حسنین کریمین علیہم السلام کا سیرت و کردار اور پیغامِ کربلا

پروفیسر ڈاکٹر حسین محی الدین قادری

امتِ مسلمہ کو قرآن مجید اور اہل بیت اطہارعلیہام السلام کے ظاہری وجود مسعود کی صورت میں دو عظیم نعمتیں جس دور میں میسر تھیں، وہ دور آج کے دور جیسا نہ تھا۔ وہ ایسا دور تھا جہاں علمِ دین سیکھنے والوں کے سامنے خود تاجدارِ کائنات ﷺ کی ذاتِ اقدس اور آپ کا اسوۂ حسنہ تھا۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ،سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ اور دیگر جملہ صحابہ کرامl براہِ راست آقا ﷺ کے فیض یافتہ تھے اور ان میں سے ہر ایک شخص صاحبِ کرامت تھا۔

ان عظیم صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بعد اُن میں سے کئی کی اولادوں کو بھی شرفِ صحابیت نصیب ہوا۔ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی یہ اولادیں بھی اپنے اخلاق میں بلندیاں رکھنے والی، اپنے طور اطوار اور وطیرہ میں بے مثال اور اپنے نسب میں بھی جاہ و بلندی رکھنے والی تھیں لیکن اگر ہم حسنین کریمینd کی عظمتوں اور معرفت کی بات کریں اور آپ کے اسوۂ حسنہ، اخلاقِ کمال، علمِ دین میں آپ کے فہم اور آپ کی عطا و نصرت کو دیکھیں تو اس دور کے جلیل القدر لوگوں میں بھی آپd کی یہ صفات اتنی بلند تھیں کہ ہر کوئی آپ کا معترف تھا۔پھر اس پر مستزاد وہ نسب کی عظمت تھی جو طرۂ امتیاز بنی۔ جب یہ شہزادے جوان ہو کر اپنی زندگی کے معاملات میں مصروف ہوئے اور لوگوں میں رشد و ہدایت کا کام کرنے لگے تو کربلا کے واقعہ سے بہت پہلے امتِ مسلمہ میں جہاں جہاں تک علمِ دین کا پیغام پہنچ رہا تھا، وہاں ان شہزادوں کی عظمتوں کے ڈنکے بھی بج رہے تھے۔ آپ کے کردار کی عظمت، علم کی وسعت، متانت، شرافت، معرفت، سخاوت اور عدالت نے بھی لوگوں کے دلوں میں بلند مقام پیدا کر لیا تھا۔

ہم جب بھی امامِ عالی مقام امام حسین علیہم السلام کا تذکرہ کرتے ہیں تو عموماً ان کے بچپن کی باتیں زیادہ بیان کرتے ہیں اور آقاe کا ان سے اظہارِ محبت ہمارا موضوع ہوتا ہے یا ہم کربلا کے وہ واقعات بیان کرتے ہیں جن سے ان کی عظمت کا اظہار سامنے آتا ہے۔ یقیناً کربلا کے واقعات آپ علیہ السلام  کی عظمت کا عظیم اظہار ہیں لیکن آقا علیہ الصلوۃ والسلام کے وصالِ مبارک کے بعد سے لے کر کربلا کے معرکے تک، ان عظیم المرتبت شہزادوں نے امتِ مسلمہ کے اندر جو بھرپور زندگی گزاری، اُس زندگی کو بھی جاننے کی ضرورت ہے کہ وہ کیا عظمتیں اور اخلاق تھے جس نے حسنین کریمینd کو دنیا کا امام بنا دیا تھا؟حضرت علامہ اقبال نے کہا تھا:

درمیانِ امت آں کیواں جناب

ہمچو حرفِ قل ھواللہ در کتاب

"جیسے سورۂ اخلاص کا مقام قرآن میں ہے، ویسے ہی امامِ حسین کا مقام اسلام میں ہے۔"

بعد از شہادت تلاوتِ قرآن کی کرامت کا سبب

اس بات کو سمجھنے کے لیے اُس واقعہ کو یاد کریں جسے حضرت زید بن ارقمg روایت کرتے ہیں کہ جب دشمنوں نے امامِ عالی مقام کا سرِ مبارک تن سے جدا کر کے نیزے پر رکھ دیا اور اسے شہروں اور گلیوں میں گھمانے لگے تو میں اپنے گھر کے بالا خانے سے وہ منظر دیکھ رہا تھا۔ جب میری نگاہ امامِ عالی مقام کے سرِ انور پر پڑی تو میں نے دیکھا کہ امامِ عالی مقام کے لب متحرک ہیں اور آپ سورۂ کہف کی اس آیت کی تلاوت فرما رہے ہیں:

اَمْ حَسِبْتَ اَنَّ اَصْحٰبَ الْکَھْفِ وَالرَّقِیْمِ کَانُوْا مِنْ اٰیٰتِنَا عَجَبً

’’ کیا آپ نے یہ خیال کیا ہے کہ کہف و رقیم (یعنی غار اور لوحِ غار یا وادیِ رقیم) والے ہماری (قدرت کی) نشانیوں میں سے (کتنی) عجیب نشانی تھے؟۔‘‘(الکہف، 18: 9)

دوسری روایت میں ہے کہ ایک شخص سورۂ کہف کی اسی آیت کی تلاوت کررہا تھا کہ اس کے قریب سے یہ قافلہ گزرا جس میں امام عالی مقام کا سرانور نیزے پر تھا۔ جونہی پڑھنے والے نے یہ آیت پڑھی تو امام عالی مقامe کے لب ہائے مبارک سے یہ کلمات ادا ہوئے:

اعجب من اصحاب الکہف قتلی وحملی

میرا قتل کیا جانا اور میرے سر کو لیے پھرنا اصحابِ کہف کے واقعہ سے بھی زیادہ عجیب ہے۔

علمائے کرام نے اس عمل کی بہت سی توجیہات بیان کی ہیں۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ شہادتِ امامِ عالی مقام کے بعد بھی تلاوتِ قرآن کا عمل مبارک کیوں جاری ہوا؟ کرامت کی کوئی اور شکل بھی تو ہو سکتی تھی، لیکن نیزے پر سرِ انور قرآن ہی کی تلاوت کیوں کر رہا تھا؟ اس واقعہ کا تعلق اس حدیثِ مبارک سے ہے جسے حدیث ثقلین کہا جاتا ہے۔ آقاe نے فرمایا:

إِنِّي تَارِكٌ فِيكُمْ الثقلین مَا إِنْ تَمَسَّكْتُمْ بِهِ لَنْ تَضِلُّوا بَعْدِي، أَحَدُهُمَا أَعْظَمُ مِنَ الْآخَرِ: كِتَابُ اللَّهِ حَبْلٌ مَمْدُودٌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْضِ، وَعِتْرَتِي أَهْلُ بَيْتِي، وَلَنْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى يَرِدَا عَلَيَّ الْحَوْضَ (جامع ترمذی: 3788)

"میں تم میں ایسی دو چیزیں چھوڑے جا رہا ہوں کہ اگر میرے بعد انہیں مضبوطی سے تھامے رکھا تو کبھی گمراہ نہ ہو گے، ان میں سے ایک دوسرے سے افضل ہے؛ ایک اللہ تعالیٰ کی کتاب جو آسمان سے زمین تک لٹکی ہوئی رسی کی مانند ہے اور دوسری میری عترت (اہلِ بیت) ہے، اور یہ دونوں ایک دوسرے سے ہرگز جدا نہ ہوں گے یہاں تک کہ حوضِ کوثر پر مجھ سے مل لیں۔"

امامِ عالی مقام کا سرِ انور شہادت کے بعد بھی نیزے پر بلند ہو کر قرآن کی تلاوت اس لیے کر رہا تھا تاکہ اہلِ جہاں کو بتا دے کہ تم چاہے امامِ عالی مقام یا اہل بیتِ اطہار کے سروں کو ان کے اجساد سے جدا کر لو، مگر مصطفیٰ ﷺ کا فرمان برحق ہے کہ قرآن اور اہل بیت ہمیشہ ساتھ ساتھ رہیں گے اور ایک دوسرے سے جدا نہیں ہوں گے۔ شہادت کے بعد لبِ امام سے جاری تلاوت پکار پکار کر کہہ رہی تھی کہ قرآن کا ساتھ اہل بیت کے ساتھ زندگی میں بھی ہے اور زندگی کے بعد بھی ہے۔ امامِ عالی مقام درحقیقت زبانِ حال سے یہ اعلان فرما رہے تھے کہ میرے نانا ﷺ کا لایا ہوا قرآن اور اس کا پیغام؛ اس کی بقا، سلامتی، توقیر اور رسائی مجھ سے وابستہ ہے۔ پہلے بھی قرآن کا پیغام مجھ سے جاری تھا اور شہادت کے بعد بھی مجھ ہی سے جاری رہے گا۔

