انسان کی شخصیت کسی انسان کے خیالات، جذبات، رویوں اور عادات کا وہ مجموعہ ہے جو اسے دوسروں سے منفرد بناتا ہے۔ یہ انسان کے بولنے، چلنے، اٹھنے بیٹھنے، سوچنے اور ردعمل دینے کا طریقہ ہے۔
انسانی شخصیت کے اہم پہلو
متوازن انسانی شخصیت کے چند اہم پہلوؤں کو سمجھنا ضروری ہے تاکہ متوازن زندگی گزارنا آسان ہوسکے۔
فطری مزاج
سب سے پہلے انسان کا فطری مزاج ہے جو کہ پیدائشی ہوتا ہے۔ کچھ لوگ قدرتی طور پر خاموش، کچھ باتونی، کچھ غصیلے، کچھ نرم دل ہوتے ہیں۔ یہ فطری مزاج وقت کے ساتھ نہیں بدلتا۔ اسے صرف بہتر بنایا جاسکتا ہے۔
کردار
کردار انسان کی اقدار اور اصول ہیں جیسے سچ بولنا، وعدہ نبھانا، انصاف کرنا وغیرہ۔ کردار انسان خود بناتا ہے اور اسی کی وجہ سے لوگ اس پر اعتماد کرتے ہیں۔
رویہ
رویہ، زندگی اور لوگوں کے بارے میں انسان کا نظریہ ہوتا ہے۔ رویے مثبت بھی ہوتے ہیں اور منفی بھی۔ مثبت رویہ رکھنے والا انسان مصائب اور مسائل میں بھی موقع دیکھتا ہے اور اس کے مطابق عمل کرتا ہے۔ رویوں کو بدلا جاسکتا ہے۔ رویے ہی انسانی شخصیت میں سب سے پہلے اور جلد نظر آنے والا حصہ ہوتے ہیں۔
عادات
روزمرہ کے چھوٹے چھوٹے کام جو بار بار دہرائے جائیں وہ عادات بن جاتے ہیں۔ جیسے وقت پر اٹھنا، کتاب پڑھنا، شکر ادا کرنا، ہر کام میں وقت کی پابندی کرنا وغیرہ۔ اچھی عادات سے ہی مضبوط شخصیت بنتی ہے۔
انسانی شخصیت پر اثر انداز ہونے والے عوامل
انسان کی شخصیت پر بہت سے عوامل اثر انداز ہوتے ہیں۔ آیئے ان کا مختصراً جائزہ لیتے ہیں:
خاندان
خاندان سب سے پہلے انسانی شخصیت پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس کا اثر ہر موقع پر انسانی شخصیت سے ظاہر ہوتا ہے۔ کیونکہ والدین کا سلوک اور بچپن کی تربیت ہی انسانی شخصیت کی بنیاد ہوتی ہے۔
تعلیم و ماحول
تعلیمی ادارے، دوست، عزیز و اقارب اور معاشرہ ہماری سوچ پر براہ راست اثر انداز ہوتا ہے اور ہمیں سوچنے کا اندازہ سکھاتا ہے۔
تجربات
انسان ہی اپنی زندگی کے مختلف مراحل میں بے شمار تجربات سے گزرتا ہے۔ ان تجربات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی کامیابی، ناکامی، دکھ اور خوشی انسان کو پختہ کرتے ہیں۔
ذاتی کوشش
انسان کی خود احتسابی اور سیکھنے اور علم حاصل کرنے کی لگن اس کی شخصیت کو بدل دیتی ہے۔
مضبوط شخصیت کی نشانیاں
انسان کی مضبوط شخصیت کی پانچ نشانیاں ہیں جن سے اس کی شخصیت کا حسن اور وقار ظاہر ہوتا ہے۔
1۔ ان میں سب سے پہلی نشانی خوداعتمادی ہے۔ انسان اپنی ہر بات دلیل سے کرتا ہے۔ اس کے الفاظ کا چناؤ اور لہجے کا استحکام اس کی خود اعتمادی کو ظاہر کرتا ہے۔
2۔ مضبوط شخصیت کا انسان غصہ اور خوشی دونوں صورتوں میں خود کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ یہی جذباتی توازن اس کی شخصیت کو پروقار اور متوازن بناتا ہے۔
ورزش، نیند اور متوازن غذا سے انسانی صحت متوازن رہتی ہے۔ چاق و چوبند اور تندرست رہنے سے انسان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور شخصیت جاذب نظر ہوتی ہے۔ اس بارے میں بھی قرآن و حدیث کے واضح احکام موجود ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں مت ڈالو۔ ‘‘ (البقرہ)
