تجدید واحیائے دین کا ایک عہد
تاریخ کے اَوراق گواہ ہیں کہ جب بھی اُمتِ مسلمہ فکری انتشار اور عملی جمود کا شکار ہوئی، مشیتِ الٰہی نے کسی ایسی شخصیت کو میدانِ عمل میں اتارا جس نے نہ صرف وقت کی نبض پر ہاتھ رکھا بلکہ اسے ایک نئی زندگی عطا کی۔ 17 اکتوبر 1980ء کی وہ صبح، جب شادمان لاہور کی ایک چھوٹی سی نشست سے ’تحریکِ منہاج القرآن‘ کا پودا لگایا گیا، کسی کے گمان میں بھی نہ تھا کہ یہ شجرِ طیبہ اپنی شاخیں 90 سے زائد ممالک تک پھیلا دے گا۔
آج جب مجددِ رواں صدی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری اپنی حیاتِ مبارکہ کی 75ویں بہار دیکھ رہے ہیں، تو یہ محض ایک فرد کی سالگرہ نہیں بلکہ علم کی ضیا پاشیوں، امن کی خوشبوؤں اور خدمتِ انسانیت کے اس ہمہ گیر مشن کا جشن ہے جس نے روایتی خطابت کو تحقیقی اسلوب دیا، سیاست کو ریاست کی بقا کا شعور عطا کیا اور عالمی ایوانوں میں اسلام کا پُرامن مقدمہ لڑا۔ زیرِ نظر تحریر اس عظیم الشان فکری و عملی سفر کے نمایاں سنگِ میلوں کا ایک اجمالی احاطہ ہے جو نسلِ نو کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی۔ یہ مضمون شیخ الاسلام کی حیات و خدمات اور اُن کی جملہ Achievements پر محیط نہیں ہے، بلکہ صرف چند نمایاں تاریخی واقعات و خدمات کو یکجا کیا گیا ہے۔ اگر شیخ الاسلام کی حیات، جملہ خدمات اور Achievements کو احاطہ تحریر میں لانا چاہیں تو اس کے لیے ہزاروں صفحات درکار ہوں گے۔ اس مضمون کو لکھنے کا ایک مقصد یہ بھی ہے کہ ڈیجیٹل میڈیا کے دور میں پلنے والی نسل اپنے اس عظیم علمی و تحریکی ورثے کی بنیادوں سے آگاہ ہو سکے۔
1. 17 اکتوبر 1980ء: مجددِ رواں صدی شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے شادمان لاہور سے تجدید و اِحیاے دین کے عظیم مشن ’تحریک منہاج القرآن‘ کا آغاز کیا۔ بحمد اللہ! پیغمبرانہ مشن کا یہ شجرۂ طیبہ چار دانگِ عالم میں برگ و بار لا رہا ہے اور آج دنیا کے 90 سے زائد ممالک کو اِس عالم گیر تحریک کی مشک بُو سے مہکا رہا ہے۔
2. 1980ء: منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے دروس قرآن کا آغاز کیا گیا۔
3. 22 مئی 1981ء: شیخ الاسلام کی کتاب ’’تسمیۃ القرآن‘‘ کی تقریبِ رُو نمائی جناح ہال لاہور میں منعقد ہوئی۔ الحمدللہ تعالیٰ آج ان کی 650 سے زائد کتب شائع ہوچکی ہیں۔
4. 1981ء: ’’منہاج القرآن کانفرنس‘‘ کے نام سے عوامی سطح کا پہلا پروگرام شادمان لاہور میں منعقد ہوا۔
5. 6 نومبر 1981ء: منہاج القرآن کے پہلے دستور العمل کی اِتفاقِ رائے سے منظوری ہوئی۔ بعد ازاں دستور اِرتقائی منازل طے کرتا ہوا وقتاً فوقتاً ترامیم کے مراحل سے گزرتا رہا۔ آخری مرتبہ ترامیم کے بعد 7 ستمبر 2020ء كو منہاج القرآن انٹرنیشنل کا نظرِ ثانی شدہ دستور نافذ العمل ہوا ہے۔
6. 1982ء: شیخ الاسلام کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے اپیلیٹ شریعت بنچ کا مشیرِ فقہ نامزد کیا گیا۔
7. فروری 1982ء: شیخ الاسلام نے اِتفاق مسجد لاہور میں خطباتِ جمعہ کا آغاز کیا۔ قرآنی آیات و نبوی فرمودات سے مملوّ، دلائل و براہین سے مزیّن، تدبر و تفکر کے شہ کار علمی و فکری ثقاہت و اِستناد سے آراستہ اور قدیم و جدید معارف کے حامل اِن خطبات میں آپ نے نیا ڈھنگ، اُسلوب اور لہجہ عطا کیا اور اس کے روایتی منہج کو کلیتاً تبدیل کرکے بہ اندازِ نَو پروان چڑھایا۔ آپ نے فروری 1982ء تا مارچ 1989ء سات سال مسلسل اتفاق مسجد ماڈل ٹاؤن میں خطبہ جمعہ کے فرائض سر انجام دیے۔
8. یکم جنوری 1983ء: منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے فروغِ علومِ دینیہ کے لیے قدیم و جدید علوم کے اِمتزاج پر مبنی اِتفاق اِسلامک اکیڈمی کی پہلی کلاس کا آغاز ہوا۔
9. 11 اپریل 1983ء: شیخ الاسلام نے سلسلہ وار دروسِ تصوف کا باقاعدہ آغاز کیا۔
10. 1983ء: شیخ الاسلام نے پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) کے پروگرام ’’فہم القرآن‘‘ کے تحت لیکچرز کا آغاز کیا۔
11. 8 جولائی 1983ء: تحریک منہاج القرآن کے زیرِ اِہتمام 27 رمضان المبارک 1403ھ کو پہلا سالانہ روحانی اِجتماع اتفاق مسجد لاہور میں منعقد ہوا۔
12. 2 اگست 1983ء: شیخ الاسلام نے خطبات سیرت النبی ﷺ کا سلسلہ شروع کیا۔
13. 1983ء: تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ اور مسجد کی تعمیر کے لیے ایم بلاک ماڈل ٹاؤن لاہور میں 20 کنال قطعۂ اَراضی خریدا گیا۔
14. 17 فروری 1984ء: تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ کا سنگِ بنیاد رکھنے کے لیے قدوۃ الاولیاء سیدنا طاہر علاؤ الدین القادری الجیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ کی تشریف آوری۔
15. 15 مارچ 1984ء: شیخ الاسلام نے وفاقی شرعی عدالت میں قادیانیوں کی طرف سے ’شعائر اِسلام‘ کو استعمال کرنے کی اِجازت کے مقدمہ کے اِخراج پر دلائل دیے جس پر عدالت نے 15 اگست کو قادیانیوں کا یہ کیس خارج کر دیا۔
16. جولائی 1984ء: شیخ الاسلام نے اوسلو (ناروے) کا پہلا دعوتی اور تنظیمی دورہ کیا۔ 24 جولائی کو آپ نے بین الاقوامی اِسلامی کانفرنس سے خطاب کیا اور کثیر تعداد میں مسیحی مشرّف بہ اِسلام ہوئے۔
17. 12 اکتوبر 1984ء: ’’کاروانِ اِسلام‘‘ کی تشکیل و تنظیم کی گئی۔ بعد ازاں 30 نومبر 1988ء کو منہاج القرآن یوتھ لیگ (MYL) کے نام سے قیام عمل میں لایا گیا۔
18. 12 اکتوبر 1984ء: شیخ الاسلام نے اپنی منفرد تحقیق پیش کی کہ عورت کی دیّت مرد کے برابر ہے۔ شیخ الاسلام کا یہ اِقدام اِنسانی بنیادوں پر بالعموم اور پاکستان میں بالخصوص ویمن ایمپاورمنٹ کی جانب ایک سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
19. 8 – 13 دسمبر 1984ء: متحدہ عرب اِمارات کے 5 روزہ دعوتی اور تنظیمی دورہ جات کیے۔
