ارشاد باری تعالی ہے:
اَلَّذِیْنَ اِنْ مَّكَّنّٰهُمْ فِی الْاَرْضِ اَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتَوُا الزَّكٰوةَ وَ اَمَرُوْا بِالْمَعْرُوْفِ وَ نَهَوْا عَنِ الْمُنْكَرِ ؕ وَ لِلّٰهِ عَاقِبَةُ الْاُمُوْرِ.
(الحج، 22: 41)
’’ (یہ اہلِ حق) وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انہیں زمین میں اقتدار دے دیں (تو) وہ نماز (کا نظام) قائم کریں اور زکوٰۃ کی ادائیگی (کا انتظام) کریں اور (پورے معاشرے میں نیکی اور) بھلائی کا حکم کریں اور (لوگوں کو) برائی سے روک دیں، اور سب کاموں کا انجام اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔ ‘‘
قرآن حکیم میں 82 مقامات پرباری تعالیٰ نے نماز اور زکوٰۃ کا اکٹھا ذکر کیا ہے، جس طرح اہل ایمان پر نماز فرض ہے اسی طرح اپنے مال سے مقررہ حصہ زکوٰۃ نکالنا بھی فرض ہے۔
یہ آیہ کریمہ ایک اسلامی حکومت کے چار فرائض کو بیان کرتی ہے۔
1۔ اقامت الصلوۃ 2۔ ایتائے زکوٰۃ
3۔ امر بالمعروف 4۔ نہی عن المنکر
اسلامی معاشرے کا امتیاز یہی ہے وہاں نظام صلوۃ کا قیام بھی نظر آتا ہے۔ نظام زکوٰۃ کا نفاذ بھی دکھائی دیتا ہے اور افراد معاشرے کی تعمیری صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے امر بالمعروف کا ماحول بھی میسر آتا ہے اور سوسائٹی کے تمام افراد کو ہر قسم کے جرائم اور برے اعمال سے بچانے کے لیے نہی عن المنکر کا نظام بھی بڑا موثر اور فعال دکھائی دیتا ہے۔ نماز انسان کی باطنی اور روحانی ضرورتوں کی تکمیل کرتی ہے جبکہ زکوٰۃ انسان کی مادی اور جسمانی حاجتوں کی کفیل ہوتی ہے۔ روحانیت اور مادیت کا حسین امتزاج ہی اسلامی حیات کا امتیازی اور تفرداتی پہلو ہے۔ زکوٰۃ اسلام کا کل اقتصادی نظام نہیں ہے بلکہ اس کے اقتصادی نظام میں اس کی حیثیت ریڑھ کی ہڈی کی سی ہے۔
زکوٰۃ کا مقصد یہ ہے معاشرے کے ضرورتمندوں اور حاجتمندوں کی بنیادی ضروریات کی کفالت کی جائے اور معاشرے سے حرام کمائی کے جملہ راستوں اور تمام ذریعوں کو مسدود کیا جائے۔ حتی کہ معاشرے کے ہر شخص کو جائز پاکیزہ اور حلال رزق فراہم کیا جائے۔ شریعت اسلامی نے معاشرے کے ہر صاحب استعداد اور صاحب مال پر زکوٰۃ کو فرض کیا ہے کہ وہ سالانہ بنیادوں پر اپنے جمع شدہ مال میں سے اڑھائی فیصد کے حساب سے مال نکال کراجتماعی طور پر حکومت کے بیت المال میں جمع کرادے تاکہ معاشرے کے مفلوک الحال (Have nots) اورمحتاج افراد کی ضروریات کو پورا کیا جاسکے۔ اگر اسلامی معاشرے کے سارے متمول اور صاحب ثروت افراد اس فرض کو ایمانی جذبے سے نبھاتے رہیں تو اس عمل سے ان کا مال پاک و حلال ہوجائے گا اور دوسری طرف معاشرے کے ضرورتمندوں کی معاشی حاجت بھی پوری ہوجائے گی اور یوں معاشرہ بہت سی برائیوں اورجرائم سے پاک ہوجائے گا۔ زکوٰۃ کا عمل ایک متوازن اور معتدل معاشرے کو جنم دیتا ہے۔ اس لیے کہ نماز انسان کی روحانی ضرورتوں کو پورا کرتی ہے۔ جبکہ زکوٰۃ انسان کی مادی حاجتوں کی تکمیل کرتی ہے۔
(ڈاکٹر طاہرالقادری، ارکان اسلام، منہاج پبلی کیشنز، ص519)
اقامت صلوۃ اسلام کا روحانی نظام بن کر اچھائیوں کو فروغ دیتی ہے جبکہ ایتائے زکوٰۃ کا عمل اسلام کے معاشی نظام کا مرکزی حصہ بن کر معاشرتی جرائم اور سماجی برائیوں کا انسداد کرتا ہے۔ معاشرے کی ساری برائیاں اس کے غیر متوازن، غیر معتدل اور ظالمانہ اقتصادی نظام سے جنم لیتی ہیں، غیر متوازن معیشت معاشرے کی جڑوں کو کھوکھلا کردیتی ہے اور یہ خود معاشرے کی تباہی اور بربادی کی علامت بن جاتی ہے۔ اس حقیقت کو قرآن گردش دولت کے تصور کے ساتھ واضح کرتا ہے:
كَیْ لَا یَكُوْنَ دُوْلَةًۢ بَیْنَ الْاَغْنِیَآءِ مِنْكُمْ.
