گزشتہ ماہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے چیئرمین سپریم کونسل MQI ڈاکٹر حسن محی الدین قادری اور یورپ کے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ پرتگال کے دارالحکومت لزبن کا ایک تاریخی دورہ کیا، جس میں انہوں نے مختلف پروگرامز، تربیتی نشستوں اور بین الاقوامی کانفرنسز سے خطاب کرتے ہوئے امن، رواداری اور نئی نسل کی تربیت کا جامع منشور پیش کیا۔ اس دورہ کی اجمالی رپورٹ نذرِ قارئین ہے:
1۔ مرکزی اسلامک سنٹر لزبن میں منعقدہ "سیرت النبی ﷺ و امنِ عالم کانفرنس" سے خطاب کرتے ہوئے شیخ الاسلام نے سیرتِ طیبہ کو انسانیت کے لیے کامل ضابطہ حیات قرار دیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ انتہا پسندی اور عدم برداشت کا واحد حل تعلیماتِ نبویﷺ میں مضمر ہے۔ حضور نبی اکرمﷺ کی سیرتِ طیبہ نہ صرف مسلمانوں بلکہ پوری انسانیت کے لیے امن، عدل، محبت اور برداشت کا آفاقی پیغام رکھتی ہے۔ اگر ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں سیرتِ مصطفیٰ ﷺ کو عملی طور پر نافذ کر لیں تو دنیا حقیقی معنوں میں امن و سلامتی کا گہوارہ بن سکتی ہے۔ انسان کی زندگی صرف مادی ترقی تک محدود نہیں بلکہ اس کی حقیقی کامیابی روحانی بالیدگی، اعلیٰ اخلاق اور انسانی اقدار کی پاسداری میں ہے، اور یہ تمام اوصاف ہمیں سیرتِ رسول اکرم ﷺ سے ہی حاصل ہوتے ہیں۔
کانفرنس میں بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے سکھ کمیونٹی کے رہنماؤں، عیسائی اور دیگر کمیونٹیز کے نمائندگان سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے دانشوروں نے بھرپور شرکت کی۔
2۔ لزبن کے مقامی ہال میں منعقدہ"میٹ اینڈ گریٹ سیشن" میں مسلم و غیر مسلم اور پاکستانی کمیونٹی نے بھرپور شرکت کی۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اپنے خطاب میں انسانی زندگی کے حقیقی مقصد، روحانی تربیت اور دین سے مضبوط تعلق کی اہمیت کو نہایت جامع انداز میں اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ انسانی زندگی محض مادی ضروریات تک محدود نہیں بلکہ اس کا ایک گہرا روحانی پہلو بھی ہے، جس کی تکمیل ذکرِ الٰہی، عبادات اور دین کی درست معرفت سے ممکن ہے۔ انہوں نے بچوں کی ابتدائی تربیت کو بنیاد قرار دیتے ہوئے والدین پر زور دیا کہ وہ اپنی اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی توجہ دیں اور خود بہترین عملی نمونہ پیش کریں۔
انہوں نے واضح کیا کہ ماحول اور معاشرت انسان کی شخصیت سازی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے نوجوان نسل کو مساجد اور دینی مراکز سے وابستہ رکھنا ناگزیر ہے۔ قرآن مجید کو ’’فرقان‘‘ کے طور پر سمجھنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہی حق و باطل میں امتیاز پیدا کرتا ہے۔ انہوں نے اس امر کو بھی نمایاں کیا کہ مسجد صرف عبادت کا مقام نہیں بلکہ ایک مؤثر تربیتی مرکز ہے، اور دین کی بقا و فروغ کے لیے مسلسل جدوجہد، محنت اور استقامت بنیادی تقاضے ہیں۔
نشست کے دوران سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا، جس میں شرکاء نے اسلام، دیارِ غیر میں بسنے والے مسلمانوں کو درپیش مسائل، پاکستانی کمیونٹی کے چیلنجز، معاشرتی عدم استحکام اور امتِ مسلمہ کی فلاح و بہبود جیسے اہم موضوعات پر سوالات کیے۔
تقریبات میں چیئرمین سپریم کونسل ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، بلال اُپل، محمد صغیر، کاشف نذیر، سکھ کمیونٹی کے صدر گگندیپ سنگھ، محمد رفیق (مرکزی مسجد لزبن)، محمد یاسین (کیپٹل ہوٹل)، خالد جمال، مبین سید فیصل، پرتگالی و موزمبیق سفارتی حکام، پاکستانی سفارتخانے کے کونسلر آفیسر محمد اکرام، پاسپورٹ آفیسر غلام مصطفیٰ، باتسہ بانو، عمادے موسیٰ، موزمبیق کے سفیر اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کی ممتاز شخصیات بشمول حسن بوستان، مرینہ شاہ سید، عامر صدیق اور دیگر نے شرکت کی۔
