شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا علمی، فکری اور تربیتی خصوصی خطاب
اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:
یٰٓـاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَوْفُوْا بِالْعُقُوْدِ۔ (المائدۃ، 5: 1)
’’ اے ایمان والو! (اپنے) عہد پورے کرو۔ ‘‘
ہم اکثر بڑے بڑے علمی مسائل پر بحث کرتے ہیں، فلسفوں پر بات کرتے ہیں، سیاستِ عالم پر گھنٹوں گفتگو کرتے ہیں، لیکن وہ چیز جو ہمارے اپنے وجود سے جڑی ہوئی ہے، جس سے ہمارا گھر چلتا ہے اور ہمارے بچوں کی پرورش ہوتی ہے، اس پر بات نہیں کرتے۔ یعنی ہمارا 'کسبِ معاش' کیا ہے؟ اس طرف ہم متوجہ نہیں ہوتے۔ اسی طرح ہم اس پر بھی بہت کم بات کرتے ہیں کہ وہ لوگ جو کسی منصب اور ذمہ داری پر فائز ہیں، ان کا اللہ اور اس کی مخلوق کے ساتھ کیا معاملہ ہونا چاہیے؟
مذکورہ آیتِ کریمہ میں ایک بہت بڑا فلسفہ پوشیدہ ہے۔ عام طور پر ہم سمجھتے ہیں کہ معاہدہ صرف وہ ہے جو دو تاجروں کے درمیان ہوا، یا جو دو ملکوں کے درمیان طے پایا۔ نہیں! زندگی کا سب سے بڑا معاہدہ وہ ہے جو ہم نے اس وقت کیا جب ہم نے کسی سرکاری یا پرائیویٹ ادارے میں شمولیت اختیار کی۔ جب ہم نے اس عہدے کا حلف اٹھایا، جب Joining Report پر دستخط کیے، تو ہم نے صرف ایک نوکری شروع نہیں کی بلکہ ایک بہت بڑے 'عقد' یعنی معاہدہ کو قبول کر لیا ہے۔
اگر اس عقد و معاہدہ کی شقوں پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ اس معاہدہ کی پہلی شق (Clause) یہ ہے کہ ہم نے اقرار کیا کہ 'میں روزانہ صبح نو بجے سے لے کر شام پانچ بجے تک اپنی تمام تر جسمانی اور ذہنی صلاحیتیں اس ادارے کے لیے وقف کروں گا'۔ یہ ہمارا پہلا وعدہ ہے۔ اگر ہم نو بجے کے بجائے ساڑھے نو بجے دفتر پہنچتے ہیں اور آدھا گھنٹہ جان بوجھ کر یا سستی میں ضائع کردیتے ہیں، تو کیا ہم نے اپنے اس عہد کو نبھایا؟
کسی مجبوری اور خدانخواستہ کسی حادثہ کے سبب تاخیر کا ہونا الگ معاملہ ہے لیکن اجتماعی طور پر ہم سب کا ایک مزاج بن گیا ہے کہ 'سرکاری دفتر ہے، کون سا میرے باپ کا ہے، جب مرضی چلے گئے، جب مرضی آ گئے'۔ اگر پرائیویٹ نوکری ہے تو چونکہ مالک خود موجود نہیں، لہذا وہاں بھی یہی سوچ کارفرما ہے کہ تاخیر سے جانے سے کون سی قیامت آجائے گی۔ یہ مزاج دراصل اس 'عقد' کی توہین ہے۔ جب ہم میں سے کوئی آدھا گھنٹہ چوری کرتا ہے تو کیا اس آدھے گھنٹے کی قیمت ہمارے پیٹ میں نہیں جا رہی؟ ہماری تنخواہ کا وہ حصہ جو اس آدھے گھنٹے کے عوض ہے، وہ ہمارے لیے کیسے حلال ہو سکتا ہے؟
کسی سرکاری یا پرائیویٹ آفس میں نوکری کرنے کے اس معاہدے کی دوسری شق یہ تھی کہ ہم نے کہا تھا کہ 'میں اس قلم، کرسی اور اس منصب کو اس مقصد کے لیے استعمال کروں گا جس کے لیے ریاست یا اس کمپنی و ادارہ کے مالکان نے اسے بنایا ہے'۔ اب اگر ہم اس عہدہ پر بیٹھ کر اپنی ذمہ داری کماحقہ نہیں نبھاتے یا اپنے کسی دوست کو ناحق نوازتے ہیں، یا صرف ان لوگوں کا کام کرتے ہیں جن سے ہمارا ذاتی تعلق ہے، تو ہم نے اس معاہدے کی دوسری شق بھی توڑ دی۔
اکثر لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ دعاؤں میں اثر نہیں رہا، نمازوں میں لذت نہیں رہی'۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ پہلے یہ دیکھیں کہ جو لقمہ آ پ کے اندر جا رہا ہے، کیا وہ 'وفائے عہد' کے بعد آیا ہے یا 'غداریِ عہد' کے بعد؟ یاد رکھیں! جب ہم نے اللہ کے نام پر عہد کیا کہ ہم امانت داری سے کام کریں گے اور پھر ہم نے اس میں خیانت کی تو وہ خیانت ہمارے پورے وجود کو پراگندہ کر دیتی ہے۔
