ماہنامہ منہاج القرآن

انسانی علم کی محدودیت: فکری، فلسفیانہ اور نفسیاتی پہلو

قرآنِ مجید انسان کے علم کو محدود اور نسبتی قرار دیتے ہوئے یہ بنیادی حقیقت واضح کرتا ہے کہ ہر علم والے کے اوپر ایک اور علم والا موجود ہے، جبکہ کامل اور محیط علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے۔ آیتِ مبارکہ وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ انسانی فکری غرور کے بجائے علمی انکسار، مسلسل سیکھنے اور حقیقت کی تلاش کا شعور عطا کرتی ہے۔

انسانی علم کی محدودیت: فکری، فلسفیانہ اور نفسیاتی پہلو

انسانی علم کی محدودیت اور اس کی نسبتی حقیقت کو قرآن ایک بنیادی اصول کے طور پر پیش کرتا ہے کہ انسان کا علم کبھی مطلق، غیر مشروط اور ہمہ گیر نہیں ہو سکتا۔ ہر علم رکھنے والے کے اوپر ایک اور علم رکھنے والا موجود ہے اور تمام علوم کی بلندیوں کے اوپر سب سے اعلیٰ، کامل اور محیط علم صرف اللہ تعالیٰ کے پاس ہے، کیونکہ وہی العلیم ہے۔ یہی وہ نقطۂ ادراک ہے جہاں پہنچ کر انسانی فکر، فلسفہ، منطق اور سائنسی مشاہدات بھی اس حقیقت کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں کہ علم ہمیشہ محدود، مشروط اور متغیر ہوتا ہے، جبکہ پوری حقیقت، اپنے تمام زاویوں اور ابعاد سمیت، صرف اللہ تعالیٰ کے احاطۂ علم میں ہے۔ قرآنِ مجید انسان کی علمی محدودیت کو نہایت واضح اور فیصلہ کن انداز میں ان الفاظ میں بیان کرتا ہے:

وَمَآ أُوتِيتُم مِّنَ ٱلۡعِلۡمِ إِلَّا قَلِيلٗا۔

اور تمہیں علم میں سے بہت ہی تھوڑا حصہ دیا گیا ہے۔(الإسراء،17: 85)

یہ آیت انسان کو اُس فکری غرور اور معلوماتی تکبر سے باہر نکالتی ہے جو یہ گمان پیدا کرتا ہے کہ معلومات کے انبار ہی علم کی معراج ہیں، حالانکہ معلومات محض ابتدائی زینہ ہیں، جبکہ علم حقیقت کی پہچان، ادراک کی بالیدگی اور اُس نظامِ حکمت تک رسائی کا نام ہے جو ہر شے کے پس منظر میں کارفرما ہے۔

قرآن مجید کے نزدیک علم، محض جان لینے کا عمل نہیں بلکہ پہچان لینے کا عمل ہے، یعنی اُس حقیقت کو پہچاننا جو ہر علم کے پس منظر میں ایک کارفرما قوت کے طور پر موجود ہے۔ انسان کسی ایک جہت، ایک تجربہ یا کسی ایک علمی گوشے کو سمجھ سکتا ہے، لیکن وہ پوری حقیقت کو اپنے فہم میں سمیٹ نہیں سکتا، کیونکہ حقیقت کا احاطہ صرف اسی ذات کا وصف ہے جو العلیم ہے۔ اسی احساس کے ذریعے قرآن انسان کو یہ شعور دیتا ہے کہ علم بند دروازہ نہیں بلکہ ایک جاری امانت ہے، جو انسان کو مسلسل سیکھنے، اپنی فکری حدوں کو پہچاننے اور حقیقتِ مطلقہ کی طرف متوجہ رہنے کی دعوت دیتا ہے۔

علمی انکساری کا قرآنی تصور

قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ کا فرمان:

وَفَوۡقَ كُلِّ ذِي عِلۡمٍ عَلِيمْ

(اور ہر علم والے کے اوپر ایک بڑا علم والا موجود ہے۔)

یہ فرمان انسانی علم کی محدودیت اور اللہ کے سامنے عاجزی اختیار کرنے کا ایک روشن اصول ہے۔یہ اصول انسان کے اندر یہ شعور پیدا کرتا ہے کہ علم کی جتنی بھی وسعت حاصل ہو جائے، وہ حقیقتِ مطلقہ کے مقابلے میں ہمیشہ ایک محدود اور نسبتی درجہ رکھتا ہے۔ یہی احساس انسان کو علمی تکبر سے بچاتا ہے اور اسے اس مقام پر لے جاتا ہے جہاں وہ یہ تسلیم کرنے لگتا ہے کہ اس کی علمی رسائی جزوی ہے، کلی نہیں اور یہی اعتراف اسے مزید سیکھنے، غور کرنے اور حقیقت کی تلاش میں ثابت قدم رکھتا ہے۔

