ماہنامہ منہاج القرآن

آپ کے فقہی مسائل

اسلام نے انسانی زندگی کے معاشی اور تجارتی معاملات کے لیے بھی واضح اصول و ضوابط عطا کیے ہیں۔ اس مضمون میں غیرقانونی کمپنی کے ذریعے دھوکہ دہی، منافع کی شرعی حد، حکومتی رعایتی گندم کی خلافِ ضابطہ فروخت، نیٹ ورک مارکیٹنگ، اور بیعانہ کی رقم سے متعلق اہم فقہی مسائل کے جوابات قرآن و سنت اور فقہی اصولوں کی روشنی میں بیان کیے گئے ہیں۔

آپ کے فقہی مسائل

سوال: غیرقانونی کمپنی قائم کرکے دھوکہ دہی سے معاشی سرگرمیاں کرنے کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب:اسلام کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ دیگر مذاہب کے برعکس یہ ایک مکمل دین ہے جو زندگی کے ہر شعبے سے متعلق انسانیت کی رہنمائی کرتا ہے۔ اسلام نے اپنے ماننے والوں کو معاشی معاملات کے متعلق بھی جامع تعلیمات دی ہیں اور جائز و ناجائز کی حدود واضح کی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَلَا تَاْکُلُوْآ اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُوْا بِھَآ اِلَی الْحُکَّامِ لِتَاْکُلُوْا فَرِیْقًا مِّنْ اَمْوَالِ النَّاسِ بِالْاِثْمِ وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ.

’’ اور تم ایک دوسرے کے مال آپس میں ناحق نہ کھایا کرو اور نہ مال کو (بطورِ رشوت) حاکموں تک پہنچایا کرو کہ یوں لوگوں کے مال کا کچھ حصہ تم (بھی) ناجائز طریقے سے کھا سکو حالاں کہ تمہارے علم میں ہو (کہ یہ گناہ ہے)۔‘‘(البقرہ،2: 188)

کوئی شخص تجارت میں دھوکہ دے یا غلط بیانی سے کام لے تو یہ نا جائز ہے۔حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا:

’’من غشنا فلیس منا‘‘

یعنی جس نے ہمیں (مسلمانوں کو) دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

ایک اور مقام پر آپﷺ نے فرمایا:

من باع معیباً فلم ینبہ عن عیبہ فلم یزل فی غضب اللّٰہ أولم تزل الملائکۃ تلعنہ۔

کسی نے اگر کوئی عیب دار چیز فروخت کی اور اس کی خریدارکو اس کا عیب نہ بتلایا تو وہ ہمیشہ اللہ کی غضب میں رہے گا یا اس پر فرشتے ہمیشہ لعنت کرتے رہیں گے۔

تجارت اور لین دین کے ان بنیادی احکام سے معلوم ہوتا ہے کہ جعلی کمپنیاں بنا کر اور جھوٹ بول کر لوگوں سے پیسہ ہتھیانا شرعاً اور قانوناً جرم ہے۔ اس سے حاصل ہونے والا مالی فائدہ حرام ہے۔ اس جرم کی سزا دنیا میں ملکی قانون کے مطابق اور آخرت میں نارِ جہنّم ہے۔

سوال: کیا شریعت نے منافع کی کوئی حد مقرر کی ہے؟

جواب: اسلام کا نظریہ معیشت فطرت سے ہم آہنگ اور تمام معاشی مشکلات کا حل ہے، اس لئے کہ یہ نظام نہ تجربات کا مرہون منت ہے اور نہ اقتصادی ماہرین کی ذہنی کاوش کا نتیجہ بلکہ یہ معاشی نظام پروردگار نے تجویز کیا اور پیغمبر اسلامﷺنے پیش کیا ہے۔ اللہ رب العزت کا ارشاد ہے:

وَ ابۡتَغِ فِیۡمَاۤ اٰتٰىکَ اللّٰہُ الدَّارَ الۡاٰخِرَۃَ وَ لَا تَنۡسَ نَصِیۡبَکَ مِنَ الدُّنۡیَا وَ اَحۡسِنۡ کَمَاۤ اَحۡسَنَ اللّٰہُ اِلَیۡکَ وَ لَا تَبۡغِ الۡفَسَادَ فِی الۡاَرۡضِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الۡمُفۡسِدِیۡنَ 

