ماہنامہ منہاج القرآن

علم، امن اور محبت کے 46 سال

17 اکتوبر 1980ء کو قائم ہونے والی تحریک منہاج القرآن نے گزشتہ 46 برسوں میں علم، امن، محبت، روحانیت، تحقیق اور خدمتِ انسانیت کے ذریعے ایک منفرد عالمگیر فکری و تجدیدی سفر طے کیا ہے۔ تحریک نے دینِ اسلام کے آفاقی پیغام کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے فکری بیداری، اتحادِ امت، انسدادِ انتہا پسندی، جدید تعلیم، سائنسی شعور اور بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے مؤثر کردار ادا کیا۔

علم، امن اور محبت کے 46 سال

یومِ تاسیس (17اکتوبر) کے پُرمسرت موقع پر خصوصی تحریر

اکیسویں صدی کا انسانی معاشرہ ایک پیچیدہ اور انتہائی نازک تہذیبی و فکری موڑ پر کھڑا ہے۔ ایک طرف سائنسی علوم کی روزافزوں ترقی، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے تلاطم، مصنوعی ذہانت (AI) کے ظہور اور مادّی وسائل کی تسخیر نے انسانی زندگی کو بظاہر بے پناہ آسائشیں، سہولیات اور آفاقی وسعتیں عطا کی ہیں، تو دوسری طرف روح کی ویرانی، اخلاقی تنزل، فکری انتشار اور بنیادی انسانی اقدار کی پامالی نے فرد اور معاشرہ دونوں کو ایک شدید اندرونی اضطراب اور بحران میں مبتلا کر رکھا ہے۔ جدیدیت (Modernity)، الحاد اور مادیت کے فلسفوں نے انسانی وجود کے بنیادی مقصد اور زندگی کی معنویت کو دھندلا دیا ہے، جس کے نتیجے میں انسان کائنات میں اپنے وجود کی حقیقت اور خالق سے اپنے تعلق سے بیگانہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔

اسی طرح دوسری جانب، مذہبی تناظر میں عقلیت سے بیزاری، تقلید پرستی، فرسودہ تعصبات، مناظرانہ روایت پسندی اور انتہا پسندانہ رویوں نے دینِ اسلام کے اس حقیقی، روشن، رحمت اور سلامتی سے معمور چہرے کو گہنا دیا ہے جو پوری انسانیت کے لیے بیداریِ شعور، تکریمِ انسانیت اور آفاقی امن کا پیغام لے کر آیا تھا۔ اسلام، جو دراصل عقل اور وحی کا متوازن امتزاج، علم و حکمت کا داعی اور تمام انسانی برادری کے لیے باعثِ رحمت ہے، اسے بدقسمتی سے معاصر دور میں یا تو محض چند عبادات و مناسک تک محدود کر دیا گیا یا پھر اسے سیاسی اقتدار کے حصول اور فتنہ و فساد کے لیے ایک آلے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی گئی۔

اس سنگین تہذیبی، فکری اور اخلاقی بحران کے پس منظر میں، جب ہم تاریخِ اسلام کے تجدیدی تسلسل پر طائرانہ نگاہ دوڑاتے ہیں، تو یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ امتِ مسلمہ کا وجود کبھی فکری جمود یا مستقل ضلالت کا شکار نہیں رہا۔ سنتِ الٰہیہ اور وعدۂ نبوی ﷺ کے مطابق ہر دور کی ضرورت کے مطابق ایسی بیدار مغز، متوازن اور ہمہ گیر تحاریک و شخصیات منصہ شہود پر ابھرتی رہی ہیں جنہوں نے دین کو اس کی اصل روح کے ساتھ زندہ کیا، زمانے کے چیلنجز کا علمی و فکری جواب دیا، فرسودہ افکار کا قلع قمع کیا اور بکھرے ہوئے انسانی قلوب کو دوبارہ مرکزِ حق سے جوڑ دیا۔ حضرت عمر بن عبدالعزیز، امام غزالی، مجدد الف ثانی اور شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمہم اللہ کی تجدیدی کاوشیں اسی تاریخی تسلسل کی روشن مثالیں ہیں۔