جان بوجھ کر صحت خراب کرنا، نشہ کرنا، زیادہ کھانا، سستی کرنا یا وقت پر نہ کھانا۔ یہ سب چیزیں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
3۔ انسان میں جب احساس ذمہ داری ہوتا ہے۔ وہ اپنے فرائض احسن انداز سے نبھاتا ہے۔ اپنی غلطیوں کو تسلیم کرتا ہے اور بہانے نہیں بناتا۔
4۔ دوسروں کی خیر خواہی اور ہمدردی اس کی شخصیت سے ظاہر ہوتی ہے۔ انسان دوسروں کے جذبات کو سمجھتا ہے اور مدد کرتا ہے۔
5۔ ایسا انسان مستقل مزاج ہوتا ہے۔ مشکل وقت میں بھی اپنے اصول نہیں چھوڑتا۔ یہ تمام باتیں مضبوط، مستحکم اور متوازن شخصیت کی عکاس ہوتی ہیں۔ انسان کی شخصیت کا حسن اس کے چہرے سے ظاہر نہیں ہوتا بلکہ اس کے کردار اور رویے سے چھلکتا ہے جن لوگوں کی باتیں دوسروں کو سکون دیں اور جن کی صحبت سے دوسروں کو فائدہ ملے وہ لوگ ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ ان کا اخلاص، عاجزی، وفاداری، خود پربھروسہ، شکر گزاری کی عادت، بردباری، ہمدری اور سچائی سے لوگ متاثر ہوتے ہیں اور ان جیسا بننے کی کوشش کرتے ہیں۔ ابھی ہم شخصیت کو بہتر بنانے کے لیے چند اصول و ضوابط کا ذکر کرتے ہیں جن کا جاننا ہر ایک کے لیے نفع بخش اور مفید ہے۔
شخصیت کو بہتر بنانے کے چند قیمتی اصول
انسان کی شخصیت معاشرے میں اس کے مقام کا تعین کرتی ہے۔ مضبوط اور متوازن شخصیت انسان کا وقار ہے۔ کبھی کبھار ہمیں اپنی شخصیت میں موجود کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنا ضروری ہوتا ہے۔ شخصیت بدلنے کا مطلب اپنی پہچان کھودینا نہیں ہوتا بلکہ اپنے کمزور پہلوؤں کو مضبوط کرنا ہوتا ہے۔ اس کی مثال یوں دی جاسکتی ہے کہ جب پرانے کپڑے تنگ ہوجائیں تو نئے لینے پڑتے ہیں۔ اسی طرح جب پرانی عادتیں اور رویے تنگ کرنے لگیں تو انھیں بدلنا پڑتا ہے تاکہ حقیقی کامیابی کا حصول ممکن ہوسکے۔ کیونکہ اگر آپ اپنی شخصیت کے منفی اور کمزور پہلوؤں پر توجہ نہیں دیتے تو آپ کو بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آپ کی زندگی کی ترقی رک جاتی ہے، معاشرے میں موجود لوگوں سے تعلقات بگڑنے لگتے ہیں۔ حالات بدل جاتے ہیں دوست، رشتہ دار آپ کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ ہر طرف سے نقصان اور بے رغبتی کی وجہ سے انسان زندگی سے اکتا جاتا ہے۔ اس کے اندر منفی خیالات و جذبات کی کثرت ہوتی ہے۔ ذمہ داریوں سے جان چھڑاتا ہے۔ ہمیشہ اپنی انا اور ضد میں رہتا ہے۔ یہ سب باتیں انسان کی شخصیت کے وقار اور حسن میں کمی کا باعث ہوتی ہیں۔ انسانی شخصیت کو بہتر اور نفع بخش بنانے کے لیے چند قیمتی اصول درج ذیل ہیں:
1۔ خود احتسابی
خود احتسابی سے مراد ہے روزانہ اپنے رویوں اور فیصلوں کا جائزہ لینا۔ ان میں موجود کمزوریوں اور خامیوں کو دور کرنا۔ کیونکہ اپنی غلطیوں اور خامیوں کو قبول کرنا ہی بہتری کی پہلی سیڑھی ہے۔ قرآن مجید میں بھی اس بارے میں واضح ہدایت موجود ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل یعنی آخرت کے لیے آگے کیا بھیجا ہے۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک اللہ تمھارے سب اعمال سے باخبر ہے۔ ‘‘
