ماہنامہ منہاج القرآن

مصطفوی معاشرے کے قیام میں ادارہ جات کا کردار

پائیدار تبدیلی محض نعروں، اجتماعات یا وقتی جوش کا نام نہیں؛ حقیقی تبدیلی شعور، تعلیم، تربیت، نظم، حکمت اور مضبوط اداروں کے ذریعے وجود میں آتی ہے۔ اقوام کی فکری، اخلاقی اور سماجی تعمیر اُس وقت دیرپا بنتی ہے جب کسی نظریے کو مستقل ادارہ جاتی نظام، تعلیمی مراکز، تربیتی ڈھانچے، تحقیقی سرگرمیوں اور فلاحی منصوبوں کی پشت پناہی حاصل ہو۔

مصطفوی معاشرے کے قیام میں ادارہ جات کا کردار

پائیدار تبدیلی محض نعرے، ہجوم یا وقتی جوش کا نام نہیں۔ تبدیلی دراصل شعور، تربیت، نظم، حکمت اور اِدارہ جاتی تسلسل کا نام ہے۔ جو اقوام مضبوط اِدارے تخلیق کرتی ہیں، وہی اپنے معاشرے میں دیرپا تبدیلی لاتی ہیں۔ اَفراد خواہ کتنے ہی باصلاحیت، مخلص اور پُرعزم کیوں نہ ہوں، اگر اُن کے پیچھے کوئی مستحکم اِدارہ جاتی ڈھانچہ موجود نہ ہو تو اُن کی محنت اکثر اُن کی زندگی کے ساتھ ہی محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ مگر جب کسی فکر کو اِدارے، نصاب، تربیتی نظام، تنظیمی ڈھانچہ اور مسلسل قیادت میسر آجائے تو اُس کے اَثرات ایک فرد یا ایک عہد تک محدود نہیں رہتے بلکہ نسلوں تک منتقل ہوتے چلے جاتے ہیں۔

کوئی پودا لگانا ایک وقتی عمل ہوسکتا ہے، لیکن اُس پودے کی حفاظت، آبیاری، تراش خراش اور نشوونما کیلئے مستقل نظام قائم کرنا اِدارہ سازی ہے۔ کسی ضرورت مند کو ایک وقت کا کھانا کھلانا عظیم نیکی ہے، مگر ایسا منظم نظام قائم کرنا جو برسوں تک ہزاروں ضرورت مندوں کو خوراک، تعلیم، علاج اور روزگار فراہم کرتا رہے، پائیدار فلاحی تبدیلی ہے۔ کسی ایک مجلس میں علم کی بات کر دینا اہم ہے، مگر ایسا تعلیمی اِدارہ قائم کرنا جو ہر سال ہزاروں طلبہ کو علم، تحقیق اور کردار سے آراستہ کرے، قوم کے مستقبل کی تشکیل ہے۔

مصطفوی معاشرے کے قیام کا ہدف بھی محض کسی وقتی جوش کو برپا کرنے سے حاصل نہیں ہوسکتا۔ ایسا معاشرہ، جس کی بنیاد عدل، علم، اَخلاق، اَمن، اِعتدال، خدمتِ خلق اور اِحترامِ اِنسانیت پر قائم ہو، اُس کیلئے مسلسل تعلیم و تربیت، فکری رہنمائی، سماجی خدمت اور اِدارہ جاتی محنت ناگزیر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصطفوی معاشرے کی جدوجہد کو صرف جلسے جلوسوں، محافل، نعروں کے پیمانے سے نہیں ناپا جا سکتا۔ اِس کی اصل کامیابی اُن انسانوں، خاندانوں، تعلیمی مراکز، فلاحی منصوبوں اور علمی اِداروں میں دیکھی جا سکتی ہے جو معاشرے کے فکری و عملی مزاج کو بتدریج بدل رہے ہیں۔

