
تحریکِ منہاج القرآن کے زیرِاہتمام ہر سال منعقد ہونے والی عالمی میلاد کانفرنس محض ایک تقریب نہیں، بلکہ گزشتہ چار دہائیوں سے جاری اس علمی و روحانی سفر کا تسلسل ہے جس نے پوری دنیا میں عشقِ مصطفیٰ ﷺ کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ امسال مینار پاکستان کے وسیع و عریض پنڈال میں منعقد ہونے والی 43 ویں عالمی میلاد کانفرنس اپنے حسنِ انتظام اور پیغام کے اعتبار سے ہر سال کی طرح اپنی مثال آپ تھی۔ اس عالمی کانفرنس میں جامعہ الازہر، مصر سے اعلیٰ سطح کے وفد نے خصوصی شرکت کی، جس کی قیادت محترم ڈاکٹر عباس شومان (سیکرٹری جنرل کونسل آف سینئر اسکالرز) اور محترم ڈاکٹر محمد عبدالدائم الجندی کر رہے تھے۔ یہ امر اس بات کا غماز ہے کہ منہاج القرآن اور جامعہ الازہر کے درمیان ایک علمی و فکری زنجیر کا مضبوط رشتہ قائم ہے۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے آن لائن شرکت کی اور خصوصی خطاب ارشاد فرمایا۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری، علماء، مشائخ، اساتذہ، سیاستدان، وکلاء، طلبہ اور دیگر طبقات زندگی سے تعلق رکھنے والے نمایاں احباب، جملہ نائب ناظمین اعلیٰ، ناظمین، سربراہان شعبہ جات، صدور فورمز اور عامۃ الناس میں سے خواتین و حضرات نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ یہ عظیم الشان عالمی کانفرنس حسنِ قرأت، محفلِ نعت اور سیرتِ طیبہ پر خطابات کا ایک حسین امتزاج تھی۔ قاری پروفیسر ڈاکٹر احمد شفیق السیاد (مصر)، فضیلۃ الشیخ القاری المقری علی محمد الفتاح التاروتی (جمہوریہ مصر)، قاری اللہ بخش نقشبندی، قاری نور احمد چشتی ، قاری خضر ذیشان نعیمی اور منہاج انسٹیٹیوٹ برائے تحفیظ القرآن کے ہونہار طلبہ نے اپنے خوبصورت انداز میں تلاوت کی سعادت حاصل کی۔
بعد ازاں خوبصورت محفل نعت منعقد ہوئی۔ جس میں ثنا خوانانِ مصطفیﷺ نے اردو، عربی اور پنجابی زبان میں نعتیہ کلام پیش کیے۔ یہ پورا روحانی اور وجدانی ماحول ایسا تھا کہ پڑھنے اور سننے والے نہایت عقیدت کا پیکر بنے ہوئے عشق و محبت میں ڈوبے ہوئے تھے۔
عالمی میلاد کانفرنس میں نقابت کے فرائض صفدر علی محسن، نظامتِ EPD اور نظامتِ تربیت کے ناظمین نے سرانجام دیئے۔
خطبہ استقبالیہ: ناظم اعلیٰ تحریک منہاج القرآن
تحریکِ منہاجِ القرآن کے ناظمِ اعلیٰ محترم خرم نواز گنڈاپور نے اپنے کلماتِ استقبالیہ میں تمام شیوخِ کرام، مشائخ، قراءِ عظام اور حاضرین و سامعین کا شکریہ ادا کیا اور اس عالمی کانفرنس کی غرض و غایت اور اہمیت کو بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ مصر کے جلیل القدر شیوخ کی خصوصی شرکت اس بات کا اظہار ہے کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل اور جامعۃ الازہر الشریف کے درمیان علمی و دینی تعلقات مضبوط اور مستحکم ہیں۔ اس موقع پر انھوں نے نائب ناظم اعلیٰ ایڈمنسٹریشن محترم جواد حامد اور ان کی نگرانی میں اس عالمی میلاد کانفرنس کے انتظامات و انصرام مکمل کرنے والی پوری ٹیم کو مبارکباد پیش کی۔ جن کی شب و روز کی محنت کے سبب یہ خوبصورت کانفرنس منعقد ہوئی۔
