علمی جدت اور فکری اعتدال کے علمبردار

ڈاکٹر سید محمد ہارون بخاری

تاریخِ انسانی کی یہ ایک ناقابلِ انکار حقیقت ہے کہ جب بھی علم، فکر اور عمل کے درمیان توازن باقی رہا، تہذیبیں فروغ پاتی رہیں اور جب یہ توازن بگڑا تو انحطاط نے جنم لیا۔ بالخصوص اسلامی تاریخ میں علم محض معلومات کا نام نہیں رہا بلکہ یہ ایک زندہ، متحرک اور ہمہ جہت نظامِ فکر رہا ہے جس میں عقل و وحی، روایت و اجتہاد، نص و مقصد اور فرد و معاشرہ سب ایک مربوط کلیت میں سمٹے ہوئے تھے۔ یہی وہ توازن ہے جسے ہم علمی جدت اور فکری اعتدال کے امتزاج سے تعبیر کر سکتے ہیں۔

آج کی مسلم دنیا ایک عجیب فکری دو راہے پر کھڑی ہے۔ ایک طرف وہ جمود ہے جو روایت کو زندگی سے کاٹ کر محض تقدیس کے خول میں بند کر دیتا ہے اور دوسری طرف وہ بے مہار جدت ہے جو روایت سے رشتہ توڑ کر فکری انتشار کو جنم دیتی ہے۔ ان دونوں انتہاؤں کے درمیان جو راستہ صدیوں تک امت کو وحدت، استحکام اور فکری بالیدگی عطا کرتا رہا، وہی راستہ آج سب سے زیادہ نظر انداز ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں علمی جدت اور فکری اعتدال بطور ایک منہاج (Methodology) ہماری توجہ کا مرکز بنتے ہیں۔

ایسے دور میں جب مذہبی بیانیہ یا تو شدت، جذبات اور تکفیر کی زبان میں ڈھل رہا ہے، یا پھر اپنی فکری شناخت کھو کر محض دفاعی معذرت نامہ بنتا جا رہا ہے، وہاں کسی ایسی علمی شخصیت کا مطالعہ ناگزیر ہو جاتا ہے جس نے نہ صرف روایت کو سنبھالا بلکہ اسے عصرِ حاضر سے ہم کلام بھی کیا۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی علمی و فکری کاوشیں اسی تناظر میں ایک منظم، مربوط اور باوقار اسلامی بیانیے کی صورت سامنے آتی ہیں۔

یہ مضمون کسی فرد کی مدح سرائی نہیں بلکہ ایک فکری منہاج کے تعارف کی کوشش ہے؛ ایک ایسے منہاج کی جس میں علم جامد نہیں، فکر منقطع نہیں اور دین زندگی سے متصادم نہیں بلکہ اس کی رہنمائی کرنے والا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شیخ الاسلام کو محض ایک عالم، محقق یا خطیب کے طور پر نہیں بلکہ علمی جدت اور فکری اعتدال کے ایک ہمہ گیر نمونے کے طور پر سمجھنا ضروری ہے۔

1۔ اسلامی علمی روایت میں جدت اور اعتدال: ایک تاریخی تناظر

اسلامی فکر کی اساس جس تصور پر قائم ہے، وہ وسطیت ہے۔ قرآن مجید نے امتِ مسلمہ کو ’’اُمَّۃً وَسَطًا‘‘ قرار دے کر محض ایک اخلاقی وصف بیان نہیں کیا بلکہ ایک مکمل فکری، تمدنی اور علمی منہاج کی طرف اشارہ کیا ہے۔ یہ وسطیت نہ جمود ہے اور نہ ہی بے سمتی، بلکہ توازن، حکمت اور مقصدیت کا نام ہے۔ اسلامی تاریخ میں علمی جدت اور فکری اعتدال اسی وسطیت کے عملی مظاہر رہے ہیں۔

اگر ہم عہدِ نبوی ﷺ اور دورِ صحابہ رضی اللہ عنہم  کا مطالعہ کریں تو ہمیں یہ حقیقت واضح طور پر نظر آتی ہے کہ نص کی پابندی کے ساتھ ساتھ حالات کے فہم، مقاصدِ شریعت کے ادراک اور انسانی ضروریات کے شعور کو بھی ملحوظ رکھا گیا۔ یہی وہ بنیاد تھی جس پر بعد کے ادوار میں فقہ، تفسیر، حدیث اور علمِ کلام کے عظیم الشان ذخائر وجود میں آئے۔ امام ابو حنیفہؒ کا قیاسی منہج، امام شافعیؒ کا اصولی نظم، امام مالکؒ کا عملِ اہلِ مدینہ پر اعتماد، اور امام احمد بن حنبلؒ کا نص پر استقامت—یہ سب دراصل ایک ہی حقیقت کے مختلف زاویے تھے: روایت کے اندر رہتے ہوئے جدت۔

اسی طرح محدثینِ کرام نے روایت کو محض نقل نہیں سمجھا بلکہ تحقیق، تنقید، جرح و تعدیل اور اصولِ روایت کے ذریعے اسے ایک سائنسی منہاج عطا کیا۔ اگر علمی جدت بدعت ہوتی تو اسماء الرجال، علل الحدیث اور مصطلحاتِ حدیث جیسے علوم کبھی وجود میں نہ آتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلامی روایت خود جدت کی پرورش کرتی رہی ہے، مگر ایسی جدت جو وحی کے نور سے منقطع نہ ہو۔

بعد ازاں جب مسلم تہذیب نے مختلف ثقافتوں، فلسفوں اور تمدنوں سے واسطہ کیا تو اسلامی فکر نے یا تو انہیں کلیتاً رد نہیں کیا اور نہ ہی غیر تنقیدی طور پر قبول کیا، بلکہ ایک معتدل علمی تعامل (Critical Engagement) کو اختیار کیا۔ یونانی فلسفہ ہو یا ایرانی حکمت، ہر شے کو اسلامی اصولوں کی کسوٹی پر پرکھا گیا۔ یہی وہ منہاج تھا جس نے فارابی، ابن سینا، غزالی اور ابن رشد جیسے نابغہ روزگار اذہان پیدا کیے۔

تاہم تاریخ کے بعض ادوار میں یہ توازن بگڑنے لگا۔ کہیں روایت کے نام پر فکر کو منجمد کر دیا گیا اور کہیں عقل کے نام پر وحی کو پس منظر میں دھکیل دیا گیا۔ اس فکری عدمِ توازن کے اثرات صرف علمی دنیا تک محدود نہ رہے بلکہ سماجی جمود، فکری انتشار اور بالآخر سیاسی زوال کی صورت میں ظاہر ہوئے۔ اس تناظر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ امت کا اصل بحران نہ جدیدیت ہے اور نہ قدامت، بلکہ اعتدال سے انحراف ہے۔