(الحشر، 59: 7)
’’یہ نظام تقسیم دولت اس لیے ہے تاکہ سارا مال و دولت تمہارے صرف مالداروں کے درمیان ہی گردش نہ کرتا رہے۔ ‘‘
جب معاشرے میں دولت چند ہاتھوں میں سمٹ جاتی ہے اور چند خاندان دولت کے ارتکاز کا مرکز و محور بن جاتے ہیں تو انسانی معاشرہ تیزی سے اپنی تباہی کے راستے پر گامزن ہوجاتا ہے۔ دولت کا ارتکاز انسانوں کو انسانیت سے نکال کر فرعونیت اور قارونیت کے لبادے میں لے جاتا ہے۔ جس سے معاشرہ متزلزل اور غیر متوازن ہوجاتا ہے۔ زکوٰۃ کے باب میں یہ حقیقت بھی واضح رہے کہ یہ دنیا دارالمحن اور دارالابتلاء اور دارالامتحان ہے جس کی بنا پر زکوٰۃ میں اپنا کمایا ہوا خرچ کرنا ہوتا ہے جس کے حوالے سے قرآنی فکر کے مطابق دو طرح کی انسانی سوچ پائی جاتی ہے۔ ایک سوچ انسان کو کہتی ہے یہ تمہارے پاس سارا کچھ اور مال اللہ کے فضل اور عطا سے ہے۔ اس مال کے تم مالک نہیں ہو بلکہ امین ہو اور امین کی ذمہ داری یہ ہے کہ مالکِ حقیقی کی رضا اور خوشنودی کے لیے اس مال کو اس کی راہ میں خرچ کردے اور دوسری طرف یہ سوچ ہے کہ یہ مال میرا کمایا ہوا ہے۔ میری محنت اور کاوش کا ثمر اور نتیجہ ہے۔
لہذا میں کیوں اپنا مال غریبوں، محتاجوں، سائلوں اور محروموں پر خرچ کروں۔ پہلی سوچ انسان کو کہتی ہے کہ شکرانِ نعمت کے طور پر اللہ کا عطا کردہ مال خرچ کردو اور اس سے زکوٰۃ نکال دو۔ دوسری سوچ انسان کو یہ کہتی ہے کہ بالکل خرچ نہ کرو۔ یہ تمہاری اپنی کمائی اور آمدنی ہے یہ دوسری سوچ کاحامل شخص جب صبح بیدار ہوتا ہے تو اس کا باغ راکھ کا ڈھیر بن چکا ہوتا ہے۔ اسے عبرت انگیز تباہی اور بربادی کے سوا کچھ نہیں ملتا جبکہ پہلی سوچ والا صدقہ و خیرات اور انفاق فی المال کی وجہ سے اللہ کی امان میں آکر ان تمام مصائب و آلام سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اس لیے جب زکوٰۃ مال سے نکالی جاتی ہے تو یہ اس مال کی تطہیر اور انسانی نفس کی تہذیب کا باعث بنتی ہے۔
زکوٰۃ کے اس تصور کو اس کا لغوی مفہوم بھی موید ہے کہ لفظ زکوٰۃ پاکیزگی طہارت یا پاک صاف رہنے یا کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے جبکہ لفظ زکوٰۃ کا دوسرا معنی نشوونما اور بالیدگی کا ہے جس میں کسی چیز کے بڑھنے پھیلنے پھولنے اور فروغ پانے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ زکوٰۃ کے یہ دونوں معانی اس آیت میں بھی پائے جاتے ہیں۔ اس لیے ارشاد فرمایا:
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَكّٰىهَا۪ۙ. وَ قَدْ خَابَ مَنْ دَسّٰىهَاؕ.
(الشمس، 91: 9، 10)
’’ تحقیق جس نے تزکیہ نفس کیا وہ وہ کامیاب ہوا۔ جو معصیت میں مبتلا ہوا وہ خائب و سر ہوا۔ ‘‘
اس آیہ کریمہ کا اطلاق مال زکوٰۃ پر بھی ہوتا ہے۔ یہ مال زکوٰۃ انسانی نفس کو حرص و لالچ، بخل و طمع، دولت کی اندھی محبت و چاہت اور دولت کی خاطر ہر قسم کی زیادتی و ظلم سے بچاتا ہے۔ مال و دولت کا استعمال اور عدم استعمال اس کی تطہیر اور تغلیظ، طہارت اور عدم طہارت، پاکیزگی اور عدم پاکیزگی، طمع اور عدم طمع، سخاوت اور بخل کا فیصلہ کردیتا ہے۔ دولت کی مثال پانی کی سی ہے اگر پانی کسی جگہ جمع ہوکر دیر تک رکا رہے اور اس کا نکاس کا کوئی بندوبست و انتظام نہ ہو تو اس میں تعفن و بدبو پیدا ہوجاتی ہے تو وہ پانی جو اپنی اصل میں صاف و شفاف، حیات بخش اور صحت افزا تھا مگر متعفن ہونے کی وجہ سے بیماری کا گھر اور موت کا سامان بن جاتا ہے۔ پانی کو صاف و شفاف، حیات بخش اور صحت افزا رکھنے کا طریقہ یہ ہے اس کو ایک جگہ زیادہ دیر تک جمع نہ ہونے دیا جائے اور اس کے نکاس کا خاطر خواہ انتظام ہوتا رہے۔
مال کے حوالے سے زکوٰۃ کو بھی پانی کی مثل حاصل ہے اگر مال و دولت اور سرمایہ سے زکوٰۃ کی صورت میں گردش دولت اور نکاس مال کا انتظام نہ کیا جائے تو یہ مال و دولت انسان کو قارونیت اور فرعونیت کے لبادے میں ملبوس کردیتے ہیں۔ بندہ، بندہ ہی نہیں رہتا، وہ کثرت دولت کے بل بوتے اور دولت کی چمک دمک اور قوت کی بنا پر بندہ ہونے کی بجائے خدا بننے کا دعویدار ہوجاتا ہے اور دوسرے انسانوں کے لیے اندھی قوت و طاقت کا ایک عذاب بن جاتا ہے اور مالی قوت کی بنا پر شیطان صفت ہوجاتا ہے۔ زکوٰۃ انسانی مال سے نکل کر اس مال کو طاہر و مطہر کردیتی ہے۔ اس لیے باری تعالیٰ نے زکوٰۃ کے عمل تطہیر کو قرآن میں یوں واضح کیا ہے۔ ارشاد فرمایا:
خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا.