اظہارِ خیال محترم شیخ ڈاکٹر عباس عبداللہ شومان
جامعۃ الازہر (مصر) سے تشریف لانے والے کونسل آف سینئر اسکالرز، الازہر الشریف کے سیکریٹری جنرل اور ورلڈ ایسوسی ایشن فار الازہر گریجویٹس (WAAG) کے صدر الأستاذ الدكتور عباس عبد الله شومان نے 43ویں سالانہ عالمی میلاد النبیﷺ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلمانوں کی عزت کا ایک قلعہ ہے، جبکہ میلادِ مصطفیٰ ﷺ کی عظیم محافل اس امر کی علامت ہیں کہ اسلام اور اس کے پیروکار خیر میں ہیں۔ ہمیں اس مبارک اجتماع میں شرکت پر خوشی ہے۔ انہوں نے شرکائے کانفرنس کو شیخ الازہر امام الاکبر الأستاذ الدكتور أحمد الطيب، علمائے الازہر اور طلبہ کی جانب سے سلام پیش کیا۔
آپ نے میلاد النبی اور سیرت النبیﷺ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ کی روشنی میں محبت، عشق، اطاعت اور ہر طبقہ زندگی کے لیے آپﷺ کی شان رحمۃ للعالمینی کو بیان فرمایا۔ انہوں نے قرآنِ کریم کی آیات اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ اور وَمَا أَرْسَلْنَاكَ إِلَّا رَحْمَةً لِّلْعَالَمِينَ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ رسولِ رحمت ﷺ کی محفلِ میلاد کا تقاضا ہے کہ ہم ایک دوسرے پر رحم کریں۔ باہمی اختلاف اور شور و غوغا سے گریز کریں اور اس موضوع کو نزاع کے بجائے محبتِ رسولﷺ، رحمت اور اتحادِ امت کے فروغ کا ذریعہ بنانا چاہیے۔
اظہارِ خیال محترم شیخ ڈاکٹر محمد عبدالدئم الجندی
جامعۃ الازہر مصر سے تشریف لانے والے(سیکرٹری جنرل، مجمع البحوث الاسلامیہ، جامعۃ الازہر) ڈاکٹر محمد عبدالدائم جندی نے اپنے فکر انگیز خطاب میں منہاجِ القرآن کے اس عظیم اجتماع کو دلوں کو جوڑنے والا نورانی مجمع قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت ہی اصل وجودِ کائنات ہے اور اسی محبت کی بدولت امتِ مسلمہ کے دل آپس میں جڑتے ہیں۔ منہاجِ القرآن کا یہ علمی اور روحانی ماحول محبتِ رسولﷺ کی ترویج کا بہترین مرکز ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ایک بابرکت مجلس اور بابرکت مقام ہے، جہاں لوگوں کے دل محبتِ رسول ﷺ کی طرف اسی طرح کھنچے چلے آتے ہیں جیسے مقناطیس اپنی جانب کھینچتا ہے۔ یہاں موجود لوگوں کے دلوں میں جس اخلاص اور محبتِ رسولﷺ کا مشاہدہ کیا گیا، ایسا عظیم اجتماع انہوں نے کہیں اور نہیں دیکھا۔ یہ اجتماع صرف محبتِ رسولﷺ اور اللہ تعالیٰ کی مدد کا مظہر ہے۔ انہوں نے کہا کہ محبتِ رسول ﷺ کے بغیر فقہ کا راستہ مکمل نہیں، محبتِ رسول ﷺ کے بغیر تصوف کی حقیقت نہیں اور سلوک الی اللہ بھی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک رسول اللہ ﷺ کی اتباع اختیار نہ کی جائے۔ سلوک الی اللہ کا راستہ محض خطابات اور دعووں کے ذریعے طے نہیں کیا جا سکتا، بلکہ یہ سفر محبتِ رسولﷺ اور آپ ﷺ کی کامل اتباع کے ذریعے ہی ممکن ہے۔
اظہار خیال پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری
چیئرمین سپریم کونسل تحریکِ منہاجِ القرآن پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے مصر سے آئے ہوئے وفد کے اعزاز میں انتہائی فصیح اور بلیغ عربی زبان میں خطاب کیا۔ انہوں نے کہا کہ جامعۃ الازہر الشریف عالمِ اسلام کا ایک عظیم علمی مرکز ہے اور مصر سے تشریف لانے والے معزز علماء کی اس عالمی میلاد کانفرنس میں شرکت علمی و فکری روابط کے فروغ کا باعث ہے۔ انہوں نے الازہر شریف کے منہاج القرآن کے ساتھ علمی رشتوں کو واضح کرتے ہوئے نہایت خوبصورت انداز میں جامعۃ الازہر اور منہاجِ القرآن کو یک جاں قرار دیا جو علم کی ترویج، معتدل فکر (وسطیت)، عقیدے کی حفاظت اور عشقِ رسولﷺ کے فروغ کے لیے ایک ہی منہج پر گامزن ہیں۔
انھوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ باسعادت اور سیرتِ طیبہ ایک دوسرے سے جدا موضوعات نہیں بلکہ ایک ہی حقیقت کے دو پہلو ہیں۔ میلادِ مصطفیٰ ﷺ پر آپ ﷺ کے جمال کا ظہور ہوا، جبکہ بعثتِ مصطفیٰ ﷺ کے ساتھ آپﷺ کے کمالِ رسالت کا ظہور ہوا۔ رسول اللہ ﷺ کی ولادتِ باسعادت کے باعث عالمِ بشریت نے اپنی نجات کا راستہ پایا، جبکہ آپ ﷺ کی سیرتِ طیبہ نے انسانیت کو یہ شعور عطا کیا کہ آپﷺ کن مقاصد و تعلیمات کے ساتھ مبعوث ہوئے۔
اظہارِ خیال محترم ڈاکٹر محمد شہزاد مجددی
سربراہ دارالاخلاص، لاہور محترم ڈاکٹر محمد شہزاد مجددی نے اپنے بلیغ خطاب میں اجتماع کی شانِ شوکت کی عکاسی کی۔ انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے پہلی نظر اس عظیم اجتماع پر ڈالی تو انہیں احساس ہوا کہ یہ عظیم الشان اجتماع محض ایک روایتی اجتماع نہیں بلکہ عالمی میلاد کانفرنس اب فرضِ کفایہ کی حیثیت اختیار کر چکی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس، سیرت و کمالات کے ذکر اور آپ ﷺ کی محبت و نسبت کے فروغ کے لیے کی جانے والی ہر کاوش اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عظیم اہمیت رکھتی ہے۔
آج کے دور میں عالمِ اسلام کو درپیش حالات کے تناظر میں میلادِ مصطفیٰ ﷺ کے موقع پر صاحبِ میلاد ﷺ کی سیرت و سنت کو اجاگر کرنا محض ایک روایت نہیں بلکہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ آج کی یہ کانفرنس اس حقیقت کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ آقا ﷺ مرکزِ عشق و محبت ہیں اور امتِ مسلمہ آج بھی آپ ﷺ کی محبت اور نسبت کے ذریعے متحد ہو سکتی ہے۔
اظہارِخیال محترم علامہ امین شہیدی
سربراہ امتِ واحدہ پاکستان محترم علامہ امین شہیدی نے اپنے گراں قدر خطاب میں حاضرین کو ربیع القلوب کی مبارکباد پیش کی۔ انہوں نے کہا کہ حضور نبی اکرم ﷺ روح و جانِ عالم ہیں۔ آپ ﷺ کی ذاتِ اقدس اور کمالات کے بے شمار پہلو ابھی انسانی معرفت کے دائرے میں پوری طرح نہیں آئے۔ انسان جتنا آپ ﷺ کی سیرت و صفات کی گہرائی میں اترتا جاتا ہے، اتنا ہی معرفت کے نئے دروازے کھلتے جاتے ہیں۔ انہوں نے حضور ﷺ کے اجتماعی اوصافِ حمیدہ پر روشنی ڈالی اور کہا کہ آپ ﷺ کی شخصیت علم، شعور اور انسانیت کے کمالات کی معراج ہے۔ اس موقع پر انھوں نے متعدد واقعات سیرت بیان کرتے ہوئے حضور ﷺ کی شانِ علم اور فروغِ شعور کے لیے کی جانے والی کاوشوں کو بیان فرمایا اور واضح کیا کہ آپﷺ نے علم اور شعور کی بنیاد رکھی اور نادانی یا توہم پرستی کو کبھی اپنی شان بڑھانے کا ذریعہ نہیں بننے دیا۔