20. 1985ء میں صدر ضیاء الحق کی زیرِ صدارت منعقدہ قومی یکجہتی سیمینار کی آخری نشست میں جمہوری روایات کی ثقاہت اورعوام کے جماعتی، جمہوری اور اِنتخابی حقوق کے موضوع پر خطاب کیا کہ ملکی بقاء اس بات میں مضمر ہے کہ آمرانہ اِقدامات کے بجائے جمہوری انداز میں ملک کو آگے بڑھایا جائے۔
21. 1985ء: قدوۃ الاولیاء سیدنا طاہر علاؤ الدین القادری الگیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ کے صاحبزادگان نے مرکزی سیکرٹریٹ کی مسجد کا سنگِ بنیاد رکھا۔
22. 30–31 جنوری 1986ء: ادارہ منہاج القرآن کی باقاعدہ تنظیم سازی کا کام شروع ہوا۔
23. اپریل 1986ء: شیخ الاسلام امریکہ کے تبلیغی دورے کے لئے تشریف لے گئے جس کے دوران نیویارک، واشنگٹن، لاس اینجلس، بالٹی مور اور لارل میں خطابات ہوئے۔
24. 1986ء: اسی سال ڈنمارک کا پہلا تبلیغی دورہ عمل میں آیا جہاں ادارہ منہاج القرآن کی شاخ قائم کی گئی۔
25. اپریل 1986ء: جنایات اور فلسفہ عقوبات کے موضوع پر تحقیقی مقالہ لکھنے پر پنجاب یونی ورسٹی نے شیخ الاسلام کی PhD ڈگری کا نوٹی فیکیشن جاری کیا۔
26. 18 ستمبر 1986ء: جامعہ اِسلامیہ منہاج القرآن کا اِفتتاح ہوا۔
27. 1986ء: منہاج یونی ورسٹی کمپلیکس کے لیے ٹاؤن شپ (بغداد ٹاؤن) لاہور میں وسیع رقبہ پر مشتمل قطعۂ اَراضی خریدا گیا۔
28. 10 مارچ 1987ء: قدوۃ الاولیاء سیدنا طاہر علاؤ الدین القادری الگیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ نے تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ کی مسجد کا اِفتتاح فرمایا۔
29. 12 مارچ 1987ء: پہلی منہاج القرآن کانفرنس مرکزی سیکرٹریٹ کے سامنے حضور قدوۃ الاولیاء کی زیر صدارت منعقد ہوئی۔ کئی گھنٹوں پر محیط موسلا دھار بارش کے باوجود تمام حاضرین نے جم کر کانفرنس کی کارروائی سنی۔ کانفرنس میں نام ور علمی و روحانی شخصیات نے شرکت فرمائی۔ کانفرنس کی کارروائی بین الاقوامی میڈیا پر بھی نشر ہوئی۔
30. 13 مارچ 1987ء: قدوۃ الاولیاء سیدنا طاہر علاؤ الدین القادری الجیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ نے منہاج یونی ورسٹی کمپلیکس بغداد ٹاؤن کا سنگِ بنیاد رکھا۔
31. اپریل 1987ء: ماہنامہ ’منہاج القرآن‘ کا اِجراء۔ اس کا پہلا خصوصی شمارہ مارچ 1987ء میں ہونے والی ’منہاج القرآن کانفرنس نمبر‘ کے طور پر شائع ہوا۔
32. اپریل 1987ء: ڈنمارک میں عیسائی پادریوں کے ساتھ ’’قرآن اور بائبل ‘‘ کے موضوع پر مناظرہ ہوا۔ اس مناظرے میں عیسائی پادریوں نے ہاتھ اُوپر اٹھا کر اپنی شکست تسلیم کر لی اور اس کے نتیجے میں بہت سے افراد مسلمان ہوئے۔
33. 16 جولائی 1987ء: شیخ الاسلام نے جامع مسجد منہاج القرآن (جامع شیخ الاسلام) میں بروز جمعرات ہفتہ وار روحانی تربیت اور شب بیداری کا آغاز کیا۔
34. ستمبر 1987ء:ستمبر کے دوسرے ہفتے میں آپ نے یورپ، امریکہ اور برطانیہ کے تربیتی دورہ جات کئے۔ لارل، میری لینڈ (امریکہ) میں مسجد منہاج القرآن کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ دورۂ امریکہ کے دوران شیخ الاسلام سے ٹورانٹو کی مشہور علمی شخصیت ڈاکٹر کیتھ مور نے ملاقات کی۔ ڈاکٹر کیتھ مور نے رحمِ مادر میں تخلیقِ اِنسانی کے قرآنی مراحل کو جدید سائنس سے ثابت کیا تھا۔
35. 9 اکتوبر 1987ء: منہاج القرآن علماء کونسل کا قیام عمل میں لایا گیا۔
36. یکم جنوری 1988ء: شیخ الاسلام نے منہاج یونی ورسٹی نیو کیمپس کی عمارت کا سنگِ بنیاد رکھا۔
37. 5 جنوری 1988ء: عصرِ حاضر کے چیلنجز کے پیش نظر خواتین کے کردار کی اہمیت اور انہیں ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کے لیے شیخ الاسلام نے منہاج القرآن ویمن لیگ (MWL) کی بنیاد رکھی۔
38. 12 تا 15 اپریل 1988ء: اِنٹرنیشنل مسلم لائرز فورم کے زیرِ اِہتمام شیخ الاسلام کے ’’خطباتِ لاہور‘‘ ہوئے۔ اِس سیریز میں اسلام اور جدید سائنسی تحقیقات، اسلام اور جدید تصور قانون، اسلام اور تصور معیشت، اسلام اور سائنسی تحقیقات کے متعلق موضوعات کا اِحاطہ کیا گیا۔
39. 19 جون 1988ء: تجدید و اِحیاء دین کے کام کو عالمی سطح پر فروغ دینے کے لیے لندن میں منہاج القرآن انٹرنیشنل اِسلامک کانفرنس المعروف ویمبلے کانفرنس منعقد کی گئی، جس میں پوری دنیا سے کثیر تعداد میں علماء و مشائخ اور اسکالرز نے شرکت کی۔ اس موقع پر ’الاتحاد العالمی الاسلامی‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔
40. 24 ستمبر 1988ء: میں شیخ الاسلام نے مرزا طاہر احمد قادیانی کے مباہلہ کا چیلنج قبول کرتے ہوئے اسے مینارِ پاکستان لاہور کے مقام پر ایک کھلے خط کے ذریعے دعوت دی۔ 24 ستمبر 1988ء کو مینارِ پاکستان لاہور میں آل پاکستان ختمِ نبوت کانفرنس منعقد کی گئی، جس کی صدارت قدوۃ الاولیاء سیدنا طاہر علاؤ الدین القادری الگیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ نے کی۔ تمام مکاتبِ فکر کےعلماء نے اس کانفرنس میں حصہ لیا۔ اِتمامِ حجت کے لیے مرزا طاہر احمد قادیانی کا فجر تک اِنتظار کیا گیا۔
41. 25 مئی 1989ء: ملک گیر سطح پر بیداریِ شعور کی مہم کے آغاز اور عملی سیاست میں حصہ لینے کے لیے تاسیسِ اِنقلاب کانفرنس میں پاکستان عوامی تحریک کے قیام کا اِعلان کیا گیا۔ شیخ الاسلام نے تاریخی خطاب فرمایا اور تیس نکاتی منشور دیا گیا۔
42. 17 اکتوبر 1989ء: شیخ الاسلام نے فلاحِ عامہ اور رفاہی منصوبہ جات کے لیے منہاج ویلفئیر فاؤنڈیشن کے قیام کا اِعلان کیا۔
43. 10 جنوری 1990ء: پاکستان عوامی تحریک اور تحریک نفاذِ فقہ جعفریہ کے مابین اِشتراکِ عمل کا اِعلان ہوا اور دس نکاتی ’اِعلامیہ وحدت‘ جاری کیا گیا۔
