پاکستان اس وقت جن ہمہ گیر قومی چیلنجز سے دوچار ہے، ان میں سب سے زیادہ تشویشناک اور دور رس اثرات رکھنے والا مسئلہ تعلیم ہے۔ تعلیم کسی بھی قوم کی فکری، اخلاقی، سماجی اور معاشی ترقی کی اساس ہوتی ہے۔ یہ نہ صرف افراد کو شعور اور مہارت عطا کرتی ہے بلکہ اقوام کو سمت، شناخت اور مقصد بھی فراہم کرتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں تعلیم نہ تو قومی ترجیح بن سکی اور نہ ہی اسے ایک جامع، مربوط اور دوراندیش فکری نظام کے تحت فروغ دیا جا سکا۔
پاکستان میں آج بھی لاکھوں بچے اسکول سے باہر ہیں۔ بالخصوص دیہی علاقوں، پسماندہ طبقات اور خواتین میں تعلیمی شرح انتہائی تشویشناک حد تک کم ہے۔ غربت، سماجی روایات، کمزور تعلیمی ڈھانچہ اور حکومتی عدمِ توجہ اس تعلیمی محرومی کے بنیادی اسباب ہیں۔
تعلیم کی کمی کے نتیجے میں بے روزگاری میں اضافہ، انتہا پسندی اور عدم برداشت کا فروغ، سماجی ناہمواری، فکری پسماندگی اور قومی یکجہتی کا فقدان جیسے سنگین مسائل جنم لیتے ہیں۔ یوں تعلیمی بحران محض ایک تعلیمی مسئلہ نہیں رہتا بلکہ قومی سلامتی، معاشی ترقی اور سماجی استحکام کے لیے ایک بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔
اس غفلت کا نتیجہ یہ نکلا کہ معاشرہ فکری انتشار، اخلاقی زوال اور تخلیقی جمود کا شکار ہوتا چلا گیا۔ علم، تحقیق اور تنقیدی سوچ کا فقدان ایک قومی المیہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اگر اس تعلیمی بحران کے اسباب و وجوہات کا جائزہ لیا جائے تو درج ذیل نکات سامنے آتے ہیں:
1۔ پاکستان کے تعلیمی بحران کے بنیادی اسباب میں تعلیم کے لیے ناکافی بجٹ، اساتذہ کی غیر معیاری پیشہ ورانہ تربیت، تحقیق اور جدت پر عدم توجہ، ادارہ جاتی احتساب کا فقدان اور تعلیم و اخلاق کی علیحدگی شامل ہیں۔ جب تعلیم مقصد، وژن اور اخلاقی بنیاد سے محروم ہو جائے تو وہ قوم کو سمت دینے کے بجائے انتشار اور بے سمتی کا باعث بن جاتی ہے۔
2۔ پاکستان کا تعلیمی نظام قیامِ پاکستان کے ابتدائی برسوں ہی سے ساختی اور فکری تضادات کا شکار رہا ہے۔ ایک طرف سرکاری تعلیمی ادارے وسائل کی شدید کمی، ناقص انفراسٹرکچر، غیر معیاری تدریسی سہولیات اور کمزور انتظامی ڈھانچے سے دوچار ہیں تو دوسری طرف نجی تعلیمی ادارے تیزی سے ایک منافع بخش صنعت میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ ان اداروں میں تعلیم کو زیادہ تر کاروباری نقطۂ نظر سے دیکھا جاتا ہے، جس کے باعث معیار، رسائی اور اخلاقی تربیت ثانوی حیثیت اختیار کر جاتی ہے۔ ان دونوں نظاموں کے درمیان معیار، مواقع اور نتائج کا فرق وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتا چلا جا رہا ہے، جو معاشرتی عدمِ مساوات کو مزید گہرا کر رہا ہے۔
3۔ تعلیمی بحران کی ایک بڑی وجہ تعلیمی پالیسیوں میں عدمِ تسلسل ہے۔ ہر نئی حکومت اپنی سیاسی ترجیحات کے تحت نئی تعلیمی پالیسی متعارف کراتی ہے، مگر ان پالیسیوں میں عملی نفاذ، نگرانی اور تسلسل کا فقدان رہتا ہے۔ نتیجتاً تعلیمی نظام مستقل تجربات کی زد میں رہتا ہے اور طلبہ ایک غیر یقینی اور غیر مستحکم تعلیمی ماحول میں تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس عدمِ استحکام نے نہ صرف تعلیمی معیار کو متاثر کیا بلکہ اساتذہ، والدین اور طلبہ کے اعتماد کو بھی مجروح کیا ہے۔