17 اکتوبر1980ء کا دن تاریخ کا وہ اہم ترین اور یادگار سنگِ میل ہے جب مجددِ عصر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے تحریک منہاج القرآن کی بنیاد رکھی۔ یہ اقدام کوئی روایتی دینی تنظیم، سیاسی جماعت، یا ایک خانقاہی سلسلے کا آغاز نہیں تھا، بلکہ یہ 21ویں صدی کے تمام تر تہذیبی، سائنسی اور فکری چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک ہمہ گیر عالمگیر تجدیدی، علمی، سائنسی، روحانی اور فلاحی تحریک کا باقاعدہ نقطۂ آغاز تھا۔

تحریک منہاج القرآن کے قیام کا بنیادی مقصد انسان کی فکری و اخلاقی بحالی، دینِ اسلام کے اصلی علوم کا احیاء، قرآن و سنت کے حقیقی امن و سلامتی کے پیغام کو بلا تفریقِ مذہب و ملت دنیا کے گوشے گوشے تک پہنچانا اور زوال پذیر امتِ مسلمہ کو علم، اعلیٰ کردار اور باہمی محبت کے ذریعے دوبارہ دنیا میں باوقار اور بااختیار مقام عطا کرنا تھا۔ تحریک نے اپنے روزِ اول سے ہی یہ واضح کر دیا تھا کہ وہ کسی خاص مسلک، علاقے یا زبان کی نمائندگی نہیں کرتی، بلکہ اس کا پیغام تمام انسانیت کے لیے آفاقی اور ہمہ گیر ہے۔

تحریک منہاج القرآن کی فکر کی سب سے بڑی خصوصیت اور امتیاز یہ ہے کہ اس نے اسلام کو محض چند مذہبی مناسک یا خشک قانونی احکامات کے مجموعہ کے طور پر نہیں پیش کیا، بلکہ اسے انسانی زندگی کے تمام انفرادی و اجتماعی مسائل کا ایک حیات آفریں، عقلی اور مربوط حل بنا کر متعارف کرایا۔ تحریک کا بنیادی منشا یہ تھا کہ اسلام کی آفاقی اقدار، عدل، مساوات، رواداری، علم دوستی اور خدمتِ خلق کو عملی زندگی میں اس طرح نافذ کیا جائے کہ جدید دور کا انسان بغیر کسی معذرت خواہی کے اسلام کی حقانیت اور عظمت کا اعتراف کرنے پر مجبور ہو جائے۔

یہاں سے اس تاریخی تجدیدی سفر کا آغاز ہوتا ہے جس نے محض چار دہائیوں کے قلیل عرصہ میں دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں اپنا منظم اور مستحکم تنظیمی و فکری نیٹ ورک پھیلا کر ثابت کر دیا کہ اگر دین کا صحیح فکری فہم، مخلصانہ و عبقری قیادت اور جدید ترین تنظیمی حکمتِ عملی میسر ہو تو فرسودہ روایت پسندی اور جدید مغربی الحاد دونوں کا کامیابی سے مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ تحریک منہاج القرآن نے اکیسویں صدی کی Knowledge based سوسائٹی میں اسلام کو ایک زندہ، متحرک اور عالمی تہذیبی طاقت کے طور پر دوبارہ زندہ کر دکھایا ہے۔

تحریک منہاج القرآن اور معاصر تحاریک میں فرق

مسلم دنیا میں 19 ویں صدی کے آخر اور 20 ویں صدی کے دوران ابھرنے والی تمام تر معاصر تحاریک اور تنظیموں کا اگر معروضی، غیر جانبدارانہ اور علمی جائزہ لیا جائے تو وہ زیادہ تر چند مخصوص، محدود اور یک رُخی جہات پر تقسیم نظر آتی ہیں۔ کچھ نے صرف سیاسی اقتدار کے حصول اور انتخابات میں کامیابی کو مقصدِ وحید بنا لیا، کچھ مخصوص فرقہ وارانہ مناظروں، تعصبات اور تکفیری زاویوں میں محصور ہو گئیں اور کچھ دنیاوی حقائق اور اجتماعی چیلنجز سے مکمل طور پر کٹ کر جامد خانقاہی گوشہ نشینی کا شکار ہو گئیں۔

