الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر كبيرًا.
الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر، ولله الحمد.
الله أكبر، الله أكبر، الله أكبر، لا إله إلا الله، والله أكبر، الله أكبر ولله الحمد.
حُکمِ رَبَّاِنی
حج اسلام کا بنیادی رکن ہے یہ ہر اس شخص پر زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے جو صاحب استطاعت ہو۔ حج، اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک ایسا رکن ہے جو اجتماعیت اور اتحاد و یگانگت کا آئینہ دار ہے. قرآن کریم میں حج کی فرضیت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:
وَ ِﷲِ عَلَی النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْهِ سَبِیْلاً
’’اور اللہ کے لیے لوگوں پر اس گھر کا حج فرض ہے جو بھی اس تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو‘‘۔ (آل عمران: 97)
حج کرنے والے کے لئے جنت ہے۔ حجاج کرام اللہ کے مہمان ہوتے ہیں اور ان کی دعا قبولیت سے سرفراز ہوتی ہے۔ یہ نفوس ہر قسم کی برائی کا خاتمہ کرنے کا عہد کرتے ہوئے نیکیوں کے حصول کی جانب ایک نئے سفر کا آغاز کرتے ہیں۔ اگر کوئی شخص زندگی میں استطاعت کے باوجود حج نہ کرے تو وہ رب کائنات کی رحمتوں سے نہ صرف محروم ہوجاتا ہے بلکہ ہدایت کے راستے بھی اس کے لئے مسدود ہوجاتے ہیں۔
1. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے پوچھا گیا کہ کونسا عمل سب سے زیادہ فضیلت والا ہے؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان لانا‘‘عرض کی گئی: پھر کونسا ہے؟ فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا‘
قِیلَ ثُمَّ مَاذَا؟ قَالَ: حَجٌّ مَبْرُورٌ
’’عرض کی گئی کہ پھر کونسا ہے؟ فرمایا کہ حج جو برائیوں سے پاک ہو۔‘‘ (بخاري، الصحیح، 1:18 ، رقم:27)
2. حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:
مَنْ حَجَّ لِلّٰهِ فَلَمْ یَرْفُثْ وَلَمْ یَفْسُقْ رَجَعَ کَیَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ.
’’جو رضائے الٰہی کے لیے حج کرے جس میں نہ کوئی بیہودہ بات ہو اور نہ کسی گناہ کا ارتکاب۔ وہ ایسے لوٹے گا جیسے اس کی ماں نے ابھی جنا ہو۔‘‘(مسلم، الصحیح، 2: 983 ، رقم: 1350)
ہر سال کی طرح امسال بھی منہاج القرآن ویمن لیگ کے حج کے بابرکت موقع پر پلان ترتیب دیا ہے تاکہ ان افضل الایام الدنیا سے زیادہ فائدہ اٹھایا جاسکے اور برکتیں سمیٹنے کا موقع مل سکے۔
مقاصد:
1. ماہ ذی الحج بالخصوص پہلاعشرۂ جسے حضور نبی رحمت ﷺ نے اَفضَلُ الایَّاِم الدُّنیاَ فرمایا اسکی فضیلت واہمیت کو اجاگر کرنا ۔
2. حضرت سیّدناابراہیم خلیل اللہ وحضرت حاجرہ علیہم السلام کی اللہ کی بارگاہ میں پیش کی گئی عظیم قربانی کی یاد کو تازہ کر کے اپنی زندگیوں کو ہمہ وقت آمادہ ٔ ایثار و اطاعت پر کاربند رکھنےکی کوشش کرنا۔
3. سیِّدہ حاجرہ سلام اللہ علیھاکے صبر و استقامت کو خراج تحسین پیش کرنا۔اور خواتین کو قربانی کے اصل مقصد ایثار تقویٰ اور رضائے الٰہی سے روشناس کروانا ۔
4. دروس قرآن ،محافل ذکر اور دعا کے ذریعے خواتین کی اخلاقی و روحانی تربیت کا اہتمام کرنا اور خدمت دین کی دعوت دینا۔
ذو الحجہ کے دس دنوں کی فضیلت
وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرِ قسم ہے فجر اور دس راتوں کی (سورۃ الفجر)
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ وَلَيَالٍ عَشْر سے مراد ذوالحجہ کے ابتدائی دس دن ہیں اور یہی قول مجاہد، قتادہ، ضحاک، اور سدی کا ہے۔
پروگرامزبرائے فیلڈ تنظیمات
1. دروس قرآن
2. ہجرت برائےدعوت الی اللہ
3. یوم عرفہ یوم دعا
4. انفرادی معمولات
ہجرت برائےدعوت الی اللہ بذریعہ دروس قرآن