’’ اور تو اس (دولت) میں سے جو اللہ نے تجھے دے رکھی ہے آخرت کا گھر طلب کر، اور دنیا سے (بھی) اپنا حصہ نہ بھول اور تو (لوگوں سے ویسا ہی) احسان کر جیسا احسان اللہ نے تجھ سے فرمایا ہے اور ملک میں (ظلم، ارتکاز اور استحصال کی صورت میں) فساد انگیزی (کی راہیں) تلاش نہ کر، بے شک اللہ فساد بپا کرنے والوں کو پسند نہیں فرماتا۔‘‘(القصص،28: 77)

اسلام کے معاشی نظام کی یہ خاصیت ہے کہ وہ طبیعتوں میں بلندی، ذہنوں میں وسعت اور دلوں میں خلق خدا سے محبت پیدا کرتا ہے۔ وہ دولت جمع کرنے، یا تعیّش کی زندگی اختیار کرنے کے بجائے ایثار وقربانی کا جذبہ پیدا کرتا ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص حاضر بارگاہ ہوکر عرض گزار ہوا۔ یا رسول اللہﷺ(اشیاء) نرخ مقرر فرما دیجیے۔ آپﷺ نے فرمایا بلکہ دعا کروں گا، پھر ایک شخص نے آکر عرض کی: یا رسول اللہﷺ! بھاؤ مقرر فرما دیجیے۔ آپﷺنے فرمایا:

بَلْ اﷲُ يَخْفِضُ وَيَرْفَعُ وَإِنِّي لَاَرْجُو اَنْ اَلْقَی اﷲَ وَلَيْسَ لِاَحَدٍ عِنْدِي مَظْلَمَةٌ.

’’ اللہ تعالیٰ ہی بھاؤ گھٹاتا اور بڑھاتا ہے اور میں یہ آرزو رکھتا ہوں کہ اس حال میں اللہ تعالیٰ سے ملاقات کروں کہ میں نے کسی پر بھی زیادتی نہ کی ہو۔‘‘(احمد بن حنبل، المسند،2: 337، رقم: 8429)

اسلام کا اقتصادی و معاشی نظام ایک مکمل نظامِ معیشت ہے جس میں دنیاوی منافع کو قرآنِ مجید نے ’فضل‘ اور ’خیر‘ کہا ہے اور رسول اکرمﷺ نے حلال طریقے سے رزق کے حصول کو اہم فریضہ قرار دیا ہے۔ شریعت اسلامیہ میں اشیاء کو ذخیرہ کر کے مصنوعی قلت پیدا کرنے، اشیاء کے عیوب چھپا کر بیچنے، ملاوٹ کرنے، قسم کھا کر اشیاء فروخت کرنے، ناپ تول میں کمی کرنے اور ایسی ہی دیگر برائیوں سے باز رہنے کے نہ صرف احکام صادر فرمائے ہیں بلکہ ان پر سخت وعید بھی سنائی ہے۔

شرع میں متعارف کروائے گئے خرید وفرخت کے نظام میں منافع کی کوئی حد متعین نہیں کی کہ اتنا جائز ہے اور اس سے زائد ناجائز۔ تاہم شرع نے ناجائز اور ظالمانہ منافع خوری پر پابندی عائد کی ہے۔ اسلام نے حکومتِ وقت کو اختیار دیا ہے کہ منصفانہ منافع کا معیار مقرّر کر کے زائد منافع خوری کا خاتمہ کرے۔

لہٰذا ایک مسلمان کے لیے مارکیٹ کی عام اور متعارف قیمت سے زیادہ وصول کرنا اور لوگوں کی مجبوری و لاعلمی سے فائدہ اُٹھانا جائز نہیں۔ ایسی ناجائز منافع خوری سے احتراز لازم ہے جس میں بازار کی عام اورمتعارف قیمت سے زیادہ قیمت وصول کی جائے۔

