سوال: عشرہ محرم الحرام میں شادی کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب: شریعتِ اسلامی میں عشرہ محرم الحرام سمیت سال کے کسی بھ ی دن شادی کرنے کی ممانعت نہیں ہے، مگر بسا اوقات حالات و واقعات اور سماجی و معاشرتی عوامل شادیوں کی تقریبات میں مانع ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہماری مشرقی ثقافت میں عزیز و اقارب اور ہمسائیوں وغیرہ کی غمی و خوشی میں شمولیت کو سماجی قدر سمجھا جاتا ہے۔ اگر محلے میں کسی ہمسائے کے ہاں یا دوسرے شہر میں موجود کسی عزیز کے ہاں کوئی المناک حادثہ پیش آ جائے تو ہم اپنے گھر میں ہونے والی خوشی کی تقریب منسوخ کر دیتے ہیں یا نہایت سادگی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ ان حالات میں اپنے گھر کے اندر خوشی منانے سے ہمیں شریعت نے روکا ہے؟ یقیناً نہیں۔ یہ ہمسائے یا عزیز سے قلبی تعلق کے اظہار اور اس کے غم میں شامل ہونے کے لیے کیا جاتا ہے۔ اگر کسی سماجی بندھن کی بنیاد پر ہمسائے یا عزیز کے ایامِ غم میں خوشیاں نہیں منائی جاسکتیں تو امام الانبیاءﷺ کے نواسے، سیدہ خاتونِ جنتd کے لختِ جگر اور حیدرِ کرار رضی اللہ عنہ کے جگرگوشہ سید الشہداء امام الشہداء امام حسینe اور آپ کے خانوادے کی دردناک شہادت کے ایام میں خوشیوں اور شادیانوں کا اہتمام کیونکر کیا جاسکتا ہے؟
امام حسینe اور آپ کے رفقاء کی شہادت کوئی معمولی واقعہ نہیں۔ اسلام کا دامن شہادت کے پھولوں سے لبریز ہے مگر کلمہ گو ظالم شیطانوں کے ہاتھوں جس ظالمانہ انداز میں گلشنِ مصطفیٰ ﷺ کے پھول مَسلے گئے اس کی نظیر نہیں ملتی۔ یہ اس قدر دردناک شہادت ہے کہ نبی کریمﷺ نے نہ صرف اس کے وقوع پذیر ہونے کی خبر دی بلکہ چشمانِ مقدس سے آنسو بہا کر غمِ حسینe میں رونا اپنی سنت بنا دیا۔ ام المؤمنین حضرت ام سلمہj سے مروی ہے کہ آقاe کے چشمان مقدس سے آنسو رواں تھے تو انہوں نے پوچھا یا رسول اللہﷺ آج کیا بات ہے چشمان مقدس سے آنسو رواں ہیں؟ فرمایا کہ مجھے ابھی ابھی جبرئیل خبر دے گیا ہے:
ان امتک ستقتل هذا بارض يقال لها کربلاء
آپ کی امت کہلانے والے آپﷺ کے اس بیٹے حسین کو اس سر زمین پر قتل کر دے گی جس کو کربلا کہا جاتا ہے۔
(المعجم الکبير،3 : 109، ح :2819)
61 ہجری کو یومِ عاشور جب امام حسینe اپنے خاندان اور رفقاء کی قربانی دے چکے تو آقاe کی اضطراب کا کیا عالم تھا اس کا اندازہ حضرت ام سلمیj کی اس روایت سے کیا جاسکتا ہے:
دخلت علی ام سلمة و هی تبکی فقلت: ما يبکيک؟ قالت: رايت رسول اﷲ صلي الله عليه وآله وسلم في المنام و علي رأسه ولحيته التراب فقلت: مالک يا رسول اﷲ قال: شهدت قتل الحسين انفا.