3۔ شیخ الاسلام نے لزبن کے مقامی ہوٹل میں منہاج القرآن ویمن لیگ کی ذمہ داران و کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے بچوں کی تربیت اور خاندانی نظام پر تفصیلی گفتگو فرمائی۔ شیخ الاسلام نے ماں کے عظیم مقام اور اس کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ انسان کی زندگی کا آغاز ماں کے پیٹ سے ہوتا ہے، جہاں بچہ نو ماہ تک ماں کے وجود کا حصہ رہتا ہے۔ اس دوران ماں کی جسمانی اور ذہنی کیفیت براہِ راست بچے کی نشوونما اور شخصیت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ سائنسی تحقیقات بھی اس حقیقت کی تائید کرتی ہیں کہ ماں کی خوشی، سکون اور ذہنی حالت بچے کے مزاج اور مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اسلام نے ماں کے مقام کو بے حد بلند رکھا ہے، یہاں تک کہ “ماں کے قدموں تلے جنت ہے” کا تصور دراصل اس عظیم ذمہ داری اور قربانی کی عکاسی کرتا ہے جو ماں اپنے بچے کی پرورش میں ادا کرتی ہے۔ ماں نہ صرف بچے کو جنم دیتی ہے بلکہ اس کی ابتدائی تربیت، عادات اور شخصیت کی بنیاد بھی رکھتی ہے۔ انہوں نے والد کے کردار کو بھی نہایت اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ بچوں کی متوازن شخصیت کی تشکیل کے لیے باپ کی فعال شرکت ضروری ہے۔ اگر باپ بچوں کو وقت دے، ان کے ساتھ محبت اور شفقت کا برتاؤ کرے اور ان کے ساتھ دوستانہ تعلق قائم کرے تو بچے کی شخصیت زیادہ پُراعتماد اور متوازن بنتی ہے۔ والدین کی ذمہ داری ہے کہ وہ محبت، توجہ اور مثبت ماحول فراہم کریں۔ شیخ الاسلام نے زور دیا کہ بچوں کی تربیت میں سختی، بدزبانی، غصہ اور گالی گلوچ جیسے رویے نہایت نقصان دہ ہیں۔ اسلام ہمیں حسنِ اخلاق، نرمی اور محبت کا درس دیتا ہے، اور یہی اصول بچوں کی تربیت میں اختیار کیے جانے چاہئیں۔
اگر گھر کا ماحول محبت، احترام اور سکون پر مبنی ہو تو بچے مثبت شخصیت کے حامل بنتے ہیں، جبکہ جھگڑے اور بے ادبی بچوں پر منفی اثرات چھوڑتے ہیں۔ دین کو صرف ظاہری عبادات تک محدود رکھنے کے بجائے اسے روزمرہ زندگی، گفتگو، رویے اور اخلاق کا حصہ بنانے کی تلقین کی گئی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بچوں کے سوالات کو دبایا نہ جائے بلکہ انہیں کھل کر سوال کرنے کی ترغیب دی جائے۔ بچوں کی جستجو کو سراہتے ہوئے والدین کو ہدایت دی گئی کہ وہ صبر اور محبت کے ساتھ ان کے سوالات کے جوابات دیں تاکہ بچے دین کو سمجھ کر اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ خصوصی طور پر خواتین (ماؤں) کو مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ اپنی ذات میں دینی شعور پیدا کریں، اپنے کردار اور عمل کو بہتر بنائیں، اور محبت و حکمت کے ساتھ بچوں کی تربیت کریں۔ کیونکہ ماں ہی وہ پہلی درسگاہ ہے جہاں سے بچے کی شخصیت تشکیل پاتی ہے۔
آخر میں شرکاء کو تلقین کی گئی کہ دین کو اپنی زندگی، گھر کے ماحول اور خاندانی نظام کا حصہ بنائیں، صبر و حکمت کو اپنائیں، اور بچوں کی تربیت کو محبت، سمجھ اور مثبت انداز کے ساتھ انجام دیں تاکہ آنے والی نسلیں ایک مضبوط، متوازن اور حقیقی اسلامی کردار کے ساتھ پروان چڑھ سکیں۔
4۔ شیخ الاسلام نے منہاج القرآن پرتگال کے ذمہ داران کے ساتھ خصوصی نشست میں روحانی تربیت، تزکیۂ نفس اور دین سے حقیقی وابستگی پر اثر انگیز گفتگو کی۔ آپ نے تحریک کے ابتدائی ایام کے واقعات سنا کر رفقاء کے جذبوں کو مہمیز کیا اور اخلاص کے ساتھ مشن جاری رکھنے کی تلقین کی۔
