بطور مسلمان ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہماری زندگی کا مقصد اور ہمارا حتمی ہدف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔ ہماری زندگی کا اصل مقام یہ ہے کہ ہم سختی اور آسانی، ہر حال میں مستقل مزاجی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے عبادت گزار بندے بن کر رہیں۔ یہ عبادت مختلف شکلیں اختیار کرتی ہے؛ روایتی شکلوں میں نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج وغیرہ شامل ہیں جبکہ غیر روایتی شکلوں میں انسانیت کی خدمت، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا (خواہ وہ مالی خرچ ہو یا اپنے قیمتی وقت، دولت اور وسائل کی قربانی)، اللہ کی رضا کے لیے علم حاصل کرنا، کسی کے ساتھ مہربانی اور خوش اخلاقی سے پیش آنا یا کسی ضرورت مند کی مدد کرنا شامل ہے۔ مختصر یہ کہ بطور مسلمان ہمارا مقصدِ زندگی بالکل واضح ہے اور وہ اللہ کی بندگی کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْاِنْسَ اِلَّا لِیَعْبُدُوْنِ
(الذاریات: 56)
’’اور میں نے جنّات اور انسانوں کو صرف اسی لیے پیدا کیا کہ وہ میری بندگی اختیار کریں۔ ‘‘
قرآنِ کریم کی یہ آیت ہماری تخلیق کے مقصد کو واضح کرتی ہے کہ ہم اس دنیا میں مال و دولت، وسائل، طاقت، رتبہ یا شہرت اکٹھا کرنے کے لیے نہیں آئے، بلکہ ہمارے وجود کا واحد مقصد اللہ کی عبادت ہے۔ اسے ہم "ریورس انجینئرنگ" (معکوس ترتیب) کہتے ہیں۔ ہمیں یہاں کیوں بھیجا گیا ہے ہم یہ سمجھنے کی کوشش اس لیے کرتے ہیں تاکہ ہم اپنا مقصد اور حتمی ہدف سمجھ سکیں۔ ہم اپنے وجود کی وجہ تلاش کرتے ہیں، ہم یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ اللہ نے ہمارے اندر اپنی روح کیوں پھونکی ؟
اس دنیا میں زندگی کا مقصد تلاش کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ ہم یہ سمجھیں کہ ہمارے لیے اللہ کا "تقدیری منصوبہ" کیا ہے؟ یہ منصوبہ ہر فرد کے لیے منفرد ہوتا ہے۔ اگر ہم اس منصوبے اور اپنے لیے اللہ کی رضا کو سمجھنے اور اسے جاننے کا راستہ پا لیں، تو گویا ہم نے زندگی کا مقصد جان لیا۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ جب اللہ تعالیٰ ہمارے لیے کوئی منصوبہ بناتا ہے تو اس میں "حکمتِ الٰہی" چھپی ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ اس منصوبے کے ہر قدم پر ہمیں سکون ملے، ہر قدم پر آسانی یا اطمینان میسر ہو۔ یہ بھی ضروری نہیں کہ اس منصوبے میں ہمارے امیر بننے، طاقتور یا مشہور و معروف ہونے کا راستہ موجود ہو۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اللہ کے منصوبے کے مطابق سفر کر رہے ہوں لیکن ہمارے مالی حالات اچھے نہ ہوں، ہم تکلیف میں ہوں، ہماری صحت خراب ہو، یا ہمیں کسی مالی نقصان یا خاندان کے کسی فرد کی جدائی کا صدمہ جھیلنا پڑے۔