44. 22 اپریل 1990ء: مجموعی طور پر آٹھواں سالانہ جب کہ جامع المنہاج بغداد ٹاؤن میں پہلا سالانہ روحانی اجتماع منعقد ہوا، جس میں شیخ الاسلام نے انتہائی رِقت آمیز خطاب فرمایا۔
45. 13 دسمبر 1990ء تا 21 جنوری 1991ء: شیخ الاسلام نے اپنی رہائش گاہ پر 40 روزه خلوت نشینی اِختیار کی، جس میں ایک کتاب ’ تذکرے اور صحبتیں‘ تالیف کی اور قرآن حکیم کے اُردو ترجمہ ’عرفان القرآن‘ کا آغاز کیا۔ بتوفیقہٖ تعالیٰ تفسیری شان کا حامل یہ جدید ترین اور عام فہم ترجمۂ قرآن آج دنیا کی 12 زبانوں میں طبع ہوچکا ہے۔
46. 7 جون 1991ء: قدوۃ الاولیاء سیدنا طاہر علاؤ الدین القادری الگیلانی البغدادی رضی اللہ عنہ کا فرینکفرٹ (جرمنی) میں وصال ہوا۔ 8 جون 1991ء کو شیخ الاسلام نے کراچی میں حضور قدوۃ الاولیاء رضی اللہ عنہ کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔ حضور قدوۃ الاولیاء رضی اللہ عنہ کو بغداد ٹاؤن لاہور میں سپردِ خاک کیا گیا۔
47. 26 جولائی تا 19 اگست 1991ء: شیخ الاسلام نے ڈنمارک، ناروے، ہالینڈ، بیلجیم، جرمنی اور برطانیہ کا کامیاب دعوتی اور تنظیمی دورہ کیا۔ فرینکفرٹ (جرمنی) میں عظیم الشان منہاج القرآن کانفرنس منعقد ہوئی اور برطانیہ کے 11 شہروں میں منہاج القرآن کی تنظیمات قائم کی گئیں۔
48. 28 جولائی 1991ء: اسکینڈے نیویا میں شیخ الاسلام کی زیرِ صدارت عظیم الشان منہاج القرآن کانفرنس منعقد ہوئی جس میں آپ نے ’اِسلام اور سائنس‘ کے اَہم موضوع پر خصوصی خطاب فرمایا۔
49. دسمبر 1991ء: خواتین کی تعلیم و تربیت، اِصلاحِ اَحوال اور فکری راہ نُمائی کے لیے تحریک منہاج القرآن کے پلیٹ فارم سے ماہ نامہ ’دُخترانِ اِسلام‘ کا باقاعدہ اِجراء کیا گیا۔
50. جنوری 1992ء: شیخ الاسلام نے ابوظہبی ٹی۔ وی کے لیے دینی و علمی اور جدید موضوعات پر 30 لیکچرز ریکارڈ کروائے۔ یہ پروگرام رمضان المبارک میں ابو ظہبی ٹی۔ وی پر نشر ہوئے۔
51. 30 مئی 1992ء: شیخ الاسلام کی سربراہی میں 22 رُکنی وفد دورۂ افغانستان پر روانہ ہوا جس کا مقصد افغان عوام کے مسائل کاحل اور باہمی اِختلافات کا خاتمہ تھا۔ شیخ الاسلام کی افغانستان کے صدر پروفیسر برہان الدین ربانی سے ملاقات ہوئی، جس میں افغانستان میں قیامِ اَمن کی حکمتِ عملی پر غور و خوض اور مشاورت ہوئی۔
52. 7 اکتوبر 1992ء: تاریخی بلا سود بنکاری کانفرنس بہ مقام موچی دروازہ لاہور منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں شیخ الاسلام نے تمام مذہبی اور سیاسی جماعتوں کے زُعماء اور صحافتی نمائندگان کی موجودگی میں بلاسود بنکاری اور اِسلامی نظامِ معیشت کا خاکہ پیش کیا۔ آپ نے اُس وقت تقریباً سو ایسے مالیاتی اداروں اور بنکوں کا حوالہ دیا جو غیر سودی بنیادوں پر کام کر رہے تھے۔
53. 17 اکتوبر 1992: شیخ الاسلام نے منہاج اِنسٹی ٹیوٹ آف کمپیوٹر سائنسز کا اِفتتاح کیا۔ یہ پاکستان کے مذہبی تعلیمی اِداروں میں اپنی نوعیت کا پہلا اِنسٹی ٹیوٹ تھا جو شیخ الاسلام کے دور رس وِژن کا عکاس تھا۔
54. 20 دسمبر 1992ء: شیخ الاسلام نے دبئی ٹی۔ وی کے لیے ماہِ رمضان المبارک کی مناسبت سے آدھ گھنٹہ دورانیے کے تیس لیکچرز ریکارڈ کروائے، جن کا موضوع Reflections of Qur’an from Sura al-Fatiha تھا۔
55. اپریل 1993ء: شیخ الاسلام نے جنوبی افریقہ کا پہلا دورہ کیا۔ 6 اپریل کو ڈربن یونی ورسٹی میں لیکچر کے روز آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا، لیکن بحمد اللہ حملہ آوروں کو ہدایت نصیب ہوگئی اور انہوں نے خود سازشی عناصر کا مقابلہ کیا۔ تقابلِ اَدیان کے ماہر اور نامور مسلمان مبلغ احمد دیدات بھی آپ کا لیکچر سننے کے لیے تشریف لائے تھے۔
56. 22 جولائی1993ء: شیخ الاسلام کی خصوصی کاوشوں سے منہاج القرآن ڈنمارک میں مسلمان سُفراء کا اِجلاس منعقد کیا گیا۔ جس میں سابق صدر افغانستان صبغت اللہ مجددی نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔
57. جنوری 1994ء: شیخ الاسلام کی خصوصی کاوشوں کی بدولت یونی ورسٹی گرانٹس کمیشن آف پاکستان نے جامعہ اِسلامیہ منہاج القرآن کے تعلیمی وتربیتی معیار کا اِعتراف کرتے ہوئے الشهادة العالمية کی سند کو ایم۔ اے عربی و علومِ اِسلامیہ کے برابر قرار دے دیا۔
58. 16 اپریل 1994ء: ناخواندگی کے خاتمے اور فروغِ علم کے لیے پاکستان بھر میں عوامی تعلیمی مراکز قائم کیے جانے کا فیصلہ ہوا۔ نیز شیخ الاسلام نے منہاج ایجوکیشن سوسائٹی قائم کی جس کے زیر اہتمام ملک بھر میں تاحال 610 اسکول اور کالج قائم کیے جاچکےہیں۔ شیخ الاسلام نے برسوں قبل اِس عزم کا اِظہار فرمایا تھا: سرسید نے ایک علی گڑھ دیا تھا، میں قوم کو 100 علی گڑھ دوں گا۔
59. 10 جون 1994ء: جنوبی افریقہ میں تحریک منہاج القرآن اور اَہلِ سنت و جماعت کے زیرِ اِہتمام شیخ الاسلام کے اِعزاز میں ایک پُروقار تقریب کا اِنعقاد کیا گیا، جس کے مہمانِ خصوصی وزیرِ اَعظم ساؤتھ افریقہ تھے۔ شیخ الاسلام اور وزیر اعظم کے مابین افریقی پرچم اور پاکستان عوامی تحریک کے پرچم کا تبادلہ کیا گیا۔ افریقی اَخبارات اور میڈیا نے آپ کے دورے کو بھر پور کوریج دی اور اَخبارات نے اِستقبالیہ کی شہ سرخیاں لگائیں۔
60. 2–5 ستمبر 1994ء: پیرس میں خریدے گئے منہاج القرآن اِسلامک سنٹر کے اِفتتاح کے لیے شیخ الاسلام فرانس تشریف لے گئے۔ اِس دوران فرانسیسی زبان میں ترجمہ ہونے والی آپ کی تین کتب کی تقریب رُونمائی بھی منعقد ہوئی جس میں آپ نے خصوصی شرکت کی۔ نیز اسی دورہ میں 5 ستمبر کو دنیاے اِسلام کے عظیم اسکالر ڈاکٹر محمد حمید اللہ نے منہاج القرآن فرانس کے مرکز میں شیخ الاسلام سے ملاقات کی۔
61. 6 اکتوبر 1994ء: شیخ الاسلام نے طلبہ و طالبات کی راہ نُمائی اور اُنہیں شعورِ مقصدیت دینے کے لیے مصطفوی سٹوڈنٹس موومنٹ (MSM) کے قیام کا تاریخ ساز اِعلان کیا۔
