ماہنامہ منہاج القرآن

افکار تازہ کی ترویج میں تحریک منہاج القرآن کا کردار

تحریکِ منہاج القرآن معاشرے کے فرسودہ ذہنی خاکوں اور روایتی تصورات کو چیلنج کرتے ہوئے سچے اسلامی، مثبت اور ترقی پسند افکار کے فروغ کے لیے فکری و علمی جدوجہد کر رہی ہے۔ مضمون میں ذہنی تبدیلی، خواتین کے کردار، مذہبی و سماجی ہم آہنگی، لرننگ آرگنائزیشن اور مؤثر قیادت کے حوالے سے تحریک کی خدمات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔

افکار تازہ کی ترویج میں تحریک منہاج القرآن کا کردار

خطاب نمبر:Ia-133، تاریخ: 22 جنوری 2021ء، بمقام: مرکزی سیکرٹریٹ لاہور

ہم معاشرے میں رہتے ہوئے اپنے گرد و نواح ایک چیز کا کثرت سے مشاہدہ کرتے ہیں اور وہ ہے مزاحمت (Resistance)۔ جب بھی ہم کسی کو دعوت دیتے ہیں یا کسی تک اپنا پیغام پہنچاتے ہیں، چاہے وہ پیغام سیاسی ہو، معاشرتی اصلاح کا ہو، کوئی بڑی نظریاتی تبدیلی ہو یا روایتی ماحول کے اندر کسی Progressive Approach کی دعوت ہو،ہمیں مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

جب تک انسان خود اپنی آنکھوں سے کسی چیز کو نہیں دیکھتا تو اس کے ذہن میں ایک مزاحمت، قیاس، مفروضہ اور ایک خاص ذہنی خاکہ ہوتا ہے۔ لوگوں کی سنی سنائی باتوں کے سبب ذہن میں ایک ایسا خاکہ تیار ہوتا ہے جو اندیشے اور مزاحمت پیدا کرتا ہے۔ لیکن جیسے ہی کوئی خود اس پورے منظر کا مشاہدہ کرتا ہے تو اس کے سارے شکوک و شبہات بیک وقت ختم ہو جاتے ہیں، ذہن کی سلیٹ بالکل صاف ہوجاتی ہے اور وہاں سچے افکار اور مثبت امیجز جنم لیتے ہیں۔ نتیجتاً اب وہ نہ صرف اس چیز کو خواہ وہ کوئی مادی چیز ہو یا علمی و فکری خیالات و نظریات، انھیں سمجھ جاتا ہے بلکہ ان کی ترویج کرنے والا (Propagator) بھی بن جاتا ہے۔

Mental Models کیا ہیں؟

معاشرے کے اندر بے جا رسوم و رواج اور روایات جڑ پکڑے ہوئے ہوتی ہیں مثلاً: شادی بیاہ کی فضول رسومات وغیرہ۔ اگر کوئی اپنے گھر جا کر کہے کہ میں اس بے جا رسم کو نہیں مانتا تو گھر والے فوراً کہتے ہیں کہ ’’ہماری تین نسلیں یہ کرتی آ رہی ہیں، تمہیں اچانک یہ رسم کیوں بری لگنے لگی؟‘‘ ان روایات کو توڑنا انتہائی مشکل ہوتا ہے۔ اسی طرح سیاست میں لوگ کہتے ہیں کہ ’’ہم تو شروع سے ہی فلاں سیاسی جماعت کو ووٹ دیتے آ رہے ہیں، تم اب ہمیں سکھاؤ گے؟ یہ تو ہمارے خاندان کی روایت ہے!‘‘ عقائد اور مذہب کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوتا ہے۔ اگر کوئی خاندان نسلوں سے ایک خاص مسلک سے وابستہ ہے اور ان کا کوئی فرد جب اپنے افکار کو تبدیل کرنا چاہتا ہے، تو اسے کہا جاتا ہے کہ ’’تم چار نسلوں سے ایسے ہو، تمہارے باپ دادا اس مسلک پر تھے، تم آج ان روایات کو کیسے چیلنج کر سکتے ہو؟‘‘

تعلیم کی دنیا ہو یا کوئی اور میدان، جب بھی ہم کسی پرانی چیز کو تبدیل کرنے نکلیں گے، تو بے شمار مخالفتیں ہمارے سامنے کھڑی ہو جائیں گی۔ وہ پرانی چیز، روایت یا سوچ جو ہمیں تبدیلی سے روکتی ہے اور مزاحمت پیدا کرتی ہے، اسے علمی اصطلاح میں مینٹل ماڈل (Mental Model) یعنی ذہنی خاکہ کہا جاتا ہے۔

