
منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے گزشتہ ماہ شمالی پنجاب کے مختلف اضلاع میں تاریخ ساز سیرت النبی کانفرنسز سے خطابات کئے اور ان کانفرنسز میں شریک ہزار ہا خواتین و حضرات کو یہ تعلیم دی کہ ہمارے تمام مسائل کا حل سیرت طیبہ پر عمل پیرا ہونے میں ہے۔ ان کانفرنسز کی خوش آئند بات ان میں نوجوانوں کی بڑی تعداد کی شرکت ہے۔ یہ امر بھی خوش آئند ہے کہ ان کانفرنسز میں مختلف مکاتبِ فکر کے علماء و مشائخ بھی بڑی تعداد میں شریک ہوئے۔ یہ کانفرنسز روایتی انداز کی نہیں تھیں، ان کے اندر بین المسالک ہم آہنگی، برادرانہ اخوت و بھائی چارہ کے جذبات کا فروغ اور خانقاہوں کے سجادہ نشینوں کے ساتھ اہم فکری نشستیں منعقد ہونا شامل تھیں۔
منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اپنے اس دورہ کے دوران پیر آف گولڑہ شریف صاحبزادہ معین الحق گیلانی، آستانہ عالیہ چکوڑی شریف کے سجادہ نشین صاحبزادہ پیر حسام الدین شاہ، حضرت پیر سید ریاض حسین شاہ، شیخ الحدیث ابوالتراب سید حبیب الحق شاہ ضیائی اور کہوٹہ میں صاحبزادہ ڈاکٹر ساجد الرحمان سجادہ نشین بگھار شریف سے ملاقاتیں کیں۔پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت اسلامیان پاکستان اور اُمت کو اتحاد و یکجہتی کی ضرورت ہے اور ہر نوع کے تفرقہ کے خاتمہ، بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لئے علماء و مشائخ اور خانقاہوں کا دینی و ملی کردار مرکزی ہے۔یہ ملاقاتیں ان عظیم مقاصد کے حصول کے لئے اہم ثابت ہوں گی۔
سیرت النبیﷺ کے موضوع پر کانفرنسز کے نوجوانوں پر دور رس اثرات مرتب ہورہے ہیں کیونکہ ان کانفرنسز کے ذریعے نوجوانوں کو یہ پیغام اور تعلیم دینے کا موقع ملتا ہے کہ وہ اپنے کردار اور اخلاق کی تعمیر کے لیے سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کا باقاعدگی سے مطالعہ کریں۔ سیرت طیبہ کا مطالعہ محض واقعات یاد کرنے کا نام نہیں بلکہ اس کا مقصد یہ سمجھنا بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی زندگی سے ملنے والی رہنمائی ہمارے روزمرہ فیصلوں اور رویوں میں کیسے ظاہر ہو۔سیرت النبی ﷺ انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو نمایاں کرتی ہے، آپ ﷺ نے سچائی، امانت، عدل، رحم اور وعدے کی پاسداری کی تعلیم دی اور اپنی زندگی میں ان کی عملی مثال قائم فرمائی۔ گھر کے معاملات ہوں یا معاشرتی تعلقات، اختلاف کا موقع ہو یا کسی کمزور فرد کے حق کا سوال، سیرت طیبہ ﷺہمیں اپنے عمل کا جائزہ لینے کی دعوت دیتی ہے۔ اسی لیے اس کا پیغام کسی ایک عمر یا طبقے تک محدود نہیں۔ تاہم نوجوانی وہ مرحلہ ہے جس میں عادات پختہ ہوتی ہیں اور زندگی کی سمت متعین ہوتی ہے، اس عمر میں سیرت سے شعوری تعلق خاص اہمیت رکھتا ہے۔یہی وہ پیغام ہے جو منہاج القرآن کی اخلاقی، روحانی اور فکری نشستوں کے ساتھ ساتھ سیرت النبیﷺ کے موضوعات پر منعقدہ کانفرنسز میں دیا جاتا ہے۔فی زمانہ روزگار کے دباؤ، سوشل میڈیا کے غیر ضروری استعمال اور دیگر تفکرات نے انسان کو اصلاح احوال کی فکر سے بیگانہ کر دیا ہے، فکری نشستیں انسان کو اپنی ذات کے محاسبہ کا شعور عطا کرتی ہیں۔
اگر ہم شمالی پنجاب کے بڑے شہروں کہوٹہ، حسن ابدال، راولپنڈی اور مری کی ان کانفرنسز پر طائرانہ نگاہ دوڑائیں تو یہاں ہمیں نوجوان رقت آمیز کیفیات کے ساتھ جھومتے ہوئے نظر آتے ہیں، اُن کی قلبی کیفیات اُن کے چہروں سے عیاں نظر آتی ہے کہ وہ اخلاقی تربیت کے خلاء کو بڑی شدت کے ساتھ محسوس کررہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ دین و دنیا کاشعور دینے والی صدائیں اُن کے کانوں میں گونجتی رہیں اور صراط مستقیم اُن کی نظروں سے کبھی محو نہ ہو۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کا یہ روحانی دینی، تنظیمی سفر ہر اعتبار سے کامیاب اور مثالی رہا، خانقاہوں کے سجادہ نشینوں کے ساتھ بہت مفید ملاقاتیں ہوئیں جو یقیناً اصلاح احوال اُمت اور اتحادِ اُمت کے لئے سنگ میل ثابت ہوں گی۔
