حضرت امیر خسروؒ کا شہرۂ آفاق کلام

ڈاکٹر انیلہ مبشر

دنیائے ادب کی عظیم الشان ہستی امیر خسرو برصغیر کی وہ مایہ ناز اور ہمہ جہت شخصیت ہیں جن کی ذات کئی کمالات کا مجموعہ رہی ہے۔ آپ قادر الکلام شاعر، بلند پایہ نثر نگار، مورخ تذکرہ نویس اور بے مثل ماہر موسیقی ہیں۔ اس حیثیت سے دنیا کے نابغہ روزگار اور باکمال افراد کی صفت میں آپ کا شمار ہوتا ہے۔ امیر خسرو ایک درباری شاعر اور شاہی ندیم کی حیثیت سے ہندوستان کے علمی، ادبی و سیاسی منظر نامے پر وارد ہوئے۔ آپ سوز و گداز، عشق و مستی، رنگینی و رعنائی، جذب و شوق اور وارفتگی و بے خودی کے شاعر تھے۔ رفتہ رفتہ مرشد کامل حضرت نظام الدین اولیاؒ کی صحبت نے انہیں تصوف کے معرکۃ الآراء مسائل سے اس طرح روشناس کروایا کہ علم و عرفان اور تصوف و معرفت کے لطیف احساسات و مشاہدات کو حسن خوبی سے بیان کرنے میں کمال مہارت حاصل کرگئے۔ یہاں تک کہ ان کے کلام کو رمز عشق اور آشنائے حقیقت نے دو آتشہ بنادیا۔ علامہ اقبال جیسے عظیم شاعر ارمغانِ حجاز میں اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہیں۔

’’عطا کن شور رومی سوزِ خسرو‘‘

گویا خسرو کا سوز و گداز اس قدر متاثر کن تھا کہ علامہ محمد اقبال بھی اس کی تمنا کرتے تھے۔ امیر خسرو کو خواجہ نظام الدین اولیاءؒ محبوب الہٰی سے وہی نسبت تھی جو مولانا روم کو شمس الدین تبریز یا مولانا عراقی کو خواجہ بہاؤ الدین زکریا ملتانی سے تھی۔ علمائے علم و فن کے نزدیک مولانا روم کے ہاں اگر عشق و تصوف کا حسین امتزاج ہے تو امیر خسرو کے ہاں عراقی کی طرح تغزل کا غلبہ ہے۔

بقول مولانا حالی امیر خسرو کی غزل کا موضوع جیسا کہ ظاہر الفاظ سے مفہوم معلوم ہوتا ہے عشق مجازی نہ تھا بلکہ وہ حقیقت کو مجاز کے پردہ میں ظاہر کرتے۔ ان کے ایک ایک لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ عشق و محبت کے رنگ میں شرابور تھے۔ یقیناً یہ سب پیرو مرشد کی کرامت تھی۔

امیر خسرو کی پیدائش کا زمانہ تیرھویں صدی عیسوی کا ہے۔ یہ دور عالم اسلام کے لیے بڑا پرآشوب تھا۔ عباسی خلافت زوال کے آخری مراحل میں تھی۔ اسلامی تہذیب و ثقافت کے مراکز ویران و سنسان ہوتے جارہے تھے۔ ملت اسلامیہ کا شیرازہ بکھر رہا تھا۔ وسط ایشیا میں منگولوں کے ہولناک سائے بڑھتے جارہے تھے۔ مسلمان وسط ایشیا چھوڑ کر برصغیر میں پناہ لینے پر مجبور تھے۔ یہاں سلاطین دہلی کے زیر سایہ دارالسلام قائم ہوچکا تھا جہاں ہر رنگ و نسل کے لوگ امن و سکون سے زندگی بسر کررہے تھے۔ سلاطین دہلی نے منگولوں کے خلاف اور ان کے جملوں کے تدارک کے لیے بہترین حکمت عملی تیار کررکھی تھی۔ ایسے میں ماورالنہر کے ایک ترک قبیلہ لاچین کے سردار امیر سیف الدین اپنے قبیلے کے ہمراہ ہجرت کرکے دہلی کے نزدیک ایک قصبہ پٹیالی میں آباد ہوگئے۔ صاحب شمشیر ہونے کے باعث سلطان التمش کی ملازمت اختیار کرلی۔ آپ کی شادی ایک نومسلم امیر عماد الملک رادت کی بیٹی سے ہوئی۔ اسی متمول گھرانے میں آپ کی (امیر خسرو) پیدائش 1253ء میں ہوئی۔ آپ کا نام ابوالحسن اور لقب یمین الدین تھا۔ خسرو اپنی سخن گوئی کے بارے میں تحفۃ الصغر میں بیان کرتے ہیں کہ