اسلامی علمی روایت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جدت اگر اصول سے جڑی ہو تو رحمت بنتی ہے اور روایت اگر مقصد سے کٹ جائے تو بوجھ۔ اسی تاریخی پس منظر میں جب ہم عصرِ حاضر کے فکری چیلنجز کا سامنا کرتے ہیں تو ہمیں ایک ایسے منہاج کی ضرورت محسوس ہوتی ہے جو نہ ماضی پرستی کا شکار ہو اور نہ حال پرستی کا، بلکہ ماضی کی حکمت کو حال کی زبان میں منتقل کر سکے۔

یہی وہ فکری خلا ہے جسے پُر کرنے کے لیے جدید دور میں ایسے اہلِ علم کی ضرورت رہی ہے جو روایت کے امین بھی ہوں اور عصر کے شناسا بھی۔ اس مضمون کے آگے آنے والے حصوں میں ہم دیکھیں گے کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی علمی کاوشیں کس طرح اسی تاریخی تسلسل کا شعوری اور منظم اظہار ہیں اور کس طرح وہ اسلامی علمی روایت کو ایک نئے اعتماد، وسعت اور اعتدال کے ساتھ آگے بڑھاتے ہیں؟

2۔ جدید مسلم دنیا کا فکری بحران: جمود، انتہاپسندی اور سطحیت

عصرِ حاضر کی مسلم دنیا کو اگر کسی ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو وہ انتشار ہے—فکری انتشار، تہذیبی اضطراب اور علمی بے سمتی۔ یہ بحران محض سیاسی یا معاشی نہیں بلکہ اپنی اصل میں ایک گہرا فکری بحران ہے جس نے سوچنے کے زاویے، ترجیحات کے پیمانے اور علمی مکالمے کی زبان تک کو متاثر کیا ہے۔ اس بحران کی سب سے نمایاں علامت یہ ہے کہ مسلم معاشروں میں دین پر بات تو بہت ہو رہی ہے، مگر دین کو سمجھنے کا منہاج کمزور ہوتا جا رہا ہے۔

اس فکری بحران کی ایک بڑی وجہ وہ تاریخی صدمہ ہے جو نوآبادیاتی دور کے نتیجے میں مسلم دنیا کو لاحق ہوا۔ علمی مرکزیت کے زوال، سیاسی اقتدار کے خاتمے اور تہذیبی خود اعتمادی کے ٹوٹنے نے مسلمان ذہن کو دفاعی بنا دیا۔ چنانچہ علم کی تخلیق (knowledge production) کے بجائے علم کی حفاظت (knowledge preservation) کو ترجیح دی گئی۔ یہ عمل اپنی جگہ قابلِ فہم تھا، مگر وقت گزرنے کے ساتھ یہی تحفظ پسندی جمود میں تبدیل ہو گئی۔

اس جمود کا نتیجہ یہ نکلا کہ روایت کو زندہ حقیقت کے بجائے ایک مقدس یادگار بنا دیا گیا۔ نصوص کی تلاوت تو جاری رہی، مگر ان کے مقاصد، علل اور اطلاقات پر غور کم ہوتا گیا۔ اجتہاد ایک زندہ علمی عمل کے بجائے ایک بند باب کے طور پر پیش کیا جانے لگا۔ یوں دین رفتہ رفتہ زندگی کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے خود ایک سوال بننے لگا۔

اس کے بالمقابل ایک دوسری انتہا نے جنم لیا جسے جدیدیت کے نام پر پیش کیا گیا۔ مغربی فکری غلبہ کے زیرِ اثر بعض حلقوں نے اسلامی روایت کو ایک بوجھ سمجھ کر ترک کرنا شروع کر دیا۔ یہاں جدت روایت کی توسیع نہیں بلکہ اس کی نفی بن گئی۔ نتیجتاً دین کو یا تو محض روحانی تجربہ بنا دیا گیا یا پھر اخلاقی نصیحتوں تک محدود کر دیا گیا۔ اس طرزِ فکر میں نہ اصول کی مضبوطی تھی اور نہ ہی تہذیبی تسلسل کی کوئی صورت۔ یوں مسلم دنیا ایک عجیب فکری دوئی (Dichotomy) کا شکار ہو گئی:

ایک طرف وہ ذہن جو ہر نئے سوال کو بدعت کہہ کر رد کرتا ہے اور دوسری طرف وہ ذہن جو ہر روایت کو دقیانوس قرار دے کر مسترد کر دیتا ہے۔ ان دونوں کے درمیان جو متوازن راستہ تھا—جس پر صدیوں تک اسلامی فکر نے سفر کیا—وہ دھندلا گیا۔

اس فکری عدمِ توازن کا سب سے خطرناک اظہار انتہاپسندی کی صورت میں سامنے آیا۔ جب دین کو اس کے جامع اخلاقی، روحانی اور مقاصدی تناظر سے کاٹ کر محض چند جزوی نصوص تک محدود کر دیا جائے تو شدت جنم لیتی ہے۔ ایسی شدت جو اختلاف کو کفر، تنوع کو گمراہی اور اجتہاد کو بغاوت سمجھتی ہے۔ یہ انتہاپسندی محض ایک فکری خرابی نہیں بلکہ ایک سماجی اور انسانی المیہ ہے جس نے اسلام کے عالمی تشخص کو بھی نقصان پہنچایا۔

دوسری جانب ایک اور کم توجہ دی جانے والی مگر نہایت گہری بیماری سطحیت ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا اور فوری مقبولیت کے کلچر نے مذہبی گفتگو کو سنجیدہ علمی محنت کے بجائے نعرے، اقتباسات اور جذباتی بیانات تک محدود کر دیا ہے۔ علم کو وقت، ریاضت اور تسلسل درکار ہوتا ہے، جبکہ آج کا مذہبی بیانیہ اکثر فوری تاثر اور وقتی داد کا اسیر بن چکا ہے۔ اس سطحیت نے نہ صرف عوام کو بلکہ بعض اہلِ علم کو بھی متاثر کیا ہے۔

اس پوری صورتِ حال میں ایک بنیادی سوال بار بار سامنے آتا ہے:

کیا اسلام واقعی عصرِ حاضر کے پیچیدہ فکری، سماجی اور تہذیبی مسائل کا جواب نہیں رکھتا، یا ہم نے اس کے فہم کا درست منہاج کھو دیا ہے۔۔۔؟

تاریخِ اسلام اس بات کی شاہد ہے کہ مسئلہ دین میں کمی کا نہیں بلکہ فہمِ دین میں عدمِ توازن کا ہے۔ جب عقل اور وحی میں تصادم پیدا کیا جائے، جب روایت اور زمانے کو ایک دوسرے کا دشمن سمجھا جائے اور جب مقصد کے بجائے صورت کو اصل بنا لیا جائے تو فکری بحران ناگزیر ہو جاتا ہے۔

اسی لیے آج کی سب سے بڑی ضرورت کسی نئے دین یا نئے متن کی نہیں بلکہ ایک متوازن فکری منہاج کی بازیافت ہے—ایسا منہاج جو روایت کی جڑوں سے جڑا ہو مگر حال کی زمین میں سانس لیتا ہو۔۔۔ جو عقل کو وحی کے تابع رکھے مگر معطل نہ کرے۔۔۔ اور جو اختلاف کو رحمت اور تنوع کو وسعت سمجھے۔