قرآن مجید کے مطابق علم کی اصل برکت اس کی مقدار میں نہیں بلکہ اس کی تاثیر اور انسان کے باطن پر پڑنے والے اثر میں ہے۔ علم اُس وقت بابرکت بنتا ہے جب وہ انسان کو عاجزی، شکر اور بندگی کی طرف متوجہ کرے، کیونکہ ایسا علم انسان کے اندر حقیقت کی پہچان پیدا کرتا ہے، اسے نفس کی قید سے آزاد کرتا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کے قریب لے جاتا ہے۔ لیکن وہ علم جو انسان کے اندر غرور پیدا کرے، اسے حقیقت سے دور کر دیتا ہے، اسے اپنے نفس کا قیدی بنا دیتا ہے اور اس کے اندر مزید سیکھنے کی صلاحیت کو زائل کر دیتا ہے۔

قرآنِ مجید انسان کو بار بار متوجہ کرتا ہے کہ علم، پہچان اور ادراک کا نام ہے، محض معلومات جمع کر لینے کا نہیں۔ جب انسان اس حقیقت کو دل سے قبول کر لیتا ہے تو وہ یہ سمجھنے لگتا ہے کہ علم ایک مسلسل سفر ہے، ایک قابلِ قدر امانت ہے اور اس کا مقصد انسان کو حقیقت تک پہنچانا ہے، نہ کہ اسے اس سے غافل کرنا۔ یہی وہ قرآنی منشور ہے جو انسان کو علم کے میدان میں بھی عاجزی سکھاتا ہے اور حقیقت کے دروازے پر سر جھکانے کا سلیقہ عطا کرتا ہے۔

علم کی فکری اقسام اور فلسفیانہ درجہ بندی

اسلامی فکر میں علم کو ہمیشہ دو پہلوؤں میں دیکھا گیا ہے:

1۔علمِ حصولی 2۔ علمِ حضوری

1۔علمِ حصولی وہ علم ہے جو انسان اپنی عقل، حواس، مطالعہ اور تجربہ کے ذریعے حاصل کرتا ہے۔ یہ علم انسان کو کائنات کے ظاہری نظام، قدرتی قوانین اور اسباب و علل کے رشتوں کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اسی علم کے ذریعے انسان دنیا کے اصول سیکھتا ہے، چیزوں کا تجزیہ کرتا ہے، نتائج اخذ کرتا ہے اور اپنے تجربات کو علم کی شکل میں محفوظ کرتا ہے۔

یہ علم انسان کے اندر مشاہدے کی قوت بڑھاتا، سوچ کو منظم کرتا اور اسے سوال کرنے، تحقیق کرنے اور نئے حقائق تک پہنچنے کا شعور عطا کرتا ہے۔ اسی علم کی بنیاد پر انسان فطرت کے اسرار کو کھولتا، کائناتی نظم کو دریافت کرتا اور دنیاوی معاملات میں تدبّر اور حکمت کے ساتھ فیصلے کرنا سیکھتا ہے۔ یہ علم اگر درست سمت میں استعمال ہو تو انسان کو کائنات کے حقائق کا امین بنا دیتا ہے، اسے اپنے ماحول کو بہتر بنانے کا سلیقہ دیتا ہے اور زندگی کے معاملات میں بصیرت کے ساتھ آگے بڑھنے کی صلاحیت پیدا کرتا ہے۔

2۔جو علم شعورِ باطن، الہام اور نورِ قلب کے ذریعے انسان کے دل پر براہِ راست منکشف ہوتا ہے، اسے علمِ حضوری کہا جاتا ہے۔ یہ علم انسان کو اپنے خالق کی معرفت، اس کی قربت کے احساس اور اس کی ذات سے آشنائی عطا کرتا ہے۔ اسی علم کے ذریعے دل حقیقت کے انوار کو جذب کرتا ہے اور انسان کے اندر اپنے خالق کی پہچان ایک زندہ تجربہ اور باطنی شعور میں بدل جاتی ہے۔