’’میرے دودھ کے دانت ٹوٹ رہے تھے، اشار پھر بھی منہ سے موتیوں کی طرح جھڑتے تھے۔ ‘‘

آپ نے عزۃ الکمال کے دیباچہ میں تحریر کیا ہے کہ آپ ابھی سات برس کے تھے کہ والد نے میدان جنگ میں شہادت پائی۔ اس کے بعد اپنے نانا عماد الملک جو درباری امیر تھے کے یہاں پرورش پانے لگے۔ نانا کے بارے میں وہ لکھتے ہیں کہ وہ ان کے نانا نہیں دوست تھے۔ فیاض نانا کی زیرسرپرستی وہ زندگی کی تلخیوں سے ناآشنا رہے۔

امیر خسرو کی زندگی کا یہ اعجاز تھا کہ ذاتی زندگی میں صوفی منش ہونے کے ساتھ ساتھ بطور شاہی مصاحب پیشہ وارانہ مہارت میں بھی یکتا تھے۔ صاحب دل ہونے کے ساتھ ساتھ عالی دماغ اور معاملہ فہم بھی تھے۔ دُرشت مزاج غیاث الدین بلبن کی مجالس میں آپ کی آمدو رفت رہتی۔ معزالدین کیقباد جیسا رند اور سرمست سلطان آپ کا گرویدہ تھا، جلال الدین خلجی جیسا نیک دل فرماں روا آپ پر فریفۃ تھا۔ علاؤالدین خلجی جیسا سخت گیر حکمران کو آپ کے بغیر چین نہیں ملتا تھا۔ قطب الدین مبارک شاہ خلجی جیسا لاپرواہ سلطان بھی آپ کا گرویدہ تھا۔ غیاث الدین تغلق اور محمد تغلق جیسے بیدار مغز فرماں رواں کے درباروں میں آپ کو محبوبیت حاصل رہی جوان ہوئے تو سلطان غیاث الدین بلبن تخت نشین تھے۔ آپ ان کے بھتیجے کشلوظن جو امرائے دربار میں شامل تھے کے مصاحبِ درباریوں میں شامل ہوگئے۔ یہاں بلبن کے بیٹے بغراخان کی نظر انتخاب آپ پر پڑی وہ آپ کو اپنے ساتھ لکھنوتی (بنگال) لے گیا مگر وہاں کی آب و ہوا راس نہ آئی اور آپ رخصت لے کر واپس دہلی چلے آئے۔ 1280ء میں بلبن کے بڑے بیٹے شہزادہ محمد خان کے دربار سے وابستہ ہوگئے۔ شہزاد محمد خان شعرا و صوفیا کا دلدادہ، فنون لطیفہ کا قدر دان، علم دوست اور سخن شناس شہزادہ تھا۔ آپ پانچ سال اس کے دربار سے منسلک رہے۔ ملتان کی علمی و ادبی اور شعرو سخن کی مجالس کے روح رواں تھے۔ 1285ء میں شہزادہ محمد خان ایک منگول حملے میں شہید ہوگیا۔ آپ بھی گرفتار ہوگئے مگر بمشکل تمام رہائی پائی اور بلبن کے دربار میں پہنچ کر شہزادہ محمد شہید کا پردرد اور حشر انگیز مرثیہ پڑھا جسے فارسی شاعری کا ’’دریتیم‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ شعرالعجم کے مصنف مولانا شبلی نعمانی کے بقول اس مرثیہ سے دربار میں کہرام مچ گیا۔ سلطان بلبن اس قدر رویا کہ صدمے سے چند دن میں انتقال کرگیا۔