محافل سے اِداروں تک کا سفر

اہلِ سنت و جماعت کے مذہبی و سماجی مزاج پر ایک زمانے میں یہ تنقید کی جاتی رہی کہ یہ محافل منعقد کرنے والا مسلک ہے۔ برصغیر کے دیگر مسالک میں 19 ویں صدی میں ہی مدارس کا قیام عمل میں آنا شروع ہوچکا تھا، مگر اہلِ سنت و جماعت کے ہاں طویل مدت تک سارا زور محافل پر رہا۔ محافلِ میلاد، محافلِ نعت، عرس، گیارہویں شریف، ختمِ قرآن اور دیگر روحانی اِجتماعات اِس مکتبِ فکر کی نمایاں پہچان رہے ہیں۔ بلاشبہ یہ محافل عشقِ رسولﷺ، ذکرِ الٰہی، روحانی وابستگی اور دینی شعور کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں مگر مسئلہ محافل کا اِنعقاد نہیں بلکہ اُس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہماری دینی سرگرمی محفل پر شروع ہو کر محفل ہی پر ختم ہوجائے اور اُس کے نتیجے میں نئی نسلوں کی تعلیم و تربیت کا مناسب اِنتظام نہ ہوپائے۔

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے میں عموماً اِدارے بنانے کی بجائے تقریبات اور محافل پر پیسہ خرچ کرنے کی سوچ زیادہ مضبوط رہی ہے۔ ہم چند گھنٹوں کی تقریب کیلئے لاکھوں روپے خرچ کر سکتے ہیں، لیکن مستقل تعلیمی اِدارے، تحقیقی مرکز، تربیتی اکیڈمی، لائبریری، ہسپتال یا فلاحی نظام بنانے کیلئے درکار طویل المدتی منصوبہ بندی اور مسلسل مالی تعاون کو اکثر نظرانداز کر دیتے ہیں۔

محفل روحانی کیفیت ضرور پیدا کرتی ہے، لیکن اُس کیفیت کو کردار میں بدلنے کیلئے تربیتی اِدارہ درکار ہوتا ہے۔ خطاب فکر کو بیدار کرتا ہے، مگر اُس فکر کو علم، تحقیق اور عملی مہارت دینے کیلئے درسگاہ چاہئے۔ مزارات پر چندہ جمع کرنا جذبۂ خیر کو ظاہر کرتا ہے، مگر اُس چندے کو مسلسل اور شفاف خدمت میں بدلنے کیلئے فلاحی اِدارہ ضروری ہوتا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جسے سمجھے بغیر وقتی سرگرمی اور پائیدار تبدیلی کے درمیان اِمتیاز نہیں کیا جا سکتا۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی جدوجہد کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ اُنہوں نے محفل اور اِدارے کو ایک دوسرے کی ضد نہیں بنایا۔ اُنہوں نے عشقِ رسول ﷺ کے اِظہار کیلئے عالمی میلاد کانفرنس جیسی عظیم الشان اور بین الاقوامی سطح کی سالانہ محفل بھی قائم کی اور اِسی عشق کو تعلیم، تحقیق، تربیت، خدمتِ خلق اور علمی مکالمہ کی شکل دینے کیلئے عظیم الشان اِدارے بھی بنا کر دکھائے۔

عالمی میلاد کانفرنس لاکھوں دلوں میں محبتِ رسول ﷺ کو تازہ کرتی ہے، جبکہ منہاج القرآن کے تعلیمی، تربیتی، فلاحی اور تحقیقی اِدارے اِسی محبت کو عملی کردار میں ڈھالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ایک طرف درود و سلام کی صدائیں ہیں تو دوسری طرف علم و تحقیق کی درسگاہیں؛ ایک طرف سالانہ روحانی اِجتماع اور ماہانہ مجالس درود و سلام ہیں تو دوسری طرف یتیم بچوں کی کفالت، طلبہ کی تعلیم، آفات زدگان کی مدد اور بین المذاہب مکالمہ ہے۔ یہی جامعیت کسی تحریک کو محض ایک مذہبی حلقے سے نکال کر وسیع سماجی و تہذیبی قوت بناتی ہے۔

نظام المدارس پاکستان: فکری تبدیلی کی بنیاد

نظام المدارس پاکستان جیسے دینی تعلیمی بورڈ کی مثال اِس تناظر میں نمایاں اہمیت رکھتی ہے۔ برصغیر میں کئی صدیوں سے رائج دینی نصاب کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا محض ایک اِنتظامی تبدیلی نہیں بلکہ فکری و تہذیبی تبدیلی کی بنیاد رکھنا ہے۔