62. 18 اکتوبر 1994ء: شیخ الاسلام جاپان کے پہلے گیارہ روزہ دورے پر تشریف لے گئے۔
63. 20 اکتوبر 1994ء: 130 سالہ معمر بزرگ مردِ قلندر سید رسول شاہ خاکیؒ، جو آپ کو ’شیخ الاسلام‘ پکارا کرتے تھے، کی وصیت کے مطابق شیخ الاسلام نے اُن کی نمازِ جنازہ پڑھائی۔
64. 11 مارچ 1995ء: شیخ الاسلام نے بغرضِ علاج اسکاٹ لینڈ میں قیام کے دوران جدید ترین تحقیق پر مبنی تخلیقی شاہ کار Qur’an on Creation and Evolution of the Universe تالیف کیا۔ جس پر 12 مارچ کو عالمی شہرت یافتہ سائنس دان ڈاکٹر کیتھ ایل۔مور (ٹورانٹو یونی ورسٹی) نے آپ کی کاوِش کو سراہتے ہوئے کہا کہ ’جو کام میں برسوں کی تحقیق کے بعد نہ کر سکا وہ آپ نے صرف 12 دن میں پایۂ تکمیل کو پہنچا کر ایک عظیم کارنامہ سرانجام دیا ہے۔ ‘
65. 31مئی1995 ء: شیخ الاسلام اپنے پہلےدس روزہ دعوتی و تنظیمی دورے پر کینیڈا تشریف لے گئے۔
66. 30 اگست 1995ء: شیخ الاسلام 15 روزہ دورے پر اُردن اور عراق تشریف لے گئے۔ حکومتِ عراق نے آپ کو ساتویں مؤتمر الاسلامی الشعبی العالمی میں شرکت کے لیے خصوصی طور پر دعوت دی تھی۔
67. فروری 1996ء: شیخ الاسلام نے رؤیتِ ہلال کے مسئلہ پر علمی دلائل سے بھرپور مبسوط تحقیق جاری کی، جس کا عنوان تھا: فَصْلُ الْمَقَال فِي رُؤيَةِ الْهِلَال یہ اِسلامی ممالک کی جملہ رؤیتِ ہلال کمیٹیوں کے لیے جدید سائنسی تحقیقات کی روشنی میں معتمد ترین راہ نُمائی تھی۔
68. 28 جولائی 1996ء: سالانہ عالمی میلاد کانفرنس لاہور میں منعقد ہوئی۔ شیخ الاسلام بغرضِ علاج فرانس میں قیام پذیر تھے۔ آپ نے بذریعہ ٹیلی فون محفلِ میلاد کے شرکاء سے خطاب کیا۔ اڑھائی گھنٹوں پر مشتمل یہ خطاب پاکستان سمیت یورپ اور امریکہ کے بیشتر ممالک میں بیک وقت سنا گیا۔ ان واقعات سے اندازہ ہوتا ہے کہ خدمتِ اِسلام کے باب میں جدید ٹیکنالوجی کے اِستعمال کے لحاظ سے تحریک منہاج القرآن ہمیشہ پیش پیش رہتی ہے اور راہ نُما کی حیثیت سے دیگر معاصر تحریکوں پر فوقیت رکھتی ہے۔
69. 6–10 مئی 1997ء: شیخ الاسلام ہندوستان کے پہلے دعوتی اور تنظیمی دورہ پر تشریف لے گئے۔ بعدازاں 9 مئی کو شیخ الاسلام کا حیدر آباد دکن میں تاریخی استقبال ہوا۔ 10 مئی کو تحریک منہاج القرآن حیدر آباد دکن کا باقاعدہ قیام عمل میں آيا۔ آپ نے حیدر آباد دکن کی مشہور جلسہ گاہ خلوت میدان میں لاکھوں کے اِجتماع سے خطاب کیا۔ آپ کے اس دورہ کے میزبان انڈیا کے معروف مسلمان لیڈر اور ممبر پارلیمنٹ صلاح الدین ایوبی تھے۔
70. 6 فروری 1998ء: شیخ الاسلام ’المؤتمر العالمی الاسلامی الشعبی‘ کی سالانہ اسلامی کانفرنس میں شرکت کے لیے 4 رکنی وفد کے ہمراہ عراق پہنچے۔ تنظیم کی مجلسِ عاملہ نے آئندہ دورانیہ کے لیے آپ کو صدارت کا منصب پیش کیا۔
71. 18 مارچ 1998ء: ’پاکستان عوامی اِتحاد‘ قائم ہوا، جس میں PPP سمیت اکثر سیاسی جماعتوں نے شیخ الاسلام کی قیادت پر اِعتماد کا اظہار کیا اور آپ کو اس اتحاد کا صدر منتخب کیا۔ پاکستان عوامی اِتحاد کا اعلامیہ پیش ہوا جسے ’اسلامک سوشل آرڈر‘ کا نام دیا گیا۔ اس اِتحاد میں پاکستان پیپلز پارٹی سمیت کل 19 جماعتیں شامل تھیں اور بے نظیر بھٹو، نوابزادہ نصر اللہ، جنرل (ر) اسلم بیگ، حامد ناصر چٹھہ اور دیگر اَہم سیاسی قائدین شامل تھے۔
72. 15 اکتوبر 1998ء: جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن سے فارغ التحصیل طلبہ کے نمائندہ فورم ’منہاجینز‘ کا قیام عمل میں آیا اور شیخ الاسلام کی زیر صدارت اِس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔
73. 2–7 فروری 2001ء: شیخ الاسلام نے بلدیاتی اِنتخاب کے سلسلہ میں ملک گیر دورے کیے۔ ان اِجتماعات سے خطابات فرمائے۔ ان اِجتماعات میں سیکڑوں سیاسی و سماجی شخصیات نے آپ کے اِصلاحاتی ایجنڈے کی حمایت کرتے ہوئے پاکستان عوامی تحریک میں شمولیت کی۔
74. 13 مئی 2001ء: شیخ الاسلام نے امریکہ میں منعقدہ ایک سیمینار میں ’جنوبی ایشیا میں قیامِ اَمن اور پاکستان کا کردار‘ کے موضوع پر خصوصی خطاب کیا۔
75. 17 مئی 2001ء: ٹورانٹو کینیڈا میں ’پاکستان میں جمہوریت کیوں دیرپا نہیں ہوتی؟‘ کے عنوان سے منعقدہ ایک بڑے سیمینار سے خطاب کیا۔
76. 15 مارچ 2002ء: تحریک منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ پر 9 نومبر 1998ء کو مسلم کرسچن ڈائیلاگ فورم (MCDF) کا قیام عمل میں لایا گیا تھا، تاکہ مختلف مذاہب کے پیروکاروں کو ایک دوسرے کے قریب لاکر بین المذاہب رواداری کو فروغ دیا جاسکے۔ اسی تسلسل میں 15 مارچ 2002ء کو مسلم کرسچن ڈائیلاگ فورم کے تحت 40 افراد کا ایک وفد شیخ الاسلام سے ملنے کے لیے مرکزی سیکرٹریٹ آیا۔ اس موقع پر مسیحی وفد کے لئے جامع مسجد منہاج القرآن کے دروازے کھول دیے گئے اور سنت نبوی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے انہیں مسجد میں اپنے طریقے سے عبادت کرنے کی اجازت دی گئی۔ بعد ازاں اس فورم کو بین المذاہب تعلقات کا درجہ دے دیا گیا۔
77. ستمبر 2002ء: پاکستان عوامی تحریک نے ملک پاکستان کو صاف و شفاف اور کردار کی حامل اَہل قیادت دینے کے لیے اِنتخابات میں بھرپور حصہ لیا۔ پاکستان کے بیشتر حلقہ ہاے اِنتخاب میں امیدوار نامزد کیے، جن کی اَہلیت کا واحد معیار اُن کا کردار اور جذبۂ حب الوطنی تھا۔ شیخ الاسلام نے ملک بھر کا طوفانی دورہ کیا۔ یہ بھی ایک ریکارڈ ہے کہ آپ نے ایک دن میں 20 مختلف اِجتماعات سے خطابات کیے اور ایک ہی روز میں مختلف مقامات پر 40 پارٹی دفاتر کا اِفتتاح کیا۔ آپ نے عوامی تحریک کا فلاحی و معاشی فکر پر مبنی منشور پیش کیا اور عامۃ الناس کے حقوق کا شعور بیدار کیا۔ نیز اُنہیں پاکستان میں رائج فرسودہ نظام کو بدلنے کا شعور بھی دیا۔