امامِ عالی مقام کی ذاتِ بابرکت ظاہر و باطن میں عکسِ مصطفیٰﷺ ہے۔سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اخلاق کے بارے میں فرمایا تھا کہ حضور ﷺ کے اخلاق تو عین قرآن تھے۔ معلوم ہوا کہ قرآن حضورﷺ کے اخلاق کا بیان ہے۔ ایک اور حدیث مبارک ہے کہ حسنین کریمین علیہم السلام آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام کی شبیہ تھے۔ یہ مشابہت صرف ظاہر تک محدود نہیں بلکہ ظاہر اور باطن میں بھی ہے۔ اگر آقاﷺ کا اخلاق قرآن ہے، تو پھر یہ بات لازم ٹھہرتی ہے کہ مانا جائے کہ حسنین کریمین علیہم السلام کے اخلاق بھی قرآن جیسے ہیں۔ نیزے پر سرِ امامِ عالی مقام کا تلاوت کرنا اسی حقیقت کا اظہار تھا کہ حسنین کریمین علیہم السلام کے اخلاق بھی قرآن کا عملی نمونہ ہیں۔

حسنین کریمین علیہم السلام ظاہر و باطن میں شبیہِ مصطفیٰ تھے

حسنین کریمین علیہم السلام آپ ﷺ کے ظاہر کے ساتھ ساتھ آپﷺ کے باطن کے امین بھی تھے اور آپ ﷺ کا باطن بھی کامل طور پر ان کی عظمت سے جھلکتا تھا۔ محدثین، مفسرین اور مؤرخین نے کثرت کے ساتھ نقل کیا ہے کہ حسنین کریمین علیہم السلام کو جب بھی دیکھا جاتا، ان کی پاکدامنی، عمدہ کردار، جود و سخا، عبادت، تقویٰ اور سخاوت میں مصطفیٰ ﷺ کی جھلک نظر آتی۔ آپ ہر لحاظ سے عکسِ مصطفیٰ ﷺ تھے۔ روایات میں آتا ہے کہ آپ راتوں کو اللہ کے حضور روتے اور رات کے اندھیرے میں کھجوروں کے گٹھڑ اپنی کمرِ مبارک پر لاد کر یتیموں، بیواؤں، بے کسوں اور محتاجوں کی بھوک دور کرنے کے لیے گلیوں میں نکلا کرتے۔ کوئی سائل آپ کی بارگاہ میں آ جاتا تو اپنے کریم ناناﷺ کی طرح اس کی جھولی بھر دیا کرتے تھے اور خالی ہاتھ نہ لوٹاتے۔

(1) تواضع اور منکسرالمزاجی

تواضع اور منکسر المزاجی کا عالم یہ تھا کہ ایک روز امامِ عالی مقامe کہیں تشریف لے جا رہے تھےکہ راستے میں مدینہ کے کچھ فقراء بیٹھے صدقے کی روٹی کھا رہے تھے۔ انہوں نے امامِ عالی مقام کو گزرتے دیکھا تو صدا دی: "اے امام! ہمارے ساتھ کھانا کھائیں۔" آپ فوراً اپنی سواری سے اترے اور ان فقراء کے ساتھ زمین پر بیٹھ گئے۔ آپ نے صدقے کا کھانا کھانے سے تو معذرت کی (کیونکہ اہل بیت پر صدقہ حرام ہے) لیکن ان کے ساتھ طویل نشست فرمائی۔ پھر ان فقراء کو عزت دینے کے لیے نہایت ہی اعلیٰ و عمدہ انداز اختیار فرمایا۔ یہ نہیں کہا کہ "آؤ میرے گھر تاکہ میں تمہاری بھوک دور کروں"جیسا کہ عام طور پر لوگ کرتے ہیں بلکہ فرمایا: "میں نے تمہاری دعوت قبول کی، اب میری دعوت تمہیں بھی قبول کرنی ہوگی، میرے گھر آؤ اور کھانا کھاؤ۔" پھر امامِ عالی مقام نے ان کی شاہانہ دعوت کی اور ان کی تمام ضرورتوں کو پورا کیا اور تکلیفوں کو دور فرمایا۔

(2) حاجت روائی

ایک شخص امام حسین علیہ السلام  کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور عرض کیا: "اے امام! میری فلاں ضرورت ہے، اسے پورا کرنے کے لیے میرے ساتھ چلیں۔" آپ فوراً اس کے ساتھ چل پڑے۔ اس شخص نے عرض کیا: "اے اللہ کے رسول کے پیارے شہزادے! میں آپ کو مشقت میں نہیں ڈالنا چاہتا تھا۔" آپ نے فرمایا: "مجھے مسجدِ نبوی میں ایک ماہ کے اعتکاف میں بیٹھنے سے زیادہ یہ بات محبوب ہے کہ میں کسی کی تکلیف دور کرنے کے لیے اس کے ساتھ چلوں۔"