یہ وہ فکری خلا ہے جس نے مسلم دنیا کو نظریاتی قیادت سے محروم کر رکھا ہے۔ ایسے میں جب ہم کسی معاصر علمی شخصیت کی طرف رجوع کرتے ہیں تو اصل سوال یہ نہیں ہوتا کہ انہوں نے کتنا کہا، بلکہ یہ ہوتا ہے کہ انہوں نے کس منہاج سے کہا۔ آگے آنے والے حصے میں ہم اسی زاویے سے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکری تشکیل اور علمی پس منظر کا جائزہ لیں گے، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ ان کی فکر اس بحران کا جواب کیسے بنتی ہے۔۔۔؟

3۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری: فکری تشکیل اور علمی پس منظر

کسی بھی علمی شخصیت کو سمجھنے کے لیے محض اس کی تصانیف، خطابات یا تنظیمی کردار کا جائزہ کافی نہیں ہوتا، بلکہ اصل سوال یہ ہوتا ہے کہ اس فکر کی تشکیل کن علمی، روحانی اور تہذیبی عناصر کے امتزاج سے ہوئی۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکری تشکیل بھی اسی ہمہ جہت تناظر کی طالب ہے، کیونکہ ان کی فکر نہ کسی ایک مکتبِ فکر کی محدود تعبیر ہے اور نہ کسی وقتی ردِعمل کا نتیجہ، بلکہ یہ ایک طویل علمی سفر، مسلسل فکری ریاضت اور عمیق روحانی شعور کا حاصل ہے۔

(1) کلاسیکی اسلامی علوم

ان کی علمی تشکیل کا پہلا نمایاں پہلو کلاسیکی اسلامی علوم میں مضبوط جڑیں ہیں۔ قرآن فہمی، حدیث شناسی، فقہ اور اصولِ فقہ جیسے بنیادی علوم میں گہری دسترس نے ان کی فکر کو وہ استحکام عطا کیا جو کسی بھی سنجیدہ علمی کاوش کے لیے ناگزیر ہوتا ہے۔ یہ محض نصوص کی واقفیت نہیں بلکہ نصوص کے باہمی ربط، ان کے تاریخی سیاق، اور ان کے مقاصدی افق کو سمجھنے کی صلاحیت ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریر اور تقریر میں روایت کبھی جامد نہیں دکھائی دیتی بلکہ ایک زندہ اور متحرک حقیقت کے طور پر جلوہ گر ہوتی ہے۔

(2) جدید علمی روایت اور شعوری مکالمہ

شیخ الاسلام کی فکری انفرادیت صرف کلاسیکی علوم تک محدود نہیں رہتی۔ ان کی علمی تربیت کا دوسرا اہم پہلو جدید علمی روایت سے شعوری مکالمہ ہے۔ فلسفہ، قانون، سیاسیات، سماجیات اور جدید ریاستی تصورات سے آگاہی نے ان کی فکر کو عصری سوالات کے لیے قابلِ مخاطب بنایا۔ وہ جدید دنیا کو محض ایک مخالف تہذیب کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ ایک فکری چیلنج کے طور پر سمجھتے ہیں، جس کا جواب جذبات سے نہیں بلکہ علم سے دیا جا سکتا ہے۔

یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں جدید اصطلاحات، معاصر مسائل اور عالمی تناظر اس طرح شامل ہوتے ہیں کہ نہ روایت کی روح مجروح ہوتی ہے اور نہ جدید ذہن اجنبیت محسوس کرتا ہے۔ یہ توازن دراصل اس شعور کا مظہر ہے کہ دین کا پیغام آفاقی ہے، مگر اس کی تعبیر ہر دور میں علمی بصیرت کی متقاضی ہوتی ہے۔

(3) روحانی تربیت اور باطنی شعور

شیخ الاسلام کی فکری تشکیل میں ایک نہایت اہم عنصر روحانی تربیت اور باطنی شعور ہے۔ اسلامی روایت میں علم اور روحانیت کو کبھی جدا نہیں سمجھا گیا اور ان کی شخصیت اسی متوازن روایت کی آئینہ دار ہے۔ ان کے ہاں علم محض ذہنی سرگرمی نہیں بلکہ اخلاقی تزکیہ اور قلبی بالیدگی کا ذریعہ ہے۔ یہی باطنی پہلو ان کی فکر کو محض تجزیہ نہیں رہنے دیتا بلکہ اس میں خیر خواہی، دردِ امت اور انسانی ہمدردی کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔

(4) انسانی شخصیت کا جامع فہم

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی فکر کا ایک نمایاں وصف انسانی شخصیت کے جامع فہم کی جھلک ہے۔ وہ انسان کو محض ایک قانونی یا سماجی اکائی کے طور پر نہیں دیکھتے بلکہ ایک اخلاقی، روحانی اور شعوری وجود کے طور پر سمجھتے ہیں، جس کے باطن اور ظاہر، عقل اور جذبہ، فرد اور معاشرہ—سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں۔ یہی جامع تصور انہیں یک رُخی شدت یا سطحی اصلاح سے محفوظ رکھتا ہے۔

(5) بین المسالک و بین المذاہب شعور

ان کی فکری تشکیل میں ایک اور نمایاں عنصر بین المسالک اور بین المذاہب شعور ہے۔ اختلاف کو وہ تصادم نہیں بلکہ تنوع سمجھتے ہیں، بشرطیکہ اس کی بنیاد علم، احترام اور اصول پر ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گفتگو میں نہ مسلکی تنگ نظری ہے اور نہ فکری ہیجان، بلکہ ایک پختہ اعتماد کے ساتھ اپنے مؤقف کی پیش کش ملتی ہے۔ یہ اعتماد اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب آدمی روایت کو جانتا بھی ہو اور اس پر مطمئن بھی ہو۔

یہاں یہ نکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ شیخ الاسلام کی فکر کسی ایک دائرے میں مقید نہیں رہی۔ ان کی علمی تشکیل نے انہیں محض مدرسہ یا جامعہ تک محدود نہیں رکھا بلکہ عوامی منبر، عالمی فورمز اور علمی مجالس—ہر جگہ ان کی فکر ایک ہی اصولی تسلسل کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ یہ تسلسل اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی فکر وقتی حالات کے تابع نہیں بلکہ ایک منظم منہاج پر قائم ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکری تشکیل تین مضبوط ستونوں پر استوار ہے:

روایت کی گہری معرفت، عصر کی شعوری آگاہی اور روحانی و اخلاقی توازن۔ انہی عناصر کے امتزاج نے ان کی شخصیت کو محض ایک عالم نہیں بلکہ ایک فکری رہنما بنایا ہے—ایسا رہنما جو ماضی سے منقطع نہیں، حال سے بے خبر نہیں اور مستقبل سے خوف زدہ نہیں۔

4۔ علمی جدت کا منہاج: اصول، مقاصداورعملی اظہار

آیئے! اب ہم اس فکری تشکیل کے عملی اظہار کا جائزہ لیتے ہیں کہ علمی جدت شیخ الاسلام کے ہاں کس منہاج، کن اصولوں اور کن نمایاں علمی کاوشوں کے ذریعے ظہور پذیر ہوتی ہے؟

