حبِ رسول کاتقاضا: محبتِ اہل بیتِ اطہار علیہم السلام

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

محرم الحرام کے یہ مبارک ایام آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے در اقدس تک رسائی کے لیے ہمیں اس واسطے اور وسیلے سے متمسک کرتے ہیں، جن کی محبت کے بغیر محبتِ مصطفیٰ ﷺ نصیب نہیں ہوتی۔ اہل بیتِ اطہار وہ ہستیاں ہیں جن کے وسیلے کے بغیر بابِ مصطفیٰ ﷺ نہیں کھلتا، جن کے در سے خیرات ملے بغیر حضور ﷺ کی نظرِ شفقت نصیب نہیں ہوتی۔ ان کی محبت دراصل حضور ﷺ ہی کی محبت ہے اور ان سے بغض، آپﷺ کی ناراضی کا سبب ہے۔ ان کی محبت میں اللہ کی محبت ہے اور ان کی ناراضی میں خدا کی ناراضی پوشیدہ ہے۔

اظہارِ محبت کی ایک صورت وہ ہے جسے آقا علیہ السلام نے امت کی رشد و ہدایت اور تربیت کے لیے خود اپنی سنت بنایا اور دوسری صورت وہ ہے جو صحابہ کرام lنے آقا علیہ السلام کی سنتِ مطہرہ پر عمل پیرا ہوتے ہوئے امت کے لیے شیوہ بنائی۔ ان دونوں صورتوں کو سمجھنا اس لیے ضروری ہے کہ آج جب ہم اپنے احوال پر نظر دوڑاتے ہیں تو امت افراط و تفریط کا شکار نظر آتی ہے۔ کہیں غلو ہے، کہیں ناصبیت کی جھلک ہے تو کہیں رافضیت کا غلبہ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس متوازن دائرے کو سمجھا جائے جو خود حضور نبی اکرمﷺ نے عطا فرمایا اور اہلِ بیتِ اطہار کی محبت کا وہ جام پیا جائے جو ہمیں ایک Balanced Approach مہیا کرتا ہے۔

اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں ارشاد فرمایا:

قُلْ لَّآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی

’’ فرما دیجیے: میں اِس (تبلیغِ رسالت) پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا مگر قرابت سے محبت (چاہتا ہوں)۔‘‘ (الشوریٰ، 42: 23)

حضورe کو خدمتِ دین اور پیغمبرانہ فریضہ کی انجام دہی کے عوض دنیاوی اجرت درکار نہیں۔ جب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا ہوگا کہ یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا کرنا چاہیے جس سے آپ ﷺ خوش ہو جائیں؟ تو اللہ رب العزت نے فرمایا کہ میرے محبوب! آپ فرما دیں کہ مجھے صرف یہ درکار ہے کہ میرے اہلِ بیتِ اطہار علیم السلام کے حق میں تمھارے دلوں میں مؤدت، وارفتگی، احترام موجود ہو اور یہ بھی میں اس لیے چاہ رہا ہوں تاکہ ان سے محبت کرنا تمہاری نجات کا ذریعہ بن سکے۔

اس آیت کریمہ میں 'علیہ' سے مراد وہ تمام خدماتِ دین ہیں جو حضورﷺ نے سرانجام دیں۔ آپﷺ نے ہمیں ایمان دیا، ہماری عاقبت بچائی، ہمیں صراطِ مستقیم پر لائے اور ہمیں صحابیت، تابعیت اور ولایت کے فیض سے مالا مال کیا۔ ہمیں تو حلال و حرام، کعبہ اور صاحبِ کعبہ کی خبر تک نہ تھی؛ یہ اللہ کا کرم ہے کہ اس نے اپنا محبوب ﷺ ہم میں مبعوث فرمایا۔ حضور ﷺ نے جو فرمایا ہم نے اسے مانا؛ آپ ﷺ نے فرمایا یہ حج ہے ہم نے کر لیا، فرمایا یہ روزہ ہے ہم نے رکھ لیا، فرمایا یہ نماز ہے تو ہم نے آپ ﷺ کی نقل کرتے ہوئے نماز ادا کر لی۔ حقیقت میں تمام عبادات حضورﷺ کی اتباع اور 'نقل' کا نام ہیں۔ آسان لفظوں میں یوں سمجھیں کہ حضور ﷺ کی نقل کریں تو اسلام مکمل ہوتا ہے، حضور ﷺ کی آل کی نقل کریں تو ایمان مکمل ہوتا ہے اور اگر ان دونوں کی نقل کریں تو مقامِ احسان مکمل ہوتا ہے۔

