اداریہ: آج بچوں کا استاد کون ہے ؟

اداریہ: آج بچوں کا استاد کون ہے ؟

چیف ایڈیٹر ماہنامہ دختران اسلام

منہاج القرآن کی قیادت کو اللہ رب العزت نے دین کے اعلیٰ فہم سے نوازا ہے اور یہ قیادت اس فہمِ دین کو مصطفوی معاشرہ کی تشکیل اور آئندہ نسلوں کے اخلاق و کردار کو سنوارنے کے لئے ہر نہج پر دعوتی، تربیتی و تبلیغی مساعی کو بروئے کار لارہی ہے، آج سوسائٹی کا ہر طبقہ اس بات پر شاکی ہے کہ اولاد فرمانبردار نہیں ہے؟ اس سوال بلکہ سوسائٹی کے اس بہت بڑے المیہ کو واعظین ،مبلغین، علماء، مشائخ ، اساتذہ کو جتنی سنجیدگی کے ساتھ موضوع بحث بنانا چاہیے تھا وہ نظر نہیں آتا، منہاج القرآن کی قیادت نے اس اخلاقی بحران کو حل کرنے کے لئے تبلیغی سطح پر اس موضوع کو سب سے زیادہ اہمیت اور فوقیت دی ہے، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ، پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری ،ڈاکٹر غزالہ قادری، شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نیز منہاج القرآن کے جملہ سکالرز نوجوانوں اور اولاد کی تربیت کے موضوع پر خطابات بھی کررہے ہیں اور اس موضوع پر کتب بھی تحریر کررہے ہیں، منہاج القرآن کی قیادت سمجھتی ہے کہ اگر ہم مصطفوی معاشرہ کی تشکیل چاہتے ہیں تو والدین کو اولاد کی تربیت پر سب سے زیادہ توجہ دینا ہو گی، اولاد کی تربیت کا مرحلہ کمسنی سے شروع ہوتا ہے، 7 سال کے بعد بچہ اپنے رویوں اور عادات میں پختگی حاصل کر لیتا ہے اور یہ عرصہ تربیت والدین لاڈ پیار میں ضائع کر بیٹھتے ہیں، منہاج القرآن کی قیادت والدین پر زور دے رہی ہے کہ وہ اپنی اولاد کی تربیت کے اس عرصہ کو فکر معاش کی نظر مت ہونے دیں، بچے کسی بھی معاشرے کا مستقبل ہی نہیں وہ اس کا آئینہ بھی ہوتے ہیں۔ ان کی گفتگو، ترجیحات، عادات، اخلاق، برداشت اور طرزِ فکر سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ گھر، تعلیمی ادارے اور معاشرہ انہیں کس سمت لے جا رہے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ ہمارے بچے کیا بنیں گے، اصل سوال یہ ہے کہ ہم انہیں کیا بنا رہے ہیں اور ان کی شخصیت کی تشکیل کس کے ہاتھوں ہو رہی ہے؟

ایک زمانہ تھا جب گھر بچے کی پہلی درس گاہ اور والدین اس کے پہلے استاد سمجھے جاتے تھے۔ بچہ بولنا، احترام کرنا، محبت بانٹنا، بڑوں کا ادب، چھوٹوں پر شفقت، سچ بولنا، وعدہ پورا کرنا اور اچھے برے میں امتیاز اپنے گھر ہی سے سیکھتا تھا۔ والدین کی گفتگو، بزرگوں کا طرزِ عمل، خاندان کا ماحول اور گھر کی روزمرہ زندگی اس کی تربیت کا بنیادی نصاب ہوتے تھے مگر آج ہم نے اپنے بچوں کو سوشل میڈیا ،الیکٹرانک میڈیا اور کمپیوٹر گیمز کے حوالے کر دیا ہے، والدین اپنے بچوں کو وقت دینے کی بجائے اُن کے ہاتھ میں موبائل فون، لیپ ٹاپ یا ٹیب دے دیتے ہیں اور بچہ انٹرنیٹ کے ذریعے ایک ایسی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے جس کا کوئی سرپیر نہیں ہوتا، اب یہ بچے پر منحصر ہوتا ہے کہ وہ انٹرنیٹ کی اس دنیا کے کس ملک اور محلے میں داخل ہو جائے۔ سوشل میڈیا جہاں بہت سارے مثبت پہلو بھی رکھتا ہے وہاں منفی رجحانات کی بھی کمی نہیں ہے، بچہ کم عمری کی وجہ سے اچھے اور برے کی پہچان سے آگاہ نہیں ہوتا، سوشل میڈیا کے منفی اور غیر ضروری استعمال کی وجہ سے اخلاقی قدروں کی پامالی کے ساتھ ساتھ دین سے دوری اور کفر و الحاد کے رویے بھی قلوب و اذہان کی سرسبز وادیوں کو ویران کررہے ہیں۔ منہاج القرآن کی قیادت والدین کو باور کروارہی ہے کہ وہ اپنے بچے کے خود استاد بنیں ،موبائل فون اور سوشل میڈیا کو بچوں کا استاد مت بنائیں، ہم یہاں منہاج القرآن ویمن لیگ کے زیر اہتمام قائم ادارے ایگرز کا بھی بطور خاص ذکر کریں گے اور والدین کو دعوت دیں گے کہ وہ اپنے کم عمر بچوں کو ایگرز کا ممبر بنائیں۔ ایگرز بچوں کو عملی مشقوں کے ذریعے دین سے ہم آہنگ کررہا ہے ان کے اندر اخلاق و کردار کی شمع روشن کررہا ہے۔ اب تک جو بچے بھی ایگرز کے تربیتی سیشنز میں شریک ہوئے ہیں اُن کے والدین دعائیں دیتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ اللہ رب العزت منہاج القرآن اور اس کی قیادت کو سلامت رکھے اور اخلاق و کردار سازی کا یہ سفر تاقیامت جاری و ساری رہے۔