اسلامی علمی روایت میں جدت ہمیشہ ایک نازک مگر ناگزیر تقاضا رہی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں بہت سے اذہان یا تو احتیاط کے نام پر رک جاتے ہیں یا جرأت کے نام پر حد سے آگے نکل جاتے ہیں۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکری عظمت کا ایک نمایاں پہلو یہ ہے کہ انہوں نے اس نازک مقام پر توازن کو برقرار رکھا۔ ان کے ہاں جدت نہ روایت سے بغاوت ہے اور نہ ماضی کی اندھی تقلید، بلکہ روایت کی شعوری توسیع اور عصر کے سوالات سے اس کی بامعنی تطبیق ہے۔

شیخ الاسلام کے تصورِ جدت کی بنیاد اس حقیقت پر قائم ہے کہ اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، مگر اس کی تطبیق ہر دور میں فہمِ عصر کی متقاضی ہوتی ہے۔ نصوص اپنی جگہ ثابت ہیں، مگر انسانی معاشرہ، ریاستی ڈھانچے، سماجی تعلقات اور فکری سوالات مسلسل تغیر پذیر رہتے ہیں۔ چنانچہ جدت دراصل نص میں تبدیلی نہیں بلکہ نص کے فہم اور نفاذ میں تجدید کا نام ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جسے نظر انداز کر کے بعض حلقے ہر نئی بات کو بدعت کہہ دیتے ہیں اور بعض ہر قدیم اصول کو غیر متعلق قرار دے دیتے ہیں۔

(1) اجتہاد کی بحالی

شیخ الاسلام کے ہاں علمی جدت کا پہلا اصول اجتہاد کی بحالی ہے، مگر ایسا اجتہاد جو علمی ضابطوں، اصولِ فقہ اور مقاصدِ شریعت کے دائرے میں ہو۔ وہ اجتہاد کو نہ تو چند افراد کی ذاتی رائے تک محدود کرتے ہیں اور نہ ہی اسے ایک بند باب مانتے ہیں، بلکہ اسے امت کی اجتماعی علمی ذمہ داری کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں اجتہاد ہمیشہ ایک منظم فکری عمل کے طور پر سامنے آتا ہے، جس میں نص، عقل، عرف اور مصلحت سب کو ان کے جائز مقام پر رکھا جاتا ہے۔

(2) فقہ المقاصد کی شعوری تطبیق

ان کے منہاجِ جدت کا دوسرا اہم پہلو فقہ المقاصد کی شعوری تطبیق ہے۔ شریعت کے مقاصد—حفظِ دین، حفظِ جان، حفظِ عقل، حفظِ نسل اور حفظِ مال—ان کے فکری نظام میں محض نظری تصورات نہیں بلکہ عملی رہنما اصول ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دینی احکام کو انسانی فلاح، سماجی عدل اور اخلاقی توازن سے جوڑ کر پیش کرتے ہیں۔ اس زاویے سے دیکھیں تو ان کی علمی جدت دراصل شریعت کی روح کو اس کے زمانی مظاہر میں زندہ کرنے کی کوشش ہے۔

(3) حدیث اور عصرِ حاضر کا تحقیقی معیار

حدیث کے میدان میں ان کی علمی کاوشیں اس منہاج کی عملی مثال ہیں۔ ذخیرۂ حدیث کی جامع تحقیق، اس کے تاریخی و اصولی پہلوؤں کا احاطہ اور روایت و درایت کے امتزاج نے حدیث فہمی کو ایک نئے اعتماد کے ساتھ پیش کیا۔ یہاں جدت کا مطلب کسی روایت کو کمزور کرنا نہیں بلکہ حدیثی علم کو عصرِ حاضر کے تحقیقی معیارات کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے، تاکہ نہ صرف اہلِ علم بلکہ جدید تعلیم یافتہ طبقہ بھی اس ذخیرہ کی علمی عظمت کو سمجھ سکے۔

(4) عصری موضوعات پردینی فکر کی تشکیل

شیخ الاسلام کے ہاں علمی جدت کا ایک نمایاں مظہر عصری موضوعات پر دینی فکر کی تشکیل ہے۔ دہشت گردی، انتہاپسندی، ریاست اور شہری حقوق، آئینی نظم، عالمی امن اور بین الاقوامی تعلقات جیسے موضوعات پر ان کی تحریریں اس بات کی گواہ ہیں کہ دین جدید دنیا کے مسائل سے لاتعلق نہیں۔ وہ ان موضوعات پر نہ جذباتی نعرے لگاتے ہیں اور نہ سطحی فتوے دیتے ہیں، بلکہ ایک منظم علمی بیانیہ تشکیل دیتے ہیں جو نص، تاریخ اور عصری حقائق—تینوں سے مکالمہ کرتا ہے۔ یہی منہاج انہیں اس رویے سے ممتاز کرتا ہے جس میں جدت محض مغرب سے درآمد شدہ تصورات کی دینی توجیہ بن کر رہ جاتی ہے۔ شیخ الاسلام کے ہاں مغربی فکر سے تعامل ضرور ہے، مگر وہ تعامل تنقیدی اور انتخابی ہے۔ وہ ہر نئی چیز کو قبول نہیں کرتے اور ہر پرانی چیز کو رد نہیں کرتے، بلکہ ہر تصور کو اسلامی اصولوں کی کسوٹی پر پرکھتے ہیں۔ یہی رویہ علمی خود اعتمادی کی علامت ہے۔

(5) اسلوبِ بیان

علمی جدت کے باب میں ایک اور اہم نکتہ اسلوبِ بیان ہے۔ شیخ الاسلام کی تحریر اور تقریر دونوں میں یہ بات نمایاں ہے کہ وہ پیچیدہ علمی مباحث کو بھی ایک منظم، واضح اور قابلِ فہم انداز میں پیش کرتے ہیں۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ان کے ہاں علم عوام سے کٹا ہوا نہیں بلکہ رہنمائی کے لیے ہے۔ جدت یہاں اسلوب میں بھی ہے اور مقصد میں بھی—مگر اصول کے دائرے میں۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا منہاجِ علمی جدت ایک ایسا راستہ ہے جو روایت کی بنیاد پر کھڑا ہے، مگر اس کی نگاہ مستقبل پر ہے۔ یہ جدت نہ تو فکری انتشار پیدا کرتی ہے اور نہ ہی دینی شناخت کو مجروح کرتی ہے، بلکہ ایک ایسا متوازن اسلامی بیانیہ تشکیل دیتی ہے جو عصرِ حاضر کے سوالات کا جواب بھی ہے اور امت کے علمی ورثے کا امین بھی۔

5۔ فکری اعتدال: انتہاؤں کے درمیان مضبوط پل

اب ہم اس جدت کے لازمی رفیق، یعنی فکری اعتدال کا جائزہ لیں گے اور یہ دیکھیں گے کہ شیخ الاسلام کے ہاں اعتدال محض ایک اخلاقی نصیحت نہیں بلکہ ایک باقاعدہ فکری اصول کس طرح بنتا ہے؟