78. 15 مئی 2003ء: شیخ الاسلام کی اِنسدادِ دہشت گردی اور قیامِ اَمن کے لیے علمی و فکری اور عملی کاوشوں کا اِعتراف برطانوی دار العوام (House of Commons) کی ڈیفنس کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں کیا۔ یہ رپورٹ برطانوی دار العوام کی کارروائی کا حصہ ہے۔
79. 6 اگست 2003ء: منہاج القرآن اِنٹرنیشنل لندن سیکرٹریٹ میں سابق وزیر اعظم مرحومہ بے نظیر بھٹو نے شیخ الاسلام سے ملاقات کی اور تحریک منہاج القرآن کی ہمہ جہت دینی خدمات سے متاثر ہو کر تحریک منہاج القرآن کی تاحیات رفاقت اِختیار کی۔
80. 16–22 مارچ 2004ء: شیخ الاسلام 7 روزہ تبلیغی اور تنظیمی دورہ کے سلسلہ میں بنگلہ دیش روانہ ہوئے اور 20 مارچ 2004ء کو سلہٹ میں تاریخی ’شانِ رسالت ﷺ کانفرنس‘ سے خصوصی خطاب فرمایا۔ اس کانفرنس میں سید یوسف ہاشم الرفاعی کے علاوہ بنگلہ دیش اور انڈیا سے جلیل القدر علماء کرام نے شرکت کی۔ اس دوران تحریک منہاج القرآن بنگلہ دیش کا قیام بھی عمل میں آیا۔
81. 29 ستمبر 2004ء: انڈیا میں حیدر آباد دکن، اجمیر شریف اور دہلی کے 13روزہ دورہ پر روانہ ہوئے۔ اس دورہ کے دوران آپ نے حیدر آباد دکن میں مختلف مقامات پر لاکھوں کے اجتماعات سے خطابات فرمائے۔ اِسلامیانِ ہند کی آپ سے عقیدت و محبت دیدنی تھی۔
82. 15 اکتوبر 2004ء: صدر مشرف کے دو عہدے رکھنے کے بل کی منظوری سے اِختلاف کرتے ہوئے قومی اسمبلی کے اِجلاس کے دوران بھرپور انداز میں اپنا مؤقف پیش کیا اور اسمبلی کی رکنیت سے استعفی دے دیا، جسے محبِ وطن طبقات اور دانش وروں میں بے حد پذیرائی حاصل ہوئی۔
83. دسمبر 2005ء: شیخ الاسلام نے مرکزی سیکرٹریٹ پر قائم ہونے والے گوشۂ درود و فکر کے اَوّلین گوشہ نشینوں سے ملاقات فرمائی۔
84. فروری 2006ء: توہین آمیز خاکوں کی اِشاعت کی مذمت میں شیخ الاسلام کی ہدایت پر دنیا بھر ميں تحریک منہاج القرآن کی تنظیمات نے پُراَمن اِحتجاج ریکارڈ کروایا۔ اسلامی ممالک کی تنظیم (OIC)، اقوام متحدہ (UN) کے دفاتر، اور مختلف ممالک کے سفارت خانوں ميں یادداشتیں پیش کی گئیں۔
85. 13 اپریل 2006ء: ایوانِ اِقبال لاہور میں ترجمہ عرفان القرآن کی تقریب رُونمائی منعقد ہوئی، جس میں بلادِ شام سے تشریف لائے ہوئے معزز شیوخ محترم الشیخ الدکتور محمود ابو الہدی الحسینی، الشیخ اسعد محمد سعید الصاغرجی، الشیخ الدکتور شہاب الدین احمد الفرفور اور پاکستان سے جید علماء و مشائخ نے شرکت کی۔
86. 9 اپریل 2009ء: شیخ الاسلام نے لاہور میں منعقدہ قومی اَمن کانفرنس سے نہایت فکری گفت گُو فرمائی۔ اس موقع پر قومی امن کونسل تشکیل دی گئی جس کا چئیرمین شیخ الاسلام کو بنایا گیا، جبکہ ملک پاکستان کی تمام اہم سیاسی جماعتوں، فلاحی تنظیمات اور بار کونسلز کے نمائندگان کو اس کا ممبر بنایا گیا۔
87. 27 جنوری 2011ء: شيخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ورلڈ اِکنامک فورم ڈیوس کے سالانہ اِجلاس میں شرکت کی اور ’عالمی رُجحانات اور چیلنجز میں مذہب کا کردار‘ کے موضوع پر مدلّل گفت گُو کی۔ جان چپ مین (John Chipman) ڈائریکٹر جنرل اِنٹرنیشنل اِنسٹی ٹیوٹ فار اسٹریٹجک اسٹڈیز (IISS) نے شیخ الاسلام کے دہشت گردی کے خلاف تاریخی فتویٰ کا تعارف اور عالمی سطح پر اس کے اَثرات کو بیان کیا۔
88. 9 اپریل 2011ء: تحریک منہاج القرآن کے زیرِ اہتمام ’بیداریِ شعور ورکرز کنونشن‘ منعقد ہوا۔ شیخ الاسلام نے ولولہ انگیز خطاب فرمایا۔ آپ نے کارکنوں کو پاکستان میں رائج فرسودہ نظامِ اِنتخاب کی خامیوں سے آگاہ کیا اور نظام کی تبدیلی کے لیے ملک بھر میں عامۃ الناس میں شعور و آگاہی کی پُراَمن منظم مہم چلانے کی ہدایات فرمائیں۔
89. 12–14 اپریل 2011ء: US اِسلامک ورلڈ فورم اور OIC کے مشترکہ اِجلاس منعقدہ واشنگٹن ڈی۔ سی میں شیخ الاسلام نے خصوصی شرکت فرمائی۔ آپ نے عالمی راہ نُماؤں کو دہشت گردی کے اَسباب، تدارک اور اِس بابت اِسلام کی پُراَمن تعلیمات کے حوالے سے جامع و مانع بریفنگ دی۔
90. جولائی/اگست 2011ء: شیخ الاسلام نے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کا دورہ کیا۔ 11 جولائی 2011ء کو شیخ الاسلام نے ’دہشت گردی اور اِنتہا پسندی کے اَسباب اور تدارک‘ کے موضوع پر آسٹریلیا میں نیو ساؤتھ ویلز پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔ آپ کو خطاب کے لیے آسڑیلوی ممبر پارلیمنٹ شوکت موسلمانی نے دعوت دی تھی۔ آسٹریلوی حکومت کے وُزراء، سیاست دانوں اور اَہم مذہبی اور سماجی شخصیات نے آپ کا لیکچر سنا۔۔۔ اس دورہ کے دوران دار الفتویٰ آسٹریلیا کے عرب علماء و مشائخ نے شیخ الاسلام کے اِعزاز ميں عشائیہ دیا اور آپ کی علمی، دینی اور فکری خدمات سے آگاہی حاصل کی اور آپ کی خدمات کو سراہا۔۔۔ اس موقع پرمفتی اعظم آسٹریلیا شیخ تاج الدین ہلالی کی دعوت پر علماء و مشائخ کانفرنس میں خصوصی شرکت کی اور خطاب فرمایا۔۔۔ 16 جولائی 2011ء کو منہاج القرآن انٹرنیشنل آسڑیلیا کے زیرِ اِہتمام ’اَمن کانفرنس‘ سڈنی میں منعقد ہوئی۔ شیخ الاسلام نے ’اَمن اور باہمی یک جہتی‘ کے موضوع پر انگلش میں خطاب فرمایا۔ پروگرام میں مختلف مذاہب کے ہزارہا لوگوں نے شرکت کی۔ خطاب کے بعد تمام شرکا نے کھڑے ہو کر آپ کو شاندار و باوقار خراجِ تحسین پیش کیا۔
91. 20 جولائی 2011ء کو سابق آسٹریلوی وزیرِ اَعظم باب ہاک نے شيخ الاسلام سے ملاقات کی اور دہشت گردی اور خود کش حملوں کے خلاف فتویٰ پر تبادلہ خیال کیا۔
92. 24 ستمبر 2011ء: منہاج القرآن اِنٹرنیشنل برطانیہ کے زیرِ اِنتظام ویمبلے ارینا لندن میں ’اَمن برائے اِنسانیت‘ کے عنوان سے عالمی کانفرنس کا اِنعقاد کیا گیا، جس میں شمالی اَمریکہ، جنوبی افریقہ، یورپ اور دنیا کے تمام خطوں سے مسلم، عیسائی، یہودی، ہندو مت، بدھ مت، سکھ مت اور دیگر مذاہب کے اسکالرز، مؤثر شخصیات اور پیروکاروں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے اِختتام پر 6 مذاہب کے شریک راہ نُماؤں نے دنیا میں اَمن کے قیام اور دہشت گردی و اِنتہاء پسندی کے خلاف 24 نکاتی قراداد منظور کی جسے لندن ڈیکلیریشن کا نام دیا گیا۔