انہوں نے امت پر زور دیا کہ وہ اسی فکری اور عملی سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو اپنائے تاکہ دنیاوی و اخروی کامیابیاں ان کا مقدر بنیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کی یہ عظیم الشان میلاد کانفرنس امتِ مسلمہ کی نجات اور اتحاد کا ایک مؤثر ذریعہ ہے، جو لائقِ تحسین ہے۔
اظہارِخیال محترم علامہ محمد زبیر فہیم
صدر اتحاد المدارس العربیہ پاکستان محترم علامہ محمد زبیر فہیم نے اپنے خطاب میں ’’فقط خاک ہوں نامِ محمد سے ہے نسبت میری۔ یہ وہ رشتہ ہے جو میری اوقات بدل دیتا ہے‘‘ کو موضوع بناتے ہوئے حضور ﷺ کی ذاتِ بابرکات کو وہ واحد مرکز قرار دیا جس پر پوری امتِ مسلمہ متحد ہے اور ہو سکتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ آج کی یہ عظیم الشان میلاد النبی ﷺ کانفرنس امتِ مسلمہ میں عشقِ مصطفیٰﷺ کی شمعیں روشن کرنے اور محبتِ رسولﷺ کو فروغ دینے کے لیے منعقد کی گئی ہے۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ اور تحریکِ منہاج القرآن سے وابستہ افراد عشقِ مصطفیٰ ﷺ کو عام کرنے کے لیے مسلسل مصروفِ عمل ہیں۔ موجودہ دور میں حضور نبی اکرم ﷺ کی محبت اور بالخصوص عقیدۂ ختمِ نبوت کے تحفظ و فروغ کے لیے کام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اسلام کی یہ عظیم نعمت رنگ و نسل کے تمام امتیازات کو ختم کرتی ہے، ہمیں چاہیے کہ دامنِ رسالت ﷺ سے مضبوطی سے وابستہ ہو جائیں اور حضور نبی اکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیں۔
اظہارِخیال محترم سردار سلیم حیدر (گورنر پنجاب)
کانفرنس کے مہمانِ خصوصی گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر خان نے اپنے دلی جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ عاشقانِ رسولﷺ کے اس مجمعِ اعظم میں شرکت ان کے لیے ایک بڑا اعزاز ہے۔ انہوں نے تحریکِ منہاجِ القرآن کی غیر معمولی ڈسپلن اور تنظیمی صلاحیتوں کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’’مینارِ پاکستان کے اس وسیع میدان کو اتنے شاندار طریقے سے بھرنا صرف منہاجِ القرآن ہی کا کام ہے، کسی اور کے بس کی بات نہیں۔‘‘ انہوں نے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی علم و حکمت اور دور اندیشی کی تعریف کی کہ انہوں نے ہمیشہ معاشرے کو جوڑنے، انتشار کو ختم کرنے اور محبت و بھائی چارے کو فروغ دینے کا پیغام دیا ہے۔
گورنر پنجاب نے شیخ الاسلام کی علمی و فکری خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ شیخ الاسلام نے علم و حکمت کے میدان میں کمال مقام حاصل کیا ہے، جس تک پہنچنا یقیناً آسان نہیں۔ منہاج القرآن کے وابستگان اپنے نظم و ضبط اور ڈسپلن کے حوالے سے نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ شیخ الاسلام نے ہمیشہ انتہاپسندی، دہشت گردی اور نفرت کے خاتمے کے لیے مثبت اور مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ ہم ہمیشہ دین، ملتِ اسلامیہ اور مملکتِ پاکستان کے لیے شیخ الاسلام کی رہنمائی سے استفادہ کرتے ہیں۔شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا کلیدی خطاب