4۔ پاکستان کا موجودہ نصاب نہ تو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ ہے اور نہ ہی قومی و سماجی ضرورتوں کی مکمل عکاسی کرتا ہے۔ نصاب میں تحقیق، تنقیدی سوچ اور تخلیقی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے بجائے رٹے پر مبنی تعلیم کو ترجیح دی جاتی ہے۔ امتحانی نظام زیادہ تر یادداشت کو جانچنے تک محدود ہے، جس کے باعث طلبہ میں تجزیاتی، تخلیقی اور تحقیقی صلاحیتیں پروان نہیں چڑھ پاتیں۔ اس کے ساتھ ساتھ اخلاقی، شہری اور سماجی تعلیم کا فقدان بھی نمایاں ہے، جس کا نتیجہ ایک ایسے نوجوان طبقے کی صورت میں نکلتا ہے جو معلومات تو رکھتا ہے مگر شعور، کردار اور ذمہ داری سے محروم ہوتا ہے۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری: فروغِ علم و شعور اور قوم سازی کا سفر
ایسے سنگین حالات میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی تعلیمی فکر اور عملی کاوشیں ایک ایسے متبادل ماڈل کے طور پر سامنے آتی ہیں جو تعلیم کو محض ڈگری یا روزگار کا ذریعہ نہیں بلکہ قوم سازی، کردار سازی اور فکری احیا کا مؤثر وسیلہ قرار دیتی ہیں۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے تعلیم کو اپنی دعوت، اصلاحی مشن اور فکری جدوجہد کا مرکزی ستون قرار دیا۔ 1981ء میں قائم ہونے والی تحریک منہاج القرآن کا ایک بنیادی مقصد تعلیمی اور فکری احیا تھا۔ اس تحریک کے تحت ملک بھر میں تعلیمی اداروں کا ایک منظم نیٹ ورک قائم کیا گیا، جس کا مقصد معیاری، متوازن اور اقدار پر مبنی تعلیم کی فراہمی تھا۔
شیخ الاسلام نے روایتی دینی مدارس اور جدید تعلیمی اداروں کے درمیان حائل خلیج کو ختم کرنے کی عملی کوشش کی۔ جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن اور اس سے منسلک ادارے اس تصور کی عملی مثال ہیں جہاں قرآن و حدیث، فقہ و اصول کے ساتھ ساتھ جدید سماجی علوم، تحقیقاتی طریقہ کار اور عصری مضامین کو ایک مربوط نظام کے تحت پڑھایا جاتا ہے۔ یہ ماڈل دینی اور عصری علوم کے امتزاج کی ایک کامیاب اور قابلِ تقلید مثال ہے۔
قوموں کی تاریخ میں وہ شخصیات ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتی ہیں جو محض اپنے عہد کے مسائل پر بات نہیں کرتیں بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے فکری سمت متعین کرتی ہیں۔ ایسی شخصیات علم کو محض معلومات کے ذخیرے کے طور پر نہیں بلکہ شعور، اخلاق اور اجتماعی ذمہ داری کی تشکیل کے آلے کے طور پر دیکھتی ہیں۔ برصغیر کی فکری روایت میں سر سید احمد خانؒ، علامہ اقبالؒ اور دیگر مصلحین نے اسی تصورِ تعلیم کو فروغ دیا جس کا مقصد فرد کی ذہنی نشوونما کے ساتھ ساتھ قوم کی اجتماعی تعمیر تھا۔ عصرِ حاضر میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو اسی فکری تسلسل کا ایک نمایاں اور مؤثر حوالہ قرار دیا جا سکتا ہے، جنہوں نے علم، فکر، دعوت، تنظیم اور عملی ادارہ سازی کے میدان میں ایک جامع اور مربوط تعلیمی وژن پیش کیا۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی علمی شناخت کسی ایک شعبے تک محدود نہیں۔ آپ ایک محقق، مفسر، محدث، فقیہ، مفکر، ماہرِ تعلیم اور سماجی مصلح کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ آپ کی تصانیف کی تعداد سیکڑوں میں ہے جو قرآن، حدیث، فقہ، سیرت، تصوف، سیاسیات، انسانی حقوق، امن، دہشت گردی کے انسداد، اور تعلیمی فلسفے جیسے متنوع موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔ ان تصانیف کا امتیاز یہ ہے کہ یہ محض علمی مباحث نہیں بلکہ عصرِ حاضر کے عملی مسائل سے براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی علمی خدمات کا ایک نمایاں پہلو تحقیق ہے۔ آپ کی سیکڑوں تصانیف، تحقیقی مقالات اور علمی منصوبے اس بات کا ثبوت ہیں کہ آپ علم کو محض روایت نہیں بلکہ مسلسل تحقیق اور اجتہاد کا تقاضا سمجھتے ہیں۔ ان کاوشوں کے ذریعے اسلامی فکر کو جدید تناظر میں پیش کیا گیا، انتہا پسندی کے بیانیہ کو علمی بنیادوں پر رد کیا گیا اور تعلیم و امن کے باہمی تعلق کو واضح کیا گیا۔
آپ کی علمی شناخت کسی ایک شعبے تک محدود نہیں۔ آپ ایک مفسر، محدث، فقیہ، مفکر، ماہرِ تعلیم اور سماجی مصلح کے طور پر عالمی سطح پر پہچانے جاتے ہیں۔ آپ کی تصانیف قرآن، حدیث، فقہ، سیرت، تصوف، انسانی حقوق، امن، دہشت گردی کے انسداد اور تعلیمی فلسفے جیسے متنوع موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں، جو عصرِ حاضر کے عملی مسائل سے براہِ راست جڑی ہوئی ہیں۔
شیخ الاسلام کی فکر کا مرکزی نکتہ یہ ہے کہ علم اگر شعور، اخلاق اور مقصد سے خالی ہو تو وہ فرد اور معاشرے دونوں کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ اسی لیے آپ نے ہمیشہ علم کے ساتھ تربیت، کردار سازی اور سماجی ذمہ داری کو لازم قرار دیا۔ یہی فکر بعد ازاں ایک منظم تعلیمی نظام کی صورت میں سامنے آئی، جسے ہم منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کے نام سے جانتے ہیں۔
تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ جن اقوام نے تعلیم کو محض روزگار کے حصول کا ذریعہ سمجھا، وہ وقتی ترقی تو کر سکیں مگر پائیدار قومی کردار تشکیل نہ دے سکیں۔ اس کے برعکس، جن معاشروں میں تعلیم کو اخلاقی اقدار، سماجی شعور اور قومی مقصد کے ساتھ جوڑا گیا، وہی اقوام تاریخ میں رہنمائی کا کردار ادا کرتی رہیں۔
برصغیر میں علی گڑھ تحریک اسی شعور کی نمائندہ تھی۔ سر سید احمد خانؒ نے محسوس کیا کہ مسلمان قوم زوال کا شکار اس لیے ہے کہ وہ جدید علوم، سائنسی فکر اور عصری تقاضوں سے کٹ چکی ہے۔ چنانچہ انہوں نے ایک ایسا تعلیمی ماڈل پیش کیا جس نے مسلمانوں کو فکری طور پر بیدار کیا۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اسی تاریخی تجربے کو عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھایا۔
آپ کا یہ قول:’’سر سید احمد خانؒ نے قوم کو ایک علی گڑھ دیا، میں اس قوم کو سو علی گڑھ دوں گا۔ ‘‘یہ درحقیقت ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ایک واضح تعلیمی حکمتِ عملی کا اعلان تھا، جس کی عملی شکل منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کی صورت میں سامنے آئی۔
منہاج ایجوکیشن سوسائٹی: قیام اور ارتقا
منہاج ایجوکیشن سوسائٹی (MES) کا قیام 1994ء میں عمل میں آیا۔ اس وقت پاکستان کا تعلیمی منظرنامہ طبقاتی نظام، اخلاقی تربیت کے فقدان اور دیگر کئی مسائل سے دو چار تھا۔ ایسے ماحول میں MES کا قیام ایک مختلف اور متبادل تعلیمی ماڈل کے طور پر سامنے آیا۔ ابتدا میں یہ ایک محدود دائرے میں قائم ہونے والا ادارہ تھا، مگر واضح وژن، منظم منصوبہ بندی اور فکری یکسوئی کے باعث یہ نیٹ ورک بتدریج پھیلتا چلا گیا۔ آج MES پاکستان کے طول و عرض میں سیکڑوں اسکولز، کالجز، اور تربیتی اداروں پر مشتمل ایک منظم تعلیمی نظام کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
(1) MES کا تعلیمی فلسفہ: دین اور دنیا کا امتزاج