منہاج القرآن انٹرنیشنل پرتگال کی مثالی تنظیمی کارکردگی کے اعتراف میں شیخ الاسلام اور ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے ایگزیکٹو کونسل کو خصوصی شیلڈ سے نوازا۔ یہ شیلڈ منہاج یورپین کونسل کی طرف سے دی گئی۔ اس موقع پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ نے منہاج القرآن پرتگال کی ایگزیکٹو ٹیم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اخلاص، نظم و ضبط اور مسلسل محنت ہی کامیابی کی اصل بنیاد ہیں۔ انہوں نے منہاج القرآن پرتگال کی تنظیمی خدمات کو قابلِ تقلید قرار دیتے ہوئے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ یورپ میں تنظیم کے کارکنان دینِ اسلام کے پیغام کو محنت، لگن اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھا رہے ہیں۔ شیخ الاسلام نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ اس مشن کو مزید فروغ عطا فرمائے اور کارکنان کو استقامت اور اخلاص کے ساتھ خدمتِ دین جاری رکھنے کی توفیق دے۔ انہوں نے شرکاء کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ نیتوں کی پاکیزگی، باہمی اتحاد اور خدمتِ دین کو اپنی زندگیوں کا محور بنایا جائے تاکہ تنظیمی مقاصد مزید مؤثر انداز میں حاصل کیے جا سکیں۔
ان تمام نشستوں میں حسن بوستان، مرینہ شاہ سید، عامر صادق، قیصر زبیر نجیب، محمد ظل حسن، علامہ مفتی اعجاز ملک، شاہد مرسلین، حافظ غلام دستگیر، اظہر اعوان، قاری امجد محمود، حافظ امجد، غضنفر نذیر، بابر مغل، سفیان یوسف، قاسم نظیر، شاہد ملک، شمسہ نور، محسن لقمان، عمر شیخ، ڈاکٹر سہیل احمد، سمیرا اسلم، ثمرہ قاسم اور حفظہ سید اور یورپ بھر سے آئے ہوئے تنظیمی عہدیداران نے شرکت کی۔
منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیرِاہتمام لاہور میں اجتماعی شادیوں 20206ءکی مرکزی تقریب کا انعقاد
منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیرِاہتمام اجتماعی شادیوں 2026ء کی مرکزی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں صدر منہاج القرآن انٹرنیشنل پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری نے خصوصی شرکت کی اور خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ تعالیٰ کا خاص فضل و کرم ہے کہ آج ہم اس بابرکت تقریب میں جمع ہیں جہاں 23 خوش نصیب جوڑے باعزت رخصت ہورہے ہیں۔ موجودہ دور میں جہاں شادی جیسے مقدس فریضے کو مشکل اور مہنگا بنا دیا گیا ہے، وہاں اس طرح کی تقریبات معاشرے میں آسانی، خوشی اور امید کی کرن بن کر ابھرتی ہیں، آج صرف دو افراد کی ملاقات کا جشن نہیں بلکہ آج کی تقریب سماجی یکجہتی، اسلامی اخوت اور خدمتِ خلق کا ایک زندہ و جاوید مظہر ہے۔ قرآنِ مجید ہمیں بارہا یہ درس دیتا ہے کہ جو شخص دین کو جھٹلاتا ہے، وہ دراصل یتیموں اور محتاجوں کی مدد سے غافل ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا ان کمزور اور محروم طبقات کی خدمت میں پوشیدہ ہے۔
ناظمِ اعلیٰ منہاج القرآن انٹرنیشنل خرم نواز گنڈاپور نے استقبالیہ خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ پروجیکٹ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کے فلاحی ویژن کا عملی اظہار ہے، جس کا مقصد معاشرے کے ایسے افراد کا سہارا بننا ہے جو وسائل کی کمی کے باعث شادی جیسے اہم فریضے کی ادائیگی میں مشکلات کا شکار ہوتے ہیں۔
ڈائریکٹر منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن سید امجد علی شاہ نے مہمانوں کو خوش آمدید کہتے ہوئے کہا کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل ایک ہمہ جہت فلاحی و تعلیمی نیٹ ورک ہے جس کی خدمات بالخصوص ویلفیئر کے میدان میں نمایاں ہیں، اور یہ سب مخیر حضرات کے اعتماد اور تعاون سے ممکن ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ 25 اجتماعی شادیوں کے انعقاد کے لیے تین سے چار ماہ پر مشتمل منظم تیاری کا عمل مکمل کیا گیا، جو ادارے کی تربیت اور نظم و ضبط کا مظہر ہے۔
چیئرمین کینن فوم شیخ محمد ابراہیم نے کہا کہ موجودہ معاشی حالات میں اس نوعیت کے فلاحی اقدامات نہایت اہمیت کے حامل ہیں، جو معاشرے کے مستحق افراد کو عزت کے ساتھ نئی زندگی کا آغاز فراہم کرتے ہیں۔
غلام محی الدین دیوان نے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیرِاہتمام اجتماعی شادیوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہر سال کی طرح اس بابرکت پروگرام میں شرکت ان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے منہاج القرآن ویلفیئر فاؤنڈیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اجتماعی شادیوں کا یہ سلسلہ معاشرے میں مثبت اور دور رس اثرات کا حامل ہے۔