حضور نبی اکرمﷺ نے غدار اور عہد توڑنے والے کے بارے میں ارشاد فرمایا:
لِكُلِّ غَادِرٍ لِوَاءٌ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُرْفَعُ لہ بِقَدْرِ غَدْرِهِ۔
(صحیح مسلم، کتاب الجہاد، باب تحریم الغدر)
'قیامت کے دن ہر عہد توڑنے والے (غدار) کے پاس ایک جھنڈا ہوگا، جو اس کی پیٹھ کے پیچھے نصب کیا جائے گا، اور اس کی بلندی اس کے غدر (دھوکے) کے برابر ہوگی'۔
پس جس نے جس قدر اپنے عہد کو توڑا ہوگا، عوام کے مسائل کو خواہ مخواہ کا جتنا طول دیا ہوگا اور اپنے منصب و ذمہ داری کا حق ادا نہ کیا ہوگا، اس کا غداری و بدعہدی کا جھنڈا اتنا ہی بلند ہوگا۔
بیت المال کے وسائل' اور 'اہلِ خانہ کی پرورش
ریاست یا کسی بھی پرائیویٹ ادارہ میں نوکری کرنے کے معاہدہ کی تیسری اور نہایت حساس شق اس دفتر کے املاک کا استعمال ہے۔ یہاں سے وہ باریکیاں شروع ہوتی ہیں جنہیں ہم نے اپنی زندگیوں میں بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔ کئی لوگ مجھے فخر سے یہ بتاتے ہیں کہ ’’ہم نے کبھی ایک روپیہ تک رشوت نہیں لی۔ ‘‘ میں ان سے کہتا ہوں کہ بہت اچھی بات ہے، لیکن یہ بتائیں کہ آپ کے دفتر میں جو سٹیشنری (کاغذ، پین وغیرہ) ہے، کیا اسے بھی آپ اور آپ کے بچے اپنے ذاتی کاموں کے لیے استعمال نہیں کرتے؟ دفتر کی گاڑی جو صرف آفیشل کاموں کے لیے ہے، کیا آپ اور آپ کے گھر والے اُسے ذاتی کاموں کے لیے استعمال نہیں کرتے؟ کیا اس میں کبھی آپ کی بیگم بازار سے اپنے گھریلو استعمال کی چیزیں خریدنے کے لیے نہیں گئی؟
یہ باتیں کتنی معمولی معلوم ہوتی ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ ایک کاغذ کے ٹکڑے سے کیا ہوتا ہے؟ ایک کلومیٹر گاڑی چلنے سے ریاست،کمپنی یا ادارے کا کیا بگڑ جائے گا؟' لیکن یاد رکھیں! اسلام کی نظر میں 'امانت' کا تعلق قیمت کے کم یا زیادہ ہونے سے نہیں ہوتا۔ امانت تو بس امانت ہوتی ہے۔ چاہے وہ ایک سوئی ہو یا سونے کا پہاڑ۔
حضرت عمر فاروقg سے روایت ہے کہ جنگ خیبر کے دن حضور نبی اکرم ﷺ کے صحابہ میں سے کچھ لوگ آئے اور کہنے لگے: فلاں شہید ہے اور فلاں شہید ہے، یہاں تک کہ ان کا گزر ایک شخص کے پاس سے ہوا تو اسے دیکھ کر کہنے لگے کہ فلاں بھی شہید ہے۔ اس پر آپﷺ نے فرمایا:
كلا إني رَأَيْتُهُ في النار في بُرْدَةٍ غَلَّهَا أو عباءة
”ہر گز نہیں، میں نے تو اسے مال غنیمت میں سے ایک چادر یا چوغہ چرانے کی وجہ سے آگ میں دیکھا ہے“۔
(صحیح مسلم، باب غلظ تحريم الغلول وانه لا يدخل الجنة إلا المؤمنون)
قابلِ غور بات یہ ہے کہ جس نے اللہ کی راہ میں جان دے دی، اسے وہ 'چادر' لے ڈوبی۔ کیوں؟ کیونکہ وہ 'عوامی مال' (Public Property) تھا، اس میں پوری ریاست کا حق تھا۔ من حیث القوم ہمارا عمومی مزاج ہے کہ ہم اپنے دفتر کا AC ضرورت نہ ہونے پر بھی چلائے رکھتے ہیں، آفیشل گاڑی اور پٹرول پر اپنی رشتہ داریاں نبھاتے ہیں اور دفتر کے نائب قاصدین اور سٹاف کو اپنے گھر کے ذاتی کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یاد رکھیں! یہ سب 'خیانت' ہے۔
