
شیخ حماد مصطفی المدنی القادری کی خصوصی شرکت اور خطابات
برطانیہ کے شہر ناٹنگھم کی یونیورسٹی آف ناٹنگھم میں ’’اَلرِّحْلَۃ 2026 A Journey into the Sīrah of the Holy Prophet ﷺ‘‘ کے عنوان سے تین روزہ روحانی، فکری اور تربیتی پروگرام منعقد ہوا۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل برطانیہ اور Minhaj Muslim Generations (MMG) کے زیرِاہتمام منعقد ہونے والا یہ پروگرام سیرتِ طیبہ کے مطالعہ کو محض تاریخی واقعات کے بیان سے آگے بڑھاتے ہوئے اسے عملی زندگی کی تشکیل اور کردار سازی سے جوڑنے کی ایک مؤثر کاوش تھا۔برطانیہ کے مختلف شہروں سے سیکڑوں افراد نے اس روحانی و فکری سفر میں شرکت کی، جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی۔ اس علمی، روحانی اور تربیتی سفر کے مرکزی مقرر شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری تھے۔
پہلے دن کے پہلے خطاب کا مرکزی موضوع Living the Sīrah: Prophetic Lessons for Modern Challengesتھا۔ شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری نے واضح کیا کہ سیرت محض رسولِ اکرم ﷺ کی حیاتِ مبارکہ کے واقعات کی زمانی ترتیب کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا راستہ ہے جس پر چل کر انسان اپنی زندگی کو سنوار سکتا ہے۔ سیرت کا اصل تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے افکار، کردار اور معمولات کو اسوۂ رسول ﷺ کے مطابق ڈھالے۔
پہلے دن کے دوسرے خطاب میں ظاہری حسن سے باطنی حسن، یعنی اخلاق و کردار کی طرف سفر کیا گیا۔ شیخ حماد مصطفیٰ القادری نے قرآنِ مجید کی آیت ’’وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ‘‘ اور حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے ارشاد ’’كَانَ خُلُقُهُ الْقُرْآنَ‘‘ کی روشنی میں حضور نبی اکرم ﷺ کے اخلاقِ حسنہ پر خوبصورت گفتگو کی۔
دوسرے دن کے پہلے خطاب میں شیخ حماد مصطفی المدنی القادری نے بعثتِ نبویﷺ، حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہاکا حضور نبی اکرم ﷺ پر پہلی وحی کے نزول کے فوری بعد کا بیان اور نزولِ وحی کے ابتدائی مرحلے کو موضوع بنایا۔ اس خطاب میں واضح کیا گیا کہ نبوت کے اعلان سے پہلے ہی آپ ﷺ کا کردار ایک کامل اخلاقی گواہی بن چکا تھا۔
دوسرے دن کے دوسرے خطاب میں ’’From Darkness into Light‘‘ کے عنوان سے بعثتِ نبوی ﷺ کے مقصد اور معاشرتی اصلاح کے اصولوں کو بیان کیا گیا۔ قرآنِ مجید کی آیت ’’يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِهِ وَيُزَكِّيهِمْ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ‘‘ کی روشنی میں تلاوت، تزکیہ، تعلیمِ کتاب اور حکمت کو مشنِ نبویﷺ کے بنیادی مقاصد قرار دیا گیا، جبکہ سورۃ ابراہیم کی آیت ’’لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ‘‘ کے ذریعے واضح کیا گیا کہ نبوی مشن محض معلومات کی فراہمی نہیں بلکہ انسان کو جہالت، ظلم، بدکرداری اور خواہشات کی تاریکی سے نکال کر ہدایت کے نور تک پہنچانا ہے۔ نیت کے ذریعے روزمرہ کے کام، تعلیم، ملازمت، سفر اور دینی خدمت عبادت بن سکتے ہیں اور سیرت کا تقاضا یہ ہے کہ انسان محض پروگراموں میں شریک نہ ہو بلکہ اپنی صلاحیتوں، وقت اور وسائل کو دین و انسانیت کی خدمت کے لیے استعمال کرے۔
اَلرِّحْلَۃ 2026 کے تیسرے اور آخری دن کا خطاب کا موضوع حضور نبی اکرم ﷺ کی صفتِ رحمت تھا۔ نوجوانوں کو خصوصی طور پر اپنی ظاہری دینی شناخت اور نجی زندگی کے درمیان موجود ممکنہ تضاد کا جائزہ لینے، گناہوں اور بری صحبت سے نجات حاصل کرنے، نماز کی پابندی، پاکیزہ کردار اور سچی توبہ کی طرف متوجہ کیا گیا۔ اختتام پر سیرت کے 8 عملی اسباق، گفتگو میں وقار، چہرے پر مسکراہٹ، مقصدیت کے ساتھ چلنا، گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک، نوجوانوں سے محبت، کمزوروں کو وقت دینا، دیگر اقوام کے ساتھ احترام اور اقتدار کی حالت میں عفو و درگزرکو زندگی کا حصہ بنانے کی دعوت دی گئی۔