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اپنے خطاب کے آغاز سے قبل عربی زبان میں جامعۃ الازہر سے تشریف لانے والے معزز شیوخ کا شکریہ ادا کیا اور جامعۃ الازہر اور منہاج القرآن کے مابین موجود علمی، فکری، اصلاحی مشترک نکات کو بیان فرمایا۔
بعد ازاں شیخ الاسلام نے اپنے منفرد علمی و فکری اور اصلاحی انداز میں ’’اخلاقِ حسنہ اور سیرتِ نبوی کے جمالیاتی پہلو‘‘کے موضوع پر خطاب ارشاد فرمایا جس میں آپ نے قرآنی تعلیمات اور احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں امتِ مسلمہ کے اخلاقی بگاڑ کا مؤثر علاج پیش کیا۔ اپنے خطاب کی بنیاد شیخ الاسلام نے حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی حضور نبی اکرم ﷺ کے اس فرمان پر رکھی کہ آپﷺ نے فرمایا: دوزخ کی آگ ایسے شخص پر حرام کر دی گئی ہے جس میں بیک وقت یہ چار اخلاقی اوصاف موجود ہوں: نرم مزاجی، (حَیِّن)، ملنساری (لَیِّن)، سہل الطبعی (سَہْل) اور لوگوں سے قربت و مانوسیت (قَرِیْب من الناس)۔
شیخ الاسلام نے ان چاروں جمالیاتی پہلوؤں کی علمی شرح کرتے ہوئے لطیف نکات بیان فرمائے۔ شیخ الاسلام نے وضاحت فرمائی کہ "حین" وہ شخص ہے جس کے مزاج میں ایسی نرمی اور ٹھہراؤ ہو کہ لوگ اس سے بات کرتے وقت یا معاملہ کرتے وقت کوئی بھاری پن یا تنگی محسوس نہ کریں، بلکہ راحت اور دلی سکون پائیں۔
"لین" شخصیت کی باتیں اور رویے لوگوں کے دلوں پر بوجھ بننے یا خراش لگانے کے بجائے مرہم کا کام کرتے ہیں۔ شیخ الاسلام نے سنن بیہقی کی روایت سے ایک حیرت انگیز تمثیل بیان کی، جس میں مومن کو ایک ایسے سدھائے ہوئے اونٹ سے تشبیہ دی گئی ہے جس کی ناک نکیل کی وجہ سے زخمی ہو۔ وہ اپنے مالک کی مرضی کے سامنے معمولی مزاحمت بھی نہیں کرتا؛ مالک رسی کو جدھر موڑے وہ بلا چوں و چراں مڑ جاتا ہے، یہاں تک کہ اگر اسے پتھریلی چٹان پر بھی بٹھایا جائے تو وہ اپنی انا کو مٹا کر بیٹھ جاتا ہے۔ یہ مومن کے عجز، مٹ جانے کی کیفیت اور کامل فرمانبرداری کی انتہا ہے۔
"سہل الطبع" شخص وہ ہوتا ہے جو فتنہ و فساد اور پیچیدگیاں پیدا کرنے کے بجائے ہمیشہ آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ شیخ الاسلام نے ایک شاندار نکتہ بیان کیا کہ جس طرح ناہموار اور پتھریلی زمین پر فصلیں نہیں اگتیں، اسی طرح سخت، اکڑ اور ناہموار مزاج رکھنے والے دلوں کی زمین پر انسانی تعلقات، محبت اور رشتوں کی فصلیں کبھی پروان نہیں چڑھ سکتیں۔ تعلقات اور محبتیں صرف ہموار اور نرم دلوں میں ہی پھولتی اور پھلتی ہیں۔
قریب من الناس سے مراد مستقل مزاجی کے ساتھ لوگوں کے قریب رہنے الا شخص ہے۔ اس کی وضاحت میں شیخ الاسلام نے فرمایا کہ پرانے زمانے میں انسانی آبادیاں ہمیشہ قریبی میٹھے چشموں کے گرد آباد ہوتی تھیں۔ اسی طرح جو شخص دلی طور پر لوگوں کے قریب ہوتا ہے، اس کا دل ایک میٹھا چشمہ بن جاتا ہے اور لوگ خود بخود اس کی صحبت کی طرف کھنچے چلے آتے ہیں۔
