سعدیہ کریم

عبادات اور نیک اعمال کی بربادی کا سبب

دکھاوا کرنا اور ظاہر داری کو ریاکاری کہا جاتا ہے جس کا مطلب ہے کہ محض لوگوں کو دکھانے کے لیے اور لوگوں کے دلوں میں اپنی قدرو منزلت بڑھانے کے لیے کوئی بھی عمل کیا جائے۔ ریاکاری اور دکھاوا دین اور دنیا دونوں کے معاملات میں ہوتا ہے لیکن جب معاملہ دینی اعمال کا ہو تو ریاکاری ایک معیوب اور گھناؤنا فعل بن جاتی ہے کیونکہ عبادات یا نیک اعمال کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی اور رحمت طلبی کے بجائے لوگوں کو دکھانا ہوتا ہے کہ ہم بہت نیک، پارسا اور عبادت گزار ہیں یعنی تمام نیک اعمال اس نیت سے کیے جائیں کہ لوگوں میں عبادات گزار، بزرگ اور نیک مشہور ہوجائیں۔

ریاکاری اخلاص کی ضد ہے۔ اخلاص کے ساتھ جو بھی نیک عمل کیا جاتا ہے صرف وہی اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوتا ہے اور اسی کا اجر بھی عطا کیا جاتا ہے لیکن ریاکاری کا مقصد صرف لوگوں کی ستائش کا حصول ہوتا ہے۔ اس لیے ایسا عمل اللہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہوت۔ بعض اوقات تھوڑے عمل کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں چرچا ہو۔ یہ بھی ریاکاری اور دکھاوا ہی ہوتا ہے۔

قرآن و سنت کی روشنی میں نام و نمود اور ریاکاری کی مذمت

ریاکاری ایک ایسا فعل ہے جو نیک اعمال کو ضائع کردیتا ہے اور ان کی ساری حیثیت کو اللہ تعالیٰ کی نظر میں ختم کردیتا ہے۔ ریاکار اپنی طرف سے یہ سوچ کر خوش ہوتا ہے کہ وہ نیک اعمال کررہا ہے اور اس کا اجر بھی اسے ضرور ملے گا مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اسی لیے قرآن و حدیث میں اس فعل کی سنگینی کو واضح کردیا گیا ہے تاکہ لوگ اس کی تباہ کاریوں سے بچ سکیں۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:

فَوَیْلٌ لِّلْمُصَلِّیْنَ. الَّذِیْنَ ھُمْ عَنْ صَلَاتِھِمْ سَاھُوْنَ. الَّذِیْنَ ھُمْ یُرَآءُوْنَ.

(الماعون، 107: 4۔6)

’’ پس افسوس (اور خرابی) ہے ان نمازیوں کے لیے۔ جو اپنی نماز (کی روح) سے بے خبر ہیں (یعنی انہیں محض حقوق اﷲ یاد ہیں حقوق العباد بھلا بیٹھے ہیں)۔ وہ لوگ (عبادت میں) دکھلاوا کرتے ہیں (کیوں کہ وہ خالق کی رسمی بندگی بجا لاتے ہیں اور پسی ہوئی مخلوق سے بے پرواہی برت رہے ہیں)۔ ‘‘

سورۃ البقرہ میں بھی لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ احسان جتاکر اپنے صدقات کو ضائع نہ کرو۔ ریاکاری کی یہاں تک وعید آئی ہے کہ جو شخص محض لوگوں کو دکھانے کے لیے مال خرچ کرتا ہے وہ نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ ہی آخرت پر۔

آیات کے مفہوم سے دو باتیں واضح ہوتی ہیں:

1۔ کسی کی مالی امداد کرنے کے بعد اس پر احسان جتاکر اسے تکلیف نہ پہنچائی جائے۔ اگر ایسا کیا جائے تو صدقہ ضائع ہوجاتا ہے۔

2۔ لوگوں کو دکھانے کے لیے مال خرچ نہ کرنا اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان کمزور ہونے کی دلیل ہے۔