قرآن مجید اور اہلِ بیت اطہار علیہم السلام باہم متمسک ہیں

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ 'غدیرِ خم' کے مقام پر آقا e نے خطاب فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا:

اَنَا تارِک فیکم الثقلین۔ أَوَّلُهُمَا كِتَابُ اللهِ فِيهِ الْهُدَى وَالنُّورُ فَخُذُوا بِكِتَابِ اللهِ، وَاسْتَمْسِكُوا بِهِ

(صحیح مسلم، کتاب فضائل الصحابہ، رقم: 2408)

"اے لوگو! میں اپنے بعد تمہارے درمیان دو عظیم نعمتیں (ثقلین) چھوڑے جا رہا ہوں۔ان میں سے پہلی اللہ کی کتاب ہے جس میں ہدایت اور نور ہے، پس اللہ کی کتاب کو تھامے رکھو اور اس سے متمسک ہو جاؤ۔"

اولاً آپ ﷺ نے تاکید فرمائی کہ قرآن سے جڑ جاؤ، اس میں ڈوب جاؤ اور اس کے معانی و معارف سے اپنے قلوب کو منور کرو۔ قرآن کی تعلیم و ترغیب عطا کرنے کے بعد آقا علیہ السلام نے تین مرتبہ دہرا کر اہل بیت کے حقوق اور ان کی محبت کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:

وَاَھْلُ بیت أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي، أُذَكِّرُكُمُ اللهَ فِي أَهْلِ بَيْتِي

"دوسری عظیم نعمت میرے اہلِ بیت ہیں۔ میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے متعلق اللہ کی یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے متعلق اللہ کی یاد دلاتا ہوں، میں تمہیں اپنے اہلِ بیت کے متعلق اللہ کی یاد دلاتا ہوں۔"

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ ہی سے مروی دوسری روایت میں ان الفاظ کا اضافہ ہے کہ آقا علیہ السلام نے ارشاد فرمایا:

لن یفترقا حتی یردا علی الحوض فانظروا کیف تخلفون فیھما۔

یہ دونوں ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوض کوثر پر مجھ سے آملیں۔ لہذا یہ دیکھنا کہ تم میرے بعد ان کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتے ہو۔(سنن ترمذی، کتاب المناقب، رقم: 37788)

آپ ﷺ کے الفاظ نہایت قابلِ غور ہیں کہ یہ دونوں (قرآن اور اہل بیت) آپس میں متمسک اور جڑے ہوئے ہوں گے۔ قرآن؛ اہل بیتِ اطہار سے جڑا ہوگا اور اہل بیت؛ قرآن سے جڑے ہوں گے۔ تم ان ہستیوں کے پاس جاؤ گے تو تمہیں قرآن نظر آئے گا اور قرآن کھولو گے تو ان کی محبت کا درس ملے گا۔

آقا علیہ السلام کے یہ الفاظ "تم دیکھو کہ میرے بعد ان دونوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو؟" بھی نہایت قابلِ غور ہیں۔ آپﷺ ان کلمات کے ذریعے واضح فرمارہے ہیں کہ کیا تم قرآن کو صرف سجا کر، خوبصورت غلافوں میں لپیٹ کر الماریوں کی زینت بنا دیتے ہو یا اسے کھول کر پڑھتے بھی ہو؟ کیا تم قرآن فہمی کے لیے اس میں تدبر، تذکر، تعقل اور تفکر کرتے ہو؟ کیا تم قرآن کو اپنا ہم جلیس بناتے ہو؟ جب تم قرآن سے گفتگو کرتے ہو تو کیا پھر قرآن تم سے گفتگو کرتا ہے؟ اسی طرح میرے بعد میرے اہل بیتِ اطہار علیہم السلام کے ساتھ وفاداری کا رشتہ کیسے نبھاؤ گے؟