اگر ہم نقصان اٹھا رہے ہیں، یا آرام میں نہیں ہیں، یا پریشان ہیں تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اللہ کے پاس ہمارے لیے کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے پاس ہمارے لیے ایک منصوبہ ہے، اس نے ہمارے لیے ایک حتمی منزل مقصود کر رکھی ہے۔ جب اللہ کسی کے لیے کچھ ارادہ فرماتا ہے، تو وہ ہمیشہ اس کی بہتری اور بھلائی کے لیے ہوتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ ہمیں وہ مثبت نتیجہ ابھی نظر نہ آ رہا ہو، لیکن وہ مثبت نتیجہ سرنگ کے آخری سرے پر موجود ہے۔
اللہ تعالیٰ کے ہر منصوبہ میں کوئی نہ کوئی حکمت چھپی ہوتی ہے۔ ضروری نہیں کہ اس منصوبے کے ہر قدم پر ہمیں سکون ملے۔ ہو سکتا ہے کہ ہم اللہ کے منصوبے کے مطابق سفر کر رہے ہوں لیکن ہمارے مالی حالات اچھے نہ ہوں اورہم تکلیف میں ہوں۔۔۔
مسلمانوں اور مومنوں کے لیے زندگی کا مقصد یہی ہے کہ اپنے لیے اللہ کی رضا اور اس کے منصوبے کو تلاش کرنا، اور پھر اطمینان و خوشی کے ساتھ خود کو اس منصوبے کے سپرد کر دینا۔ جب یہ مقصدِ حیات ہو تو ہم شکایت نہیں کرتے کہ "اے اللہ! تو نے مجھے اس طرح کی صحت، مال و دولت، شہرت، سہولیات اور پہچان کیوں نہیں دی جو دوسروں کے پاس ہے؟"وہ کبھی تنقید نہیں کرتے اور نہ ہی اللہ کے منصوبے پر بے چین ہوتے ہیں بلکہ وہ سکون میں ہوتے ہیں؛ وہ اس منصوبے کو اطمینان اور خوشی کے ساتھ قبول کرتے ہیں کہ ہم ہر اس چیز کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہیں جو ہماری راہ میں آئے گی کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے رب اور پرورش کرنے والے نے یہ ہمارے لیے طے کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کی حکمت ہر شے کو کنٹرول کرتی ہے اور ہماری بہتری اور مثبت نتیجہ کے لیے ہر چیز کا تعین کرتی ہے۔ چنانچہ سچے مومنین اور اللہ کی رضا پر راضی رہنے والے ہمیشہ مطمئن، خوش اور پرسکون رہتے ہیں۔
لوگوں میں سے ایک گروہ ایسا ہے جو اس دنیا، اس کی آسائشوں، تعیشات، مال کی فراوانی، طاقت، شہرت، نام و نمود اور رتبے کے حصول میں مصروف ہے۔ لوگ کارپوریٹ سیڑھی چڑھنے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں، اپنے ارد گرد کی اندھی دوڑ (Rat Race) میں جکڑے ہوئے ہیں اور اسی طرف بھاگ رہے ہیں جس طرف یہ دنیا انہیں لے جا رہی ہے۔
لیکن چنیدہ لوگوں کا دوسرا گروہ بھی ہے، جنہوں نے اس اندھی دوڑ کو چھوڑ دیا ہے۔ ان لوگوں نے خود کو ان چیزوں سے آزاد کر لیا ہے جن میں یہ دنیا جکڑ لیتی ہے۔ وہ ان چیزوں کے پابند نہیں رہے جو دنیا انہیں مال، عیش و عشرت، طاقت اور رتبے کی صورت میں ڈکٹیٹ کرتی ہے۔ انہوں نے خود کو آزاد کر لیا ہے۔ یہ چنیدہ لوگ وہ ہیں جو اس دنیا کے لیے خود کو نہیں بیچتے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، بلکہ وہ اس دنیا کو چھوڑ دیتے ہیں، اس دنیا کا سودا کر لیتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے طلبگار رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَ مِنَ النَّاسِ مَنْ یَّشْرِیْ نَفْسَهُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ ؕ وَ اللّٰهُ رَءُوْفٌۢ بِالْعِبَادِ.
