
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا تربیتی و خصوصی خطاب
دنیا کی کسی بھی اصلاحی و دینی تحریک کی عملی جدوجہد پانچ ستونوں پر استوار ہوتی ہے۔ تحریک منہاج القرآن کی جدوجہد بھی اگر ان پانچ ستونوں پر قائم ہے تو اس کا مطلب ہے کہ ہم بالکل درست راستے پر گامزن ہیں اور اگر ان پانچ میں سے کوئی ایک ستون بھی موجود نہ ہویا کمزور پڑ جائے تو ہمیں اپنی اصلاح کی جانب متوجہ ہونے کی ضرورت ہوگی۔ آیئے! تحریک اور مشن کے ان پانچ بنیادی ستونوں کا جائزہ لیتے ہیں:
1۔ پہلا ستون: فکر
تحریک اور مشن کا سب سے پہلا ستون فکر ہے۔ تحریک کی فکر کبھی کسی رفیق اور کارکن کی نظروں سے اوجھل نہیں ہونی چاہیے۔ انسانی زندگی میں بنیادی طور پر تحرک پیدا کرنے کا پہلا مرحلہ فکر ہے۔ فکر کی حیثیت ایک بیج یا گھٹلی کی سی ہے۔ جیسے ہم زمین میں کوئی بیج یا گھٹلی بوتے ہیں تو اس سے آہستہ آہستہ ایک چھوٹا سا پودا نکلتا ہے اور پھر وہ بڑھتے بڑھتے ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔گویا بیج کے بغیر کبھی پودے وجود میں نہیں آتے۔
انسان کی پیدائش بھی اسی طرح ہے۔ اس سفر میں بھی بنیادی کردار ایک بیج (Cell) ہی کا ہوتا ہے جو والدین کے ملاپ سے ماں کے رحم میں پلانٹ کیا جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح فکر بھی ایک بنیادی بیج کی مانند ہے۔کسی بھی تحریک، جماعت یا تنظیم کا بنیادی بیج اس کی فکر ہے، جس سے وہ جنم لیتی ہے اور بعد ازاں جس کے سبب وہ اپنے واضح ہدف اور منزل تک پہنچتی ہے۔
2۔ دوسرا ستون: عزم
تحریک اور مشن کا دوسرا بڑا ستون عزم ہے۔ فکر اگر عزم میں نہ بدلے تو وہ محض ایک فلسفہ اور Enjoyment Discussion بن کر رہ جاتی ہے۔ آدمی مختلف مجالس میں بیٹھتا اور بحث و مباحثہ کرتا ہے، بہت سے فلسفےاور نظریات زیر بحث لاتا ہے۔ اسی طرح کتابوں میں بھی ان گنت فلسفے اور نظریات بیان ہوچکےہیں لیکن یاد رکھیں! ان فلسفوں اور نظریات کو محض پڑھ لینے یا ان پر گفتگو کرلینے سے وہ فلسفہ و عقیدہ عمل کے سانچے میں نہیں ڈھل جاتا بلکہ انھیں عمل میں ڈھالنے کے لیے الگ سے محنت اور جدوجہد کرنا پڑتی ہے۔ اس محنت اور جدوجہد کے جذبے کا نام عزم ہے۔ کوئی فلسفہ اور کوئی فکر جو عزم کے مرحلے تک نہ پہنچے، اس کی حقیقت کتابوں میں لکھی ہوئی سطروں کے سوا کچھ نہیں۔ ایسا فلسفہ جو عزم میں نہیں بدلتا، محض شعر و شاعری اور عام گفتگو ہے۔
عزم ایک ایسا پختہ ارادہ (Determined Will) ہے جو فکر کو عمل میں بدلتا ہے۔ اگر زندگی کی کسی بھی سٹیج پر انسان کے اندر عزم نہیں رہا تو اس سے وہ فکر مردہ ہو جائے گی اور وہ کارکن بھی فکری طور پر مردہ ہو جائیں گے؛ کیونکہ فکر کی زندگی عزم ہی کے ساتھ قائم رہتی ہے۔
3۔ تیسرا ستون: کردار