(التوبہ، 9: 103)
’’ آپ ان کے مالوں میں سے صدقہ، زکوٰۃ وصول کریں تاکہ آپ اس (صدقہ وزکوٰۃ کے ذریعے ان کے مالوں کے باعث انہیں (گناہوں سے) پاک فرما دیں اور ان کو برکت بخش دیں۔ ‘‘
وہ رب جس نے انسان کو مال و دولت کی نعمت عطا کی ہے وہ زکوٰۃ کی ادائیگی کو مال و دولت کی پاکیزگی و طہارت اور اس میں خیرو برکت اور اضافے و بڑھوتری کا باعث بنادیتا ہے تاکہ ہماری آنکھیں زکوٰۃ کی ادائیگی کو مال کی کمی اور نقصان نہ سمجھتی رہیں جبکہ مال دینے والا رب اس عمل زکوٰۃ کو ہمارے اس مال کی تطہیر اور خیر و برکت اور اضافے و بڑھوتری کا سبب بنادیتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی بندگی کو مولا کے حکم کی اطاعت میں رنگ کر اس کی عطاؤں اور نوازشوں کا مزید مشاہدہ کریں۔ زکوٰۃ دینے کے عمل کو قرآن اپنے عمومی اسلوب میں انفاق فی سبیل سے تعبیر کرتا ہے۔ زکوٰۃ جس مال سے ادا کی جائے رب کا وعدہ ہے زکوٰۃ سے مال کم نہیں ہوگا بلکہ وہ مال خیروبرکت کے ساتھ مزید بڑھے گا۔ اس لیے ارشاد فرمایا:
وَ مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمُ ابْتِغَآءَ مَرْضَاتِ اللّٰهِ وَ تَثْبِیْتًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ كَمَثَلِ جَنَّةٍۭ بِرَبْوَةٍ اَصَابَهَا وَابِلٌ فَاٰتَتْ اُكُلَهَا ضِعْفَیْنِ ۚ فَاِنْ لَّمْ یُصِبْهَا وَابِلٌ فَطَلٌّ ؕ وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ بَصِیْرٌ.
(البقرہ، 2: 265)
’’ اور جو لوگ اپنا مال اللہ کی رضا حاصل کرنے اور اپنے آپ کو (ایمان و اطاعت پر) مضبوط کرنے کے لیے خرچ کرتے ہیں ان کی مثال ایک ایسے باغ کی سی ہے جو اونچی سطح پر ہو اس پر زوردار بارش ہو تو وہ دوگنا پھل لائے اور اگر اسے زوردار بارش نہ ملے تو (اسے) شبنم (یا ہلکی سی پھوار) بھی کافی ہو، اور اللہ تمہارے اعمال کو خوب دیکھنے والا ہے۔ ‘‘
اس آیہ کریمہ میں باری تعالیٰ زکوٰۃ کے حوالے سے عمل انفاق کی اہمیت کو واضح کررہاہے۔ سب سے پہلے زکوٰۃ میں انفاق کی نیت ابتغاء مرضات اللہ کی رضا اور خوشنودی کی ہو جب اس نیت و ارادے سے مال خرچ کیا جائے تو عملی زندگی میں اس کی اہمیت کو گلستان و باغ کے ذریعے سمجھا جاسکتا ہے اور ایسا باغ جو کسی بلند جگہ پر لگایا گیا ہو، جہاں لگاتار اور مسلسل بارشیں ہوتی ہوں تو وہ باغ بارش کی کثرت کی بنا پر زمین کو زرخیز بناکر سال میں دو مرتبہ فَاٰتَتْ اُکُلَہَا ضِعْفَیْنِ ثمر آور ہوتا ہے۔ کیونکہ بارش کی کثرت پھل کو کثرت سے لانے کا باعث بن جاتی ہے اور دوسری صورت اس باغ کے پھل دار اور ثمر آور ہونے کی وجہ یہ ہے کہ اگر اس باغ پر بارش نہ بھی برسے تو بھی اس کے لیے شبنم ہی کافی ہوجاتی ہے اور یہ شبنم عموماً بلند ٹیلوں اور پہاڑیوں پر پڑتی ہے۔ جب باغات میں شبنم گرتی ہے تو یہ بارش کے قائم مقام ہوجاتی ہے۔
غرضیکہ وہ باغ ہر صورت میں پھل ضرور لاتا ہے۔ خواہ اس پر بارش برسے یا نہ برسے اس باغ کے لیے تو صرف شبنم ہی کافی ہوجاتی ہے اور یوں وہ باغ اپنا پھل ضرور لاتا ہے۔ راہ خدا میں خرچ کرنے کا معاملہ بھی کچھ اسی طرح ہے وہ رب اپنی بارگاہ میں سے خرچ کرنے والے کو بے حدو بے حساب اجرو صلہ عطا کرتا ہے۔ انفاق فی الزکوٰۃ کا عمل پھل کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے جب تک باغ کو بارش یا شبنم پہنچتی رہتی ہے اس کی پیداوار مسلسل بڑھتی رہتی ہے اور یہ پھل اپنی مقدار میں کئی گناہ زیادہ ہوتا ہے اور اس پھل میں اضافہ صرف اور صرف بارش کے متواتر اور شبنم کے مسلسل ہونے کی وجہ سے ہوتاہے۔
یوں یہ حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ زکوٰۃ کا عمل مال و دولت میں بے پناہ اضافے اور روحانی و جسمانی استعدادصلاحیت کو تقویت دینے کے لیے ہوتا ہے۔ زکوٰۃ کے ذریعے جہاں ثواب بڑھتا ہے وہاں اس کے عملی نفاذ سے معاشرے سے معاشی تعطل کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اسی طرح قرآن ایک اور مقام پر اپنے مالوں میں سے زکوٰۃ نکالنے اور زکوٰۃ کی صورت میں عمل انفاق کو اپنانے کی اہمیت کو یوں اجاگر کرتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍ ؕ وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُ ؕ وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ.
