واقعہ کربلا اور خلافت علی، منہاج النبوہ کا احیاء

ڈاکٹر نعیم انور نعمانی

ارشاد باری تعالی ہے:

وعَدَ ٱللَّهُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مِنكُمْ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى ٱلْأَرْضِ۔(النور: 24-55)

اللہ نے تم میں سے ایمان والوں اور اچھے اعمال کرنے والوں سے وعدہ فرمایا ہے کہ ضرور بضرور انہیں زمین میں خلافت دے گا جیسے ہی ان سے پہلوں کو خلافت دی تھی

وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ ٱلَّذِى ٱرْتَضَىٰ لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُم مِّنۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْنًۭا ۔(النور: 24-55)

ضرور با ضرور ان کے لیے ان کے اس دین کو جما دے گا جو ان کے لیے پسند فرمایا ہے اور ضرور بضرور ان کے خوف کے بعد ان کو امن دے گا۔

قرآن حکیم کا یہ حکم قیامت تک باقی ہے اللہ کا وعدہ پختہ اہل ایمان سے یہ ہے کہ جب تک وہ اپنے ایمان میں مخلص رہیں گے اور اعمال صالحہ بجا لاتے رہیں گے تب تک اللہ کا وعدہ نصرت ان کے لیے پورا ہوتا رہے گا زمین میں ان کو اقتدار اللہ کے دین کے نفاذ کے لیے دیا جاتا رہے گا خلافت عرضی کے وہ مستحق رہیں گے ان کے ایمان اور اعمال صالحہ کی بنا پر زمین پر دین کو تمکے نہ تو میسر رہے گی ان کے ہر خوف کو امن سے بدل دیا جائے گا خلافت و حکومت اللہ کی طرف سے انسانوں کے لیے ایک امانت ہے باری تعالی اس امانت کا مستحق ان لوگوں کو قرار دیتا ہے جو ایمان میں کامل اور تقوی اور اعمال صالحہ میں اکمل ہوتے ہیں یہی سنت الہی ہے اور یہی اس کائنات میں جاری و ساری ہے باری تعالی نے اپنا یہ وعدہ خلافت حضرت داؤد علیہ السلام اور حضرت سلیمان علیہ السلام کے ذریعے ہی پورا کیا ہے اس طرح دیگر انبیاء علیہم السلام اور صلحا کو بھی اس وعدہ الہی کے تحت یہ خلافت عرضی کی ذمہ داری تفویض کی گئی ہے اور باری تعالی نے اپنے اسی وعدہ الہی کے تحت اہل ایمان کی طرف سے استحقاق خلافت کی ذمہ داریاں پوری ہونے کے بعد انہیں خلافت عرضی کی امانت سپرد کی ہے جس کی بنا پر زمین نے لیظھرہ على الدين كله کا منظر اپنے سینے پر دیکھا ہے اور اسی کے تسلسلوں میں پھر دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں قیصر و کسری بھی مغلوب ہوئی ہیں اور خزائن عرض مسلمانوں کے تصرف میں آئے ہیں اور پوری دنیا میں ان کا رعب و دبدبہ قائم ہوا ہے ہر طرف مسلمانوں کو فتوحات کی نعمت ملی ہے دنیا کی بڑی بڑی سلطنتیں مسلمانوں کے لیے زیر نگیں آئی ہیں امن و سلامتی قوت و شوکت اور غلبہ دین کی منزل نصیب ہوئی ہے باری تعالی کی طرف سے انسان پر سب سے بڑی امانت یہی خلافت عرض ہی کی ذمہ داری ہے خلافت عرضی کی یہ ذمہ داری ہر انسان پر اس کے اپنے منصبی کردار کے مطابق فرض ہے ہر شخص کو اپنی ذمہ داری کو اللہ کے احکامات کے مطابق نبھانا ہے اللہ کے حکم کو رب کی منشا کے مطابق ادا کرنا ہی ہماری اسلامی ذمہ داری ہے اور یہ ذمہ داری ہی خلافت عرضی کا تسلسل پاتی ہے انسان جب اپنی منصبی ذمہ داریوں میں حدود و اختیارات سے تجاوز کرتا ہے تو یہی اس کا عمل ظلم بن جاتا ہے ظلم سے ہی انسان کی تباہی اور بربادی کا اغاز ہوتا ہے اپنی منصبی ذمہ داری کو حدود و شرائط کے مطابق ادا کرنا عدل ہے ہر دور میں انسانی زندگی عدل اور ظلم میں منقسم رہی ہے عدل اس کا کردار مطلوب ہے ظلم اس کا کردار رد ہے خلافت عرضی کی ذمہ داری یعنی امانت اسلامی معاشرے میں وامرهم شورى بينهم کے تحت دی جاتی ہے یہ ذمہ داری اگے بڑھ کر ہوا سوا آرزو کے ساتھ نہیں لی جاتی اس خلافت عرضی کی ذمہ داری کو صحیح جگہ رکھنا اور اس کو اہل افراد کے سپرد کرنا یہ اللہ کا حکم ہے اور یہ دین اسلام کی واضح تعلیم ہے اور یہی سنت وصیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے اور یہی اسوہ صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین اور اسوہ اہل بیت اطہار ہے اور یہی طرز عمل حکم قرآنی کی صحیح ترجمانی ہے ارشاد باری تعالی ہے۔

إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَن تُؤَدُّوا۟ ٱلْأَمَـٰنَـٰتِ إِلَىٰٓ أَهْلِهَا وَإِذَا حَكَمْتُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ أَن تَحْكُمُوا۟ بِٱلْعَدْلِ ۔ (النساء: 4-58)

بے شک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل لوگوں کے سپرد کرو اور یہ کہ جب تم فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ فیصلہ کرو

باری تعالی کی یہ امانت خلافت عرضی اور اقتدار عرضی اور اختیار حکومت اور اہلیت حاکمیت کا وہی شخص مستحق ہو سکتا ہے جو اپنے اندر اقدار عدل رکھتا ہو جو مزین بالصفات تقوی ہو جو سراسر دیانت کا پیکر ہو یہی چیزیں لوگوں کو اہلیت حاکمیت پر فیض کرتی ہیں اور انسانوں میں بھی من حیث المجموع یہی چیزیں افضلیت کا معیار بنتی ہیں اس لیے ارشاد فرمایا!

إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ ٱللَّهِ أَتْقَىٰكُمْ ۚ إِنَّ ٱللَّهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌۭ

بے شک اللہ کے یہاں تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں زیادہ پرہیزگار ہے۔(الحجرات:49-13)

دنیاوی حکمرانی کا پہلا معیار اللہ سے ڈرنا ہے اللہ کا تقوی اپنے دل میں پیدا کرنا ہے تاکہ اللہ کے ڈر کے ساتھ کسی انسان کا ڈر باقی نہ رہے انسانوں سے تعلق اور ان سے معاملات تقوی کیفیت کے ساتھ کیے جائیں تقوی حاکم وقت کے قول میں داخل ہو اور تقوی براہ راست سربراہ حکومت کے عمل میں بھی شامل ہو اور تقوی رہبر حکومت کے اخلاق اور کردار کی بھی خصوصی پہچان ہو، تقوی کی تعلیمات اور تقوی کے تصورات حاکم وقت کی دنیاوی کامیابی کا راز ہیں اور یہی نظریات تقوی حاکم کی حاکمیت کے لیے اخروی نجات بھی ہیں وہ حاکم جو اس خلاف عرضی کی ذمہ داری کو دنیاوی ضابطوں اور اخروی اصولوں کے ساتھ ادا کرتا ہے جو اپنے کردار میں ظلم کا شائبہ بھی نہ رکھے اور وہ حاکم جو اپنی ذات میں ظالم ہو اور جو لوگوں کے معاملات میں ظالم ہو جو حدود اللہ میں ظالم ہو جو سنت رسول کا بالعمل منکر بھی ہو جو اپنی ہر تدبیر کو ظلم سے مزین کرے جو اپنے مجموعی کردار اور اپنی اجتماعی شناخت اور اپنے عوامی تاثر اور اپنے عصری تعارف میں ظالم ہی ظالم ہے وہ ہرگز ہرگز خلافت عرضی اور اہلیت حکومت اور اقتدار عرضی اور ریاست کی سربراہی اور حاکمیت کی زمام کار اور حکومت کے مقتدر ہونے کی بنیاد بھی صلاحیت وقابلیت اور لازمی صفت انتخاب ہی سے محروم ہے اس لیے وہ عند اللہ اور عند الناس نااہل ہی نااہل ہے اگرچہ وہ لوگوں کے ہاں جبرا اور ظلما اہل ہی کیوں نہ ہو ایسے نااہل شخص کی طرفداری کرنے والا اور ایسے ظالم کی حمایت کرنے والا اور ایسے ظالمانہ کردار کی شناخت کرنے والا کا مددگار خود بھی ظالم ہے اور ظالم کا ہم نوا بھی ہے اور وہ اپنے عمل کے ذریعے اس قرآنی حکم کا انکار بھی کر رہا ہے

يَـٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟أَن تُؤَدُّوا۟ ٱلْأَمَـٰنَـٰتِ إِلَىٰٓ أَهْلِهَ

(النساء:4۔58)

