اداریہ: مجدد المئۃ الحاضرہ شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کی 75ویں سالگرہ

چیف ایڈیٹر نور اللہ صدیقی

مجدد المئۃ الحاضرہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ کی 75ویں سالگرہ پاکستان سمیت دنیا کے تمام براعظموں میں تحریک منہاج القرآن کی تنظیمات، رفقائے کار، کارکنان و ذمہ داران کی طرف سے منائی جارہی ہے، اس موقع پر شیخ الاسلام کی دینی و انسانی خدمات پر اُنہیں خراجِ تحسین پیش کیا جارہا ہے۔ رواں صدی میں شیخ الاسلام ایک ایسی شخصیت ہیں کہ جنہوں نے اسلاف کی دینی، علمی، اخلاقی و سماجی اقدار کا علم و تحقیق اور تحریر و تقریر کے ذریعے احیاء کیا اور دنیا کے ہر براعظم میں آباد نوجوان نسل پر گہرے نقوش چھوڑے، آپ نے اپنی تصانیف و تالیفات اور تحقیقات کے ذریعے مختلف مکاتبِ فکر کو علم کی بنیاد پر ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا۔ فی زمانہ جب بھی بین المسالک ہم آہنگی، بین المذاہب رواداری اور فروغِ علم و امن کی بات ہوتی ہے تو ذہن کے کینوس پر جو سب سے پہلے نام ابھر کر سامنے آتا ہے وہ شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کا ہے۔ علوم دینیہ کی کوئی ایسی شاخ نہیں ہے جس پر شیخ الاسلام نے علم وحکمت کے موتی نہ بکھیرے ہوں، ایک تنہا شخصیت نے سیکڑوں موضوعات پر ایک ہزار سے زائد کتب مرتب کر کے اُمت کو وہ علمی خزانہ عطا کیا کہ جس کی نظیر رواں صدی تو کیا گزشتہ صدیوں میں بھی نہیں ملتی۔ یہ اعزاز انسان کی محنت یا لگن نہیں توفیقِ خاص سے میسر آتا ہے اور اللہ رب العزت نے شیخ الاسلام کو توفیقات کے بے بہا خزانوں سے نوازا ہے۔

شیخ الاسلام کم و بیش پانچ دہائیوں سے پیغمبرِ حق ﷺ کی اس فکر اور تعلیمات کو عام کررہے ہیں کہ انسانیت کی بقا ء اور دنیا کا مستقبل تصادم میں نہیں بلکہ مکالمہ میں ہے اور بین المذاہب رواداری کے فروغ کے لئے جو خدمت تحریک منہاج القرآن نے شیخ الاسلام کی معیت اور سرپرستی میں دنیا بھر میں انجام دی، وہ ہر اعتبار سے مثالی اور قابل تقلید ہے۔ انسانیت کی اس خدمت کے نتیجے میں مختلف مذاہب اور مسالک جو ایک دوسرے کو دیکھنے کے روادار نہ تھے، وہ آج ساتھ ساتھ بیٹھتے ہیں اور اعتدال اور رواداری کے جو مناظر آج انسانی آنکھ دیکھتی ہے، دو دہائیاں قبل اس کا تصور بھی محال تھا۔

یوں تو شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کے دنیا بھر میں لاکھوں محبین اپنے اپنے انداز میں اُن کی دینی، علمی و انسانی خدمات پر اُنہیں خراجِ تحسین پیش کرتے رہتے ہیں مگر امسال منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے عربی زبان میں منظوم اظہارِ عقیدت کر کے اُن کی شخصیت کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے۔ بلاشبہ یہ منظوم اظہار عقیدت جہاں شیخ الاسلام کی مختلف علمی جہتوں کو اجاگر کرتا ہے وہاں یہ قصائد کی صنف میں عربی زبان کا ایک ادبی شاہکار بن کر سامنے آیا ہے۔ ڈاکٹرسرور حسین نقشبندی (ڈائریکٹر حسان بن ثابت سنٹر فار ریسرچ ان نعت لٹریچر) نے کمال مہارت کے ساتھ اس عربی قصیدہ کا اردو میں ترجمہ بھی کیا ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اس منظوم خراجِ تحسین میں شیخ الاسلام کی علمی خدمات کی مختلف جہتیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ علم کی روشنی اندھیروں کو مٹادیتی ہے اور آپ نے فروغ علم کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنایا اور اس ضمن میں آپ ایک جگمگ کرتی روشنی ہیں۔ ایک مقام پر لکھتے ہیں کہ کثرت تالیف میں آپ علامہ ابن جوزی کی جھلک ہیں۔ تاریخ اسلام میں علامہ ابن جوزی کثیر تصانیف کے مصنف ہونے کی شہرت رکھتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے حال ہی میں شیخ الاسلام کی منظرعام پر آنے والی شہرۂ آفاق کتب کا نہایت خوبصورتی کے ساتھ اپنے قصیدہ میں ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:’’مہر کی طرح چمک اٹھی ہے یوں فتح الکبیر‘‘ ’’کھینچ دی انوار نے لہلاتے پرچم کی لکیر‘‘ ’’روضِ باسم‘‘ نے کیا ہے یوں ہمیں آراستہ‘‘ ’’ خلق احمد کی طرح یہ ہردم ہے مرحم ساختہ‘‘۔ اس عربی قصیدہ کا ایک ایک شعر پڑھنے کے لائق ہے۔