(البقرہ، 2: 261)
’’ جو لوگ اللہ کی راہ میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال (اس) دانے کی سی ہے جس سے سات بالیاں اگیں (اور پھر) ہر بالی میں سو دانے ہوں (یعنی سات سو گنا اجر پاتے ہیں) اور اللہ جس کے لیے چاہتا ہے (اس سے بھی) اضافہ فرما دیتا ہے، اور اللہ بڑی وسعت والا خوب جاننے والا ہے۔ ‘‘
اس آیہ کریمہ میں باری تعالیٰ نے اپنے بندوں کو کس قدر خوبصورت اور دلکش اور حسین پیرائے میں انفاق کے عمومی عمل اور زکوٰۃ کے لیے عمل انفاق کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ زکوۃ کے لیے ایک روپیہ، ایک دینار، ایک درہم، ایک ڈالر خرچ کرنا ایسے ہی ہے جیسے ایک دانہ زمین میں بونا اور کاشت کرنا ہے۔ جب اس ایک دانے حبۃ کو زمین میں بویا جائے تو وہ اپنے تنے و اپنی شاخ میں سات بالیوں اور خوشوں کی صورت میں برگ و بار لاتا ہے۔ اس ایک دانے کی سات بالیوں اور خوشوں میں سے ہریالی اور خوشہ گندم اپنے اندر ایک سو دانے کو اپنے دامن میں لیے ہوئے کھیت کے سینے پر خود کو لہراتاہے اور اپنے خالق کی شان خالقیت اور شان قدرت کی گواہی دیتا ہے۔ زکوٰۃ کا وہ عمل انفاق جو ایک دانے حبۃ سے شروع ہوا وہ سبع سنابل سات بالیوں میں متشکل ہوا پھر وہ سات بالیاں سبع سنابل میں سے ہریالی فی کل سنبلۃ مائۃ حبۃ سو دانوں کی حامل ہوئی۔
گویا ایک دانہ حبۃ مائۃ حبۃ کی شکل اختیار کرگیا۔ باری تعالیٰ کی عمل انفاق میں یہ عطا اور اجر عمومی ضابطہ عطاکے مطابق ہے جبکہ وہ رب اپنے مخلص لہ الدین دین میں اخلاص رکھنے والے بندوں اور اس کی بندگی میں کمال پانے والے بندوں کو اس عمومی ضابطے سے ہٹ کر عطا کرتا ہے۔ جس کو قرآن نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے:
وَاللہ یضاعِفُ لِمَن یش
’’اور جس کو وہ رب چاہتا ہے اس عمومی ضابطے سے بڑھ کر عطا کرتا ہے۔ ‘‘
جیسے جس بندے کو چاہتا ہے اسے رزق بے حساب دیتا ہے۔
وَ اللّٰهُ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ بِغَیْرِ حِسَابٍ.
(البقرہ، 2: 212)
’’ اور اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب نوازتا ہے۔ ‘‘
باری تعالیٰ نے زکوٰۃ ہو یا صدقہ و خیرات ہو یا کسی بھی نیکی اور خیر کا عمل انفاق ہو۔ حتی کہ اگر کسی شخص نے کسی کے ساتھ کوئی اچھائی اور بھلائی ہی کیوں نہ کی ہو اس کے لیے ضابطہ حیات یہ دیا ہے۔ اپنی نیکی اور خیر کو لوجہ اللہ کیا کرو۔ انسانوں سے اس نیکی و خیر کے کسی صلے کی توقع نہ کیا کرو اور ان پر احسان مت جتلایا کرو اور ان کو طرح طرح کی اذیت و تکلیف دے کر بارِ احسان میں مت لایا کرو۔ پس اس نیکی و خیر کو خدا کی طرف سے توفیق جانتے ہو اس کے صلے اور اجر کی توقع اور امید فقط اپنے مولا سے ہی رکھا کرو۔ اس لیے ارشاد فرمایا:
یٰٓـاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِکُمْ بِالْمَنِّ وَالْاَذٰی.
(البقرہ، 2: 264)
’’ اے ایمان والو! اپنے صدقات کو احسان جتا کر اور دُکھ و اذیت دے کر مت کیا کرو۔ ‘‘
زکوٰۃ کو باری تعالیٰ نے اہل ایمان کی زندگیوں میں اس لیے فرض کیا ہے کہ انسان اپنے نفس کی وجہ سے طبعی طور پر حرص و لالچ کی طرف زیادہ میلان اور رغبت رکھتا ہے۔ دنیوی زندگی کی زینت اور کشش میں سے سب سے بڑی چیز مال و دولت ہے۔ اس لیے انسان مال کی شدید چاہت رکھتا ہے۔ قرآن اس حقیقت کو بھی بیان کرتا ہے۔ ارشاد فرمایا:
وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّا.
(الفجر، 89: 20)
’’ اور تم مال و دولت کی حد درجہ محبت رکھتے ہو۔ ‘‘
اب یہ مال کی بے پناہ اور شدید محبت انسان کے اندر اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے کی صفت سوء بخل کو جنم دیتی ہے۔ اب اسی بخل کی وجہ سے وہ سونے و چاندی اور دیگر دنیوی مال و دولت کو زیادہ سے زیادہ جمع کرتا ہے اور ان کو خرچ نہیں کرتا ہے اس لیے قرآن ان لوگوں کی حالت کو یوں بیان کرتا ہے:
وَ الَّذِیْنَ یَكْنِزُوْنَ الذَّهَبَ وَ الْفِضَّةَ وَ لَا یُنْفِقُوْنَهَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ.