آپ نے اپنی عمر میں گیارہ بادشاہوں کی حکومت دیکھی اور سات کی ملازمت اختیار کی۔ سلطان وقت سے آپ کو ملک الشعرا کا خطاب بھی ملا۔ آپ نے بے شمار اصناف سخن میں طبع آزمائی کی۔ خاص طور پر مرثیہ، قصائد اور مثنویاں درباری شاعر کی حیثیت سے مرتب کیں مگر خوشامدی طرز سخن اور فقط تعریف و توصیف سے بلند تر ہوکر مسلم تہذیب و ثقافت اور عوامی طرز معاشرت کو بہت موثر انداز میں پیش کیا۔ ایک اندازے کے مطابق آپ نے چار لاکھ اشعار کہے۔ تصانیف کی تعداد 92 ہے جو فارسی اور اردو کی ابتدائی شکل برج بھاشا یا ہندوی میں لکھی گئی ہیں۔ ان میں تحفۃ الصغر، عزۃ الکمال، بقیہ نقیہ، مثنوی ہشت بہشت، مثنوی قرآن السعدین، مثنوی دیول رانی خضر خان، مثنوی نہ سپہہ، لیلیٰ مجنوں، مفتاح الفتوح، تغلق نامہ، خمسہ نظامی، خزائن الفتوح، مطلع الانوار، افضل الفوائد، خالق باری، جواہر خسروی کافی مشہور ہیں۔ غزل کے پانچ دیوان بھی شامل ہیں۔ تذکرہ و تاریخ نگاری کے اعتبار سے آپ کی مثنوی تصنیف خزائن الفتوح بہت اہم ہے جو تاریخ علائی کہلاتی ہے اور سلطان علاؤالدین خلجی کے عہد سے متعلق ہے۔ آپ نے اپنے پیرو مرشد حضرت نظام الدین اولیاء کے ملفوظات افضل الفوائد کے نام سے جمع کیے جو چشتی سلسلے میں بہت بلند درجہ رکھتے ہیں۔ آپ کی یہ شعری و نثری کاوشیں مسلم عہد رفتہ کی ان مٹ نشانی سمجھی جاتی ہیں۔

تاریخ فیروز شاہی کے مصنف مولانا ضیاالدین برنی امیر خسرو کے ہم عصر اور ہم نشین تھے۔ آپ کے شاعرانہ کمالات کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کرتے ہیں:

’’امیر خسرو قدیم اور نئے سب شاعروں کے خسرو یعنی بادشاہ ہیں۔ جو اختراع، معنی، تصنیفات کی کثرت اور رموز غریب کے اظہار میں اپنا نظیر نہیں رکھتے۔ ‘‘

اس کے ساتھ ساتھ بطور صوفی ان کی روحانی تجلیات کو اس طرح ضبط تحریر میں لاتے ہیں کہ

’’تمام فضل و کمال اور فصاحتِ فن و بلاغت کے ساتھ وہ مستقیم الحال صوفی بھی تھے۔ ان کی عمر کا بیشتر حصہ صوم و صلوٰۃ اور قرآن خوانی میں گزرا۔ وہ مستعدی اور لازمی عبادات میں یکتا تھے اور ہمیشہ روزہ رکھتے تھے۔ وہ شیخ (حضرت نظام الدین) کے خاص مریدوں میں سے تھے۔ میں نے اتنا عقیدت مند مرید کوئی اور نہیں دیکھا۔ عشق و محبت الہٰی سے ان کو پورا حصہ ملا تھا۔ صاحب سماع اور صاحب حال و وجد تھے۔ ‘‘

امیر خسرو کی زندگی کا یہ اعجاز تھا کہ ذاتی زندگی میں صوفی منش ہونے کے ساتھ ساتھ بطور شاہی مصاحب پیشہ وارانہ مہارت میں بھی یکتا تھے۔ صاحب دل ہونے کے ساتھ ساتھ عالی دماغ اور معاملہ فہم بھی تھے۔ دُرشت مزاج غیاث الدین بلبن کی مجالس میں آپ کی آمدو رفت رہتی۔ معزالدین کیقباد جیسا رند اور سرمست سلطان آپ کا گرویدہ تھا، جلال الدین خلجی جیسا نیک دل فرماں روا آپ پر فریفۃ تھا۔ علاؤالدین خلجی جیسا سخت گیر حکمران کو آپ کے بغیر چین نہیں ملتا تھا۔ قطب الدین مبارک شاہ خلجی جیسا لاپرواہ سلطان بھی آپ کا گرویدہ تھا۔ غیاث الدین تغلق اور محمد تغلق جیسے بیدار مغز فرماں رواں کے درباروں میں آپ کو محبوبیت حاصل رہی۔