انسان کی عبادت اور اعمال کا دارومدار نیت پر ہے، اگر نیت خالص ہے تو اعمال اللہ کے ہاں قبول ہوتے ہیں، اگر نیت میں کھوٹ ہے یا ریاکاری یا نام ونمود مقصود ہے تو ایسے اعمال بجائے قبولیت کے انسان کے لیے موجبِ وبال بنیں گے۔ علماء کرام نے لکھا ہے کہ اعمال کی قبولیت کی دو شرائط ہیں: پہلی شرط یہ ہے کہ وہ عمل خالص اللہ کے لیے ہو، دوسری شرط یہ ہے کہ وہ عمل سنت کے مطابق ہو۔ ان دو شرائط میں سے کوئی بھی ایک شرط نہ پائی گئی تو وہ عمل قبول نہیں ہوگا، اور ریاکاری ایسا مذموم وصف ہے کہ اس کی وجہ سے مسلمان کا بڑے سے بڑا نیک عمل اللہ کے ہاں رائی کے دانے کی حیثیت نہیں رکھتا، اور ریاکاری کے بغیر کیا ہوا چھوٹا عمل بھی اللہ کے ہاں پہاڑ کے برابر حیثیت رکھتا ہے۔ اللہ رب العزت نے ریاکاری کی مذمت مختلف آیات میں بیان فرمائی ہے، چنانچہ ارشاد ہے:

فَمَنْ کَانَ یَرْجُوْا لِقَاءَ رَبِّہٖ فَلْیَعْمَلْ عَمَلًا صَالِحًا وَلَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہٖٓ اَحَدً.

(الکہف: 110)

’’پس جو کوئی اپنے رب کی ملاقات کا امیدوار ہو، اسے چاہیے کہ وہ اچھے اعمال کرے اور اپنے رب کی بندگی میں کسی کو شریک نہ ٹھہرائے۔ ‘‘

دوسری جگہ ارشاد ہے:

وَالَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَھُمْ رِئَاۗءَ النَّاسِ وَلَا یُؤْمِنُوْنَ بِاللہ وَلَا بِالْیَوْمِ الْاٰخِر وَمَنْ یَّکُنِ الشَّیْطٰنُ لَہٗ قَرِیْنًا فَسَاۗءَ قَرِیْنً.

(النساء: 38)

’’جو لوگ اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیےخرچ کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پرایمان نہیں رکھتےاور جس کا ہم نشین اور ساتھی شیطان ہو، وہ بدترین ساتھی ہے۔ ‘‘

ایک اور مقام پر اﷲ تبارک وتعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُبْطِلُوْا صَدَقٰتِكُمْ بِالْمَنِّ وَ الْاَذٰی ۙ كَالَّذِیْ یُنْفِقُ مَالَهٗ رِئَآءَ النَّاسِ وَ لَا یُؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ الْیَوْمِ الْاٰخِرِ.

(البقرہ، 2: 264)

’’اے ایمان والو! اپنی خیرات کو احسان جتا کر اور ایذا پہنچا کر برباد نہ کرو! جس طرح وہ شخص جو اپنا مال لوگوں کے دکھاوے کے لیے خرچ کرے اور نہ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھے نہ قیامت پر۔ ‘‘

ان آیات سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ریاکار اپنے عمل سے یہ بات ثابت کرتا ہے کہ اللہ سے اس کو اجر کی توقع نہیں، کیوں کہ جس سے توقع ہوگی اُسی کے لیے عمل کیا جائے گا اور ریاکار کو خالق کے بجائے مخلوق سے اجر کی توقع ہوتی ہے۔

ریاکاری اخلاص کی ضد ہے۔ اخلاص کے ساتھ جو بھی نیک عمل کیا جاتا ہے صرف وہی اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہوتا ہے اور اسی کا اجر بھی عطا کیا جاتا ہے لیکن ریاکاری کا مقصد صرف لوگوں کی ستائش کا حصول ہوتا ہے۔ اس لیے ایسا عمل اللہ کی بارگاہ میں مقبول نہیں ہوتا۔ بعض اوقات تھوڑے عمل کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا ہے تاکہ لوگوں میں چرچا ہو۔ یہ بھی ریاکاری اور دکھاوا ہی ہوتا ہے۔۔۔

اسی طرح اس کا آخرت پر بھی ایمان نہیں کہ اگر ایمان ہوتا تو ہرگز خالق کو چھوڑ کر مخلوق سے اجر کی توقع نہ رکھتا اور آخرت کی باز پرس سے ڈرتا۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ریاکاری کی سخت مذمت بیان فرمائی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’کیا میں تمہیں اس چیز کی خبر نہ دوں جو میرے نزدیک تمہارے لیے مسیح دجال سے بھی زیادہ خوفناک ہے؟ راوی کہتے ہیں کہ ہم نے عرض کی: ہاں! کیوں نہیں؟ فرمایا: وہ شرکِ خفی ہے کہ آدمی کھڑا ہوکر نماز پڑھے اور کسی شخص کو اپنی طرف دیکھتا ہوا دیکھ کر اپنی نماز اور سنوار لے۔ ‘‘ (سنن ابن ماجہ)

دوسری حدیث میں ہے:

’’جب اللہ تعالیٰ تمام اگلوں اور پچھلوں کو قیامت کے روز جس کی آمد میں کوئی شک نہیں جمع کرے گا، تو ایک آواز لگانے والا آواز لگائے گا: ’’ جس نے اللہ کے لیے کیے ہوئے کسی عمل میں کسی غیر کو شریک کیا ہو وہ اس کا ثواب بھی اسی غیر اللہ سے طلب کرے، کیونکہ اللہ تعالیٰ شرک سے تمام شریکوں سے زیادہ بے نیاز ہے۔ ‘‘ (سنن الترمذی)

ریاکاری ایک ایسا فعل ہے جو نیک اعمال کو ضائع کردیتا ہے اور ان کی ساری حیثیت کو اللہ تعالیٰ کی نظر میں ختم کردیتا ہے۔ ریاکار اپنی طرف سے یہ سوچ کر خوش ہوتا ہے کہ وہ نیک اعمال کررہا ہے اور اس کا اجر بھی اسے ضرور ملے گا مگر ایسا نہیں ہوتا۔ اسی لیے قرآن و حدیث میں اس فعل کی سنگینی کو واضح کردیا گیا ہے تاکہ لوگ اس کی تباہ کاریوں سے بچ سکیں۔۔۔

ایک اور مقام پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’جوشخص شہرت کے لیے کوئی عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اس کے عیوب ظاہر کر دے گا اور جو دکھاوے کے لیے عمل کرے گا اللہ تعالیٰ اُسے رسوا کر دے گا۔ ‘‘ (بخاری)

آپ ﷺ نے فرمایا: بے شک تھوڑا سا دکھاوا بھی شرک ہے۔ (سنن ابن ماجہ)

ایک اور حدیث مبارکہ میں ریا کو شرک اصغر کہا گیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا:

مسلمانو! سب سے زیادہ خوفناک چیز جس سے میں تمھیں ڈراتا ہوں۔ شرکِ اصغر (چھوٹے درجے کا شرک) ہے۔ صحابہ کرامؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ﷺ شرک اصغر کیا ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ریا‘‘۔

احادیث مبارکہ اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ ریاکاری شرک ہے اور شرک کو قرآن مجید میں ظلم عظیم کہا گیا ہے اور اس کی سخت ممانعت ہے۔

حضرت شداد بن اوسؓ کے بارے میں روایت ہے کہ ایک موقع پر وہ رونے لگے تو ان سے پوچھا گیا کہ آپ کو کس چیز نے رلایا۔ انھوں نے جواب دیا کہ مجھے اس بات نے رلایا ہے جو میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنی تھی، وہ اس وقت مجھے یاد آگئی کہ آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے اپنی امت پر شرک اور چھپی خواہشات کا خوف ہے۔ حضرت شداد کہتے کہ میں نے پوچھا یارسول اللہ ﷺ کیا آپ ﷺ کی امت آپ ﷺ کے بعد شرک میں مبتلا ہوجائے گی تو آپ ﷺ نے فرمایا:

یاد رکھو کہ میری امت کے لوگ سورج کو نہیں پوجیں گے نہ چاند کو نہ پتھر کو، نہ ہی کھلم کھلا بت پرستی کریں گے لیکن لوگوں کو دکھانے کے لیے نیک کام کریں گے اور یہ شرک خفی ہے۔

قرآن و حدیث کی ان تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ ریاکاری انتہائی گھناؤنا فعل ہے۔ ریاکار انسان بہت اچھے اعمال کرکے بھی بدقسمتی سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ سے دور ہوجاتا ہے۔

اہل بیت اور صحابہ کرامؓ کا اخلاص اور دکھاوے سے اجتناب

اہل بیت اطہار اور صحابہ کرامؓ خلوص کے پیکر تھے۔ ان کی مقدس زندگیوں کا مقصد اللہ تعالیٰ کی رضا تھا۔ عبادات ہوں، معاملات ہوں یا کوئی اور پہلو اللہ کی رضا ہر حال میں ان کے پیش نظر رہتی تھی۔ وہ صدقہ و خیرات اور عبادات کے علاوہ فلاح و بہبود کے دیگر کام اعلانیہ اور خفیہ دونوں طریقوں سے کرتے تھے۔ وہ جہاں ضروری سمجھتے تھے اپنی کوئی نیکی اعلانیہ کرتے مگر اس کا مقصد دکھاوا کرنا نہیں ہوتا تھا بلکہ لوگوں کو نیکی کی ترغیب دینا ہوتا تھا۔ جہاد کا جب بھی حکم آیا اہل بیت اطہار اور صحابہ کرامؓ نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اگر کبھی کسی کی انفرادی مدد کی بات ہوتی یا عبادات کا مرحلہ ہوتا تو وہ سب نہایت رازداری اور خفیہ طریقے سے اپنے کام سرانجام دیا کرتے تھے۔