مینٹل ماڈل کے تصور کو اس مثال سے سمجھیں۔ فرض کریں کہ تین مختلف لوگ ہیں جو مختلف پسِ منظر سے تعلق رکھتے ہیں، ان کے سامنے لفظ آگ بولا جاتا ہے۔ ان میں سے پہلا شخص ایک ایسے ماحول سے آیا ہے جہاں جنگ، بم دھماکے اور قتل و غارت گری روز کا معمول تھی۔ جب اس کے سامنے لفظ "آگ" بولا جائے گا، تو بغیر کسی توقف کے اس کے ذہن میں فوراً نقصان، تباہی، دھماکے اور موت کا خیال آئے گا اور لفظ "آگ" اسے فوری طور پر ایک خوفناک منظر کی طرف لے جائے گا۔ یہ اس کے ذہن کا وہ مینٹل ماڈل ہے جو اس کے ماحول اور تجربات نے تشکیل دیا ہے۔

دوسرا شخص ایک ایسا فرد ہے جس کا ہاتھ یا جسم کا کوئی حصہ ماضی میں آگ سے جل چکا ہے۔جب اس کے سامنے لفظ "آگ" پکارا جائے گا، تو اس کے ذہن میں سب سے پہلا احساس خوف اور تکلیف کا ابھرے گا۔ اس کا ذہن آگ کو ایک تکلیف دہ چیز کے طور پر دیکھے گا۔ یہ اس کا مینٹل ماڈل ہے۔

تیسرا شخص ایک ایسے پرامن اور آرام دہ ماحول سے تعلق رکھتا ہے جہاں اس نے آگ سے متعلقہ کوئی حادثہ نہیں دیکھا۔ جب اس کے سامنے لفظ "آگ" بولیں گے، تو اس کے ذہن میں مثبت خیالات آئیں گے کہ آگ کھانا پکاتی ہے، آگ سردیوں میں تپش اور سکون دیتی ہے اس کا ذہن فوراً آگ کے فوائد اور اچھے پہلوؤں کی طرف جائے گا۔ یہ اس کا مینٹل ماڈل ہے۔

اس مثال سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کا ذہن حالات، واقعات اور ماحول کے زیرِاثر مخصوص خاکے تیار کرتا ہے اور وہی خاکے اس کے لیے حقیقت بن جاتے ہیں۔ اگر کسی بھی موضوع یا لفظ کو سن کر ہمارے ذہن میں پہلا خیال منفی آتا ہے، تو سمجھ لیں کہ ماضی میں ہمارے ساتھ کوئی ناخوشگوار تجربہ ہوا ہے، جس کی وجہ سے یہ غیر معمولی ردِعمل پیدا ہو رہا ہے۔ ایسی صورت میں انسان کو اپنے اوپر کام کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، تا کہ وہ اس ماحول کے اثر سے نکل کر اپنی سوچ کو مثبت بنا سکے۔

اسی طرح جب لفظ "رسم" بولا جائے اور کوئی انسان خود کو جکڑا ہوا محسوس کرے، تو اس کا مطلب ہے کہ وہ روایات کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے۔ اب اگر وہ اس الجھن سے نکلنا چاہتا ہے، تو وہ ترقی پسند (Progressive) بنے اور آگے بڑھے۔ اسی طرح جب ’’حکومت‘‘ کا لفظ بولا جائے تو پاکستان میں بدقسمتی سے کوئی ایسا دور نہیں گزرا کہ جب لفظ ’’حکومت‘‘ سے عوام کے ذہن میں خوشحالی اور ریلیف کا خاکہ ابھرے۔ ہمارے ذہنوں میں لفظ "حکومت" آتے ہی مہنگائی، جینا حرام ہونا اور بربادی کے خاکے ابھرتے ہیں۔ ہم نے خوشحال حکومتوں کا تصور صرف کتابوں میں ہی پڑھا ہے۔ یہ بھی ہمارا ایک قومی مینٹل ماڈل بن چکا ہے۔

