حضورنبی اکرم ﷺ شہر علم ہیں اور تمام علوم معلم کائنات ﷺ کے فیضان سے اِرتقاء کی بلندیوں پر روشنی بکھیر رہے ہیں۔ وہ روشنی، روشنی ہی نہیں جو آ فتابِ رسالت ﷺ کے اَنوار سے اِکتسابِ شعور نہ کرے۔۔۔ وہ علم، علم ہی نہیں جو دہلیزِ مصطفی ﷺ کی در یوز ہ گری سے کسبِ نور نہ کر ے۔ وہ دانش، دانش ہی نہیں جو آپ ﷺ کے لبِ اقدس سے نکلنے والے علم و حکمت اور دانائی کی خوشبو سے مشامِ جاں کو معطّر نہ کرے۔۔۔ اس لیے کہ علم و حکمت اور دانائی کا سر چشمہ نقوشِ کف پائے محمد ﷺ سے پھوٹتا ہے۔ علم کا سب سے بلند اور قوی ذریعہ وحیِ اِلٰہی ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا انسانیت پر احسانِ عظیم ہے کہ علوم کے جو میدان انسان پر آشکار نہیں کیے گئے تھے، آپ ﷺ نے علم کے سب سے بلند اور قوی ذریعے یعنی وحی کے نور سے وہ علوم و معارف انسانیت کو عطا فرما دیے۔
اللہ رب العزت نے سلسلہ نبوت تاجدار ختم نبوت حضرت محمد مصطفی ﷺ پر ختم کردیا اور دین اسلام کی تعلیمات آپ ﷺ پر تمام کر دی۔ انبیاء کرام علیہم السلام کے وارث علماء حق قرار پائے۔ گویا دین کی تعلیمات کی اشاعت و تبلیغ اور فروغ کا فریضہ حق علمائے امت کی دائمی ذمہ داری ہے۔ جب ہم تاریخ اسلام پر ایک نظر عمیق ڈالتے ہیں تو یہ حقیقت اظہر من الشمس ہوجاتی ہے کہ یہ علماء دین اور اہل علم ہی وہ عظیم ہستیاں ہیں جنہوں نے لوگوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر حق پرستی کے رنگ میں ڈھالا، یہی اہل علم ہیں جو بکھرے ہوئے افراد کو ایک امت کی شکل دینے والے ہیں۔
حضرت یحییٰ بن مُعاذ الرَّازی فرماتے ہیں:
اَلْعُلَمَاءُ أَرْحَمُ بِأُمَّةِ مُحَمَّدٍ ﷺ مِنْ آبَائِهِمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ، قِيلَ:وَكَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ: لِأَنَّ آبَاءَهُمْ وَأُمَّهَاتِهِمْ يَحْفَظُونَهُمْ مِنْ نَارِ الدُّنْيَا، وَهُمْ(الْعُلَمَاءُ) يَحْفَظُونَهُمْ مِنْ نَارِ الْآخِرَةِ
(ذكره الإمام الغزالي في إحياء علوم الدين (1:11)
’’ تمام علماء (مفسرین، محدثین، فقہا، اورائمہ کرام)، امت محمدیہ کے لیے ان کے والدین سے بھی زیادہ رحیم و شفیق ہیں۔ پوچھا گیا کہ کیسے؟ آپ فرماتے ہیں: اس طرح کہ والدین تو ان کو دنیا کی آگ( اور اس کی مصیبتوں )سے بچاتے ہیں، جبکہ اہلِ علم انہیں جہنم کی آگ (اور آخرت کی ہولناکیوں) سے بچاتے ہیں۔ ‘‘
مجدد المئۃ الحاضرہ
آج امت مسلمہ من حیث المجموع زوال کے دور سے گزر رہی ہے۔ اسلامی روایات اور اخلاقی اقدار پامال ہورہی ہیں۔ عامۃ الناس توکجا لوگوں کی اخلاقی و روحانی اصلاحِ احوال کا فریضہ سرانجام دینے والی ہستیاں بھی اخلاقی و روحانی کردار سے عاری ہوچکی ہیں، اخلاق و کردار سنوارنے والے مراکز اور میخانے ویران ہوچکے ہیں۔ ان حالات میں ایک ایسے مسیحا کی ضرورت تھی جس کے ایک ہاتھ میں قرآنی تعلیمات ہوں اور دوسرے ہاتھ میں دور جدید کے علوم و فنون۔۔۔ ایک ہاتھ میں عظیم تہذیب اسلامی کا فیض ہو اور دوسرے ہاتھ میں عصر حاضر کا لب و لہجہ اور تحقیق کا جدید انداز۔
ان تمام تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات بلامبالغہ کہی جاسکتی ہے کہ بلاشبہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ان روشن انسانی اور فکری شخصیات میں سے ایک ہیں جو اسلام کی ثمر بار تہذیب نے انسانی معاشرے کو تحفہ دی ہیں جو آج پورے عالم کے سامنے رحمتِ دو عالم ﷺ کی نوید کی زندہ تعبیر ہے اور قومی اور بین الاقوامی سطح پر پسی ہوئی ملتِ اسلامیہ کے درد کی آواز بن کر باطل، استحصالی اور اسلام دشمن قوتوں کے بالمقابل اپنی شبانہ روز جدوجہد میں مصروفِ عمل ہیں۔