(سورہ الحشر کی آیت نمبر18)
خود احتسابی کے بارے میں ہمارے نبی و رسول حضرت محمد ﷺ کی احادیث بھی ہماری رہنمائی کرتی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
’عقلمند وہ ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور موت کے بعد کے لیے عمل کرے۔ ‘‘ (صحیح ترمذی)
قرآن مجید کہتا ہے کہ اپنے ’’کل کو دیکھ‘‘ اور حدیث مبارکہ کہتی ہے کہ ’’اپنا حساب خود کرلو‘‘۔ جو انسان روز اپنا احتساب کرتا ہے اس کی شخصیت خود بخود سنورتی جاتی ہے۔
2۔ مثبت سوچ اپنانا
شخصیت کو بہتر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ مسائل میں مواقع تلاش کیے جائیں۔ منفی باتوں پر دھیان دینے کے بجائے ان کے حل کے بارے میں غوروفکر کرنا چاہیے اس بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’پس بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے بے شک ہر تنگی کے ساتھ آسانی ہے۔ ‘‘ (الانشراح)
شکر ادا کرنا انسان کی بندگی کا تقاضا ہے۔ خالق کو بھی انسان سے صرف شکر مطلوب ہے۔ شکر گزاری کی عادت انسان کو مطمئن اور پرسکون رکھتی ہے اور انسان کے رزق (مال، علم، صحت اور دیگر نعمتوں) میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اگر تم شکر کرو گے تو میں تمھیں اور زیادہ عطا کروں گا۔ ‘‘ (ابراہیم)
یہ آیت منفی سوچ کو ختم کردیتی ہے اور اس بات کو واضح کرتی ہے کہ جب بھی کوئی مشکل یا مسئلہ ہو تو حل ساتھ ہی آرہا ہوتا ہے۔ اسی طرح صحیح بخاری و مسلم میں حدیث قدسی ہے جس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’’میں اپنے بندے کے گمان کے مطابق ہوتا ہوں۔ ‘‘
یعنی جیسا اللہ سے گمان رکھا جائے ویسا ہی ملتا ہے۔ مثبت سوچ کا سب سے بڑا اصول ہے کہ اچھا گمان رکھیں تو اچھا ہی ملے گا۔
3۔ بااخلاق رہنا اور سچ بولنا
سچ بولنا بہت ہی اعلیٰ اور قیمتی عادت ہے۔ سچ بولنے سے وقتی نقصان ہوسکتا ہے مگر لمبے عرصے میں یہ عادت ہمیشہ انسان کے وقار کا باعث بنتی ہے۔ لوگ اعتماد کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح ہر ایک کے ساتھ اخلاق سے پیش آنا بھی حسن شخصیت کو ظاہر کرتا ہے۔ دوسروں کو عزت دیں کیونکہ کردار ہی انسان کی اصل پہچان ہوتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’اور لوگوں سے نہ پھیر کر بات نہ کر اور زمین پر اکڑ کر نہ چل بے شک اللہ کسی اِترانے والے، شیخی خورے کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘ (لقمان)
اسی طرح نبی کریم ﷺ کا فرمان عالیشان ہے کہ
’’مومنوں میں سب سے کامل ایمان والا وہ ہے جس کے اخلاق سب سے اچھے ہیں۔ ‘‘ (سنن ترمذی)
آیت اور حدیث مبارکہ کے بیان سے پتہ چلتا ہے انسان کو ہر ایک کے ساتھ اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔ تکبر اور اونچی آواز میں بولنا شخصیت کے حسن کو داغ دار کردیتا ہے۔ مضبوط اور متوازن شخصیت کے حصول کے لیے سے بچنا ضروری ہے اور عبادات اپنی جگہ مگر ایمان کا لیول اخلاق و کردار سے ناپا جاتا ہے۔
4۔ دوسروں کی بات غور سے سننا