اسلامی فکر کی تاریخ میں اعتدال ہمیشہ بقا، وسعت اور دوام کی علامت رہا ہے۔ یہ اعتدال نہ کمزوری ہے اور نہ ابہام، بلکہ وہ داخلی قوت ہے جو فکر کو انتہاؤں سے بچا کر حقیقت کے قریب رکھتی ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکری شناخت میں اگر کسی ایک وصف کو مرکزی حیثیت دی جائے تو وہ بلا شبہ اعتدال ہے—مگر ایسا اعتدال جو دلیل سے جنم لیتا ہے، اصول پر قائم رہتا ہے اور عمل میں ظاہر ہوتا ہے۔

شیخ الاسلام کے ہاں اعتدال کسی درمیانی راستے کا اتفاقی انتخاب نہیں بلکہ قرآن و سنت سے ماخوذ ایک اصولی منہاج ہے۔ وہ اعتدال کو نہ صرف اخلاقی قدر سمجھتے ہیں بلکہ ایک مکمل فکری نظام کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فکر میں افراط و تفریط دونوں کے لیے کوئی گنجائش نہیں۔ جہاں نص کی قطیعت ہو وہاں وہ کسی مصلحت کو دلیل نہیں بناتے اور جہاں اجتہاد کی وسعت ہو وہاں جمود کو تقویٰ نہیں سمجھتے۔

(1) تکفیر اور تفسیق سے اجتناب

فکری اعتدال کا پہلا مظہر تکفیر اور تفسیق سے اجتناب ہے۔ شیخ الاسلام کی علمی کاوشوں میں یہ بات نمایاں ہے کہ وہ اختلاف کو دائرۂ اسلام سے خارج کرنے کا ذریعہ نہیں بناتے۔ ان کے نزدیک علمی اختلاف اسلامی روایت کا حسن ہے، بشرطیکہ وہ علم، ادب اور اصول کے دائرے میں ہو۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی تحریروں میں سخت ترین فکری اختلاف کے باوجود زبان شائستہ، لہجہ متوازن اور مقصد اصلاح ہوتا ہے، نہ کہ اخراج۔

(2) شدت پسندی کے خلاف واضح مؤقف

اسی اعتدال کا دوسرا پہلو شدت پسندی اور تشدد کے خلاف غیر مبہم موقف ہے۔ شیخ الاسلام نے انتہاپسندی کو محض ایک سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ ایک فکری اور اخلاقی انحراف کے طور پر سمجھا اور اس کا جواب بھی اسی سطح پر دیا۔ ان کا موقف واضح ہے کہ تشدد نہ شریعت کا تقاضا ہے اور نہ ہی سنتِ نبوی ﷺ کا مظہر۔ انہوں نے دلیل، حوالہ اور اصول کے ساتھ یہ بات واضح کی کہ مذہب کے نام پر قتل و غارت دراصل دین کی روح کے خلاف ہے۔

یہ فکری اعتدال محض ردّ عمل نہیں بلکہ ایک مثبت بیانیہ ہے۔ وہ اسلام کو خوف یا جبر کے ذریعے نہیں بلکہ عدل، رحمت اور انسانی وقار کے ذریعے پیش کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک دین کا اصل پیغام انسان کو جوڑنا ہے، توڑنا نہیں؛ سنوارنا ہے، مسخ کرنا نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی فکر میں امن، رواداری اور سماجی ہم آہنگی محض سیاسی نعرے نہیں بلکہ دینی اصول بن کر سامنے آتے ہیں۔

(3) تصوف اور شریعت کا متوازن رشتہ

فکری اعتدال کا ایک نہایت اہم مظہر تصوف اور شریعت کا متوازن رشتہ ہے۔ شیخ الاسلام نہ تو تصوف کو شریعت سے آزاد روحانیت بناتے ہیں اور نہ شریعت کو خشک قانونی نظام۔ ان کے ہاں تصوف شریعت کی روح ہے اور شریعت تصوف کا ضابطہ۔ یہی توازن انسان کے باطن کی اصلاح بھی کرتا ہے اور ظاہر کو بھی سنوارتا ہے۔ اس زاویے سے ان کی فکر ایک ایسے دینی شعور کو فروغ دیتی ہے جو نہ محض رسمی ہے اور نہ ہی بے قاعدہ وجدانی۔

(4) وحدت کا پیغام

اہلِ بیتِ اطہار سے محبت، صحابۂ کرام سے احترام اور امت کے اجتماعی تشخص کا تحفظ—یہ تینوں عناصر شیخ الاسلام کی فکری ساخت میں اس طرح ہم آہنگ ہیں کہ کسی ایک کو بلند کرنے کے لیے دوسرے کو مجروح نہیں کیا جاتا۔ یہی وہ اعتدال ہے جس کی بدولت ان کی فکر فرقہ واریت کے بجائے وحدت کا پیغام دیتی ہے اور اختلاف کے باوجود امت کے مشترکہ سرمایے کو محفوظ رکھتی ہے۔

(5) عملی زندگی کی رہنمائی

فکری اعتدال کا ایک اور پہلو عوام اور خواص دونوں سے خطاب کی صلاحیت ہے۔ شیخ الاسلام کا خطاب نہ تو صرف اہلِ علم کے لیے خاص ہے اور نہ عوامی سطح پر علمی وزن کھو دیتا ہے۔ یہ توازن اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی فکر محض علمی مباحث کے لیے نہیں بلکہ عملی زندگی کی رہنمائی کے لیے ہے۔ اعتدال یہاں اسلوب میں بھی ہے اور مقصد میں بھی۔ یوں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا فکری اعتدال ایک مضبوط پل کی مانند ہے جو روایت اور عصر، عقل اور وحی، فرد اور معاشرہ اور اختلاف اور وحدت—سب کے درمیان ربط قائم کرتا ہے۔ یہی پل امت کو فکری بحران سے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے، بشرطیکہ اسے سمجھا جائے اور اختیار کیا جائے۔

6۔ شیخ الاسلام کا منہاجِ تحقیق: دلیل، حوالہ اور علمی دیانت

کسی بھی علمی شخصیت کے فکری وزن کا اصل معیار اس کے استدلال کا منہج، اس کے دلائل کی صحت اور اس کی علمی دیانت ہوتی ہے۔ خطابت وقتی تاثر پیدا کر سکتی ہے، مگر تحقیق ہی وہ بنیاد ہے جو فکر کو دوام عطا کرتی ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی علمی شناخت اسی تحقیقی وقار سے متشکل ہے، جس میں دلیل جذبات پر غالب، حوالہ قیاس پر مقدم اور دیانت مصلحت پر حاوی نظر آتی ہے۔