اس حوالے سے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا ایک نہایت خوبصورت قول امام بخاری اور امام احمد بن حنبل نے نقل کیا ہے، جس کے راوی حضرت عبداللہ بن عمررضی اللہ عنہما ہیں۔ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام اور امت سے مخاطب ہو کر فرمایا:

ارْقُبُوا مُحَمَّدًا ﷺ فِي أَهْلِ بَيْتِهِ

(صحیح بخاری، کتاب فضائل الصحابہ، رقم:3541)

"اہلِ بیت کے بارے میں محمد مصطفیٰ ﷺ کا لحاظ اور حیا رکھنا۔"

شارحِ بخاری علامہ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں کہ دراصل سیدنا ابوبکر صدیقg اس دنیا سے تشریف لے جانے سے پہلے امت کو وصیت فرما رہے تھے کہ مجھے تم سے صرف یہ عہد چاہیے کہ حضور ﷺ کی آلِ پاک کے معاملے میں ہمیشہ صاحبِ لولاکﷺ کا حیا کرنا۔ اگر کبھی ایسا وقت آ جائے کہ قوم متزلزل ہو جائے یا کسی تذبذب کا شکار ہو کر راہ متعین نہ کر پا رہی ہو، تو اس وقت چہرہِ مصطفیٰ ﷺ کا حیا کر لینا۔

صحابہ کرام اور اہلِ بیت اطہار کی باہمی محبت

محبتِ اہلِ بیتِ اطہار رضی اللہ عنہما کے حوالے سے بدقسمتی سے ہم توازن کو کھو بیٹھے ہیں کچھ لوگ رافضیت کی طرف نکل گئے اور کچھ ناصبیت کا شکار ہو گئے۔ یہاں ہمیں تحریک منہاج القرآن اور شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا وہ زریں اصول سمجھنا چاہیے کہ اہل بیت کی محبت قرآن کی رو سے فرض و واجب ہے۔ جو ان کو اذیت دیتا ہے، وہ دائرہ اسلام سے خارج ہے اور جو قرآن کی ان آیات کا منکر ہے، وہ بھی دین سے خارج ہوگیا ۔ اہلِ بیتِ اطہار سے محبت کا طریقہ وہی معتبر ہے جو خود حضور ﷺ نے بتایا اور صحابہ کرام نے کر کے دکھایا۔

فضیلت اور افضلیت کی ابحاث میں الجھنے کے بجائے ان سے پوچھیں جو چہرہِ علی کو تکنا بھی عبادت سمجھتے تھے۔ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان فرماتی ہیں کہ میں نے بارہا دیکھا کہ حضورﷺ کی مجلس سجی ہوتی، جس میں تمام اکابر صحابہ موجود ہوتے لیکن میرے بابا جان سیدنا صدیق اکبرg بار بار سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کے چہرہِ انور کو دیکھتے رہتے۔ میں نے اپنے والد گرامی سے پوچھا کہ ابا جان! کیا وجہ ہے کہ آپ مجلس میں بار بار سیدنا علیg کے چہرے کو اتنی کثرت اور تواتر سے دیکھتے ہیں؟ آپg نے فرمایا: "اے عائشہ! کیا تم نے نہیں سنا کہ حضورﷺ نے فرمایا ہے:

النَّظَرُ إِلَى وَجْهِ عَلِيٍّ عِبَادَةٌ (المستدرک للحاکم: 4681)

"علی (کرم اللہ وجہہ) کے چہرے کی طرف دیکھنا عبادت ہے۔"

ایک مرتبہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ منبرِ رسول ﷺ پر جلوہ افروز ہو کر خطاب فرما رہے تھے کہ سیدنا امام حسینe (جو ابھی کمسن تھے) قریب آئے اور فرمایا:

نزل عن منبر ابی، واذھب الی منبر ابیک

(الذھبی، سیراعلام النبلاء، 3: 285)

میرے نانا جان کے منبر سے اتریں اور اپنے والد کے منبر پر جائیں۔

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہ سن کر مسکرا پڑے، آپ کو اپنی بانہوں میں لیا اور نیچے اتر کر فرمایا: "میرے باپ کا کوئی منبر نہیں ہے یہ منبر تا قیامت آپ کے نانا جان کا ہی ہے۔یہ تھا صحابہ کرام کے دل میں اہل بیت کا احترام۔