(التوبۃ، 9: 34)
’’ اور وہ لوگ سونا اور چاندی کا ذخیرہ کرتے ہیں اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ ‘‘
جب اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے کا یہ عمل عدم انفاق ان میں پروان چڑھنے لگتا ہے تو ان کے اندر بخل کی بڑی خصلت پنپنے لگتی ہے اور یہ بخل بہت سی بد اخلاقیوں کی اساس اور جڑ بن جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے انسانوں کے اندر خیانت اور بددیانتی آتی ہے، بے مروتی اور بے رحمی کی خصلت آتی ہے۔ اس سے دوسرے انسانوں کے ساتھ بدسلوکی و بدتمیزی پروان چڑھتی ہے۔ حرص و طمع میں اضافہ ہوتا ہے۔ لالچ اور تنگ نظری بڑھتی ہے کم ہمتی اور بزدلی پیدا ہوتی ہے۔ یہ ساری برائیاں زکوٰۃ نہ دینے کی وجہ سے بخل کی وجہ سے پیدا ہوتی ہیں۔ انسان کے عمل بخل کے حوالے سے متعدد آیات میں وعید آئی ہے، بخل کی عادت انسان کو جنت سے محروم کرکے دوزخ کی طرف لے جاتی ہے اور انسان کو اللہ کی محبت سے محروم کرتی ہے۔ یہ اس رب کا اپنے بندوں پر احسان ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو بخل اور اس سے پیدا ہونے والی برائیوں سے بچانے کے لیے ان پر زکوٰۃ کو فرض کیا ہے تاکہ زکوٰۃ ان کے نفوس کو بخل جیسی بری خصلت سے پاک کردے۔
(پروفیسر خدا بخش، اسلامی اخلاق و تصوف، ایورنیو بک پیلس لاہور، ص131)
باری تعالیٰ نے اہل ایمان کو صراحۃ حکم دیا ہے کہ اپنے مالوں کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو۔ ارشاد فرمایا:
وَّ اٰتُوْهُمْ مِّنْ مَّالِ اللّٰهِ الَّذِیْۤ اٰتٰىكُمْ.
(النور، 24: 33)
’’اور تم انہیں اللہ کے مال میں سے دو جو اس نے تمہیں عطا فرمایا ہے۔ ‘‘
اسلام تو انسان کے پاس ہر مال کو اس کی ملکیت مطلقہ میں نہیں رکھتا ہے، اس لیے ملکیت مطلقہ تو فقط اللہ کے لیے ہے۔ انسان کے پاس مال اللہ کی عطا کردہ امانت ہے۔ باری تعالیٰ بندوں کو اس مال میں تصرف کرنے کے لیے مختلف حکمتوں اور مصلحتوں کے پیش نظر اس کو عارضی طور پر اس مال کا مالک بناتا ہے جبکہ حقیقتاً وہ بندہ اس مال کا امین ہوتا ہے۔ کوئی امانت کسی کے پاس اس وقت تک ہی رہتی ہے جب تک اس امانت سے دوسرے لوگوں کو نفع پہنچتا رہتا ہے اور اس امانت کے جملہ حقوق ادا ہوتے رہتے ہیں اور اگر کوئی اس امانت میں خیانت کرنے لگے اور اس امانت کے جملہ حقوق میں کوتاہی برتنے لگے تو اس کے اس ٖغیر ذمہ دارانہ اور استحصالی رویے کی بنا پر وہ امانت اور نعمت واپس لے لی جاتی ہے۔ یوں انسان پر فقرو فاقہ اور افلاس و مجبوری کے سائے دراز ہوجاتے ہیں۔ اپنے مال سے زکوٰۃ کو پابندی سے نکالنا اور اسے اس کے حقداروں میں خرچ کرنا ہی اللہ کے مال کی امانت کا حق ادا کرنا ہے۔ اگر یہ حق کماحقہ ادائیگی سے محروم ہوجائے اور اس امانت میں خیانت کا سلسلہ شروع ہوجائے تو یوں اس نعمت امانت کو پانے والا اس سے محروم ہوجاتا ہے۔
(ڈاکٹر طاہرالقادری، قرآنی فلسفہ انقلاب، منہاج پبلی کیشنز، ص154)
زکوٰۃ کا مال از روئے شرع انفاق واجبہ میں سے ہے اسلام تو اس سے بھی آگے کی بات کرتا ہے کہ انفاق نافلہ کے طور پر بھی اپنے مال کو اللہ کی راہ میں خرچ کرو اس حوالے سے قرآن تصور عفو دیتا ہے کہ جو کچھ تمہاری ضرورت سے زائد ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کردو۔ اس لیے فرمایا:
وَ یَسْـَٔلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ ؕ۬ قُلِ الْعَفْوَ.