ان تمام یک رُخی معاصر دھاروں کے برعکس، تحریک منہاج القرآن ایک بالکل منفرد، باوقار، متوازن اور ہمہ گیر ماڈل پیش کرتی ہے۔ تحریک منہاج القرآن کا دعویٰ اور عمل یہ ہے کہ اسلام زندگی کے کسی ایک شعبہ کا نام نہیں بلکہ یہ عقائد، عبادات، اخلاقیات، معاشرت، اقتصاد، تعلیم اور سیاست کا ایک مربوط اور کامل نظام ہے۔

ذیل میں ان بنیادی فکری امتیازات کا مفصل احاطہ کیا گیا ہے جو تحریک منہاج القرآن کو دیگر معاصر تحاریک اور تنظیموں سے یکسر جدا کرتے ہیں:

(1) سیاسی اقتدار پرستی بمقابلہ بیداریِ شعور

معاصر دینی و سیاسی جماعتوں کی اکثریت نے اپنی تمام تر توانائیاں، وسائل اور تنظیمی طاقت حکومت کے حصول، الیکشن جیتنے اور ریاستی اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے پر صرف کر دیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب انہیں اقتدار نہ ملا یا سیاسی ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، تو وہ سیاسی جوڑ توڑ، ذات پات کی سیاست اور غیر اصولی مصلحتوں کی نذر ہو کر اپنا اخلاقی اثر و رسوخ اور عوامی اعتماد بھی کھو بیٹھیں اور معاشرے میں کوئی پائیدار اخلاقی یا تعلیمی انقلاب برپا نہ کر سکیں۔ اس کے برعکس، تحریک منہاج القرآن کا فکری فلسفہ یہ ہے کہ صرف اوپر سے سیاسی قانون بدل دینے یا چہرے تبدیل کر دینے سے معاشرہ نہیں بدلتا، جب تک کہ نیچے سے عام افراد کے قلوب و اذہان کی فکری، اخلاقی اور روح پرور تربیت نہ کی جائے۔ تحریک نے اصلاحِ احوال، تزکیۂ نفس اور بیداریِ شعور کو اپنا بنیادی اور اولین ہدف بنایا۔ تحریک کا ماننا ہے کہ ایک صالح، تعلیم یافتہ، بااخلاق اور بیدار مغز معاشرہ ہی ایک باوقار اور منصفانہ نظام کو جنم دے سکتا ہے، لہٰذا اصلاحِ فرد ہی اصلاحِ نظام کی پہلی اینٹ ہے۔

(2) فرقہ وارانہ تنگ نظری بمقابلہ وسعتِ ظرف

اکثر معاصر مذہبی تنظیموں، مدارس اور گروہوں نے اپنے وجود کی بنیاد فرقہ وارانہ مسلک پرستی، اپنے مخصوص فقہی یا کلامی مکتبِ فکر کی اندھی ترویج اور دوسرے مسالک کی نفی، تضحیک اور تکفیر پر رکھی۔ اس کا خوفناک نتیجہ یہ نکلا کہ امتِ مسلمہ کا شیرازہ بکھر گیا اورمعاشرہ فرقہ واریت کا شکار ہو گیا۔ تحریک منہاج القرآن نے اپنے روزِ اول سے ہی تمام اسلامی مکاتبِ فکر کو جوڑنے، تفرقات کو مٹانے اور احترامِ باہمی پر مبنی اتحادِ امت کا علم بلند کیا۔ تحریک نے سوادِ اعظم اور اہل سنت و الجماعت کی اصل روشن روایت، محبتِ رسول ﷺ، تعظیمِ اہل بیتِ اطہار اور احترامِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہ کو مضبوطی سے قائم رکھتے ہوئے تمام دیگر مسالک کے ساتھ علمی، اخلاقی اور فکری مکالمہ کا راستہ اختیار کیا۔ تحریک کے پلیٹ فارم پر کبھی کسی مسلک یا شخص کی تکفیر نہیں کی گئی، نہ ہی یہاں نفرت انگیز اور ردِ عمل پر مبنی سیاست کو جگہ دی گئی۔ تحریک کا نعرہ ہے:

نفرت کے بجائے محبت اور تفرقہ کے بجائے اتحاد۔

(3)جامد خانقاہی نظام بمقابلہ متحرک و تعمیری تصوف

تاریخِ اسلام میں عمومی طور پر تصوف و تزکیہ کو خانقاہوں، گوشہ نشینی اور فرد کی ذات تک محدود عمل سمجھا گیا، جبکہ سائنسی تحقیق، تعلیمی اداروں کی تعمیر اور بین الاقوامی امور کو دنیا داری قرار دے کر الگ کر دیا گیا۔ اس فکری دوئی نے مسلمان کے اندرونی اور بیرونی وجود کو تقسیم کر کے رکھ دیا۔ روایتی خانقاہی سلسلے اور صوفی گروہ اکثر و بیشتر دورِ حاضر کے جدید سائنسی، اقتصادی، سیاسی اور تعلیمی چیلنجز سے بے خبر ہو کر محض روایتی وظائف، مزارات کی مجاوری اور فرد کی محدود ذاتی روحانیت تک محصور ہو گئے۔ اس کے نتیجے میں تصوف کو ایک ناکارہ اور دنیا سے فرار کا ذریعہ سمجھا جانے لگا۔

تحریک منہاج القرآن نے تصوف کو خانقاہ کی اس غیر فعال بوریانشینی سے نکال کر دورِ حاضر کی جدید جامعات، لیبارٹریز، سیمینار ہالز اور بین الاقوامی سفارتی ایوانوں میں لا کھڑا کیا۔ تحریک کا پیش کردہ تصوف، عمل، علم اور خدمتِ خلق سے عبارت ہے۔ تحریک کے نزدیک تصوف محض خلوت کی مالا جپنے کا نام نہیں، بلکہ انسانیت کے درد کو اپنے اندر محسوس کر کے میدانِ عمل میں اترنے کا نام ہے۔ یہاں تزکیۂ نفس اور تصفیۂ قلب کا مقصد فرد کو معاشرے سے کاٹنا نہیں بلکہ اسے اس قابل بنانا ہے کہ وہ سائنسدان، مفکر اور قائد بن کر بھی اخلاقی و روحانی اقدار کا پاسدار رہے۔ روحانیت اور علم و فکرکا ایک ساتھ ہونا ہی اس تحریک کو آج کی دنیا میں الگ اور نمایاں کرتا ہے۔

تحریک کے مرکز پر گوشۂ درود جیسا روح پرور اور نورانی و روحانی مرکز بھی ہے جہاں چوبیس گھنٹے درود و سلام کی صدا بلند ہوتی ہے اور ساتھ ہی منہاج یونیورسٹی، فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ اور منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن جیسے عظیم الشان تعلیمی و فلاحی ادارے بھی قائم ہیں، جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ سچی صوفیانہ روحانیت وہی ہے جو انسان کو اللہ کا ولی بنانے کے ساتھ ساتھ معاشرے کا ایک متحرک اور مفید شہری بھی بنا دے۔

(4) تشدد کی سیاست بمقابلہ امن وقانون کی پاسداری

بیسویں صدی کے آخر اور اکیسویں صدی کے آغاز میں کچھ انتہا پسند، تکفیری اور عسکریت پسند گروہوں نے اسلام کے نفاذ کے نام پر تشدد، بائیکاٹ، مسلح تصادم اور فتنہ و فساد کا غیر اسلامی راستہ اپنایا، جس سے اسلام کا نام سخت بدنام ہوا۔ تحریک منہاج القرآن نے اس کے برعکس آئین، قانون، جمہوری اقدار، عدمِ تشدد اور امن کا راستہ اختیار کیا۔ تحریک کا پختہ ایمان ہے کہ مفاہمت، دلیل، منطق اور علمی و سائنسی مکالمہ (Intellectual Dialogue) ہی وہ واحد راستہ ہے جس کے ذریعے اسلام کا آفاقی اور پرامن پیغام اقوام عالم تک پہنچایا جا سکتا ہے۔