دوسری طرف سیدنا علی کرم اللہ وجہہ کا طرزِ عمل دیکھیں کہ آپ رضی اللہ عنہ جب بھی خطبہ دیتے تو یہ الفاظ ضرور ادا فرماتے:

اللَّهُمَّ أَصْلِحْنِي بِمَا أَصْلَحْتَ بِهِ الْخُلَفَاءَ الرَّاشِدِينَ الْمَهْدِيِّينَ ۔ (الھندی، کنزالعمال، رقم: 36107)

"اے اللہ! میرے معاملات کی اصلاح ویسے ہی فرما جیسے تو نے مجھ سے پہلے خلفائے راشدین مہدیین کی اصلاح فرمائی تھی۔"

ایک قریشی شخص نے آپ سے پوچھا کہ اے امیر المؤمنین! وہ خلفائے راشدین کون ہیں جن کے لیے آپ ہر خطبہ میں دعا کرتے ہیں؟ آپ کی آنکھیں پرنم ہو گئیں اور آپ نے فرمایا: "وہ ابوبکر اور عمر (رضی اللہ عنہما) ہیں۔" سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان کے لیے جو الفاظ استعمال کیے، وہ سنہری حروف میں لکھے جانے کے قابل ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:

هُمَا إِمَامَا الْهُدَى، وَشَيْخَا الْإِسْلَامِ، وَرَجُلَا قُرَيْشٍ، وَالْمُقْتَدَى بِهِمَا بَعْدَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ

"وہ دونوں ہدایت کے امام، شیخ الاسلام، قریش کے عظیم مردِ حق اور رسول اللہ ﷺ کے بعد امت کے مقتدیٰ ہیں۔"

ان روایات سے واضح ہورہا ہے کہ صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کی باہمی محبت مثالی تھی۔ آج جو بھی تفرقہ بازی، افراط و تفریط یا صحابہ و اہل بیت کے درمیان جھگڑے کی بات کرتا ہے، وہ غلطی پر ہے۔ اصل راستہ وہی ہے جو سیدنا صدیق اکبر، سیدنا عمر فاروق اور سیدنا علی مرتضیٰl نے ہمیں دکھایا کہ اہل بیت کا احترام اور صحابہ کی عظمت ایک ہی چراغ کی دو روشنیاں ہیں۔ صحابہ کرام اس لیے محترم، معتبر، مقدم ہیں کہ انھیں صحابیت کا فیض ملا اور اہل بیت اطہار کو اس لیے فضیلت حاصل ہے کہ انھیں قرابت داری کا فیض ملا۔ جن کو صحبت کا فیض ملا، اُن کی صحبت میں بیٹھ کر صحابیت کا فیض لیں اور جن کو قرابتِ مصطفی کا فیض ملا، اُن کی قربت میں بیٹھ کر قربتِ مصطفی کا فیض لیں۔

اہل بیت اطہار علیہم السلام کی محبت سرمایہ ایمان ہے

اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا:

اَلَمْ تَرَ کَیْفَ ضَرَبَ اﷲُ مَثَـلًا کَلِمَۃً طَیِّبَۃً کَشَجَرَۃٍ طَیِّبَۃٍ اَصْلُہَا ثَابِتٌ وَّفَرْعُہَا فِی السَّمَآءِ۔ تُؤْتِیْٓ اُکُلَھَا کُلَّ حِیْنٍ م بِاِذْنِ رَبِّھَا وَیَضْرِبُ اﷲُ الْاَمْثَالَ لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ

’’ کیا آپ نے نہیں دیکھا، اللہ نے کیسی مثال بیان فرمائی ہے کہ پاکیزہ بات اس پاکیزہ درخت کی مانند ہے جس کی جڑ (زمین میں) مضبوط ہے اور اس کی شاخیں آسمان میں ہیں۔ وہ (درخت) اپنے رب کے حکم سے ہر وقت پھل دے رہا ہے، اور اللہ لوگوں کے لیے مثالیں بیان فرماتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں۔‘‘(ابراہیم، 14: 24۔ 25)