جب ہم آفیشل فون سے اپنے گھر پر فون کرتے ہیں اور 15/10 منٹ تک صرف یہ ہی پوچھتے رہتے ہیں کہ 'آج کھانے میں کیا پکا ہے؟فلاں کام کا کیا بنا، بچے کیسے ہیں؟‘‘، تو ان 15/10منٹوں کی کال کے پیسے اگر ہم نے ادا نہیں کیے اور وہ آفیشل کھاتے میں گئے تو وہ ہمارے لیے حرام کا لقمہ بن گئے۔ ہم اسے 'سہولت' سمجھتے ہیں، اپنا 'حق' سمجھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ 'آخر ہم اتنی بڑی ذمہ داری و عہدہ پر ہیں، اتنا تو بنتا ہے'۔ یہ درست اور جائز عمل نہیں ہے۔ یاد رکھیں! اللہ کے ہاں ہمارے اس جملہ ’’اتنا تو بنتا ہے‘‘ کا کوئی خانہ نہیں ہے، وہاں تو ایک ایک ذرے کا حساب ہے۔
فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ خَیْرًا یَّرَہٗ۔ وَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّۃٍ شَرًّا یَّرَہٗ۔ (الزلزال، 99: 8، 7)
’’ تو جس نے ذرہ بھر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔ اور جس نے ذرہ بھر برائی کی ہوگی وہ اسے (بھی) دیکھ لے گا۔ ‘‘
جب ہم اپنے بچوں کے پیٹ میں وہ لقمہ ڈالتے ہیں جو آفیشل وقت کی چوری سے، یا آفیشل گاڑی و پٹرول کے دھوکے سےاستعمال سے یا کسی سائل کی مجبوری کا فائدہ اٹھا کر حاصل کیا گیا ہو، تو ہم اپنے بچوں کے دشمن بن جاتے ہیں۔ ہم انھیں وہ زہر دے رہے ہیں جو انھیں کبھی چین سے نہیں جینے دے گا۔
کیا کبھی ہم نے غور کیا کہ معاشرے میں بے سکونی کیوں ہے؟ گھروں میں لڑائیاں کیوں ہیں؟ بیماریاں کیوں نہیں جا رہیں؟ اس کی بڑی وجہ وہ 'مشتبہ رزقِ' ہے جو ہم اپنے گھروں میں لے کر جا رہے ہیں۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اولاد ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک بنے، تو ہمیں پہلے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ ان کے حلق سے نیچے اترنے والا ایک ایک قطرہ 'حلال اور طیب' ہو۔
2۔ تاریخ انسانی کا سب سے بڑا بیوروکریٹک آڈٹ
آیئے! تاریخِ انسانیت کے سب سے بڑے 'بیوروکریٹک آڈٹ' کو جانتے ہیں جو تاجدارِ ختمِ نبوت حضور نبی اکرمﷺ نے خود فرمایا۔ یہ واقعہ صرف ایک کہانی نہیں ہے، یہ ہر اس شخص کے لیے ضابطہِ اخلاق ہے جس کے ہاتھ میں کوئی بھی اختیار ہے۔ حدیثِ مبارک میں آتا ہے حضور نبی اکرمﷺ نے ابن اللتبیہ نامی ایک صحابی کو زکوٰۃ کی وصولی کے لیے ایک مخصوص قبیلے کی طرف بھیجا۔ وہ صحابی وہاں گئے، تپتی دھوپ میں سفر کیا، قبیلہ کے ایک ایک فرد کا حساب کیا، اونٹ اور بکریوں کا شمار کیا اور زکوٰۃ کا مال اکٹھا کیا۔ یعنی انھوں نے اپنی ذمہ داری پوری طرح نبھائی اور اس کام میں کوئی کوتاہی نہ کی۔
جب وہ واپس مدینہ منورہ پہنچے، تو انہوں نے آپﷺ کے سامنے دو ڈھیر لگا دیے۔ ایک طرف زکوٰۃ کا مال تھا اور دوسری طرف کچھ تحائف تھے۔ انہوں نے بڑے اعتماد سے کہا: 'یا رسول اللہﷺ!
ھٰذَا مَالَکُمْ وَھٰذا ھَدیۃٌ یہ آپ کا (ریاست کا) مال ہے اور یہ مجھے ہدیہ (تحفہ) دیا گیا ہے'۔
آپ ﷺ یہ سن کر اتنے جلال میں آئے کہ آپ ﷺ منبر پر تشریف لائے اور وہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا جو دنیا کے ہر افسر، ہر کلرک اور ہر وزیر کے لیے غور وفکر کا ساماں اپنے اندر لیے ہوئے ہے۔ آپﷺ نے فرمایا:
فَإِنِّي أَسْتَعْمِلُ الرَّجُلَ مِنْكُمْ عَلَى الْعَمَلِ مِمَّا وَلَّانِي اللَّهُ، فَيَأْتِي، فَيَقُولُ: هَذَا مَالُكُمْ وَهَذَا هَدِيَّةٌ أُهْدِيَتْ لِي، أَفَلَا جَلَسَ فِي بَيْتِ أَبِيهِ وَأُمِّهِ حَتَّى تَأْتِيَهُ هَدِيَّتُهُ إِنْ كَانَ صَادِقًا، وَاللَّهِ لَا يَأْخُذُ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْهَا شَيْئًا بِغَيْرِ حَقِّهِ إِلَّا لَقِيَ اللَّهَ تَعَالَى يَحْمِلُهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، فَلَأَعْرِفَنَّ أَحَدًا مِنْكُمْ لَقِيَ اللَّهَ يَحْمِلُ بَعِيرًا لَهُ رُغَاءٌ أَوْ بَقَرَةً لَهَا خُوَارٌ أَوْ شَاةً تَيْعَرُ،