آپ نے اپنی پیشہ وارانہ اور صوفیا زندگی میں کمال توازن قائم کررکھا تھا۔ وہی توازن جو بال سے باریک پل صراط پر چلنے کے لیے قائم کرنا ہوتا ہے۔ خسرو شاہی ندیم کی حیثیت سے شاہی آقاؤں کو قصیدہ گوئی، مثنوی نگاری، خوش گلوئی، فن موسیقی، بذلہ سنجی اور حاضر جوابی سے خوش کرتے تو دوسری طرف خلوت میں روحانی آقا حضرت نظام الدین اولیاء سے سوز عشق کا درس حاصل کرتے۔ مرشد کے ادنیٰ غلام بن کر منقبت گوئی کرتے، ملفوظات قلمبند کرتے اور مجلس سماع کے روح رواں بن کر شراب معرفت کے جام نوش کرتے۔

سیدالاولیاء کے مصنف امیر خورد کے بقول آپ رات کو اپنے روحانی آقا کے ہمراہ خلوت آرا ہوتے تو دن بھر کے تمام قصے، شاہی انجمن و مجالس کے تمام احوال مرشد کے گوش گزار کرتے۔ اخبارالاخیار کے مصنف شیخ عبدالحق دہلوی تحریر کرتے ہیں کہ امیر خسرو نے درباری وابستگی کے باوجود دنیاوی بودوباش سے خود کو الگ رکھا۔ اسی کا فیض تھا کہ صوفیانہ صفات کی برکات سے آپ کے کلام کو مقبولیت اور قلبی تاثیر عطا ہوئی۔

خسرو کی شاعری سوز عشق کا مظہر ہےجو کبھی عشق الہٰی، کبھی عشق رسول ﷺ ، کبھی عشق مرشد، کبھی عشق کائنات، کبھی عشق فطرت، کبھی عشق وطن، کبھی آقائے شاہی میں ظاہر ہوتا ہے۔ وہ عشق کے دلدادہ تھے مگر عشق انگیز کلام کے باوجود انھوں نے کسی صنف نازک کو اپنا معشوق نہیں بنایا۔ ان کی پاکیزہ زندگی مجازی عشق سے بالکل پاک رہی۔ عشق الہٰی اور عشق رسول ﷺ اُن کا خاص موضوع ہے۔ ان کا ہر دیوان اور ہر مثنوی عشق الہٰی اور عشق رسول ﷺ سے مزین ہے۔ ان روحانی جذبات کو انھوں نےجس شاعرانہ کمال سے پیش کیا ہے۔ اس سے ان کی شاعری میں خاص عارفانہ کیفیت پیدا ہوگئی ہے۔ عرش سے فرش تک خدائے واحد کی حکمرانی کا ذکر ہو یا اس کی لامحدود صفات عالیہ اور اوصاف کمالیہ کا اعتراف ہرجگہ شاعرانہ بلاغت سے کام لیتے ہیں۔ وہ خالق باری سے اپنی عاجزی، بندگی اور عبودیت کا اظہار کرتے ہیں اور عبد و معبود کے تعلقات کو عارفانہ رنگ میں پیش کرتے ہیں۔ مثلاً مثنوی ہشت بہشت کے مندرجہ ذیل اشعار میں دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ میرے سر سے خسروانہ یعنی حکمرانی کا خیال دور کردے۔ میری آنکھوں میں اپنی غلامی کی خاک بھردے، اپنی بے نیاز درگاہ کے علاوہ تمام لوگوں کے دروازے سے بے نیاز کردے۔ تیرے راستے پر چلنے کے علاوہ کسی اور کی طرف رخ نہ کروں۔

دور کن یاد خسروی زسرم
پرکن ز خاک بندگی بصرم

بے نیازم کن از درہمہ کس
جز ز درگاہ بے نیازی و بس

آنچناں رہ بخویش کن بازم
کز تو با دیگرے نہ پردازم

آپ کے ہاں نعتیہ کلام میں والہانہ عشقیہ کیفیات موجود ہیں جو وجد و سرور کا باعث بنتی ہیں۔ امیر خسرو کی یہ مشہور نعتیہ غزل عصر حاضر میں بھی محفل سماع میں گائی جاتی ہے۔

نمی دانم چہ منزل بود، شب جائے کہ من بودم
بہ ہر سو رقصِ بسمل بود، شب جائے کہ من بودم

نہیں معلوم وہ کون سی منزل تھی جہاں گذشتہ رات میں تھا
ہر طرف وہاں رقص بسمل تھا، جہاں گذشتہ رات میں تھا