(1) مآخذ پر اعتماد

شیخ الاسلام کے منہاجِ تحقیق کا پہلا امتیاز مآخذ پر غیر معمولی اعتماد اور وسعت ہے۔ ان کی تحریروں میں قرآن، حدیث، آثارِ صحابہ، اقوالِ ائمہ اور کلاسیکی مصادر محض حوالہ جاتی تزئین نہیں بلکہ استدلال کی اساس بنتے ہیں۔ وہ کسی نتیجے تک پہنچنے سے پہلے نصوص کو ان کے سیاق، شانِ ورود اور تاریخی پس منظر میں رکھتے ہیں، جس سے تحقیق سطحی اقتباس سے بلند ہو کر ایک منظم فکری تشکیل اختیار کرتی ہے۔

حدیث کے باب میں ان کی تحقیقی روش خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ وہ روایت کو نہ جذباتی عقیدت کے تحت قبول کرتے ہیں اور نہ جدید شکوک کے زیرِ اثر رد کرتے ہیں، بلکہ اصولِ محدثین کے مطابق سند، متن، تعددِ طرق اور تلقی بالقبول جیسے معیارات کو ملحوظ رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا اسلوب نہ صرف کلاسیکی محدثین کی روایت سے جڑا ہوا ہے بلکہ جدید تحقیق کے تقاضوں سے بھی ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے۔

(2) دلائل کی ترتیب و منطق

منہاجِ تحقیق کا دوسرا نمایاں پہلو دلائل کی ترتیب اور منطق ہے۔ شیخ الاسلام کے ہاں دلیل محض دلیل نہیں بلکہ ایک فکری سفر ہوتی ہے۔ وہ قاری یا سامع کو براہِ راست نتیجے پر نہیں پہنچاتے بلکہ قدم بہ قدم مقدمات قائم کرتے ہیں، متبادل آراء کا ذکر کرتے ہیں، ان پر علمی تبصرہ کرتے ہیں اور پھر کسی نتیجے تک پہنچتے ہیں۔ یہ انداز اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی تحقیق قائل کرنے کے لیے ہے، مرعوب کرنے کے لیے نہیں۔

(3) اختلافی آراء کا منصفانہ بیان

ان کی علمی دیانت کا ایک روشن پہلو اختلافی آراء کا منصفانہ ذکر ہے۔ وہ اختلافی مسائل میں صرف اپنے موقف کے حق میں شواہد جمع نہیں کرتے بلکہ مخالف موقف کے دلائل کو بھی پوری وضاحت کے ساتھ پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعد علمی اصولوں کی روشنی میں ترجیح قائم کرتے ہیں۔ یہی وہ طرزِ عمل ہے جو تحقیق کو مناظرہ کے اسلوب سے ممتاز کرتا ہے اور قاری کو فکری اعتماد عطا کرتا ہے۔

(4) بین العلوم ربط

شیخ الاسلام کے منہاجِ تحقیق میں ایک اہم عنصر بین العلومی ربط بھی ہے۔ وہ دینی علوم کو جدید سماجی، قانونی اور سیاسی علوم سے الگ تھلگ نہیں رکھتے بلکہ جہاں ضروری ہو وہاں ان سے استفادہ کرتے ہیں۔ یہ ربط نہ تو دینی اصولوں کی قربانی دیتا ہے اور نہ ہی جدید علوم کو غیر تنقیدی طور پر قبول کرتا ہے۔ اس سے تحقیق میں گہرائی بھی آتی ہے اور وسعت بھی۔

(5) حوالہ جاتی ثقافت

ایک اور نمایاں پہلو حوالہ جاتی ثقافت (Citation Culture) کا فروغ ہے۔ شیخ الاسلام کی کتب اور مقالات میں مصادر کی کثرت، حوالہ جات کی ترتیب اور اقتباسات کی وضاحت اس بات کی دلیل ہے کہ وہ علم کو ذاتی ملکیت نہیں بلکہ ایک امانت سمجھتے ہیں۔ یہ رویہ خاص طور پر اس دور میں نہایت اہم ہے جہاں مذہبی گفتگو اکثر بغیر حوالہ، بغیر تحقیق اور بغیر ذمہ داری کے کی جاتی ہے۔

یہی تحقیقی منہاج ان کی خطابت میں بھی جھلکتا ہے۔ اگرچہ عوامی خطاب میں وہ پیچیدہ اصطلاحات سے گریز کرتے ہیں، مگر دلیل، ترتیب اور اصولی ربط وہاں بھی قائم رہتا ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ ان کی خطابت تحقیق سے جنم لیتی ہے، نہ کہ تحقیق خطابت کے دباؤ میں تشکیل پاتی ہے۔

یوں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کا منہاجِ تحقیق ایک ایسے علمی شعور کی نمائندگی کرتا ہے جس میں جرأتِ فکر بھی ہے اور احتیاطِ علم بھی؛ جس میں روایت کی پاسداری بھی ہے اور عصر کی آگاہی بھی؛ اور جس میں اختلاف کے باوجود علمی وقار برقرار رہتا ہے۔ یہی منہاج ان کی فکر کو وقتی تاثر کے بجائے مستقل فکری اثاثہ بناتا ہے۔

7۔ تحریک منہاج القرآن: فکر سے تحریک تک— اور تجدیدِ دین کا عصری نمونہ

علم اگر کتابوں تک محدود رہے تو وہ روایت تو بن سکتا ہے، تحریک نہیں؛ اور فکر اگر ادارہ جاتی قالب میں نہ ڈھلے تو وہ اثر تو چھوڑ سکتی ہے، تاریخ نہیں بناتی۔ اسلامی تاریخ میں وہی افکار دیرپا ثابت ہوئے جو افراد سے نکل کر اداروں، نظاموں اور تربیتی ڈھانچوں کی صورت اختیار کر گئے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکر کا ایک نمایاں امتیاز یہی ہے کہ وہ محض علمی تصنیفات یا خطابات تک محدود نہیں رہی بلکہ تحریک منہاج القرآن کی صورت میں ایک ہمہ گیر، منظم اور مسلسل فکری و عملی نظام میں ڈھل گئی۔

تحریک منہاج القرآن کا قیام دراصل اس شعوری ادراک کا نتیجہ تھا کہ عصرِ حاضر میں محض وعظ، درس یا وقتی اصلاح کافی نہیں، بلکہ ایک ایسی تحریک درکار ہے جو علم، تربیت، دعوت، اصلاح اور سماجی خدمت—سب کو ایک وحدت میں سمو سکے۔ یہی وجہ ہے کہ منہاج القرآن کو محض ایک تنظیم کہنا اس کے دائرۂ اثر کو محدود کرنا ہوگا؛ درحقیقت یہ ایک فکری و تربیتی تحریک ہے جس کی بنیاد علم پر، روح اصلاح پر، اور مقصد امت کی فکری بازیافت پر قائم ہے۔

تحریک کے تعلیمی و تربیتی ڈھانچے میں یہ بات نمایاں ہے کہ یہاں نہ صرف معلومات کی ترسیل ہوتی ہے بلکہ شخصیت سازی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ علم کو اخلاق سے، عبادت کو خدمت سے اور شعور کو ذمہ داری سے جوڑا گیا ہے۔ یہی وہ پہلو ہے جو تحریک منہاج القرآن کو محض ایک تعلیمی نیٹ ورک نہیں بلکہ ایک فکری تربیت گاہ بناتا ہے، جہاں فرد کے باطن اور معاشرے کے ظاہر—دونوں کی اصلاح کو بیک وقت پیشِ نظر رکھا جاتا ہے۔