(البقرہ، 2: 207)
’’ اور (اس کے برعکس) لوگوں میں کوئی شخص ایسا بھی ہوتا ہے جو اللہ کی رضا حاصل کرنے کے لیے اپنی جان بھی بیچ ڈالتا ہے، اور اللہ بندوں پر بڑی مہربانی فرمانے والا ہے۔ ‘‘
یہ لوگ اس دنیا کو نہیں خریدتے بلکہ وہ اس دنیا کو بیچ دیتے ہیں اور اللہ کی طرف نکل کھڑے ہوتے ہیں؛ وہ عبادت، صدقہ و خیرات، خدمتِ خلق، حصولِ علم اور بہترین اخلاق و کردار کے ذریعے اللہ کی رضا خریدتے ہیں۔ ایک مسلمان اور مومن کا اصل ہدف یہی ہے کہ اس دنیا کو بیچ دے، اپنے آپ کو ان زنجیروں سے چھڑا لے جو اسے اس دنیا میں جکڑے ہوئے ہیں، دنیاوی وابستگیوں سے خود کو الگ کر لے اور اپنے رب سے اپنا تعلق جوڑ لے۔
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی رضا کی تلاش کی اہمیت کو اجاگر فرمایا ہے کہ اللہ کی رضا کی خاطر اپنی جائیداد، اپنا مال اور اپنی ملکیت تک قربان کرنا گھاٹے کا سودا نہیں ہے۔ ایک مسلمان اور مومن کے لیے سب سے اعلیٰ مقصد اور سب سے بڑی کامیابی یہی ہے کہ وہ اللہ کی رضا حاصل کر لے اور پھر اللہ کے منصوبے، اس کی مرضی اور اس کے حکم پر راضی ہو جائے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَرِضْوَانٌ مِّنَ ﷲِ اَکْبَرُ
(التوبہ: 72)
’’اور (پھر) اللہ کی رضا اور خوشنودی (ان سب نعمتوں سے) بڑھ کر ہے (جو بڑے اجر کے طور پر نصیب ہو گی)۔ ‘‘
افسوس کی بات ہے کہ اس دنیا نے ہمیں اپنے اندر جذب کر لیا ہے، اس نے ہمیں اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور ہم اپنی سمت کھو بیٹھے ہیں۔ ہماری نظر میں سب سے بڑی کامیابی یہ ہے کہ ہم تعلیم حاصل کریں، اچھی ملازمت پائیں، معقول گزر بسر کریں اور اپنے خاندان کے ساتھ آرام سے رہیں۔ کامیابی صرف پیسے کا نام نہیں ہے۔ کامیابی کا تعین شہرت یا رتبہ سے نہیں ہوتا۔ کامیابی؛ پہچان، اثر و رسوخ، عیش و عشرت یا آرام سے طے نہیں ہوتی بلکہ ایک مسلمان کے لیے کامیابی اللہ تعالیٰ کی رضا، اس کے احسان اور اس کے "رضوان" کو پا لینے میں ہے۔
وہ لوگ جنہوں نے اس دنیا میں سب کچھ حاصل کر لیا، جنہوں نے 50 سے 60 سال مال و دولت، جائیدادیں، مالی کامیابیاں، اثاثے، شہرت اور اثر و رسوخ اکٹھا کرنے میں گزار دیے، وہ اپنے آخری ایام اور آخری لمحات میں پچھتاوے کا شکار ہوتے ہیں۔ وہ نہایت کامیاب دنیاوی زندگی گزارنے کے باوجود یہ سوچتے ہیں کہ "میری زندگی میں کچھ کمی ہے۔ دراصل وہ کمی مقصدِ حیات کی تلاش میں ناکامی کی کمی ہے جو انھیں پشیمان و نادم کردیتی ہے۔
اگر ہم یہ انجام نہیں چاہتے، اگر ہم یہ نہیں چاہتے کہ اپنی زندگی کے آخری سالوں، مہینوں، دنوں اور لمحوں میں کسی ایسی چیز کے لیے تڑپیں جو ہم خود گم کرچکے ہوں، تو ہمیں اپنی زندگی ابھی بدلنی ہوگی۔ ہمیں ابھی اپنی سمت درست کرنی ہوگی۔ ہمیں اپنے قطب نما (Compass) کا رخ ابھی بدلنا ہوگا۔ اپنے قطب نما کا رخ اس دنیا سے ہٹا کر آخرت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی طرف موڑنا ہوگا۔ اگر ہم یہ ابھی کر لیں، تو اپنے آخری لمحات میں (وہ جب بھی ہوں) اللہ کے فضل سے ہمیں وہ تڑپ نہیں ہوگی، بلکہ ہمیں یہ اطمینان ہوگا کہ اللہ نے ہمیں اس دنیا میں شاید اتنا زیادہ نہ دیا ہو، لیکن امید ہے کہ اللہ اپنے فضل سے ہمیں آخرت میں سب کچھ عطا فرمائے گا۔
