شیخ الاسلام کی علوم القرآن کے فروغ میں عالمگیر خدمات

ڈاکٹر نعیم انور نعمانی

ترجمہ عرفان القرآن: دنیا کی 12 زبانوں میں تراجم

کسی بھی الہامی کتاب کے ترجمہ کی ضرورت اس میں موجود ہدایت کو سمجھنے کے لیے انتہائی ناگزیر ہے۔ ترجمہ یقیناً اہل زبان کی ضرورت نہیں ہے مگر اس الہامی کتاب کے ساتھ جڑے ہوئے بے شمار دوسرے انسانوں کی لازمی ضرورت ہے۔ اس لیے کہ فہم کے بغیر ہدایت میسر نہیں آتی، جس چیز کو انسان سمجھ ہی نہ سکے اس سے راہنمائی کیسے لے سکتا ہے۔۔۔؟

الہامی کتاب کے نزول کا مقصد ہی انسانوں کو ہدایت سے ہمکنار کرنا ہے، ان کے اعمال و اخلاق کی اصلاح کرنا ہے، ان کی اخلاقی و روحانی تربیت کرنا ہے اور ان کو دین کے احکام پر کاربند کرنا ہے۔ یہ سب کچھ فہم پر موقوف ہے جبکہ فہم، زبان کے جانے بغیر اور کسی بھی الہامی کتاب کا ترجمہ جانے بغیر ممکن نہیں ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ زبان ایک ذریعہ ہے خود مقصد نہیں ہے۔ زبان پیغام پہنچانے کا ایک مضبوط وسیلہ ہے مگر اصل مقصود اس میں اس کا معنی ہے اور وہی ترجمہ ہے۔ اگر زبان میں الفاظ مقصود ہوتے تو پھر دنیا بھر کے سب انسان ایک ہی زبان بولتے اور کسی ترجمہ کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔ کسی بھی الہامی کتاب کا ترجمہ مقصد ہدایت کو پانے کا ایک عقلی تقاضا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ انسانی معاشرہ بہت متنوع جہات رکھنے والا ہے۔ اس میں طرح طرح کی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ انسان مختلف ثقافتیں رکھتے ہیں اور مختلف ذہنی ساخت رکھتے ہیں، ان سب انسانوں تک آخری الہامی پیغام کو ترجمہ کے بغیر ان کی زبانوں میں نہیں پہنچایا جاسکتا۔ ترجمے کے بغیر یہ عالمی پیغام نسلی اور لسانی حدود تک ہی مقید ہوجائے گا۔

اگر الہامی کتا ب کا ترجمہ نہ کیا تو اس کا پیغام اور اس کتاب سے متعلق مذہب و دین طبقاتی بن جاتا ہے۔ اگر الہامی کتاب صرف ایک ہی زبان میں سمجھی جائے تو اس میں پھر ایک اشرافی طبقہ پیدا ہوجاتا ہے اور عام انسان اس کتاب سے کٹ جاتا ہے اور پھر اس کتاب کی ہر ہدایت اور اطلاق اسی طبقے کا مرہون منت ہوتا ہے۔ اس طبقے میں اگر خرابی آجائے تو دین و مذہب کا حلیہ بگڑ جاتا ہے۔ اس لیے یہ عقلی تقاضا ہے کہ ہر فرد کو کتابِ ہدایت سے راہنمائی کا براہ راست حق دیا جائے۔ اس کی صورت مقامی زبان میں ترجمہ ہے۔ عقل سلیم یہ بھی کہتی ہے کہ شرعی مکلف و ذمہ دار حقیقی معنی میں وہی شخص ٹھہرتا ہے جس کو بات سمجھادی جائے۔ اگر کسی قوم کو اپنی الہامی کتاب کی زبان سمجھ میں نہیں آتی ہے تو اس سے عمل کا مطالبہ کیسے کیا جاسکتا ہے۔ پس ترجمہ ہر الہامی کتاب پر عمل کے لیے بھی ضروری ہے۔