آج کے عالمِ دین کو جدید ریاست، آئین، معیشت، بین الاقوامی تعلقات، نفسیات، سماجیات، ذرائع اِبلاغ، تقابلِ ادیان، سائنسی فکر اور نوجوان نسل کے سوالات سے بھی واقف ہونا چاہئے۔ اگر مذہبی تعلیم جدید دنیا کے علمی و سماجی حقائق سے منقطع ہوجائے تو فارغ التحصیل طالب علم اپنے عہد سے مؤثر مکالمہ نہیں کرسکتا۔

نظام المدارس کے نصاب میں قدیم دینی علوم کے ساتھ جدید علمی تقاضوں کو شامل کرنے کی کوشش اِسی خلا کو پُر کرنے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔ قرآن، حدیث، فقہ، عربی زبان اور دیگر روایتی علوم کی مضبوط بنیاد کے ساتھ طلبہ کو عصری مضامین اور تحقیقی مزاج سے آراستہ کرنا دراصل مستقبل کے عالمِ دین کی نئی تشکیل ہے۔

جب ہزاروں مدارس میں نسبتاً جامع، معتدل اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ نصاب رائج ہوگا تو اُن درسگاہوں سے مستقبل کے خطیب، محقق، معلم اور مفتی نکلیں گے۔ یہ اَفراد اِنتہاپسندی کے بجائے اِعتدال، تکفیر کے بجائے مکالمہ، تقلیدی جمود کے بجائے تحقیق اور نفرت کے بجائے اِحترامِ اِنسانیت کا پیغام دے سکیں گے۔ اگر ایک مدرسے سے ہر سال صرف چند درجن یا چند سو ایسے علماء بھی نکلیں تو چند دہائیوں میں اُن کا مجموعی سماجی اثر لاکھوں افراد تک پہنچ سکتا ہے۔

یہی اِدارہ جاتی کام کی اصل طاقت ہے۔ ایک تقریر شاید ایک دن سنی جائے، مگر ایک نصاب کئی نسلوں کے ذہنی سانچے تشکیل دیتا ہے۔ کسی جلسے کا اثر چند دنوں میں مدھم پڑسکتا ہے، مگر تعلیم یافتہ اور معتدل عالم اپنی پوری زندگی معاشرے کو متاثر کرتا ہے۔ پائیدار اِنسان سازی ہی راست فکر کی تشکیل اور مستقبل کی اِجتماعی ذہن سازی ہی حقیقی تبدیلی ہے۔

منہاج ایجوکیشن سوسائٹی: تبدیلی کا آغاز سکول سے

مصطفوی معاشرہ صرف مدارس یا جامعات سے نہیں بنتا، اِس کی بنیاد سکول کی اِبتدائی جماعتوں میں رکھی جاتی ہے۔ بچہ جس ماحول میں تعلیم پاتا، جس زبان میں سوال کرنا سیکھتا اور جن اَخلاقی اُصولوں کو روزمرہ زندگی میں دیکھتا ہے، وہی اُس کے مستقبل کی شخصیت تشکیل دیتے ہیں۔

منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے تحت ملک بھر میں قائم سیکڑوں تعلیمی اِداروں کا بنیادی تصور یہ ہے کہ جدید تعلیم اور اَخلاقی و روحانی تربیت کو ایک دوسرے سے جدا نہ کیا جائے۔ اگر کوئی طالب علم سائنس، ٹیکنالوجی، ریاضی اور انگریزی میں مہارت حاصل کرلے مگر دیانت، اِحترام، ذمہ داری اور خدمتِ اِنسانیت سے محروم رہے تو تعلیم کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔ اِسی طرح اگر بچے کو مذہبی جذبات تو دے دیئے جائیں مگر جدید علوم، تنقیدی فکر اور پیشہ ورانہ قابلیت نہ دی جائے تو وہ بدلتی دنیا میں مؤثر کردار ادا نہیں کرسکتا۔

