حضور پیر سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی البغدادیؒ

یوسف منہاجین

شریعت، طریقت اور حقیقت کا سنگم

انسانی تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی معاشرہ اخلاقی پستی اور روحانی خلا کا شکار ہوا، اللہ تعالیٰ نے ایسی پاکیزہ ہستیوں کو مبعوث فرمایا جنہوں نے اپنے علم اور عمل سے بنجر دلوں کو سیراب کیا۔ انہی روشن ستاروں میں سے ایک درخشاں ستارہ قدوۃ الاولیاء حضور پیر سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی البغدادی رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو حضور غوث الاعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہ کی مبارک اولاد میں سے تھے۔ آپ ایک ایسی شخصیت تھے کہ جن کی زندگی علم و عمل، شریعت و طریقت، ظاہر و باطن کا حسین سنگم تھی۔ آپ نے نہ صرف روحانیت کی شمع روشن کی بلکہ شریعت و طریقت کے حسین امتزاج سے لاکھوں نفوس کی تربیت فرمائی۔

حضور پیر سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی رحمۃ اللہ علیہ کا تعلق روئے زمین کے سب سے معتبر اور مقدس علمی و روحانی گھرانے "خاندانِ گیلانیہ" سے ہے۔ آپ حضور غوثِ اعظم سیدنا شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی براہِ راست اولاد اور ان کے روحانی مشن کے وارث ہیں۔ آپ کا شجرہ نسب نہایت جلیل القدر ہستیوں سے ہوتا ہوا سید السادات امام حسن مجتبیٰؑ اور مولائے کائنات سیدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ وجہہ الکریم تک پہنچتا ہے۔ بغداد شریف کی سرزمین، جو صدیوں سے علم و عرفان کا مرکز رہی ہے، وہاں آپ کے آباؤ اجداد نے نہ صرف نقابت و تولیت کے فرائض سرانجام دیے بلکہ علمی دنیا میں بھی اپنا لوہا منوایا۔ یہ خاندان صدیوں سے اسلامی دنیا میں روحانیت کا مرکز رہا ہے۔ بغداد شریف سے لے کر برصغیر پاک وہند تک، اس خاندان کے بزرگوں نے مسلمانوں کے دلوں میں اللہ کی محبت اور رسولِ اکرم ﷺ کی اتباع کا جذبہ فروزاں رکھا۔

حضور پیر صاحبؒ جس خانوادے کے چشم و چراغ ہیں، اس کی تاریخ محض روحانیت تک محدود نہیں بلکہ یہ خاندان صدیوں سے عالمِ اسلام کی سیاسی اور علمی قیادت کا علمبردار رہا ہے۔ آپ کے جدِ امجد حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے جس طرح بغداد میں مدرسہ قادریہ کے ذریعے علم کی شمع روشن کی، اسی تسلسل کو آپ کے آباؤ اجداد نے ہر دور میں برقرار رکھا۔ تاریخ کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ سقوطِ بغداد کے کٹھن حالات ہوں یا عثمانی دورِ حکومت، نقیب الاشراف کا منصب ہمیشہ اس خاندان کے پاس رہا، جو ان کی سماجی اور مذہبی حیثیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ آپ کے والدِ گرامی سیدنا محمود حسام الدین الگیلانیؒ نے جس طرح عراق کی آزادی اور مسلمانوں کی فلاح و بہبود کے لیے جدوجہد کی، اس نے آپ کی شخصیت میں وہ انقلابی فکر پیدا کی جو بعد ازاں آپ کے خطبات اور اصلاحی کاموں میں نظر آئی۔

1۔ علمی و روحانی مقام

حضور پیر سیدنا طاہر علاؤ الدین الگیلانیؒ کی ولادتِ با سعادت بغداد شریف کے اس ماحول میں ہوئی جہاں ہر طرف قال اللہ اور قال الرسول ﷺ کی صدائیں گونجتی تھیں۔ آپ کے والدِ گرامی سیدنا محمود حسام الدین الگیلانیؒ خود اپنے وقت کے جید عالم اور صوفی باصفا تھے۔ آپ کی ابتدائی تربیت اسی پاکیزہ آغوش میں ہوئی جہاں تقویٰ، پرہیزگاری اور خدمتِ خلق کو بنیادی اہمیت حاصل تھی۔ بچپن ہی سے آپ کی پیشانی سے وہ انوارات ظاہر تھے جو مستقبل میں ایک عظیم رہبرِ کامل کی نوید دے رہے تھے۔