ہر الہامی کتاب کا سب سے بڑا مقصد ہدایت اور دعوت ہے۔ دعوت بذات خود تبلیغِ دین و مذہب اور اصلاح اعمال و اخلاق کا سب سے بڑا موثر ذریعہ ہے۔ دعوت کا مقصد منتھی اس کو قبول کرلینا ہے اور اس کو دل و جان سے مان لینا ہے۔ اس کے مطابق خود کو بدل لینا اور اس دعوت کے قالب میں خود کو ڈھال لینا ہے۔ دعوت کے یہ سارے مقاصد فہم کے بغیر ممکن نہیں ہیں۔ اس لیے ہر داعی اسی زبان میں دعوت دیتا ہے جس میں اس کے سننے، پڑھنے اور سمجھنے والے ہوں۔ اس لیے ترجمہ داعی کی دعوت کو قابلِ فہم اورموثر بناتا ہے۔

ترجمہ عقل کو وحی کے تابع کرتا ہے

کسی بھی الہامی کتاب کا ترجمہ انسانی عقل اور وحی کے درمیان ربط پیدا کرتا ہے۔ الہامی کتاب عقل کو مخاطب کرتی ہے اور اسے سوال کرنے کی دعوت دیتی ہے۔ اگر انسانی عقل کے لیے زبان ہی معلوم نہ ہو تو پھر انسانی عقل معطل ہوجاتی ہے اور الہامی کتاب کا متن ایک رسمی مقدس متن بن کر رہ جاتا ہے۔ جس کے کلمات و الفاظ کو پھر ثواب کے لیے تو پڑھا جاتا ہے مگر ان سے ہدایت حاصل نہیں کی جاتی، اس لیے کہ وہ انسانی عقل کی سمجھ میں ہی نہیں آرہے ہوتے۔ اس بنا پر کسی بھی الہامی کتاب کا ترجمہ انسانی عقل کو وحی کے تابع کردیتا ہے۔

کسی بھی الہامی کتاب کا ترجمہ اس لیے بھی ناگزیر ہے تاکہ اس کے ذریعے اس میں تحریف اور سوءِ فہم سے بچا جائے۔ اگر اصل متن محدود طبقے تک رہے اور وہی اس اصل متن کے مفہوم پر اجارہ داری رکھیں اور اس کی غلط تشریحات کریں تو اس سے بہت سی اعتقادی اور عملی قباحتیں پید اہوتی ہیں۔ اس لیے ترجمہ عوامی زبان میں آکر بہت سی غلط فہمیوں کا ازالہ کردیتا ہے۔ گویا ترجمہ عقلِ اجتماعی کا تقاضا ہے۔ اس کے ساتھ بہت سے غیر مذاہب کے لوگ بھی تراجم کرتے ہیں اور وہ اپنے مقاصد کو سامنے رکھتے ہوئے تراجم کرتے ہیں۔ ان تراجم میں وہ من گھڑت باتوں کو بھی شامل کرلیتے ہیں اور بعض نصوص کے وہ غلط تراجم کرتے ہیں۔ یوں اس مذہب کی اصل تعلیمات کے برعکس افکار و نظریات اس کتاب کے ترجمہ کے نام پر پھیلاتے ہیں اور اس طرح لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ ترجمہ ایسے مفسدین سے بھی بچاتا ہے۔

ترجمہ احکام شرع سے شناسائی اور دعوت کا مؤثر ذریعہ ہے

ترجمہ کسی بھی الہامی کتاب کے قانون اور حکم سے کاملاً آگاہ کرتا ہے۔ جب تک قانون عوامی زبان میں نہ ہو اس پر عمل ممکن نہیں ہے۔ ترجمہ کسی بھی دین و مذہب کی تہذیب و تمدن کو پھیلاتا ہے اور اس کی تاریخی حیثیت کو ذہنوں میں راسخ کرتا ہے۔ جن مذاہب نے اپنی الہامی کتابوں کے تراجم کیے، ان کا بہت زیادہ پھیلاؤ ہوا ہے اور جنھوں نے تراجم کے عمل کو روکا ہے، ان مذاہب میں جمود پیدا ہوا ہے۔ گویا ترجمہ کسی بھی کتاب کے پیغام اور کسی بھی مذہب کو فروغ دینے کے لیے ناگزیر ہے۔