قرآن مجید اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ ہر حصولی علم کے اوپر ایک حضوری علم کی سطح موجود ہے اور ہر عقلی، تجزیاتی اور مشاہداتی علم کے اوپر ایک ایسا باطنی اور قلبی علم ہے جو براہِ راست اللہ تعالیٰ کی ذاتِ علیم سے فیض پاتا ہے۔ اس سے یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ عقل علم کا اہم وسیلہ ہے، لیکن علم کی تکمیل کا سرچشمہ وحی اور قلب کا نور ہے جو انسان کو حقیقت کے اعلیٰ ترین مرتبہ تک لے جاتا ہے۔

قرآن عقل کی نفی نہیں کرتا، بلکہ اسے ایک میزان اور ایک صلاحیت کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے اسے وحی کے تابع رکھنے کا حکم دیتا ہے تاکہ علم کا سفر معلومات کے انبار سے نہیں بلکہ حقیقت کے انکشاف، نورِ قلب اور خالق کی پہچان کے ذریعے مکمل ہو۔ یہی وہ توازن ہے جو انسان کو علمی غرور سے بچاتا، علم کو بامقصد بناتا اور دل و دماغ کو ایک ہی سمت میں ہم آہنگ رکھ کر انسان کے اندر علم کو ہدایت، فیض اور بندگی کی قوت میں بدل دیتا ہے۔

جدید فلسفۂ علم

اگر ہم قرآن کی آیت فَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ کو علم کی تاریخ اور حقیقت کے تناظر میں دیکھیں تو یہ انسانی علم کی اضافیت اور محدودیت کا سب سے قدیم، گہرا اور کامل تصور پیش کرتی ہے۔

قرآن یہ اصول دیتا ہے کہ علم کی ہر منزل کے اوپر ایک اور بلند منزل موجود ہے اور انسان کی ہر دریافت کسی بڑی حقیقت کی طرف ایک قدم ہوتی ہے، آخری مقام نہیں۔ یہی وہ فکری بنیاد ہے جس پر دنیا کے علوم، مشاہدات اور تحقیقات کھڑی ہیں کہ کوئی بھی نتیجہ حرفِ آخر نہیں بلکہ مزید تلاش کا دروازہ ہے۔

کائنات کے مطالعہ میں سائنس ہر دور میں اپنے نظریات کو بہتر، وسیع اور گہرا کرتی رہی، کیونکہ حقیقت ایک ہی مقام پر رُک نہیں جاتی، بلکہ ہر نئے مشاہدہ کے ساتھ علم کی نئی پرت سامنے آتی ہے۔ یہی مفہوم قرآن کی اس آیت میں پوشیدہ ہے کہ انسانی علم بدلتا، پھیلتا اور ارتقا پاتا رہتا ہے، کیونکہ ہر علم رکھنے والے کے اوپر ایک اور علم رکھنے والا موجود ہے۔

اسی طرح اخلاقیات اور انسانی رویّوں کے مطالعے میں بھی انسان جتنا گہرا غور کرتا ہے، اتنا زیادہ یہ شعور پیدا ہوتا ہے کہ حقیقت محض ظاہری اصولوں میں قید نہیں بلکہ انسانی فہم سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔ یہی وہ احساس ہے جو قرآن انسان کے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے کہ علم کا مقصد انسان کو متکبر نہیں بلکہ متواضع، شکر گزار اور حقیقت کا طالب بنانا ہے۔ قرآن اس پیغام کو ایک اور آیت میں یوں واضح کرتا ہے:

يَعۡلَمُ وَأَنتُمۡ لَا تَعۡلَمُونَ

اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔(البقرة،2: 216)

یہ فرمان انسان کے لیے ایک فکری اور اخلاقی راہ نُمائی ہے کہ علم کی جتنی بھی وسعت ہو، عقل کو ہمیشہ وحی اور ہدایت کے تابع رہنا چاہیے تاکہ علم کا سفر غرور کی تاریکی میں نہیں بلکہ نورِ حقیقت میں مکمل ہو۔ قرآن عقل کو رد نہیں کرتا بلکہ اسے درست سمت دینے کا سلیقہ دیتا ہے کہ علم انسان کو عاجز بنائے، حقیقت کا طالب بنائے اور انسان اپنے خالق کے سامنے جھک کر علم کو فیض، ہدایت اور حکمت کا ذریعہ بنا لے۔ یہی وہ توازن ہے جو دل اور عقل کو ایک ہی راستے پر ہم آہنگ رکھ کر علم کو بامقصد اور بابرکت بنا دیتا ہے۔