حضور پیر صاحبؒ محض ایک روحانی شخصیت نہیں تھے آپ ایک عبقری عالم بھی تھے جس کی مثال ڈھونڈنا آسان نہ تھا۔ آپ نے اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے جہاں روایتی درس و تدریس سے استفادہ کیا، وہاں اپنے والدِ گرامی اور خاندان کے دیگر اکابرین سے بھی فیض حاصل کیا۔ آپ کی علمی شخصیت میں جو ثقاہت اور گہرائی نظر آتی ہے، وہ اسی خاندانی وراثت اور ذاتی محنت کا ثمر تھی۔ آپ نے صرف ظاہری علوم پر اکتفا نہیں کیا بلکہ باطنی علوم کی تحصیل کے لیے بھی کٹھن مراحل طے کیے۔ آپ کا منہج یہ تھا کہ علم وہی نافع ہے جو انسان کے عمل میں ڈھل جائے اور اسے اپنے خالق کے قریب کر دے۔

آپ کی تعلیم و تربیت صرف کتابی نہیں تھی بلکہ اس میں "مشاہدہ" اور "صحبتِ صالح" کو کلیدی حیثیت حاصل تھی۔ آپ نے جامعہ بغداد اور دیگر مستند علمی مراکز سے دینی علوم کی تکمیل کی۔ آپ کے اساتذہ میں اپنے وقت کے وہ جید علماء شامل تھے جن کا علم و زہد پورے عرب و عجم میں تسلیم کیا جاتا تھا۔ آپ کو علومِ قرآن اور احادیثِ نبویہ ﷺ پر گہری دسترس حاصل تھی۔ آپ کا اندازِ بیان ایسا تھا کہ پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کو عام فہم اور دل نشین پیرائے میں بیان فرما دیتے۔ علاوہ ازیں آپ فقہی مسائل میں اعتدال اور وسعتِ نظری کے قائل تھے۔ آپ کا مطالعہ صرف ایک مسلک تک محدود نہ تھا بلکہ آپ تقابلِ ادیان اور مختلف فقہی مکاتبِ فکر کے اصولوں سے بخوبی واقف تھے، یہی وجہ ہے کہ آپ کی مجالس میں ہر مکتبِ فکر کے لوگ بلا جھجھک شریک ہوتے تھے۔

آپ نے اپنی مجالس میں ہمیشہ اس بات پر زور دیا کہ "صوفی کو جاہل نہیں بلکہ وقت کا سب سے بڑا عالم ہونا چاہیے" تاکہ وہ زمانے کے فتنوں کا مقابلہ علم اور دلیل سے کر سکے۔ آپ کی گفتگو کا یہ عالم تھا کہ قرآنی، حدیثی، فقہی، معاشی، سیاسی مسائل پر جب رطب اللسان ہوتے تو علماء دنگ رہ جاتے اور علوم کے دریا بہتے۔ حضور پیر صاحبؒ کی گفتگو میں علوم و حقائق اور استنباط و ا ستدلال کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ہوا کرتا تھا۔ آپ اپنے جدِ امجد قطبِ اقطاب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی قدس سرہ کے علوم و معارف کے حقیقی امین تھے۔

اگرچہ آپ پیدائشی ولی تھے اور آپ کو خاندانی طور پر خلافت حاصل تھی، لیکن طریقت کے آداب کی پاسداری کرتے ہوئے آپ نے اپنے والدِ گرامی حضرت سیدنا محمود حسام الدین الگیلانیؒ کے دستِ حق پرست پر بیعت فرمائی۔ یہ بیعت محض ایک رسم نہیں تھی بلکہ یہ اس عظیم ذمہ داری کا آغاز تھا جس نے آگے چل کر لاکھوں انسانوں کے سینوں کو عشقِ مصطفیٰ ﷺ سے منور کرنا تھا۔ آپ نے سلوک کی منزلیں نہایت خاموشی اور تندہی سے طے کیں۔ آپ کے قیامِ بغداد کے دوران ہی مشائخِ عرب نے آپ کی روحانی استعداد کو بھانپ لیا تھا اور آپ کو "قدوۃ الاولیاء" کے لقب سے پکارا جانے لگا۔