پاکیزہ کلام کی مثال اس پاکیزہ شجر کی مانند ہے جس کی جڑیں اپنی اصل کے ساتھ نہایت ثبات، استحکام اور مضبوطی کے ساتھ زمین میں پیوست ہوں۔ جو درخت اپنی اصل میں مضبوط ہو، پھل بھی وہی دیتا ہے۔ جو اپنی اصل سے جڑا ہوا نہ ہو اور اسے پیچھے سے کچھ میسر نہ آرہا ہو، وہ آگے کیا دے گا؟ پس جو اپنی جگہ پر دلائلِ قطعیہ اور براہینِ قطعیہ پر مستحکم ہوگا، جس کی فکر اور اعتقاد مضبوط ہوگا، اسی پر پھل لگیں گے، اسی کی شاخیں سایہ دار ہوں گی اور اسی کی شاخیں پھل دار نظر آئیں گی۔ دنیا کے لیے گرمی ہو یا سردی، خزاں ہو یا بہار، ان ہستیوں کے لیے ہمیشہ بہار ہی رہتی ہے جو اپنی اصل سے جڑی رہتی ہیں۔ جو اپنی اصل سے جڑے رہتے ہیں ان پر کبھی خزاں نہیں آتی۔ خزاں تو ان کا مقدر بنتی ہے جو اپنی اصل سے ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ جبکہ جو اپنی اصل سے جڑے رہتے ہیں اللہ کے حکم سے وہ ہر موسم میں پھل دیتے نظر آتے ہیں۔ ان کے ہاں کبھی کوئی کمی نظر نہیں آتی بلکہ بیشی ہی بیشی ہے۔ اس لیے کہ جس پر خزاں آئے اس کا ہاتھ رکتا ہے، مگر جس پر بہار رہے، اس کا ہاتھ ہمیشہ کھلا رہتا ہے اور وہی ہاتھ دیتا ہوا نظر آتا ہے۔ حدیث مبارک ہے:

اِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ وَاللہُ یُعْطِی۔ (کتاب العلم، رقم: 71)

تقسیم کرنے والا میں ہوں اور عطا وہ (اللہ) کرتا ہے۔

پھر جن کو وہ قاسم بنادیں، وہ بھی بانٹتے رہتے ہیں؛ ادھر سے عطا آرہی ہوتی ہے اور ادھر سے تقسیم ہورہی ہوتی ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! اس درخت سے کیا مراد ہے؟ تو آقاe نے فرمایا: اس درخت سے مراد میں ہوں اور وہ ٹہنی جس پر پھل لگنے ہیں، اس کا نام 'سیدہ کائنات' (سلام اللہ علیہا) ہے۔ سیدہ کائنات اس شجر کی وہ مضبوط ترین شاخ ہیں جس پر پتے اور پھول لگتے ہیں اور سیدنا علی (کرم اللہ وجہہ) ان پھولوں کو منتقل کرنے والے ہیں۔ عرض کیا گیا: یا رسول اللہ! پھر پھول کون ہوئے؟ فرمایا: حسن اور حسین اس کے پھول بھی ہیں اور پھل بھی۔ میری فاطمہ اس درخت کی وہ شاخ ہیں اور اس پر لگنے والے پھلوں کا نام حسنین کریمین (علیہم السلام) ہے۔ (مسند الفردوس، الرقم: 135)

پوچھا گیا: یا رسول اللہ! جو ان سے محبت کریں، ان کا اس درخت سے کیا تعلق ہے؟ فرمایا:

والمحبون اھل البیت ورقھا وھم فی الجنہ حقاحقا

جو اہل بیتِ اطہار کے دیوانے اور محبین ہیں، وہ اس درخت کے پتے ہیں اور وہ سب کے سب جنت میں ہوں گے۔

لازمی بات ہے کہ جب درخت جنت میں جائے گا تو پتے بھی ساتھ ہی جائیں گے۔ عام دنیاوی درختوں کے پتے جھڑتے ہیں کیونکہ ان پر خزاں آتی ہے مگر اس درخت نے تو سدا بہار رہنا ہے، اس پر کبھی خزاں نہیں آنی، اس نے ہر موسم میں ہرا بھرا رہنا اور پھل دینا ہے۔ جب اس شجر پر دائمی بہار ہے تو اس کی ٹہنیاں، شاخیں، تنے، پھول، پھل اور ان کی حفاظت کرنے والے پتے بھی ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔ اہل بیت کے محبین اس لیے ان کے ساتھ ہیں کہ اس درخت پر بہار نے رہنا ہے اور ان پتوں نے اس لیے نہیں جھڑنا کیونکہ ان پر بھی بہار نے رہنا ہے۔