(5) ایجابیت اور عدمِ نفی کا فلسفہ

عصرِ حاضر کی اکثر دینی و سیاسی تحاریک کی سب سے بڑی معذوری یہ رہی ہے کہ ان کی تمام تر فکری و عملی توانائی ردِّ عمل (Reactionary Politics) اور نفی پر خرچ ہوتی ہے۔ وہ اپنا وجود قائم رکھنے کے لیے کسی نہ کسی حریف، مسلک، سیاسی طاقت یا بیرونی دشمن کی نفی اور مخالفت کی محتاج ہوتی ہیں۔ اگر ان سےان کا حریف یا بیانیۂ مخالفت چھین لیا جائے تو ان کا فکری و تنظیمی وجود بکھرنے لگتا ہے۔

تحریک منہاج القرآن کا سب سے بڑا اور نایاب امتیاز یہ ہے کہ اس کی بنیاد نفی پر نہیں بلکہ ایجابیت(Positive Construction) پررکھی گئی ہے۔ اس تحریک نے اپنے 46 سال کے سفر میں کبھی کسی مسلک کی تکفیر کی، نہ کسی معاصر جماعت کو اپنا حریف بنا کر گالی دی اور نہ ہی نفرت و تفریق کا کوئی بیانیہ پروان چڑھایا۔ اس نے دوسروں کے چراغ بجھانے کی کوشش کے بجائے اپنے حصے کا دیا جلانے کا راستہ اپنایا۔ تحریک کا فلسفہ یہ رہا ہے کہ اگر آپ اندھیرے کو ختم کرناچاہتے ہیں تو اندھیرے سے لڑنے میں وقت ضائع کرنے کے بجائے روشنی کو عام کر دیں۔ یہ ایجابی طرزِ فکر ہی وہ راز ہے جس نے اس تحریک کو فرقہ وارانہ آلودگیوں سے پاک رکھا اور اسے دنیا بھر میں ہر فکر اور مکتبۂ فکر کے لیے قابلِ قبول اور باوقار بنایا۔

(6)مصلحت کوش نہیں بلکہ جرأت مندانہ فکری قیادت

معاشرتی و سیاسی احوال میں ’’اعتدال و توازن‘‘ کو اکثر ایک مصلحت کوش، معذرت خواہانہ یا غیر فعال رویہ سمجھا جاتا ہے، جس کا مقصد محض ہر فریق کو خوش رکھنا یا تصادم سے بچنا ہو۔ تاہم تحریک منہاج القرآن نے اعتدال کے اس روایتی تصور کو بالکل بدل کر اسے ایک متحرک اور فعال جرأت میں تبدیل کر دیا ہے۔

شدت پسندی اور پولرائزیشن کے اس دور میں، جہاں کسی ایک انتہا پر کھڑے ہو کر نعرے لگانا بہت آسان ہوتا ہے، بالکل وسط اور اعتدال کے نقطہ پر قائم رہنا سب سے زیادہ اخلاقی و فکری جرأت کا تقاضا کرتا ہے۔ منہاج القرآن کا اعتدال یہ ہے کہ اس نے ایک طرف دینی جمود، مذہبی انتہا پسندی اور تکفیری سوچ کے خلاف بے باکانہ فکری موقف اختیار کیا، تو دوسری طرف لادینی، مادّہ پرستانہ اور اخلاق باختہ نظریات کے آگے کبھی گھٹنے نہیں ٹیکے۔ یہ اعتدال کوئی خاموشی نہیں، بلکہ حق اور توازن کی وہ تلوار ہے جو دونوں انتہاؤں کے باطل افکار کو کاٹتی ہے۔ تحریک نے دنیا کو یہ باور کرایا کہ وسطیت، درحقیقت شریعتِ مطہرہ کا اصل جوہر اور انسانی ارتقا کا سب سے مستحکم راستہ ہے۔

یہ تمام بنیادی فکری وعملی امتیازات تحریک منہاج القرآن کو دیگر تمام معاصر دینی و سیاسی تحاریک سے مکمل طور پر ممتاز کر کے ایک ایسی عالمگیر، جدید، باوقار اور ہمہ گیر تحریک بناتی ہیں جس کا اسلوب تعمیری، جامع، سائنسی اور دورِ حاضر کے تقاضوں کے عین مطابق ہے۔