ترجمہ کے باب میں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رہے کہ ترجمہ کسی الہامی کتاب کو بدلنے کا نام ہرگز نہیں ہے بلکہ اس کے پیغام کو مقامی زبان میں زندہ کرنے کا نام ہے۔ ترجمہ انسانی عقل کا مطالبہ ہے۔ ترجمہ انصاف کا تقاضا ہے۔ ترجمہ کسی بھی الہامی کتاب کی دعوت عامہ کا نام ہے۔

آج کی دنیا ایک گلوبل ویلج بن گئی ہے۔ آج قرآن حکیم کو مختلف زبانوں میں پیش کیے بغیر اس کے پیغام کی آفاقیت اور عالمگیریت کو ظاہر نہیں کیا جاسکتا اور اسلام کی دعوت کا عالمی ابلاغ نہیں کیا جاسکتا۔ ترجمہ کے بغیر قرآنی ہدایت سے عام آدمی مستفید نہیں ہوسکتا اور نہ ہی اپنے اعمال و اخلاق کی اصلاح کرسکتا ہے۔ ترجمہ کے ذریعے ہی ہر زبان میں قرآن حکیم کی تعلیمات کو ہر قوم تک پہنچایا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے فوری کوئی اور ذریعہ اور طریقہ نہیں ہے۔ ترجمہ قرآن، اسلام کی دعوت کو ہر نسل تک پہنچانے کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔ ترجمہ قرآن کے ذریعے ہر قوم کے خواص اور عوام بیک وقت الوہی ہدایت سے مستفید و مستنیر ہوتے ہیں۔ مستند ترجمہ قرآن کے ذریعے ہی مستشرقین اور اسلام مخالف لوگوں کے تراجم قرآن سے پیدا شدہ غلط فہمیوں اور مغالطوں کا ازالہ کیا جاسکتا ہے۔ دشمنان اسلام نے ترجمہ قرآن کے ذریعے جو تحریف معنوی کی ہے۔ اس کا جواب معتبر و محقق ترجمہ قرآن کے ذریعے ہی دیا جاسکتا ہے۔

آج سائنس سے متعلق نوجوان نسل کے سوالات کا تسلی بخش جواب بھی قرآن کے مستند ترجمہ کے سبب سے جامع و مدلل انداز میں دیا جاسکتا ہے۔ ترجمہ قرآن کا مقصد جہاں کلامِ الہٰی کے مطالب کو سمجھانا ہے وہیں اس ترجمہ کے اسلوب سے محبتِ الہٰی اور خشیتِ الہٰی کی کیفیات کو بھی دلوں میں موجزن کرنا ہے۔

ترجمہ عرفان القرآن کے خصائص و تفردات

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے ترجمہ قرآن کے ان ہی عوامل کی بنا پر عرفان القرآن کے نام سے اردو میں اور The Manifest Quran کے نام سے انگلش زبان میں ترجمہ کیا ہے۔

قرآن حکیم کے تراجم اپنی ایک روشن تاریخ رکھتے ہیں۔ ہر دور میں قرآن کے تراجم کو آسان فہم اور بلیغ زبان میں پیش کیا گیا ہے۔ وقت کے ساتھ کروٹ لیتی ہوئی زبان کو جدید تقاضوں سے بھی ہم ا ٓہنگ کیا گیا ہے اور اسے علم و تحقیق کے ساتھ آراستہ بھی کیا گیا ہے۔ اب تک ترجمہ عرفان القرآن کو دنیا بھر کی 12 سے زائد زبانوں میں منتقل کیا گیا ہے۔ اب تک اردو، انگریزی، عربی، فارسی، ہندی، بنگلہ، سندھی، پشتو، ہاؤسا، ترکی، فرانسیسی اور جرمن زبان میں ترجمہ ہوچکا ہے۔ عرفان القرآن کے تراجم کا یہ تنوع اس بات کا ثبوت ہے کہ شیخ الاسلام اور منہاج القرآن انٹرنیشنل نے قرآن حکیم کی آفاقیت اور اس کی بین الاقوامی رسائی کو اپنی قرآنی خدمت کا نصب العین بنایا ہوا ہے۔ اب ہم اس ترجمہ عرفان القرآن کے خصائص اور اس کے تفردات کا جائزہ لیتے ہیں:

(1) آسان اور عام فہم زبان

عرفان القرآن کی نمایاں ترین خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ یہ ترجمہ آسان ترین اور عام فہم ہے۔ اس میں مشکل اور پیچیدہ الفاظ کے استعمال سے گریز کیا گیا ہے۔ اس کے ترجمہ کی زبان میں سلاست و روانی پائی جاتی ہے اور اس میں عام قاری کے فہم کا بطور خاص خیال رکھا گیا ہے۔ یہ ترجمہ بڑا آسان، شفاف اور بامحاورہ جملوں پر مشتمل ہے۔ عرفان القرآن آسان اور عام فہم ہونے کی بنا پر بیک وقت عوام میں بھی مقبول ہے اور خواص میں بھی مستند ہے۔ اس ترجمہ کی زبان رواں ہے اور فصیح و بلیغ ہے اور اپنے اندر ادبی اسلوب رکھتی ہے۔ یہ ترجمہ اپنے اسلوب میں لفظی بھی ہے بامحاورہ بھی ہے اور اس ترجمہ میں قرآن حکیم کی ادبی بلاغت اور اس کے احسن کلام ہونے کا پورا پورا خیال رکھا گیا ہے۔ یہ ترجمہ اصل عربی زبان کے الفاظ کی خوب اور عمدہ ترجمانی کرتا ہے اور اپنے جملوں میں قرآن کی معنوی لطافت بھی رکھتا ہے۔

(2) زبان و بیان میں اعتدال

عرفان القرآن کا یہ ترجمہ اپنی زبان و بیان میں اعتدال و توازن سے آراستہ ہے۔ یہ فرقہ وارانہ رنگ اور شدت پسندی سے پاک ہے اور متعصبانہ روایت سے دور ہے اور نظریاتی جبر سے پاک ہے۔ اس میں افراط و تفریط نہیں ہے۔ اس بنا پر یہ ترجمہ ہر مکتبہ فکر کے لیے قابلِ قبول ہے۔ یہ ترجمہ عصری اعتدال پسندی کی علامت ہے اور یہ اپنا اسلوب خالص علمی اور تحقیقی رکھتا ہے۔ عرفان القرآن کا ترجمہ اپنے مدعا کے فہم اور ابلاغ کے لیے اپنے اندر ناگزیر مقامات پر حواشی کا اسلوب بھی رکھتا ہے۔ ان میں غیر ضروری طوالت نہیں ہوتی۔ یہ حواشی عقائد، عبادات، اخلاقیات اور تزکیہ نفس سے متعلق جامع راہنمائی دیتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ یہ مشکل مقامات کی واضح تشریح بھی کرتے ہیں۔ ان میں سے بعض حواشی تفسیری اسلوب کی جامعیت بھی رکھتے ہیں۔

(3) جدید ذہن کے لیے مفید

عرفان القرآن کا ترجمہ آج کے جدید ذہن کے لیے بھی مفید ہے۔ یہ ترجمہ سائنسی حقائق اور سماجی نظریات اور فکری منابع کا بھی احاطہ کرتا ہے۔ اس ترجمہ میں انسانی حقوق کا شعور بھی ملتا ہے اور معاشرتی عدل کی تعلیمات کی بھی آئینہ داری ہے۔ یہ عالمی امن کے تصورات کو بھی ذہنوں میں راسخ کرتا ہے۔ یہ ترجمہ جدید ذہن کو قرآن کے ساتھ جوڑتا ہے اور جدید ذہنوں میں اٹھنے والے سوالات خواہ وہ سائنسی ہوں، علمی ہوں یا سماجی ہوں، یہ ترجمہ ان سب سوالوں کا کافی و شافی جواب دیتا ہے۔

(4) روحانی پہلوؤں کی عکاسی

عرفان القرآن کا ترجمہ جہاں علمی، فقہی اور فکری پہلوؤں کا احاطہ کرتا ہے وہیں یہ ترجمہ روحانی پہلوؤں کا بھی جامع ہے۔ یہ ترجمہ محبتِ الہٰی کی سرشاری دیتا ہے اور نسبتِ مصطفی ﷺ کو دل و ذہن میں پختہ کرتا ہے۔ یہ تزکیہ نفس کا داعیہ اپنے قاری میں پیدا کرتا ہے اور اپنے لفظ لفظ میں روحانیت کا ایک پاکیزہ احساس دیتا ہے۔ اس ترجمہ کا یہی تفرد اس کو دیگر تراجم سے ممتاز اور منفرد کرتا ہے۔