2۔ شخصیت اور تعلیمات کے چند نمایاں پہلو

حضور پیر سیدنا طاہر علاؤ الدین الگیلانیؒ کا پاکستان تشریف لانا محض ایک اتفاق نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی مشن کا حصہ تھا۔ آپ نے کوئٹہ کو اپنا مسکن بنایا اور پھر یہاں سے پورے ملک میں دعوت و تبلیغ اور اصلاحِ احوال کا وہ سلسلہ شروع کیا جس نے لاکھوں نوجوانوں کی زندگیوں میں انقلاب برپا کر دیا۔ آپ کی شخصیت میں وہ مقناطیسی کشش تھی کہ جو ایک بار آپ کی محفل میں بیٹھ جاتا، وہ آپ کا ہو کر رہ جاتا۔ آپ نے ہمیشہ فرقہ واریت سے بالاتر ہو کر امتِ مسلمہ کی وحدت اور اخلاقی سربلندی کے لیے کام کیا۔ حضرت سیدنا طاہر علاؤالدین الگیلانی رحمۃ اللہ علیہ ایک ایسی کامل و مکمل شخصیت کے مالک تھے جو آج کے دور میں بہت کم نظر آتی ہے۔ ان کی زندگی کے چند نمایاں پہلو حسبِ ذیل ہیں:

(1) شریعتِ محمدیہ کی پابندی

آپ شریعتِ محمدیہ ﷺ کے سخت پابند تھے۔ راست گوئی، صدقِ مقال اور اکلِ حلال کی ہمیشہ تلقین فرماتے۔ آپ کے طرزِ عمل پر کسی بڑے سے بڑے معترض کو بھی موقع نہ مل سکا۔ آپ کے ملفوظاتِ عالیہ میں یہ گوہر نظر آتا ہے:

"شریعت پر عمل نہ کرنے والے پیر نہیں بلکہ کافر، بے دین، عیش پرست، تن پرست اور شہوت پرست ہیں جو سادہ لوح مسلمانوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔ "

یہ الفاظ کسی معمولی عالم کے نہیں بلکہ ایک ایسے روحانی پیشوا کے ہیں جو خود شریعت کا پیکر تھے۔

(2) شریعت اور طریقت کا حسین امتزاج

حضور پیر صاحبؒ کے نزدیک تصوف کوئی الگ راستہ نہیں بلکہ یہ عینِ شریعت ہے۔ آپ اکثر فرماتے تھے کہ "جس طریقت کی تائید شریعت نہ کرے، وہ گمراہی ہے"۔ آپ نے جاہل صوفیوں کے خود ساختہ تصورات کی سختی سے نفی فرمائی اور اپنے مریدین کو ہمیشہ اتباعِ سنت کا درس دیا۔ آپ کے نزدیک انسان کے ظاہر اور باطن کی اصلاح یکساں ضروری ہے۔ آپ نے واضح فرمایا کہ جس طرح ظاہر کے گناہ (جیسے جھوٹ، چوری) مہلک ہیں، ویسے ہی باطن کے گناہ (جیسے تکبر، حسد، ریاکاری) اس سے بھی زیادہ خطرناک ہیں کیونکہ انسان ان کا شکار ہو کر بھی خود کو نیک سمجھتا رہتا ہے۔

آپ فرماتے: "شریعت اور حقیقت، اہل طریقت کے لیے اصطلاحات ہیں۔ شریعت: ظاہری عمل اور حال کی صحت کو ظاہر کرتی ہے اور حقیقت: باطن کے احوال کی صحت یا عدم صحت کو۔ اس لیے ایک حقیقی مومن کے لیے ہر دو کا اجتماع ضروری ہے۔ "

یہ وہ بنیادی سبق ہے جو آج کے دور میں ازحد ضروری ہے جب کچھ لوگ شریعت کو طریقت سے الگ کر کے ایک کو دوسرے پر فوقیت دینے لگتے ہیں۔ حضرت کا پیغام واضح تھا: دونوں ایک ہی درخت کی دو شاخیں ہیں ظاہر و باطن دونوں کی اصلاح ہی اسلام کا مقصود ہے۔