کیسے بیان ہوں تیرے اوصافِ کمالات
خوبیوں کا ایک حسین مرقع ہے تیری ذات
شیخ الاسلام: فناء فی العلم
شیخ الاسلام وہ ایک ایسی ہمہ جہت علمی شخصیت ہیں جن میں علمی گہرائی و گیرائی، فنی مہارت اور تصنیف و تحریر کا نفیس ذوق یکجا نظر آتا ہے۔ تفہیم کا عمدہ ملکہ رکھتے ہیں اور تدریس کا اُسلوب منفرد اور دل نشین ہے۔ ہر مضمون کو اپنے الفاظ کا جامہ پہنا کر اسے قاری اور سامع کی سمجھ کے قریب لے آنا ان کا خاص ہنر ہے۔ بافیض اور با توفیق استاد ہیں، گفتگو میں ٹھہراؤ، تہذیب و شائستگی اور زبان میں شگفتگی نمایاں ہے، جب کہ اندازِ بیان میں برجستگی، بے ساختگی، وقار اور اعتماد جھلکتا ہے۔ آپ کی فکر میں Clarity، عمل میں Maturity، قلم میں روانی، خطابت میں سیف زبانی اور عقیدے میں عشق رسالتمآب ﷺ کی فراوانی ہے۔
آپ صحیح معنی میں اس حدیث مبارک کے مصداق ہیں جسے حضرت سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے روایت کیا کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا:
يَرْفَعُ اللهُ تَعَالَى بِهِ أَقْوَامًا، وَيَجْعَلُهُمْ فِي الْخَيْرِ قَادَةً وَأَئِمَّةً، (هُدَاةً يُهْتَدَى بِهِمْ)، تُقْتَبَسُ آثَارُهُمْ، وَيُقْتَدَى بِفِعَالِهِمْ، وَيُنْتَهَى إِلَى رَأْيِهِمْ.
(ابن عبد البر في جامع بيان العلم وفضله، 1: 238، الرقم:268)
آپ بحر تحقیق کے عظیم شناور اور آسمانِ علم و فضل کے نیرتاباں ہیں۔ تحقیق آپ کا ذوق، علم حدیث سے اشتغال آپ کاپسندیدہ موضوع، عبادت و ریاضت آپ کی زندگی کا محبوب ترین حصہ اور قرطاس و قلم آپ کے بہترین رفیق ہیں۔۔۔
علم کے ذریعے اللہ تعالیٰ قوموں کو سرفرازی عطا کرتا ہے تو ان کے اندر شرافت و قیادت اور سیاست و ہدایت سے مالا مال رہنما پیدا کردیتا ہے جو ہر گام پر ان کی رہنمائی کرتے ہیں۔ ایسے رہنما اور مربی خیرو بھلائی کی نشانیاں ہوتے ہیں (جو لوگوں کی رہنمائی کرتے ہیں) لوگ ان کے نقش قدم پر چلنا باعثِ افتخار سمجھتے ہیں۔ ان کے رائے کی پیروی کی جاتی ہے (اور لوگ ان کے اعمال و افعال کو رشک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں)۔
اگر ہم شیخ الاسلام کو حاصل علوم و فنون کی بات کریں تو تفسیرِ قرآن شیخ الاسلام کا محبوب مشغلہ ہے اور حدیثِ نبوی سے آپ خصوصی مناسبت رکھتے ہیں۔ ایک بلند پایہ محدث، مفسر اور بالغ نظر فقیہ ہونے کے ساتھ ساتھ کثیر المطالعہ اور کثیر التصانیف بھی ہیں۔ محنت، جدوجہد اور مسلسل علمی مشغولیت ان کی نمایاں صفات میں شامل ہیں۔ ان کے تلامذہ اور مستفیدین کی بڑی تعداد ہے، جب کہ عقیدت مندوں اور محبین کا حلقہ بھی خاصا وسیع ہے۔
الحمدللہ تعالیٰ مجھے چونکہ ایک طویل عرصہ سے شیخ الاسلام کی سنگت و صحبت نصیب ہے۔ اس لیے میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں نے وہ آنکھیں دیکھی ہیں جن کی روشنی علم کی راہ نوردی کے نام ہوچکی ہیں۔ دن ہو یا رات کا آخری پہر کتب بینی اور مطالعہ سے والہانہ محبت آپ کی روح کی غذا ہے۔ مطالعہ کا عالم یہ ہےکہ آپ پوری پوری رات کتب بینی میں صرف کرتے ہیں۔ ان کی سٹدی ٹیبل پر درجنوں کتب ہر وقت موجود ہوتی ہیں جن کا مطالعہ فرما رہے ہوتے ہیں۔ مسلسل 10 سے 12 گھنٹے ورق گردانی کرتے گزر جاتے ہیں اور ان کو وقت کا احساس بھی نہیں ہوتا ۔ قلم ہاتھ میں ہوتا ہے اور جہاں اہم نکتہ ودلیل میسر آتی ہے وہاں نشان لگا دیتے ہیں۔ گویا ان کے مطالعہ میں نظم بھی قابل دید ہے۔