سکولوں کا یہ سلسلہ ہزاروں خاندانوں تک پہنچنے والا تربیتی نظام ہے۔ کلاس روم میں بیٹھا ہوا ہر بچہ مستقبل کا شہری، والد، اُستاد، افسر، تاجر، سائنسدان یا سیاسی رہنما ہے۔ اُس کے اندر آج پیدا ہونے والی دیانت، رواداری اور ذمہ داری آئندہ معاشرے کے اِجتماعی رویے میں ظاہر ہوگی۔ یوں ایک سکول کا اثر اُس کے موجودہ طلبہ تک محدود نہیں رہتا بلکہ اُن کے مستقبل کے خاندانوں اور حلقۂ اثر تک بھی منتقل ہوتا ہے۔

منہاج یونیورسٹی لاہور: علم، تحقیق اور مکالمہ

کسی قوم کے فکری مستقبل کا فیصلہ اُس کی جامعات کرتی ہیں۔ یونیورسٹی صرف ڈگری دینے والی عمارت نہیں ہوتی بلکہ نئے سوالات اُٹھانے، علم پیدا کرنے، تحقیق کو فروغ دینے اور معاشرے کیلئے علمی قیادت تیار کرنے کا مرکز ہوتی ہے۔ اِسی تناظر میں منہاج یونیورسٹی لاہور کا قیام ایک اہم اِدارہ جاتی پیش رفت ہے۔

پاکستان میں ایسی یونیورسٹی قائم کرنا جو اِسلامی علوم کے ساتھ کمپیوٹر سائنس، انجینئرنگ، مینجمنٹ، معاشیات، قانون، فارمیسی، صحت، سماجی علوم، زبانوں اور دیگر عصری شعبوں میں تعلیم فراہم کرے، شیخ الاسلام کی اُس جامع فکر کی نمائندگی کرتا ہے جس میں دین اور دنیا کو دو متحارب دائروں میں تقسیم نہیں کیا جاتا۔ منہاج یونیورسٹی میں 100 سے زائد ڈگری پروگرامز پیش کئے جا رہے ہیں۔ یوں یہ اِدارہ مذہبی و اَخلاقی شعور اور جدید پیشہ ورانہ مہارت کے درمیان پل بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

منہاج یونیورسٹی میں اِسلامی معیشت، بین المذاہب مکالمہ، امن، تصوف، حلال انڈسٹری، زبان، سماجی علوم اور دیگر شعبہ جات میں ہونے والی کانفرنسز اور تحقیقی سرگرمیاں اِس امر کی علامت ہیں کہ اِدارہ محض تدریس تک محدود نہیں۔ جب کوئی یونیورسٹی مقامی مسائل کو عالمی علمی مباحث سے جوڑتی، غیرملکی یونیورسٹیز اور محققین سے روابط قائم کرتی اور اپنے طلبہ کو تحقیق کی طرف متوجہ کرتی ہے تو وہ معاشرے کیلئے علمی خوداِعتمادی پیدا کرتی ہے۔

بیرونِ ملک نئی نسلوں کی دینی اور تہذیبی حفاظت

دیارِ غیر میں ہجرت کے بعد پہلی نسل عموماً اپنی زبان، مذہب، خاندانی روایات اور تہذیب کے ساتھ مضبوط تعلق رکھتی ہے، لیکن دوسری اور تیسری نسل کیلئے یہ تعلق خودبخود برقرار نہیں رہتا۔ اگر بچوں کیلئے منظم دینی و تہذیبی مراکز موجود نہ ہوں تو رفتہ رفتہ اپنی شناخت سے فاصلہ پیدا ہوسکتا ہے۔ آج سے پچاس ساٹھ سال قبل پاکستان کے جو لوگ بیرون ملک آباد ہوئے تھے، اب اُن کی تیسری نسل پروان چڑھ رہی ہے اور اُن خاندانوں میں شناخت کا یہ بحران شدت اِختیار کر رہا ہے۔

