اداریہ: سانحہ ماڈل ٹاؤن ، انصاف کی تلاش

ایڈیٹر : دختران اسلام

17 جون 2014 پاکستان کی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ دن ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثاء کے وکلاء نے انسداد دہشتگردی کی عدالت میں جو استغاثہ پیش کیا اور سانحہ کی جو ایف آئی آر کٹوائی اس کے مطابق پولیس کی بھاری نفری نے منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ کے آس پاس کے پورے علاقے کا گھیرائو کیا،بے رحمی کے ساتھ آنسو گیس کی شیلنگ کی اور پھر سیدھی فائرنگ کر کے 14شہریوں کو شہید کر دیا جن میں دو خواتین شازیہ مرتضیٰ اور تنزیلہ امجد شامل تھیں موقع پر جان کی بازی ہار گئیں، ان سارے واقعات کی نیشنل میڈیا کوریج ریکارڈ کا حصہ ہے اور یہ سارا ریکارڈ شہدائے ماڈل ٹائون کے ورثاء کی طرف سے انسداد دہشت گردی عدالت لاہور میں جمع کروایا گیا ہے۔ پولیس موقف اختیار کرتی ہے کہ تجاوزات ہٹانے کے لئے آپریشن کیا گیا جبکہ جنہیں تجاوزات قرار دیا گیا وہ حفاظتی بندوبست تھا جو علاقہ کے عوام کی درخواست پر لاہور ہائیکورٹ کے حکم پر مقامی پولیس نے کیا، جس دن پولیس نے آپریشن کیا اس دن بھی پولیس کی ایک نفری علاقہ کے عوام کی حفاظت کے لئے ان حفاظتی جنگلوں پر ڈیوٹی انجام دے رہی تھی، ہر سال 17جون کو شہداء کی برسی منائی جاتی ہے اور ان کی استقامت کو زبردست الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا جاتاہے، مسلسل 12سال سے شہداء کے ورثاء کےوکلاء حصول انصاف کے لئے چارہ جوئی کررہے ہیں تاحال انصاف ملنا دور کی بات انصاف کی طرف کوئی سنجیدہ پیشرفت بھی نظر نہیں آرہی کیونکہ سپریم کورٹ کے حکم پر سانحہ کی تحقیقات کے لئے جو جے آئی ٹی قائم کی گئی تھی اُس جے آئی ٹی کو رپورٹ پیش کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی اور رپورٹ کے اجراء کے لئے وکلاء مسلسل قانونی چارہ جوئی میں مصروف ہیں، اللہ رب العزت شہداء کے درجات بلند فرمائے ۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ مسلسل 12سال سے شہداء کے ورثاء کی دامے، درمے، سخنے سرپرستی فرمارہے ہیں، شہداء کے بچوں کی تعلیم، ان کی شادیاں اور ان کی رہائشی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے باقاعدہ ایک ڈیپارٹمنٹ قائم کیا گیا ہے، شہداء کے ورثاء کی جس طرح سرپرستی کی جارہی ہے اس طرح کی کوئی دوسری مثال پیش نہیں کی جاسکتی، شیخ الاسلام کارکنان کو اپنی روحانی اولاد قرار دیتے ہیں اور انہوں نے مسلسل ان کی سرپرستی فرما کرثابت کیا ہے کہ یہ محض کوئی روایتی بیان یا دعویٰ نہیں ہے ۔یہ امر حوصلہ افزاء ہے کہ 12سال کا طویل وقت گزرنے کے باوجود متاثرہ خاندانوں کو انصاف نہیں ملا جو ایک سوالیہ نشان ہے، شہداء کے ورثاء آج بھی انصاف کے لئے عدالتوں میں قانونی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انصاف کسی بھی مہذب معاشرے کی بنیاد اور ریاست کی اصل طاقت ہوتا ہے۔ جب عدالتیں مضبوط، قانون برابر اور فیصلے غیر جانبدار ہوں تو قوموں میں اعتماد جنم لیتا ہے، ادارے مستحکم ہوتے ہیں اور عوام خود کو محفوظ محسوس کرتے ہیں۔ انصاف صرف عدالتوں تک محدود نہیں بلکہ یہ حکمرانوں کے کردار، معاشرتی رویّوں اور اجتماعی شعور میں بھی جھلکتا ہے۔ وہ قومیں کبھی ترقی نہیں کر سکتیں جہاں طاقتور قانون سے بالاتر اور کمزور انصاف کے لیے دربدر ہو۔ تاریخ گواہ ہے کہ ظلم وقتی طور پر غالب آ سکتا ہے مگر انصاف کی روشنی ہمیشہ تاریکی کو شکست دیتی ہے۔