میں آج بھی ان کے مطالعہ میں آنے والی ہزار ہا کتب کو جب دیکھتا ہوں تو ہرہر کتاب کے کئی کئی صفحات پرنوٹس، حوالہ جات اور علمی نکات کے نشانات پاتا ہوں۔ جس سے پتا چلتا ہے کہ وہ کتنی گہرائی اور گیرائی کے ساتھ کتاب کا مطالعہ فرماتے ہیں۔ کتاب کے ہر گوشہ، ہر سطر، ہر لفظ ان کے سامنے ہوتا ہے۔ کتابوں سے وابستگی اوران کا مطالعہ آپ کی زندگی کا اوڑھنا بچھونا ہے۔ بعض اوقات اگر طبیعت ناساز ہو جاتی ہے تو کتاب ہی اُس کا علاج ہوتی ہے۔ نیند نہ آ رہی ہو تو بستر سے دوبارہ اٹھ کر مطالعہ کتب اور تصنیف و تالیف میں مگن ہو جاتے ہیں۔ رنج و بے چینی کی حالت میں کتاب ہی آپ کی غم خواری کا سامان فراہم کرتی ہے کیونکہ مطالعہ ٔ کتب ہی آپ کے شب وروز کا غم گسار اور ہمراز بن چکا ہے۔
آپ نایاب کتب کے حصول اور مخطوطات وجدید مطبوعات کی ذخیرہ اندوزی کے دلدادہ ہیں۔ کتابوں سے حد درجہ محبت کی بنا پر کتب جمع کرنے کے شوق اور اپنے ذاتی لائبریری کو وسیع سے وسیع تر کرنے کی جستجو میں آپ دنیا کے کونے کونے سے کتب خریدنے کے لیے سارا دن کتب خانوں میں کھڑے رہ کر کتب کا انتخاب کرتے ہیں۔ کتب بینی کا یہ عالم ہے کہ آپ کی ذاتی لائبریری میں ہزار ہا کتب موجود ہیں۔
علامہ ابن الجوزی اپنی کتاب صید الخاطر میں بیان کرتے ہیں کہ امام عبداللہ بن مبارک سے پوچھا گیا کہ آپ ہم لوگوں کے ساتھ کیوں نہیں بیٹھتے؟ انہوں نے جواب دیا:
إِنِّي أَذْهَبُ فَأُجَالِسُ الصَّحَابَةَ وَالتَّابِعِينَ وَأَشَارَ بِذَلِكَ إِلَى أَنَّهُ يَنْظُرُ فِي كُتُبِهِ.
(ابن الجوزي في صيد الخاطر، 246، الرقم: 762)
میں حضرات صحابہ اور تابعین کے ساتھ جا کر بیٹھتا ہوں، آپ کا اشارہ اس طرف تھا کہ میں ان کی کتب کا مطالعہ کرتا ہوں (جن میں صحابہ و تابعین کے ارشادات ہوتے ہیں)۔
شیخ الاسلام بھی یہی فرماتے ہیں کہ میں جب کتب کا مطالعہ کرتا ہوں تو خود کو ان صاحبانِ کتب کی مجالس میں پاتا ہوں۔ یہ علمی یکسوئی آپ کو معاصر اساطین و اعیان سے ممتاز کرتی ہے۔ آپ نے خود کو علم کے لیے وقف کر رکھا ہے۔ ایک عالَم اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ شیخ الاسلام دینی و دنیوی علوم کا ایک چلتا پھرتا اور جیتا جاگتا انسائیکلو پیڈیا ہیں۔ ان کی ذات والا صفات میں سیکڑوں لائبریریاں مجتمع ہو چکی ہیں۔ الغرض وہ بیک وقت اَسرار و حکم کے عارف بھی ہیں اور کلیمِ سر بہ کف بھی۔
احقر(محمد ضیاء الحق رازی) کو بار ہا یہ مشاہدہ ہوا کہ حوالہ جات کی تلاش میں ورق گردانی کرتے ہوئے جب کتاب کے متعلقہ صفحہ پر پہنچتا ہوں تو شیخ الاسلام کے قلم سے اس صفحہ پر نوٹ لکھا ہوا پاتا ہوں، جس سے ورطۂ حیرت میں گم ہو جاتا ہوں۔ میرا وجدان یہ کہتا ہے کہ جب بھی کوئی نئی کتاب آپ کے ہاتھ میں آتی ہے تو وہ خود بتاتی ہے کہ میرے اندر یہ چیز نئی ہے۔
تحقیق و تحریر کے عظیم شناور
آپ بحر تحقیق کے عظیم شناوراور آسمانِ علم و فضل کے نیرتاباں ہیں۔ تحقیق آپ کا ذوق۔۔۔ علم حدیث سے اشتغال آپ کاپسندیدہ موضوع۔۔۔ عبادت و ریاضت آپ کی زندگی کا محبوب ترین حصہ۔۔۔ قرطاس و قلم آپ کے بہترین رفیق ہیں۔ تدریس، تصنیف وتالیف اور بیان وخطابت، بیک وقت تینوں کا کسی ایک شخص میں جمع ہو جانا خوشی نصیبی اور کمال کی بات ہے۔ شیخ الاسلام کی زندگی میں یہ تینوں باتیں علی وجہ الکمال جمع ہیں، جس کی وجہ سے آپ کی شخصیت ایک نمایاں مقام کی حامل ہے۔