انسدادِ انتہا پسندی کا فکری بیانیہ

عصرِ حاضر میں مذہبی انتہا پسندی اور پرتشدد رجحانات محض سیاسی یا معاشی بحران کا نتیجہ نہیں ہیں، بلکہ بنیادی طور پر یہ ایک علمی بحران اور دین کے فکری ڈھانچے کی غلط تعبیر سے جنم لیتے ہیں۔ دنیا بھر میں معاصر دینی تحاریک کا المیہ یہ رہا ہے کہ انہوں نے تشدد اور انتہا پسندی کا مقابلہ یا تو معذرت خواہانہ (Apologetic) انداز میں سیاسی نعروں کے ذریعے کرنے کی کوشش کی، یا پھر اس حساس مسئلہ پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اس کے برعکس تحریک منہاج القرآن کا تاریخی کارنامہ یہ ہے کہ اس نے انتہا پسندی کا علاج محض سیاسی یا انتظامی سطح پر نہیں، بلکہ فقہی، قانونی اور فکری بنیادوں پر کیا۔

نائن الیون (9/11) کے دلخراش واقعات اور اس کے بعد رونما ہونے والے عالمی سیاسی تلاطم نے دنیا بھر میں اسلام اور مسلمانوں کے خلاف اسلامو فوبیا کا ایک شدید طوفان برپا کر دیا۔ مغرب اور عالمِ اسلام کے درمیان خلیج اتنی تیزی سے بڑھی کہ اسلام کو عالمی میڈیا اور سیکیورٹی ایوانوں میں دباؤ میں لاتے ہوئے شدت پسندی، جبر اور دہشت گردی کا مترادف بنا کر پیش کیا جانے لگا۔ ایسے ناگفتہ بہ اور تناؤ سے بھرپور حالات میں، جب بہت سے مذہبی گروہ معذرت خواہانہ دفاع (Apologetic Defense) میں مصروف تھے یا عسکریت پسند عناصر کے ردِ عمل کے خوف سے مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے تو شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ایک مبسوط فتویٰ جاری کیا اور بے مثال علمی جرأت، استقامت اور بصیرت کے ساتھ آگے بڑھ کر اسلام کی اصل پرامن، انسانیت پرور اور رحمت سے لبریز روح کا عالمی سطح پر ہر جہت سے دفاع کیا۔

تحریک منہاج القرآن کا یہ پختہ ادراک تھا کہ صرف انتہا پسندی کا رد یا تنقید کافی نہیں ہے، بلکہ نئی نسل کے اذہان کی فکری اور نصابی آبیاری کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے تحریک منہاج القرآن نے برطانیہ، یورپ، کینیڈا، امریکہ اور جنوب ایشیائی ممالک کےسکولز، کالجز، یونیورسٹیز اور اسلامک سینٹرز کے لیے ایک مفصل امن نصاب (Peace Curriculum) تیار کیا۔ اس نصاب میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں رواداری، بین المذاہب ہم آہنگی، حقوقِ انسانی اور انتہا پسندانہ افکار سے بچاؤ کا ایک مکمل تعلیمی و اخلاقی فریم ورک فراہم کیا گیا۔ اس نصاب نے یورپ اور مغرب میں رہنے والے مسلم نوجوانوں کو اپنی اسلامی شناخت پر فخر کرنے اور ساتھ ہی پرامن اور مربوط شہری بن کر رہنے کا شعور عطا کیا۔

سائنس، عقل اور روحانیت کی جامع تحریک

کسی بھی تجدیدی اور احیائی تحریک کی بقا، اس کی وسعت اور اس کے دیرپا اثرات کا بنیادی دارومدار اس کی فکری و علمی بنیادوں کی مضبوطی پر ہوتا ہے۔ تاریخِ انسانی کا مطالعہ یہ بتاتا ہے کہ وہی تحاریک عالمی سطح پر پائیدار اور دور رس تبدیلیاں لانے میں کامیاب ہوئیں جن کے پاس ایک واضح، غیر متزلزل اور جامع فکری اور علمی اسلوب موجود تھا۔ مسلم دنیا میں پچھلی دو صدیوں کے دوران سب سے بڑا فکری المیہ تعلیمی ثنویت (Duality of Education System) رہا ہے۔ ایک طرف روایتی دینی مدرسہ تھا جو عصری علوم اور جدید سائنسی پیش رفت سے ناآشنا رہا اور دوسری طرف جدید سیکولر تعلیمی ادارے تھے جو دینی اقدار اور روحانی بالیدگی سے محروم رہے۔ اس تعلیمی تقسیم نے مسلم معاشرے کو دو ایسے طبقات میں بانٹ دیا جو ایک دوسرے کی زبان اور فکری ضرورت کو سمجھنے سے قاصر تھے۔