ترجمہ عرفان القرآن اپنے ہر قاری کے دل کی آواز بنتا ہے اور اسے اپنی طرف متوجہ کرتا ہے۔ یہ ترجمہ اپنے اسلوب سہل کی بنا پر نوجوانوں کے دل و ذہن میں اتر جاتا ہے اور اُن کی اپنی روح کی آواز محسوس ہوتا ہے۔

اس ترجمہ قرآن کا اسلوب دعوتی بھی ہے۔ اس کے الفاظ انسان کے لیے ایک مستقل دعوت دین ہیں۔ اس کے الفاظ میں محبت بھی ہے، حکمت بھی ہے اور اصلاح بھی ہے۔ اس ترجمہ قرآن کو قاری جوں جوں پڑھتا ہے، اُس کی محبتِ قرآن مسلسل بڑھتی چلی جاتی ہے۔

المختصر یہ کہ بلاشبہ یہ ترجمہ سادہ بھی ہے، لفظی صحت اور معنوی ربط سے معمور بھی ہے اور جامع وبلیغ بھی ہے۔ اعتدال و تحقیق سے مزین بھی ہے اور روحانی ذوق سے معمور بھی ہے۔ اس وجہ سے یہ دورِ حاضر کا سب سے زیادہ قابلِ فہم، شفاف اور ہمہ جہت ترجمہ کا رتبہ رکھتا ہے۔ اس ترجمہ کی متعدد بین الاقوامی زبانوں میں اشاعت اس بات کی دلیل ہے کہ یہ ترجمہ عالمی سطح پر امت کی ضروریات کی کفالت کررہا ہے۔

عرفان القرآن کے تراجم

1۔ جب ہم عرفان القرآن کے تراجم کا جائزہ لیتے ہیں تو اس کا انگریزی ترجمہ اگرچہ براہ راست متن سے اصل کلمات کی رعایت کرتے ہوئے ہوچکا ہے۔ مگر اس ترجمہ سے بھی اس کا انگریزی ترجمہ تیار کیا گیا ہے جو کہ درج ذیل اوصاف کا حامل نظر آتا ہے۔ اس میں انگریزی زبان کے الفاظ عالمی معیار کے حامل ہیں۔ یہ انگریزی ترجمہ بھی Interpretive اور Literal دونوں خوبیوں کا جامع ہے۔ اس میں مذہبی اصطلاحات کو اُن کے اصل تصور کے ساتھ اجاگر کیا گیا ہے۔ اس میں مشکل الفاظ کے استعمال سے گریز کیا گیا ہے۔ یہ ترجمہ روحانی بیان کا تسلسل بھی نظر آتا ہے اور بین المذاہب مکالمہ کو بھی قبولیت کے ساتھ واضح کرتا ہے۔ یہ ترجمہ بھی علمی حلقوں میں معروف ہوا ہے۔ یہ ترجمہ انگریزی بولنےو الوں کو قرآن کے اسلوب اور اس کی روحانیت کے قریب تر لاتا ہے۔

2۔ عرفان القرآن کا عربی زبان میں تفسیری ترجمہ جدید عرب دنیا کے لیے پُرکشش ہے اور عربی زبان کی فصاحت و بلاغت سے ہم آہنگ ہے۔ لغوی و معنوی خوبیوں سے آراستہ ہے۔ اعتدال پسند اسلوب سے مزین ہے اور خالص عربی لہجے کا آئینہ دار ہے۔ اس میں مشکل مقامات کی خوب توضیحی شان بھی اجاگر ہوتی ہے۔

3۔ عرفان القرآن کا فارسی ترجمہ، فارسی زبان بولنے والوں کے لیے بڑی مانوسیت کا ساماں رکھتا ہے۔ یہ صوفیانہ رنگ سے بھی مزین ہے اور یہ قدیم فارسی کے لہجے کو بھی اپنے اندر سموئے ہوئے ہے۔ اس کی عبارت رواں اور اس کا بیان نرم و سادہ ہے۔ یہ فارسی زبان کی روحانی روایت کو محبت اور حسنِ بیان کی معنوی خوبیوں سے بیان کرتا ہے۔