(3) تصوف کا حقیقی مفہوم: غلط فہمیوں کا ازالہ

آج کے دور میں تصوف کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پھیلی ہوئی ہیں۔ ایک طرف وہ لوگ ہیں جو تصوف کو بالکل رد کرتے ہیں اور دوسری طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے تصوف کو شریعت سے بالکل کاٹ کر ایک الگ چیز بنا لیا ہے۔ سیدنا طاہر علاؤالدین رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات اس سلسلے میں مشعلِ راہ ہیں۔ آپ ؓ کا پیغام تھا کہ تصوف یا طریقت دراصل تزکیہ نفس اور تصفیہ باطن کا نام ہے وہ راستہ جو انسان کو اللہ کی حقیقی معرفت کی طرف لے جاتا ہے۔ اور یہ راستہ حضور نبی اکرم ﷺ کی شریعتِ مبارکہ کے دائرے کے اندر ہی چلتا ہے، اس سے باہر نہیں۔

حضور پیر صاحبؒ کی تربیت کا مرکز "دل" تھا۔ آپ کا ماننا تھا کہ اگر دل زندہ ہو جائے تو نیکی کی قوتیں خود بخود حرکت میں آ جاتی ہیں، ورنہ محض ظاہری عبادات میں وہ روح پیدا نہیں ہوتی جو انسان کو بدل سکے۔ آپ نے اپنے مریدین کے لیے درج ذیل تربیتی اصول وضع کیے:

اتباعِ سنت: زندگی کے ہر شعبے میں حضور نبی کریم ﷺ کی سنت کو مشعلِ راہ بنانا۔

گناہوں سے اجتناب: ظاہر اور باطن کے تمام گناہوں کو ترک کرنا کیونکہ گناہ باطنی ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔

محبتِ الٰہی و عشقِ رسول ﷺ : عبادات کا مقصد محض ثواب کا حصول نہیں بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی رضا ہونی چاہیے۔

(4) درویشی کیا ہے؟

حضور پیر صاحبؒ کا ایک اہم سبق درویشی کا تھا وہ درویشی جو دنیا سے فرار نہیں بلکہ دنیا کی محبت کو دل سے نکالنے کا نام ہے۔ آپ کا ارشاد تھا:

"بھوکا شخص ہر ایک کو بھوکا سمجھتا ہے اور بے عزت شخص ہر ایک کو بے عزت سمجھتا ہے۔ "

یعنی انسان کی اندرونی کیفیت ہی اس کے دوسروں کو دیکھنے کا نظریہ بناتی ہے۔ جس کا نفس خواہشات میں گرفتار ہے وہ دنیا کو بھی خواہشات کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اور جس نے اپنے نفس کو قابو میں کر لیا وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا سے آزاد ہے۔

آپ نے یہ بھی فرمایا: "دلوں میں نفاق، حسد، عناد اور ریاکاری ہو تو پھر کوئی بھی عمل نیکی کا اجر نہیں پا سکتا۔ "

یہ ایک گہری تربیتی تعلیم ہے۔ اعمال کا قبول ہونا دل کی سلامتی پر موقوف ہے۔ اگر دل میں کینہ، حسد اور نفاق ہے تو ظاہری عبادات بھی اپنا حقیقی اثر نہیں چھوڑتیں۔

(5) نسبت اور نسب کی وضاحت

حضرت سیدنا طاہر علاؤالدین رحمۃ اللہ علیہ اپنے مریدین کو یہی سمجھاتے کہ کسی بزرگ سے عقیدت کا مطلب ان کی تعلیمات پر عمل کرنا ہے محض ان کا نام لینا یا ان کے مزار پر حاضری دینا کافی نہیں۔ حضور غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی شریعتِ محمدی پر عمل اور دعوتِ حق کے لیے وقف تھی ان کا سچا متبع وہی ہے جو اسی راستے پر چلے۔ ایک دن آپ ؒ کی خدمت میں حاضرین میں سے کسی نے سوال کیا کہ انسانی کردار میں نسب کا کوئی عمل دخل ہے؟آپؒ نے سائل کی طرف بغور دیکھتے ہوئے فرمایا:

"انسان کے مزاج کی تشکیل، اس کے فطری جوہر چمکانے اور اکثر اوقات اس کی عادت کاتعیّن ؛اس کے ماحول، اس کے خانگی اور خاندانی پس منظر، اس کی تعلیم و تربیت پر منحصر ہے یعنی انسان خود بھی ذمہ دار ہے اپنی شخصیت کی تعمیر کے لیے۔ "