پس حضورﷺ نے واضح فرمادیا کہ میں ایک درخت ہوں اور اس درخت کی شاخیں سیدہ فاطمہ سلام اللہ علیھا ہیں۔ اگر اس درخت کے سائے میں بیٹھنا ہے تو وہ سایہ تمھیں سیدہ کائنات کے در سے ہی ملے گا۔ اگر اس درخت کی خوشبو لینی ہے تو اس درخت کے پھول علی کرم اللہ وجہہ ہیں۔ اگر اس درخت سے کچھ کھانا ہے تو اس درخت کے پھل حسنین کریمین ہیں۔ اس درخت کا رزق تمھیں حسنین کریمین علیہم السلام کی بارگاہ سے ہی ملے گا۔

پس یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی درخت کو تو تھامے مگر اس کے پتوں، شاخوں اور پھلوں کو چھوڑ دے؟ اگر شجرِ مصطفیﷺچاہیے تو یہ مکمل پیکج لینا پڑے گا۔ یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی کہے کہ حضورﷺ سے تو محبت ہے مگر آپ کی آل سے نہیں۔ اگر سایہ چاہیے، خوشبو چاہیے اور پھل چاہیے تو اس پورے درخت کے نیچے آنا پڑے گا۔

محبتِ اہلِ بیت اطہار: فرامین مصطفیؐ کی روشنی میں

آقا علیہم السلام نے متعدد فرامین کے ذریعے اہلِ بیت اطہار اور حسنین کریمین رضئ اللہ عنہما سے محبت کی طرف متوجہ کیا۔ چند فرامین ملاحظہ ہوں: ارشاد فرمایا:

حُسَيْنٌ مِنِّي وَأَنَا مِنْ حُسَيْنٍ، أَحَبَّ اللَّهُ مَنْ أَحَبَّ حُسَيْنًا، حُسَيْنٌ سِبْطٌ مِنَ الْأَسْبَاطِ

"حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں، اللہ اس سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرے۔ حسین میری نسل میں سے ایک عظیم شاخ ہے۔"(سنن ترمذی: 3775)

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا:

مَنْ أَحَبَّ الْحَسَنَ وَالْحُسَيْنَ فَقَدْ أَحَبَّنِي، وَمَنْ أَبْغَضَهُمَا فَقَدْ أَبْغَضَنِي (مسند احمد، رقم: 7863)

"جس نے حسن اور حسین سے محبت کی اس نے درحقیقت مجھ سے محبت کی، اور جس نے ان سے بغض رکھا اس نے مجھ سے بغض رکھا۔"

ایک اور روایت میں ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے دعا فرمائی:

اللَّهُمَّ إِنِّي أُحِبُّهُمَا فَأَحِبَّهُمَا، وَأَحِبَّ مَنْ يُحِبُّهُمَا

(سنن ترمذی، کتاب المناقب، رقم:3769)

"اے اللہ! میں ان دونوں سے محبت کرتا ہوں، تو بھی ان سے محبت فرما اور جو ان دونوں سے محبت کرے، مولا تو اس شخص سے بھی محبت فرما۔"

یہ محبت کا وہ طریقہ اور معیار ہے جو ہمیں بتایا گیا ہے کہ جسے حسنین کریمینd سے محبت ہے، اللہ بھی اس سے محبت فرماتا ہے۔

آقا علیہ السلام نے فرمایا:

أَحِبُّوا اللَّهَ لِمَا يَغْذُوكُمْ مِنْ نِعَمِهِ، وَأَحِبُّونِي بِحُبِّ اللَّهِ، وَأَحِبُّوا أَهْلَ بَيْتِي لِحُبِّي (سنن ترمذی، کتاب المناقب:3879)

"اللہ سے محبت کرو اس کی نعمتوں کی وجہ سے، مجھ سے محبت کرو اللہ کی محبت کی خاطر، اور میرے اہل بیت سے محبت کرو میری محبت کی خاطر۔"

