اداریہ: اسلام اور جدید دور میں خواتین کا فعال کردار

ایڈیٹر دختران اسلام

ملک کی ترقی اور خوشحالی کا تعلق ہر فرد کی علمی، سماجی اور اقتصادی شرکت سے ہے، مگر خواتین کی شرکت کی اہمیت آج کے دور میں خاص طور پر نمایاں ہو گئی ہے۔ اسلام نے خواتین کو مردوں کے برابر عزت، حقوق اور ذمہ داریوں کے ساتھ ایک فعّال معاشرتی رکن کے طور پر پیش کیا ہے۔ قرآنِ کریم اور سنتِ نبوی ﷺ میں واضح ہے کہ خواتین کو علم حاصل کرنے، معاشرتی فلاح کے کاموں میں حصہ لینے، اور اپنے معاشرے کی تعمیر میں سرگرم ہونے کی اجازت اور حوصلہ دیا گیا ہے۔ یہی تعلیمات آج کے جدید معاشروں میں خواتین کے کردار کو مزید بامعنی اور ضروری بناتی ہیں۔

ملکی ترقی کا دارومدارمحض صنعتی یا اقتصادی اقدامات پر نہیں ہے بلکہ سماجی و اَخلاقی ترقی پر بھی ہے۔ خواتین، جو معاشرتی اور گھریلو تربیت کا ستون ہیں، وہ تعلیم، صحت، تربیت اور معاشرتی ہم آہنگی کے شعبوں میں اہم کردار ادا کر کے قومی ترقی کو تیز کر سکتی ہیں۔ اگر ہم اپنے معاشرے میں خواتین کی صلاحیتوں کو بروئے کار لائیں، تو یہ نہ صرف معاشرتی توازن بلکہ اقتصادی خودمختاری اور اخلاقی استحکام کی بنیاد بھی بن سکتی ہیں۔ آج کے دور میں خواتین تعلیم، صحت، سائنسی تحقیق، ٹیکنالوجی، کاروبار اور سماجی خدمات کے شعبوں میں اپنی مہارتوں اور صلاحیتوں کو منوانے میں کامیاب ہو رہی ہیں۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں خواتین نے معاشی نمو، سائنسی جدت، اور سماجی انصاف میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان میں بھی خواتین کو یہ موقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے علم، ہنر اور صلاحیتوں کو ملک کی خدمت میں لگائیں۔ خواتین کی قومی ترقی میں حصہ داری کے لیے سب سے پہلا اور بنیادی قدم تعلیم ہے۔ تعلیم یافتہ خواتین نہ صرف اپنی ذاتی زندگی بہتر بنا سکتی ہیں بلکہ اپنے بچوں، خاندان اور معاشرتی حلقے کے لیے بھی مثبت اثرات مرتب کرتی ہیں۔ معاشرتی اور مذہبی تعلیمات میں خواتین کو فعال کردار دینے پر زور دیا گیا ہے، اور آج کا جدید دور ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ تعلیمی سرمایہ کاری ہر معاشرت کی بنیاد ہے۔ خواتین کو اعلیٰ تعلیم، فنی تربیت، اور عملی مہارتوں کے مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ کاروبار، صنعت، تحقیق اور سائنسی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔ دوسرا اہم پہلو خواتین کی اقتصادی شمولیت ہے۔ خواتین کی ملازمت، کاروبار یا خود مختار پیشہ ورانہ سرگرمیوں کو فروغ دینا معاشرتی ترقی میں انقلاب برپا کر سکتا ہے۔ اگر خواتین معاشی طور پر خودمختار ہوں، تو نہ صرف ان کا اعتماد بڑھتا ہے بلکہ گھر اور معاشرہ بھی مضبوط ہوتا ہے۔ اسلام نے خواتین کو معیشت میں حصہ لینے کا حق دیا ہے۔ خواتین کی چھوٹے اور بڑے کاروبار میں شرکت، ہنر مند تربیت، اور کاروباری مواقع پیدا کرنے سے ملک کی اقتصادی ترقی میں اضافہ ہوگا۔ تیسرا اور نہایت اہم پہلو خواتین کی سماجی اور اخلاقی ذمہ داریاں ہیں۔ خواتین معاشرتی اقدار، تربیت اور اخلاقی اصولوں کی بنیاد رکھتی ہیں۔ ایک تعلیم یافتہ اور باشعور خاتون نہ صرف اپنے گھر بلکہ اپنے معاشرے میں بھی فلاح اور استحکام لا سکتی ہے۔ قومی ترقی صرف مالی یا صنعتی نہیں بلکہ اخلاقی و سماجی ترقی پر بھی منحصر ہے۔ چوتھا اہم عنصر صحت اور فلاحی شعبے میں خواتین کا کردار ہے۔ خواتین کی صحت اور بچوں کی پرورش میں فعال شمولیت سے قوم کی سماجی اور جسمانی صحت میں بہتری آتی ہے۔ تعلیم یافتہ اور صحت مند خواتین نہ صرف اپنے خاندان بلکہ پورے معاشرے کے لیے رہنمائی فراہم کر سکتی ہیں۔ آج کے دور میں صحت، ماہر نفسیات، اور کمیونٹی سروس کے شعبے میں خواتین کی شرکت قومی ترقی کے لیے نہایت ضروری ہے۔

خواتین کی ترقی مردوں کے ساتھ تعاون اور ہم آہنگی سے ممکن ہے۔ خواتین کو حقوق دینے اور انہیں فعال کردار کے مواقع فراہم کرنے سے نہ صرف ملک کی ترقی ممکن ہوگی بلکہ معاشرتی ہم آہنگی، اخلاقی اصولوں اور مذہبی تعلیمات کی عملی پیروی بھی ممکن ہوگی۔ خواتین کو صرف گھر کی زینت سمجھنے کی سوچ کو ترک کر کے ان کی صلاحیتوں کو بروئے کار لانا وقت کی ضرورت ہے۔

اسلام میں خواتین کو محض دُکاندار، ملازم یا خدمتگار کے طور پر نہیں بلکہ ایک بااختیار اور ذمہ دار شہری کے طور پر دیکھا گیا ہے۔ حضرت خدیجہؓ، حضرت عائشہؓ اور دیگر صحابیاتؓ نے اسلام کی ترقی اور معاشرتی خدمات میں تاریخی کردار ادا کیا۔ آج بھی ہمیں انہی تعلیمات کو زندہ کر کے خواتین کو ملکی ترقی میں ایک فعال ستون بنانا ہے۔