اللہ تعالیٰ کی رضا دنیا تو کجا جنت اور اس کے اندر موجود تمام نعمتوں سے بھی بڑی نعمت ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ فرماتے ہیں کہ جب جنت والے جنت میں داخل ہو چکے ہوں گے اور وہاں اپنی آسائشوں اور آرام میں رہ رہے ہوں گے اور ان نعمتوں سے لطف اندوز ہو رہے ہوں گے جو ان کے بہترین اور نیک اعمال کے بدلے میں انھیں عطا کی گئیں تو اللہ انھیں مخاطب کرتے ہوئے فرمائے گا:
اے اہلِ جنت!"کیا تم راضی ہو؟ کیا تم خوش ہو؟" وہ عرض کریں گے: "اے اللہ! ہم بھلا کیوں خوش نہ ہوں گے، جبکہ تو نے ہمیں وہ کچھ عطا فرمایا ہے جو تو نے اپنی مخلوق میں سے کسی اور کو نہیں دیا۔ تو نے ہمیں جنت عطا فرمائی، ہم کیسے خوش نہ ہوں؟" اللہ تعالیٰ فرمائے گا: "کیا میں تمہیں اس سے بھی بڑی چیز عطا نہ کروں؟" اہلِ جنت جو جنت کی عظیم نعمتوں کا مشاہدہ کررہے ہوں گے، وہ حیران ہوکر جواب دیں گے: اے اللہ! جنت سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے؟
(اللہ فرمائے گا: ) "اے اہلِ جنت! میں تمہیں جنت سے بھی بڑی چیز عطا کروں گا اور وہ میری 'رضوان' ہے، میں تمہیں اپنی خوشنودی اور رضا عطا کرتا ہوں، یہ ان تمام چیزوں سے بڑھ کر ہے جو تم جنت میں پاتے ہو۔
کچھ ایسی عبادات ہیں جن کی قبولیت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن کچھ ایسے اعمال ہیں جو نہ صرف قبول ہوتے ہیں بلکہ اللہ کی رضا کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔۔۔
پس اللہ تعالیٰ کی رضا جنت اور اس کے اندر موجود ہر چیز سے بھی بڑی ہے لیکن اللہ کی اس "رضوان" کی حقیقی قدر و قیمت کا اندازہ کرنے کے لیے ہمیں جنت تک پہنچنا ہوگا۔
ہماری زندگی کا مقصد اور حتمی ہدف اللہ کی عبادت کرنا، اللہ تعالیٰ کی رضا کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا اور پھر اللہ کی رضا اور اس کا "رضوان" حاصل کرنا ہے اور اللہ کے فیصلے اور اس کے منصوبے پر خوش رہنا ہے۔ یہی انبیاء اور رسل علیہم السلام کا راستہ ہے۔ اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں حضرت موسیٰe کا ذکر فرماتا ہے کہ جب حضرت موسیٰe نے بنی اسرائیل کو فرعون سے نجات دلوا دی اور سمندر کو عبور کرکے وادیِ سینا میں پہنچے تو یہاں قیام کے دوران حضرت موسیٰe اللہ سے کلام کے لیے کوہ طور پر تشریف لے گئے۔ اس موقع پر انھوں نے عرض کیا:
وَعَجِلْتُ اِلَیْکَ رَبِّ لِتَرْضٰی
(طہ: 84)
’’اور میں نے (غلبۂ شوق و محبت میں) تیرے حضور پہنچنے میں جلدی کی ہے اے میرے رب! تاکہ تو راضی ہوجائے۔ ‘‘