میں حضرت ام سلمہ کی خدمت میں حاضر ہوئی۔ وہ رو رہی تھیں میں نے پوچھا ’’آپ کیوں رو رہی ہیں؟،، حضرت ام سلمہjنے فرمایا ’’میں نے رسول اللہﷺ کو خواب میں دیکھا کہ آپﷺ کے سرانور اور داڑھی مبارک پر گرد و غبار ہے۔ میں نے عرض کیا ’’یا رسول اللہﷺ کیا بات ہے؟ (یہ گرد وغبار کیسا ہے) آپ نے فرمایا ’’میں ابھی حسینg کی شہادت گاہ میں موجود تھا۔ (سنن، ترمذي، ابواب المناقب)
امت کی اکثریت نے حضرت امام حسینe اور آپ کے رفقاء کی شہادت کو ایک عظیم سانحہ کے طور پر دیکھا اور یوم عاشورہ یعنی 10 محرم الحرام کو یوم الحزن کے طور پر یاد کیا۔ اس لیے امتِ مسلمہ کے ہاں عشرہ محرم الحرام میں شادیوں یا خوشیوں کی دیگر تقریبات کا اہتمام نہیں کیا جاتا۔ البتہ مجبوری کی صورت میں سادگی کے ساتھ نکاح کرنے میں حرج نہیں۔
اگر کوئی شخص جان بوجھ کر خانوادہ رسالت کے شہدائے پر ہونے والے مظالم پر خوشیاں مناتا ہے اور اسی لیے عشرہ محرم میں خوشیوں کی تقریبات کا انعقاد کرتا ہے تو وہ یقیناً روحِ مصطفیٰﷺ کو ایذا دینے کا مرتکب ہے اور اسے بروزِ قیامت رسول اللہﷺ کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ امت میں ایسے بدبخت گروہ بھی گزر چکے ہیں جو شہادتِ امامِ عالی مقام کی مناسبت سے عاشورہ کے روز باقاعدہ خوشیوں اور عید کا اہتمام کرتے۔ امام ابن کثیر رقمطراز ہیں:
’شام کے ناصبین نے (سانحہ کربلا کے بعد) یوم عاشورہ کو اس اس طرح منانا شروع کیا کہ یہ لوگ یوم عاشورہ کو کھانے پکاتے، غسل کرتے، خوشبو لگاتے اور قیمتی لباس پہنتے اور اس دن کو عید کے طور پر مناتے۔ اس میں وہ طرح طرح کے کھانے پکاتے اور خوشی و مسرت کا اظہار کرتے۔ انہوں نے حضرت امام حسینe کے قتل کی تاویل یہ کی کہ وہ مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے نکلے تھے اور جس شخص کی بیعت پر لوگوں نے اتفاق کیا تھا، اسے معزول کرنے آئے تھے (معاذاللہ)۔
ابنِ کثیر خلاصہ کلام ان الفاظ میں کرتے ہیں کہ ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ آپ کی شہادت پر غمگین ہو۔ بلاشبہ آپ سادات مسلمین اور علماء صحابہ میں سے تھے اور رسول اللہﷺ کی اس بیٹی کے صاحبزادے ہیں جو آپ کی بیٹیوں میں سب سے افضل تھیں۔ آپ عبادت گزار، دلیر اور سخی تھے۔
(ابن کثیر، البدایه و النهایه، 11: 577)
سوال: شادی بیاہ میں شرکت بارے خواتین کے لیے کیا احکام ہیں؟
جواب: دینِ اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے اور اسلامی نظامِ حیات کا تقاضا ایک پاک و صاف معاشرے کی تعمیر اور انسانی اخلاق و عادات کی تہذیب ہے۔ اسلام نے زمانہ جاہلیت کی بےبنیاد اور ظالمانہ رسوم کو مسترد کر کے ایک مہذب معاشرے کی بنیاد رکھی۔ اسلامی تہذیب و تمدن کے قیام کے لئے جو پہلی تدبیر اختیار کی گئی وہ انسانی جذبات کو ہر قسم کے ہیجان سے بچانا اور مرد و عورت کے اندر پائے جانے والے فطری میلانات کو اپنی جگہ باقی رکھتے ہوئے فطری انداز میں محفوظ کرنا ہے۔ اسی لیے ہر عاقل و بالغ عورت پر غیرمحرم مرد سے پردہ کرنا‘ چہرے، ہاتھوں اور پاؤں کے علاوہ سارے جسم کو چھپانا شرعاً واجب قرار دیا گیا ہے۔ اگر کوئی عورت شرعی پردہ نہیں کرتی تو وہ گنہگار ہوگی۔ ارشادِ باری تعالیٰ:
یٰٓاَیُّہَا النَّبِیُّ قُلْ لِّـاَزْوَاجِکَ وَبَنٰتِکَ وَنِسَآءِ الْمُؤْمِنِیْنَ یُدْنِیْنَ عَلَیْہِنَّ مِنْ جَلَابِیْبِہِنَّ ذٰلِکَ اَدْنٰٓی اَنْ یُّعْرَفْنَ فَـلَا یُؤْذَیْنَ وَکَانَ اﷲُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا. (الاحزاب، 33: 59)
’’ اے نبی! اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے فرما دیں کہ (باہر نکلتے وقت) اپنی چادریں اپنے اوپر اوڑھ لیا کریں، یہ اس بات کے قریب تر ہے کہ وہ پہچان لی جائیں (کہ یہ پاک دامن آزاد عورتیں ہیں) پھر انہیں (آوارہ باندیاں سمجھ کر غلطی سے) ایذاء نہ دی جائے، اور اللہ بڑا بخشنے والا بڑا رحم فرمانے والا ہے۔ ‘‘
اگرچہ اس آیت مبارکہ میں آپﷺ کی ازواج مطہرات اور صاحبزادیوں کو مخاطب کیا گیا ہے مگر یہ پیغام قیامت تک آنے والی تمام عورتوں کے لیے ہے کہ جب وہ باہر نکلیں تو چادریں اوڑھ لیا کریں۔ سورہ نور میں ان رشتوں کا ذکر کیا گیا ہے جن سے پردہ کرنا ہے:
وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِہِنَّ وَیَحْفَظْنَ فُرُوْجَہُنَّ وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَلْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِہِنَّ عَلٰی جُیُوْبِہِنَّص وَلَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَہُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اٰبَآئِہِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اَبْنَآئِہِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِہِنَّ اَوْ اِخْوَانِہِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اِخْوَانِہِنَّ اَوْ بَنِیْٓ اَخَوٰتِہِنَّ اَوْ نِسَآئِہِنَّ اَوْ مَا مَلَکَتْ اَیْمَانُہُنَّ اَوِ التّٰبِعِیْنَ غَیْرِ اُولِی الْاِرْبَۃِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّذِیْنَ لَمْ یَظْہَرُوْا عَلٰی عَوْرٰتِ النِّسَآءِ وَلَا یَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِہِنَّ لِیُعْلَمَ مَا یُخْفِیْنَ مِنْ زِیْنَتِہِنَّ وَتُوْبُوْٓا اِلَی اﷲِ جَمِیْعًا اَیُّہَ الْمُؤْمِنُوْنَ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ.
’’ اور آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ (بھی) اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کیا کریں اور اپنی آرائش و زیبائش کو ظاہر نہ کیا کریں سوائے (اسی حصہ) کے جو اس میں سے خود ظاہر ہوتا ہے اور وہ اپنے سروں پر اوڑھے ہوئے دو پٹے (اور چادریں) اپنے گریبانوں اور سینوں پر (بھی) ڈالے رہا کریں اور وہ اپنے بنائو سنگھار کو (کسی پر) ظاہر نہ کیا کریں سوائے اپنے شوہروں کے یا اپنے باپ دادا یا اپنے شوہروں کے باپ دادا کے یا اپنے بیٹوں یا اپنے شوہروں کے بیٹوں کے یا اپنے بھائیوں یا اپنے بھتیجوں یا اپنے بھانجوں کے یا اپنی (ہم مذہب، مسلمان) عورتوں یا اپنی مملوکہ باندیوں کے یا مردوں میں سے