دنیا کی ہر قوم اور ہر تہذیب میں خواتین کی عظمت اور مقام کے متعلق تحریریں پڑھنے کو ملتی ہیں مگر اس سب کے باوجود خواتین کی قربانیوں اور محنت کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ آج ہم ایک ایسے عہد میں جی رہے ہیں جو سوشل میڈیا کی ترقی یافتہ شکل، آرٹیفیشل انٹیلی جنس کا دور ہے، آج کچھ بھی چھپائے نہیں چھپتا اور آج کا انسان اپنا دکھ بیان کرنے کے لئے کسی کا مرہون منت نہیں ہے، جس کے ہاتھ میں بھی اینڈرائیڈ موبائل اور نیٹ سروس ہے وہ کسی بھی وقت پوری دنیا سے لنک ہو سکتا ہے، اپنے دکھ، سکھ کا اظہار کر سکتا ہے، ذرائع ابلاغ کی اس فراوانی اور دستیابی کے باوجود خواتین آج بھی آزاد نہیں ہیں، انہیں سوسائٹی کے اندر مختلف قدغنوں اور پابندیوں کا سامنا ہے، وہ اپنا حق لینے کے لئے آج بھی مرہون منت ہے، مظلوم خاتون آزادانہ آواز تو بلند کر سکتی ہے مگر انصاف اُسے وہی ملتا ہے جو دینے والے چاہتے ہیں، خواتین کا آج بھی سب سے بڑا مسئلہ تعلیم ، سماجی مساوات اور تحفظ ہے۔ قانون تو موجود ہے مگر خاتون اکثر و بیشتر اُس قانونی تحفظ کے ثمرات سے محروم رہتی ہے، وہ شکایت تو کر سکتی ہے مگر ازالہ کی کوئی صورت دستیاب نہیں ہوتی، اس ساری صورت حال کے تناظر میں قرآن و سنت کی تعلیمات ہی ایک ایسا تحفظ ہے جو خواتین کو سرد گرم حالات سے محفوظ رکھتا ہے، ایک باشعور ایمان والا انسان کبھی بھی کسی خاتون سے ظلم نہیں کر سکتا اور نہ ہی اُس کا استحصال کر سکتا ہے، اس پر ہم آگے جا کر بات کریں گے، اگرچہ خواتین کی اولین ذمہ داری گھر کی سلطنت کی دیکھ بھال ہے تاہم اُسے اس سلطنت کا بزور طاقت قیدی نہیں بنایا جا سکتا، اسلام اور مروجہ ملکی قوانین خواتین کو آزادانہ ترقی کی دوڑ میں شامل ہونے کے مواقع مہیا کرتے ہیں۔ اُمہات المومنین کی مثالیں ہمارے لیے ہمیشہ روشن رہنمائی کا سرچشمہ ہیں، اُمہات المومینن نے ایمان، ہمت اور عقل و شعور کے ساتھ معاشرتی و اقتصادی ترقی میں اپنا کردار ادا کیا اور اسلام کے پیغام کو فروغ دینے میں نہایت فعال کردار ادا کیا۔ اُمہات المومنین میں حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کا عملی برتائو اور کردار ہم سب کے سامنے ہے کہ آپ مکہ کی اُس سوسائٹی میں ایک کامیاب تاجرہ تھیں جس سوسائٹی میں خاتون کو خرید و فروخت کی ایک جنس سمجھا جاتا تھا۔ آپ ؓ نے نہ صرف خود باوقار طریقے سے خود کو زندگی اور ترقی کی دوڑ میں شامل رکھا بلکہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کے لئے بھی ایک قابل اعتماد دست راست اور شریک حیات تھیں۔ آپ کا یہ کردار ایک روشن مثال ہے۔ عرب معاشرہ میں خواتین کے بارے میں تعصب پر مبنی رویوں کے باوجود حضرت خدیجہؓ نے جرأت مندانہ کردار ادا کیا، آج کی خواتین کو بھی اسی راہ پر چلنا چاہیے۔ مشکلات اور مسائل سے گھبرا کر کبھی بھی دل برداشتہ نہیں ہونا چاہیے۔
اسلام نے خواتین کو عزت و وقار کا مقام دیا اور انہیں معاشرتی، علمی اور روحانی ترقی میں شریک بنایا۔ اسلام نے خواتین کو وراثت میں حصہ دار بنا کر اُس کا اقتصادی تحفظ کیا، اسلامی تعلیمات میں خواتین کے استحصال کی کسی بھی شکل کو ممنوع قرار دیا گیا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ خواتین کے معاملے میں قوانین کی پاسدای ہونی چاہیے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کافرمان ہے کہ خواتین کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، خواتین سے ناروا سلوک کرنے والوں کی روزِ قیامت کڑی باز پرس ہو گی۔ الحمداللہ عالمِ اسلام کی ایک شخصیت اور نابغۂ روزگار ہستی ایسی بھی ہے جس نے فرامین رسول ﷺ کی روشنی میں ویمن امپاورمنٹ کے لئے اپنا جرأت مندانہ دینی، ملی و قومی کردار ادا کیا و ہ شخصیت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کی ہے۔ آپ خواتین کی تعلیم و تربیت کو حقیقی ویمن امپاورمنٹ سمجھتے ہیں اور انہوں نے اس ضمن میں خواتین کے لئے سٹیٹ آف دی آرٹ تعلیمی ادارے قائم کئے جہاں ہزار ہا خواتین اعلیٰ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو کر سوسائٹی میں اپناترقی پسندانہ کردار ادا کررہی ہیں۔