منہاج ایجوکیشن سوسائٹی کا بنیادی امتیاز اس کا تعلیمی فلسفہ ہے، جو دین اور دنیا کی تفریق کو رد کرتا ہے۔ یہاں تعلیم کو نہ تو محض مذہبی دائرے تک محدود کیا گیا ہے اور نہ ہی اسے خالصتاً مادی ترقی کا ذریعہ سمجھا گیا ہے۔ MES کے تعلیمی ماڈل میں درج ذیل امور کو یکجا کیا گیا ہے:
1۔ جدید سائنسی اور سماجی علوم 2۔ ٹیکنالوجی اور تحقیق
3۔ تنقیدی اور تخلیقی سوچ 4۔ اخلاقی اقدار
5۔ روحانی و نظریاتی تربیت
اس کا مقصد ایسے طلبہ تیار کرنا ہے جو نہ صرف پیشہ ورانہ طور پر اہل ہوں بلکہ اخلاقی طور پر مضبوط اور سماجی طور پر ذمہ دار بھی ہوں۔
(2)کردار سازی، شہری تربیت، سماجی انصاف اور تعلیمی مساوات
MES میں تعلیم کا مقصد صرف امتحان میں کامیابی یا ڈگری کا حصول نہیں بلکہ کردار سازی ہے۔ نصاب کے ساتھ ساتھ ہم نصابی سرگرمیوں، تربیتی پروگراموں، اساتذہ کی رول ماڈلنگ اور ادارہ جاتی کلچر کے ذریعے طلبہ میں درج ذیل اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے:
1۔ دیانت 2۔ نظم و ضبط 3۔ برداشت
4۔ قیادت 5۔ قومی شعور
یہی وہ عناصر ہیں جو ایک فرد کو ذمہ دار شہری اور ایک قوم کو مستحکم معاشرہ بناتے ہیں۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی تعلیمی فکر کا ایک اہم پہلو سماجی انصاف ہے۔ MES کے تحت فری ایجوکیشن، اسکالرشپس، دیہی اور پسماندہ علاقوں میں اداروں کا قیام، اور سرکاری اسکولوں کی بہتری کے منصوبے اس بات کی عملی مثال ہیں کہ تعلیم کو صرف اشرافیہ تک محدود نہیں رکھا گیا۔
یہ نقطۂ نظر جدید تعلیمی تحقیق سے بھی ہم آہنگ ہے، جو یہ ثابت کرتی ہے کہ معاشرتی ترقی اس وقت ممکن ہوتی ہے جب تعلیم تک مساوی رسائی فراہم کی جائے۔ MES اسی اصول کو عملی سطح پر نافذ کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
(3) موجودہ دور کے تقاضے اور MES کا کردار
اکیسویں صدی میں تعلیم کے تقاضے تیزی سے بدل رہے ہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی، گلوبلائزیشن، اور فکری تنوع نے نئے چیلنجز پیدا کر دیے ہیں۔ MES نے ان تبدیلیوں کو قبول کرتے ہوئے اپنے تعلیمی ڈھانچے میں جدید ٹولز، آئی ٹی سکلز، اساتذہ کی تربیت، ادارہ جاتی مضبوطی اور عصری موضوعات کو شامل کیا، تاہم بنیادی اقدار اور فکری سمت کو برقرار رکھا۔
یہ کہنا مبالغہ نہیں کہ منہاج ایجوکیشن سوسائٹی محض تعلیمی اداروں کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک فکری و تربیتی تحریک ہے۔ یہ تحریک اس تصور کو عملی شکل دے رہی ہے کہ تعلیم اگر درست فکر، اخلاقی بنیاد اور قومی مقصد کے ساتھ جڑی ہو تو وہ معاشرے میں حقیقی اور پائیدار تبدیلی لا سکتی ہے۔
آج MES کے پھیلتے ہوئے نیٹ ورک کو دیکھ کر یہ بات واضح ہوتی ہے کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا ’’سو علی گڑھ‘‘ کا خواب محض ایک تصور نہیں رہا بلکہ ایک جاری عمل بن چکا ہے۔ یہ سفر ابھی مکمل نہیں ہوا، مگر اس کی سمت واضح، بنیاد مضبوط اور مقصد قوم کی فکری و اخلاقی تعمیر ہے۔ بلاشبہ، علم، شعور اور قوم سازی کا یہ سفر پاکستان کے روشن مستقبل کی ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد امید ہے۔
بلاشبہ علم، شعور اور قوم سازی کا یہ سفر پاکستان کے روشن مستقبل کی ایک سنجیدہ اور قابلِ اعتماد امید ہے۔ مستقبل کا پاکستان اسی وقت روشن ہو سکتا ہے جب تعلیم کو قومی ترجیح بنایا جائے اور ایسے جامع، متوازن اور اقدار پر مبنی تعلیمی ماڈلز سے رہنمائی حاصل کی جائے۔