منہاج القرآن ویمن لیگ شعبہ دعوت وتربیت کی ذمہ داران ماہ رواں میں ایسے علاقہ جات جن میں منہاج القرآن کی تنظیمات اس سے قبل موجود نہیں ان میں ہجرت برائےدعوت الی اللہ بذریعہ دروس قرآن اختیار کریں گی ۔حضرت سیِّدہ حَاجرہ سلام اللہ علیہا نے رضائے الہی کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کیا،بے آب و گیاہ سرزمین حجاز میں آباد ہوئیں ۔آیئے ان کی سنت پر عمل کریں اور رضائے الہی کی خاطر نئے علاقہ جات میں دعوت کے مسلسل عمل کی بدولت فروغ دین کی خدمت سرانجام دے سکیں۔
حضرت حاجرہ سلام اللہ علیھا کی حیات مقدسہ میں جو قربانیاں انہوں نے بطورایک خاتون پیش کیں ان قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے،ہجرت سیدہ حاجرہ سلام اللہ علیھا کی یاد کو تازہ کرنے اور خدمت دین میں ہجرت کے مفہوم کو کما حقہ سمجھنے کے لئے نئے علاقہ جات جہاں ابھی تک مشن مصطفویﷺکا پیغام نہیں پہنچایا جاسکا،اس ماہ ان شاءاللہ ان علاقہ جات میں اپنی دعوت کا آغاز کریں گے۔اور کم ازکم وقت میں وہاں حلقات درودوفکر اور دروس قرآن کا آغاز کیا جائے گا ۔
انفرادی معمولات
قرآن پاک اور احادیث مبارکہ میں عشرۂ ذی الحجہ میں جن اعمال کے کرنے کی فضیلت آئی ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں:
1۔ ذکر الٰہی کا اہتمام کرنا:
اللہ عزوجل نے قرآن پاک میں ان دس دنوں میں اپنا ذکر کرنے کا خصوصی طور پر تذکرہ فرمایا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
ويَذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ فِي أَيَّامٍ مَّعْلُومَاتٍ.
اور مقررہ دنوں کے اندر اﷲ کے نام کا ذکر کرو۔ (الْحَجّ، 22: 28)
صحابہ کرام اور محدثین و مفسرین کے نزدیک ان ایام معلومات سے مراد عشرۂ ذی الحجہ کے دس دن ہیں۔
2۔ کثرت سے تہلیل، تکبیر اور تحمید کہنا:
امام احمد نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت نقل کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’کوئی دن بارگاہ الٰہی میں ان دس دنوں سے زیادہ عظمت والا نہیں ،اور نہ ہی کسی دن کا (اچھا) عمل اللہ کو ان دس دنوں کے عمل سے زیادہ محبوب ہے پس تم ان دس دنوں میں کثرت سے لا الہ الا اللہ ،اللہ اکبر اور الحمد للہ کہو‘‘
جمعۃ المبارک(یوم رحمت ) کے معمولات
« تہجد کے نوافل ادا کریں.
« بعد از نماز فجر تلاوت قرآن پاک کریں.
« صبح کے اوقات میں ان اموراپنی زندگی کا حصہ بنائیں.
« صبح کے اوقات کے مسنون اذکار
« 1000 مرتبہ درود شریف
« 100 مرتبہ استغفار * 100 مرتبہ کلمہ طیبہ
« 100 مرتبہ اسم ذات اللہ **اخلاص کے ساتھ دع
« نماز اشراق اور چاشت کی ادائیگی
« غسل کریں. پاکیزہ/میسر ہوتو نیا لباس پہنیں
« خوشبو لگائیں. *سارا دن باوضو رہیں
« درود پاک کی کثرت کریں۔
« نماز تسبیح کا خصوصی اہتمام کریں۔
« حج کے دن لازم صدقہ وخیرات کریں.
« خاموشی اور کم گوئی پر کاربند رہیں کم سے گفتگو کریں۔ 30منٹ کم از کم محفل ذکر کریں۔
« دعا کےذریعہ قبولیت کی گھڑی تلاش کریں۔
« تلاوت قرآن پاک کی کثرت کریں۔
« نماز مغرب کےبعد اوابین کے نوافل ادا کریں.
« سورہ الکہف تلاوت کریں اور جو نہیں پڑھ سکتے ان کو بھی سنائیں
« اطاعت اور بھلائی پر محنت کریں.
« برےاخلاق اور بری باتوں سے بچیں.
« نماز توبہ کے ذریعہ رحمت الہی کی طلب کریں.
« نماز عشاء کے بعد قیام الیل کی نیت سے 4 رکعت نفل ادا کریں 10 منٹ مراقبہ کریں
« اللہ تعالیٰ ہم سب کو دنیا اور آخرت میں بھلائی نصیب فرمائے۔ آمین
نوٹ: منہاج القرآن ویمن لیگ کی ذمہ داران، وابستگان اور قارئین ذوالحج پلان کے اہداف، دروسِ قرآن کے طریقہ کار اور فارمیٹ کی تفصیلات کے لیے منہاج القرآن ویمن لیگ کے فیلڈ آفیشل واٹس اپ گروپس سے تفصیلات حاصل کریں۔