شیخ الاسلام کے طرزتحریر کو ’’سہل ممتنع‘‘ کی صنعت کا اعجاز کہاجاسکتا ہے۔ آپ کی کسی بھی کتاب کو اُٹھاکر دیکھیے، اس کی سطر سطر رِفعتِ فکری، وسعتِ مطالعہ اور دقتِ نظر کااعلان کرتی ہوئی نظر آئے گی۔ کتاب کا کوئی بھی صفحہ پڑھیے، لفظ لفظ سے علم وحکمت کی تیز روشنی پھوٹتی ہوئی ملے گی۔ جس موضوع پر بھی قلم اٹھایا اس میں حقائق وواقعات کے ساتھ عقلی ونقلی دلائل کا انبار لگادیا کہ قاری اس میں کھوکر دریائے تحیر میں غرق ہوجاتا ہے۔
زبان وبیان کی شستگی، سلاست اور روانی ایسی کہ لگتا ہے الفاظ ومعانی کا دریا بہہ رہا ہے، آپ کے شب وروز میں سب سے زیادہ وقت تحریری وتصنیفی کام کرنے میں صرف ہوتا ہے۔ لکھنے میں مضامین کی اس قدر آمد ہوتی ہے کہ گھنٹوں قلم کاغذ پر سے نہیں اُٹھتا، ایسا لگتا ہے کہ آپ کے سامنے کوئی کھلی کتاب رکھی ہے، جسے آپ مسلسل نقل کررہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لکھنے کے دوران آپ گردوپیش سے بالکل منقطع ہوجاتے ہیں، کوئی آکر سامنے بیٹھ جائے اورمتوجہ نہ کرے تو آپ کو اس کی موجودگی کا احساس تک نہیں ہوتا۔ تحریری مشغولیت سفر کے دوران بھی ایسی ہی رہتی ہے حتیٰ کہ ہوائی جہاز میں بھی تصنیفی کام برابر جاری رہتا ہے۔ احقر کو بارہا سفر و حضر میں مصاحبت کی سعادت نصیب ہوئی ہے، میں نے کبھی آپ کو فارغ بیٹھے نہ پایا۔
سلف صالحین کے علمی و روحانی ورثہ کے امین
مُجَدِّدُ الْمِئَۃِ الْحَاضِرَۃ، حُجۃ المحّدثین اِمام الاُمّہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری دامت برکاتہم العالیہ نے قرآنی اسرار و رموز، معانی و معارف اور حکمت سے پردہ اٹھا یا۔ آپ نے افکارو نظریات اور عمل و کردار میں اعتدال و توازن، مساوات اور رواداری کی اسلامی تعلیما ت کو عام کیا اور منہاج القرآن عطا کیا اور اسی گلشن منہاج سے علم وآگہی کے نور سے ایک دنیا مستفیض و مستفید ہورہی ہے۔ آپ نے محبت سے خالی، مایوس اور اداس دلوں کو عشقِ مصطفی ﷺ ، محبتِ ومؤدت اہلِ بیتِ اطہار علیہم السلام، تعظیم وتکریمِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، ادب و احترام اورمتابعتِ اولیاء و سلف صالحین کا درس دیا۔ آپ حقیقی معنی میں اولیاء وسلف صالحین کے علمی و فکری اور روحانی ورثہ کے امین ہیں۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ان کے زمانے میں ان کی سنگت میں جی رہے ہیں۔
ان کا ہر ہر لمحہ یقینی طور پر حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اسوہ حسنہ اور سیرتِ مبارکہ کی متابعت میں گزر رہا ہے، جیسے وہ اپنی آنکھوں سے زمانہ مصطفی ﷺ کو ملاحظہ فرما رہے ہیں۔ ان کی سیرت میں اہلِ بیت اطہار علیہم السلام اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے اوصاف وکمالات کا فیض جھلکتا نظر آتا ہے۔ تابعین، تبع التابعین، ائمہ اطہار اور اولیاء و سلفِ صالحین کے آثار مبارکہ کا فیضان دکھائی دیتا ہے۔ ۔ جن کا ظرف سمندروں سے گہرا اور کوہساروں سے بلند ہے۔۔۔ ۔ جن کی تقریر و تحریر کا ایک ایک حرف اور جملہ، ظلمت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں خورشید کی مانند چمکتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔
آپ نے افکارو نظریات اور عمل و کردار میں اعتدال و توازن، مساوات اور رواداری کی اسلامی تعلیما ت کو عام کیا اور منہاج القرآن عطا کیا۔ اسی گلشنِ منہاج کے نور سے ایک دنیا مستفیض و مستفید ہورہی ہے