میں تم میں سے کسی شخص کو کسی ایسے کام پر عامل بناتا ہوں جس کی تولیت (انتظام) اللہ تعالیٰ نے میرے سپرد کی ہے اور وہ شخص آتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ تم لوگوں کا مال ہے اور یہ ہدیہ ہے جو مجھے ملا ہے۔ وہ شخص اگر سچا ہے تو اپنے باپ یا اپنی ماں کے گھر میں کیوں نہ بیٹھ گیا تاکہ اس کا ہدیہ اس کے پاس آتا، اللہ کی قسم! تم میں سے جو شخص بھی اس مال میں سے کوئی چیز اپنے حق کے بغیر لے گا، وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ وہ چیز اس نے اپنی گردن پر اٹھا رکھی ہو گی، میں تم میں سے کسی بھی شخص کو ضرور پہچان لوں گا جو اللہ تعالیٰ کے سامنے اس حال میں پیش ہو گا کہ اس نے اونٹ اٹھایا ہو گا جو بلبلا رہا ہو گا، یا گائے اٹھا رکھی ہو گی جو ڈکار رہی ہو گی، یا بکری اٹھائی ہو گی جو ممیا رہی ہو گی۔ “(صحيح مسلم،كتاب الإمارة، باب تحریم ھدایا العمال)
قابلِ غور بات یہ ہے کہ ابن اللتبیہ نے کوئی چوری تو نہیں کی تھی؟ انہوں نے زکوٰۃ کے مال میں سے تو کچھ نہیں نکالا تھا؟ انہوں نے تو صرف وہ مال اپنے پاس رکھا جو وہاں کے لوگوں نے انہیں 'خوشی' سے دیا تھا لیکن حضور نبی اکرمﷺ کا اس پر ردعمل کسی بھی ذمہ داری و منصب پر فائز لوگوں کے لیے درسِ عبرت ہے۔
آقاe کے اس فرمان کی گہرائی کو ماپنے کی کوشش کریں۔ آپ ﷺ نے 'Conflict of Interest' (مفادات کا ٹکراؤ) کی وہ تعریف بیان کر دی جو آج کی جدید دنیا کی بڑی بڑی یونیورسٹیز میں پڑھائی جاتی ہے۔ آپ ﷺ نے سرکاری کام پر متعین صحابی پر واضح کردیا کہ آپ کو یہ تحائف و ہدایا آپ کی شکل و صورت، شرافت اور کردار کی وجہ نہیں ملے بلکہ صرف اس لیے ملے ہیں کہ آپ اس وقت 'سرکاری کرسی' پر بیٹھے ہیں اور آپ کے ہاتھ میں اختیار ہے۔ اگر آپ اس کرسی پر نہ ہوتے اور اپنے گھر کے کسی کونے میں گمنام بیٹھے ہوتے تو کیا یہ لوگ آپ کے گھر آ کر یہ اونٹ اور بکریاں آپ کو دیتے؟
ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ جب ایک پولیس والا ناکہ لگاتا ہے اور کوئی اسے 'چائے پانی' دے دیتا ہے، تو وہ اسے اپنا حق سمجھتا ہے۔ جب ایک پٹواری فرد نکالنے کے عوض 'نذرانہ' لیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ میں نے تو کوئی ڈیمانڈ نہیں کی تھی، اس نے خود خوشی سے دیے ہیں'۔ جب ایک سیکشن آفیسر کسی ٹھیکیدار کی فائل پر دستخط کرتا ہے اور بدلے میں وہ ٹھیکیدار اسے عمرے کا ٹکٹ دے دیتا ہے یا اس کے گھر کا راشن ڈلوا دیتا ہے، تو وہ کہتا ہے کہ 'یہ تو اللہ کا فضل ہے، یہ تو اس کی محبت ہے'۔
یاد رکھیں! یہ محبت نہیں ہے، یہ اللہ کا فضل نہیں ہے بلکہ یہ آگ ہے جو مختلف ذمہ داریوں پر فائز لوگ اس طرح کا کام کرکے اپنے پیٹ میں بھر رہے ہوتے ہیں۔ جس طرح ابن اللتبیہ کا ہدیہ حضور نبی اکرمﷺ نے 'خیانت' قرار دیا، اسی طرح ہر وہ فائدہ جو ہمیں ہمارے عہدے کی وجہ سے مل رہا ہے، وہ 'غلول' (خیانت) ہے۔