تحریک منہاج القرآن کی سب سے بڑی انفرادیت اور فکری امتیاز یہ ہے کہ اس نے روایتی اسلامی علوم اور عصری سائنسی علوم کے درمیان حائل اس مصنوعی اور گمراہ کن خلیج کو مکمل طور پر مٹا دیا ہے جو دو صدیوں سے مسلم معاشروں کو فکری جمود اور دوہرے تعلیمی نظام کا شکار بنا رہی تھی۔

تحریک نے اس فکری تفریق اور تقسیم کو قائم رکھنے کے بجائے دونوں دھاروں کے انضمام کا ایک عملی ماڈل پیش کیا۔ تحریک کا تعلیمی فلسفہ محض ڈگریاں بانٹنے یا خواندگی کی شرح بڑھانے تک محدود نہیں ہے، بلکہ اس کا بنیادی مقصد ایک ایسی ہمہ جہت شخصیت کی تشکیل ہے ہے جو عقل اور وجدان، سائنس اور روحانیت اور جدید ٹیکنالوجی اور اخلاقی اقدار کو بیک وقت اپنے اندر سموئے ہوئے ہو۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی ذاتِ گرامی بذاتِ خود علمِ قدیم اور علمِ جدید کے امتزاج کا بہترین عملی و فکری مظہر ہے۔ اس علمی بنیاد نے تحریک منہاج القرآن کو ایک ایسا آفاقی فکری منہاج عطا کیا جو ایک طرف قرآنی علوم اور سنتِ نبویﷺ کے ساتھ پیوست ہے اور دوسری طرف جدید عقلیت، سائنسی منہاج اور Logic کی زبان میں معقول بات کرتا ہے۔

تحریک منہاج القرآن کا علمی و فکری مزاج ثابت کرتا ہے کہ اسلام میں عقل اور وحی، سائنس اور مذہب اور دنیا اور آخرت کے درمیان کوئی بنیادی تصادم نہیں۔ تحریک نے جدید سائنسی دریافتوں اور انکشافات کو آیاتِ الٰہیہ کے اثبات اور قدرتی قوانین کے فہم کے طور پر پیش کیا، جس نے مسلمان نوجوانوں کے اندر سے جدید سائنس کے مقابلے میں احساسِ کمتری کو ختم کر کے انہیں باوقار علمی بنیادوں پر استوارکیا۔ تحریک کی اس علمی کاوش نے اسلام کو دنیا کے سامنے ایک جدید سائنسی اور عقلی مذہب کے طور پر قائم کیا ہے۔

رفاقت کا قرآنی و اخلاقی رشتہ

دنیا کی بیشتر سیاسی و سماجی تحاریک اپنے کارکنوں کو محض ایک کارکن، ووٹ بینک یا تنظیمی آلے کے طور پر استعمال کرتی ہیں، جہاں انسانی جذبات اور فرد کی ذاتی اخلاقی بالیدگی ثانوی حیثیت رکھتی ہے۔ تحریک منہاج القرآن نے اپنے وابستگان کے لیے کسی سیاسی یا خشک تنظیمی اصطلاح کے بجائے قرآنِ مجید کی آیت وَحَسُنَ أُولَئِکَ رَفِیقًا سے مستنبط کردہ لفظ "رفیق" کو اختیار کیا۔