پری پیکر نگارے، سرو قدے، لالہ رخسارے
سراپا آفت دل بود، شب جائے کہ من بودم

وہ محبوب پری پیکر تھا، اسکا قد سرو کی طرح اور رخسار گل لالہ جیسے تھے
وہ دل کے لیے سراپا آفت تھا، جہاں گذشتہ رات میں تھا

خدا خود میر مجلس بود اندر لامکاں خسرو
محمدؐ شمع محفل بود، شب جائے کہ من بودم

اے خسرو، لامکاں میں خدا خود میر مجلس تھا
حضرت محمدؐ اس محفل کی شمع تھے، جہاں گذشتہ رات میں تھا

آپ کی یہ نعت مبارک اگرچہ آپ کے کسی شعری مجموعہ میں نہیں مگر سینہ بہ سینہ چلی آرہی ہے۔ جس محفل میں سات سو سال بعد بھی یہ نعت گائی جاتی ہے۔ وہ محفل نور محمدی کے نزول سے منور ہوجاتی ہے۔ ہر کس و ناکس پر وجد و حال کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے۔ اس کلام سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ سراپا عجزو مستی تھے اور اپنے مرشد کی طرح عشق رسول ﷺ میں فنا فی الرسول تھے۔

آپ کے شعرو سخن سے اندازہ ہوتا ہے کہ تصوف کا درس عشق الہٰی و عشق رسول ﷺ آپ کے رگ و پے میں سرایت کرچکا تھا مگر تمام تر وارفتگی کے باوجود آپ نے کبھی اتباع سنت اور احترام شریعت کی خلاف ورزی نہ کی۔ آپ تصوف کی اس معراج پر تھے جہاں آپ احترام آدمیت اور فضیلت انسان کے قائل تھے۔ آپ حکمرانوں سے مخاطب ہوکر انھیں تمام طبقات کا خیال رکھنے کی تاکید کرتے تاکہ ایک صحرا نورد اور ایک محل نشین دونوں یکساں طور پر خوش و خرم رہیں۔

آپ کا شعری و نثری سرمایہ حب الوطنی کے جذبات سے لبریز ہے۔ آپ کو خاک و طور اور یہاں کے باسیوں سے گہری رغبت تھی۔ آپ کے نزدیک اسی سرزمین پر خالق باری کی خاص عنایات تھیں۔ یہ خطہ ارضی قابل فخر ہے۔ مثنوی نُہ سپہر (نو آسمان) میں آپ نے قریباً چار سو ابیات میں برصغیر کے رہنے والوں اور ہنرمندوں کے فضائل قلمبند کیے ہیں۔ مثنوی عشقیہ (دیول رانی خضر خان) میں وطن کے پھولوں کا نام لے لے کر ذکر کیا ہے کہ یہاں کی سرزمین خوشبو اور پھولوں سے ہمیشہ گلزار رہتی ہے۔ پھولوں کی طرح حسینانِ ہند کو خوبانِ عالم پر ترجیح حاصل ہے۔ اسی مثنوی میں آپ نے ایک باب ہندوستان کی اسلامی تاریخ پر بھی تحریر کیا ہے کہ یہاں کے علما باعمل ہیں جن کی وجہ سے شریعت کو کمال عزت حاصل ہے اور دہلی بخارا کے ہم پلہ ہیں۔ آپ کا کہنا تھا کہ دہلی میرے لیے بہشتِ بریں ہے جہاں سربفلک عمارات ہیں، جہاں بازاروں میں ہر وقت چہل پہل رہتی ہے۔ جہاں کا دریا بہتا ہوا شفاف پانی ہے۔ جس کے باغوں میں پھلوں کی بہتات ہے اور بہشتی میووں جیسی شیرینی ہے اور جہاں محبوب کی صحبت ہے۔ شاہ جہاں نے دہلی کا لال قلعہ تعمیر کروایا تو اس کے دروازے پر امیر خسرو کا ہی شعر کندہ کروایا۔

اگر فردوس بر روئے زمین است
ہمیں است و ہمیں است وہمیں است

آپ اپنے عہد کی سیاسی، سماجی اور ثقافتی زندگی کا براہ راست حصہ تھے اور اسی حیثیت سے آپ نے اپنے دور کے ثقافتی و سماجی شعور کی بھرپور تصویر کشی کی ہے۔