یہ ظالم امانت کی اہلیت رکھتا ہی نہیں ہے بندہ خدا کے مقابل آتے ہوئے اس ظالم کو خدا کی امانت کا اہل قرار دے دے رہا ہے جبکہ اللہ اس کے رسولﷺ اور اس کو اپنی امانت کے لیے نااہل قرار دے رہا ہے یوں ہم عمل شرک کے ساتھ اور اس کے ذریعے اللہ کے نافرمان ٹھہرتے ہیں قرآن حکیم ایسے ظالموں سے کنارہ کش ہونے کے لیے بڑا صریح حکم اہل ایمان کو سناتا ہے،

وَ لَا تَرْکَنُوْٓا اِلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّکُمُ النَّارُ ۔(ھود-11-113)

ظالموں کی طرف ذرا بھی نہ جھکو ورنہ تمہیں آگ پکڑ لے گی

ظالم کی بیعت تو بہت دور کی بات ہے ظالم کی طرف جھکاؤ کو بھی قرآن گناہ قرار دیتا ہے واقعہ کربلا میں حضرت امام حسین علیہ السلام اور ان کے سارے خانوادہ اہل بیت نے اسی آیہ کریمہ پر عمل کیا تھا وہ یزیدی ظالموں کی طرف تمام تر مصائب و آلام کے باوجود نہ جھکے اور راہ حق پر ڈٹے رہے اور ظلم کے خلاف کھڑے رہے جان و مال کا خوف خود پر طاری نہ ہونے دیا یزیدی ظلم کے سامنے کو صبات بن کر رہے یزیدی ظلم کو اپنے کردار حلم کے ذریعے برداشت کیا ظلم کی ہر تدبیر کو اپنی تربیت فکر کے ذریعے ناکام کیا ظلم کے ہر نشان کو اپنے صبر کے امتحان سے بے نشان کیا بے سر و سامانی کے باوجود ایمان کی طاقت سے اپنے دشمن کو لاجواب کیا یوں تاریخ اسلام اور تاریخ انسانیت میں ظلم کے خلاف ڈٹ جانے والے اور ظالم کو اس کے بے پناہ ظلم کے باوجود للکارنے والے ثابت قدم مجاہد حریت ٹھہرے اور صدائے حق کو سلطان جابر کے سامنے بلند کرنے والے ناقابل فراموش کردار مسلم بنے خلافت اور حق یہ دونوں ساتھ ساتھ چلتے ہیں اگر خلافت حق کی آواز نہیں بنتی اور اگر سچائی اور صدق کی بازگشت نہیں بنتی اگر خلافت شریعت دین کی حفاظت نہیں کرتی اور اگر خلافت دین کے غلبے اور احیا کا باعث نہیں بنتی ہے تو یہ خلافت خلافت نہیں ہے بلکہ اقتدار کی قوت ہے اختیار کی طاقت ہے اور وہ سائل کی حکومت ہے اس کو خلافت کا نام دینا ندامت ہی ندامت ہے اس ظالمانہ خلافت کو اسلام کی تعلیمات کی ترجمانی قرار دینا ذلالت ہی ذلالت ہے یہ خلافت نہیں یہ سطوت ہے یہ خلافت نہیں ظاہری تمکنت ہے یہ خلافت نہیں دنیاوی حکومت ہے باری تعالی نے حضرت داؤد علیہ السلام کو خلافت کی ذمہ داری دیتے ہوئے اور خلیفہ کے منصب پر فائض کرتے ہوئے سب سے بڑی ذمہ داری عدل و انصاف کے قیام اور حق کے استمرار کی دی تھی اس لیے قرآن حکیم نے ارشاد فرمایا!

يَـٰدَاوُۥدُ إِنَّا جَعَلْنَـٰكَ خَلِيفَةًۭ فِى ٱلْأَرْضِ فَٱحْكُم بَيْنَ ٱلنَّاسِ بِٱلْحَقِّ۔ (ص: 38-26)

’’اے داؤد! بے شک ہم نے آپ کو زمین میں (اپنا) نائب بنایا سو تم لوگوں کے درمیان حق و انصاف کے ساتھ فیصلے (یا حکومت) کیا کرو۔‘‘