(البقرہ، 2: 219)
’’وہ آپ سے سوال کرتے ہیں کیا خرچ کریں آپ فرمادیجئے جو ضرورت سے زائد ہے اسے اللہ کی راہ میں خرچ کردو۔ ‘‘
زکوٰۃ بندے پر اللہ کا حق شکرانہ ہے۔ رب نے اپنے بندے کو طرح طرح کی نعمتوں سے نوازا ہے۔ انسان کی عقل و خرد کہتی ہے کہ اپنے منعم کے لیے عمل تشکر ادا کیا جائے۔ اس لیے بندہ مومن اپنی زبان کے ذریعے الحمدللہ اور الشکرللہ کے کلمات سے اللہ کا شکر ادا کرتا ہے۔ کبھی اپنے سارے جسم و وجود اور اپنے کل اعضا کو اس کی نعمت پر شکرانے میں معروف کردیتا ہے۔ نماز میں تکبیر تحریمہ، رکوع، سجدہ، قیام اور تعوذ کرکے شکرانہ ادا کرتا ہے۔ حج میں جملہ مناسک حج اور طواف و رمی کرکے حقِ شکر اداکرتا ہے۔ غرضیکہ ہماری ساری کی ساری عبادات اللہ کے شکرانے کا نام ہیں۔ اپنے مال سے زکوٰۃ نکال کر اور زکوٰۃ دے کر بندہ درحقیقت اللہ کی بارگاہ میں فعل شکرانہ ادا کرتا ہے کہ وہی رب ہے جس نے اس بندے کو اپنی زندگی میں فقر و فاقہ کے پنجوں سے نجات دی ہے جس نے اس کو کسی کا محتاج نہیں بنایا ہے۔
جس نے اس بندے کو کسی کے در کا سوالی اور منگتا نہیں بنایا ہے اور جس نے اس بندے کو فقیر و سائل بن کر ہر کسی سے دست سوال دراز کرنے والا نہیں بنایا ہے، جس نے اس کو مانگنے کی ذلت سے بچایا ہے اور کمینوں کے بخل کی زنجیروں میں خود کو جکڑنے سے محفوظ کیا ہے خوشی کے تہواروں کے مواقع پر بھی اس کو در در کا سوالی نہیں بنایا ہے۔ اس کے کپڑوں کو بوسیدہ و دریدہ نہیں بنایا ہے۔ اس کو دنیوی زیب و زینت کی ہر چیز عطا کی ہے، اس کے دستر خوان کو اپنی نعمتوں سے خالی نہیں رکھا ہے اور اس کو مال و دولت کی کثرت اور فراوانی عطا کی ہے۔ اب یہ کسی کے سامنے سوال نہیں کرتا ہے بلکہ کسی سوال کرنے والے کو اپنی نعمت مال سے دے کر اللہ کی نعمت کا شکرانہ بھی ادا کرتا ہے اور اس کو اللہ کی رحمت سے مایوس بھی نہیں ہونے دیتا ہے، زکوٰۃ دینے کی صورت میں یہ فعل شکرانہ مال میں زیادت اور کثرت کا باعث بنتا ہے۔ جس کی تائید و تصدیق نص قطعی سے ہوتی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ.
(ابراہیم، 14: 7)
’’اگر تم میری نعمتوں پر شکر ادا کرو میں ان میں مزید اضافہ کروں گا۔ ‘‘
خلاصہ کلام
دین اسلام درحقیقت اللہ اور اس کے بندوں کے حقوق ادا کرنے کا دوسرا نام ہے۔ نماز میں بندہ اپنے رب کی محبت اور خشیت کی طرف مائل ہوتاہے جبکہ زکوٰۃ میں بندہ دوسرے بندوں کی محبت اور شفقت کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ عربی زبان میں لفظ زکوٰۃ، پاکیزگی، طہارت، بڑھوتری اور برکت کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ شریعت اسلامی میں زکوٰۃ ایک مخصوص مال کے ایک مقررہ حصے کو کہا جاتا ہے جو سالانہ بنیادوں پر مال سے نکالا جاتا ہے۔ قرآن حکیم نے لفظ زکوٰۃ کے متبادل الفاظ بھی استعمال کیے ہیں جن میں صدقہ، صدقات اور انفاق کے الفاظ بھی لفظ زکوٰۃ کے مفہوم میں آتے ہیں۔ (اردو انسائیکلو پیڈیا)
زکوٰۃ کا مقصد فلاح عامہ ہے اور ریاست کے ہر شہری کی بنیادی ضروریات زندگی کی فراہمی ہے۔
(ڈاکٹر طاہرالقادری، قرآنی فلسفہ انقلاب، منہاج پبلی کیشنز، لاہور، ص147)
مستحق لوگوں تک زکوٰۃ کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے تاکہ اس کے ہر باشندے کو بنیادی ضروریات کے حق میں برابر کا شریک ہونے کی وجہ سے اس کو اس کا لازمی حق ملے۔ گویا ہر صاحب حق کو اس کا حق فراہم کرنا زکوٰۃ کی فرضیت کا بنیادی اور مرکزی نقطہ نظر اور مقصد ہے۔ زکوٰۃ درحقیقت زندگی بسرکرنے کے لیے ایک مال ہے اور مال قیام حیات کا ضامن بنتا ہے۔ اس لیے باری تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
اَمْوَالَكُمُ الَّتِیْ جَعَلَ اللّٰهُ لَكُمْ قِیٰمًا.
(النساء، 4: 5)
’’مال جن کو باری تعالیٰ نے تمہاری معیشت کی استواری کا باعث بنایا ہے۔ ‘‘
مال انسانی زندگی کے لیے سرمایہ، زاد راہ اور سامانِ زیست ہے۔ اس لیے حکم دیا اس مال کو معاشرے کے ہر ہر فرد تک اس طرح گردش میں رکھو جیسے انسانی جسم کے ہر ہر عضو میں خون کی گردش رہتی ہے۔ جہاں خون نہیں پہنچتا وہ عضو معطل ہوجاتا ہے اور جہاں مال نہ ہو وہاں چوریاں اور ڈکیتیاں ہوتی ہیں۔ دجل بازیاں اور دھوکے سازیاں بڑھنے لگتی ہیں۔ معاشرے میں حرام خوری، بدعنوانی، ناجائز منافع خوری، شیطنت کاری اور فساد انگیزی بڑھنے لگتی ہے۔ اس لیے اپنے مال سے غریبوں، ناداروں، مفلسوں، یتیموں، بیواؤں، بے سہاروں کا حصہ نکالنا انسانی عقل کا لازمی تقاضہ ہے تاکہ معاشرہ جرائم سے پاک ہوجائے اور مالداروں کے مال سے غریبوں کا حق زکوٰۃ کی صورت میں نکلنے جانے سے وہ مال پاک ہوجائے اور باعث خیرو برکت ہوجائے اور مزید نمود بڑھوتری والا ہوجائے۔ زکوٰۃ دینے سے انسان کے وجود سے خود غرضی، تنگ دلی اور زبردستی کا خاتمہ ہوتاہے۔ انسانی روح کو پاکیزگی او بالیدگی حاصل ہوتی ہے۔ زکوٰۃ انسان کے مال کو پاک اور اس کے نفس کا تزکیہ کرتی ہے۔
الَّذِیْ یُؤْتِیْ مَالَہٗ یَتَزَکّٰی.