علم و ادب کا ایک معروف نام بشریٰ رحمٰن کا ہے۔ اللہ رب العزت ان کی قبر پر اپنی رحمتوں کے نزول میں اضافہ فرمائے، انھوں نے ایک موقع پر شیخ الاسلام کے بارے میں کہا تھا کہ یہ ایک ایسی ہستی ہیں جو علوم القرآن، علوم الحدیث اور علم کی ہر شاخ کو آسان بنا کر موتیوں کی طرح ہمارے سامنے رکھ دیتے ہیں اور ہمارے حصے کی مشقت دن رات شیخ الاسلام کرتے ہیں۔ انہوں نے سادہ الفاظ میں بہت بڑی بات کہہ دی۔ اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ آج دین کے علم کو جتنا آسان بنا کر شیخ الاسلام نے اُمت کے سامنے بالخصوص نوجوانوں کے سامنے رکھا ہے، یہ علمی اثاثہ اللہ کی ایک بہت بڑی نعمت ہے۔

ترجمہ عرفان القرآن ایک خاص شہرت کا حامل ہے، اس ترجمہ کو تفسیری شان والا ترجمہ کہہ کر خراج تحسین پیش کیا جاتا ہے۔ یہ ایک ایسا ترجمہ ہے کہ جسے پڑھ کر آیت کا مفہوم نکھر کر سامنے آجاتا ہے۔ اسی طرح شیخ الاسلام نے حال ہی میں The Menifest Quranکے نام سے عربی زبان سے براہ راست انگریزی زبان میں ایک ایسا ترجمہ کیا ہے جس کے بارے میں فخر کے ساتھ یہ کہا جاتا ہے کہ یہ آج کے مغربی نوجوان کی انگریزی زبان میں مرتب کیا گیا ہے۔ اس ترجمہ قرآن میں وہ انگریزی بروئے کار آئی ہے جو روز مرہ کے استعمال میں ہے۔ اگر ہم اسلاف کے تراجم پڑھیں تو وہ مشکل زبان کے باعث کسی استاد کی راہ نمائی مانگتے ہیں، اس امر میں کوئی شبہ نہیں کہ ان تراجم کا بھی ایک مقام ہے مگر شیخ الاسلام نے بقول بشریٰ رحمٰن علم کو آسان بنا کر ایک طشتری میں سجا کر ہمارے سامنے رکھ دیا ہے۔

ڈاکٹر نعیم مشتاق نے شیخ الاسلام کے اس علمی ہنر کو بھی بڑے خوبصورت انداز میں بیان کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں ’’ زبان تبسیط علوم کا سب سے بڑا ہنر ہے۔ زبان میں وہ قوت ہے جو پیچیدگی کو سادگی میں بدل دیتی ہے، جو دھند کو ہٹا دیتی ہے، جو مشکل کو آسان کر دیتی ہے لیکن یہ زبان سطحی نہیں ہوتی، نہ لفاظی کے شور سے بھری ہوتی ہے۔ یہ ایسی زبان ہوتی ہے جو دل میں اتر جائے، ذہن کو روشن کر دے اور مفہوم کو کھول دے۔ یہ زبان اس ماہر کی زبان ہوتی ہے جو جانتا ہے کہ کب خاموشی زیادہ معنی خیز ہے اور کب لفظ ضروری ہے‘‘۔

یہاں شیخ الاسلام کو علوم القرآن کے فروغ کے ضمن میں خراج تحسین پیش کئے بغیر نہیں رہا جا سکتا کہ آپ کا ترجمہ عرفان القرآن 12 زبانوں میں شائع ہو چکا ہے مزید میں کام جاری ہے۔ یہ آسان اور عام فہم ہے، زبان و بیان میں اعتدال ہے، جدید ذہنوں کے لئے ذریعہ راہنمائی ہے، روحانی پہلوؤں کا عکاس ہے اور سب سے بڑھ کر یہ زبان سادہ اور سلیس ہے۔ عرفان القرآن کے غیر ملکی زبانوں کے ساتھ ساتھ پشتواور سندھی زبانوں میں بھی تراجم ہو چکے ہیں۔

شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر اُن کی علمی خدمات کا اس مختصر ادارایہ میں احاطہ تو کیا اُن کی کسی علمی خدمت کا کوئی ایک جز بھی بیان نہیں کیا جا سکتا۔ ہم اس اعتبار سے خوش قسمت لوگ ہیں کہ ہم شیخ الاسلام کے عہد میں سانس لے رہے ہیں۔ اللہ رب العزت شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ کو صحت و تندرستی والی لمبی عمر عطا فرمائے اور ان کا سایہ ہمارے سروں پر سلامت رہے اور مصطفوی معاشرہ کی تشکیل کاانہوں نے جو خواب دیکھا ہے دعا ہے یہ خواب ہماری زندگیوں میں شرمندہ تعبیر ہو۔