تحریک اور مشن کا تیسرا ستون کردار ہے، جو فکر اور عزم دونوں کو مضبوط کرتا ہے۔کرداردرحقیقت فکر کا عملی ثبوت ہے۔ فکر اور عزم اگر کردار اورعمل کے سانچے میں نہ ڈھلیں تو وہ محض ایک جھوٹا دعویٰ یا محض ایک فلسفہ بن کر رہ جاتے ہیں۔متعدد احادیثِ مبارکہ اس بنیادی تصور کو بیان کرتی ہیں۔ حضور نبی اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا:
لاَ يُؤْمِنُ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُحِبَّ لأَخِيهِ مَا يُحِبُّ
لِنَفْسِهِ۔
(صحیح البخاری، کتاب الایمان)
’’تم میں سے کوئی شخص اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتا جب تک کہ اپنے بھائی کے لیے وہی
کچھ پسند نہ کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔‘‘
یعنی اگر ایمان اس کے کردار میں نہیں ڈھلااور اس نے دوسرے بھائی کے لیے وہی کچھ پسند نہیں کیا جو اپنے لیے پسند کرتا ہے تو وہ جھوٹا مدعی ہے اور کامل مومن نہیں ہے۔
ایک اور مقام پر فرمایا:
الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ،
وَالْمُؤْمِنُ مَنْ أَمِنَهُ النَّاسُ عَلَى دِمَائِهِمْ وَأَمْوَالِهِمْ
(صحیح البخاری،کتاب الایمان)
’’مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دیگر مسلمان محفوظ رہیں اور مومن وہ ہے جس
سے لوگ اپنے خون اور اموال کے بارے میں امن میں رہیں۔‘‘
یعنی جس کے کردار میں امن پسندی اور امن کی فراہمی نہ ہو، وہ مومن نہیں ہے۔اسی طرح جو شخص نماز نہیں پڑھتا، اس کے بارے میں حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
بَيْنَ الرَّجُلِ وَبَيْنَ الشِّرْكِ وَالْكُفْرِ تَرْكُ الصَّلاَةِ
(صحیح مسلم، کتاب الایمان)
’’بندے اور شرک و کفر کے درمیان (فرق) نماز کا چھوڑنا ہے۔‘‘
یعنی اگر اس کے کردار میں نماز نہیں ہے تو کفر اور ایمان کے درمیان فرق ختم ہو جاتا ہے۔ جو نماز پڑھتا ہے، وہ ایمان کا دعویٰ کرنے کا حق رکھتا ہے اور جو نماز ہی نہیں پڑھتا، اس کا یہ دعویٰ مضبوط نہیں کہ میں مومن ہوں۔پس جو چیز کردار میں نہ آئے، اس کا دعویٰ کرنا جھوٹ ہے۔
اسی طرح اگر تحریک اور مشن کی تمام فکری باتیں کردار سے ظاہر نہ ہوں تو اس بندے کا ایک رفیق یا کارکن کہلانے کا دعویٰ جھوٹا ہے۔
4۔ چوتھا ستون: نظم (اجتماعی ڈسپلن)
تحریک اور مشن کا چوتھا ستون اجتماعی نظم (Collective Discipline) کا قیام ہے۔ اس مرحلے سے پہلے؛ فکر، عزم اور کردار کے حوالے سے جو محنت اور کوشش ہے، وہ ہر شخص کی انفرادی اور ذاتی کوشش ہے۔ مگر جب فکر، عزم اور کردار پر مبنی اجتماعی نظم وجود میں آتا ہے، تو اسے تحریک کا نام دیتے ہیں۔ اس کے لیے ہم جو مرضی ٹائٹلز اور عنوانات وضع کرتے چلے جائیں مگر تحریک اسی وقت وجود میں آتی ہے جب فکر، عزم اور کردار یہ تینوں چیزیں یکجا ہو کر ایک اجتماعی نظم کا روپ دھار لیں۔