علم، عقل اور وحی: ایک ہم آہنگ نظام

قرآنِ مجید علم کو عقل سے جدا نہیں کرتا بلکہ اسے وحی کی روشنی کے ساتھ ہم آہنگ اور مربوط رکھتا ہے۔ یہ وہ اصول ہے جو انسان کو فہم، ہدایت اور درست ادراک تک پہنچاتا ہے۔ عقل جب وحی کے نور میں کام کرتی ہے تو علم محض معلومات نہیں رہتا بلکہ فہم میں بدل جاتا ہے، اور یہی فہم انسان کو حقیقت کی تہہ تک لے جاتا ہے۔ لیکن جب عقل وحی سے کٹ جائے تو وہی علم بظاہر بڑا ہونے کے باوجود انسان کے لیے فریب، دھوکہ اور گمراہی کا ذریعہ بن سکتا ہے، کیونکہ اس میں میزانِ ہدایت موجود نہیں رہتی اور نفس اس پر غالب آجاتا ہے۔

مگر جو لوگ حقیقتِ علم کو پاجاتے ہیں، وہ اپنی عقل، تدبّر اور منصوبہ بندی کی صلاحیت کو استعمال ضرور کرتے ہیں، مگر ان کے ہر فیصلے اور منصوبے کا مرکز وحی، الہام اور اللہ تعالیٰ کی راہ نُمائی ہوتی ہے۔ وہ اسباب کو اختیار کرتے ہیں لیکن ان اسباب کی روح، سمت اور بنیاد اللہ کی عطا کردہ بصیرت اور ہدایت پر قائم کرتے ہیں۔ یوں ان کا علم انسانی ذہانت اور اُلوہی بصیرت کے حسین امتزاج میں ڈھل جاتا ہے، جو نہ صرف درست ہوتا ہے بلکہ بامقصد، پُراثر اور اللہ کی رضا کے تابع بھی ہوتا ہے۔

قرآن مجید ہمیں سورۃ القمرمیں بار بار یاد دہانی کراتا ہے:

وَ لَقَدْ یَسَّرْنَا الْقُرْاٰنَ لِلذِّکْرِ فَھَلْ مِنْ مُّدَّکِرٍ۔

اللہ نے قرآن کو نصیحت اور یاد دہانی کے لیے آسان بنایا ہے، تاکہ علم کا سفر انسان کو اللہ کی یاد تک لے جائے، نہ کہ اس سے دور کرے۔(القمر:22)

جب انسان علم کو وحی کے تابع رکھتا ہے تو وہ جاننے کے عمل کے ذریعے پہچان تک، پہچان کے ذریعے یقین تک، یقین کے ذریعے عاجزی تک اور عاجزی کے ذریعے عبادت تک پہنچ جاتا ہے۔ یہی وہ بلندی ہے جہاں علم انسان کو غالب نہیں بلکہ خالق کے حضور حاضر بناتا ہے، جب کہ علم کی تکمیل معلومات کے انبار میں نہیں بلکہ دل کی روشنی، عمل کی پاکیزگی اور بندگی کی حلاوت سے ظاہر ہوتی ہے۔

علم کا قرآنی تصور

اللہ رب العزت کے فرمان؛ فَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ کا فکری پیغام یہ ہے کہ علم ایک مسلسل سفر ہے جو انسان کو محدود فہم سے لامحدود حقیقت کی طرف لے جاتا ہے۔ یہ سفر عقل، مشاہدے، مطالعہ اور تجربہ سے شروع ہوتا ہے اور رفتہ رفتہ دل کی آگہی، بصیرت اور عرفان تک پہنچتا ہے، جہاں علم اپنی آخری تکمیل پا کر بندگی کے رنگ میں ڈھل جاتا ہے اور انسان اپنے خالق کے حضور جھک کر اس نور میں فنا ہو جاتا ہے۔

قرآنِ مجید علم کو محض طاقت یا غلبہ کا ذریعہ نہیں کہتا بلکہ اسے ایک الہٰی امانت قرار دیتا ہے، ایسی امانت جس کے ساتھ مقصد، ذمہ داری اور جواب دہی جڑی ہوئی ہے۔ یہ امانت صرف وہی محفوظ رکھ سکتا ہے جس کے اندر یہ شعور زندہ ہو جائے کہ اس کا علم جزوی ہے، کامل نہیں اور حقیقت کا احاطہ صرف اللہ کے پاس ہے۔ یہی اعتراف انسان کو علمی تکبر، خود پسندی اور فہم کے دھوکے سے بچاتا ہے، کیونکہ جو اپنی علمی حد کو پہچان لیتا ہے وہی علم کو روشنی، ہدایت اور مقصد میں بدل سکتا ہے۔