(اللیل، 92: 18)
’’ جو اپنا مال (اللہ کی راہ میں) دیتا ہے کہ (اپنے جان و مال کی) پاکیزگی حاصل کرے۔ ‘‘
زکوٰۃ خود برضا و رغبت بھی دی جاتی ہے اور حکومتی نظم و نسق کے تحت بھی اداکی جاتی ہے۔
خُذْ مِنْ اَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَ تُزَكِّیْهِمْ بِهَا.
(التوبۃ، 9: 103)
’’ آپ ان کے اموال میں سے صدقہ (زکوٰۃ) وصول کیجیے کہ آپ اس (صدقہ) کے باعث انہیں (گناہوں سے) پاک فرما دیں۔ ‘‘
معاشرے کے ناداروں، مفلسوں، محتاجوں اور غریبوں کو زکوٰۃ دینے کا مقصد منتہا صرف اور صرف اللہ کی رضا اور خوشنودی ہونا چاہیے۔
وَ مَاۤ اٰتَیْتُمْ مِّنْ زَكٰوةٍ تُرِیْدُوْنَ وَجْهَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُضْعِفُوْنَ.
(الروم، 30: 39)
’’ اور جو مال تم زکوٰۃ (و خیرات) میں دیتے ہو (فقط) اللہ کی رضا چاہتے ہوئے تو وہی لوگ (اپنا مال عنداللہ) کثرت سے بڑھانے والے ہیں۔ ‘‘
زکوٰۃ معاشرے کے امیروں سے لی جاتی ہے اور سماج کے غریبوں اور ضروتمندوں کو دی جاتی ہے۔ امیروں کے مالوں
میں غربیوں کو حقدار اور حصہ دار خود باری تعالیٰ نےبنایا ہے:
وَ فِیْۤ اَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِّلسَّآىِٕلِ وَ الْمَحْرُوْمِ.
(الذاریات، 51: 19)
اور اُن کے اموال میں سائل اور محروم (سب حاجت مندوں) کا حق مقرر تھا۔ ‘‘
زکوٰۃ دینے کے عمل کو قرآن نے عمل خیر قرار دیا ہے۔
ھُوَ خَیْرًا لَّھُمْ.
(آل عمران، 3: 180)
اور زکوٰۃ کے فرض کا انکار کرنے والوں کے فعل کو قرآن برا اور کافرانہ عمل کہا ہے۔
بَلْ ھُوَ شَرٌّ لَّھُمْ.
زکوٰۃ کو زکوٰۃ اسی لیے کہتے ہیں کہ یہ انسان کے مال کو پاک اور طاہر کردیتی ہے اور انسان کے وجود کو ہر گناہ و معصیت سے دھو دیتی ہے اور بخل و گناہ کے عذاب سے بچاکر انسان کو جنتی بناتی ہے اور مال میں خیرو برکت اور ترقی و بڑھوتری کا باعث بنتی ہے۔
(مولانا اشرف علی تھانوی، احکام اسلام عقل کی نظر میں، مکتبہ رحمانیہ لاہور، ص92)
یہی وجہ ہے رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کے ہر ہر فرد کویہ ترغیب دی ہے کہ وہ زکوٰۃ لینے والا نہیں بلکہ زکوٰۃ دینے والا بنے۔ زکوٰۃ دینے والا اوپر کا ہاتھ اور زکوٰۃ لینے والا نچلا ہاتھ ہے۔ اس لیے فرمایا:
الید العلیا خیر من البلد السفلی.
(مسلم بن حجاج، الجامع الصحیح، کتاب الزکاۃ باب ان الید العلیا، 2: 718)
’’اوپر والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے، دینے والا ہاتھ لینے والے ہاتھ سے بہتر ہے۔ ‘‘
جس مال سے غریبوں کے حق زکوٰۃ کو نکال دیا جائے تو وہ مال نہ صرف پاک ہوتا ہے بلکہ بہت سی آفات و مصائب سے انسان کو بچانے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس لیے ھادی کائنات نے فرمایا:
من ادی زکاۃ مالہ فقد ذھب عنہ شرہ.
(ابن خزیمہ، الجامع الصحیح، 4: 13، رقم الحدیث 2258)
’’جس نے اپنے مال سے زکوٰۃ ادا کردی وہ زکوٰۃ کے باعث اپنے مال کے شر اور فتنے سے بچا رہا۔ ‘‘
اس لیے اپنی امت کو ادائیگی زکوٰۃ کے عمل کی تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:
حصنوا اموالکم بالزکاۃ.
(سنن ابی داؤد، کتاب المراسیل، 133)
’’اپنے مال و دولت کی زکوٰۃ کے ذریعے حفاظت کیا کرو۔ ‘‘
زکوٰۃ کوئی معمولی عمل نہیں ہے بلکہ یہ عمل زکوٰۃ دینے والے کی شخصیت میں کمال کا باعث ہے تو دوسری طرف اس شخص کی ذات میں اسلام کی تکمیل سبب ہے اس لیے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
ان تحام اسلامکم ان تودوا زکاۃ اموالکم.