آپﷺ نے "قریب من الناس" فرما کر دائرہ محدود نہیں کیا کہ یہ قربت صرف مریدوں، شاگردوں یا مخصوص دوستوں کے لیے ہے بلکہ بلا تفریقِ مذہب و ملت، رنگ و نسل، امیر و غریب، ہر مسلمان کے لیے فرمایا کہ اس وصف کا حامل شخص دوزخ کی آگ سے محفوظ رہتا ہے۔
شیخ الاسلام نے علمِ بلاغت کا ایک نہایت باریک نکتہ بیان کیا کہ حدیثِ مبارک میں ان چاروں صفات کے درمیان حرفِ عطف (واؤ) استعمال نہیں کیا گیا، بلکہ انہیں مسلسل بیان کیا گیا ہے۔ یہ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ صفات الگ الگ خانوں میں نہیں رہ سکتیں، بلکہ یہ ایک دوسرے کے اندر اس طرح مدغم اور پیوست ہیں کہ ان کا اجتماع ہی انسان کو جہنم کی آگ سے دائمی خلاصی دلاتا ہے۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے سورہ الفرقان کی آیت پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ اللہ رب العزت نے اپنے پسندیدہ بندوں (عباد الرحمن) کا پہلا تعارف ان کے دھیمے اور پروقار چلنے اور نادانوں کی نازیبا باتوں پر جھگڑنے کے بجائے سلامتی کا جواب دینے (قَالُوا سَلَامًا) سے کروایا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا کہ آج کے خطباء اور علماء نے سوشل میڈیا اور پنڈالوں میں گالی گلوچ، تکفیر اور تند و تیز رویوں کو اپنا وطیرہ بنا لیا ہے جو کہ دین کے مزاج کے سراسر منافی ہے۔
انہوں نے ایک سنہری اصول بیان فرمایا کہ دعوتِ دین کا اصل جوہر اپنے مخاطب کو ہرا کر ذلیل کرنا نہیں ہوتا، بلکہ مخاطب کا دل جیتنا ہوتا ہے اور دل ہمیشہ گفتگو کی نرمی، پیار اور اخلاق سے جیتے جاتے ہیں، تلخی اور نفرت سے نہیں۔ اس تناظر میں انھوں نے متعدد آیاتِ قرآنیہ اور حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرت، طیبہ سے عملی نمونے بیان کیے کہ آپﷺ کا کردار کس طرح ان چار جمالیاتی پہلو اور دعوتِ دین کے تناظر میں قرآنی احکامات کے مطابق تھا۔
اپنے خطاب کے آخری حصے میں شیخ الاسلام نے نہایت دردمندی اور دل سوز انداز میں امتِ مسلمہ اور خاص طور پر نوجوان نسل کو مخاطب کیا۔ انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا:صرف محفلیں سجانے، جھنڈیاں لہرانے اور میلاد کے جلوس نکالنے سے حضور ﷺ کی محبت کا حق ادا نہیں ہوتا۔ محبت کا دعویٰ تب تک سچا نہیں ہو سکتا جب تک ہم اپنے کردار، اپنی گفتگو، اپنے رویوں اور اپنی زندگیوں کو اسوۂ رسول ﷺ کے سانچے میں نہ ڈھال لیں۔ اگر ہم نے اپنی زندگیوں کو سیرتِ مصطفیٰ ﷺ سے کاٹ کر رکھا ہوا ہے تو ہمارے یہ دعوے محض اداکاری بن کر رہ جائیں گے۔
انہوں نے نوجوانوں کو حرام و حلال کی تمیز کرنے، عصمتوں کی حفاظت کرنے اور طہارت کی زندگی اپنانے کی تلقین کی۔ انہوں نے دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس مبارک شب کے طفیل تمام مسلمانوں کے ظاہر و باطن کو سیرتِ طیبہ کے نور سے منور فرمائے اور ہمیں سچا متبعِ سنت بنائے۔
کانفرنس کا اختتام پر حضور نبی اکرمﷺ کی بارگاہ میں ہدیہ صلوٰۃ و سلام پیش کیا گیا اور خوبصورت آتشبازی کی گئی۔ جامعۃ الازہر کے معزز مہمان محترم شیخ ڈاکٹر محمد عبدالدائم الجندی نے بارگاہِ الہی میں انتہائی عاجزی، تضرع اور گریہ و زاری کے ساتھ عربی زبان میں رقت انگیز اختتامی دعا فرمائی۔