تحریکِ منہاج القرآن کا اصل ہدف: ذہنی خاکوں (Mental Models)کی تبدیلی

تحریک منہاج القرآن اور اس کے جملہ فورمز جب معاشرے میں ایک فطری جذبہ اور جوش کے ساتھ محنت کرتے ہیں تو انھیں بالکل واضح طور پر معلوم ہونا چاہیے کہ ہمارا اصل ہدف (Target) کیا ہے؟ ہم اپنی ان تمام سرگرمیوں کے ذریعے معاشرے میں کیا تبدیلی لانا چاہتے ہیں؟ ہم میں اور عام لوگوں میں کیا فرق ہے؟ تحریکِ منہاج القرآن اس دور میں ہمیں کیا سکھا رہی ہے؟

یاد رکھیں! ہمارا اصل کام پرانے اور فرسودہ ذہنی خاکوں (Old Mental Models) کو تبدیل کرنا ہے۔ ہم معاشرے کے ان فرسودہ تصورات کو چیلنج کرتے ہیں جو انسانیت کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ہم ان بے جا معاشرتی رسومات اور سیاسی میدان میں پھیلی کرپشن، دجل، غنڈہ گردی اور دھاندلی کے نظام کو چیلنج کرتے ہیں جن کا کوئی فائدہ نہیں۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے جب یہ فرمایا کہ ’’یہ انتخابی نظام ایک سیاسی دھندا ہے‘‘، تو اس وقت کی سیاسی اشرافیہ اکٹھی ہو کر شور مچاتی تھی کہ ’’طاہر القادری جمہوریت کو پامال کر رہے ہیں۔‘‘ یہ ان کا مینٹل ماڈل تھا! چونکہ شیخ الاسلام ایک نئی اور انقلابی بات کر رہے تھے، اس لیے وہ پولیٹیکل ایلیٹ اپنے ذہنی خاکوں کے ٹوٹنے پر خطرہ محسوس کر رہی تھی۔

پس وہ لوگ جنھوں نے ابھی تک تحریک کی فکر، منہاج القرآن کے کام اور شیخ الاسلام کی شخصیت کو قریب سے نہیں سمجھا تو وہ اس کی دعوت ملنے پر مزاحمت کریں گے۔ اس میں ان کا قصور نہیں ہے۔ اس لیے ان سے جھگڑنے یا ناراض ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ہمیں صرف یہ سمجھنا چاہیے کہ: اس شخص کا مینٹل ماڈل تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ مسئلہ اس بندے کی نیت میں نہیں، بلکہ اس کے اس ذہنی خاکے میں ہے جو ماحول نے اس کے ذہن میں بٹھا دیا ہے، جس کے باعث ہمارا نام سنتے ہی اس کے ذہن میں منفی خیالات جنم لیتے ہیں۔ ہمیں اس کے خوف اور جھجک کو دور کر کے اسے قریب لانا ہے۔

قرآنِ مجید میں حضرت یوسف علیہ السلام کا واقعہ بیان ہوا ہے کہ جب مصر کی عورتوں نے زلیخا کو ملامت کیا تو زلیخا نے ان کا مینٹل ماڈل تبدیل کرنے کے لیے ایک تدبیر اختیار کی۔ اس نے حضرت یوسف علیہ السلام کو ان کے سامنے آنے کا حکم دیا۔ جیسے ہی ان عورتوں نے حضرت یوسف علیہ السلام کا حسنِ بے مثال دیکھا، وہ دنگ رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں۔ زلیخا کا مقصد یہی تھا کہ ’’جو سچائی میں نے دیکھی ہے، وہ انہیں بھی دکھا دوں، ان کا ذہنی خاکہ خود بہ خود تبدیل ہو جائے گا۔‘‘

تحریک منہاج القرآن بھی اس مشن پر ہے کہ ہم نے لوگوں کے پرانے ذہنی خاکوں کو تبدیل کرنا ہے۔ جو سچائی، علمی ماحول اور فکری خزانہ تحریک کے رفقاء و کارکنان نے دیکھا ہے، وہ ہم نے دوسروں کو دکھانا ہے۔ جن کے دلوں میں شکوک و شبہات اور منفی خیالات ہیں، ان کے خوف اور ڈپریشن کو دور کرنا ہے اور انہیں وہ سیدھا راستہ دکھانا ہے جو ہم نے اختیار کیا ہے۔

اگر ہمارا ذہنی خاکہ تبدیل ہو سکتا ہے، تو دوسروں کا بھی ہو سکتا ہے۔ لیکن شرط یہ ہے کہ ہم خود اتنے پختہ ہوں کہ دوسروں کے مینٹل ماڈلز کو تبدیل کر سکیں، ایسا نہ ہو کہ کمزوری کی وجہ سے دوسروں کی صحبت میں بیٹھ کر ہمارا اپنا ہی ذہنی خاکہ تبدیل ہو جائے۔