یہ ارشاد ایک بڑا تربیتی اصول ہے۔ بہت سے لوگ اپنی خامیوں کا ذمہ اپنے خاندان یا ماحول پر ڈالتے ہیں حضرت نے واضح فرمایا کہ انسان خود بھی ذمہ دار ہے۔ ماحول اور خاندان اثر ڈالتے ہیں لیکن فیصلہ کن کردار انسان کی اپنی سوچ اور اپنے عزم کا ہے۔

(6) ملفوظاتِ عالیہ

اولیاء اللہ کے اقوال دراصل اللہ کی کتاب اور رسول کی سنت کا نچوڑ ہوتے ہیں۔ حضور پیر صاحبؒ کے ارشادات بھی ایسے ہی روشن موتی ہیں جن میں پوری تربیتی حکمت پوشیدہ ہے۔ آیئے ان میں سے چند گوہرہائے آبدار ملاحظہ کریں:

1۔ آپ فرماتے تھے: "معرفتِ خداوندی اتباعِ شرعِ محمدی ﷺ میں پوشیدہ ہے۔ حضور ﷺ کی اتباع و غلامی سے ہی محبتِ الٰہی کی منزل نصیب ہوتی ہے۔ "

یہ ایک بنیادی اصول ہے جو تصوف کی پوری عمارت کو سمجھنے کی کلید ہے۔ آج بہت سے لوگ محبتِ الٰہی کا دعویٰ کرتے ہوئے شریعتِ محمدی کو نظرانداز کر دیتے ہیں حضرت کا ارشاد اس غلطی کی واضح نشاندہی کرتا ہے۔

2۔ آپ کا ارشاد تھا: "ہر اسلامی حکومت یا اسلامی سربراہ نبی اکرم ﷺ کا نائب ہوتا ہے۔ اور حکومت و اقتدار لوگوں کے پاس اللہ اور رسول کی امانت ہے۔ "

یہ ارشاد محض روحانی نہیں بلکہ سیاسی اور سماجی حکمت سے بھرپور ہے۔ جب ہم اقتدار کو امانت سمجھیں تو اس کا استعمال بھی امانتدارانہ ہو گا۔ آج کے دور میں جب حکمران اقتدار کو ذاتی ملکیت سمجھتے ہیں، یہ ارشاد ایک انقلابی پیغام کی حیثیت رکھتا ہے۔

3۔ آپ کا ارشاد تھا: "دھوکہ، چوری اور جھوٹ سے فوری نتیجہ تو (حسبِ خواہش) نکل آتا ہے بلاآخر عزت کو ختم کر دیتے ہیں اور انسان کو تباہ کر دیتے ہیں۔ "

یہ وہ سبق ہے جو دنیاوی تجربے سے بھی ثابت ہے لیکن اکثر لوگ فوری فائدے کے چکر میں اسے نظرانداز کر دیتے ہیں۔ حضرت نے اس کو اس سادہ انداز سے بیان فرمایا کہ کوئی ذی شعور انسان اس حقیقت سے انکار نہیں کر سکتا۔

4۔ آپ نے فرمایا: "اگر شریعتِ محمدی ﷺ کے حوالے سے ہمارے ظاہرو باطن میں یکسانیت اور اتحاد پیدا ہو جائے تو عالمِ اسلام میں بھی یکجہتی اور اتحاد کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔ "

یہ ایک گہری بات ہے مسلمانوں کا بیرونی اتحاد اس وقت تک ممکن نہیں جب تک ان کے باطن میں اتحاد نہ ہو۔ اور باطن کا اتحاد شریعتِ محمدی کی پیروی سے آتا ہے۔

5۔ ایک نہایت دلچسپ ارشاد جو انسانی نفسیات پر گہری نظر کا مظاہرہ کرتا ہے: "چھوٹے بچے کے پاس 10 روپے بھی ہوں تو سمجھتا ہے کہ میں پورا شہر خرید سکتا ہوں یہی حال ایک کم ظرف شخص کا ہوتا ہے اسے تھوڑا سامال یا عزت مل جائے تو سمجھنے لگتا ہے کہ میں قارون یا فرعون بن گیا ہوں اور حقیقت کو نظرانداز کر دیتا ہے۔ "

یہ ارشاد ہمیں بتاتا ہے کہ دولت یا اقتدار ملنے پر اپنا ظرف کھو دینا ایک کم فہمی کی نشانی ہے۔ اصل ظرف وہ ہے جو مال و دولت میں بھی زمین پر رہے، فرعونی انداز اختیار نہ کرے۔