بین الاقوامی سطح پر تحریک منہاج القرآن کی موجودگی بھی اسی وسعت کی غماز ہے۔ مختلف تہذیبی، ثقافتی اور قانونی ماحول میں رہتے ہوئے اسلام کے متوازن، پرامن اور علمی بیانیہ کو پیش کرنا کوئی آسان کام نہیں، مگر یہ وہ میدان ہے جہاں شیخ الاسلام کی فکر اپنی عملی معنویت ثابت کرتی ہے۔ یہ بیانیہ نہ تو احساسِ کمتری کا شکار ہے اور نہ تصادم کی نفسیات میں مبتلا، بلکہ اعتماد، استدلال اور اخلاقی قوت کے ساتھ اپنا مقام بناتا ہے۔

یہاں ایک نہایت اہم سوال خود بخود سامنے آتا ہے:

کیا یہ ہمہ گیر علمی، فکری اور عملی جدوجہد محض ایک تحریک کی قیادت ہے، یا اس سے آگے بڑھ کر تجدیدِ دین کے مفہوم میں بھی آتی ہے۔۔۔؟

اسلامی روایت میں مجدد کسی نئے دین کا بانی نہیں ہوتا، نہ ہی وہ شریعت میں کوئی اضافہ کرتا ہے، بلکہ وہ اپنے دور میں دین کو درپیش فکری، اخلاقی اور عملی انحرافات کی نشاندہی کر کے اسے اس کی اصل روح کے ساتھ ازسرِنو مربوط کرتا ہے۔ حدیثِ نبوی ﷺ کے مطابق ہر صدی کے آغاز پر امت میں ایک ایسی شخصیت کا ظہور ہوتا ہے جو دین کی تجدید کا فریضہ انجام دیتی ہے۔ اس معیار پر اگر پندرھویں صدی ہجری کے تناظر میں غور کیا جائے تو چند بنیادی علامات سامنے آتی ہیں:

1۔ دین کا فکری سطح پر دفاع اور توضیح

2۔ انتہاپسندی اور انحراف کا علمی ابطال

3۔ روایت اور عصر کے درمیان ربط کی بحالی

4۔ امت کے فکری اعتماد کی تجدید

5۔ علم کو فرد اور معاشرے کی عملی اصلاح سے جوڑنا

ان معیارات پر شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی جدوجہد کو پرکھا جائے تو یہ کہنا علمی طور پر بے جا نہیں کہ ان کی شخصیت تجدیدی اوصاف کی حامل نظر آتی ہے۔ انہوں نے ایک ایسے دور میں جب دین یا تو شدت پسندی کی علامت بنا دیا گیا تھا یا نجی زندگی تک محدود کر دیا گیا تھا، اسلام کو ایک متوازن، جامع اور قابلِ عمل نظامِ حیات کے طور پر ازسرِنو متعارف کرایا۔ ان کی علمی تصانیف، تحقیقی منصوبے، انتہاپسندی کے خلاف مدلل بیانیہ، حدیث و فقہ کی عصری توضیح اور سب سے بڑھ کر ایک عالمی سطح کی منظم تحریک، یہ سب مل کر اس بات کی شہادت دیتے ہیں کہ یہ محض انفرادی خدمات نہیں بلکہ ایک صدی کے فکری بحران کا منظم جواب ہیں۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں شخصیت، فکر اور تحریک مل کر تجدید کے مفہوم کو مجسم صورت میں پیش کرتی ہیں۔

یہ تجدید کسی شور و غوغا یا دعوے کی محتاج نہیں، کیونکہ حقیقی مجدد تاریخ میں اپنے اثرات سے پہچانا جاتا ہے، القابات سے نہیں۔ شیخ الاسلام کی فکر نے جس طرح لاکھوں اذہان کو شدت سے اعتدال، جمود سے شعور، اور انتشار سے ربط کی طرف متوجہ کیا، وہ خود اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ کام محض اصلاح نہیں بلکہ تجدید کے دائرے میں آتا ہے۔

یوں تحریک منہاج القرآن، شیخ الاسلام کی فکر کا عملی اظہار بھی ہے اور ان کے تجدیدی کردار کی گواہ بھی۔ یہ تحریک اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر علم منہاج بن جائے اور فکر نظام میں ڈھل جائے تو وہ افراد ہی نہیں، زمانوں کی سمت بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

8۔ عصرِ حاضر میں شیخ الاسلام کی فکر کی انفرادیت اور امتیاز

ہر دور میں اہلِ علم کی کمی نہیں ہوتی، مگر ہر دور کو ایسے اہلِ فکر کم ہی نصیب ہوتے ہیں جو اپنے زمانے کے سوالات کو بھی سمجھتے ہوں اور اپنے علمی ورثے کی گہرائی سے بھی آگاہ ہوں۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکری انفرادیت اسی نادر امتزاج سے جنم لیتی ہے۔ وہ نہ ماضی کے اسیر ہیں اور نہ حال کے مرعوب، بلکہ ایک ایسے فکری تسلسل کے امین ہیں جو ماضی سے قوت لے کر حال کو معنی عطا کرتا اور مستقبل کی سمت متعین کرتا ہے۔

(1) ردِعمل نہیں بلکہ پیش قدمی

ان کی فکر کا سب سے نمایاں امتیاز یہ ہے کہ وہ ردِعملی نہیں بلکہ پیش قدم (Proactive) ہے۔ عصرِ حاضر میں دینی بیانیہ کی ایک بڑی کمزوری یہ رہی ہے کہ وہ اکثر حالات کے دباؤ میں تشکیل پاتا ہے—کبھی کسی الزام کا جواب، کبھی کسی حملے کا دفاع، اور کبھی کسی مغربی اعتراض کا فوری رد۔ شیخ الاسلام کی فکر اس نفسیات سے بلند ہے۔ وہ مسائل کے پیدا ہونے کے بعد نہیں بلکہ ان کے فکری اسباب کو سمجھ کر بات کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کا بیانیہ وقتی نہیں بلکہ دیرپا اثر رکھتا ہے۔

(2) اصولیت اور ہمہ گیریت

انفرادیت کا دوسرا اہم پہلو اصولیت اور ہمہ گیریت ہے۔ شیخ الاسلام کے ہاں دین کے کسی ایک پہلو کو باقی پہلوؤں پر فوقیت دے کر پیش نہیں کیا جاتا۔ عقیدہ، عبادت، اخلاق، قانون، سیاست، ریاست، معاشرت اور روحانیت—یہ سب ان کی فکر میں ایک مربوط نظام کی صورت جلوہ گر ہوتے ہیں۔ یہ جامعیت اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ اسلام جزوی اصلاحات کا نہیں بلکہ مکمل انسانی رہنمائی کا نام ہے۔