یہ مرحلہ انتہائی اہم ہے۔ اسے ایک امتحان قرار دیا جاسکتا ہے۔ جب بندہ اس اجتماعی نظم (Collective Discipline) میں داخل ہوتا ہے تو نظم کے تقاضے، مطالبات اور شرائط کو پورا کرتے ہوئے پچھلے تینوں ستونوں بالخصوص کردار پر توجہ کمزور ہونے لگتی ہے۔ اس لیے اس مرحلہ میں ہمہ وقت دھیان رکھنا ضروری ہے کہ اس مرحلہ کے تقاضے اور شرائط پوری کرتے ہوئے فکر، عزم اور کردار پر سمجھوتہ نہ ہوجائے۔
5۔ پانچواں ستون: جدوجہد
تحریک اور مشن کا پانچواں ستون جدوجہد ہے۔ فکر، عزم، کردار اور نظم، یہ چار ستون اگر مربوط رہیں تو پھر جدوجہد منزل کی طرف بڑھتی ہے۔ جدوجہد میں نگاہ ہمیشہ منزل پر ہونی چاہیے۔ اگر جدوجہد کو کبھی ترک نہ کیا جائے، اپنے عزم کو شکست خوردہ نہ کیا جائےاور یقین کو متزلزل نہ ہونے دیا جائےتو منزل ضرور نصیب ہوتی ہے۔ منزل کے سو راستے ہیں، ایک راستے سے نہیں تو دوسرے راستے سے، مگر شرائط و تقاضوں کو پورا کیا جائے تو منزل ضرور ملتی ہے۔ اللہ نے منزل تک پہنچنے کے بے شمار راستے بنائے ہیں۔ارشاد فرمایا:
وَالَّذِیْنَ جَاھَدُوْا فِیْنَا لَنَھْدِیَنَّھُمْ سُبُلَنَا۔
(العنکبوت،29: 69)
’’اور جو لوگ ہمارے حق میں جہاد (یعنی مجاہدہ) کرتے ہیں تو ہم یقینا انہیں اپنی
(طرف سَیر اور وصول کی) راہیں دکھا دیتے ہیں۔‘‘
یہاں باری تعالیٰ نے سبیل (ایک راستہ) نہیں فرمایا، بلکہ سُبل (بہت سے راستے) فرمایا، تاکہ بندہ مایوس نہ ہو۔ اگر جدوجہد؛ فکر، عزم، کردار اور نظم کے ساتھ کی جائے تو کوئی نہ کوئی راستہ منزل تک پہنچا دیتا ہے۔لیکن شرط یہ ہے کہ ہر مرحلہ پر صدق اور اخلاص شامل حال رہے۔ یاد رکھیں! منزل کے بے شمار راستے ہیں۔ سورۃ الفاتحہ میں ارشاد فرمایا:
صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْہِمْ۔ غَیْرِ الْمَغْضُوْبِ
عَلَیْہِمْ وَلاَ الضَّآلِّیْنَ۔
(الفاتحہ،1: 6، 7)
’’ اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے اِنعام فرمایا۔ ان لوگوں کا نہیں جن پر غضب کیا
گیا ہے اور نہ (ہی) گمراہوں کا۔‘‘
انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین؛ ان ساروں کی راہیں صراطِ مستقیم ہیں۔ ان تمام کے راستے انسان کو صراطِ مستقیم پر گامزن رکھتے ہوئے منزل تک پہنچاتے ہیں۔
لیکن یاد رکھیں! بعض اوقات آدمی حد سے زیادہ پراعتماد ہوجاتا ہے، یہ عمل بھی انسان کو نقصان سے دوچار کردیتا ہے۔Over Confidenceکسی حقیقت کا نام نہیں، یہ صرف دھوکہ ہے۔ ہماری روزمرہ کی زندگی میں ہونے والے حادثات محض ناقص ڈرائیونگ ہی کے سبب نہیں ہوتے بلکہ Over Confidenceکی وجہ سے بھی ہوتے ہیں۔ جب بندہ 120 یا 140 میل کی رفتار سے گاڑی چلاتا ہے تو اسے اعتماد ہوتا ہے کہ کنٹرول میں ہے، لیکن جب اچانک کوئی سامنے آ جائے تو کنٹرول ختم ہو جاتا ہے۔ حد سے زیادہ پراعتمادی ہر سطح پر انسان کو تباہ کردیتی ہے۔یہ کبھی نہ سوچیں کہ ماضی کی جدوجہد میرے لیے کافی ہے اور اب مجھے کچھ نہیں ہوگا۔یہ ایک فکری دھوکہ ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