دنیا کے 100ممالک میں منہاج القرآن کی تنظیمات، مراکز، مساجد، تعلیمی حلقے اور تربیتی پروگرام اِسی ضرورت کو پورا کررہے ہیں۔ یہ مراکز بیرونِ ملک خاندانوں کیلئے محض عبادت گاہیں نہیں بلکہ شناخت، تعلق اور اِجتماعی زندگی کے ثقافتی مراکز بھی ہیں۔ یہاں بچوں کو قرآن، سیرتِ نبویﷺ، اِسلامی اَخلاق، اُردو زبان اور اپنی تہذیبی روایات سے رُوشناس کرایا جاتا ہے۔

اگر بیرونِ ملک آباد نئی نسل کے سوالات کو دبایا جائے یا اُنہیں اُن کے معاشرے سے نفرت سکھائی جائے تو شناخت کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر دین کو دلیل، محبت، مکالمہ، قانون پسندی، شہری ذمہ داری اور اِحترامِ اِنسانیت کے ساتھ سمجھایا جائے تو یہی نوجوان اپنے ملک کے ذمہ دار شہری اور اِسلام کے مثبت نمائندے بن سکتے ہیں۔

بین المذاہب مکالمہ، مقامی کمیونٹی کی خدمت، نوجوانوں کی تربیت اور خواتین کی شرکت جیسے اِقدامات مسلمانوں کو تنہائی سے نکال کر معاشرے کے فعّال کردار میں لاتے ہیں۔ یہ کام کسی ایک جلسے یا چند خطابات سے مکمل نہیں ہوسکتا۔ اِس کیلئے مقامی تنظیم، تربیت یافتہ رضاکاران، مستقل عمارت، نصاب اور مالی نظم درکار ہوتا ہے اور یہی سب اِدارہ سازی کہلاتا ہے۔

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن: خدمت کو مستقل نظام بنانا

فلاحی کام اِنسانی ہمدردی کے فوری اِظہار کا نام ہے، لیکن منظم فلاحی اِدارہ ہمدردی کو مستقل خدمت میں تبدیل کرتا ہے۔ سیلاب، زلزلے، قحط، جنگ یا کسی دوسری آفت کے موقع پر جیسے فوری اِمداد بہم پہنچانا ضروری ہوتا ہے، اُسی طرح غربت، جہالت، بیماری اور بے روزگاری کے بنیادی اَسباب سے نمٹنے کیلئے طویل المدتی منصوبہ بندی بھی درکار ہوتی ہے۔

منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن مختلف ممالک، بالخصوص ایشیا اور افریقہ کے ضرورت مند خطوں میں خوراک، صاف پانی، تعلیم، یتیم بچوں کی کفالت، صحت، ہنگامی اِمداد اور دیگر فلاحی شعبوں میں خدمات انجام دیتی ہے۔ کنوئیں یا پانی کا منصوبہ محض چند خاندانوں کی فوری ضرورت پوری نہیں کرتا بلکہ اُن کی صحت، تعلیم اور روزگار پر بھی اثر ڈالتا ہے۔ یتیم بچے کی کفالت صرف اُسے خوراک دینے کا نام نہیں، اُسے تعلیم اور تربیت فراہم کرکے محتاجی کے دائرے سے نکالنا ایک پوری نسل کا مستقبل تبدیل کرسکتا ہے۔

مصطفوی معاشرے میں عبادت اور خدمتِ خلق ایک دوسرے سے جدا نہیں۔ بھوکے کو کھانا، بیمار کو علاج، بےگھر کو چھت اور محروم بچے کو تعلیم فراہم کرنا بھی دینی ذمہ داری ہے۔ اِس تصور کو بڑے پیمانے پر عملی شکل دینے کیلئے فلاحی اِدارہ ناگزیر ہے۔ فرد چند لوگوں کی مدد کرسکتا ہے، مگر منظم اِدارہ ہزاروں عطیہ دہندگان، رضاکاروں اور ماہرین کی قوت کو یکجا کرکے لاکھوں ضرورت مندوں تک پہنچ سکتا ہے۔ یہی کام منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی رہنمائی میں بطریقِ احسن انجام دے رہی ہے۔