سوال:حکومت سے رعائتی قیمت پر حاصل کردہ گندم قوانین و ضوابط کے مطابق فروخت نہ کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب: مل مالکان حکومتی کوٹہ سے جن قواعد و ضوابط کے مطابق گندم لے رہے ہیں ان کی پاسداری کرتے ہوئے آٹا فروخت کرنا لازم ہے، ورنہ ان کا عمل بددیانتی اور دھوکہ بازی کے زمرے میں آئے گا۔ حکومت مل مالکان کو گندم رعائتی قیمت (Subsidies) پر فروخت کرتی ہے تو اس کی شرائط ہوتی ہیں۔مثلاً آٹا صرف مخصوص ضلع میں فروخت ہوگا۔ اس کا مقصد یہی ہے کہ رعائت کا فائدہ عامۃ الناس کو پہنچے نہ کہ صرف مل مالکان کو۔ یہ اس معاہدہ کی بنیادی شرط ہے جس کا پاس رکھنا ضروری ہے ورنہ یہ کاروباری خیانت شمار ہوگی۔

اگر مل مالکان ضلع سے باہر آٹا فروخت کرنا چاہتے ہیں یا حکومتی شرائط سے آزاد ہونا چاہتے ہیں تو اس کا حل یہ ہے کہ حکومت سے رعائتی قیمت پر گندم نہ خریدیں بلکہ اوپن مارکیٹ سے گندم خریدیں یا حکومتی معاہدے کو آٹے کی طلب و رسد یا ذخیرہ شدہ آٹے کی کمی و بیشی کے ساتھ مشروط کر لیں کہ اگر مجوزہ خاص ضلع میں آٹے کی قلت نہ ہو یا ذخیرہ (Stock) خالی کرنا ہو تو انہیں دوسرے اضلاع میں آٹا فروخت کرنے کی اجازت ہوگی۔ کاروباری معاہدہ کرنے کے بعد اس کی پاسداری ضروری ہے، ورنہ اس سے ہونے والی آمدنی جائز نہ ہوگی۔ رعائتی قیمت پر حاصل کردہ گندم کا آٹا حکومت نے جن شرائط پر فروخت کرنے کی اجازت دی ہے، ان کی پاسداری نہ کرنا اور محض منافع خوری کی خاطر آٹا فروخت کرنا سراسر ناجائز ہے۔

سوال:کیا نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنی میں کام کرنا جائز ہے؟

جواب:عقائد وعبادت کی طرح معاملات بھی دین کا ایک اہم شعبہ ہے۔ شریعت اسلامی نے معاملات کی تفصیلات بھی بیان کیں‌ اور حلال وحرام، مکروہ و مباح اور جائز و طیب کے مکمل احکام بھی ارشاد فرمائے ہیں۔ شرعِ متین نے کاروبارمیں ہمیشہ سچائی، دیانت، امانت کو اختیار اور جھوٹ، فریب، ناپ تول میں‌ کمی سے اختراز کرنے کا حکم دیا۔

کوئی کاروباری کمپنی اگر ان شرعی اصول کے مطابق کام کر رہی ہے تو اس کے ساتھ کام کرنا جائز ہے اور اس کام سے ملنے والی آمدنی حلال ہے۔ اس کے برعکس کمپنی باطل شرائط، دھوکہ دہی، لالچ اور فراڈ کی بنیاد پر کاروبار کر رہی ہے تو اس کے ساتھ کام کرنا ناجائز اور گناہ ہے۔

نیٹ ورک مارکیٹنگ میں عموماً ایک فرد کو کمپنی میں شامل کیا جاتا ہے اور وہ اس کے بدلے مخصوص رقم کمپنی کے پاس جمع کرواتا ہے تو اسے ممبرشپ نمبر مل جاتا ہے۔ یہ آدمی مزید لوگوں کو کمپنی کی ممبرشپ لینے کے لیے تیار کرتا ہے، اس کی معرفت سے ممبرشپ لینے پر مذکورہ فرد کو ممبرشپ فیس کا مخصوص حصہ مل جاتا ہے۔ یوں یہ لائن آگے چلتی ہے اور پہلے فرد کو مخصوص حصہ ملتا رہتا ہے۔ اگر لائن کہیں پر رک جائے تو پہلے فرد کی ممبرشپ ختم ہو جاتی ہے اور کمپنی ان سب کی ممبرشپ کی رقم کی مالک بن جاتی ہے۔ یہ طریقہ کار کئی وجوہات کی بنا پر ناجائز ہے۔