ولادتِ پاک ﷺ کے جشن کے سلسلے میں صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے کراچی میں سیرت النبیﷺ کانفرنس سے خطاب کیا اور آپﷺ کی مبارک حیات کے مختلف گوشوں پر محققانہ روشنی ڈالی۔ یہ سیرت النبی کانفرنس رحمانیہ مسجد طارق روڈ کراچی میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کی خاص بات مردوخواتین و نوجوانوں کا بڑی تعداد میں شریک ہونا ہے۔ مختلف سیاسی، سماجی راہنما بھی اس کانفرنس میں شریک ہوئے۔ یہ بات قابل فخر ہے کہ دینی اجتماع ہو یا فلاحی سرگرمیوں پر مشتمل تقاریب منہاج القرآن کا پلیٹ فارم اتحاد اُمت کی خوبصورت مثال پیش کرتا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے ہمیشہ بین المذاہب رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کی تعلیمات پر زور دیا، اُنہی کے فکری نقش قدم پرچلتے ہوئے منہاج القرآن کی اعلیٰ و ذیلی قیادت انہی افکار کو عامۃ الناس تک پہنچاتی ہے کیونکہ حضور نبی اکرمﷺ نے اُمت مسلمہ کو انفرادیت سے نکال کر اجتماعیت کی سوچ دی۔ ہجرت مدینہ کے موقع پر ہمیں آپﷺ کی یہ سوچ اور فکر اپنی تمام تر توانائیوں اور رعنائیوں کے ساتھ نظر آتی ہے، جب آپﷺ نے مواخات کا تصور پیش کرتے ہوئے ہر طاقتور کو کمزور کی دست گیری پر قائل کیا، اس کا بنیادی مقصد اُمت واحدہ کی فکری بنیادوں کو مستحکم کرنا تھا۔
پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے اپنے خطاب میں بہت سارے علمی و تحقیقی نکات بیان کئے جو سامعین کے لئے شعور و آگہی کے باب میں علمی اضافہ تھے۔ انہوں نے یہ پیغام دیا کہ ولادتِ پاک ﷺ کی خوشی منانے کا سب سے بامعنی طریقہ یہ ہے کہ سیرتِ رسول اکرم ﷺ کی تعلیمات ہمارے گھروں، رویوں اور اجتماعی زندگی میں دکھائی دیں۔، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے سیرتِ طیبہ ﷺ کے ایسے گوشوں پر روشنی ڈالی جن کا تعلق براہِ راست انسان کے کردار اور تعلقات سے ہے۔ ان کا پیغام تھا کہ قرآن و سنت نے محبت، صلہ رحمی اور حسنِ معاشرت کی تعلیم دی، مضبوط انسانی تعلقات کو جدید سائنسی تحقیق بھی ذہنی اور جسمانی صحت کے لیے اہم قرار دیتی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ لوگوں کی بات توجہ سے سنتے، ان کے جذبات کا لحاظ فرماتے، اصلاح کرتے ہوئے عزتِ نفس کی حفاظت کرتے اور باہمی بدگمانی سے منع فرماتے تھے۔ یہ تعلیمات آج بھی گھروں میں پیدا ہونے والی دوریوں اور معاشرے میں بڑھتی ہوئی بے حسی کا مؤثر جواب ہیں۔
کراچی میں منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیرِ اہتمام زم زم بینکوٹ ہال میں 12 جوڑوں کی اجتماعی شادیوں کی تقریب اسی فکر کا قابلِ قدر عملی اظہار تھی۔ بطور مہمانِ خصوصی خطاب کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے نوبیاہتا جوڑوں اور ان کے اہلِ خانہ کو مبارکباد دی اور انہیں باہمی عزت، محبت اور حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ازدواجی زندگی گزارنے کی تلقین کی۔ ضرورت مند خاندانوں کی مدد معاشرتی ذمہ داری ہے۔ شادی کے بڑھتے ہوئے اخراجات اور جہیز کی غیر ضروری رسم نے بہت سے والدین کے لیے بیٹی کی رخصتی مشکل بنا دی ہے۔ ایسے حالات میں اہلِ ثروت کا تعاون محض عطیہ نہیں، ایک خاندان کی عزت اور امید کی حفاظت ہے۔
منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے تقریباً 25 سال قبل اجتماعی شادیوں کا سلسلہ شروع کیا تھا اور اب تک تقریباً 4500 جوڑوں کی خدمت کی جا چکی ہے۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن نے ہمیشہ اپنے دستیاب وسائل کے ساتھ کمزور طبقات اور ضرورت مند افراد کی مدد کی ہے۔ کراچی میں اجتماعی شادیوں کی تقریب اس خدمت کا ایک اور اظہار تھی۔ سیرتِ مصطفیٰ ﷺ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ محبت اور اخوت کا پیغام ہمارے عمل میں بھی نظر آئے، ٹوٹے ہوئے رشتے جڑیں، ضرورت مند خاندانوں کو سہارا ملے اور ہر انسان کے ساتھ عزت و احترام سے پیش آیا جائے۔ یہی وہ راستہ ہے جس پر تحریک منہاج القرآن اپنی دعوت اور خدمت کے ذریعے گامزن ہے۔