تحریک منہاج القرآن اور عالمی و معاشرتی سطح پر Mental Models کی تبدیلی میں کردار

ہمیں اپنے ذہنی خاکوں کو بدلنے کے لیے اس امر کو یقینی بنانا ہوگا کہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کیا جائے۔

شیخ الاسلام کے خطابات کو بار بار سنا جائے۔
علمی و تنظیمی صحبت کو اختیار کیا جائے۔

جب ہم علمی طور پر مضبوط ہوں گے، تو معاشرہ پر ہمارا مثبت اثر قائم ہوگا۔ اگر کوئی ہم سے پوچھے کہ ’’آپ لوگ کیا کرتے ہیں؟‘‘ تو فخر سے کہیں کہ ’’ہم معاشرے کے بوسیدہ ذہنی خاکوں کو جدید اور مثبت افکار سے تبدیل کرتے ہیں۔‘‘

تحریک منہاج القرآن نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر لوگوں کے فرسودہ اور بوسیدہ ذہنی خاکوں کو بدلنے میں کیا اہم کردار ادا کیا ہے؟ آیئے اس پر ایک اجمالی نگاہ ڈالتے ہیں:

(1) اسلام کا عالمی خاکہ اور شیخ الاسلام کا تاریخی کردار

نائن الیون اور دہشت گردی کے پے در پے واقعات کے بعد عالمی سطح پر مسلمانوں اور اسلام کا ایک نہایت بھیانک مینٹل ماڈل بن چکا تھا کہ ہر مسلمان انتہا پسند اور دہشت گرد ہوتا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی غیر مسلم جب لفظ "اسلام" سنتا، تو اس کے ذہن میں فوری دہشت گردی کا خاکہ ابھرتا تھا۔ اس عالمی اور خوفناک ذہنی خاکہ کو تبدیل کرنا صرف نعروں، تقریروں یا شور شرابے سے ممکن نہ تھا۔ اس نازک موڑ پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے یہ بھاری ذمہ داری اپنے کندھوں پر اٹھائی۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف تاریخی فتویٰ تحریر کیا، درجنوں انگریزی اور عربی کتب تصنیف کیں، برطانوی پارلیمنٹ اور امریکی تھنک ٹینکس میں جا کر سچائی پیش کی اور دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں اسلام کا حقیقی چہرہ متعارف کروایا۔

اس مسلسل فکری جدوجہد کا نتیجہ یہ نکلا کہ آج عالمی مینٹل ماڈل میں 50 سے 60 فیصد تک مثبت تبدیلی آ چکی ہے۔ اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ آج امریکی اور مغربی یونیورسٹیز میں پڑھائی جانے والی اسلامک اسٹڈیز کی کتب میں اسلام کے حقیقی نمائندہ کے طور پر شیخ الاسلام اور منہاج القرآن کی خدمات کا ذکر ’’جدید دور کا حقیقی اور پرامن اسلام، ڈاکٹر طاہرالقادری کی فکر کی روشنی میں‘‘ کے عنوان سے مذکور ہے۔ یہ مینٹل ماڈل کی حقیقی تبدیلی ہے۔ اقوام کے نظریات بدلنے میں صدیاں لگ جاتی ہیں مگر شیخ الاسلام نے دہشت گردی و انتہا پسندی کو اسلام سے نتھی کرنے والے مینٹل ماڈل کو صرف چند سال میں تبدیل کرکے ثابت کردیا کہ سچی قیادتیں ناممکن کام کو ممکن کر دکھاتی ہیں۔

(2) خواتین کے متعلق روایتی رویوں کی تبدیلی

ہمارے معاشرے کے روایتی علماءکا دینی و مذہبی پروگرامز میں خواتین کی شرکت کے حوالے سے ایک مخصوص ذہنی خاکہ بنا ہوا تھا کہ عورتوں کا مذہبی یا فکری پروگرامز میں کوئی کام نہیں، ان کا کام صرف گھر میں کھانا پکانا اور بچے پالنا ہے۔