گویا خلافت عرضی کی ذمہ داریوں کا مرکز و محور احقاق حق اور ابطال باطل عدل و انصاف کا قیام اور ان کا تحفظ ہے خلافت کی حقیقت عدل کے ساتھ جڑی ہوئی ہے خلافت اپنی ہیت میں انصاف کے ساتھ بندھی ہوئی ہے اگر خلافت میں عدل و انصاف نہیں تو کچھ بھی نہیں ہے خلافت کا قیام بھی عدل و انصاف کے ساتھ ہے اور خلافت کا دوام بھی عدل و انصاف کے ساتھ ہے اور خلافت کے اثاث اور بنیاد بھی عدل و انصاف کے ساتھ مربوط ہے خلافت جس بھی مرحلے میں عدل و انصاف سے محروم ہو جائے اسی لیے ہمیں یہ خلافت ہی ظلمت و وحشت بن جاتی ہے اور پھر اسے خلافت کے نام پر ظلم ہونے لگتا ہے لوگوں کو ہر حاکم سے اور ہر حکومت سے جو چیز سب سے زیادہ نفر کرتی ہے وہ حاکم اور حکومت کا ظلم ہے ظلم اپنی حقیقت میں ہی اندھیرا ہے ظلم اپنی پہچان میں دوسرے پر زیادتی زیادتی ہے ظلم دوسرے انسان کی عزت کو پامال کرنا ہے اور دوسرے انسان کی غیرت پر حملہ کرنا ہے اور دوسرے انسان کی رفعت کو ذلت میں بدلنا ہے اس لیے ظلم حرام ہے ظلم ہر حامل رسوا ہے اور ہر ظالم کا مقدر ہلاکت ہے اور ہر ظالم کا انجام بربادی ہے اس لیے قرآن اپنے ماننے والوں کو قیامت تک حکم دیتا ہے

وَمَا لِلظَّـٰلِمِينَ مِن نَّصِيرٍۢ ۔(الحج: 22-71)

ظالموں کا کوئی مددگار نہیں ہے

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی امت کو حکم دیا ہے کہ ظلم سے ہر حال میں بچتے رہو یہ ظلم دنیا میں بھی اندھیرا ہے اور آخرت میں بھی اندھیرا ہے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

قالوا اتقوا الظلم فإن الظلم ظلمات يوم القيامه

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ظلم سے ہر حال میں بچتے رہو اس لیے کہ ظلم قیامت کے روز انسانوں کے لیے اندھیرا بن جائے گا خلیفہ اور خلافت تو سراسر عدل اور احسان کا نام ہے اس لیے خلیفہ اور خلافت کی حقیقت عدل و احسان کے ساتھ جڑی ہوئی ہے باری تعالی نے صریح حکم دیا ہے کہ

إِنَّ ٱللَّهَ يَأْمُرُ بِٱلْعَدْلِ وَٱلْإِحْسَـٰنِ

بلا شبہ اللہ عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے

اسلام ہر خ عدل کے ساتھ ادا کرنا قیامت تک امت مسلمہ پر لازم ہے اس امت کا خیر امت ہونا ہی اس کے اوصاف و کمالات کی بنا پر ہے اس امت کو جو چیز خیر امہ کے منصب پر فائز کرتی ہے وہ اس کا حق پر مبنی نظام خلافت اور حکومت ہے جس کے ذریعے پورے معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام ہوتا ہے اللہ کے احکامات کا نفاذ ہوتا ہے اور انسانیت کو خیر و سلامتی ملتی ہے اور انسان کے لیے انسان اہم ہو جاتا ہے ہر انسان اعلی قدروں کے مطابق اپنی زندگی بسر کرتا ہے انسان اپنے کردار میں عرفہ اور اعلی منزل کی طرف بڑھتا ہے انسان کے وجود میں انسانیت قابل فخر محسوس ہوتی ہے انسان کا اس کردار سے مزین ہونا ہی اس کو بہترین مسلمان بناتا ہے اور بہترین اسلام ہی لوگوں کو خیر امہ کے درجے پر فائز کرتا ہے اس لیے باری تعالی نے امت مسلمہ کو یہ اعزاز دیتے ہوئے ارشاد فرمایا!

كُنتُمْ خَيْرَ أُمَّةٍ أُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَأْمُرُونَ بِٱلْمَعْرُوفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ ٱلْمُنكَرِ۔ (آل عمران: 3-110)

اے مسلمانو تم بہترین امت ہو جو لوگوں کی ہدایت کے لیے ظاہر کی گئی ہے تم بھلائی کا حکم دیتے ہو اور برائی سے منع کرتے ہو

خلافت التزام اس لیے ناگزیر ہے کہ امر بالمعروف کا قیام ہو جائے اور نہی عن المنکر کا انتظام ہو جائے خلافت میں خلیفہ وحاکم لوگوں کے لیے نگہبان ہوتا ہے ان کے جملہ معاملات کا محافظ و پاسبان ہوتا ہے خلافت میں وہ لوگوں کی فالت ذمہ داریوں کو اپنے کندھوں پر محسوس کرتا ہے خلافت لوگوں کی بنیادی ضروریات کی تکمیل چاہتی ہے اس لیے امام خلیفہ کا منصب سنبھالنا انسان کا اختیاری فعل ہے اور اس منصب کو اس کی ساری ذمہ داریاں کے ساتھ نبھانا خود اس ذمہ داری کی اہلیت کا ثبوت ہے بصورت دیگر یہ نااہلیت ہے جو اس منصب خلافت کی بربادی کا نام ہے اس لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا!