(3) علمی جرأت کے ساتھ فکری ضبط

ان کی فکر کا ایک اور نمایاں امتیاز علمی جرات کے ساتھ فکری ضبط ہے۔ وہ نہ تو نئے سوالات سے خوفزدہ ہوتے ہیں اور نہ ہی ہر سوال کو بے مہار آزادی دے دیتے ہیں۔ ان کے ہاں سوال کرنے کا حق بھی ہے اور جواب دینے کی ذمہ داری بھی۔ یہی توازن انہیں ان دو انتہاؤں سے محفوظ رکھتا ہے جہاں یا تو سوال جرم بن جاتا ہے یا جواب بے وزن ہو جاتا ہے۔

(4) عوامی مقبولیت اور علمی معیار کے درمیان توازن

شیخ الاسلام کی فکر کی انفرادیت اس بات میں بھی ہے کہ وہ عوامی مقبولیت اور علمی معیار کے درمیان نادر توازن قائم کرتی ہے۔ بہت سے خطباء عوام میں مقبول ہوتے ہیں مگر اہلِ علم میں وزن کھو دیتے ہیں اور بہت سے محققین علمی وقار تو رکھتے ہیں مگر عوام سے کٹ جاتے ہیں۔ شیخ الاسلام ان چند شخصیات میں سے ہیں جن کی تحریر بھی علمی معیار پر پوری اترتی ہے اور جن کی خطابت بھی عوامی سطح پر فہم و اثر رکھتی ہے۔ یہ توازن محض فصاحت کا نہیں بلکہ فکری پختگی کا نتیجہ ہے۔

(5) امن، اعتدال اور انسانی وقار

عصرِ حاضر میں ان کی فکر کا سب سے بڑا امتیاز امن، اعتدال اور انسانی وقار کا غیر مبہم بیانیہ ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا اسلام کو شدت، تشدد اور عدمِ برداشت کے ساتھ جوڑ رہی تھی، شیخ الاسلام نے دلیل، تحقیق اور منظم علمی کاوش کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ انتہاپسندی اسلام کی نمائندہ نہیں بلکہ اس کی نفی ہے۔ یہ بیانیہ محض خارجی دنیا کے لیے نہیں بلکہ خود مسلم معاشروں کے لیے بھی ایک فکری تطہیر کا ذریعہ بنا۔

(6) ہمہ مخاطبیت

یہاں یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ شیخ الاسلام کی فکر کسی مخصوص جغرافیے یا ثقافت تک محدود نہیں۔ ان کا خطاب مشرق کے لیے بھی ہے اور مغرب کے لیے بھی؛ مدرسہ کے طالب علم کے لیے بھی ہے اور یونیورسٹی کے پروفیسر کے لیے بھی؛ منبر پر بیٹھنے والے کے لیے بھی ہے اور عالمی فورمز پر مکالمہ کرنے والے کے لیے بھی۔ یہ ہمہ مخاطبیت (Universality of Address) ان کی فکر کو عصرِ حاضر میں غیر معمولی معنویت عطا کرتی ہے۔

اگر اس پورے فکری منظرنامے کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو یہ حقیقت مزید واضح ہو جاتی ہے کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکر محض چند علمی مباحث یا ادارہ جاتی کامیابیوں کا نام نہیں، بلکہ یہ امتِ مسلمہ کے فکری اعتماد کی بحالی کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ان کی جدوجہد ایک عالم، ایک مصلح اور ایک مجدد—تینوں حیثیتوں کو یکجا کر دیتی ہے، اور پندرھویں صدی ہجری کے فکری افق پر ان کی خدمات کو ایک غیر معمولی معنویت عطا کرتی ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ شیخ الاسلام کی فکر عصرِ حاضر کے شور میں ایک منظم آواز، فکری انتشار میں ایک مربوط سمت، اور انتہاؤں کے درمیان ایک مضبوط پل کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہی انفرادیت ہے، یہی امتیاز—اور یہی وہ سرمایہ ہے جس سے آنے والی نسلیں بھی فکری رہنمائی حاصل کر سکتی ہیں۔

9۔ فکر، عمل اور مستقبل کی سمت

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی شخصیت، علمی جدت اور فکری اعتدال کی روشنی میں ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دینِ اسلام کی اصل روح کو سمجھنے اور اسے عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق پیش کرنے کے لیے صرف علم کافی نہیں، بلکہ علم، فہمِ عصر، اخلاقی ذمہ داری اور عملی عمل—سب کا امتزاج لازم ہے۔

شیخ الاسلام نے نہ صرف ایک علمی شخصیت کے طور پر امت کے لیے روشنی فراہم کی بلکہ اپنی تحریروں، تحقیق، خطابت اور تحریک منہاج القرآن کے ذریعے اس علم کو عملی قوت میں بھی ڈھالا۔ انہوں نے جدت کو روایت کی توسیع، اجتہاد کو اصول پر مبنی، اور اعتدال کو عمل میں ظاہر کیا۔ یہی وہ امتیاز ہے جو انہیں محض عالم نہیں بلکہ ایک عصر ساز رہنما اور پندرھویں صدی ہجری کے مجدد کے طور پر بھی ممتاز کرتا ہے۔

عصرِ حاضر میں مسلم دنیا فکری بحران، شدت پسندی اور اخلاقی انتشار کا شکار ہے۔ ایسے میں شیخ الاسلام کا بیانیہ نہ صرف امت کو فکری اعتدال کی طرف متوجہ کرتا ہے بلکہ علمی معیار، تحقیق اور عملی تربیت کے ذریعے نوجوان نسل کے لیے ایک روشن راستہ بھی فراہم کرتا ہے۔ ان کی فکر اس بات کی دلیل ہے کہ علم، عمل اور اخلاق کی ہم آہنگی کے بغیر کوئی امت یا معاشرہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔

تحریک منہاج القرآن کی ادارہ جاتی شکل اس بات کی گواہ ہے کہ علم اگر منظم طریقے سے پیش کیا جائے، تو یہ محض کتابی معلومات نہیں بلکہ عمل، تربیت اور فکری بیداری کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اسی منہج کے ذریعے ہزاروں طلبہ و طالبات، علماء اور نوجوان عالمی سطح پر علم، اعتدال اور امن کا پیغام پھیلا رہے ہیں۔

آخر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی فکر ایک ایسا راستہ جو امت کے لیے فکری رہنمائی، عملی بصیرت اور اخلاقی روشنی کا باعث ہے۔ ان کے علمی اور عملی کردار کا مطالعہ ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ اسلامی تعلیم و تربیت اور فکری تجدید صرف نظری مباحث تک محدود نہیں، بلکہ امت کی بقاء، نوجوانوں کی تشکیل اور عالمی سطح پر اسلام کے پرامن چہرے کی تجدید کے لیے بھی لازم ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم نہ صرف شیخ الاسلام کی علمی عظمت سے مستفید ہوں بلکہ ان کے منہاجِ فکر، جدت اور اعتدال سے اپنے ذاتی اور معاشرتی زندگی میں رہنمائی بھی حاصل کریں۔