(طبرانی، معجم الکبیر، 18: 8، رقم6)
’’تمہارے اسلام کی تکمیل یہ ہے کہ تم اپنے مال سے زکوٰۃ ادا کیا کرو۔ ‘‘
انسان کا بخیلانہ اور زرپرستانہ کردار زکوٰۃ میں رکاوٹ بنتا ہے۔ انسان حبِ مال میں اللہ کے احکام کی اطاعت سے صرف نظر کرجاتا ہے جس کی بنا پر وہ دنیا و آخرت میں اس کے عتاب، غضب اور عذاب کا خود کو مستحق بناتا ہے۔ زکوٰۃ کے ذریعے ہمارا معاشرہ اور سماج ایک مطلوبہ معیار زندگی پر استوار ہوتے ہیں۔ یہی اسلام کا اقتصادی نظام ہماری حقیقت کی روح ہے۔ جس کے تحت امیر اور غریب، خوشحال اور بدحال، فراخ دست اور تنگ دست دونوں کو یکساں معیار زندگی کی اساسی سہولیات اور بنیادی ضروریات فراہم ہوتی ہیں۔ زکوٰۃ کے عمل میں تسلسل اور مواظبت سے انسانی معاشرے سے ہر سطح کا فساد اور ہر نوع کا استحصال ختم ہوجاتا ہے۔ یوں انسانی معاشرہ پرامن اور سلامتی والا بن جاتا ہے۔ ہمارے اس معاشرے میں انسانوں کے اقتصادی مسائل حل کرنے کے لیے سوشلزم بھی ایک امید بن کر آیا مگر اس نے افراد معاشرہ سے انفرادی حق ملکیت چھین لیا۔ اس غیر فطرتی احترام پر وہ وقت کےساتھ ساتھ دنیا سے آج نسیا منسیا ہوگیا ہے اور اس کے مقابل سرمایہ دارانہ نظام بھی انسانوں کے معاشی مسائل حل کرنے کے لیے ایک آس بن کر آیا مگر اس نے سوشلزم کے برعکس افراد معاشرہ کو کل حق ملکیت دے دیا اور ان کو ملکیت مطلقہ اور مالک کل کا حامل بنادیا جس میں دوسرے افراد معاشرہ کا ذرا برابر کوئی حق نہ تھا۔ اس نظام نے دولت کو چند ہاتھوں اور چند خاندانوں میں مرتکز کردیا اور اس نظام نے مالداروں کو مزید مالدار بنایا اور غریبوں کو مزید غریب کیا۔ یوں یہ نظام غریبوں کا خون چوسنے لگا اور ان کے بنیادی حقوق حیات کا استحصال کرنے لگا تو اس نظام سرمایہ داری اور سرمایہ داروں کے خلاف دنیا کے ہر ہر کونے سے یہ صدائے احتجاج بلند ہونے لگی جس کی ترجمانی یہ منظوم کلام کرتا ہے کہ
مکر کی چالوں سے بازی لے گیا سرمایہ دار
انتہائے سادگی سے کھا گیا مزدور مات
ملیں اسی لیے ریشم کے ڈھیر بنتی ہیں
کہ دخترانِ وطن تار تار کو ترسیں
چمن کو اس لیے مالی نے خون سے سینچا تھ
کہ اس کی اپنی نگاہیں بہار کو ترسیں
(ساحر لدھیانوی)
ان دونوں نظاموں کے درمیان تیسر امعاشی نظام اسلام کا ہے جو افراد معاشرہ کو انفرادی ملکیت کا حق بھی دیتا ہے اور اپنے مال کا کل مالک بھی نہیں بناتا اور نہ ہی کل حق ملکیت دیتا ہے بلکہ مال کی حقیقی ملکیت اللہ کے لیے ثابت کرتے ہوئے اسے اپنے مال کا امین بناتا ہے اور اس کے تصرف میں اس کو مالک بناتا ہے اور معاشرے کے ناداروں، مفلسوں کا حق اس کے مال میں رکھتے ہوئے اسے یہ تصور سمجھا دیتا ہے کہ وفی اموالہم حق للسائل والمحروم جس کی وجہ سے وہ زکوٰۃ کو انسانوں کی کفالت کے ساتھ اللہ کی عبادت بھی سمجھتا ہے۔ یوں زکوٰۃ معاشرے کے امیروں سے لی جاتی ہے اور غریبوں کو دی جاتی ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اسلام کی تعلیمات کو پورے تیقن و ایقان اور اعتماد و اعتبار سے جانیں اور سمجھیں اور ان پر خلوص دل کے ساتھ عمل کریں۔ ہم من حیث القوم اپنے کردار میں الا ماشاء اللہ دوغلے پن کا شکار ہیں اور اپنی شخصیت میں دو رخی شناخت رکھتے ہیں۔ ہر شعبے میں اپنی ذات کے منافقانہ عمل کی پہچان رکھتے ہیں، اپنے کریم رب کے ساتھ بھی دغا بازی اور دجل سازی کرتے ہیں اور اس کی کامل بندگی اختیار نہیں کرتے ہیں اور اس کے بندوں کے ساتھ بھی مخلص اور وفادار نہیں ہوتے ہیں۔ ہمیں بحیثیت مسلمان اور بحیثیت انسان ایک اعلیٰ انسانی کردار کو اپنی شخصیت میں تشکیل کرنا ہے۔ ہمارے جملہ فرائض میں اور ادائیگی زکوٰۃ کے عمل میں بھی ہمارا یہی فاسقانہ کردار سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس لیے ہمیں انفرادی اور اجتماعی حیثیت سے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہوج
سراسر موم یا سنگ ہوجا