اَلرِّحْلَۃ 2026 کے دوران درود و سلام کی اجتماعی نسبت بھی ایک قابلِ ذکر روحانی سنگِ میل رہی۔ تین دنوں میں شرکاء نے مجموعی طور پر 1,747,000 مرتبہ درودِ شریف پڑھا۔ یہ اجتماعی محبت و عقیدت اس بات کی علامت تھی کہ سیرتِ طیبہ کا یہ سفر محض علمی سرگرمی نہیں بلکہ قلبی وابستگی اور روحانی تربیت کا ذریعہ بھی بنا۔
ISNA: 63واں سالانہ کنونشن 2026: شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری کی خصوصی شرکت اور خطاب
امریکہ کی ریاست مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ میں 63ویں سالانہ ISNA Convention 2026 کا انعقاد ہوا، جس میں دنیا بھر سے مسلم علماء، دانشوروں، مذہبی و سماجی رہنماؤں، نوجوانوں اور مختلف مسلم کمیونٹیز کے نمائندگان نے شرکت کی۔ کنونشن میں شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری نے خصوصی شرکت کرتے ہوئے مختلف پروگراموں میں شرکت کی اور مسلم نوجوانوں کے فکری، اخلاقی اور قیادتی کردار کے حوالے سے اہم گفتگو کی۔
کنونشن کے ایک اہم سیشن میں شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری نے ’’Prophetic Leadership for Muslim Youth of America and the World‘‘ کے عنوان سے خطاب کیا۔ انہوں نے حضور نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ سے قیادت کے اس عظیم ماڈل کو اجاگر کیا جو آج کے دور میں بالخصوص مسلم نوجوانوں کے لیے رہنمائی کا جامع ذریعہ ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے انسانیت کو تاریکی سے علم، رحمت، عدل اور ہدایت کی روشنی کی طرف منتقل کیا اور افراد، معاشروں اور تہذیبوں کو ایک عظیم مقصد سے جوڑ کر ان کی زندگیوں میں بنیادی تبدیلی پیدا فرمائی۔
شیخ حماد مصطفیٰ القادری نے سیرتِ طیبہ ﷺ کے مختلف واقعات کی روشنی میں قیادت کے بنیادی اصول بیان کیے، جن میں امن و مصالحت، خدمتِ خلق، دیانت و کردار، عدل، رحمت، عفو و درگزر اور دوسروں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کی فکر شامل ہیں۔خطاب کے اختتامی حصے میں شیخ حماد مصطفیٰ القادری نے انصارِ مدینہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بے مثال قربانی، ایثار اور محبت کو نوجوانوں کے لیے ایک عظیم نمونہ قرار دیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو متوجہ کیا کہ وہ اپنی زندگی کے مقاصد کا جائزہ لیں اور یہ سوال خود سے کریں کہ وہ طاقت، دولت اور دنیاوی مراعات کے حصول کے خواہاں ہیں یا اللہ تعالیٰ اور اس کے حبیب مکرمﷺ کی محبت و اطاعت کو اپنی زندگی کا اصل مقصد بنانا چاہتے ہیں۔ سیرتِ طیبہ ﷺ کے ساتھ مضبوط تعلق قائم کرکے مسلمان اپنی ذات میں مثبت تبدیلی پیدا کرسکتے ہیں اور پھر اپنے خاندان، معاشرے اور پوری انسانیت کے لیے ہدایت، روشنی اور مثبت قیادت کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
اس تقریب میں شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری سے ISNA کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اظہر عزیز اور دنیا بھر سے شریک ہونے والے ممتاز مسلم علماء، رہنماؤں اور کمیونٹی شخصیات نے ملاقاتیں کیں۔ ان ملاقاتوں میں باہمی تعارف، امتِ مسلمہ کے مختلف امور، مسلم کمیونٹی کی خدمت اور مغربی معاشروں میں مسلمانوں کے مثبت کردار کے حوالے سے باہمی تبادلۂ خیال ہوا۔ یہ اجتماع دنیا کے مختلف خطوں سے تعلق رکھنے والے مسلم علماء، رہنماؤں اور کمیونٹی شخصیات کے درمیان رابطے، اخوت اور باہمی تعاون کے فروغ کا بھی اہم ذریعہ ثابت ہوا۔
ISNA Convention کے دوران شیخ حماد مصطفیٰ المدنی القادری کی Book Signing بھی منعقد ہوئی، جہاں کنونشن میں شریک افراد کو ان سے ملاقات، گفتگو اور ان کی کتب پر دستخط کروانے کا موقع ملا۔
اس موقع پر شرکاء نے شیخ حماد مصطفیٰ القادری کی علمی و فکری تصانیف’’The Compass of Being: Ancient Wisdom for Modern Souls‘‘ اور دیگر مطبوعات میں خصوصی دلچسپی کا اظہار کیا۔