اس حدیث مبارک میں حضور نبی اکرمﷺ نے واضح فرمایا کہ جو شخص اس طرح خیانت کرے گا، وہ قیامت کے دن اس مال کو اپنی گردن پر اٹھا کر لائے گا۔ ذرا تصور کریں کہ قیامت کی گرمی ہے، سورج سوا نیزے پر ہے، لوگ اپنے پسینے میں ڈوبے ہوئے ہیں اور ایک پٹواری اپنی گردن پر وہ زمین اٹھائے ہوئے ہے جس کا اس نے غلط انتقال کیا تھا۔ ایک افسر اپنی گردن پر وہ گاڑی اٹھائے ہوئے ہے جو اس نے رشوت میں لی تھی۔ اپنے عہدہ و منصب کا غلط استعمال کرکے کمایا گیا مال یا حاصل کیا گیا فائدہ قیامت کے روز بولے گااور وہ شخص پوری کائنات کے سامنے ذلیل و رسوا ہوگا۔
مختلف سرکاری یا غیر سرکاری ملازمین اور افسران جو سرکاری یا پرائیویٹ ادارے کی آفیشل چیزوں کو اپنے ذاتی کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں اور آفیشل چیزوں کو مالِ مفت سمجھ کر بے رحم طریقے سے استعمال کرتے ہیں، کل قیامت کے دن یہ سب سے بڑے بھکاری ہوں گے۔ وہاں ان کی کوئی سفارش نہیں کرے گا۔
3۔ وقت کی امانت اور بیوروکریسی کے کام چوری کے بہانے
خیانت اور کرپشن کا ایک اور پہلو وقت کی چوری اور اختیار کا غلط استعمال ہے، جسے ہم بہت ہلکا لیتے ہیں۔ اکثر ملازم یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کسی سے نقد رقم نہیں لی، وہ بہت پاک صاف ہیں اور فخر سے کہتے ہیں کہ ہم نے کبھی حرام کو ہاتھ نہیں لگایا'۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اُن کا اپنے پاس آنے والے سائلین کے ساتھ کیسا رویہ ہے؟وہ سائل کو کتنا تڑپاتے ہیں؟ ان کے پاس جو فائل آتی ہے، اسے کتنا عرصہ اپنی دراز میں دبا کر رکھتے ہیں؟ یاد رکھیں! وقت کی چوری صرف یہ نہیں ہے کہ ہم دفتر دیر سے آئے، بلکہ وقت کی سب سے بڑی چوری یہ ہے کہ ہم نے اس سائل کا وقت ضائع کیا جو دور دراز سے اپنی امیدیں لے کر ہمارے پاس آیا تھا۔
جب ایک افسر کسی کی فائل پر دستخط کرنے میں بلاوجہ تاخیر کرتا ہے تو وہ دراصل اپنی 'انا' (Ego) کی تسکین کر رہا ہوتا ہے۔ اسے اچھا لگتا ہے کہ لوگ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ کر کھڑے ہوں اور اس کے دفتر کے باہر لائن لگی رہے۔ وہ اپنی کرسی کی طاقت کا احساس دلانے کے لیے سائل کو آنے والے دنوں پر ٹالتا رہتا ہے کہ ابھی کچھ مصروفیت ہے یا یہ کہتا ہے کہ فائل ابھی زیر غور ہے'۔
سائل کو خواہ مخواہ ٹالنا اور اسے آئندہ کسی دن آنے کا کہنا، یہ اللہ کے ہاں گناہ تصور کیا جاتا ہے۔ جس سائل کو ہم نے کل یا پھر آئندہ کسی دن کا کہہ کر ٹالا، کیا ہمیں معلوم ہے کہ دوبارہ آنے کے لیے اس کے پاس کرایہ ہے؟ کیا ہمیں معلوم ہے کہ اس کے گھر کے مالی حالات اور اس کی مجبوریاں کیا ہیں؟ کیا ہمیں معلوم ہے کہ جس کام کے رکنے کی وجہ سے وہ پریشان ہے، اس کی وجہ سے اس کی کتنی راتوں کی نیندیں اڑ چکی ہیں اور وہ نہایت ذہنی اذیت کا شکار ہے۔ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
'اللہم من ولی من امر امتی شیئاً فشق علیہم فاشقق علیہ' (صحیح مسلم، کتاب الامارۃ باب فضیلۃ الامام العادل)
اے اللہ! جو میری امت کے کسی معاملے کا ذمہ دار بنے اور وہ ان پر سختی کرے، تو اس پر تو بھی سختی فرما۔
کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ اگر اللہ ہم پر سختی کرنے پر آ گیا، تو ہم کہاں جائیں گے؟ اگر اللہ نے ہماری صحت یا اولاد پر سختی کر دی، موت کے وقت سختی کر دی، تو کیا یہ کرسی، یہ عہدہ، یہ گریڈ ہمیں بچا سکے گا؟ہم سمجھتے ہیں کہ ہم نے کسی کی فائل یا درخواست روک کر اپنی 'دھاک' بٹھا دی۔ نہیں، ایسا نہیں ہے بلکہ ہم نے اپنے لیے جہنم کا ایک انگارہ تیار کر لیا۔ ہمارے پاس ہماری ذمہ داریوں کے مطابق آنے والے سائلین ہمارے غلط طرزِ عمل اور بے جا تنگ کرنے کے سبب اگرچہ ہمارے سامنے کچھ نہیں کہتے مگر ان کے دل و دماغ میں یہ بات موجود ہوتی ہے کہ یہ کرسی ہمیشہ رہنے والی نہیں ہے، جو تکلیف اس نے مجھے دی اس کا حساب وہ کل قیامت کے دن دے گا۔