آپ لذت توحید اور عشق الہی سے سرشار۔۔۔ معرفت و محبت الہی سے لبریز۔۔۔ اَدب و تعظیمِ مصطفیٰ ﷺ ، محبت و عشقِ مصطفی ﷺ اور اطاعت و اتباع مصطفی ﷺ میں ڈوبے ہوئے ہیں۔ آپ قرآن فہمی کا بے مثال ذوق اور کتاب الہی کے اسرار و رموز سے گہری آشنائی رکھتے ہیں۔۔۔ احادیثِ نبویہ کی تحقیق و ترویج میں عرق ریزی اور جاں فشانی اورمضامین حدیث پر آپ کا عبور صاف نظر آتا ہے۔۔۔ ۔ حقائق حیات اور مسلمات کائنات پر کامل دسترس حاصل ہے۔۔۔ معرفت، حقیقت اور تصوف کے اسرار و رموز کا ادراک اور ان کے بیان پر ایسی قدرت ہے جو دلوں میں اتر جانے والی ہے۔
آپ ذہن میں ہل چل مچا دینے والے دلائل کا انبار لگا دیتے ہیں۔۔۔ ۔ موضوعِ سخن توحید ہو تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے یہی ذات عرفانِ الہٰی کا کشتہ ہے۔۔۔ عشق مصطفی ﷺ کی بات چل نکلے تو یوں لگتا ہے جیسے صحنِ مسجدِ نبوی میں گنبدِ خضرا سے تازہ ہوا کے جھونکے آرہے ہیں۔ قرآن مجید کی تفسیر ہونے لگے تو لگتا ہے کہ ملاءِ اَعلیٰ سے نوری مخلوق انوار کی بارش کررہی ہے۔۔۔ حدیثِ مبارک زیرِ بحث آئے تو محسوس ہوتا ہے کہ شاہِ لولاک ﷺ نے پردے اٹھادیئے ہیں۔
یہ کیسی شخصیت ہے کہ عامۃ الناس کے مجمع میں مسکرانے لگے تو سب مسکرانے لگتے ہیں۔۔۔ وہ شب بیداریوں میں رونے لگے تو سب دھاڑیں مار مار کر رونے لگتے ہیں۔۔۔ آپ علم ومعرفت، دلائل و براہین اور فصاحت و بلاغت کا موجزن سمندر ہیں۔۔۔ ۔ جنہیں دنیا کی کوئی طاقت نہ ڈرا سکے، وہ مردِ قلندر ہیں۔۔۔ ۔ ۔ اور جو سارے عالم پر چھا گئے وہ مقدر کے سکندر ہیں۔ آپ کا شمار ان معدودے روزگار ہستیوں میں ہوتا ہے جن کے نقوش پا پر چل کر زمانہ اپنی منزل پاتا ہے۔
آپ کا وجود نوع انسانی کے لیے ایک سہارا ہے۔ وہ ایک خاموش معلم ہیں، اُن کے اخلاق فاضلہ بن دیکھے اپنا اثر دیکھاتے ہیں، اس لیے کہ اُن کے فکر و مقال اور عمل و حال سب ذاتِ نبوی میں گم ہیں۔ وہ وقت کے مجدد ہیں۔ ایسے مجدد کہ جن کے علمی و عملی کام کی طرف حضور نبی اکرم ﷺ نے اس حدیث مبارک میں اشارہ فرمایا ہے:
يَحْمِلُ هَذَا الْعِلْمَ مِنْ كُلِّ خَلَفٍ عُدُولُهُ يَنْفُونَ عَنْهُ تَحْرِيفَ الْغَالِينَ، وَانْتِحَالَ الْمُبْطِلِينَ، وَتَأْوِيلَ الْجَاهِلِينَ
(أخرجه البزار في المسند (16: 247) الرقم: 9423)
’’بعد میں آنے والے اصحابِ عدل یعنی مستند جید علماء (صاحب علم و فراست) اپنے سلف صالحین اور اکابرین سے اس دین کو حاصل کریں گے اور حد سے تجاوز کرنے والوں نے جو اس میں من گھڑت تحریف اور تبدیلی کی ہے اور باطل پرستوں نے اس میں جو غلط باتیں منسوب کی ہیں اور جاہلوں نے اسے جو غلط معانی پہنائے ہیں (ان کا پردہ چاک کریں گے ) اور وہ اس کی نفی کریں گے‘‘۔
شیخ الاسلام کی علمی و فکری زندگی کا ایک اجمالی جائزہ
17اکتوبر 1980ء (8 ذی الحج 1400ھ بروز جمعہ المبارک )سے 2026ء تک، چھیالیس سالہ جد و جہد میں آپ نے اسلام کے مذہبی و سیاسی، روحانی و اَخلاقی، قانونی و تاریخی، معاشی و اِقتصادی، معاشرتی و سماجی اور تقابلی پہلوؤں پر ہزاروں لیکچرز دیے۔ آپ کے مختلف النوع سینکڑوں موضوعات پر 7 ہزار سے زائد لیکچرز ریکارڈڈ (صدا بند) ہیں، جن میں بعض موضوعات ایک ایک سو سے زائد خطابات کی سیریز کی شکل میں ہیں۔ اِسلام کے علمی و عملی، اَخلاقی و رُوحانی، تعلیمی و سائنسی، فقہی و قانونی اور فکری و عصری موضوعات پر انگلش، عربی اور اُردو میں ایک ہزار (1000 ) سے زائد شاہکار کتب تصنیف کی ہیں، جن میں سے 650 سے زائد کتب شائع ہو کر منظرِ عام پر آچکی ہیں۔ جب کہ متعدد موضوعات پر آپ کی بقیہ کتب کے مسوّدات طباعت کے مختلف مراحل میں ہیں۔ دنیا کی مختلف مقامی و بین الاقوامی زبانوں میں آپ کی متعدد کتب کے تراجم بھی ہوچکے ہیں۔ جنہیں دیکھ کر پوری دنیا کے اہل علم ورطہ حیرت میں مبتلا ہیں۔