قرآن کے نزدیک علم کی بنیاد محض جان لینا نہیں بلکہ پہچان لینا ہے، یعنی اُس حقیقت کو دریافت کرنا جو علم کے پردوں کے پیچھے کارفرما ہے، اُس حکمت کو دیکھ لینا جو ظاہری قوانین کو بھی چلاتی ہے اور اُس خالق کی پہچان تک پہنچ جانا جو ہر شے کا سرچشمۂ علم ہے۔ اسی لیے قرآن علم کے اصل مقصد کو واضح کرتا ہے کہ علم کا کمال معلومات جمع کرنے میں نہیں بلکہ حقیقت کی پہچان، دل کے نور، مقصد کی پاکیزگی اور بندگی کی گہرائی میں ہے۔ یہی وہ فکری بنیاد ہے جو قرآنی فلسفۂ علم کی روح بن جاتی ہے کہ علم انسان کو خدا کی طرف لے جائے، نفس کی قید سے آزاد کرے اور جاننے کے سفر کو پہچاننے کے مقام تک پہنچا کر اسے عبادت کی لذت میں بدل دے۔

علم اور خود شناسی

قرآن مجید کا یہ بیان کہ ہر علم رکھنے والے کے اوپر ایک زیادہ علم رکھنے والا موجود ہے انسان کو اپنی حقیقت پہچاننے اور اپنے باطن کو بیدار کرنے کا راستہ دکھاتا ہے۔ یہ آیت علمی تکبر، ذہنی خود پسندی اور فکری غرور کو مٹا کر انسان کو اس کی اپنی محدودیت، کمزوری اور محتاجی کا گہرا ادراک عطا کرتی ہے، تاکہ وہ یہ سمجھے کہ علم کا اصل کمال رک جانے میں نہیں بلکہ مسلسل آگے بڑھتے رہنے میں ہے۔

جب ایک صاحبِ علم یا فہم رکھنے والا شخص یہ جان لیتا ہے کہ اس کے اوپر بھی ایک بلند تر علیم کی نگرانی اور وسعت قائم ہے، تو اس کا باطنی سفر ’’میں سب کچھ جانتا ہوں‘‘ کے فریب سے نکل کر ’’میں ہمیشہ سیکھنے اور جاننے کی تلاش میں ہوں‘‘، کے روشن حال میں بدل جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں ذہن سوال کرنے لگتا ہے، دل جھکنے لگتا ہے اور جھکنے والا دل نئے فہم کے نور کو قبول کرنے کی استعداد پا لیتا ہے۔یہی وہ نقطہ ہے جسے قرآن انسانی شعور کی معراج میں یوں بدل دیتا ہے کہ

فَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ

ہر علم رکھنے والے کے اوپر ایک اور بلند علم رکھنے والا موجود ہے۔

یہ اصول انسان کو یہ بھی سکھاتا ہے کہ حکمت اور دانائی کا آغاز اُس لمحے سے ہوتا ہے جب انسان اپنی ذہنی سرحدوں، فکری حدود اور علمی نارسائی کو تسلیم کر لیتا ہے۔ یہی تسلیم اسے مزید سیکھنے کی طلب دیتا ہے، تحقیق کا ظرف دیتا ہے، مشاورت کی روشنی دیتا ہے اور علم کو دیانت اور خدمت کی امانت میں بدلنے کا شعور عطا کرتا ہے۔

قرآن مجید کے نزدیک یہی سیکھنے کی طلب، یہی فکری انکساری اور یہی باطنی اعتراف، شعور کی بیداری کی پہلی کرن ہے، کیونکہ علم کی اصل بلندی کثرت کےاظہار میں نہیں بلکہ نفس کی نفی، عاجزی کے اقرار اور دل کی روشنی میں ہے۔ یہی وہ ابتدا ہے جہاں انسان کا علم اس کی انا کا قیدی نہیں رہتا بلکہ وہ خود ایک آزاد اور روشن سیکھنے والا وجود بن جاتا ہے، جو ہر لمحہ اپنے شعور کو مزید بلند، مزید منور اور مزید بامقصد بنانے کی راہ پر رواں رہتا ہے۔