آج ہمارے دفاتر کا یہ حال ہے کہ 'سائل' کو ایک 'بھکاری' سمجھا جاتا ہے۔ اسے انسان نہیں سمجھا جاتا اور نہ ہی اسے عزت دی جاتی ہے۔ پرائیویٹ کی نسبت یہ افسر شاہی زیادہ تر سرکاری سطح پر پائی جاتی ہے۔ سرکاری ملازم کا اصل نام 'Public Servant' ہے، یعنی 'عوام کا خادم'۔ لیکن اس نے خود کو 'عوام کا حاکم' سمجھ لیا ہے۔ خادم کا کام خدمت کرنا ہوتا ہے، حاکم بن کر لوگوں پر رعب جھاڑنا نہیں۔
مخلوقِ خدا کی داد رسی نہ کرنے والے اور انھیں دفتری داؤ پیچ میں الجھانے والوں کا ضمیر زندہ نہیں ہوتا۔ انھیں اس بات پر شرم نہیں آتی کہ ایک بوڑھا آدمی، جس کی عمر اس کے باپ کے برابر ہے، وہ اس کے سامنے گھنٹوں کھڑا رہتا ہے اور وہ اپنے موبائل پر فیس بک چلا رہے ہوتا ہے۔ وہ اسے دیکھ کر بھی ان دیکھا کر دیتا ہے۔ یہ 'بے حسی' دراصل اس روحانی بیماری کی علامت ہے جو حرام مال اور تکبر سے پیدا ہوتی ہے۔
ہر وہ شخص جو جس بھی ذمہ داری پر فائز ہے، اگر مذکورہ امور میں سے کوئی بھی امر اس کے اندر موجود ہے تو وہ ابھی توبہ کرے۔ توبہ کا دروازہ ابھی کھلا ہے۔ اگر ہم میں سے کسی نے ماضی میں لوگوں کو تڑپایا ہے، تو آج ہی یہ عہد کرنا ہوگا کہ اب سے میرا دفتر 'آسانی' کا مرکز بنے گا، 'مشکل' کا نہیں۔ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
یسروا ولا تعسروا۔ (صحیح بخاری، کتاب الادب)
آسانیاں پیدا کرو اور مشکل میں نہ ڈالو۔
اگر ایک سائل کا کام پانچ منٹ میں ہوسکتا ہے اور ہم اسے پانچ دن چکر لگواتے اور تنگ کرتے ہیں، تو ان پانچ دنوں کا ایک ایک سیکنڈ ہمارے نامۂ اعمال میں 'ظلم' بن کر لکھا جائے گا۔ "
4۔ نظام کی خرابی یا مجبوری؟
ہمارے ہاں ایک اور بات بھی رائج ہوچکی ہے کہ ہم 'حرام' کو حلال کرنے کے لیے بڑے حیلے حربے استعمال کرتے ہیں۔ جب بھی کسی ملازم سے اس کی بدعنوانی یا کام چوری کے بارے میں بات کی جائے، تو وہ فوراً ایک دفاعی ڈھال (Defensive Shield) تیار کر لیتا ہےاور کہتا ہے کہ ’’یہ سب کتابی باتیں ہیں، آپ کو نہیں معلوم کہ سسٹم کتنا گندا ہو چکا ہے۔ یہاں تو اوپر سے نیچے تک سب ملے ہوئے ہیں۔ اگر میں ایسا ویسا نہ کروں، رشوت نہ لوں تو میں اس دفتر میں Survive نہیں کر پاؤں گا'۔
'سسٹم کی خرابی' کا یہ عذر دراصل شیطان کا وہ دھوکا ہے جس کے ذریعے وہ ایک ایماندار آدمی کے قدم ڈگمگا دیتا ہے۔ غور کریں کہ کل قیامت کے دن جب ہم اللہ کے سامنے کھڑے ہوں گے، تو کیا یہ کہہ سکیں گے کہ 'یا اللہ! میں نے اپنے دفتری ماحول کو ایسا اس لیے رکھا تھا اور رشوت اس لیے لی تھی کیونکہ میرے سینئرز بھی ایسا کرتے تھے۔ میں نے اس لیے سائل کو دفتری چکر لگوائے اور اس کے کام کو موخر کیا تھا کیونکہ میرے پورے محکمہ اور شعبہ کا یہی چلن تھا؟'
اس بات کو قرآن مجید میں ایک مقام پر یوں بیان فرمایا:
وَبَرَزُوْا لِلّٰہِ جَمِیْعًا فَقَالَ الضُّعَفٰٓؤُا لِلَّذِیْنَ اسْتَکْبَرُوْٓا اِنَّا کُنَّا لَکُمْ تَبَعًا فَہَلْ اَنْتُمْ مُّغْنُوْنَ عَنَّا مِنْ عَذَابِ اﷲِ مِنْ شَیْئٍ قَالُوْا لَوْ ہَدٰنَا اﷲُ لَہَدَیْنٰـکُمْ سَوَآءٌ عَلَیْنَآ اَجَزِعْنَآ اَمْ صَبَرْنَا مَا لَنَا مِنْ مَّحِیْصٍ۔ (ابراہیم، 14: 21)