حضرت ابوبکر صدیقؓ خلیفہ ہوتے ہوئے بھی صبح صادق سے پہلے خاموشی سے چھپ کر ایک نابینا عورت کے گھر کے کام کرنے جایا کرتے تھے۔ لیکن جب غزوہ تبوک کے موقع پر اسلامی لشکر کے لیے امداد طلب کی گئی تو علی الاعلان سب کچھ بارگاہ مصطفی ﷺ میں پیش کردیا۔

سورۃ البقرہ میں بھی لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ احسان جتاکر اپنے صدقات کو ضائع نہ کرو۔ ریاکاری کی یہاں تک وعید آئی ہے کہ جو شخص محض لوگوں کو دکھانے کے لیے مال خرچ کرتا ہے وہ نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور نہ ہی آخرت پر

سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا اور ان کے صاحبزادے حسنین کریمین رضی اللہ عنھم نہایت خاموشی سے کئی غریب گھرانوں کی کفالت کرتے اور نبی پاک ﷺ کے اس فرمان کی عملی تفسیر پیش کرتے کہ کسی ضرورت مند کی مدد اس طرح کرو کہ دائیں ہاتھ سے دو تو بائیں ہاتھ کو خبر نہ ہو۔

ریاکاری کی مختلف صورتیں

آج کل معاشرے میں دکھاوا اور ریاکاری عام ہوچکی ہے۔ بعض اوقات دینی معاملات جیسے صدقہ و خیرات اور قربانی میں بھی لوگ دکھاوے کا شکار ہوجاتے ہیں اور اپنےا عمال ضائع کر بیٹھتے ہیں۔ اسی طرح دنیاوی معاملات میں ہماری تقاریب ہمارے مکانات، ہمارا اوڑھنا بچھونا، کھانا پینا غرض رہن سہن کے تمام طور طریقوں میں ریاکاری کا عنصر شامل ہوجاتا ہے۔ لوگوں کو دکھانے کے لیے بڑھ چڑھ کر بلکہ اپنی حیثیت سے زیادہ خرچ کیا جاتا ہے۔ نمودو نمائش کے لیے ضرورت سے زیادہ کھانے پکائے جاتے ہیں اور رزق کا ضیاع ہوتا ہے۔ لباس میں تفاخر اور ریاکاری ہوتی ہے۔ ولیمہ، عقیقے کی دعوتیں ان سب پر بھی بھاری رقوم خرچ کی جاتی ہیں۔ ان میں بھی اگر دکھاوا اور ریاکاری کی نیت ہو تو بندہ اللہ کی رضا سے محروم ہوجاتا ہے۔ ان سب کاموں میں جسمانی مشقت اور مالی قربانی کے باوجود اگر اللہ کی رضا حاصل نہ ہوسکے تو خسارے کا سودا ہوتا ہے۔ مال و دولت کا نقصان بھی ہوتا ہے اور اجرو ثواب سے محرومی بھی مقدر بن جاتی ہے۔ ریاکار انسان انتہائی محنت و مشقت کے باوجود اجرو ثواب سے محروم ہوجاتا ہے اور انسان تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے اور تکبر اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے اور تمام اعمال کو ضائع کردیتا ہے۔

ریاکاری جب حد سے بڑھ جائے تو انسان کے دل میں دوسروں کے لیے حسد اور کینہ جیسے منفی جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ پھر انسان دوسروں کو کم تر کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے اور معاشرے میں فساد کی صورت پیدا ہوجاتی ہے۔

عبادت کرتے وقت ریاکاری کا وسوسہ آنا

واضح رہے کہ ریا کاری کی نیت سے کوئی عمل کرنا اور کسی عمل کے کرنے کے بعد ریاکاری کا وسوسہ آنا دونوں میں فرق ہے، پہلی صورت یعنی انسان کوئی عمل قصداً دوسرے کو دکھانے کی نیت سے کرے، خواہ دکھلاوے کی نیت پہلے سے ہو یا عمل کے درمیان آجائے؛ تاکہ لوگ اس کو اچھا سمجھیں، اس کی شہرت ہو یا اس کے معتقد ہوجائیں وغیرہ، یہ مذموم ہے، جب کہ دوسری صورت یعنی انسان کوئی اچھا عمل اللہ کی رضا کی نیت سے کر رہا ہو اور اس دوران یا عمل کے بعد اس کو یہ وسوسہ آئے لوگ مجھے دیکھ رہے ہیں اور اچھا سمجھ رہے ہیں، یہ قابلِ مذمت اور قابلِ گرفت نہیں، یہ غیر اختیاری چیز ہے، جب کہ ریاکاری اختیاری چیز ہے کہ جس عمل کا محرک اور باعث ہی اللہ تعالیٰ کی رضا جوئی کے بجائے دوسری چیز ہو۔