عالمی اِداروں تک رسائی اور فکری نمائندگی

کسی جماعت اور تنظیم کی پختگی کا ایک معیار یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی بات عالمی سطح کے علمی، سفارتی اور پالیسی فورمز تک کس انداز میں پہنچاتی ہے۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سرگرمیاں صرف پاکستان یا روایتی مذہبی حلقوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس کے تحت اَمن، اِنسدادِ اِنتہاپسندی، بین المذاہب ہم آہنگی، اِنسانی حقوق، تعلیم اور سماجی بہبود کے موضوعات پر عالمی سطح پر بھی روابط قائم کئے گئے ہیں۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل کو 2011ء میں اقوامِ متحدہ کے نظام میں خصوصی مشاورتی حیثیت ECOSOC Consultative Status ملا تھا، جو ایک پاکستانی مذہبی تنظیم کیلئے ایک بڑے اِعزاز کی بات ہے۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل کے نمائندگان اَقوامِ متحدہ سے متعلق علمی، سول سوسائٹی اور بین الاقوامی مکالماتی سرگرمیوں میں شرکت کرتے رہے ہیں۔

اِسی طرح اِسلامی تعاون تنظیم (OIC) سے متعلق فورمز اور عالمِ اسلام کے علمی و پالیسی اِجتماعات میں منہاج القرآن انٹرنیشنل سے وابستہ شخصیات کی شرکت کو وسیع تر عالمی رابطے کے تناظر میں علمی و تنظیمی نمائندگی کے طور پر دیکھا جاسکتا ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کے پلیٹ فارم پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا پروفائل اور منہاج القرآن انٹرنیشنل و منہاج یونیورسٹی کا تعارف بھی اِس بین الاقوامی فکری رسائی کی ایک مثال ہے۔ اہمیت اِس بات کی نہیں کہ کسی عالمی تقریب میں کون موجود تھا، اصل اہمیت یہ ہے کہ تعلیم، اَمن، مذہبی اِعتدال اور اِنسانی بہبود کا متبادل بیانیہ عالمی مکالمہ میں کتنی سنجیدگی سے پیش کیا گیا۔

پائیدار ترقی کے اَہداف اور منہاج القرآن

اَقوامِ متحدہ نے 2015ء میں پائیدار ترقی کے 17 عالمی اَہداف اِختیار کئے، جن میں غربت اور بھوک کا خاتمہ، صحت، معیاری تعلیم، صنفی مساوات، صاف پانی، باعزت روزگار، عدم مساوات میں کمی، امن، اِنصاف، مضبوط اِدارے اور عالمی شراکت داری جیسے اَہداف شامل ہیں۔

دلچسپ اَمر یہ ہے کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل کی جدوجہد میں اِن میں سے بہت سے شعبوں پر اُس کے قیام کے اِبتدائی زمانے ہی سے کام ہو رہا ہے؛ اگرچہ اُس وقت اُن سرگرمیوں کو SDGs کی موجودہ اِصطلاح میں بیان نہیں کیا جاتا تھا۔ تعلیم کیلئے اسکول، کالج، مدارس اور یونیورسٹی؛ غربت اور محرومی کے مقابلے کیلئے فلاحی منصوبے، ویمن ایمپاورمنٹ کیلئے منہاج القرآن ویمن لیگ کے تحت الگ تنظیمی و تربیتی پلیٹ فارم، نوجوانوں کیلئے یوتھ نیٹ ورک، اَمن اور اِنصاف کیلئے تحقیقی و فکری کام، بین المذاہب ہم آہنگی کیلئے مکالماتی فورمز اور عالمی تعاون کیلئے مختلف ملکوں میں تنظیمی ڈھانچے، یہ سب اُن اَہداف سے عملی مطابقت رکھتے ہیں جنہیں دنیا نے بعد میں ایک مشترکہ عالمی ایجنڈے کی صورت دی۔

یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ منہاج القرآن نے 2015ء سے پہلے ہی اُن متعدد اِنسانی و سماجی مقاصد پر کام شروع کردیا تھا جنہیں بعدازاں اقوامِ متحدہ نے پائیدار ترقی کے عالمی اَہداف میں منظم شکل دی۔ یہ مماثلت اِس بات کو واضح کرتی ہے کہ حقیقی دینی تحریک صرف عبادات یا خطابات تک محدود نہیں رہتی؛ وہ تعلیم، صحت، مساوات، امن اور اِنسانی وقار کو بھی اپنی ذمہ داری سمجھتی ہے۔