معروف سماجی رہنما و اداکارہ ریشم خان نے نوبیاہتا جوڑوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ کہ رشتہ جوڑنا آسان ہوتا ہے لیکن اسے نبھانا اصل ذمہ داری ہے، اس لیے میاں بیوی کو باہمی محبت، صبر اور سمجھداری کے ساتھ اپنی ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانا چاہیے، انہوں نے تقریب کے بہترین انتظامات کو سراہتے ہوئے کہا کہ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن دکھی انسانیت کی خدمت میں قابلِ قدر کردار ادا کر رہی ہے، جو قابلِ تحسین ہے۔
محمد سلیم (انگلینڈ) نے منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن کے زیرِاہتمام اجتماعی شادیوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پچاس سال سے زائد عرصہ انگلینڈ میں گزارا مگر پاکستان آکر جو خوشی اور اپنائیت محسوس ہوئی وہ بے مثال ہے، خوشیاں صرف دولت سے حاصل نہیں ہوتیں بلکہ اس کے لیے دل کا زندہ ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے اس تقریب کے ماحول کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہاں جس طرح کی خوشی اور جذبات دیکھنے کو ملے، وہ ان کے لیے ناقابلِ بیان ہیں۔
چیئرپرسن Door of Awareness روبا ہمایوں نے فلاحی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس ادارے کی فلاحی خدمات اتنی وسیع ہیں کہ انہیں سمیٹنا اور بیان کرنا مشکل ہے، ہر میدان میں کام کرتے ہوئے معیار اور تعداد دونوں کا خیال رکھنا ضروری ہے، اور نیکی کے راستے میں ثابت قدمی ہی انسان کو منزل تک پہنچاتی ہے، اگرچہ اس راستے میں بہت سی رکاوٹیں بھی آتی ہیں۔
فردوس نثار (ایگزیکٹو ممبر چیمبر آف کامرس لاہور) نے اس اقدام کو معاشرے کے لیے قابلِ تقلید مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اجتماعی شادیوں جیسے اقدامات معاشرے میں عزت و وقار کے ساتھ رشتے قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں، اور منہاج القرآن کا مشن ہمیشہ انسانیت کی خدمت اور رشتوں کو جوڑنے کا ذریعہ رہا ہے، اس کارِ خیر میں حصہ لینے والے افراد قابلِ تحسین ہیں۔
ڈائریکٹر انٹر فیتھ ریلیشنز سہیل احمد رضا نے کہا کہ ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ بابرکت تقریب بھرپور انداز میں منعقد ہو رہی ہے، اس تقریب کی خاص بات یہ ہے کہ جہاں مسلم جوڑوں کی شادیاں منعقد ہو رہی ہیں، وہیں مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والا ایک جوڑا بھی اسی پلیٹ فارم سے اپنی نئی زندگی کا آغاز کر رہا ہے، جو بین المذاہب ہم آہنگی کی خوبصورت مثال ہے۔
اس موقع پر رائیونڈ ڈایوسِس چرچ آف پاکستان سے پاسٹر سوشیل عمانویل نے مسیحی جوڑے کی شادی مذہبی روایات کے مطابق انجام دی اور کہا کہ اس تقریب میں شرکت ان کے لیے باعثِ خوشی ہے اور یہ محبت، رواداری اور انسانیت کی خدمت کا عملی نمونہ ہے۔
معروف سماجی کارکن کاشف میر نے اس اقدام کو معاشرتی استحکام اور نئے خاندانوں کی تشکیل میں اہم قرار دیتے ہوئے منتظمین کی کاوشوں کو سراہا، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کے فلاحی ویژن کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ یہ مشن دنیا کے مختلف ممالک تک پھیل چکا ہے اور انسانیت کی خدمت کا عملی نمونہ ہے۔
تقریب میں راجہ زاہد محمود، ڈاکٹر فیصل اقبال خان، کرنل (ر) خالد جاوید، نوراللہ صدیقی، علامہ رانا محمد ادریس، علامہ غلام مرتضیٰ علوی، حفیظ چودھری، حفیظ الرحمان، شہزاد رسول، حاجی اسحاق، عائشہ نذیر قادری، مسرت احمد، حافظہ سحر عنبرین اور ٹک ٹاک اسٹار زرتاشہ کاشف سمیت دیگر معززین، نوبیاہتا جوڑوں کے والدین، قریبی رشتہ دار، اعزاء و اقارب، دوست و احباب اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