اس میں ہمارے لیے پیغام ہے کہ اگر ہم اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کا "رضوان" حاصل کرنا چاہتے ہیں اور یہ چاہتے ہیں کہ اللہ ہم سے راضی ہو جائے، تو ہمیں نہ صرف خود کو اس دنیا سے الگ کرنا ہوگا بلکہ یہ کام بڑی عجلت میں کرنا ہوگا۔ ہمیں دنیا (کی محبت) سے بھاگنا ہوگا اور خود کو اس سے اس طرح کاٹنا ہوگا جس میں تیزی اور رفتار ہو۔ اس معاملے میں ہمیں دیر نہیں کرنی کیونکہ کون جانتا ہے کہ ہم کب تک زندہ رہیں گے؟ پس جب ہم ایک خاص رفتار سے اللہ کی طرف جاتے ہیں تو اللہ اپنی شان اور فضل کے مطابق اس سے بھی زیادہ تیزی سے ہماری طرف متوجہ ہوتا ہے۔
اللہ کی رضا کے لیے اس کی طرف جلدی کرنا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے دوڑنا انبیاء کرام علیہم السلام کی سنت اور ان کا طریقہ ہے۔
جب ہم اللہ کی رضا پا لیتے ہیں اور اللہ ہم سے راضی ہو جاتا ہے، تو زندگی کا ہر نقصان اور ہر اتار چڑھاؤ قابلِ برداشت ہو جاتا ہے۔ اب ہم زندگی کی مشکلات، آزمائشوں اور امتحانات میں ثابت قدم رہ سکتے ہیں۔
عبادات کی قبولیت اور رضائے الہٰی میں فرق
حضور نبی اکرم ﷺ ہمیشہ یہ دعا مانگتے تھے:
"اے اللہ! میں تجھ سے ان اعمال کا سوال کرتا ہوں جو تجھے پسند ہوں اور جن سے تو ہم سے راضی ہو جائے۔ اے اللہ! ہم سے راضی ہو جا"۔
حضور نبی اکرم ﷺ ان اعمال کے لیے دعا کر رہے ہیں جو اللہ کو راضی کر دیں۔ یہ ایک بہت ہی مرکزی نکتہ ہے؛ اگرچہ تمام عبادات قبول ہوتی ہیں اور ان کا اجر ملتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر عبادت ہمیں اللہ کی رضا بھی عطا کرے کیونکہ عبادات کی درجہ بندی کا اپنا ایک نظام (Hierarchy) ہے۔ ممکن ہے کہ ہم نفل نماز پڑھ رہے ہوں، لیکن ہمارے دروازے کے باہر، ہماری گلیوں، گاؤں یا شہر میں کچھ لوگ غریب اور ضرورت مند ہوں۔ تو کیا اللہ اس نفل نماز سے لازمی طور پر راضی ہوگا یا وہ یہ چاہے گا کہ ہم گلیوں میں نکلیں اور بھوکوں کو کھانا کھلائیں۔۔۔ ؟ اگر کچھ یتیم ایسے ہیں جن کا کوئی ٹھکانہ نہیں، جنہیں معاشرے میں سکون میسر نہیں اور دوسری طرف ہم دن رات مسلسل روزے رکھنا شروع کر دیں، تو کیا اللہ ہمارے روزے رکھنے کے عمل سے لازمی طور پر راضی ہوگا؟ وہ ہماری اِن عبادات کو قبول تو کر سکتا ہے کیونکہ یہ اس کا فضل اور رحمت ہے، لیکن ہو سکتا ہے کہ یہ عمل اس کی رضا اور "رضوان" کا ذریعہ نہ بنے۔ کیونکہ اس وقت کا تقاضا یہ ہے کہ باہر نکلیں اور کسی ضرورت مند اور یتیم کی مدد کریں۔
اگر ہمارے کسی مرکز علم یا مسجد میں علم کے حلقے قائم ہیں، جہاں اساتذہ حکمت کی تعلیم دے رہے ہیں اور دوسری طرف ہم اپنا وقت گھر میں تسبیح پڑھنے یا نفل پڑھنے میں گزار رہے ہیں، تو ہو سکتا ہے کہ یہ قبول ہو جائے، لیکن کیا یہ اللہ کی رضا حاصل کرنے کا طریقہ ہے؟ اس وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم باہر نکلیں اور علم حاصل کریں۔ جب ہم علم حاصل کرتے ہیں تو ہماری سوچ میں وسعت آتی ہے، دانائی بڑھتی ہے اور دین کے معاملات میں پختگی اور تجربہ بڑھتا ہے۔ پس محض نفل پڑھنا یا تسبیح کرنا شاید اس وقت کا سب سے بڑا تقاضا نہ ہو۔