امام طبرانی نے سیدنا امام حسن ٰe سے روایت نقل کی ہے:

الْزَمُوا مَوَدَّتَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ، فَإِنَّهُ مَنْ لَقِيَ اللهَ وَهُوَ يَوَدُّنا دَخَلَ الْجَنَّةَ بِشَفَعَتِنا والذي نفسي بيده لا ينفع عبداً عمله إلا بمعرفة حقنا۔ (المعجم الاوسط للطبرانی: 2230)

ہم اہل بیت کی مودت اور محبت کو مضبوطی سے تھام لو۔جو شخص بھی اللہ سے اس حال میں ملا کہ وہ ہم سے محبت کرتا ہوگا، تو وہ ہماری شفاعت سے جنت میں داخل ہوگا۔ اس ذات کی قسم جس کے قبضہِ قدرت میں میری جان ہے! کسی شخص کا عمل اس وقت تک اسے نفع نہیں دے گا جب تک وہ ہماری معرفت کی حقیقت تک نہیں پہنچ جاتا۔ جب تک حقیقتِ اہل بیت کی معرفت مکمل نہیں ہوگی شفاعت نصیب نہیں ہوگی اور جسے شفاعت نہ ملی وہ بارگاہِ الٰہی میں ٹھکرا دیا جائے گا۔

سیدنا امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا:

لِكُلِّ شَيْءٍ أَسَاسٌ، وَأَسَاسُ الْإِسْلَامِ حُبُّ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ وَحُبُّ أَهْلِ بَيْتِهِ (السیوطی، الدرالمنثور، 7: 380)

"ہر چیز کی ایک بنیاد ہوتی ہے، اور اسلام کی بنیاد میرے صحابہ اور میرے اہل بیت کی محبت ہے۔"

سیدنا علی بن حسین امام زین العابدین اپنے والد سیدنا امام حسین سے روایت کرتے ہیں اور وہ اپنے والد سیدنا علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے سیدنا امام حسن مجتبیٰ اور سیدنا امام حسین d کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور فرمایا:

مَنْ أَحَبَّنِي وَأَحَبَّ هَذَيْنِ وَأَبَاهُمَا وَأُمَّهُمَا كَانَ مَعِي فِي دَرَجَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ

(سنن ترمذی، کتاب المناقب، رقم:3733)

"جس نے مجھ سے محبت کی اور ان دونوں (حسن و حسین) سے محبت کی، اور ان کے بابا اور ان کی والدہ سے محبت کی، وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجے میں ہوگا۔"

قابلِ غور نکتہ یہ ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے اپنی محبت کے بارے میں فرمایا:

لا یومن احدکم حتی اکون احب الیہ من ولدہ ووالدہ والناس اجمعین۔(صحیح البخاری، کتاب الایمان، رقم: 150)

جس نے مجھ سے اپنی جان سے بڑھ کر، اپنی اولاد اور والدین سے بڑھ کر محبت کی، وہ صاحبِ ایمان ہے۔ گویا اس اعتقاد کے ساتھ محبت ہو کہ کائنات کی ہر شے اس محبت کے سامنے ہیچ ہو جائے۔ اب اسی سطح کی محبت کی ڈیمانڈ آپﷺ حسنین کریمین، حضرت علیg اور سیدہ کائنات سلام اللہ علیھا کے لیے بھی طلب فرمارہے ہیں۔ اگر اس سطح کی محبت ہوگی تو قیامت والے دن معیتِ مصطفیﷺ نصیب ہوگی۔

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ آقا علیہ السلام نے فرمایا:

الحسن والحسین ابنای، من أحبّهما أحبّني، ومن أحبّني أحبّه الله، ومن أحبّه الله أدخله الجنة

"حسن اور حسین میرے بیٹے ہیں۔ جس نے ان دونوں سے محبت کی، اس نے مجھ سے محبت کی اور جس نے مجھ سے محبت کی، اللہ نے اس سے محبت کی اور جس سے اللہ نے محبت کی، اسے اللہ نے جنت میں داخل کر دیا۔"