4۔ عرفان القرآن کا ہندی ترجمہ آسان ہے اور عام فہم ہے۔ اس میں ہندی اصطلاحات کا بہترین استعمال ہوا ہے۔ یہ ہندی زبان کے خالص الفاظ کے ساتھ ساتھ اردو کا اثر بھی دیتا ہے۔ یہ ترجمہ غیر مسلم قارئین کے لیے قرآن کو سمجھنے میں بڑا ممدو معاون ہے۔

5۔ عرفان القرآن کا بنگالی زبان میں ترجمہ بڑا عمدہ اور بڑا مٹھاس بھرا ہے اور اس ترجمہ کے ذریعے قرآنی اخلاق اور انسانی اصلاح کے مراحل کو بڑے نمایاں طور پر بیان کیا گیا ہے۔ اس میں بنگالی زبان کی اصطلاحات کا بھی عمدہ استعمال ہوا ہے۔ یہ ترجمہ بنگلہ قاری کے مزاج کے مطابق جذباتی احساسات اور روحانی کیفیات کو بھی دو چند کردیتا ہے۔

6۔ عرفان القرآن کا سندھی ترجمہ میں روایتی سندھی محاوروں کا استعمال ہوا ہے۔ اس میں فقہی روایات کا بھی خیال رکھا گیا ہے۔ یہ سادہ اور عام فہم ترجمہ ہے جو ہر سندھی زبان بولنے والا بآسانی سمجھ لیتا ہے۔

7۔ عرفان القرآن کا پشتو کا ترجمہ پشتو زبان اور اس کے ثقافتی ورثے کا آئینہ دار ہے۔ یہ ترجمہ ایک باوقار اسلوب میں ڈھلا ہوا ہے۔ یہ ترجمہ زبان کی سادگی سے مزین ہے۔ یہ ترجمہ صوفیانہ مزاج سے بھی ہم آہنگ ہے۔

8۔ ہاؤسا، افریقی زبان میں عرفان القرآن کا ترجمہ نہایت آسان ہے اور یہ افریقی زبان کی مثالوں سے بھی آراستہ ہے۔ یہ ترجمہ سادہ اسلوب میں ڈھلا ہوا ہے، اس ترجمہ کا انداز دعوتی ہے۔ افریقی زبان میں فہم قرآن کے باب میں یہ بڑا مقبول اورموثر ہورہا ہے۔

9۔ عرفان القرآن کا ترکی زبان میں ترجمہ جدید ترکی زبان سے آراستہ ہے۔ اس کا اسلوب خالصتاً علمی ہے اور صوفیانہ ذوق کی جھلک بھی اس میں پائی جاتی ہے۔ یہ ترجمہ ترکی تفاسیر کی روایات سے بھی ہم آہنگ ہے۔ یہ ترجمہ ترکی زبان کی سادگی اور ادبی حسن دونوں کا جامع ہے۔

10۔ عرفان القرآن کا فرانسیسی ترجمہ اعلیٰ معیار کا حامل ہے۔ یہ ترجمہ یورپی زبان کی خوبیوں سے آراستہ ہے۔ یہ ترجمہ خوبصورت علمی و ادبی اسلوب میں ڈھلا ہوا ہے، اس میں فرانسیسی زبان کی مصطلحات و محاورات کو بھی عمدگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

11۔ عرفان القرآن کا جرمن ترجمہ یہ منطقی ترتیب اور سائنسی نظم سے آراستہ و پیراستہ ہے اور جدید سائنسی مزاج رکھنے والے قاری کو بھی مطمئن کرتا ہے۔ اس کی تکنیکی ساخت اپنے قاری کو تسکین دیتی ہے اور یہ جدید ذہن کے لیے بڑا ہی موزوں اور قابلِ فہم ہے۔