یہ طریقہ کار جوئے، قمار اور غرر (ابہام کی وجہ سے غیر یقینی یا خطرے کی کیفیت) جیسی قباحتوں کا حامل ہے۔ اس میں پہلے صارف کی رقم داؤ پر لگی ہوتی ہے وہ یا تو مزید رقم (کمیشن کی صورت میں )کھینچ لائے یا اصل ہی ڈوب جائے گی، یہی قمار ہے۔ صارف کے لیے کمپنی کے ساتھ کام کرنے کے لیے مخصوص فیس ادا کرنا ضروری ہے اگر وہ رقم ادا نہ کرے تو وہ کمپنی کا کمیشن ایجنٹ نہیں بن سکتا۔ یوں ایک معاملے کو دوسرے کے ساتھ مشروط کرنا لازم آتاہے جو کہ سود کے زمرہ میں آ جاتا ہے۔ اس لیے یہ طریقہ کاروبار سود، جوئے اور قمار پر مبنی ہونے کی وجہ سے بالکل ناجائز اور حرام ہے۔

سوال: معاہدہ بیع ختم ہونے پر خریدار کا بیعانہ کی رقم دوگنا لینا کیسا ہے؟

جواب: جب خریدار اور فروخت کنندہ باہمی رضامندی سے خرید و فروخت کا معاملہ طے کر لیتے ہیں تو خریدار کچھ رقم پیشگی ادا کرتا ہے جسے ’بیعانہ‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دراصل فروخت شدہ شے کی قیمت کا ہی حصہ ہوتا ہے جو فوری ادا کر دیا جاتا ہے۔ خریدار طے شدہ مدت میں کسی وجہ سے باقی قیمت ادا کرنے سے عاجز آ جائے یا فروخت کنندہ بیچنے سے انکار کر دے تو صرف بیعانہ کی رقم واپس کی جائے گی، خریدار کی طرف سے زائد کا مطالبہ کرنا یا فروخت کنندہ کا رقم دبا لینا شرعاً جائز نہیں۔

حضرت عمرو بن شعیب رضی اللہ عنہ نے اپنے والدِ ماجد سے روایت کی ہے:

نَهَی رَسُولُ ﷲِ صلی الله علیه وآله وسلم عَنْ بَیْعِ الْعُرْبَانِ.

رسول اللہﷺ نے ’بیع عربان‘ سے منع فرمایا ہے۔

’بیع عربان‘ یہی ہے کہ ایک شخص کوئی چیز خریدے اور فروخت کرنیو الے کو اس کی کچھ قیمت اس شرط پر دے کہ اگر خرید و فروخت مکمل ہوجائے تو دی گئی رقم سامان کی قیمت میں شمار کی جائے گی اور بیع مکمل نہ ہوسکے تو خریدار یہ رقم فروخت کرنے والے کے لیے چھوڑ دے گا۔

اس کی وضاحت امام مالک نے ان الفاظ میں کی ہے:

وَذَلِکَ فِیمَا نَرَی وَاﷲُ أَعْلَمُ أَنْ یَشْتَرِيَ الرَّجُلُ الْعَبْدَ أَوْ یَتَکَارَی الدَّابَّةَ ثُمَّ یَقُولُ أُعْطِیکَ دِینَارًا عَلَی أَنِّي إِنْ تَرَکْتُ السِّلْعَةَ أَوْ الْکِرَاءَ فَمَا أَعْطَیْتُکَ لَکَ.

حقیقی علم اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے، مگر ہمارے خیال میں اس (بیع عربان) کا معنیٰ یہ ہے ایک آدمی مثلاً غلام خریدے یا کرائے پر جانور لے تو کہے کہ میں آپ کو ایک دینار دیتا ہوں اس شرط پر کہ اگر میں سامان نہ لوں یا کرائے پر نہ رکھوں تو جو (دینار) میں نے آپ کو دیا ہے وہ آپ کا ہو گا۔(ابی داود، السنن، کتاب الإجارة، باب فی العربان،3: 283، رقم:3502)

جمہور فقہائے کرام نے اس بیع کو ممنوع و ناجائز قرار دیا ہے کیونکہ اس صورت میں بلاعوض دوسرے کے مال کا مالک بننا لازم آتا ہے۔ اس لیے زید بکر کو وہی رقم واپس کرے جو اس نے بیعانہ کی صورت میں وصول کی تھی۔ بکر کے لیے دوگنا رقم کا مطالبہ اور اس کا حصول و استعمال جائز نہیں۔

واٹس ایپ