سیدنا طاہر علاؤالدین رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کا محور یہ تھا کہ اللہ کی معرفت شریعتِ محمدی کی اتباع میں ہے، ولایت کرامت کا نام نہیں بلکہ شریعت پر عمل کا نام ہے، روح و جسم دونوں کی اصلاح ضروری ہے، اور نسبتِ غوثیہ ایک زندہ روحانی تعلق ہے جو انسان کو اللہ کے قریب لے جاتا ہے۔ ان کی شخصیت تواضع، خدمتِ خلق، شوقِ عبادت اور علمی گہرائی کا کامل نمونہ تھی۔

حضور پیر سیدنا طاہر علاؤ الدینؒ نے تصوف کو "انفرادی اصلاح" سے نکال کر "اجتماعی فلاح" کا ذریعہ بنایا۔ آپ نے معاشرے میں پھیلی ہوئی برائیوں کے خلاف صرف وعظ نہیں کیا بلکہ ایک ایسا ماحول فراہم کیا جہاں انسان کی اخلاقی نشو و نما ہو سکے۔ آپ کے نزدیک "ولی" وہ نہیں جو صرف تسبیح پھیرے، بلکہ وہ ہے جو مخلوقِ خدا کے کام آئے۔

حضور پیر صاحبؒ ایک ایسے مکمل انسان تھے جن کی زندگی علم و عمل، ظاہر و باطن، شریعت و طریقت کا کامل امتزاج تھی۔ ان کی تعلیمات کا مرکز یہ ہے کہ دین مکمل ہے اس میں ظاہری اعمال بھی ضروری ہیں اور باطنی اصلاح بھی۔ دنیا سے بے رغبتی، توکلِ الٰہی، صدقِ مقال اور شریعتِ نبوی کی پابندی یہ وہ اساسیات ہیں جن پر ایک مسلمان کی کامیاب زندگی استوار ہو سکتی ہے۔

3۔ تحریکِ منہاج القرآن کی سرپرستی

قدوۃ الاولیاء حضور پیر سیدنا طاہر علاؤ الدین الگیلانیؒ کی شخصیت جہاں انفرادی تزکیہ نفس کا مرکز تھی، وہیں آپ نے اجتماعی سطح پر امتِ مسلمہ کی بیداری کے لیے اٹھنے والی ہر مخلصانہ تحریک کی بھرپور سرپرستی فرمائی۔ اس سلسلے میں "تحریکِ منہاج القرآن" اور اس کے بانی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری سے آپ کی نسبت محض ایک رسمی تعلق نہیں تھا، بلکہ یہ ایک ایسی علمی و روحانی شراکت تھی جس نے خانقاہ اور تحریک کے مابین ایک مضبوط پُل کا کام کیا۔ جب شیخ الاسلام نے اپنے مشن کا آغاز کیا، تو حضور پیر صاحبؒ نے نہ صرف ان کی فکری سمت کی تائید کی بلکہ تحریکِ منہاج القرآن کے " روحانی سرپرست" بن کر اس نوخیز پودے کی آبیاری اپنے دستِ مبارک سے فرمائی۔

آپ کی سرپرستی نے اس تحریک کو وہ روحانی وقار بخشا جو کسی بھی دینی جدوجہد کی کامیابی کے لیے بنیادی روح کی حیثیت رکھتا ہے۔ آپ اکثر منہاج القرآن کی تقاریب میں رونق افروز ہوتے، جہاں آپ کی موجودگی ہزاروں نوجوانوں کے لیے باعثِ سکون و اطمینان ہوتی۔ آپ نے شیخ الاسلام کو "خاندانِ گیلانیہ" کی خاص شفقتوں سے نوازا اور انہیں "علمی و روحانی بیٹا" قرار دیا۔ یہ نسبت اس قدر گہری تھی کہ تحریکِ منہاج القرآن کے دستور اور اس کے علمی ڈھانچے میں "فیضانِ قادریہ" کی جھلک نمایاں طور پر نظر آتی ہے۔