کچھ ایسی عبادات ہیں جن کی قبولیت کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا لیکن کچھ ایسے اعمال ہیں جو نہ صرف قبول ہوتے ہیں بلکہ اللہ کے "رضوان" اور اس کی رضا کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جسے ہمیں اپنی زندگی میں تلاش کرنا چاہیے اور اسی کے حصول کی کوشش کرنی چاہیے۔
جو شخص اس کی رضا تلاش نہیں کرتا، اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ لازمی طور پر بدکار یا گناہ گار ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کچھ لوگ پانچ وقت کی نماز پڑھتے ہوں، روزے رکھتے ہوں، صدقہ دیتے ہوں اور اچھے انسان ہوں، لیکن وہ لوگ جو ان کے ساتھ ساتھ اللہ کی "رضا" بھی تلاش کرتے ہیں، وہ بنیادی فرائض تو پورے کرتے ہی ہیں لیکن وہ اپنے معمول سے ہٹ کر ایسے کام کرتے ہیں جن سے دوسروں کی مدد ہو، وہ اپنی مقامی کمیونٹی اور معاشرے میں سرگرم ہوتے ہیں، علم حاصل کرتے ہیں، غریبوں، ضرورت مندوں اور یتیموں کی مدد کرتے ہیں۔ وہ ان کاموں کے ذریعے اللہ کی رضا تلاش کرتے ہیں۔ وہ یہ کام بھی کرتے ہیں جو نہ صرف عبادت ہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی کا ذریعہ بھی ہیں۔
کبھی کبھی کچھ عبادات "ذاتی مفاد" کے لیے ہوتی ہیں، جنہیں "خود غرضانہ" کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں اس کا اجر ملے گا لیکن کچھ عبادات "بے غرض" (Selfless) ہوتی ہیں۔ جو عبادات صرف اپنی ذات کے لیے ہوں، وہ صرف ہمیں فائدہ دیتی ہیں، لیکن جو عبادات بے غرض ہوں، ان کے پیچھے اللہ کی رضا کے علاوہ کچھ اور مقصد نہ ہو تو ایسی عبادات نہ صرف ہمیں فائدہ دیتی ہیں بلکہ دوسروں کے لیے بھی سود مند ہوتی ہیں۔ یہی بے غرض اعمال و عبادات اللہ کی رضا اور اس کے قرب کا ذریعہ بنتی ہیں۔
رضائے الہٰی کا ناگزیر تقاضا: امتحان میں کامیابی
سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ بات درست ہے کہ زندگی کا مقصد عبادت، اس کی رضا کے سامنے سر جھکانا اور اس کی خوشنودی حاصل کرنا ہے لیکن اس بات کی کیا ضمانت ہے کہ ہم صحیح راستے پر ہیں؟
یاد رکھیں! ہم کسی بھی چیز کی حقیقی قدر و قیمت اسے آزما کر یا اس کا امتحان لے کر ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اگر ہم تمام مہارتوں کو نکھارنے اور ان خصوصیات کو پیدا کرنے کی مشق کرتے رہتے ہیں لیکن ہمارا امتحان ہی نہ لیا جائے، تو ایسی مشق کا کیا فائدہ؟ ایک فٹ بال یا کرکٹ کا کھلاڑی جو کئی دن گراؤنڈ میں ٹریننگ کرتا ہے، اچھا کھیلتا ہے لیکن جب میچ کا دن آتا ہے تو وہ کوئی کارکردگی نہیں دکھا پاتا۔ تو اس تمام مشق کا کیا فائدہ؟
اپنے آپ کو یہ یقین دلانا بہت آسان ہے کہ "میں وہ ہوں جو صرف اللہ کی رضا اور اس کی خوشنودی چاہتا ہوں، میں اللہ سے بہت راضی ہوں، مجھے کوئی چیز متزلزل نہیں کر سکتی، اللہ نے مجھے دیا یا نہیں دیا، میں اس پر مکمل سکون میں ہوں"۔ لیکن اس بات کی حقانیت کو جاننے کے لیے امتحان ضروری ہے۔ کسی کھیل میں آزمائے بغیر ہمیں کیسے پتہ چلے گا کہ ہم نے جو مشق کی ہے وہ کارآمد بھی ہے یا نہیں؟