بعض اہل اللہ نے تو یہاں تک فرمایا ہے کہ ریا کا وسوسہ آنا للّٰہیت اور خلوص کی علامت ہے کہ یہ شخص ریاکاری سے بچنے کی کوشش کرتا ہے؛ اس لیے تو اس کو اپنے اعمال میں ریاکاری محسوس ہوتی ہے، ورنہ جس کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول مقصود ہی نہ ہو تو اس کو اس قسم کے خیالات اور وسوسے سے کیوں کر سکتے ہیں۔

لہذا ریاکاری کے وسوسہ کی وجہ سے پریشان نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی عمل کو چھوڑنا چاہیے ، اللہ کی رضا کے ساتھ اس کی عبادت میں لگے رہیں اور وساوس کی طرف دیہان نہ دیں، یہ وساوس خود بخود ختم ہوجائیں گے۔

ریاکاری سے بچنے کا طریقہ

ریاکاری سے بچنے کے لیے بہترین صورت یہ ہے اگر کوئی شخص نیک کام کررہا ہو اور کسی عبادت و اطاعت میں مشغول ہو اور لوگ اس کو وہ نیک کام اور عبادت کرتے ہوئے دیکھ لیں تو اسے چاہیے کہ اس وقت اپنے اندر اس بات پر خوشی اور مسرت کے جذبات محسوس کرے کہ اللہ تعالیٰ نے اسے اپنے فضل و کرم اور عنایت سے نیک عمل کی توفیق عطا فرمائی ہے یہ دین کا چرچا کرنے میں معاون ہوگا اور اس کی وجہ سے لوگ نیک اعمال کی طرف راغب ہوں گے۔ یہ ایک مثبت سوچ ہے جس کی بدولت انسان منفی سوچ اور ریاکاری سے نجات حاصل کرسکتا ہے۔ ہر عمل سے پہلے نیت کی تجدید کرنی چاہیے اور ہر عمل کے بعد شکر اور استغفار کی کثرت کرنی چاہیے تاکہ ریاکاری سے بچا جاسکے۔

نفاق، ریاکاری، کذب اور خیانت سے بچاؤ کی دعا

حضرت ام معبد رضی اللہ عنھا روایت کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ دعا کرتے ہوئے سنا تھا:

اللھم طھر قلبی من النفاقِ و عملی من الریآءِ و لسانی من الکذبِ و عینی من الخیانۃ؛ فانک تعلمُ خآئنۃ الاعینِ و ما تخفی الصدور

(اے اللہ! میرے دل کو نفاق اور میرے عمل کو ریاکاری سے صاف کر دے اور میری زبان کو دروغ گوئی (جھوٹ) سے محفوظ رکھا اور آنکھوں کو خیانت سے۔ اور آپ کے پاس خیانت کرنے والوں اور دلوں کے بھید جاننے کا علم ہے)

ریاکاری جب حد سے بڑھ جائے تو انسان کے دل میں دوسروں کے لیے حسد اور کینہ جیسے منفی جذبات پیدا ہوجاتے ہیں۔ پھر انسان دوسروں کو کم تر کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے اور معاشرے میں فساد کی صورت پیدا ہوجاتی ہے

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِكَ اَنْ اُشْرِكَ بِكَ وَاَنَا اَعْلَمُ وَ اَسْتَغْفِرُكَ لِمَا لَآ اَعْلَمُ.

(اے اللہ عَزَّ وَجَلَّ، میں جان بوجھ کر تیرا شریک ٹھہرانے سے تیری پناہ چاہتا ہوں اور لاعلمی میں ایسا عمل کرنے پر تجھ سے مغفرت کا سوال کرتا ہوں)۔

اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ عَمَلِیْ کُلَّہُ صَالِحًا وَاجْعَلْہُ لِوَجْھِکَ خَالِصًاوَلَا تَجْعَلْ لِاَ حَدٍ فِیْہِ شَیْاءً.

(اے اللہ، میرے تمام اعمال کو نیک بنا دیت، اور انہیں اپنے لئے خالص بنا دے، اور کسی کا اس میں کوئی حصّہ نہ رکھنا) آمین۔