وَخُلِقَ الْاِنْسَانُ ضَعِیْفًا۔
(النساء،4: 28)
’’ اور اِنسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔‘‘
ہمیشہ اللہ سے ڈریں اور اعتماد اپنی ذات یا ماضی کی جدوجہد پر نہ کریں، بلکہ اس علمی و تربیتی پروسیس پر کریں جس نے ہمیں زندہ و تازہ رکھا ہوا ہے۔ اس صحبت، سنگت اور قربت سے ہر روز فیض لیتے رہنے کے عمل پر اعتماد کریں۔
تحریک منہاج القرآن:ماضی، حال اور مستقبل کا امتزاج
تحریک منہاج القرآن کی فکر کا مرکزی نقطہ؛ انفرادی کردار سازی سے معاشرہ سازی اور معاشرہ سازی سے ریاست سازی ہے۔ یہی حقیقی انقلاب ہے جسے ہم مصطفوی انقلاب کہتے ہیں۔دنیا میں لوگ یا تو ماضی میں ڈوب جاتے ہیں اور حال کے لوگ ہی نہیں رہتے یا کچھ Futuristic ہوتے ہیں اور ماضی اور اپنے دین و امت کی تاریخ سے لاتعلق اور منقطع ہوجاتے ہیں۔ کوئی شخص اگر کسی فلسفی کے ساتھ بیٹھ جائے اور دس سال گزارے تو وہ فلسفہ کی پیچیدہ ابحاث میں ایسے الجھ جائے گا کہ وہ اس دنیا کا بندے ہی نہیں رہے گا۔ کوئی کسی Modernistکے پاس بیٹھ جائے اور دس سال گزارے تو ایسے لگے گا جیسے اس کا ہمارے دین اور امت سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ پس ہم جس بھی صحبت و مجلس میں چلے جائیں، وہ ہمیں سارے زمانوں کے ساتھ جوڑ کر نہیں رکھتی لیکن منہاج القرآن کی صحبت ایسی ہے جو ماضی، حال اور مستقبل ہر ایک کے ساتھ بیک وقت ہمیں جوڑ کر رکھتی ہے۔
اسی لیے ہمارا کردار بھی ہماری تحریک کے شایانِ شان ہونا چاہیے کہ ہمارے عمل، فہم، گفتگو، علم اور طور طریقے سے لوگوں کو حسنِ ماضی کی خوشبو بھی آئے اور حسنِ مستقبل کی مہک بھی آئے۔ لوگ ہمیں صرف مذہبی بھی نہ سمجھیں اور فقط ماڈرن اور سیکولر بھی نہ سمجھیں، بلکہ تمام محاسن ہمارے کردار کے دسترخوان پر موجود ہوں۔تحریک منہاج القرآن کا امتیاز ہے کہ چودہ سو سال پرانی بھی ہے اور چودہ سو سال آگے بھی ہے۔ ہم ’’تیرے ہوتے جنم لیا ہوتا‘‘ کے مصداق تاجدارِ کائنات ﷺ کے زمانے سے بھی جڑے رہتے ہیں، ان تمام چودہ صدیوں کے علمی و روحانی ورثے سے بھی جڑے رہتے ہیں اور اگلے زمانوں سے بھی اپنے آپ کو کٹنے نہیں دیتے۔
علمی فکری اور روحانی تقویت کیونکر ممکن ہے؟