بات کو سننے کی عادت بولتے رہنے سے زیادہ اچھی ہوتی ہے۔ لوگ ایسے انسان کو پسند کرتے ہیں جو ان کی بات کو عمل و سکون سے سنے اور سمجھے اور حالات کے مطابق بہترین مشورہ دینے والا ہو۔ جب کوئی دوسرا بات کررہا ہو تو اسے درمیان میں نہ ٹوکا جائے۔ اس بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’جو لوگ بات کو غور سے سنتے ہیں پھر اس میں سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں ہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں۔ ‘‘ (الزمر)
حدیث مبارکہ میں بھی اس بارے میں واضح ہدایات موجود ہیں۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے:
’’رسول اللہ ﷺ کا طریقہ تھا کہ جب کوئی آپ ﷺ سے بات کرتا تو آپ ﷺ پورا چہرہ اس کی طرف کرلیتے اور پوری توجہ سے سنتے۔ ‘‘ (صحیح بخاری)
جب کوئی دوسرا بول رہا ہو تو درمیان میں ٹوکنا، اپنی بات گھسیڑنا یا موضوع بدلنا بداخلاقی و بدتہذیبی ہے اور شخصیت کے وقار میں کمی کا باعث ہے۔ اسی لیے قرآن و حدیث میں بھی اس چیز سے منع کیا گیا ہے کیونکہ جو انسان سننا سیکھ جاتا ہے وہ آدھے جھگڑے ختم کرلیتا ہے۔
5۔ وقت کی پابندی
وقت کی قدر کرنے والا انسان ہمیشہ کامیاب ہوتا ہے۔ وقت کی پابندی قدرت کا قانون ہے۔ وقت کی پابندی کرنے والے کو بڑے بڑے مواقع ملتے رہتے ہیں جس سے شخصیت پراعتماد اور پروقار ہوتی ہے۔ وقت کی پابندی کے بارے میں بھی قرآن و حدیث کی تعلیمات واضح ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’زمانے کی قسم بے شک انسان خسارے میں ہے سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے۔ ‘‘ (العصر)
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وقت کی قسم اٹھائی ہے جس چیز کی قرآن میں قسم اٹھائی جائے وہ بہت قیمتی ہوتی ہے۔ وقت ضائع کرنا ہی اصل خسارہ ہے اور وقت کی پابندی اصل کامیابی ہے۔ حدیث مبارکہ میں بھی وقت کی پابندی کرنے سے متعلق رہنمائی دی گئی ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے:
’’قیامت کے دن بندے کے قدم نہیں ہٹیں گے جب تک اس سے اس کی عمر کے بارے میں نہ پوچھ لیا جائے کہ کہاں گزاری۔ ‘‘ (سنن ترمذی)
یعنی انسان کی زندگی کے لیے ایک ایک لمحے کے بارے میں پوچھا جائے گا اور وقت کی پابندی کرنے والے ہی کامیاب ہوں گے۔
6۔ علم کا حصول جاری رکھیں
علم حاصل کرنا ہر مردوعورت پر فرض ہے۔ اس لیے رسمی وغیر رسمی تعلیم کا حصول لازمی جاری رہنا چاہے۔ کتابیں پڑھنے اور نئی نئی مہارتیں سیکھنے سے انسان باشعور اور بااعتماد ہوتاہے اور باشعور شخصیت ہمیشہ پرکشش لگتی ہے۔ اپنی شخصیت کے وقار کے لیے علم کا حاصل کرنا انتہائی ضروری ہے۔ قرآن و حدیث میں اس کی رغبت دلائی گئی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ
’’کہہ دیجیے کیا برابر ہیں جاننے والے اور نہ جاننے والے۔ ‘‘ (الزمر)
’’اللہ تم میں سے ایمان والوں کے اور علم والوں کے درجے بلند کردے گا۔ ‘‘ (المجادلہ)
حدیث مبارکہ میں ہے کہ
’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ ‘‘ (صحیح ابن ماجہ)
بات کو سننے کی عادت بولتے رہنے سے زیادہ اچھی ہوتی ہے۔ لوگ ایسے انسان کو پسند کرتے ہیں جو ان کی بات کو عمل و سکون سے سنے اور سمجھے اور حالات کے مطابق بہترین مشورہ دینے والا ہو۔ جب کوئی دوسرا بات کررہا ہو تو اسے درمیان میں نہ ٹوکا جائے۔ اس بارے میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