یہی وجہ ہے کہ وہ شخص جس نے واقعی اللہ کی رضا کو پا لیا ہے اور اللہ کے ساتھ اس کا تعلق "رضا" اور "رضوان" کا ہے، اس کا امتحان اس کے اس رویے سے ہوتا ہے کہ وہ اللہ کی راہ میں "انفاق" (دینے) کے معاملے میں کیسا ہے؟ "انفاق" کا مطلب صرف جیب سے پیسہ یا مال و دولت دینا نہیں ہے، بلکہ اس کا مطلب اپنا وقت، اپنے وسائل اور اپنی ذہنی توانائی دین کی خدمت، اپنی مسجد، کمیونٹی، خاندان اور دوستوں کی خدمت کے لیے دینا بھی ہے۔ صدقہ تو اس کا ایک پہلو ہے۔ اگر انفاق کوصرف مال و دولت تک محدود کردیا جائے تو اس شخص کا کیا ہوگا جس کی جیب میں کچھ نہیں؟ کیا اللہ اسے صدقے کے اجر سے محروم کر دے گا؟ نہیں، بلکہ اس کے لیے صدقہ مختلف شکلیں اختیار کر لے گا۔ جس کی جیب میں کچھ نہیں، اس کے لیے "انفاق اور صدقہ" کا مطلب کسی کو دیکھ کر مسکرانا ہے، کسی کی مدد کرنا ہے، کسی کا حال پوچھنا ہے یا اپنے کام، پیشہ ورانہ ذمہ داریوں اور گھر والوں کے وقت میں سے کچھ وقت نکال کر کسی کی مدد کرنا ہے۔ "انفاق" ایک جامع نظام ہے، یہ صرف روایتی معنی میں مالی صدقہ نہیں ہے۔
چنانچہ امتحان ہونا ضروری ہے تاکہ دیکھا جائے کہ کیا واقعی ہمیں اللہ کی رضا حاصل ہے اور کیا ہم واقعی اللہ کے حکم اور اس کی مرضی پر راضی ہیں۔ اس امتحان میں کچھ پاس ہو جاتے ہیں اور کچھ فیل۔ اگر ہم سے کوئی ہمارا مال؛ وقت، توجہ، ہمدردی مانگے اور ہم اپنی مصروفیات کا بہانہ بناکر مخلوق اور معاشرہ کی خدمت کے لیے حاضر نہ ہوسکیں تو ہم اس امتحان میں ناکام ہیں اور ہم وہ شخص نہیں ہیں جس نے اللہ کی رضا کو پا لیا ہو۔
دوسری طرف اگر ہم اپنی تمام بنیادی ذمہ داریاں (عبادات اور اہل و عیال کے حقوق) پوری کرنے کے بعد اپنا وقت، اپنے وسائل اور اپنی ذہنی توانائی مسجد، کمیونٹی، معاشرے، دوستوں، خاندان اور ضرورت مندوں کے لیے قربان کرتے ہیں، تو واقعتاً ہم نے اللہ کی رضا حاصل کر لی ہے اور اللہ اپنے فضل اور رحمت سے ان شاء اللہ ہم سے راضی ہو جائے گا۔
حصولِ رضائے الہٰی کا انحصار کسی عمل کے قلیل یا کثیر ہونے پر نہیں
یاد رکھیں! اس سے فرق نہیں پڑتا کہ وہ عمل یا وہ ذمہ داری کتنی بڑی ہے یا چھوٹی؟ یہ مسجد کی صفائی یا وہاں جھاڑو دینے جتنا چھوٹا کام بھی ہو سکتا ہے اور کسی تنظیم کی سربراہی جتنا بڑا کام بھی۔ ہماری ذمہ داری جو بھی ہو، یہ ہمارا"رویہ" ہے جو طے کرتا ہے کہ ہمیں اس کی رضا حاصل ہے یا نہیں اور اللہ ہم سے راضی ہیں یا نہیں؟ یہی وہ "لٹمس ٹیسٹ" (حتمی معیار) ہے جس کے ذریعے یہ جانچا جاتا ہے کہ آیا ہم اس کی رضا حاصل کرنے کے راستے پر ہیں یا نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ صَبَرُوا ابْتِغَآءَ وَجْهِ رَبِّهِمْ وَ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اَنْفَقُوْا مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ سِرًّا وَّ عَلَانِیَةً.