الإمام راع ومسؤول عن رعيته(رواہ و بخاری و مسلم)

امام اور حاکم اپنی رعایہ اپنی عوام اور اپنے لوگوں کا نگران نگہبان اور پاسباں ہوتا ہے اور وہ ان کی جملہ ضروریات کی کفالت کرتا ہے وہ ان کے جملہ معاملات کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اس منصب خلافت پر فائض ہو کر وہ اپنی ذمہ داری کو خوب نبھاتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت پر اپنی سنت اور اپنے خلفاء راشدین کی سنت کو لازم کیا ہے ابو خلافت جو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مطابق ہو وہ خلافت جو خلفائے راشدین کی سنت پر جاری ہو امت کو ایسی ہی خلافت کی فی زمانہ ضرورت ہے اور اس خلافت کی اتباع امت پر لازم ہے اور وہ خلافت جو سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ہو وہ خلافت جو سنت خلفاء راشدین کے خلاف ہو اور وہ خلافت جو خلافت علی منہاج النبوہ کے خلاف ہو اس خلافت کو کیسے قبول کیا جا سکتا ہے اور اس خلافت کے حامل خلیفہ کی پیروی کیسے کی جا سکتی ہے وہ خلافت جو علی منہاج النبوہ ہے امت کو اس کا پابند کیا گیا ہے۔

عليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين من بعدي۔ (سنن ابی داؤد 4607)

تم پر میری سنت کی اتباع اور خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی میرے بعد لازم ہے

خلاصہ کلام

اسلام نے خلافت کی بنیاد شرائط پر رکھی ہے وامرهم شورى بينهم اسلام خلافت میں وراثت کو استحقاق خلافت نہیں بناتا ہے بلکہ خلافت میں اہلیت اور تقوی کو شامل کر کے اسے شریعت کا پابند کرتا ہے اسلام میں خلافت سراسر امانت ہے خلافت عدل و انصاف کا قیام ہے خلافت رعایہ کی خیر خواہی کا نام ہے خلافت میں خلیفہ ہر دم اللہ کا خوف اور دل میں اس کا تقوی رکھتا ہے خلافت لوگوں کے احوال کی اصلاح سے عبارت ہے اس لیے حضرت امام حسین علیہ السلام نے مکہ سے کوفہ کی طرف اپنے خروج کی وجہ خود بیان کی ہے

اني لم اخرج اشرا ولا بطرا ولا مفسدا ولا ظالما وانما خرجت لطلب الاصلاح في امة جدي

اے لوگو میں فتنہ انگیزی غرور و تکبر اور فتنہ و فساد کے لیے نہیں نکلا ہوں اور نہ ہی ظلم کرنے کے لیے نکلا ہوں میں تو صرف اپنے نانا کا دین بچانے اور ان کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں

کربلا خلافت اسلامی میں عدل کے قیام کے لیے بپا ہوئی شہداء کربلا نے اپنے جانو کی قربانی خلافت میں تقوی کو بحال کرنے کے لیے دی اسلام نے خلافت کو اپنی ایک ذمہ داری قرار دیا ہے خلافت کسی تعیش کا نام نہیں ہے خلافت اجتماعی ذمہ داری کو نبھانے کا نام ہے خلافت محض اقتدار کے نشے میں گم ہونے کا نام نہیں ہے خلافت عدل و انصاف کے ساتھ فیصلے کرنے کا نام ہے خلافت علی منہاج النبوہ یہ ہے کہ حکمران اپنے ہر قول و فعل پر رعایہ و عوام کے سامنے جواب دہ ہے کوئی بھی خلیفہ جواب دہی کے تصور سے بالا نہیں ہے خلافت فسق و فجور کے خاتمے کا نام ہے خلافت کے ذریعے حق سر بلند ہوتا ہے اور باطل سرنگوں ہوتا ہے خلافت اپنا انتخاب شورہ پر قائم کرتی ہے اور خلافت وراثت نہیں ہوتی ہے خلافت سادگی و مساوات سے فروغ پاتی ہے خلافت ذات پروری کا نہیں بلکہ رعایہ پروری کا نام ہے خلافت گناہوں کو ختم کرتی ہے شراب نوشی کا انسداد کرتی ہے خلافت کردار کو قائم کرتی ہے خلافت شریعت کی حفاظت کرتی ہے خلافت امت کی اصلاح کرتی ہے خلافت امر بالمعروف سے قوت پاتی ہے خلافت نہی عن المنکر کے ذریعے معاشرے سے جرائم کا خاتمہ کرتی ہے خلافت انسانی خدمت کا نام ہے خلافت حق کی نشانی ہے باطل کے لیے سرا سر پریشانی ہے خلافت اقتدار کی طلبگار نہیں ہوتی بلکہ خلافت اقدار سے اور کردار سے قائم ہوتی ہے یزید کی خلافت میں نہ اسلام کی اقدار تھی اور نہ اسلام کا کردار تھا بلکہ اس کی خلافت ظلمت تھی وہ اور وہ ظالم خود کو ظالم ہی جانتا تھا اور ظالم کی بیعت اسلامی خلافت نہیں ہے۔ خلافت شریعت سے انحراف کا نام نہیں ہے بلکہ خلافت حق پر اثبات کا نام ہے خلافت امت کو متحد کرتی ہے خلافت ظلم کا خاتمہ کرتی ہے خلافت ظلم کو روکتی ہے خلافت دین کی اصل تعلیمات کی پاسداری کا نام ہے خلافت دین کی بالادستی کا نام ہے خلافت خلیفہ کو صفات احسن کے ساتھ متعارف کراتی ہے خلافت میں صدیقیت ،فاروقیت ،اور عثمانیت اور علویت ،کے رنگ نظر آتے ہیں اور خلافت خلافت راشدہ کے سارے محاسن اور کمالات پائے جاتے ہیں خلافت سراسر اخلاق حسنہ کا نام ہے اسلام نے خلافت کو ذاتی جاگیر نہیں بنایا اسلام نے خلافت کو خاندانی وراثت کا درجہ نہیں دیا اسلام نے خلافت کو اطاعت فی المعروف کا تعارف دیا ہے اسلام نے خلافت میں بے رحم احتساب کو جاری کیا ہے اسلام نے خلافت کو صحیح قیادت کے انتخاب کا ذریعہ بنایا ہے اسلام میں خلافت دین سے رسمی نہیں حقیقی تعلق قائم کرتی ہے خلافت مصلحت نہیں سنت رسولﷺ کی پیروی کرتی ہے خلافت عہدہ تعیش نہیں ہے بلکہ عہدہ ذمہ داری ہے خلافت علم بغاوت کو بلند کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ خلافت علم شریعت کو اٹھانے اور اونچا کرنے کا نام ہے خلافت بیدار قیادت کا نام ہے خلافت بیت المال کو ذات خزانہ نہیں بناتے خلافت احتجاج کو کچلتی نہیں ہے بلکہ احتجاج کا حق دیتی ہے خلافت جان دے دیتی ہے مگر دین کی حفاظت کرتی ہے اسلام کو ہر دور میں تخت نے نہیں بلکہ جذبہ کربلا نے بچایا ہے کربلا میں جیت تخت کی نہیں بلکہ سچ کی ہوئی ہے خلافت فکری بلندی کا نام ہے خلافت اخلاقی اجالہ پن کا نام ہے خلافت کے اصل حقدار کی آواز یزیدیوں کے سامنے یوں گونجتی ہے

اسلام نے خلافت کی بنیاد شرائط پر رکھی ہے وامرهم شورى بينهم اسلام خلافت میں وراثت کو استحقاق خلافت نہیں بناتا ہے بلکہ خلافت میں اہلیت اور تقوی کو شامل کر کے اسے شریعت کا پابند کرتا ہے اسلام میں خلافت سراسر امانت ہے خلافت عدل و انصاف کا قیام ہے خلافت رعایہ کی خیر خواہی کا نام ہے خلافت میں خلیفہ ہر دم اللہ کا خوف اور دل میں اس کا تقوی رکھتا ہے خلافت لوگوں کے احوال کی اصلاح سے عبارت ہے اس لیے حضرت امام حسین علیہ السلام نے مکہ سے کوفہ کی طرف اپنے خروج کی وجہ خود بیان کی ہے

اني لم اخرج اشرا ولا بطرا ولا مفسدا ولا ظالما وانما خرجت لطلب الاصلاح في امة جدي

اے لوگو میں فتنہ انگیزی غرور و تکبر اور فتنہ و فساد کے لیے نہیں نکلا ہوں اور نہ ہی ظلم کرنے کے لیے نکلا ہوں میں تو صرف اپنے نانا کا دین بچانے اور ان کی امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں

مثلي لا ينایع مثله

میرے جیسا اس جیسے کی بیعت نہیں کر سکت

یہ جملہ و کلمہ کہہ کر اگر امام حسین علیہ السلام کو اپنی اور اپنے خانوادے کی جان سے گزرنا پڑتا ہے تو وہ اس سے دریغ نہیں کرتے ہیں خلافت اگر دین و شریعت کے خلاف ہے تو وہ خلافت خلافت ہی نہیں ہے اس لیے اصل خلافت سراسر دین کے تابع ہوتی ہے اور دین کے مطابق ہوتی ہے اس لیے بہترین خلافت اور پسندیدہ خلیفہ وہ ہے جس کی رہنمائی یہ حدیث مبارکہ کرتی ہے