’’جو لوگ بات کو غور سے سنتے ہیں پھر اس میں سے بہترین بات کی پیروی کرتے ہیں ہی وہ لوگ ہیں جنھیں اللہ نے ہدایت دی اور یہی عقل والے ہیں۔ ‘‘ (الزمر)
عبادات کی طرح علم سیکھنا بھی فرض قرار دیا گیا ہے۔ اس کی وجہ سے انسان کی شخصیت سنورتی ہے۔ علم دنیا و آخرت میں کامیابی کا ضامن ہے۔ قرآن کی پہلی وحی کا ہر پہلا لفظ بھی اقراء ہے۔ جس کا مطلب ہے پڑھو تاکہ دونوں جہان میں فلاح پاؤ۔
7۔ شکر گزاری اختیار کرنا
شکر ادا کرنا انسان کی بندگی کا تقاضا ہے۔ خالق کو بھی انسان سے صرف شکر مطلوب ہے۔ شکر گزاری کی عادت انسان کو مطمئن اور پرسکون رکھتی ہے اور انسان کے رزق (مال، علم، صحت اور دیگر نعمتوں) میں اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ ’’اگر تم شکر کرو گے تو میں تمھیں اور زیادہ عطا کروں گا۔ ‘‘ (ابراہیم)
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شکر کرنا ہماری نعمتوں میں اضافہ کرتا ہے۔ اس لیے شکر گزار رہنا چاہیے۔ ہر اس چیز پر جو اللہ نے عطا کی ہو چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو۔ شکر کرنا نعمت کو بڑھادے گا۔ اسی طرح حدیث نبوی ﷺ ہے کہ
’’جو لوگوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ اللہ کا بھی شکر ادا نہیں کرتا۔ ‘‘ (سنن ترمذی)
ان احکام قرآن و سنت سے پتہ چلتا ہے کہ شکر گزاری انسانی شخصیت کو مضبوط بناتی ہے اور شکایت و ناشکری والا دل ہمیشہ خالی رہتا ہے اور اس کا شخصی وقار کم ہوجاتا ہے۔ شکر گزار انسان کا لہجہ نرم اور طبیعت مطمئن ہوتی ہے۔ شخصیت میں وقار اور ٹھہراؤ ہوتا ہے جو دوسروں کو اس کی طرف متوجہ کرتا ہے۔
جسمانی صحت کا خیال رکھنا
ورزش، نیند اور متوازن غذا سے انسانی صحت متوازن رہتی ہے۔ چاق و چوبند اور تندرست رہنے سے انسان کے اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے اور شخصیت جاذب نظر ہوتی ہے۔ اس بارے میں بھی قرآن و حدیث کے واضح احکام موجود ہیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اور اپنے آپ کو اپنے ہاتھوں ہلاکت میں مت ڈالو۔ ‘‘ (البقرہ)
جان بوجھ کر صحت خراب کرنا، نشہ کرنا، زیادہ کھانا، سستی کرنا یا وقت پر نہ کھانا۔ یہ سب چیزیں اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالنا ہے۔
’’اور کھاؤ پیو اور اسراف نہ کرو بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘ (الاعراف)
یہ صحت کا سب سے اہم اصول ہے حد سے زیادہ کھانا پینا صحت کو تباہ کردیتا ہے۔ موٹاپا، بدہضمی یہ سب بیماریاں اسراف کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ حدیث مبارکہ میں بھی جسمانی صحت کی اہمیت بیان ہوئی ہے۔ ارشاد نبوی ﷺ ہے:
1۔ ’’دو نعمتیں ایسی ہیں جن کے بارے میں اکثر لوگ دھوکے میں رہتے ہیں صحت اور فراغت۔ ‘‘ (صحیح بخاری)
2۔ ’’طاقتور مومن اللہ کے نزدیک کمزور مومن سے بہتر اور زیادہ محبوب ہے۔ ‘‘ (صحیح مسلم)
یہ وہ چند قیمتی اصول ہیں جنھیں اپنا کر انسان اپنی شخصیت کو پروقار اور خوبصورت بناسکتا ہے۔