(الرعد، 13: 22)
’’اور جو لوگ اپنے رب کی رضاجوئی کے لیے صبر کرتے ہیں اور نماز قائم رکھتے ہیں اور جو رزق ہم نے انہیں دیا ہے، اس میں سے پوشیدہ اور اعلانیہ (دونوں طرح) خرچ کرتے ہیں۔ ‘‘
یہاں خرچ کرنے کا مطلب صرف مالی خرچ نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد وقت، ذہنی توانائی، کوشش اور مصروفیات و ذمہ داریوں (خاندان، دوستوں اور کام) کے مجموعہ میں سے کچھ حصہ نکال کر اللہ کے لیے دینا ہے۔ اللہ فرماتا ہے کہ جو لوگ ایسا پوشیدہ اور علانیہ کرتے ہیں، انہیں آخرت کی زندگی میں بھرپور اجر دیا جائے گا جو کہ دائمی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے یہاں "پوشیدہ اور علانیہ" کا ذکر کیوں فرمایا؟ یہ دراصل ہمارے اخلاص اور "اہلِ رضا" ہونے کا ایک اور لٹمس ٹیسٹ (امتحان) ہے۔ بہت سے لوگ معاشرے اور کمیونٹی میں بہت سرگرم ہو سکتے ہیں، وہ سب کے سامنے بہت نیک، پارسا اور پکے مومن نظر آ سکتے ہیں، وہ سچے اور مخلص بھی ہو سکتے ہیں؛ لیکن بعض اوقات یہ امکان ہوتا ہے کہ وہ یہ سب کچھ محض داد و تحسین یا پہچان کے لیے کر رہے ہوں اور ان کی نیتیں اتنی خالص نہ ہوں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم عوامی زندگی میں بہت نیک اور سخی ہیں، تو کیا تنہائی میں بھی ویسے ہی ہیں؟ اگر ہماری خلوت اور جلوت (پوشیدہ اور عوامی زندگی) ایک جیسی ہے، تو اس کا مطلب ہے کہ ہم اخلاص اور اللہ کی رضا کے راستے پر ہیں لیکن اگر ہماری نجی اور عوامی زندگی میں تضاد ہے، تو یہ لمحہ فکریہ ہے؛ شاید ہماری نیت میں وہ اخلاص نہیں ہے، جو ہونا چاہیے، شاید ہم نے ابھی رضائے الٰہی حاصل نہیں کی اور ہمارے اعمال کے پیچھے کچھ دوسرے مقاصد چھپے ہوئے ہیں۔
بعض اوقات ہم خود بھی اپنے ان چھپے ہوئے مقاصد سے واقف نہیں ہوتے۔ یاد رکھیں! اپنی ترغیبات، جذبات اور نیات کو صحیح معنی میں سمجھنے کے لیے بہت گہری بصیرت اور "جذباتی ذہانت" کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہر شخص اپنا خود تجزیہ (Self-analysis) کرے کہ وہ لوگوں کی مدد کیوں کر رہا ہے۔۔۔ ؟ وہ عبادت کیوں کر رہا ہے۔۔۔ ؟ کیا یہ لوگوں میں شہرت اور رتبہ کے لیے ہے یا صرف اللہ تعالیٰ کی رضا اور اس کی خوشنودی کے لیے۔۔۔ ؟
اللہ تعالیٰ علانیہ نیکی اور انفاق (خرچ کرنے) کی بھی حوصلہ افزائی کرتا ہے کیونکہ ہمارے دین اور ایمان میں جب ہم باجماعت یا گروہ کی صورت میں نیکی کرتے ہیں، تو اس سے ایک دوسرے کو ترغیب ملتی ہے، ہم ایک دوسرے کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور ایک دوسرے کو نیکی کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ بصورتِ دیگر، اگر ہم گھر میں تنہائی میں ہوں تو شاید اتنے متحرک نہ رہیں اور سستی کا شکار ہو جائیں۔ لیکن جب ہم ایسے لوگوں کے گروہ میں ہوتے ہیں جو عبادت گزار اور نیک ہیں اور دین کی راہ میں اپنا مال، وقت اور توانائیاں خرچ کر رہے ہیں، تو اس سے ہمیں ہمت ملتی ہے۔ اسلام ہمیں صرف پوشیدہ نیکی نہیں بلکہ علانیہ نیکی کا بھی درس دیتا ہے، بس شرط یہ ہے کہ ہماری نجی اور عوامی زندگی میں مطابقت ہو، ہماری نیت خالص ہو اور ہم صرف اللہ کی رضا کے طالب ہوں۔
زندگی کا معنی اور مقصد؛ اللہ کی عبادت، اس کی مرضی کے سامنے سر جھکانا اور اس کے فضل سے اس کی رضا حاصل کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس سبق کو سمجھنے اور اپنی زندگیوں میں نافذ کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سیدالمرسلین ﷺ۔