جس فکر اور عزم پر مبنی کردار کے ہم حامل ہیں، یاد رکھیں! اس کردار کو ایک بار اپنا لینا آسان ہے لیکن اسے عمر بھر برقرار رکھنا مشکل ہے۔ یہ ایک ایسا امتحان ہے جس میں اکثر لوگ ناکام ہو جاتے ہیں۔ ہم میں سے ہر ایک شخص ’’اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی‘‘کے مصداق اپنا تجزیہ کرے کہ وہ اس تحریک سے وابستہ ہونے سے قبل کہاں تھا اور آج کہاں کھڑاہے؟لہذا ہمیں تحریک کی صورت میں ملنے والی اس پاکیزہ صحبت کی حفاظت کرنا ہوگی۔
تحریک منہاج القرآن کے ساتھ وابستہ ہونے والے رفقاء و کارکنان اس وابستگی سے پہلے کسی اور طرح کی صحبتوں اور مجالس میں تھے مگر تحریک میں شمولیت کے بعد ان کی صحبتوں، محافل اور مجالس کا رنگ کلیتاً بدل گیا۔ تحریک کی فکر کے سبب ان میں عزمِ مصمم، عمدہ کردار، تقویٰ و پرہیزگاری اور دیگر محاسن نے جنم لیا مگر بعض اوقات انسان کو احساس نہیں ہوتا کہ اس میں ان خصائل کے آنے کا سبب کیا ہے۔بہت سی چیزیں انسان کے شعور میں بھی نہیں ہوتیں کہ یہ تمام محاسن مجھے کیسے ملے لیکن اگر وہ غوروفکر کرے تو اسے معلوم ہوجائے گا کہ اس کا سبب کیا ہے اور اگر وہ سبب نہ ہوتا تو یہ تمام چیزیں اس کی زندگی میں نہ ہوتیں۔
یاد رکھیں! کوئی نہ کوئی چشمہ ضرور ہوتا ہے جو Enforcement اور برکات و فیوضات کا منبع ہوتا ہے جو بندے کو متحرک رکھتا ہے اور ہمہ وقت ان امور پر عمل کرنے پر راغب کرتا رہتا ہے۔ صحبت اور قربت ہی کے فیوضات اور برکات ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوۃ والسلام سے فرمایا:
وَّذَکِّرْ فَاِنَّ الذِّکْرٰی تَنْفَعُ الْمُؤْمِنِیْنَ۔
(الذاریات،51: 55)
’’ اور آپ نصیحت کرتے رہیں کہ بے شک نصیحت مومنوں کو فائدہ دیتی ہے۔‘‘
قابلِ غور بات یہ ہے کہ جن لوگوں کو نصیحت کرنے کا حکم دیا جارہا ہے، وہ صحابہ کرامl ہیں اور نصیحت کرنے والی ذات آقاعلیہ السلام کی ہے۔ اتنے اعلیٰ متکلم اور مخاطب ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نصیحت اور صحبت کو ہمہ وقت اختیار کرنے کا حکم دے رہا ہے۔ اس لیے کہ یہ انسانی فطرت ہے کہ جب انسان صحبت اور قربت میں رہتا ہے تو اس صحبت کے اثرات کے باعث اس کے اندر نیک جذبات بار بار پیدا ہوتے رہے ہیں اور جب بندہ کچھ عرصہ کے لیے اس صحبت و قربت سے دور ہوتا ہے تو اس کے اثرات سے بھی محروم ہوجاتا ہے۔ اس لیے کہ صحبت و مجلس اور قربت ایک حیا بھی دیتی ہے، پردہ بھی ڈالتی ہے اور اثرات بھی پیدا کرتی ہے۔اس سے پھر کردار بھی بنتا ہے اور کردار کی حفاظت بھی ہوتی ہے۔
اجتماعی نظم کے اتار چڑھاؤ فرد کے کردار پر اثر انداز ہوتے ہیں، مگر ان محاسن کی مضبوطی و تقویت کا عمل بسبِ قربت و صحبت قائم رہتا ہے اور انسان روحانی طور پر کمزور نہیں پڑتا۔ یاد رکھیں! قربت و صحبت سے مراد صرف جسمانی طور پر کسی کےپاس موجود ہونا ہی نہیں ہے بلکہ اس نیک صحبت کی تعلیمات اور اس کے مشن پر کاربند رہنا بھی صحبت کے مفہوم میں شامل ہے۔ تحریک منہاج القرآن کامرکزی سیکرٹریٹ، اس کی نظامتیں، شعبہ جات، گوشہ درود اوریہاں منعقد ہونے والا ہر پروگرام اس صحبت کے مظاہر ہیں جو اس تحریک کے رفقاء و کارکنان کو سنبھالے رکھتے ہیں اور علمی، فکری اور روحانی تقویت کا عمل جاری رہتا ہے۔