93. 30 نومبر تا 2 دسمبر 2011ء: ترکی میں اِستنبول اَمن کانفرنس میں شیخ الاسلام نے خصوصی شرکت کی اور خطاب فرمایا۔ کانفرنس کا اِہتمام واشنگٹن ڈی سی کی جارج میسن یونی ورسٹی کے Center for World Religions Diplomacy & Conflict Resolution اور استنبول کی Institute of Middle East Studies, Marmara University نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ کانفرنس کا موضوع ’افغانستان کا پُراَمن مستقبل‘ تھا۔ کانفرنس کے مہمانانِ گرامی میں او آئی سی کے سیکرٹری جنرل اکمل الدین احسان اوگلو، جامعۃ الازہر مصر کے وائس چانسلر ڈاکٹر اُسامہ العبد، مفتی آف بوسنیا شیخ ڈاکٹر مصطفیٰ کرک، شیخ ہشام کبانی، افغان اسکالرز، شیوخ اور مختلف ممالک کے تھنک ٹینکس شامل تھے۔
94. 22 فروری 2012ء: ’دہشت گردی اور فتنہ خوارج‘ فتویٰ کی تقریب رونمائی دہلی میں منعقد ہوئی۔ شیخ الاسلام نے خصوصی خطاب فرمایا اور میڈیا کے نمائندگان سے گفت گو کی۔ اس تقریب میں انڈیا کی اہم سیاسی و سماجی شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔
95. فروری–مارچ 2012ء: شیخ الاسلام نے اپنے دورۂ انڈیا کے دوران مختلف مقامات (دہلی، ممبئی، گجرات، بنگلور، حیدر آباد دکن، اجمیر شریف) پر عظیم الشان اجتماعات سے خطابات کیے۔ جن میں لاکھوں مسلمانانِ ہند نے شرکت کی۔ انڈین میڈیا رپورٹس کے مطابق صرف بنگلور میں 20 لاکھ لوگوں نے اجتماع میں شرکت کی جب کہ حیدرآباد دکن میں ہونے والے آپ کے خطاب کو 10 کروڑ لوگوں نے ٹی وی چینلز کے ذریعے سنا تھا۔ شیخ الاسلام نے انڈیا میں کئی امن کانفرنسز میں بھی شرکت کی اور دہشت گردی اور فتنہ خوارج پر ان کے مشہورِ زمانہ فتویٰ کی تقریبِ رُونمائی بھی منعقد کی گئی۔
96. 20 مارچ 2012ء: شیخ الاسلام کے دورۂ انڈیا کے اِختتام پر ڈپٹی چئیرمین راجیہ سبھا کے رحمٰن خان نے تاریخی دورۂ بھارت کی کامیابی اور آپ کی خدمات کے اِعتراف میں اپنی رہائش گاہ پر عشائیہ کا اہتمام کیا۔ اس تقریب ميں کانگریس کی صدر سونیا گاندھی کے سیاسی مشیر احمد پٹیل، کانگریسی لیڈر موتی لال ووہرا، مرکزی وزیر فاروق عبداللہ، پاکستان کے ہائی کمشنر شاہد ملک، دور درشن کے ڈائریکٹر جنرل ایس ایم خان، مولانا محمود مدنی (ایم پی)، اظہر الدین (ایم پی)، شفیق الرحمن برق (ایم پی) اور دیگر اہم سیاسی و سماجی شخصيات نے شرکت کی۔ شیخ الاسلام نے اپنے اس دورۂ بھارت کے دوران مختلف ٹی۔ وی چینلز، اخبارات اور جرائد کو خصوصی انٹرویوز دیے اور پریس کانفرنسوں سے بھی خطاب کیا۔
97. 14 اپریل 2012ء: منہاج القرآن انٹرنیشنل امریکہ کے ذیلی ڈیپارٹمنٹ ’پیس اینڈ انٹیگریشن کونسل آف نارتھ امریکہ (PICNA)‘ اور یونیورسٹی آف ساؤتھ کیرولینا کے ریلیجیس ڈپارٹمنٹ کے زیر اہتمام ’اِسلام اور اَمن‘ کے عنوان سے عظیم الشان کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں شیخ الاسلام نے خصوصی شرکت اور خطاب کیا۔ اس کانفرنس کے انعقاد میں ’انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف ریلیجس فریڈم (IARF)‘، ’انٹرفیتھ پارٹنرز آف ساؤتھ کیرولینا (IPSC)‘، ’اسلامک سٹڈیز اینڈ ریسرچ ایسوسی ایشن (ISRA)‘، ’ساؤتھ کیرولینا یونی ورسٹی اسکول آف لاء‘ اور ’واکر انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل اینڈ ایریا اسٹڈیز‘ نے خصوصی تعاون اور اہم کردار ادا کیا۔
98. 15 اپریل 2012ء: منہاج القرآن انٹرنیشنل امریکہ کے ذیلی شعبہ’پیس اینڈ اینٹیگریشن کونسل آف نارتھ امریکہ (PICNA)‘ کے زیر اہتمام دوسری عظیم الشان کانفرنس بعنوان ’مقامِ مصطفی ﷺ ‘ ساؤتھ کیرولینا میں منعقد ہوئی۔ جس میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے خصوصی خطاب کیا۔
99. 3 جون 2012ء: شمالی امریکہ کے مسلمانوں کی ایسوسی ایشن (AMNA) اور ’منہاج القرآن انٹرنیشنل امریکہ‘ کے زیرِ اِہتمام عظیم الشان اَمن برائے اِنسانیت اور میلاد النبی ﷺ کانفرنس ناساؤ کولیزیم نیو یارک میں منعقد ہوئی۔ شیخ الاسلام نے خصوصی خطاب فرمایا۔ اس پروگرام میں امریکہ بھر سے 22 ہزار سے زائد شرکاء نے حاضری دی۔ یہ اَمر قابلِ ذکر ہے کہ یہ امریکی تاریخ کی سب سے بڑی میلاد کانفرنس تھی۔
100. 23 دسمبر 2012ء: ’سیاست نہیں – ریاست بچاؤ‘ کے بامقصد اور حقیقت پر مبنی نعرہ کے ساتھ شیخ الاسلام کی پاکستان واپسی ہوئی۔ لاہور کے تاریخی مقام مینار پاکستان کے سبزہ زار میں آپ کا والہانہ اور تاریخی استقبال کیا گیا۔ پاکستان کی پوری تاریخ میں چشمِ فلک نے مینارِ پاکستان کے سائے تلے اِتنا عظیم الشان اِجتماع نہیں دیکھا۔ لاکھوں اَہلیانِ پاکستان کے اس اجتماع سے آپ نے خطاب کرتے ہوئے آئین پاکستان کی پہلی 38 شقوں کی روشنی میں عوام کو حاصل حقوق بیان کیے اور ثابت کیا کہ اب تک ان حقوق ميں سے ایک حق سے بھی کما حقہ عوامِ پاکستان کو مستفید ہونے کا موقع نہیں دیا گیا۔ اس موقع پر آپ نے اپنے مطالبات منظور نہ ہونے کی صورت ميں اسلام آباد کی طرف اِحتجاجی لانگ مارچ کی کال بھی دی۔
101. 13–17 جنوری 2013ء: نظامِ انتخاب ميں اِصلاحات اور 23 دسمبر کے جلسۂ عام میں کیے گئے مطالبات کی منظوری کے لیے اسلام آباد کی طرف عوامی مارچ اور تاریخی دھرنا۔ اس دھرنا کے دوران شیخ الاسلام نے سیاسی و اِنتخابی اِصلاحات پر مبنی فکر انگیز خطابات کیے، جن میں آپ نے آئین پاکستان کے حوالہ سے عوامِ پاکستان کو اُن کے حقوق کا شعور دیا، پاکستان کے نظامِ انتخاب اور نظامِ حکومت میں پائی جانے والی خامیوں کی نشان دہی کی۔ الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے آپ کا دیا گیا یہ شعور کروڑوں پاکستانی عوام تک پہنچا۔