اس فرسودہ مینٹل ماڈل کو سب سے پہلے تحریکِ منہاج القرآن اور شیخ الاسلام نے آج سے 46 سال پہلے چیلنج کیا۔ آپ نے اپنے خطابات میں نہ صرف خواتین کی علمی، فکری، روحانی تربیت کے لیے دینی و مذہبی پروگرامز میں ان کی شرکت کی اہمیت کو بیان کیا بلکہ تحریک کے پلیٹ فارم پر ہونے والی ہر سرگرمی میں معاشرے کی اس نصف آبادی کی شرکت کو لازمی قرار دیا۔ آپ نے واضح کیا کہ خواتین کو علم حاصل کرنے کا اتنا ہی مساوی حق حاصل ہے جتنا مردوں کو ہے۔ مرد تو باہر کام کرتا ہے، لیکن نسلِ نو کی اصل تربیت تو ماں نے کرنی ہے۔ اگر ماں ہی دین اور فکری شعور سے نابلد ہوگی، تو اولاد میں دین کہاں سے آئے گا؟

آج تحریکِ منہاج القرآن کے ہر فورم پر خواتین جس فعال انداز میں نہ صرف شریک ہیں بلکہ قیادت کر رہی ہیں، اس کی مثال ماضی کی تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ اس ذہنی خاکہ کی تبدیلی کا نتیجہ ہے جس کے لیے تحریک منہاج القرآن اور شیخ الاسلام نے دہائیوں پہلے قدم اٹھایا تھا۔

(3) جدید و قدیم اور مذہبی و سیکولر تفریق کا خاتمہ

ماضی میں معاشرہ دو الگ انتہاؤں میں تقسیم تھا۔ ایک طرف خالص مذہبی طبقہ تھا جہاں صرف مخصوص حلیہ، داڑھی اور پگڑی والے لوگ نظر آتے تھے اور دوسری طرف خالص سیکولر طبقہ تھا جہاں مذہب کا نام و نشان تک نہ تھا۔ ان دونوں طبقات کے درمیان کوئی ربط یا Interaction نہیں تھا۔ ان دونوں طبقات نے ایک دوسرے کے بارے میں شدید منفی ذہنی خاکے بنا رکھے تھے۔

تحریکِ منہاج القرآن نے ان دوریوں کو مٹایا۔ آج منہاج القرآن کے اجتماعات اور مجالس کا ماڈل یہ ہے کہ ہمارے ہاں داڑھی والے بھی ملیں گے اور بغیر داڑھی والے بھی۔ پینٹ کوٹ پہننے والے جدید نوجوان بھی ہوں گے اور روایتی شلوار قمیض اور ٹوپی والے بھی۔ ہر مسلک، ہر مکتبہ فکر اور یہاں تک کہ بین المذاہب ہم آہنگی کے پیشِ نظر دوسرے مذاہب کے لوگ بھی ہمارے ہاں ایک ہی صف میں بیٹھے نظر آتے ہیں۔ تحریک نے اس تفریق پسند ذہنی خاکہ کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا۔

معاشرے کے فرسودہ مینٹل ماڈلز کوچیلنج کون کرتا ہے؟

یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ کون سی تنظیمیں ہوتی ہیں جو معاشرے کے اندر ان فرسودہ ذہنی خاکوں کو چیلنج کرنے اور تبدیل کرنے کی اہلیت رکھتی ہیں؟

یاد رکھیں! ہر عام تنظیم یہ کام نہیں کر سکتی۔ جدید لٹریچر اور مینجمنٹ سائنسز میں ایسی تنظیموں کو Learning Organizations کہا جاتا ہے۔ جو تنظیمیں لکیر کی فقیر بنی رہیں اور نئے حالات کے مطابق اپنے اندر تبدیلی نہ لائیں، وہ لرننگ آرگنائزیشنز نہیں کہلا سکتیں۔ مثلاً ہمارے روایتی انتخابی نظام میں صرف اسی شخص کو ٹکٹ دیا جاتا ہے جو حلقے میں 40/50 کروڑ روپے خرچ کر سکے۔ یہ ایک بوسیدہ ماڈل ہے۔ شیخ الاسلام جب بار بار فرماتے ہیں کہ تم سو مرتبہ بھی اس الیکشن سسٹم کا حصہ بن جاؤ، تبدیلی نہیں آئے گی، تو وہ دراصل اسی بوسیدہ پولیٹیکل ماڈل کو چیلنج کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ جرأت صرف ایک لرننگ آرگنائزیشن ہی دکھا سکتی ہے۔

ایک لرننگ آرگنائزیشن کی چار بنیادی خصوصیات ہوتی ہیں جو اس کی قیادت اور کارکنان دونوں میں پائی جاتی ہیں:

(1) ذاتی مہارت اور کمال

لرننگ آرگنائزیشن کا ہر کارکن اور رہنما اپنی ذاتی، تعلیمی، فکری اور اخلاقی ترقی پر مسلسل کام کرتا رہتا ہے۔ وہ کبھی فکری جمود کا شکار نہیں ہوتا۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل ایک مثالی لرننگ آرگنائزیشن ہے، کیونکہ اس کے وابستگان کبھی خود کو عالمِ کل نہیں سمجھتے۔ وہ ہمیشہ مطالعہ کرتے ہیں، نیا علم حاصل کرتے ہیں اور اپنے افکار کو Up-to-date رکھتے ہیں۔

جس دن کسی کے ذہن میں یہ خیال آ جائے کہ میں سب کچھ جان گیا ہوں اور مجھے اب سیکھنے کی ضرورت نہیں، تو سمجھ لیں کہ اس نے سیکھنے کا عمل روک دیا اور وہ اس لرننگ آرگنائزیشن کے مزاج سے دور ہو گیا۔ تحریک منہاج القرآن کا کارکن ہمیشہ خود کو ایک طالب علم محسوس کرتا ہے۔ وہ آقا علیہ السلام کے فرمان: ’’مہد سے لحد تک علم حاصل کرو‘‘ پر کاربند رہتا ہے اور وہ علم سیکھنے میں کسی بچے، جوان یا بوڑھے سے حجاب محسوس نہیں کرتا۔ اگر کسی کام یا Skill میں کمی ہو، تو وہ کہانیاں بنا کر اسے چھپانے کے بجائے، پورے اعتماد کے ساتھ تسلیم کرتا ہے کہ مجھے یہ کام نہیں آتا اور میں اسے سیکھوں گا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے جب محسوس کیا کہ ان کی زبان میں وہ فصاحت نہیں ہے جو فرعون کے دربار میں مطلوب تھی، تو انہوں نے اللہ کی بارگاہ میں التجا کی: ’’میرے بھائی ہارون کو میری مدد کے لیے میرے ساتھ شریک فرما دے کیونکہ وہ مجھ سے زیادہ فصیح ہے۔‘‘

اگر یہ مزاج ہم اپنی عملی اور پروفیشنل زندگی میں اپنا لیں، تو ہم کبھی ناکام نہیں ہو سکتے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بیس سال پرانی معلومات پر بھروسہ کرنے کے بجائے نئے رجحانات (Trends)، نئی ٹیکنالوجیز اور نئی اسکلز سیکھتے رہیں۔

(2) لچک اور اصلاح

ایک لرننگ آرگنائزیشن حالات اور وقت کے تقاضوں کے مطابق اپنی سمت اور اپروچ کو درست کرتی ہے اور اپنی اصلاح کرنے میں کوئی عار یا شرم محسوس نہیں کرتی۔ جہاں تبدیلی کی ضرورت ہو، وہ بلا جھجھک مثبت تبدیلی کو گلے لگاتی ہے۔

(3) مشترکہ نصب العین

لرننگ آرگنائزیشن کی سب سے بڑی طاقت یہ ہوتی ہے کہ قیادت سے لے کر نیچے آخری کارکن تک، سب کا وژن ایک ہوتا ہے اور سب ایک Page پر ہوتے ہیں۔ جس تنظیم میں مختلف دھڑے الگ الگ مقاصد لے کر چل رہے ہوں، وہ تباہ ہو جاتی ہے۔ مثلاً: ایک بھاری پتھر راستے میں پڑا ہے۔ اگر دس لوگ کھڑے ہو کر اسے مختلف سمتوں میں دھکیلیں،کوئی دائیں، کوئی بائیں، کوئی آگے، کوئی پیچھے تو وہ پتھر اپنی جگہ سے ایک انچ بھی نہیں ہلے گا۔ لیکن اگر وہ دس کے دس لوگ مل کر ایک ہی وقت میں، ایک ہی Direction میں زور لگائیں گے، تو وہ بھاری پتھر راستے سے ہٹ جائے گا۔ اسی طرح جب تنظیم کے تمام کارکنان اور قیادت کا وژن ایک ہو، تو کامیابی یقینی ہوتی ہے۔