یہ اصطلاح خود اس بات کی بین دلیل ہے کہ تحریک کا مقصد محض کاغذی تنظیمی رکنیت بنانا نہیں، بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بے لوث اطاعت اور محبت پر مبنی ایک ایسا آفاقی روحانی بھائی چارہ قائم کرنا ہے جس میں فرد اور معاشرہ دونوں کی فکری و اخلاقی تطہیر ممکن ہو سکے۔لفظِ "رفیق" محض ایک رکنیت فارم کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ ایک اخلاقی و روحانی فیملی کی تشکیل کا اعلامیہ ہے۔ اس اصطلاح نے دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں پھیلے ہوئے لاکھوں انسانوں کو خشک دفتری نظم و ضبط کے بجائے باہمی محبت، اخوت اور قرآنی مقصدیت کے ایک مضبوط رشتے میں پرو دیا ہے۔ یہاں تحریک اور وابستگان کا تعلق استعمال اور فائدے کا نہیں بلکہ ایک مقدس فکری و اخلاقی سفر میں ایک دوسرے کا دست و بازو بننے کا ہے۔ یہ انسانی و اخلاقی رابطہ ہی وہ اصل قوت ہے جس نے 46برس کے طویل عرصے میں کسی دنیاوی مفاد اور سیاسی اقتدار کے بغیر اس تحریک کے عالمگیر وجود کو تروتازہ اور مستحکم رکھا ہے۔

حاصلِ کلام

تحریک منہاج القرآن کے46 ویں یومِ تاسیس کے اس پرمسرت، مبارک اور تاریخی موقع پر جب ہم گزشتہ ساڑھے چار دہائیوں کے اس عظیم الشان فکری، تعلیمی، روحانی اور فلاحی تجدیدی سفر پر نگاہ ڈالتے ہیں، تو یہ حقیقت پوری طرح روشن نظر آتی ہے کہ 17 اکتوبر1980ء کو قائم کی جانے والی یہ تحریک آج ایک ایسا تناور، سایہ دار، مضبوط اور بارآور عالمگیر درخت بن چکی ہے جس کی شاخیں دنیا کے 100 سے زائد ممالک میں پھیل چکی ہیں اور جس کے فیض سے دنیا بھر کے لاکھوں انسان مستفید ہو رہے ہیں۔

تحریک منہاج القرآن کی سب سے بڑی تاریخی کامیابی اور امتیاز یہ ہے کہ اس نے شخصیت پرستی، عارضی نعرے بازی اور وقتی جذباتی تحاریک کے برعکس عالمی سطح پر اداروں کی صورت میں ایک ایسا پائیدار انفراسٹرکچر قائم کر دیا ہے جو طویل مدتی بنیادوں پر خودکار طریقے سے کام کر رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی ہمہ جہت علمی و فکری قیادت کے ساتھ ساتھ، اب پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری (چیئرمین سپریم کونسل)، پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری (صدر منہاج القرآن) اور شیخ حماد مصطفی المدنی القادری جدید ترین علمی، فکری اور ڈیجیٹل تقاضوں کے مطابق تحریک کو اکیسویں صدی کی Knowledge based سوسائٹی میں باوقار قیادت فراہم کر رہے ہیں۔

تحریک منہاج القرآن کا 46 واں یومِ تاسیس اقوامِ عالم اور امتِ مسلمہ کے لیے امید، بیداری اور عزم کا ایک تابناک اور آفاقی پیغام ہے۔ یہ پیغام دراصل فرسودہ تعصبات، تفرقہ بازی اور جہالت کے مقابلہ میں رواداری، منطق، دلیل اور سائنسی علم کی فتح کا پیغام ہے۔

فتنہ و فساد، عسکریت پسندی اور تشدد کے مقابلہ میں امن، باہمی احترام اور بین المذاہب ہم آہنگی کا پیغام ہے۔

ذات پات، لسانی تفرقوں اور شخصی مفادات کے مقابلہ میں بلا تفریقِ مذہب و ملت، بے لوث خدمتِ خلق اور تکریمِ انسانیت کا پیغام ہے۔

شدید فکری بحرانوں، اخلاقی انحطاط اور تہذیبی تصادم کی آماجگاہ بنے آج کے معاشرہ کو تحریک منہاج القرآن کے پیش کردہ اس متوازن، پرامن، عقلی، علمی اور تعمیری اسلام کے ماڈل سے رہنمائی لینا ہوگی۔ تحریک منہاج القرآن صرف ماضی کے شاندار کارناموں کی کوئی داستان نہیں، بلکہ یہ عالمی سطح پر 21 ویں صدی اور آنے والے ادوار کے لیے ایک روشن، باوقار اور پرامن مستقبل کا عملی روڈ میپ اور روشن ترین نشانِ راہ ہے۔

واٹس ایپ