خسرو عام و خواص دونوں طبقات کے محبوب و مقبول شاعر ہیں۔ قصیدہ گوئی اور مثنوی نگاری میں انھیں درجہ کمال حاصل ہے۔ سلطان دہلی سے ملک الشعرا کا خطاب بھی پایا۔ موسیقار کی حیثیت سے آپ کو نائیک کا خطاب بھی ملا۔ آپ گائیکی کے کئی راگ، راگنیوں کے طرح دار اور طبلہ و ستار کے موجود ہیں۔ آپ کے بعد آنے والے موسیقاروں یہاں تک کہ تان سین نے آپ کے ترتیب دیئے گئے راگنیوں سے استفادہ کیا۔ آپ کو عوامی سطح پر بھی بہت پذیرائی حاصل ہوئی۔ عوام میں آپ کے گیت، دوہے، پہیلیاں، مکرنیاں، کہہ مکرنیاں اور چھند بہت مقبول تھے۔ ان گیتوں میں اردو زبان کے ابتدائی آنارہائے جاتے ہیں۔ آپ اسے ہندوی کا نام دیتے تھے۔ مقامی زبان ہندوی میں آپ نے تقریباً ایک لاکھ اشعار کہے جو وقت کے ساتھ ناپید ہوگئے مگر ابھی بھی کچھ سینہ بہ سینہ چلے آرہے ہیں مثلاً

بہت کٹھن ہے ڈگر پنگھٹ کی
کاہے کو بیاہے بدلیں کہ رانی بیٹی راج کرے

سب سکھیوں میں چادر میری میلی
میں تو پیاسے نین لڑائی آئی رہے

ایسے گیت میں جو آج بھی گائے جاتے ہیں اور 700 سال گزرنے کے باوجود عوامی پذیرائی اور سحر انگیزی قائم رکھے ہوئے ہیں۔

امیر خسرو کا کلام فارسی کی سحر آفرینی اور مقامی ہندی زبان کی شیرینی کا حسین امتزاج ہے۔ وہ اپنی سخن گوئی کی عظمت کو پیرومرشد حضرت نظام الدین اولیاء کی صحبت اور دعاؤں کا اثر قرار دیتے ہیں۔ مرشد کامل سے مکمل ہم آہنگی اور کامل یک رنگی نے خسرو کی شاعری کو بام عروج پر پہنچادیا۔ امیر خسرو کے خیال میں اس رفعت مقام کی وجہ خود پیرو مرشد کی صحبت، توجہ اور تربیت تھی۔ دوسری طرف خود حضرت نظام الدین اولیاؒ امیر خسرو کو اپنا محرم اسرار اور متاع گراں بہا سمجھتے تھے۔ ایک مرتبہ فرمایا کہ روز قیامت خدا جب مجھ سے پوچھے گا کہ نظام الدین ہمارے واسطے دنیا سے کیا لائے۔ عرض کروں گا۔ خسرو کے دل کا سوز الہٰی بسوز سینہ ایں ترک مرا بہ بخشش۔

حضرت نظام الدین اولیاؒ نے اس دار فانی سے عالم بقا کی طرف رحلت فرمائی تو چھ ماہ بعد ہی 1325ء میں امیر خسرو بھی منزل جاناں کے راہی ہوئے اور مرشد کے بائیں مزار دفن ہوئے۔ آج خانقاہ محبوبیؒ مرجع خلائق ہے۔ ہر خاص و عام کے لیے صلائے عام ہے۔ لوگ آتے ہیں رشد و ہدایت اور تالیف قلوب کا درس پاتے ہیں۔ خانقاہ میں محفل سماع جاری رہتی ہے۔ روحانی تجلیات کے نزول میں امیر خسرو کے یہ اشعار عجب سماں باندھتے ہیں۔

آج رنگ ہے ماہا رنگ ہے
ایسو پیر پایا نظام الدین اولیا

جگ اجیاروں میں تو ایسا رنگ اور نہیں دیکھوری
دیس بدیس میں ڈھونڈی پھری ہوں

تورا رنگ من بھایورے
نظام الدین اولیا آج رنگ ہے۔ ماہا رنگ ہے

اور

چھاپ تلک سب چھینی رے
موسے نیناں ملاکے

نیناں ملاکے، سینا لڑاکے، اپنی سی کرلینی رے
موسے نیناں ملاکے

خسرو نظام کے بل بل جاؤں
موہے سہاگن کینی رے

موسے نیناں ملاکے، چھاپ تلک سب چھینی رے
موسے نیناں ملاکے