یہ کتب علم التفسیر و اصولہ، علم الحدیث و اصولہ، علم العقائد، علم الفقہ و اصولہ، علم التصوف والمعرفۃ، علم اللغۃ والأدب، علم النحو والبلاغۃ، اِقتصادیات، فکریات، دستوریات و قانونیات، اِسلام اور جدیدسائنس، اَمن و محبت اور ردّ تشدد و اِرہاب، حقوقِ اِنسانی اور عصریّات، اور دیگر کئی مذہبی و غیر مذہبی علوم و فنون اور منقولات و معقولات کا خزانہ ہیں۔
آپ نے محبت سے خالی، مایوس اور اداس دلوں کو عشق رسالت ﷺ کا درس اور روحانی سہارا دیا ہے۔ امت کا درد، علم کا شغف، دین کا نشہ، روح کا سوز اور عشق کا والہانہ پن عطا کیا ہے۔ آپ کے چند عظیم علمی و تحقیقی کارہائے نامہ ملاحظہ ہوں:
1۔ اُمت کو معرفتِ کلامِ الہی سے روشناس کروانے کے لیے ’عرفان القرآن‘ کے نام سے اُردو میں اور The Manifest Quran کے نام سے انگریزی زبان میں جامع اور عام فہم ترجمہ کیا ہے۔ یہ تراجم قرآن حکیم کے اُلوہی بیان کی لغوی، نحوی، اَدبی، علمی، اِعتقادی، فکری اور سائنسی خصوصیات کا آئینہ دار ہیں۔ یہ تراجم کئی جہات سے عصرِ حاضر کے دیگر تراجم کی بہ نسبت زیادہ جامع، بلیغ اور منفرد ہیں۔
2۔ قرآن فہمی کے باب میں آپ کا عظیم شاہ کار 8 جلدوں پر مشتمل مضامینِ قرآن کا مجموعہ ’اَلْمَوْسُوْعَةُ الْقُرْآنِیَّةُ الْمَوْضُوْعِيَّة‘ (قرآنی اِنسائیکلوپیڈیا) ہے۔ اِس اِنسائیکلوپیڈیا کے ذریعے آپ نے قرآن مجید کے ہزاروں مضامین تک تمام طبقات کے لیے براہِ راست رسائی کا دَر وا کر دیا ہے۔ 5 ہزار موضوعات پر مشتمل یہ اِنسائیکلوپیڈیا شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کے نصف صدی سے زائد مطالعہ قرآن کا نچوڑ اور ماحصل ہے۔ قرآنی اِنسائیکلوپیڈیا دراصل رُشد و ہدایت کا ایک ایسا نسخہ کیمیا ہے جس سے نہ صرف اُمت کا قرآن مجید سے ٹوٹا ہوا تعلق بحال ہوگا بلکہ رہتی دنیا تک علما و طلبہ کو تقریر و تحریر کے لیے ہزاروں قرآنی موضوعات تک رسائی ہوگی۔ اس طرح یہ مجموعہ مطالعہ قرآن کے باب میں عصری تقاضوں کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ اِن شاء اللہ آنے والی نسلوں کی علمی، سائنسی، فکری، اَخلاقی، روحانی، سیاسی، معاشی اور معاشرتی موضوعات پر بھرپور راہ نُمائی کرتا رہے گا۔
3۔ شیخ الاسلام نے خدمتِ قرآن کا ایک عظيم باب مکمل کرتے ہوئے عربی زبان میں 42 جلدوں پر مشتمل تفسیر القرآن لکھی ہے:
دو جلدوں پر مشتمل مفصل مقدمہ (اَلْفَتْحُ الْكَبِيْر فِي عُلُوْمِ التَّفْسِير) علم التفسیر میں ایک عظیم اور نادر و منفرد کاوش ہے۔
آپ کی 25 جلدوں پر مشتمل عربی زبان میں جامع تفسیر: فَوَاتِحُ الْبَيَان فِي تَفْسِیْرِ الْقُرْآن [اَلتَّفْسِيْرَاتُ الْقَادِرِيَّة اپنے اندر ہمہ جہت تفسیری نکات سموئے ہوئے ہے۔ یہ تفسیر اِعتقادی، فقہی، علمی و سائنسی، فکری و نظری اور اِشاری نکات کو محیط ہے اور عقلی اور نقلی، دونوں پہلوؤں کا حسین و بلیغ مرقّع ہے۔
اِسی طرح 10 جلدوں پر مشتمل تفسیر اَلْجَوْهَرُ النَّقِيّ فِي التَّفْسِيْرِ التَّرْبَوِيِّ میں ہر آیت کا ’تربیتی پہلو‘ لیا گیا ہے۔ یہ تفسیر قرآن مجید کے اِصلاحی و تربیتی مضامین کا اِجمالی بیان ہے۔
5 جلدوں پر مشتمل مُخْتَصَرُ الْبَيَان فِي مَعَانِي آيَاتِ الْقُرْآن میں قرآن مجید کے کلمات کے معانی کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔
4۔ آپ نے فہمِ حدیث کے لیے ایساسیدھا راستہ متعین کیا ہے جو واقعتاً المنھاج السوی (اَلمِنْهَاجُ السَّوِيّ مِنَ الْحَدِيْثِ النَّبَوِيّ) ہے۔