صحابہ کرامl کا معمول تھا کہ وہ حضور نبی اکرم ﷺ کے بعد آپ ﷺ کی آل کا وسیلہ اللہ کی بارگاہ میں پیش کرکے دعا مانگتے تھے۔جب مدینہ منورہ میں قحط پڑا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب رضی اللہ عنہ (نبی کریم ﷺ کے چچا) کو آگے بڑھا کر اللہ تعالی سے بارش کی دعا کروائی اور عرض کیا:

اللَّهُمَّ إِنَّا كُنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِنَبِيِّنَا ﷺ فَتَسْقِينَا وَإِنَّا نَتَوَسَّلُ إِلَيْكَ بِعَمِّ نَبِيِّنَا فَاسْقِنَا قَالَ فَيُسْقَوْنَ

(صحيح البخاري كتاب الاستسقاء باب سؤال الناس الإمام الاستسقاء إذا قحطوا، الرقم: 1010)

"اے اللہ! پہلے ہم تیرے پاس اپنے نبی کریمﷺ کا وسیلہ لایا کرتے تھے (یعنی آپﷺ کی دعا سے بارش مانگتے تھے)، تو تو پانی برساتا تھا۔ اب ہم اپنے نبی کریم ﷺ کے چچا (عباس) کو وسیلہ بناتے ہیں، تو ہم پر پانی برسا"۔

حضرت عبداللہ بن مسعودg سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا:

حب آل محمد يوماً خير من عبادة سنة ، ومن مات عليه دخل الجنة۔ (مسند الفردوس، 2: 124، الرقم: 2721)

"آلِ محمد (اہل بیت) کی محبت میں ایک دن گزارنا (نفلی) سال بھر کی عبادت سے بہتر ہے اور جو اس محبت پر مرا، وہ جنت میں داخل ہو گا"۔

حضور نبی اکرمﷺ نے اپنے متعدد فرامین کے ذریعے اہلِ بیت اطہار علیہم السلام کی محبت کو اس شدومد سے واضح فرمادیا ہے کہ اب یہ ممکن ہی نہیں ہے کہ صحابہ کرام، اہل بیت اطہار سے اسی انداز میں محبت نہ کرتے ہوں۔ یقیناً سیدنا ابوبکر صدیق، سیدنا عمر فاروق اور جملہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم جب ان ہستیوں سے محبت کرتےہوں گے تو کہتے ہوں گے: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ مجھے میری جان سے بڑھ کر پیارے ہیں، میری آل سے بڑھ کر پیارے ہیں اور میری ہر شے سے بڑھ کر پیارے ہیں۔ اس لیے کہ انھیں معلوم تھا کہ ان ہستیوں سے ایسی محبت کریں گے تبھی وہ حضور ﷺ کی محبت کے کامل معیار تک پہنچیں گے اور جب حضورﷺ کی محبت نصیب ہوگی تب ہی اللہ کی محبت بھی نصیب ہوگی۔

اب اگر کوئی صحابہ کرام اور اہل بیت اطہار کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی کوشش کرے تو اسے علم ہونا چاہیے کہ صحابہ سے بڑھ کر ایمان کی حفاظت کرنے والا کون ہوگا؟ انہیں معلوم تھا کہ اگر اہل بیت سے ہماری محبت میں تھوڑی بھی کمی رہ گئی تو حضورﷺ سے محبت میں کمی آ جائے گی۔ انہیں فکر تھی کہ اگر ہمارا محبت کا لیول حسنین کریمین، سیدنا علی، سیدہ کائنات یا پنجتن پاک کی بارگاہ میں ذرا بھی گر گیا تو ہمارا ایمان خطرے میں پڑ جائے گا۔ وہ تو ایمان کی فکر کرنے والے لوگ تھے۔ اس لیے وہ اہل بیتِ اطہار کی محبت کو ہمیشہ مقدم رکھتے تھے۔

یہی وہ نسبتیں ہیں جن کے صدقے سے ہم جی رہے ہیں۔ ہماری بہاریں اُن کی نسبتوں کی وجہ سے ہیں۔ اہل بیت اطہار کے حوالے سے یہ عقیدہ ہو تو ایمان مکمل ہوتا ہے۔ اللہ رب العزت ہمیں اسی نسبت میں جینے اور مرنے کی توفیق عطا فرمائے اور آخرت میں بھی اسی نسبت کے سائے تلے اٹھیں۔