وہ خدمت گار جو خواہش و شہوت سے خالی ہوں یا وہ بچے جو (کمسنی کے باعث ابھی) عورتوں کی پردہ والی چیزوں سے آگاہ نہیں ہوئے (یہ بھی مستثنیٰ ہیں) اور نہ (چلتے ہوئے) اپنے پائوں (زمین پر اس طرح) مارا کریں کہ (پیروں کی جھنکار سے) ان کا وہ سنگھار معلوم ہو جائے جسے وہ (حکمِ شریعت سے) پوشیدہ کیے ہوئے ہیں، اور تم سب کے سب اللہ کے حضور توبہ کرو اے مومنو! تاکہ تم (ان احکام پر عمل پیرا ہو کر) فلاح پا جاؤ۔ ‘‘ (النور، 24: 31)
اسلام نے انسانوں کو اخلاق و کردار کے قیمتی جواہر سے نوازا ہے اور زندگی گزارنے کے اصول و آداب سے سرفراز کیا ہے۔ کن چیزوں کو اختیار کرنے سے ایک صالح اور پاکیزہ معاشرہ کی تعمیر ہوتی ہے اور کن چیزوں کو اپنانے کی وجہ سے معاشرہ داغدار ہوتا ہے اس کو بھی اسلام نے واضح فرما دیا ہے۔ اسلام شرم و حیاء کو ایک مسلمان کی زندگی کا بنیادی وصف قرار دیتا ہے۔ اسی لیے اسلامی معاشرے میں ’شرم و حیاء‘ کا بنیادی کردار ہے۔ حیاء انسان کے نیک و پاکباز اور سعادت مند ہونے کی علامت ہے۔
حضور نبی اكرمﷺ کا ارشاد ہے:
إِنَّ لِكُلِّ دِينٍ خُلُقًا، وَخُلُقُ الْإِسْلَامِ الْحَيَاءُ
ہر دین کی (ایک خاص) عادت ہوتی ہے اور اسلام کی عادت شرم و حیاء ہے۔ (ابن ماجه، السنن، كتاب الزهد، باب الحياء،۲:۱۳۹۹، رقم: ۴۱۸۱)
حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
إنَّ الْحَيَاءَ وَالإِيمَانَ قُرِنَا جَمِيعًا، فَإِذَا رُفِعَ أَحَدُهُمَا رُفِعَ الآخَرُ
حیاء اور ایمان دونوں ایک دوسرے سے ملے ہوئے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک اٹھ جائے تو دوسرا بھی خود بخود اٹھ جاتا ہے۔
(ابن أبي شيبة، المصنف،5 : 213، رقم: 2535)
حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
الإِيمَانُ بِضْعٌ وَسِتُّونَ شُعْبَةً، وَالحَيَاءُ شُعْبَةٌ مِنَ الإِيمَانِ
ایمان کی ستر سے زیادہ شاخیں ہیں اور حیاء بھی ایمان کی ایک (اہم) شاخ ہے۔ (بخاري، الصحيح، كتاب الإيمان، باب أمور الإيمان، 1 : 12، رقم: 9)
درج بالا ارشاداتِ ربانی میں پردے کے واضح احکام بیان ہورہے ہیں۔ اس لیے کم از کم شرعی پردہ کرنا ہر عورت پر لازم ہے، اگر کوئی نقاب کرتی ہے یا برقعہ اوڑھتی ہے تو یہ بلاشبہ پسندیدہ عمل ہے جس کا وہ خدا کی بارگاہ سے اجر پائے گی۔ اس کے برعکس اگر کوئی عورت شرعی پردہ بھی نہیں کرتی تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہ ہے۔ لہٰذا عورت پر شادی بیاہ، گھر، گلی بازار یا دیگر مواقع پر ہر غیر مرد سے شرعی پردہ کرنا فرض ہے۔ عورتیں خوف الہٰی دل میں رکھیں ایک دوسری کی طرف دیکھ کر اپنی آخرت تباہ نہ کریں، ہمیشہ شرعی حدود میں رہتے ہوئے باپردہ لباس پہنیں ورنہ شدید عذاب کا سامنا کرنا پڑے گا۔ شوہر مناسب طریقے سے منع کریں اور حکمت سے پیش آئیں تاکہ رشتہ داریاں بھی قائم رہیں اور شرعی حکم پر عمل بھی ہو جائے۔ اگر شرعی حدود قائم رکھنا ممکن نہ ہو تو ایسی شادی میں شامل ہونا درست نہ ہو گا۔ شادی میں ڈھول، باجا اور دف بجانا جائز ہے مگر اس میں افراط و تفریط نہیں ہونی چاہیے