5۔ آپ علی التحقیق ایسا عرفان السنہ رکھتے ہیں کہ فنِ حدیث میں آپ کا درک وکمال دیکھ کر اسلاف کی یاد تازہ ہوجائے۔
6۔ 8 جلدوں میں اُصول الحدیث کا انسائیکلوپیڈیا ’’اَلْمَوْسُوْعَةُ الْقَادِرِيَّة فِي الْعُلُوْمِ الْحَدِیْثِيَّة‘‘ جو علوم الحدیث (Principles of the Science of Hadith) پر مشتمل ہے۔ جس میں حُجِّيَّةُ الْحَدِیْث، نَشْأَةُ عُلُوْمِ الْحَدِيْث، مَعْرِفَةُ أَنْوَاعِ الْحَدِیْث، عِلْمُ مُصْطَلَحِ الْحَدِيْث، قَوَاعِدُ رِوَايَةِ الْحَدِیْث، عِلْمُ الْجَرْحِ وَالتَّعْدِيْل، تَارِيْخُ تَدْوِیْنِ الْحَدِیْث اور أَسْمَاءُ الرِّجَالِ وَالطَّبَقَات جیسے اَہم ترین موضوعات كو زیرِ بحث لایا گیا ہے۔
7۔ آپ نے کم وبیش 60 جلدوں پر مشتمل (جَامِعُ السُّنَّة فِيْمَا يَحْتَاجُ إِلَيْهِ آخِرُ الْأُمَّة) [Encyclopedia of Sunna] اُمت کو دیا ہے، جس میں عقائد و عبادات، فضائلِ اَعمال، حقوق و فرائض، اَخلاق و آداب، اَذکار و دعوات، اَمن و سلامتی اور معاملات و عمرانیات جیسے مختلف النوع جدید موضوعات کا اِحاطہ کیا گیا ہے۔
8۔ Encyclopedia of Sunna کے دوسرے حصے کا عنوان ہے: جَامِعُ الْأَحْكَام مِنْ أَحَادِيْثِ خَيْرِ الْأَنَام (اَلْأَدِلَّةُ الْحَنَفِيَّةُ مِنَ الْأَحَادِيْثِ النَّبَوِيَّة) یہ حصہ زیادہ تر اَحکام و واجبات پر مشتمل آیات و احادیث اور آثار و اقوال کا اِحاطہ کرتا ہے اور ترجیحاً فقہ حنفی کی مؤید احادیث کا عدیم النظیر ذخیرہ ہے۔
آپ حقیقی معنی میں اولیاء وسلف صالحین کے علمی، فکری اور روحانی ورثہ کے امین ہیں۔ ہم خوش نصیب ہیں کہ ان کے زمانے میں ان کی سنگت میں جی رہے ہیں
9۔ آج کے اَخلاقی اِنحطاط اور معاشرتی قدروں کے زوال کے دور ميں آپ نے اِس موضوع کی ناگزیریت کے پیشِ نظر اس پر ایک جامع کتاب ترتیب دی ہے جو اصلاحِ زندگی کے لیے نصاب ہے۔ (اَلرَّوْضُ الْبَاسِمِ مِنْ خُلُقِ النَّبيِّ الْخَاتِمِ ﷺ ) سے مُعَنْوَن 4 جلدوں پر مشتمل اس ایمان افروز کتاب میں آیاتِ بینات، اَحادیث مبارکہ، آثارِ صحابہ اور سلف صالحین کے اَقوال کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ کی سیرتِ مقدسہ اور اُسوۂ حسنہ کیا تھا؟ آپ ﷺ نے کن اَخلاقِ حسنہ کی تعلیم فرمائی اور کن اَخلاقِ سیئہ سے اِجتناب کرنے کی تلقین فرمائی۔
10۔ دورحاضر میں تصوف وطریقت اور روحانیت محض ایک مردہ رسم بن کر رہ گئی ہے۔ شیخ الاسلام نے تصوف کے علمی و عملی احیاء کا بیڑہ اٹھایا اور اصلاحِ احوالِ امت کے لئے آپ نے اس پہلو پر بھی مجددانہ نوعیت کا کام کیا ہے۔ تزکیہ و تربیتِ نفس اور روحانیات پر 5 جلدوں پر مشتمل (مِنْهَاجُ الصَّالِحِيْن) ضخیم کتاب تالیف فرمائی۔ جو اصلاحِ بندگی کے لیے نصاب ہے۔ جس میں آیاتِ بینات، اَحادیث مبارکہ، آثارِ صحابہ اور سلف صالحین کے اَقوال کی روشنی میں واضح کیا گیا ہے کہ پابندیٔ شریعت یعنی ظاہر سنوارنے کے ساتھ ساتھ تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب، نفس و روح میں للہیت و اخلاص پیدا کرنا، اور اخلاقِ حمیدہ جیسی صفات کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
طریقت و تصوف، سلوک و معرفت، اور اَخلاقی و روحانی تربیت کے مراحل کیسے طے کیے جاسکتے ہیں ۔ اس کتاب سے رویَّوں کی عمدگی، فکر، قول اور عمل میں فیّاضی اور سخاوت پیدا ہو گی، سوچ میں خیر سگالی، وسعت، اور نظافت آئے گی، کلام میں لحاظ، حیاء، رعایت، اور لطافت پیدا ہو گی ہو۔