آپ نے تحریک کے کارکنوں کو ہمیشہ یہ سبق دیا کہ "تنظیم" اگر "روحانیت" سے خالی ہو جائے تو وہ محض ایک بے جان ڈھانچہ رہ جاتی ہے۔ آپ کی سرپرستی کا ثمر تھا کہ منہاج القرآن نے علم اور امن کے جس نظریے کو عام کیا، اسے عالمی سطح پر قبولیت حاصل ہوئی۔ آپ کی نظرِ شفقت نے اس تحریک کو فرقہ وارانہ تنگ نظری سے بچا کر ایک جامع اور معتدل علمی پلیٹ فارم بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ آج بھی تحریکِ منہاج القرآن کے مراکز میں آپ کا تذکرہ اسی عقیدت اور احترام سے کیا جاتا ہے جو ایک مرشدِ کامل کا حق ہوتا ہے۔ یہ تعلق ثابت کرتا ہے کہ سیدنا طاہر علاؤ الدینؒ نے جہاں انفرادی قلوب کو بدلا، وہاں انہوں نے ایک ایسی منظم تحریک کی پشت پناہی بھی کی جو آنے والی نسلوں تک اسلام کا حقیقی اور پرامن چہرہ پہنچانے کے لیے وقف ہے۔

تحریکِ منہاج القرآن کے حوالے سے آپ کا کردار ایک "مربی" اور "محافظ" کا تھا۔ شیخ الاسلام کے بارے میں آپ کے یہ الفاظ تاریخ کا حصہ ہیں: "طاہر القادری میرا علمی و روحانی بیٹا ہے، اس نے عشقِ رسول ﷺ کی شمع کو اس دورِ فتن میں جس طرح روشن کیا ہے، وہ میرا اور میرے آباؤ اجداد کا مشن ہے۔ "

آپ نے منہاج القرآن کو ایک ایسا پلیٹ فارم سمجھا جہاں سے "جدیدیت اور روحانیت" کا سنگم ممکن تھا۔ آپ نے اس تحریک کی سرپرستی اس لیے فرمائی کیونکہ آپ کا ماننا تھا کہ اسلام کو صرف روایتی خانقاہوں کے ذریعے نہیں بلکہ ایک منظم فکری تحریک کے ذریعے ہی بچایا جا سکتا ہے۔ آپ نے اس رشتے کو ہمیشہ ایک قلبی نسبت کے طور پر نبھایا۔

4۔ عملی پیغام

حضور پیر صاحبؒ کی حیاتِ طیبہ کا حاصل یہ ہے کہ سچا تصوف انسان کو دنیا سے بے خبر نہیں کرتا بلکہ اسے دنیا کا بہترین شہری بناتا ہے جو اللہ کی محبت میں غرق ہو کر اس کی مخلوق کی خدمت کرتا ہے۔ آپ کی زندگی اور تعلیمات میں ہمارے لیے کیا عملی پیغام ہے؟ آیئے اسے چند نکات میں سمیٹتے ہیں:

1۔ شریعت کو زندگی کا محور بنائیں: حضرت کا سب سے بڑا پیغام یہ تھا کہ شریعتِ محمدیہ ہی وہ راستہ ہے جو اللہ تک پہنچاتا ہے اس سے ہٹ کر کوئی راستہ کشف، کرامت، یا تصوف کے نام پر درست نہیں ہو سکتا۔ نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج یہ ستون ہیں جن پر باطن کی عمارت کھڑی ہوتی ہے۔

2۔ تواضع کو اپنی پہچان بنائیں: ایک عظیم بزرگ جو لوگوں کے لیے کھڑے ہو جاتے، یہ تواضع ہم سب کے لیے سبق ہے۔ آج کے دور میں جب تھوڑا سا علم یا مال ملتے ہی انسان تکبر کا شکار ہو جاتا ہے، حضرت کی مثال ایک آئینہ ہے۔

3۔ ظاہر اور باطن میں یکسانیت رکھیں: حضرت کا ارشاد تھا کہ جب ظاہر و باطن میں یکسانیت ہو گی تبھی اتحادِ امت ممکن ہے۔ یعنی پہلے فرد کا اپنا باطن درست ہو تب معاشرہ درست ہوتا ہے، اور تب امت درست ہوتی ہے۔

4۔ اولیاء اللہ سے محبت کو اتباع میں بدلیں: نسبتِ غوثیہ کا مطلب صرف نام لینا یا مزار پر حاضری نہیں بلکہ ان بزرگوں کی تعلیمات پر عمل کرنا ہے۔ حضرت غوثِ اعظم رضی اللہ عنہ کی پوری زندگی شریعتِ محمدی کے اتباع کی زندگی تھی ان سے سچی محبت وہی ہے جو اس اتباع کو زندگی میں اتارے۔

