اداریہ: یوم مئی اور اسلام میں مزدوروں کے حقوق

ایڈیٹر: دختران اسلام

یکم مئی جو یوم مئی کے طور پر معروف ہے، یہ دن صرف ایک تاریخی واقعہ کی یاد نہیں بلکہ جدوجہد، قربانی اور حق کے حصول کی ایک روشن اور درخشندہ علامت ہے۔جب انسان انصاف کے لئے اٹھ کھڑا ہوتا ہے وہ کمزور و ناتواں ہو، وسائل سے محروم ہو، اُسے قدم قدم پر بالادست قوتوں کی متشدد مزاحمت کا سامنا ہو لیکن کامیابی انصاف کے لئے لڑنے والوں کو میسر آتی ہے۔ شکاگو کے مزدوروں نے ظلم و ناانصافی اور استحصال کے خلاف ایک ایسی مثالی جدوجہد کا آغاز کیا جس کا نتیجہ انصاف کے بول بالا کی صورت میں ظاہر ہوا۔ حق کے لئے پرعزم ہونا اور ہر طرح کی قربانی کے لئے تیار رہنا ایک ایسا عزم ہے جس کے مقدر میں کبھی ہار نہیں ہو سکتی، لاتعداد مثالیں تاریخ کے دامن میں پنہاں ہیں کہ جہد مسلسل کی برکت سے ظالم کو سرنگوں ہونا پڑا۔ یہاں یہ امر وضاحت طلب ہے کہ جب بھی کسی طبقہ کے حقوق و فرائض کی بات ہوتی ہے تو ہمارے سامنے صرف 300 سال پرانی تاریخ رکھ دی جاتی ہے اور وہاں سے اخلاقیات کے اصول اخذ کر کے دنیا کو دکھایا جاتا ہے کہ فلاں دور میں فلاں کی قربانی یا فلاں کے تعاون سے عدل کا سورج طلوع ہوا۔ مثال کے طور پر ہمیں بتایا جاتا ہے کہ میگنا کارٹا، امریکہ یا یورپ کے دساتیر سے دنیا کو بنیادی حقوق اور عدل و انصاف کے مثالی اداروں کا تصور ملا مگر منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے 2 جلدوں پر مشتمل ضخیم کتاب ’’دستور مدینہ اور فلاحی ریاست ‘‘کا تصور لکھ کر اُمت مسلمہ کو اُن کی درخشاں تاریخ یاد کروائی کہ دنیا کا پہلا فلاحی تحریری دستور میثاق مدینہ اور پہلی آئینی ریاست، ریاستِ مدینہ ہے۔ انہوں نے اپنی اس تحقیق کے اندر ثابت کیا کہ دنیا آج جن فلاحی تصورات کی پیروی کرتی ہے یہ میگناکارٹا، امریکہ، برطانیہ کے دساتیر یا اقوام متحدہ کے چارٹرز کے ذریعے انسانیت کو نہیں ملے بلکہ یہ فلاحی پیکیج خاتم النبین حضور نبی اکرم ﷺ نے پہلی بار انسانیت کو عطا کئے۔ یہ محض کلمات عقیدت نہیں ہیں بلکہ ایک ایسی زمینی حقیقت ہے کہ جس کے ثبوت 14 سو سال پرانی کتاب ہدایت قرآن مجید میں موجود ہیں اور جن کی تفاصیل حضور نبی اکرمﷺ کی احادیث مبارکہ میں دستیاب ہے، اسی طرح یہ سمجھ لینا ایک تاریخی مغالطہ ہو گا کہ شاید مزدوروں کے حقو ق کا تصور شکاگو کی قربانیوں سے جڑا ہوا ہے حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے 14 سو سال قبل مزدوروں کے حقوق و فرائض کا بلا ابہام تعین کر دیا تھا۔ آپ ﷺ نے ہاتھ کی کمائی کو بہترین کمائی قرار دیا، مزدور کو اللہ کا دوست قرار دے کر اسے عزت و تکریم سے نوازا اور آپﷺ نے حکم فرمایا کہ مزدور کو اس کی مزدوری اس کے پسینہ خشک ہو جانے سے پہلے ادا کر دو، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے جانوروں کے حقوق بھی متعین فرمائے کہ کبھی کسی پر اُس کی بساط سے بڑھ کر بوجھ مت ڈالو اور جو آپ اپنے لئے کھانے پینے میں پسند کرتے ہو وہی پسند آپ کے زیر اثر کام کرنے والے مزدوروں اور ملازمین کی بھی ہونی چاہیے۔

اسلام کا انسانی حقوق کا چارٹر مزدوروں کے حقوق پر بڑی تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آپﷺ کی سیرت طیبہ کا عمیق نظری کے ساتھ مطالعہ کیا جائے اور جو آپ نے مزدوروں کے حقوق سے متعلق احکامات ارشاد فرمائے ہیں اُن پر عمل کیا جائے۔ کامرس کی جدید تعریفیں اس بات کی گواہ ہیں کہ معاشی ترقی کے لئے آجر اور اجیر کے درمیان منصفانہ اور ذمہ دارانہ برتائو معیشت کی ترقی اور فروغ کے لئے خشت اول کا مقام رکھتا ہے۔ آپﷺ نے آجر اور اجیر کے حقوق و فرائض متعین فرمائے تاکہ مسلم معاشرہ انصاف کے ساتھ معاشی سرگرمیاں کا گہوارہ بن سکے۔ مصنوعی مہنگائی، تعلیم اور صحت کی ناکافی سہولیات، روزگار کے مواقعوں میں میرٹ کی خلاف ورزی، جان و مال کا عدم تحفظ یہ وہ سارے معاشرتی عوارض ہیں جو ایک مزدور کو براہ راست متاثر کرتے ہیں اور بطور انسان اس کے حقوق کو محدود کرتے ہیں۔ حکومتوں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ناجائز منافع خوری کو روک کر لاء اینڈ آرڈر کی سہولیات کو مثالی بنا کر، آئین کے مطابق ہر شہری کو تعلیم اور صحت کی سہولتیں فراہم کر کے مزدوروں کو ریلیف دے اور ان کے زندہ رہنے کے حق کو یقینی بنائے۔ مزدوروں اور انسانوں کے بنیادی حقوق سے متعلق مستند مواد کے مطالعہ کے لئے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کی شہرۂ آفاق کتاب ’’اسلام میں انسانی حقوق‘‘ کا ضرور مطالعہ کریں۔