علم کا تکبر اور روحانی زوال

نفسیاتی سطح پر سب سے خطرناک باطنی بیماری وہ ہے جب انسان اپنی ذہنی، علمی یا منصبی بلندی کو اپنی ذات کا ذاتی کمال سمجھنے لگے۔ یہی وہ مقامِ لغزش ہے جہاں انسان اپنی اصل حقیقت، اپنی حد اور اپنی احتیاج کو فراموش کر کے اپنی انا کو علم اور اقتدار کا مرکز بنا لیتا ہے۔ قرآن اس کیفیت کو تاریخی مثالوں کے ذریعے نمایاں کرتا ہے اور فرعون، قارون اور بلعم بن باعوراء جیسے کرداروں کو اسی باطنی مرض کی علامت کے طور پر پیش کرتا ہے۔ ان کے پاس علم بھی تھا، قوت بھی اور وسائل بھی؛ مگر یہ سب ان کے نفس کی بڑائی کا زینہ بن گئے، دل کی روشنی کا وسیلہ نہ بن سکے۔ انہوں نے علم کو انکساری اور خدمت کی راہ میں استعمال کرنے کے بجائے انانیت کی تسکین کا ذریعہ بنایا اور یہی رخ ان کے اندر فکری سختی، علمی جمود اور نئے فہم سے انکار کا سبب بنا۔

ایسا علم ذہن کی وسعت پیدا نہیں کرتا بلکہ اسے مقفل کر دیتا ہے۔ انسان نئی بات سننے، نئے زاویے کو سمجھنے اور حقیقت کے کسی مختلف پہلو کو قبول کرنے کی صلاحیت کھو بیٹھتا ہے۔ یہی ذہنی تصلب آگے بڑھنے کے دروازے بند کر دیتا ہے؛ سیکھنے کی پیاس ماند پڑ جاتی ہے، تحقیق کی جستجو کمزور ہو جاتی ہے اور مکالمہ کا ظرف تحلیل ہونے لگتا ہے۔ جب ذہن میں لچک باقی نہ رہے تو فکر میں تجدید کی رمق بھی باقی نہیں رہتی اور جب تجدید نہ ہو تو علم ترقی کا وسیلہ نہیں رہتا بلکہ زوال کا عنوان بن جاتا ہے۔ یہی فکری سختی بالآخر روحانی اندھے پن میں ڈھل جاتی ہے، کیونکہ جو علم دل کو جھکنا نہ سکھائے وہ دل کو دیکھنا بھی نہیں سکھا سکتا۔

قرآن مجید اسی لیے اعلان کرتا ہے کہ علم کی حقیقی بلندی کا ثبوت انکساری، تحقیق، مکالمہ اور اجتماعی خیر ہے، نہ کہ ذات کی بڑائی اور نفس کی تسکین۔ جو علم انسان کے اندر مزید سیکھنے کی طلب اور سوال کرنے کا حوصلہ پیدا کرے، وہی بامعنی ہے اور جو علم انسان کو انکار، تعصب اور سختی کی طرف لے جائے، وہ ارتقا کا نہیں بلکہ جمود کا رفیق بن جاتا ہے۔ قرآنی فلسفہ یہی ہے کہ علم کا اصل جوہر عاجزی میں ہے اور جب عاجزی رخصت ہو جائے تو ذہن کی نرمی، دل کی بصیرت اور کردار کی تجدید، سب بتدریج ماند پڑ جاتے ہیں۔

علم اور عاجزی

قرآن مجید کے نزدیک علم کا اصل معیار یہ ہے کہ وہ انسان کے اندر عدل، توازن، ہمدردی اور انسانی نفسیات کو سمجھنے کا ظرف پیدا کرے۔ عاجزی انسان میں نفسیاتی توازن پیدا کرتی ہے، جس کے سبب انسان دوسروں کے دکھ، سوچ، تجربے اور احساس کو سننے اور سمجھنے کی استعداد پاتا ہے۔ جو علم دل کو نرم نہ کرے، وہ سماج کو متوازن نہیں بنا سکتا اور جو دل تکبر میں سخت ہو جائے، وہ علم کی نئی پرتوں کو قبول کرنے سے محروم رہتا ہے۔ اسی لیے قرآن علم کو خدمت، عدل اور اجتماعی خیر کے ساتھ جوڑتا ہے، تاکہ علم کا اثر دلوں کو قریب لائے، ذہنوں کو وسیع کرے اور کردار کو بامقصد رکھے۔