خيار المنتقم الذين تحبونهم ويحبونكم (صحیح مسلم)

بہترین تمہارے امام و رہبر وہ لوگ ہیں جن سے تم محبت کرتے ہو اور وہ تم سے محبت کرتے ہیں

خلافت مشاورت سے کمال پاتی ہے خلافت حقیقی حریت کا نام ہے خلافت اعلی کردار کی کھلی وحدت کا نام ہے خلافت ہی اعلی عدالتی نظام ہے خلافت شعرآیت محاسبت اور شفافیت کا نام ہے خلافت استہداد کے خاتمے فساد کے خاتمے اور اموال کے سرقہ کے خاتمے کا نام ہے خلافت وحدت امت کا نام ہے خلافت سیاسی وحدت معاشی وحدت سماجی وحدت کا نام ہے خلافت وحدت قومیت کا نام ہے خلافت اقامت دین کا نام ہے خلافت ایمان کے استحکام اور عمل صالح کے دوام کا نام ہے خلافت دفاع امت کا نام ہے خلافت امن پروری اور سلامتی و خوشحالی کا نام ہے خلافت حقیقی Leadership کا نام ہے خلافت معاشرے کو justice دیتی ہے خلافت تمام معاملات میں fairness کو یقینی بناتی ہے خلافت detection نہیں سکھاتی ہے خلافت اس وقت کاملیت میں ڈھلتی ہے جب اس میں انصاف ہو جب اس میں interritory ہو جب اس میں accountbillity ہو جب اس میں service to people کا تصور اور جب اس میں Obedience to Allah and his messengerہو تو تب جا کر خلافت خلافت اسلامی بنتی ہے حضرت امام حسین علیہ السلام اسی خلافت کے احیا کے لیے مکہ سے کوفہ کی طرف نکلے تھے جس کا اظہار وہ خود یوں کرتے ہیں

اني لم اخرج اشترى ولا بطرا ولا مفسدا ولا ظالما وانما خرجت لطلب الاسلام في أمة جدي

میں نہ فتنہ انگیزی کے لیے نکلا ہوں اور نہ غرور و تکبر کے لیے نکلا ہوں اور نہ وہ فساد پھیلانے کے لیے نکلا ہوں اور نہ ہی ظلم کرنے کے لیے نکلا ہوں میں تو صرف اپنے نانا کے دین کی حفاظت کی خاطر اور امت کی اصلاح کے لیے نکلا ہوں

امام حسین علیہ السلام نے اپنے اس کلام کے ذریعے اپنے خروج کے مقصد کو واضح کر دیا ہے جس میں تمام دنیاوی مقاصد کی نفی کر دی ہے اور اپنے خروج کا مقصد صرف اور صرف دین اسلام اور امت مسلمہ کی اصلاح کو ٹھہرایا ہے اس بنا پر ہم کہتے ہیں کہ حضرت امام حسین علیہ السلام جس خلافت کا قیام چاہتے تھے اس خلافت کی بنیاد شریعت پر قائم تھی یزید کی خلافت آمریت پر تھی حسین کے خلافت حکم قرآن و سنت کی آئینہ دار تھی یزید کی خلافت ملوکیت کی عکاسی حسین کے خلافت نظریہ اسلام تھی یزید کی خلافت ہوائے نفس تھی حسین کے خلافت شریعت تھی یزید کی خلافت شریعت سے دوری تھی حسین کے خلافت کا تصور عدل و انصاف اور تقوی پر تھی یزید کی خلافت ظلم نا انصافی اور گناہ پر تھی حسین کی خلافت لوگوں کی خیر خواہی اور فلاح پر تھی یزید کی خلافت لوگوں پر ہر ظلم و جبر اور استحصال پر تھی حسین کی خلافت عدل پر تھی یزید کی خلافت ظلم اور سراسر ظلم تھی حسین کے خلافت اصول اسلام تھی یزید کی خلافت اصول اسلام سے انحراف تھی حسین کے خلافت دین کا قیام اور نفاذ تھی یزید کی خلافت دین سے دوری اور دین کی بے حرمتی تھی حسین کی خلافت خلافت راشدہ کا تسلسل تھی یزید کی خلافت موروصیت اور ملوکیت کی بنیاد تھی حسین کی خلافت اقدار اسلام اور تعلیمات دین تھی یزید کی خلافت شراب نوشی گناہ اور فحاشی پر تھی حسین کے خلافت میں دنیا دین کے تابع تھی یزید کی خلافت میں دین دنیا کے تابع تھا حسین کے خلافت حقیقی خلافت تھی یزید کی خلافت بادشاہت تھی حسین کے خلافت جان و مال کی حفاظت تھی یزید کی خلافت جان و مال کی بربادی تھی حسین کے خلافت امانت تھی یزید کے خلافت وراثت تھی حسین کی خلافت سچائی اور سادگی تھی یزید کی خلافت بددیانتی اور عیاشی تھی حسین کی خلافت بیعت بلرضاعی یزید کی خلافت بیت بالجبر تھی حسین کے خلافت دین سے وفا تھی یزید کی خلافت دین سے غداری تھی