25 ہزار مراکزِ علم: گھر گھر فکری تربیت

مصطفوی معاشرے کے قیام کیلئے بڑے مرکزی اِداروں کے ساتھ مقامی سطح پر چھوٹے مگر منظم علمی مراکز بھی ضروری ہیں۔ ہر شخص یونیورسٹی یا مرکزی سیکرٹریٹ تک نہیں پہنچ سکتا، لیکن علم اور تربیت کو اُس کے محلے اور گھر تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ 25 ہزار مراکزِ علم کے قیام کا تصور اِسی ضرورت کا مؤثر جواب ہے۔

اگر یہ مراکز مستقل مزاجی، معیاری نصاب، تربیت یافتہ معلّمین اور مؤثر نگرانی کے ساتھ کام کرتے رہیں تو اِن کے ذریعے نہ صرف معاشرے کی بنیادی اکائی یعنی خاندان تک رسائی ممکن ہوگی بلکہ قرآن فہمی، سیرت، اَخلاق، شہری ذمہ داری، خاندانی تعلقات، نوجوانوں کی رہنمائی اور عصری مسائل سے متعلق شعور بھی گلی محلے کی سطح پر پہنچایا جاسکے گا۔

کسی مرکزی اِجتماع میں لاکھوں اَفراد کا شریک ہونا ایک بڑی کامیابی ہے، مگر لاکھوں اَفراد کو مسلسل سیکھنے کے عمل سے جوڑنا اُس سے کہیں بڑا اور مشکل کام ہے۔ مراکزِ علم کسی ایک دن کا ہجوم پیدا کرنے کی بجائے ہفتہ وار بنیادوں پر شعور کی آبیاری کر رہے ہیں۔ اگر اِن مراکز سے وابستہ ہر فرد اپنے ماحول میں مثبت تبدیلی لائے تو یہ خاموش عمل وقت کے ساتھ ایک بڑی سماجی قوت بن سکتا ہے۔

حقیقی تبدیلی کی پہچان

اِدارے جب فکری تربیت کریں، اَقدار کی پرورش کریں، علم کو معیار بنائیں اور نسلوں کی ذہن سازی کریں تو معاشرے کی جڑیں بدلنا شروع ہوجاتی ہیں۔ اِس عمل کی رفتار شاید بظاہر سُست دکھائی دے، مگر اِس کا اثر دیرپا ہوتا ہے۔نعروں، للکاروں، جلسوں اور مظاہروں کی حیثیت تاریخ میں ایک لمحے کی ہوسکتی ہے، مگر مضبوط اِدارے تاریخ کا دھارا بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آج جاری خاموش، منظم اور طویل المدتی جدوجہد آنے والی نسلوں کیلئے ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھ رہی ہے جو عدل، علم، اَمن، خدمت، رواداری اور اِعتدال پر قائم ہوگا۔

یہ راستہ طویل ضرور ہے، مگر قوموں کی تعمیر کیلئے کوئی مختصر راستہ نہیں ہوتا۔ اگر ہماری درسگاہیں علم کو فروغ دے رہی ہیں، مدارس اِعتدال کی نسل تیار کر رہے ہیں، فلاحی اِدارے اِنسانیت کی خدمت کر رہے ہیں، بیرونِ ملک مراکز نئی نسلوں کی شناخت محفوظ کر رہے ہیں اور کارکنان اپنے کردار سے مصطفوی اَقدار کا عملی نمونہ پیش کر رہے ہیں تو پائیدار تبدیلی کا سفر جاری ہے۔

مصطفوی معاشرہ اُس وقت تشکیل پائے گا جب مصطفوی فکر نصاب میں، مصطفوی اَخلاق کردار میں، مصطفوی عدل اِداروں میں اور مصطفوی رحمت خدمتِ اِنسانیت میں ڈھل جائے گی۔ یہی حقیقی تبدیلی ہے، یہی اِدارہ سازی کی حکمت ہے اور یہی وہ راستہ ہے جو وقتی کامیابی سے آگے بڑھ کر آنے والی صدیوں کی تشکیل کرسکتا ہے۔

واٹس ایپ