اس آیت سے یہ مفہوم بھی اخذ ہوتا ہے کہ علم اگر دل کی نسبت سے قائم رہے تو وہ لوگوں کے لیے رحمت بنتا ہے اور اگر نفس کی نسبت سے قائم ہو جائے تو وہ لوگوں کے لیے فاصلہ اور خودی کا دھوکہ بن جاتا ہے۔ علمی عظمت کا سب سے روشن ثبوت دلیل کی شدت نہیں بلکہ دل کی نرمی، سماجی توازن اور انسانوں کے درمیان خیر کو زندہ رکھنا ہے۔ قرآن مجید کے نزدیک گفتگو، تدریس اور فیصلہ سازی میں اصل وزن لہجے کی نرمی، نیت کی پاکیزگی اور دل کے سکون میں ہے، نہ کہ الفاظ کی سختی یا دلیل کی شدت میں۔

علم کا مقصد جیتنا نہیں بلکہ بدل دینا ہے: نفس کو عاجزی میں، سوچ کو توازن میں، اختیار کو عدل میں، اور قیادت کو خدمت میں۔

عاجزی علم کا نفسیاتی مرکز ہے، کیونکہ انسان جتنا جھکتا ہے، اتنا ہی دیکھنے کے قابل ہوتا ہے؛ جتنا دیکھنے کے قابل ہوتا ہے، اتنا ہی سیکھنے کے لائق بنتا ہے اور جتنا سیکھنے کے لائق بنتا ہے، اتنا ہی علم کو خیر میں بدلنے کا امین بن جاتا ہے۔

علم اور نفس کی اصلاح

قرآن علم کو محض ذہنی بالیدگی تک محدود نہیں رکھتا بلکہ اسے انسان کے نفس اور دل کی اصلاح کا ذریعہ اور باطنی سکون تک پہنچنے کا راستہ قرار دیتا ہے۔ انسان جب اپنے اندر یہ اعتراف پیدا کر لے کہ اس کا علم محدود ہے تو وہ ذہنی دفاع، انکار اور سختی کی کیفیت سے نکل کر تسلیم اور قبولیت کے دروازے پر کھڑا ہو جاتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہے جہاں سیکھنے کی طلب دل کی اصلاح کا ذریعہ بن جاتی ہے، کیونکہ یہاں علم نفس کی بڑائی نہیں بلکہ نفس کی نفی کا زینہ بنتا ہے۔

علم اگر انسان کے اندر ’میں جانتا ہوں‘ کے دعویٰ کو کم کر کے ’میں سیکھ رہا ہوں‘ کی روشنی پیدا کر دے تو یہی علم ذہن میں کشادگی، دل میں وسعت اور روح میں اطمینان کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ قرآن اسی کیفیت کو سکینت کے نام سے یاد کرتا ہے، جو اللہ کی نسبت، نیت کی پاکیزگی اور باطنی اعتراف سے پیدا ہونے والا دل کا وہ توازن ہے جس میں انسان فکری سختی سے نہیں بلکہ شعوری نرمی سے آگے بڑھتا ہے۔

آیت مبارکہ وَفَوۡقَ كُلِّ ذِي عِلۡمٍ عَلِيمٌ انسان کو یہ بھی سکھاتی ہے کہ جو علم انا کو تقویت دئے وہ علاج نہیں بلکہ بوجھ ہے اور جو علم انا کو جھکائے وہی علاج بھی ہے، رحمت بھی اور بصیرت کا منبع بھی۔ کیونکہ وہی ذہن اور وہی دل حقیقت کو قبول کرنے کے قابل ہوتے ہیں جو اپنی حد کو پہچانیں، سیکھنے کی طلب کو زندہ رکھیں اور فیصلوں اور ادراک کو اللہ کے نور سے جوڑ کر آگے بڑھیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علم مزاحمت نہیں بلکہ ہدایت بنتا ہے اور نفس کے زخموں کے لیے مرہم۔

نفسیاتی توازن: عقل، جذبات اور روح کا اتحاد

قرآن مجید کے نزدیک انسان کی کامیابی محض ذہنی تیزی یا معلومات کی کثرت میں نہیں بلکہ عقل، احساس اور روحانی توازن کے امتزاج میں ہے۔ آیت مبارکہ وَفَوۡقَ كُلِّ ذِي عِلۡمٍ عَلِيْمٌ انسان کو یہ ادراک عطا کرتی ہے کہ ایک متوازن انسان وہ ہے جو اپنے علم اور اختیار کو انا کی بڑائی نہیں بلکہ امانت کی ادائیگی سمجھ کر استعمال کرے۔ وہ دلیل میں مضبوط ہو تو انصاف کے لیے، اختیار میں قوی ہو تو خدمت کے لیے اور علم میں بلند ہو تو دلوں کو جھکانے، آسانی پیدا کرنے اور مخلوق میں خیر کو جاری رکھنے کے لیے اسے استعمال کرے۔ یہی وہ نفسیاتی اور روحانی بلوغت ہے جس میں انسان جیتنے کی خواہش سے نکل کر سمجھنے کی صلاحیت پاتا ہے، غالب آنے کے زعم سے نکل کر مشاورت کا ظرف پیدا کرتا ہے اور علمی تکبر سے نکل کر اخلاقی پختگی تک پہنچتا ہے۔