یاد رکھ لیں عمر بھر صحبت ایک جیسی نہیں رہتی۔ معاشی اور معاشرتی ضرورتوں اور تقاضوں کے سبب صحبتیں اور مجالس بدلتی رہتی ہیں۔ معاشی ضرورتوں کے لیے نوکری یا بزنس میں داخل ہونا زندگی کی ضرورت اور خوشگوار پہلو ہے لیکن افسوس کا پہلو یہ ہوتا ہے کہ اس نیک صحبت کا ماحول چھوٹ رہا ہوتا ہے، جس کے سبب ہمیں علمی، فکری اور روحانی مضبوطی میسر آرہی ہوتی ہے۔پھر حال یہ ہوتا ہے کہ
جی ڈھونڈتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصورِ جاناں کیے ہوئے
جب بندہ اپنی عملی زندگی کے اگلے مرحلوں میں جاتا ہےتو امتحان کا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے۔ ایک زمانے میں ہمہ وقت اس کا اٹھنا بیٹھنا ایک فکر اور ایک طرح کی جدوجہد کرنے والے کے لوگوں کے ساتھ تھا، وہ اگلے مرحلے میں جاتا ہے تو یہ ساری چیزیں اس سے دور ہو جاتی ہیں۔ یہ اسی طرح ہے جیسے کوئی بندہ شادی سے پہلے آزاد ہوتا ہے، لیکن شادی کے بعد ایک اور جان کی ذمہ داری آ جاتی ہے۔ اب اس پر اس کا حق بھی ہے، اسے ٹائم دینا پڑتا ہے۔ پھر اولاد آ جاتی ہے تو شراکت داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ پہلے ایک فکر تھی، اب کئی افکار جمع ہو گئے۔ پہلے ایک خیال تھا اب کئی خیال جمع ہو گئے۔ یہ نیچرل پروسیس ہے اور اس سے کوئی مفر نہیں ہے۔یہ زندگی کے مراحل ہیں جن سے کوئی بھاگ نہیں سکتا۔یہ بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی شخص ایسا ہو جو ان سارے مراحل سے بھی گزرے مگر اس کی وہ صحبت کبھی نہ ٹوٹے۔ اس لیے کہ اس نے اپنے اندر ایک ایسا ماحول پیدا کر لیا ہوتا ہے جو اسے باہر کے ماحول اور اس کے فسادات سے بچا کر رکھتا ہے۔
سوسائٹی کے اثرات اور ’حال‘ کی حفاظت
ایک ماحول ہمارے باہر کا ہے اور ایک ماحول ہمارے اندر کا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اندر کے ماحول کو طاقتور کر لیں۔ اندر کا ماحول طاقتور تبھی ہوتا ہے جب ہماری توجہ؛ محنت اور تسلسل کے ساتھ اس کردار کو برقرار رکھنے پر رہے۔ اگر اندر کا ماحول کمزور ہو تو باہر کا وہ ماحول غالب آ جاتا ہے جس میں فتنہ و فساد، شر انگیزی اور فسق و فجور ہے۔
اسے اس مثال سے سمجھیں کہ جب ہم مئی، جون، جولائی کی دھوپ میں 24 گھنٹے بیٹھیں تو جلد کا جلنا (Sunburn) ایک فطری عمل ہے۔ لوگ دھوپ سے چہرے کی جلد کو بچانے کے لیے Sunblock کریم لگاتے ہیں۔ اسی طرح نیک صحبت ایک سایہ دار جگہ کی مانند ہے، جہاں گناہوں اور دنیا کی دھوپ ہمارے روح کے چہرے کو خراب نہیں ہونے دیتی لیکن جب باہر نکلیں گے تو ماحول کی دھوپ ہمارے روح اور دل کو جلائے گی۔پس جس طرح چہرے کے لیے سن بلاک کریم لگائی جاتی ہے، بالکل اسی طرح روحانی Sunburnسے بچنے کے لیے اپنے مَن کو اتنا مضبوط کرنا پڑے گا کہ قلب و باطن کی روحانی جلد نہ جلے۔