5۔ علم کو عمل سے جوڑیں: حضرت نے دونوں کا حسین امتزاج اپنی زندگی میں دکھایا علم کے ساتھ عمل اور عبادت کے ساتھ خدمتِ خلق۔ یہی وہ راستہ ہے جو انسان کو کامل مسلمان بناتا ہے۔

5۔ وصالِ با کمال

ہر نفس کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے، مگر کچھ ہستیاں ایسی ہوتی ہیں جن کا جانا ایک خلا پیدا کر دیتا ہے جسے صدیوں تک پُر نہیں کیا جا سکتا۔ 23 ذوی القعدہ بمطابق7 جون 1991ء کو آپ اس دارِ فانی سے کوچ کر کے اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملے۔ آپ نے اپنی آخری سانسوں تک اپنے مریدین اور پسماندگان کو "تقویٰ اور اتباعِ سنت" کی وصیت فرمائی۔ بغدادٹاؤن لاہور میں واقع آپ کا مزار پر انوار مرجعِ خلائق ہے، جہاں سے فیضانِ قادریہ کی لہریں آج بھی دنیا بھر میں پھیل رہی ہیں۔ آپ کا فیضان، آپ کی تعلیمات اور آپ کا نام آج بھی زندہ و جاوید ہے۔ آپ نے اپنی زندگی میں تحریک منہاج القرآن اور اپنی اولاد اطہار کی صورت میں جو پودے لگائے تھے، وہ آج قد آور درخت بن چکے ہیں۔ آپ کے مشن کو آپ کے صاحبزادگان حضور پیر سید محمود محی الدین الگیلانی، حضور پیر سید عبدالقادر جمال الدین الگیلانی، حضور پیر سید ضیاء الدین الگیلانی نہایت وقار اور استقامت کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔

6۔ خلاصۂ کلام

حضور پیر صاحبؒ کی حیاتِ طیبہ ایک روشن مینارے کی مانند ہے جو آج بھی اپنی روشنی سے ہماری راہ منور کر رہا ہے۔ وہ اپنے آباء و اجداد کی طرح شریعت کے پابند، طریقت کے راہنما، حقیقت کے شناور، اور خلق کے خادم تھے۔ ان کی زندگی کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ اسلام ایک مکمل نظامِ حیات ہے اس میں ظاہر بھی ہے اور باطن بھی، فقہ بھی ہے اور تصوف بھی، علم بھی ہے اور عشق بھی، عبادت بھی ہے اور خدمت بھی۔ جو ان تمام پہلوؤں کو یکجا کر لے وہی حقیقی مسلمان ہے۔

حضور پیر سیدنا طاہر علاؤ الدین الگیلانیؒ کی زندگی کا مطالعہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ اصل بزرگی کرامات دکھانے میں نہیں، بلکہ احکامِ الٰہی کی پابندی اور انسانیت سے محبت میں ہے۔ آپ نے تصوف کو ایک نئی جہت دی اور ثابت کیا کہ ایک صوفی دورِ جدید کے تقاضوں سے ہم آہنگ رہتے ہوئے بھی اللہ کا مقرب بن سکتا ہے۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ کا مطالعہ ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ اگر انسان کا تعلق اپنے رب سے مضبوط ہو، تو وہ زمانے کی موجوں کا رخ موڑ سکتا ہے۔ آپؒ آج ہم میں جسمانی طور پر موجود نہیں، لیکن آپ کی تعلیمات، آپ کا فیضان اور آپ کا ذکرِ خیر آج بھی لاکھوں دلوں کو تڑپا رہا ہے۔ آپ کی زندگی ہر اس مسافر کے لیے مشعلِ راہ ہے جو معرفتِ الٰہی کی تلاش میں ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم آپ کی تعلیمات کو صرف پڑھنے اور سننے تک محدود نہ رکھیں، بلکہ انہیں اپنی عملی زندگی کا حصہ بنائیں۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہمیں حضور پیر صاحبؒ کی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے، ان کی روحانی نسبت کو ہمارے قلوب میں زندہ رکھے، اور ہمیں ان کے راستے پر جو دراصل شریعتِ محمدیہ کا راستہ ہے ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین بجاہ سید الانبیاء والمرسلین ﷺ