عرفان القرآن کا ہمہ جہتی کمال

عرفان القرآن کے یہ بارہ تراجم اپنی اپنی زبان کے اعتبار سے خوب عمدہ اور اعلیٰ تراجم ہیں۔ ان سب کی زبان آسان، بلیغ اور معتدل ہے۔ کوئی بھی ترجمہ شدت اور فرقہ واریت کا رنگ نہیں رکھتا ہے۔ ہر ترجمہ میں اپنے اصل اردو ترجمہ کا رنگ برقرار ہے۔ ہر ترجمہ دوسری زبان کے الفاظ و کلمات کو اختیار کررہا ہے مگر مفہوم میں اصل ترجمہ کی یکسانیت لیے ہوئے ہے۔ ہر ترجمہ دعوتی علمی، اصلاحی اور روحانی مزاج رکھنے والا ہے۔ ہر ترجمہ سادہ زبان کا حامل ہے اور اپنی زبان کی فصاحت و بلاغت سے آراستہ ہے۔ ہر ترجمہ غیر متعصبانہ ترجمان قرآن ہے۔ ہر ترجمہ قرآن کے پیغامِ رحمت کا اظہار کرتا ہے۔

یہ تراجم عالمی سطح پر اسلامی دعوت اور دین کے فروغ و ابلاغ کا ذریعہ ہیں۔ یہ قرآن فہمی کے مستند ذرائع ہیں۔ ہر ترجمہ قرآن اپنا جداگانہ اسلوب لیے ہوئے ہے۔ ہر ترجمہ کی اپنی لسانی خصوصیات ہیں اور ہر ترجمہ کے اپنے ادبی محاسن اور فکری امتیازات ہیں۔

خلاصۂ کلام

عرفان القرآن کے تمام تراجم میں مرکزی لہجہ محبت سے معمور ہے۔ بندے کو رب کی رحمت کا حوصلہ اور سہارا ملتا ہے اور ہر زبان میں ترجمہ قرآن ربانی تسکین دیتا ہے۔ ہر زبان میں ترجمہ قرآن عظمت رسول ﷺ اور محبتِ رسول ﷺ سے بھرپور ہے اور ہر زبان کا ترجمہ قرآن حکمتِ قرآن اور رحمتِ باری تعالیٰ کا آئینہ دار ہے۔ ہر ترجمہ اپنی زبان سے ہم آہنگ کیا گیا ہے۔ بلاشبہ عرفان القرآن، قرآن کے مفاہیم و مطالب کی خوب ترجمانی کرنے والا ہے۔ عرفان القرآن کے اصل ترجمہ کا رنگ تمام زبانوں میں بڑا نمایاں نظر آتا ہے۔ ہر ترجمہ عمدہ الفاظ، اعلیٰ ادب اور بہترین وضاحت اور نرم لب و لہجہ اور کلام کی اعلیٰ فصاحت و بلاغت سے آراستہ ہے۔

ہر ترجمہ قرآن اپنی زبان کے اصل تعارف اور اصل تاثر سے بھی معمور ہے۔ جرمن ترجمہ منطقی اسلوب کی مرکزیت رکھتا ہے۔۔۔ فرانسیسی ترجمہ ادبی اسلوب کو اپنا محور رکھتا ہے۔۔۔ فارسی ترجمہ روحانی بالیدگی سے مزین ہے۔۔۔ انگریزی ترجمہ معاصر اور معاصریت کا اسلوب لیے ہوئے ہے۔۔۔ ترکی ترجمہ واضحیت اور بینات کا مفہوم لیے ہوئے ہے۔۔۔ ہندی اور بنگلہ ترجمہ جذباتیت کا رنگ رکھتا ہے۔۔۔ افریقی ترجمہ دعوتی اسلوب سے ممتاز ہے۔۔۔ جبکہ اردو ترجمہ جامعیت کا اسلوب رکھتا ہے اور محبت آمیز عبارات سے موثر ہے۔ عرفان القرآن کا منظوم تعارف کچھ یوں ہے:

عرفاں قرآں ہے وہ آئینہ معنی و بیاں
جس میں ہر ذہن کو مل جائے پیام جاوداں

ہر سطر میں جھلکتا ہے ادبِ مصطفی ﷺ
ہر لفظ میں رنگِ وفا، نورِ مصطفی ﷺ

نہ افراط کی نیش، نہ تفریط کی دھند
عرفان قرآں میں ہے تحقیق کی سند

یہ ترجمہ نہیں، آئینۂ احوالِ دل
جگمگاتا ہے جس میں نورِ رب، حالِ دل

بارہ زباں میں ہے وہی نورِ ہدایت
عرفان قرآں، عالمی فہم کی عنایت

یہ ترجمہ نہیں محض، یہ فہمِ قرآں ہے
لفظ میں معنی، معنی میں عرفاں ہے