11۔ اِسی طرح صدیوں سے وارِد شدہ اِشکال کا اِزالہ کرتے ہوئے آپ نے سیدنا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی مرویّات پر مشتمل کتاب (مُسْنَدُ الْإِمَامِ عَلِيّ عليه السلام) [مِنْ مَرْوِيَّاتِ سَيِّدِنَا عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ عليه السلام] ترتیب دی ہے، جس میں کم و بیش 12 ہزار روایات کو شامل کیا ہے۔
12۔ پھر عربی زبان میں ہی آپ کی نادر و ضخیم ’’شرحِ صحیح البخاری‘‘ ہے۔ عصرِ حاضر کے تقاضوں کے مطابق تالیف کردہ (هَدْيُ الْبَارِي فِي شَرْحِ صَحِيْحِ الْبُخَارِي) 25 جلدوں پر مشتمل ہے۔
13۔ دہشت گردی اور فتنہ خوارج کے خلاف آپ کا مبسوط تاریخی فتویٰ دنیا بھر میں قبولِ عام حاصل کر چکا ہے، جو عربی اردو انگریزی کے علاوہ متعدد زبانوں میں شائع ہو چکا ہے، اسے دنیا بھر کے محققین نے سراہا ہے۔ عالم اسلام کے سب سے بڑے تحقیقی ادارے مجمع البحوث الإسلامية (قاہرہ، مصر) نے اس کے مشتملات کی تائید کی ہے اور اس پر مفصل تقریظ بھی لکھی ہے۔
14۔ بین المسالک ہم آہنگی، بین المذاہب رواداری اور انسانی حقوق کے فروغ کے لیے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی خدمات سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔ آپ نے قیامِ اَمن اور انتہا پسندی و دہشت گردی کی بیخ کنی کے لیے اُردو، انگریزی اور عربی زبان میں 50 کتب پر مشتمل ’فروغِ اَمن اور اِنسدادِ دہشت گردی کا اِسلامی نصاب (Islamic Curriculum on Peace and Counter-Terrorism) ‘ تشکیل دیا ہے۔
15۔ علاوه ازیں شیخ الاسلام کے مختلف اِعتقادی، فکری و نظریاتی اور جدید موضوعات پر مقالا ت کا عظیم اِنسائیکلوپیڈیا عربی زبان میں 30 جلدوں میں مَجْمُوْعُ الْعُلُوْمِ وَالْأَفْكَارِ لِشَيْخِ الْإِسْلَام الدُّكْتُوْر مُحَمَّد طَاهِرُ الْقَادِرِي بھی زیرِ تکمیل ہے۔
خلاصۂ کلام
بات کرتا ہے کہ خوشبو کو بدن دیتا ہے
اس کا لہجہ تو گلابوں کو دہن دیتا ہے
کسے معلوم تھا کہ پنجاب یونیورسٹی کے زمانے 1972ء میں اولڈ کیمپس سے نیو کیمپس جاتے ہوئے یونیورسٹی بس کی چھت پر سفر کے دوران اپنی پہلی دو تصانیف (منطق شرح رسالہ ایساغوجی اور رسالہ کفر یزید) کے مسودہ کے گرنے اور ڈھونڈنے کی سرتوڑ کوشش کے بعد نہ ملنے پر شدتِ غم سے ہفتوں علیل رہنے والا نوجوان سیکڑوں نایاب اور منفرد کتب کا مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ علم، بصیرت، حکمت اور امن و محبت کا ہمالیہ بن کر انسانیت کا فخر بن جائے گا۔
اگر اس ہمہ گیر تعمیری و اصلاحی کام کا بنظرغائر جائزہ لیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ یہ تجدید و احیاء دین ہی کے سلسلہ زریں کی ایک حسین کڑی ہے۔ اُمت کے پہلے مجدد سے لے کر آج تک جتنے مصلحین و مجددین ہوئے ہیں، آپ کی شخصیت میں تمام کا فیضان نظر آتا ہے۔ جب میں تاریخ کے اوراق پرایک طائرانہ نظر ڈالتا ہوں تو مجھے عصرِ حاضر میں آپ ان اکابر اور سلف صالحین کے اوصاف کی حامل شخصیت نظر آتے ہیں، جن کے طیب نفس سے عالمِ اسلام معطر ہو رہا ہے۔۔۔ جن کی زبان قدسیہ سے صراط مستقیم کی شمعیں روشن ہو رہی ہیں۔۔۔ جن کے صالح اعمال کو دیکھ کر لوگ راہ ہدایت حاصل کر رہے ہیں۔ میرا یہ گمانِ غالب ہے کہ ان شاء اللہ! اگلے ایک ہزار سال تک اُمت کی رہنمائی کے لیے شیخ الاسلام کی فکر زندہ و تابندہ رہے گی۔ اللہ تعالیٰ آپ کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پر قائم رکھے اور ہمیں آپ کے فیوضات سے حصہ وافر عطا فرمائے۔
غوث اعظم کی امانت کا امین، طاہر ہے
اپنے طاہر کی طرح آپ حسیں، طاہر ہے
اس کی تحقیق میں انداز روانی دیکھو
دین اسلام کے چہرے پر جوانی دیکھو