102. 15 فروری 2013ء: اِسلام آباد لانگ مارچ کے بعد شیخ الاسلام نے کرپٹ نظامِ حکمرانی کو مزید طشت اَز بام کرنے اور عوامی شعور کی بیداری کے لیے پاکستان کے مختلف شہروں ميں عوامی اِنقلاب مارچ کے اِنعقاد کا فیصلہ کیا۔ اِس سلسلہ کا پہلا عوامی اجتماع گوجرانوالہ میں منعقد ہوا۔ جہاں شیخ الاسلام نے ہزاروں مرد و زَن کے عوامی اِجتماع سے خطاب کیا۔
103. 4 مئی 2013ء: منہاج القرآن انٹرنیشنل برطانیہ کے زیر اہتمام برمنگھم کے The New Bingley Hall میں ’پاکستان اور حقیقی جمہوریت کانفرنس‘ منعقد ہوئی۔ جس میں یورپ بھر سے سیاسی و سماجی شخصیات، اسکالرز، پروفیسرز، تاجر، طلباء، صحافی، ڈاکٹرز اور علماء و مشائخ سمیت ہزاروں افراد نے شرکت کی۔
104. 11 مئی 2013ء: پاکستان عوامی تحریک کے زیرِ اِہتمام پولنگ ڈے پر ملک بھر میں 300 شہروں میں نظام اِنتخاب کو مسترد کرنے کے لیے پُراَمن دھرنوں کا اِنعقاد کیا گیا۔ ان دھرنوں میں لاکھوں مرد و زَن کی شرکت کرپٹ نظام کے خلاف عدمِ اِعتماد کا واضح اِعلان تھا۔ یہ عدمِ اعتماد شیخ الاسلام کے اُصولی موقف کی تائید تھی۔ شیخ الاسلام نے ان دھرنوں سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔ آپ نے دھن، دھونس اور دھاندلی پر مبنی منعقدہ اِنتخابات کے نتیجے میں کسی قسم کی تبدیلی نہ آنے کی پیش گوئی کی۔ اسی شب اِنتخابات کے نتائج نے اس ضمن میں آپ کی تمام پیش گوئیاں حرف بہ حرف سچ ثابت کر دیں۔
105. 17 جون 2014ء (سانحہ ماڈل ٹاؤن): شیخ الاسلام کی وطن واپسی اور ظلم و اِستحصال پر مبنی نظام کے لیے اِنقلاب مارچ کے اعلان کے بعد حکومتی گماشتے بوکھلاہٹ کا شکار ہوگئے۔ اسی بوکھلاہٹ کے نتیجے میں لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر قانونی طور پر لگائے گئے بیریرز کو ہٹانے کا بہانہ بنا کر خاندانِ شریفیہ کی ساختہ و پرداختہ پنجاب پولیس نے منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ اور شیخ الاسلام کی رہائش گاہ پر اچانک شب خون مارا۔ شریف خاندان کے حکم پر پولیس اور ان کے پالتو سیاسی غنڈوں نے عوامی تحریک کے پُراَمن، نہتے اور معصوم کارکنان پر بہیمانہ تشدد کیا اور سیدھی گولیاں ماریں، جس کے نتیجہ میں خواتین اور بچوں سمیت 14 کارکنان شہید اور 100 سے زائد زخمی ہوئے۔
106. 23 جون 2014ء: شیخ الاسلام کی پاکستان واپسی ہوئی۔ آپ کی واپسی کے موقع پر حکومتی کارندوں نے ایک بار پھر ظلم و بربریت اور ریاستی دہشت گردی کا بازار گرم کیا۔ شیخ الاسلام کے اِستقبال کے لیے اسلام آباد آنے والے لاکھوں خواتین و حضرات پر وحشیانہ تشدد، سفاکانہ لاٹھی چارج اور آنسو گیس کے شیلز کی بارش کر دی گئی۔ اس کے باوجود کارکنوں کے اسلام آباد میں اِجتماع سے خائف ہو کر حکومت نے آپ کے طیارے کو اسلام آباد میں اُترنے نہ دیا اور اُس کا رخ لاہور کی طرف موڑ دیا۔ شیخ الاسلام نے لاہور پہنچنے پر سب سے پہلے جناح ہسپتال میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کے زخمیوں کی عیادت کی۔ نیز شہداء کی خاندانوں کی کفالت اور زخمیوں کے علاج معالجہ کے مکمل اخراجات اٹھانے کا اعلان کیا۔
107. 29 جون 2014ء: سانحہ ماڈل ٹاؤ ن میں ظلم و بربریت کے خلاف مرکزی سیکرٹریٹ پاکستان عوامی تحریک پر آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی صدارت شیخ الاسلام نے کی۔ اس کانفرنس میں حکومت اور اُس کی حلیف نمائندہ جماعتوں کے علاوہ پاکستان بھر کی 40 سے زائد سیاسی، مذہبی، سماجی اور علاقائی جماعتوں، علماء و مشائخ، وکلاء ہر طبقہ کی نمائندہ تنظیموں، یونینز، سول سوسائٹی، اور NGOs کے نمائندگان نے خصوصی شرکت کی۔ شرکا نے سانحہ ماڈل ٹاؤن کی شفاف تحقیقات اور ذمہ داران کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا۔
108. 10 اگست 2014ء: پاکستان عوامی تحریک کے مرکزی سیکرٹریٹ پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے چہلم کی تقریب منعقد ہوئی۔ حکمرانوں نے چہلم میں شرکت کے لیے آنے والے کارکنوں پر ایک بار پھر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑ دیے۔ جگہ جگہ کنٹینرز لگا کر راستے بند کر دیے گئے۔ حکمرانوں کی بوکھلاہٹ اپنے عروج پر تھی۔ ایک بار پھر پاکستان کی شاہراہوں پر خون کی ہولی کھیلی گئی۔ پاکستان عوامی تحریک کے 7 کارکن شہید، 25 ہزار کارکنان گرفتار، جب کہ 2 ہزار سے زائد زخمی ہوئے۔ حکومتی جبر کے باوجود ہزارہا کارکن منہاج القرآن پارک میں منعقدہ اس تقریب میں پہنچے۔ اتحادی جماعتوں کے نمائندگان نے بھی اس پروگرام میں شرکت کی۔ شیخ الاسلام نے اپنے خطاب میں 14 اگست کو اسلام آباد کی طرف لانگ مارچ کا اِعلان کیا۔
109. 14 اگست تا 11 اکتوبر 2014ء: لاہور سے اِنقلاب مارچ کا قافلہ عزم و ہمت اور جواں جذبوں کے ساتھ شیخ الاسلام کی قیادت میں اسلام آباد کی طرف روانہ ہوا۔ ہر طرح کی حکومتی رکاوٹوں، اوچھے ہتھکنڈوں، دھمکیوں، قتل و غارت گری اور بربریت کے باوجود لاکھوں مرد و زَن کا یہ قافلۂ انقلاب شہرِ اِقتدار پر قابض فرعون صفت حکمرانوں کے جبر و تشدد اور سفاکیت کے خلاف اِحتجاج کے لیے 16 اگست کی صبح اسلام آباد پہنچا اور 11 اکتوبر 2014ء تک جاری رہا۔ مطالبہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے لیے اِنصاف اور ظلم و بربریت پر مبنی اِستحصالی و کرپٹ نظامِ حکومت کا خاتمہ تھا۔ شیخ الاسلام نے اپنے خطابات میں یہ واضح کیا کہ ملکی مسائل کا حل موجودہ رائج نظام میں ممکن نہیں۔ اِس کا واحد حل سبز اِنقلاب ہے۔ اس 72 دن کے دھرنے میں بھی حکومتی و ریاستی ظلم و جبر جاری رہا۔ اس دوران شیخ الاسلام نے عوام پاکستان کو اُن کے حقوق کا آئینی شعور دینے کا سلسلہ اپنے خطابات کی صورت میں جاری رکھا۔ اس دھرنے کے دوران کارکنان نے اپنے قائد کی ولولہ انگیز اور دلیرانہ قیادت میں حکومتی ظلم و ستم کے آگے سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ موسم کی سختیاں، بھوک اور پیاس کی شدت اور حکومت کا ظلم و ستم اُن کے پاے اِستقلال میں لغزش پیدا نہ کر سکا۔ اس دوران عید الاضحٰی کی خوشیاں بھی ان کارکنوں نے پاکستان کے 18 کروڑ عوام کی خوشیوں پر نچھاور کر دیں۔ شیخ الاسلام نے اپنے خطابات کے ذریعے عوامی شعور کی بیداری کا سلسلہ جاری رکھا۔ بعد ازاں آپ نے عوامی تحریک اور اتحادی جماعتوں کے قائدین کی مشاورت سے حکمتِ عملی تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلہ کی روشنی میں اسلام آباد میں دھرنا کے ساتھ ساتھ ملک کے اہم شہروں میں جلسے کرنے کا بھی اعلان کیا گیا۔
110. 23 جون 2015ء: لندن میں شیخ الاسلام کے مرتب کردہ ’فروغِ اَمن اور اِنسدادِ دہشت گردی کا اِسلامی نصاب‘ کی تقریب رُونمائی منعقد ہوئی۔ اس میں سیاسی و سماجی تنظیموں کے راہ نُماؤں، قانون نافذ کرنے والے اداروں، پالیسی ساز اداروں، تعلیمی اداروں کے نمائندگان اور اِنٹرفیتھ ریلیشنز کے راہ نُماؤں نے شرکت کی۔
111. 20 مارچ 2016ء: شیخ الاسلام آل انڈیا علماء و مشائخ بورڈ کی دعوت پر ’عالمی صوفی کانفرنس‘ میں شرکت کے لیے انڈیا تشریف لے گئے، جہاں آپ نے نئی دہلی میں عالمی صوفی کانفرنس سے خصوصی خطاب کیا۔
112. 20 اگست تا 3 ستمبر 2016ء: سانحہ ماڈل ٹاؤن کے قاتلوں سے قصاص لینے، سالمیت پاکستان کو یقینی بنانے اور پاکستان کو معاشی و عسکری دہشت گردوں سے نجات دلانے کے لیے’قصاص اور سالمیتِ پاکستان تحریک‘ کے عنوان سے اپوزیشن جماعتوں کے اجتماعی مظاہروں کا اِنعقاد کیا گیا۔ اِس سلسلے میں 175 شہروں میں مرحلہ وار اِحتجاجی مظاہرے اور دھرنے دیے گئے۔ جن سے شیخ الاسلام اور اپوزیشن جماعتوں کے راہ نُماؤں نے خطابات کیے۔ جب کہ ان اجتماعات میں عوام الناس نے کثیر تعداد میں شرکت کی۔ ان اجتماعات کی کامیابی میں پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں نے کلیدی کردار ادا کیا۔
113. 30 جون 2017ء: سانحہ ماڈل ٹاؤن کےشہداء کی یاد میں مرکز منہاج القرآن پر یادگارِ شہداء اِنقلاب مارچ تعمیر کی گئی۔ شیخ الاسلام نے سیاسی جماعتوں کے راہ نُماؤں کے ہمراہ پھولوں کی چادر چڑھائی اور فاتحہ خوانی کی۔
114. 30 جون 2017ء: شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے اپنے دستِ مبارک سے فریدِ ملّت رِیسرچ اِنسٹی ٹیوٹ (FMRi) کی نَو تعمیر شدہ لائبریری کا افتتاح کیا۔ یاد رہے کہ قبل ازیں 6 مئی 2016ء کو ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے FMRi کے نئے تعمیر شدہ ریسرچ ایریا کا اِفتتاح کیا تھا۔ شیخ الاسلام نے FMRi کی گونا گوں اور بوقلموں خدمات کو سراہتے ہوئے فرمایا کہ ’اِسلام کے تصورِ اِعتدال و توازن، تحمل و برداشت، بین الانسانی اَمن و محبت، بین المسالک ہم آہنگی و بین المذاہب رواداری، نوجوان نسل کی فکری و نظریاتی راہ نُمائی اور علمی و فکری، اعتقادی و روحانی اور تخلیقی و تحقیقی شعبوں میں جتنے متفرق و متنوع موضوعات پر کام ہورہا ہے، اس سارے کام میں کلیدی کردار تحریک منہاج القران کے مرکز میں سرگرمِ عمل اور مصروفِ سعی و جہد FMRi کا ہے۔ اِن نظریات و تعلیمات کے فروغ میں اِس مرکزِ تحقیق کی خدمات جلیلہ کا اَلفاظ میں بیان مشکل ہے۔ مشک آں است کہ خود ببوید نہ کہ عطار بگوید۔
115. 26–28 اگست 2017ء: منہاج القرآن انٹرنیشنل کے زیر اہتمام کیلے یونی ورسٹی UK میں الہدایہ کیمپ کا اِنعقاد کیا گیا۔ جس میں 500 سے زائد برطانوی مسلم نوجوانوں نے شرکت کی۔
116. 3 دسمبر 2018ء: ایوانِ اقبال لاہور میں پانچ ہزار موضوعات پر مشتمل عظیم ’قرآنی انسائیکلوپیڈیا‘ کی تقریبِ رُونمائی منعقد ہوئی۔ شیخ الاسلام نے اپنے خصوصی خطاب میں اس نادر تحقیق کے منفرد گوشے اُجاگر کیے۔
117. 4 اگست 2019ء: قرآنی انسائیکلوپیڈیا کے انگریزی ورژن کی مانچسٹر میں تقریبِ رُونمائی منعقد ہوئی۔ جس میں شیخ الاسلام نے خصوصی خطاب فرمایا۔ اس تقریبِ رونمائی میں برطانیہ، یورپ اور نارتھ امریکہ سے 2,000 سے زائد مرد و زن شریک ہوئے، جب کہ تین سو علماء و مشائخ نے خصوصی شرکت کی۔
118. 14 ستمبر 2019ء: شیخ الاسلام نے اپنی علمی و تحقیقی سرگرمیوں اور صحت کے مسائل کے باعث عملی سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اِعلان کر دیا۔ آپ نے اپنے اختیارات پاکستان عوامی تحریک کی کور کمیٹی کو منتقل کر دیے۔ اپنی زندگی میں ہی سیاست سے ریٹائر ہوکر آپ نے پاکستانی سیاست میں ایک نئی روایت قائم کی۔
یہ طویل سفر اس بات کی دلیل ہے کہ جب نیت میں اخلاص اور ارادوں میں پیغمبرانہ عزم شامل ہو تو وسائل کی کمی کبھی آڑے نہیں آتی۔ شیخ الاسلام نے تنِ تنہا جس مشن کا آغاز کیا، آج وہ جامعات، ہسپتالوں، ویلفیئر مراکز اور لاکھوں تربیت یافتہ کارکنوں کی صورت میں ایک تناور درخت بن چکا ہے۔ 2019ء میں عملی سیاست سے ریٹائرمنٹ کے اعلان نے ثابت کیا کہ آپ کا مطمحِ نظر اقتدار کی کرسی نہیں بلکہ عوامی شعور کی بیداری تھی۔ قرآنی انسائیکلوپیڈیا جیسی علمی خدمات ہوں یا دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر دیا گیا فتویٰ، آپ نے اسلام کو جدید دور کے چیلنجز کے مطابق پیش کرنے کا وہ حق ادا کیا ہے جو صدیوں یاد رکھا جائے گا۔
75ویں سال گرہ کے اس پرمسرت موقع پر ہم دعاگو ہیں کہ باری تعالیٰ مجددِ رواں صدی، عالمی سفیرِ امن کا سایہ امتِ مسلمہ پر تادیر سلامت رکھے اور ہمیں ان کے فکری و علمی ورثے کی حفاظت کرنے اور اسے آگے بڑھانے کی توفیق عطا فرمائے۔ سفرِ عشق ابھی جاری ہے، اور منزلِ اِنقلاب اب دور نہیں۔