمہ داری کے طور پر پیش کیا جائے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف تربیتی کورسز، ورکشاپس، سیمینارز، کانفرنسوں اور نعتیہ مقابلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے، جن کے ذریعے طلبہ، نعت خواں اور نعت گو شعرا کی صلاحیتوں کو نکھارا جاتا ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ حسان بن ثابت نعت ریسرچ سنٹر نعتیہ ادب کی تحقیق، تدوین اور اشاعت کے میدان میں بھی نمایاں خدمات انجام دے رہا ہے۔ ادارہ نعت کے موضوع پر تحقیقی مقالات، علمی کتب اور ادبی ذخیرے کی تیاری و ترویج کے ذریعے نعت کو ایک مستقل علمی و تحقیقی شعبے کے طور پر مستحکم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ مزید برآں، یہ ادارہ نعت خوانی کو غیر شرعی اثرات، خصوصاً موسیقی، فلمی دھنوں اور غیر مناسب اندازِ پیشکش سے محفوظ رکھنے کی تلقین کرتا ہے اور نعت کو سنت، ادب اور وقار کے مطابق پیش کرنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اس طرح حسان بن ثابت نعت ریسرچ سنٹر نہ صرف پاکستان بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی نعت کے فروغ، عشقِ رسول ﷺ کے استحکام اور نعتیہ ادب کی علمی روایت کو آگے بڑھانے میں مؤثر کردار ادا کر رہا ہے۔