’’ اور (روزِ محشر) اللہ کے سامنے سب (چھوٹے بڑے) حاضر ہوں گے تو (پیروی کرنے والے) کمزور لوگ (طاقتور) متکبروں سے کہیں گے: ہم تو (عمر بھر) تمہارے تابع رہے تو کیا تم اللہ کے عذاب سے بھی ہمیں کسی قدر بچا سکتے ہو؟ وہ (امراء اپنے پیچھے لگنے والے غریبوں سے) کہیں گے: اگر اللہ ہمیں ہدایت کرتا تو ہم تمہیں بھی ضرور ہدایت کی راہ دکھاتے (ہم خود بھی گمراہ تھے سو تمہیں بھی گمراہ کرتے رہے)۔ ہم پر برابر ہے خواہ (آج) ہم آہ و زاری کریں یا صبر کریں ہمارے لیے کوئی راہِ فرار نہیں ہے۔ ‘‘
یاد رکھیں! گناہ میں 'اکثریت' (Majority) کوئی دلیل نہیں ہوتی۔ اگر سارا شہر اندھیرے میں ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم بھی اپنا چراغ بجھا دیں۔ ہمارا چراغ ہماری اپنی قبر کو روشن کرے گا، پورے شہر کو نہیں۔ اسلام میں 'اجتماعی گناہ' کی بنیاد پر انفرادی چھوٹ کا کوئی تصور موجود نہیں ہے۔ ہمیں صرف اپنے عمل کا جواب دینا ہے۔
سائلین، ضرورت مند اور حقدار لوگوں کو ان کے جائز امور میں تنگ کرنے والے اور ان سے رشوت اور دیگر مالی مفادات کا تقاضا کرنے والے ایک دلیل یہ دیتے ہیں کہ ہماری تنخواہیں اتنی کم ہیں کہ سفید پوشی کا بھرم رکھنا مشکل ہو گیا ہے، اس لیے ہم یہ سب کرتے ہیں۔ یہ دلیل بھی بظاہر بڑی مضبوط دکھائی دیتی ہے۔ بلاشبہ تنخواہیں کم ہیں اور مہنگائی کا طوفان ہے، لیکن یاد رکھیں کہ جب تک جان بچانے کا مسئلہ نہ ہو، حرام حرام ہی رہتا ہے۔ ہم نے 'ضرورت' (Need) اور 'خواہش' (Wish) کے درمیان فرق ختم کر دیا ہے۔ ہماری ضرورت دال روٹی ہے، لیکن ہماری خواہش 'برانڈڈ' کپڑے، بڑی گاڑی ہےاور موبائل کے نت نئے ماڈلز ہیں۔ ایسا کہنے والے اپنی 'ضرورت' کے لیے رشوت نہیں لیتے بلکہ اپنی 'خواہشوں' کی قربان گاہ پر اپنا ایمان ذبح کرتے ہیں۔
جب ہم سسٹم کا حصہ بن کر 'مجبوری' کا راگ الاپتے ہیں، تو دراصل ہم اس ظلم کو مزید طاقت دے رہے ہوتے ہیں۔ اگر ایک دفتر میں دس میں سے دو لوگ بھی یہ عہد کرلیں کہ 'ہم نہ رشوت لیں گے اور نہ کسی کا ناجائز کام کریں گے' تویہ نظام لرزنے لگتا ہے۔ کرپشن ہمیشہ 'خوف' اور 'خاموشی' پر پلتی ہے۔ جب ہم خاموش ہو کر حصہ بٹورنے لگتے ہیں تو ہم صرف گناہگار نہیں بلکہ اس گندے نظام کے 'سہولت کار' بن جاتے ہیں۔
وہ لوگ جو سرکاری یا پرائیویٹ نوکری کے دوران آفیشل چیزوں کا غلط اور ذاتی استعمال نہیں کرتے، آنے والوں کے مسائل اور پریشانیوں کا بروقت ازالہ کرتے ہیں تو نوکری سے فارغ ہونے اور عہدہِ ملازمت مکمل ہونے کے بعد بھی ان کے سر فخر سے بلند ہوتے ہیں۔ ان کے بچے صالح ہوتے ہیں، ان کے گھر میں برکت ہوتی ہے اور ان کی نیند پر سکون ہوتی ہے۔ جبکہ اس کے برعکس کردار رکھنے والے، بڑی بڑی کرسیوں پر بیٹھ کر کروڑوں بنانے والے لوگ صحت، اولاد اور اپنے گھریلو حالات میں تباہی کا شکار ہوتے ہیں اور ان کی اولادیں ان کے لیے وبالِ جان بن چکی ہوتی ہیں۔
یاد رکھیں! ہماری انفرادی دیانت داری وہ بیج ہے جس سے مستقبل میں دیانت دار معاشرے کا درخت اگے گا۔ اگر ہم اکیلے بھی حق پر ہیں، تو اللہ کی نظر میں ہم ہی ’امت‘ ہیں۔
5۔ مظلوم کی آہ اور اس کے تباہ کن اثرات