(4) خاندانی ماحول

جدید مغربی لٹریچر کہتا ہے کہ لرننگ آرگنائزیشنز محض ایک دفتر یا ادارہ نہیں ہوتیں، بلکہ وہ ایک Family کی مانند ہوتی ہیں۔ جہاں ہر کارکن دوسرے کی خوشی، غمی اور پریشانی سے واقف ہوتا ہے اور ضرورت کے وقت آگے بڑھ کر اس کی مدد کرتا ہے۔ منہاج القرآن کے اندر یہی خاندانی اخوت اور محبت کا ماحول پایا جاتا ہے۔

قیادت کے پانچ درجات

مغربی لٹریچر نے قیادت (Leadership) کو سمجھنے کے لیے اسے پانچ مختلف Levels میں تقسیم کیا ہے۔ قیادت کے ان درجات کو جان کر ہمیں معلوم ہوجائے گا کہ تحریک منہاج القرآن کی قیادت کس درجے پر کھڑی ہے؟

(1) منصب پر مبنی قیادت

قیادت کا یہ درجہ سب سے نچلا اور بے کار درجہ ہے۔ اس لیڈر کے پاس اپنی کوئی ذاتی اہلیت، اخلاق یا صلاحیت نہیں ہوتی، لیکن اسے کسی سیاسی، خاندانی یا تنظیمی اثر و رسوخ کی وجہ سے کسی کرسی یا منصب پر بٹھا دیا جاتا ہے۔ یہ شخص اپنے ماتحتوں سے زبردستی بات منوانے کے لیے اپنے عہدے کا استعمال کرتا ہے اور اچھے لوگوں کے ساتھ بُرا برتاؤ کرتا ہے۔

خاندانی زندگی میں بھی اس کی مثال ملتی ہے، جیسے کوئی کہے: میری بات سنو کیونکہ میں باپ ہوں، یا میں شوہر ہوں! حالانکہ اس نے باپ یا شوہر والا کوئی اخلاقی فریضہ پورا نہیں کیا ہوتا۔ یہ لیڈرشپ صرف عہدے کے بل بوتے پر رعب جمانا چاہتی ہے۔ ایسی قیادت سوسائٹی اور تنظیموں کے لیے انتہائی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے۔

(2) تعلقات پر مبنی قیادت

یہ لیڈر نسبتاً قابل ہوتا ہے اور اپنے کام کو جانتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا وصف یہ ہوتا ہے کہ اس کے اخلاق اچھے ہوتے ہیں اور اس کا لوگوں کے ساتھ Relationship بہت مضبوط ہوتا ہے۔ اگرچہ اس میں کوئی غیر معمولی یا انقلابی صلاحیت نہیں ہوتی، لیکن وہ اپنے اچھے تعلقات، محبت اور ہر ایک کے ساتھ بنا کر رکھنے کی خصوصیت کی وجہ سے لوگوں سے کام نکلوا لیتا ہے اور ادارہ چلتا رہتا ہے۔ یہ مثالی تو نہیں، لیکن اندھوں میں کانا راجہ کے مصداق یہ نظام کو اچھے طریقے سے سنبھالے رکھتا ہے اور نقصان نہیں پہنچاتا۔

(3) کارکردگی اور نتائج پر مبنی قیادت

یہ بہت شاندار قیادت ہوتی ہے۔ یہ لیڈرز نتائج دینے والے (Result-oriented) اور Performers ہوتے ہیں۔ انہیں مقاصد کی مکمل واضحیت ہوتی ہے اور وہ اپنے کام پر focused ہوتے ہیں۔ یہ نہ صرف خود کام کرتے ہیں بلکہ ان کو ٹیم بنانا (Team Building) اور ٹیم کو ساتھ لے کر چلنا بھی آتا ہے۔ لوگ ان کی کارکردگی اور نتائج کو دیکھ کر دل سے ان کی عزت کرتے ہیں اور خوشی سے انہیں اپنا لیڈر تسلیم کرتے ہیں۔ یہ قیادت ہر تنظیم کا قیمتی سرمایہ ہوتی ہے۔

(4) انسان سازی اور تربیت پر مبنی قیادت

یہ انتہائی نایاب (Rare) اور اونچا درجہ ہے۔ اس لیڈر میں لیول 3 کی قیادت کے تمام خصوصیات موجود ہوتی ہیں، لیکن اس کا سب سے بڑا کمال یہ ہوتا ہے کہ یہ نئے لیڈرز تیار کرتا ہے۔ یہ صرف بنے بنائے لوگوں سے کام نہیں لیتا، بلکہ عام لوگوں میں صلاحیتیں پیدا کر کے انہیں رہنما بناتا ہے۔