جب ہم معاشی اور معاشرتی ذمہ داریاں سنبھالتے ہیں تو 10-12 گھنٹے سوسائٹی کے لوگوں کے ساتھ بیٹھنا پڑتا ہے۔ یہ سوسائٹی بندے کے ایمان، فکرو عمل اور تقویٰ و استقامت کو ختم کرنے والی ہے۔ سوسائٹی نے ہر حال میں ایمان والے کردار کو برباد کرنا ہے۔ وہ انسان کو مالی طور پر مضبوط تو کرے گی، مگر اس سے انسان کا حال کمزور ہوگا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ انسان مالی طور پر مضبوط ہوجائے تو اس سے اس کے حال پر اثرات کیوں پڑیں گے؟یاد رکھیں! ایسے لوگ نہیں ملیں گے جن کو مال بھی ملے اور حال بھی نہ جائے۔ جو ایسا سوچتا ہے وہ غلط فہمی کا شکار ہے۔ جب مال کے حصول میں محنت کریں گے تو مال تو مقدر کے مطابق ملنا ہے لیکن کڑکتی دھوپ میں جانے کے اثرات بھی ہوں گے۔ ان اثرات سے بچنے کے لیے اپنے آپ کو تقویت دینے والے چشمے کے ساتھ جوڑے رکھنا ضروری ہوجاتا ہے۔
جب کسی کا باہر آنا جانا زیادہ ہوتا ہے تو دنیا کی چکا چوند سوچ کے پیمانے کو بدلنے لگتی ہے۔ جہاں سے رہنمائی ملتی تھی، اب اس چشمہ پر گرد آ جاتی ہے۔انسان کہتا ہے کہ مال آیا ہے تو میری عقل بھی بڑھ گئی ہے اور یوں وہ اپنے آپ کو اس چشمہ سے کاٹ دیتا ہے۔ یہ سب مال و دولت کے اثرات ہیں۔
دنیاوی فسادات کے خلاف جنگ میں کامیابی
ان دنیاوی فسادات کے خلاف جنگ تبھی جیتی جا سکتی ہے جب اپنے حال کو عملی طور پر اس چشمہ کے ساتھ وابستہ رکھیں جہاں سے بندے کو روحانی سیرابی ہوئی تھی۔ اگر سال کے بعد کسی پروگرام یا یومِ تاسیس پر آئیں گے تو وہاں موٹیویشن اور نعرے تو ہوں گے، لیکن مستقل حفاظت کا سامان میسر نہیں آئے گا۔ اس صورت حال میں معمول کی زندگی میں ہمیں کتاب اور خطاب کے ساتھ ایک پختہ تعلق قائم کرنا ہوگا، جس سے روحانی ترقی بھی ملے گی اور صحبت کا تسلسل بھی قائم رہےگا۔
یاد رکھیں! تحریک منہاج القرآن کا مشن ہو یا کوئی بھی نیک عمل یہ بذاتِ خود کردار کی حفاظت نہیں کر سکتے۔ کام اور جدوجہد الگ شے ہے اور کردار کی حفاظت الگ شے ہے۔ یہ حفاظت صحبت و قربت کے سبب ملتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
یَتْلُوْا عَلَیْھِمْ اٰیٰـتِہٖ وَیُزَکِّیْھِمْ وَیُعَلِّمُھُمُ
الْکِتٰبَ وَالْحِکْمَۃَ۔
(آل عمران،3: 164)
’’ جو ان پر اس کی آیتیں پڑھتا اور انہیں پاک کرتا ہے اور انہیں کتاب و حکمت کی
تعلیم دیتا ہے۔‘‘
ایک اور مقام پر فرمایا:
مُحَمَّدٌ رَّسُوۡلُ اللّٰہِ ؕ وَ الَّذِیۡنَ مَعَہٗۤ
(الفتح،48: 29)