حسین کے خلافت عدل و انصاف سے درخشندہ تھی یزید کی خلافت ظلم و جبر کی نمائندہ تھی حسین کی خلافت میں حلال و حرام کا امتیاز تھا یزید کی خلافت میں حلال و حرام کی تمیز کو مٹانا تها حسین کے خلافت فتنے کا انسداد تھا یزید کی خلافت فتنے کو بھڑکانہ تھا حسین کے خلافت امت کو بیدار کرنا تھا یزید کی خلافت امت کو غفلت میں مبتلا کرنا تھا حسین کے خلافت قرآن پر عمل تھا یزید کی خلافت قرآن سے لوگوں کو ہٹانا تھا غرضے کے حسین کے خلافت حق تھی یزید کے خلافت باطل تھی حسین کی خلافت کربلا کا ذکر کرتے ہوئے اور اسلام کے اصل تصور خلافت کو واضح کرتے ہوئے اقبال کہتا ہے

چوں خلافت رشتہ از قرآن گسیخت

حریت را زهر اندر کام ریخت

جب خلافت نے قرآن سے اپنا تعلق منقطع کر لیا تو اس منحرف خلافت نے حریت و آزادی کو کچل دیا

دین کے حلق میں زہر گھول دی

خاست آں سر جلوہ خیر الامم

چوں سحاب قبلہ باراں در قدم

پھر اس موقع پر خیر الامام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امت کی دستگیری کی پھر سرور امت نے جلوہ آرائی کی اس طرح کے قبلے کی سمت سے بادل اٹھا اور مقررہ جگہ پر برس پڑ

ہر زمین کربلا بارید و رفت

لا در دہرانہ کارید و رفت

وہ کرم کربلا کی زمین پر برس کر چلا گی

اور ویرانے میں لالہ کے پھول اگا کر چل دی

تا قیامت قطع استبداد کرد

موج خون اور چمن ایجاد کرد

شہادت امام حسین اور شہدائے کربلا نے قیامت تک کے لیے ظلم و استحداد کا خاتمہ کر دیا ہے اور ان کے جسم کے خون کی لہروں اور نہروں نے گلستان اسلام کو آباد کر دیا ہے

ماسوا الله را مسلمان بنده نیست

پیش فرعون سرش افکنده نیست

مسلمان اللہ کے سوا کسی کا بندہ نہیں بن سکتا وہ دنیا کے کسی بھی فرعون کے سامنے اپنا سر عظمت ختم نہیں کر سکت

موسی و فرعون و شبیر و یزید

ایں دو قوت از حیات آید پدید

ہر دور میں موسی کے مقابل فرعون رہا ہے اور حسین کے مقابل یزید رہا ہے انسانی زندگی کے ہر دور میں یہ دو قوتیں حق و باطل ظاہر ہوتی رہیں گی

زندہ حق از قوت شبیری است

باطل اخر داغ حسرت میری است

حق ہمیشہ حسینیت کی قوت سے زندہ رہے گا باطل کا انجام حسرت و ناکامی ہوگ

اسی حقیقت کو اقبال اردو زبان میں یوں کہتا ہے

حقیقت ابدی ہے مقام شبیری

بدلتے رہتے ہیں انداز کوفی و شامی

اقبال کے نزدیک سارا واقعہ کربلا اور شہادت کربلا اس عظیم مقصد کے ساتھ جڑا ہوا ہے کہ خلافت قرآن سے دور ہوئی تو خلافت از قرآن گسیخت آور سارے خانواده نبوت آور امام حسین کی قربانی کا نتیجہ یہ ظاہر ہو

موج خون اور چمن ایجاد کرد ان کے خون نے گلستان اسلام کو قیامت تک آباد کر دیا ہے ان کی شہادت نے ہر دور کے فرعون و یزید کے ظلم کو ختم کر دیا ہے اور ان سے مزاحم ہونے کا جذبہ دیا ہے

تا قیامت قطع استبداد کرد

امام حسین علیہ السلام اور شہداء کربلا کی شہادت نے حق کو حیات جاویداں دی ہے اور اسلام کو دوام دو جہاں عطا کر دیا ہے

زندہ حق از قوت شبیری است