قرآن مجید کے نزدیک حقیقی ذہانت وہ ہے جس میں عقل ہدایت کے تابع ہو جائے، احساس رحمت میں ڈھل جائے اور رحمت کردار بن کر ظاہر ہو جائے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں فکری مضبوطی، جذباتی پختگی اور روحانی نسبت ایک ہی وجود میں جمع ہو کر انسان کو داخلی سکون، فیصلہ سازی میں توازن اور سماجی خیر کی صلاحیت عطا کرتے ہیں۔ یہی وہ شعوری پختگی ہے جسے احساس کی تکمیل، نفس کی نفی اور دل کی روشنی سے حاصل ہونے والا حقیقی انسانی کمال کہا جا سکتا ہے۔

خلاصۂ کلام: علم، نفس اور سکونِ قلب

آیت مبارکہ وَفَوۡقَ كُلِّ ذِي عِلۡمٍ عَلِيْم انسان کی داخلی تطہیر اور باطنی ارتقاء کا ایک ہمہ گیر منشور ہے۔ یہ آیت شعور کو یہ سبق دیتی ہے کہ علم کی ہر بلندی کے باوجود انسان اپنے فہم کی آخری حد تک نہیں پہنچتا، کیونکہ ہر جاننے والے کے اوپر ایک اور زیادہ جاننے والا موجود ہے، جب کہ کامل، محیط اور مطلق علم صرف اللہ تعالیٰ کی ذات کے لیے ہے۔ یہی احساس انسان کے نفس سے علمی غرور کو زائل کرتا ہے اور دل میں انکساری، قبولیت اور مزید سیکھنے کی پیاس کو زندہ رکھتا ہے۔

جب انسان یہ مان لیتا ہے کہ اس کے علم کی سرحد ہے مگر اللہ کے علم کی کوئی حد نہیں، تو اس کے ذہن سے دفاعی کیفیت، انکار کی سختی اور خود پسندی کی گرہ کھلنے لگتی ہے۔ دل میں یقین کا اطمینان پیدا ہوتا ہے اور یہی یقین اسے انفرادیت کے فریب سے نکال کر اجتماعیت کے شعور میں داخل کرتا ہے۔ پھر انسان صرف اپنی رائے اور تجربے پر اعتماد نہیں کرتا بلکہ مشترکہ فہم، مشاورت اور اجتماعی دانش کو فیصلوں کی بنیاد بناتا ہے۔ یوں علم انا کا قلعہ نہیں رہتا بلکہ حکمت کا دروازہ بن جاتا ہے۔

اس آیت سے یہ بھی سبق ملتا ہے کہ متوازن انسان وہ ہے جو اپنے علم اور اختیار کو امانت سمجھے۔ وہ علم کو برتری کے اظہار کے لیے نہیں بلکہ کردار کی نرمی، عدل کے قیام اور خدمت کی نیت کے ساتھ بروئے کار لاتا ہے۔ قرآن کے نزدیک علم کا اصل امتحان یہی ہے کہ وہ مخلوق کے لیے خیر، آسانی اور انصاف پیدا کرے؛ اگر علم ذہنی اجارہ داری، طبقاتی تفاخر یا فکری تنگی کو بڑھائے تو وہ اپنی روح کھو دیتا ہے۔

علم اور عاجزی کا یہی امتزاج انسان کو سکونِ قلب، فیصلوں میں اعتدال، تحقیق میں مسلسل طلب اور بندگی میں لذت عطا کرتا ہے۔ جب علم اللہ کی نسبت میں ڈھل جاتا ہے تو وہ نفس کے باطنی زخموں کا مرہم، دلوں کے لیے اطمینان اور کردار کے لیے چراغ بن جاتا ہے۔ تب انسان علم کے ذریعے جھکنا سیکھتا ہے، جھک کر منور ہوتا ہے اور منور ہو کر مخلوق کے لیے رحمت اور خالق کے قرب کا وسیلہ بنتا ہے۔ یہی وہ مسلسل سفر ہے جس میں علم اوپر سے ہدایت بن کر دل پر اترتا ہے اور نیچے سے ادب و عمل بن کر عروج پاتا ہے۔

واٹس ایپ