’’ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں، اور جو لوگ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی معیت اور سنگت میں ہیں۔‘‘
ان آیات میں آقاﷺ کی صحبت و قربت کا ذکر ہے۔ صحبت کا فیض دینے والی ہستی تاجدارِ کائنات ﷺ کی ہو اور فیض لینے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ ہوں، اگر ان کی تعلیم و تربیت پر بھی عمر بھر محنت درکار ہوکہ کردار میں لچک نہ آئے، تو پھر کائنات میں اور کون ہےجو بغیر کسی سے جڑے اپنے کردار اور احوال کو بچالے اور ہر آن انھیں مضبوط کرتا رہے؟ یہی وجہ تھی کہ جو صحابہ کرامl مدینہ منورہ میں آقا ﷺ کے ساتھ رہے، ان کے احوال اور تھے اور جو شام اور دور دراز علاقوں میں تھے، ان کے احوال اور تھے۔کبار شخصیات میں سے کسی ایک شخصیت سے پوچھا گیا کہ کیا وجہ ہے کہ آپ کے ہاں سادگی اور روکھی سوکھی روٹی ہے جبکہ دور دراز علاقوں میں شاہانہ زندگی اور طرح طرح کے دسترخوان ہیں؟ انہوں نے جواب دیا:
إِنَّ اللَّهَ لاَ يَجْمَعُ الْعِلْمَ وَالْمَالَ فِي مَكَانٍ
وَاحِدٍ
’’اللہ تعالیٰ علم اور دولت کو (عمومی اصول کے طور پر) ایک جگہ جمع نہیں فرماتا۔‘‘
یعنی علم اور دولت دو الگ خزانے ہیں۔ اللہ علم اور سلطنت کا خزانہ ایک جگہ جمع نہیں فرماتا۔
یاد رکھیں! آج ٹیکنالوجی کے دور میں صحبت کی صورتیں بدل چکی ہیں۔ لہذا جدید ذرائع اور ٹیکنالوجی کا استعمال اچھی صحبت کے طور پر کریں اور ان ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے خطاب اور کتاب کے ساتھ جڑیں۔ ہر روز انھیں پڑھنے اور سننے کا معمول بنائیں۔ فیملی اور بچوں کو ساتھ بٹھائیں تاکہ ان کے ایمان کی بھی حفاظت ہو اور وراثت آگے منتقل ہو۔
فتنوں کی آندھیوں میں عام انسانوں کا کردار چھوٹی شاخوں اور ٹہنیوں کی طرح جھولتا ہے، جبکہ اہل اللہ کا کردار ایک مضبوط اور تناور درخت کے تنے کی طرح ہوتا ہے جسے طوفان نہیں ہلا سکتے۔ لہٰذا تحریک کے ساتھ روزانہ کتاب اور خطاب کے ذریعے مضبوطی کے ساتھ جڑے رہنا ہی کردار کی حفاظت کی ضمانت ہے۔
اپنے دل سے سوال کریں کہ جو کچھ ہم نے صحبت میں سیکھا تھا، کیا آج اس کا اظہار ہمارے روزمرہ کے عملی کردار میں موجود ہے؟ اگر اس سوال کا جواب نہیں میں ہے تو ہم تحریک کا حصہ تو ہوں گے، لیکن اس فکری و اخلاقی وراثت کے وارث نہیں رہیں گے۔ وارث رہنے کے لیے کردار کی وراثت کو ہمیشہ قائم رکھنا پڑتا ہے۔
مذکورہ پانچ ستون (فکر، عزم،کردار، نظم، جدوجہد) ہمارا بنیادی امتیاز اور سرمایۂ فکر ہیں۔ زندگی میں کبھی ان میں سے کوئی ایک بھی نگاہ سے اوجھل نہیں ہونا چاہیے۔
اللہ رب العزت ہمارے ظاہر و باطن کی حفاظت فرمائے اور اس مشن کی عظمت کا پرچم چہار دانگِ عالم میں بلند فرمائے۔
آمین بجاہ سیدالمرسلینﷺ۔