لیول 3 اور لیول 4 کے لیڈر میں فرق یہ ہے کہ لیول 3 کا لیڈر بازار سے لائے ہوئے بنے بنائے مٹی کے خوبصورت برتنوں کا بہترین استعمال جانتا ہےجبکہ لیول 4 کا لیڈر کچی مٹی کو اپنے ہاتھوں میں لے کر، اسے خود تراش کر خوبصورت برتن تیار کرتا ہے اور پھر انہیں کام میں لاتا ہے۔ یہ لوگ اچھے اساتذہ اور مربی ہوتے ہیں جو پیار و محبت سے نسلوں کی آبیاری کرتے ہیں، آرگنائزیشنز بناتے ہیں اور تاریخ رقم کرتے ہیں۔

(5) اوجِ کمال

یہ قیادت کا آخری اور بلند ترین درجہ ہے جسے لٹریچر میں Pinnacle یعنی K2 کی چوٹی کہا جاتا ہے، جس سے اوپر کوئی راستہ نہیں۔ یہ وہ لیڈرز ہیں جو صدیوں میں ایک آدھ بار پیدا ہوتے ہیں۔ یہ لوگ محض کوئی معمولی تنظیم نہیں چلاتے، بلکہ ان کی قائم کردہ تنظیمیں خود تاریخ کا دھارا بدل دیتی ہیں۔ ان کا اصل کارنامہ یہ ہوتا ہے کہ یہ صدیوں پرانے، فرسودہ نظریات اور ذہنی خاکوں (Mental Models) کو چیلنج کرتے ہیں اور آنے والی صدیوں کے لیے نئے ماڈلز دے کر انسانی معاشرے کا قبلہ درست کر دیتے ہیں۔

آج شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری وہ قیادت ہیں جو Pinnacle Leadership پر فائز ہیں۔ انہوں نے صدیوں پرانے پسماندہ اور انتہا پسندانہ ذہنی خاکوں کو چیلنج کر کے آنے والی صدیوں کے لیے سچے، علمی اور Progressive ماڈلز متعارف کروائے ہیں۔ وہ خود بھی ایک رہنما ہیں اور انہوں نے لاکھوں کی تعداد میں مربی اور لیڈرز بھی تیار کیے ہیں۔

حاصلِ کلام

تحریک منہاج القرآن کے رفقاء و کارکنان کو یوم تاسیس (17 اکتوبر) کے اس پرمسرت موقع پر تجدیدِ عہد کرنا ہے کہ ہمارا تنظیمی مقصد معاشرے کے اندر جڑ پکڑے ہوئے فرسودہ ذہنی خاکوں (Mental Models) کو چیلنج کرنا اور انہیں سچے اسلامی افکار سے تبدیل کرنا ہے۔

ہر رفیق اور کارکن کے قلب و روح اور ذہن میں یہ خیال قائم رہے کہ ہماری وابستگی ایک لرننگ آرگنائزیشن سے ہے، جس کا تقاضا ہے کہ ہم ہمیشہ علم سیکھنے کے عمل میں رہیں اور فکری ارتقاء کا حصہ بنیں۔

ہر رفیق اور کارکن کو اپنی ذاتی، تعلیمی اور نظریاتی ترقی پر مسلسل توجہ دینی ہے۔ مطالعہ، کتب بینی اور تربیتی کیمپس کے ذریعے اپنے آپ کو اپ ٹو ڈیٹ رکھنا ہے۔

کوئی بھی رفیق و کارکن اور عہدیدار جس جگہ اور جس ذمہ داری پر بھی ہو، خواہ اپنے گھر میں، کاروبار میں، تعلیمی ادارے میں، تنظیمی پلیٹ فارم پر یا معاشرے میں، اُسے ایک سچا اور مخلص لیڈر بن کر رول ماڈل (عملی نمونہ) بننا ہے۔ ہمیں خود غرض نہیں بننا کہ خود تو آگے بڑھ جائیں اور اپنے دوستوں کو پیچھے چھوڑ دیں، بلکہ سچا رہنما وہ ہے جو اپنے ساتھ پوری ٹیم کی تربیت کرکے انھیں آگے لاتا ہے۔

اللہ رب العزت ہمارا حامی و ناصر ہو، اپنا خصوصی فضل و کرم فرمائے اور ہم سب کو تجدید دین اور احیائے اسلام کے اس عظیم مصطفوی مشن میں دین اسلام کی حقیقی تعلیمات کو عام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

واٹس ایپ