اس دنیا کے اندر ایک ایسی طاقت ہے جس کا مقابلہ نہ ایٹم بم کر سکتا ہے اور نہ دنیا کی بڑی سے بڑی فوج کرسکتی ہے۔ وہ طاقت 'مظلوم کی آہ' ہے۔ مختلف مناصب اور ذمہ داریوں پر فائز لوگ جب اپنے ٹھنڈے کمرے میں بیٹھ کر کسی غریب سائل کی فائل پر 'اعتراض' لگا تے ہیں، جب جان بوجھ کر اسے در بدر کے دھکے کھانے پر مجبور کرتے ہیں، تو انھیں لگتا ہے کہ انھوں نے اپنی طاقت کا سکہ جما دیا لیکن انھیں یہ نہیں معلوم کہ اس وقت ان کے خلاف کائنات کی سب سے بڑی عدالت میں مقدمہ درج ہو چکا ہوتا ہے۔ ایک شخص دور دراز کے کسی پسماندہ علاقے سے آتا ہے، اس کے پاس کرائے کے پیسے نہیں ہوتے، وہ ادھار لے کر آتا ہے، کئی گھنٹے باہر دھوپ میں کھڑا رہتا ہے اور بھوکا پیاسا رہتا ہے۔ اس کی صرف ایک جائز تمنا ہوتی ہے کہ اسے اس کا حق مل جائے لیکن جب وہ ہمارے سامنے آتا ہے، تو ہم اسے ایک کیڑے مکوڑے کی طرح دیکھتے ہیں۔ ہم اس سے بات کرنا اپنی توہین سمجھتے ہیں اور اسے جھڑک دیتے ہیں۔ وہ شخص جب ہمارے دفتر سے باہر نکلتا ہے اور آسمان کی طرف دیکھ کر ایک ٹھنڈی سانس بھرتا ہے، تو وہ سانس نہیں ہوتی بلکہ وہ ایک ایسا تیر ہوتا ہے جو سیدھا عرشِ الٰہی تک پہنچتا ہے۔ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا:
اتق دعوة المظلوم، فإنہا لیس بینہا وبین اللہ حجاب۔ (صحیح بخاری،کتاب المظالم والغضب، باب الاتقاء والحذر من دعوۃ المظلوم)
مظلوم کی بددعا سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہے۔
بعض اوقات مظلوم کی بددعا زبان سے نہیں نکلتی، وہ اس کے ٹوٹے ہوئے دل سے نکلتی ہے۔ وہ بددعا نہیں دیتا بلکہ صرف اللہ پر اپنا معاملہ چھوڑ دیتا ہے اور جب اللہ کسی معاملے کو اپنے ہاتھ میں لے لےتو پھر وہ ظالم کی رسی دراز تو کرتا ہے مگر اسے چھوڑتا نہیں ہے۔
ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ بڑے بڑے جاہ و جلال والے افسران، جن کے ایک اشارے پر لوگ لرزتے تھے، بڑھاپے میں ان کا کیا حال ہوتا ہے؟ کسی کو ایسی بیماری لگتی ہے کہ اس کی ساری دولت اسے بچا نہیں پاتی۔ کسی کی اولاد اتنی نافرمان نکلتی ہے کہ وہ مرنے کی دعائیں مانگتا ہے۔ کسی کو ایسی رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے کہ وہ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہتا۔ یہ سب کیا ہے؟ یہ اس غریب کی آہ کا نتیجہ ہے جس کا حق اس نے مارا تھا۔ یہ اس بیوہ کی بددعا ہے جس کی پینشن اس نے روک لی تھی۔ یہ اس یتیم کی آنکھوں سے نکلنے والے آنسو ہیں جن کا جائز حق بھی دینے کے لیے اُسے اپنے دفتر میں مہینوں ذلیل کیا۔
یاد رکھیں!نفل نمازوں سے زیادہ بڑا ثواب کسی دکھی انسان کی داد رسی کرنا ہے'۔ اگر ہم کسی کا کام بغیر کسی لالچ کے اس لیے کر دیتے ہیں کہ وہ پریشان ہےتو اللہ ہمارے وہ کام خود بخود بنا دے گا جن کے لیے ہم پریشان ہیں۔
ہم بڑے بڑے عہدوں پر فائز لوگوں کے منہ سے یہ جملہ اکثر سنتے ہیں جسے وہ بڑے فخر سے بیان کرتے ہیں کہ 'میں نے فلاں سائل کو ایسا رگڑا لگایا کہ اسے نانی یاد آگئی'۔ یاد رکھیں! یہ الفاظ ہلاکت کا سامان ہیں۔ مناصب و ذمہ داریوں کے حاملین کو تو اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے تھا کہ اللہ نے انھیں اس قابل بنایا کہ وہ کسی کی مشکل حل کر سکیں۔ انھیں تو اس سائل کا احسان مند ہونا چاہیے تھا کہ وہ اس کی بخشش کا ذریعہ بن کر آیا تھا۔
ظلم صرف مار پیٹ کا نام نہیں ہے۔ ظلم کا سب سے بدترین روپ وہ ہے جب ایک صاحبِ اختیار اپنے اختیار کو کسی کی زندگی تنگ کرنے کے لیے استعمال کرے۔ اگر ہماری کرسی سے لوگوں کو ڈر لگتا ہے، تو ہم ناکام انسان ہیں لیکن اگر ہماری کرسی کو دیکھ کر لوگوں کو یہ امید بندھتی ہے کہ یہاں ہمیں انصاف ملے گا اور ہماری بات سنی جائے گی، تو ہم اللہ کے بہترین بندے ہیں۔