یہاں ہمیں تاجدارِ کائنات ﷺ کی سنت کی جھلک نظر آتی ہے، جب ایک ضعیفہ آپ ﷺ کو پکارتی ہوئی آئی تھی کہ "یا رسول اللہ! میری ضرورت پوری کرنے کے لیے میرے ساتھ چلیں" اور آپ ﷺ اس کے ساتھ چل دیے تھے اور وہ آپﷺ کو مدینہ منورہ کی گلیوں میں بے مقصد گھماتی رہی اور آپﷺ پر یہ بات قطعاً ناگوار نہ گزری۔

سیدنا امام حسین علیہ السلام غریب پروری فرماتے ہوئے ایک روز ارشاد فرمانے لگے: "لوگو! تمہارے پاس اپنی حاجتیں لے کر آنے والے لوگ درحقیقت تم پر اللہ کی نعمتیں ہیں۔ ان نعمتوں سے اکتایا نہ کرو، ورنہ تمہیں علم بھی نہ ہوگا کہ یہ نعمتیں کب اللہ کی سزا میں تبدیل ہو جائیں۔"

یعنی لوگوں کے کام آنا ان شہزادوں کے نزدیک ایک عظیم نعمت تھا۔

ایک روز امام حسن علیہ السلام کی بارگاہ میں ایک شخص نے اپنی حاجت کے لیے ایک رقعہ پیش کیا۔ آپ اس خط کو سرسری سا پڑھتے ہیں اور فوری طور پر اس کی مدد فرما دیتے ہیں۔ پاس کھڑے احباب نے عرض کیا: "اے فرزندِ رسول! کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ اس شخص سے کچھ تفتیش کر لیتے کہ اس کی ضرورت کتنی جائز ہے؟" آپ علیہ السلام نے جواب دیا: "مجھے یہ بات تکلیف دے رہی تھی کہ جتنی دیر میں تفتیش کرتا، وہ شخص سائل بن کر میرے سامنے کھڑا شرمندہ ہوتا رہتا۔ میں نے چاہا کہ اسے جلد سے جلد شرمندگی سے بچاؤں اور اس کی تکلیف دور کر کے رخصت کروں۔"

یہ کردار کی وہ عظمت، دریا دلی اور سخاوت ہے جو ان ہستیوں کا خاصہ تھی۔

(3) پیکرِ سخاوت

عمر بن ابی سلمہ رضی اللہ عنہ کے ایک ساتھی بیان کرتے ہیں کہ وہ اپنے علاقے والوں کی ضرورت پوری کرنے کے لیے 20 سے 30 خالی اونٹ لے کر مدینہ آئے۔ اور لوگوں سے پوچھا کہ یہاں کون میری مدد کر سکتا ہے؟ کسی نے بتایا کہ یہاں دو سخی شخصیات موجود ہیں؛ ایک عمرو بن عثمان اور دوسرے حسین ابنِ علی علیہ السلام۔ وہ شخص بیان کرتا ہے کہ میں پہلے عمرو بن عثمان کے پاس گیا، انہوں نے میری حاجت سن کر مجھے دو اونٹوں کے برابر کھجوریں دیں اور رخصت کر دیا، جبکہ میرے 28 اونٹ ابھی بھی خالی تھے۔ پھر کسی کے کہنے پر میں سیدنا امام حسین علیہ السلام کی بارگاہ میں پہنچا۔ میں نے دیکھا کہ آپ اپنے غلاموں کے ساتھ زمین پر تشریف فرما ہیں اور نہایت سادگی سے موٹی روٹی اور گوشت کھا رہے ہیں۔ اتنی سادگی دیکھ کر میرے دل میں خیال آیا کہ یہ میری اتنی بڑی ضرورت کیسے پوری کریں گے؟ مجھے دیکھتے ہی آپ نے فرمایا: "اے سائل! آؤ، ہمارے ساتھ کھانے میں شریک ہو جاؤ۔"

کھانے سے فارغ ہو کر آپ نے ایک بہتی ندی پر ہاتھ دھوئے، کلی فرمائی اور پھر پوچھا: "اپنی ضرورت بیان کرو۔" میں نے عرض کیا کہ میں اتنے اونٹ لایا ہوں اور پورے علاقے کے لیے غلہ کی حاجت ہے۔ آپ نے فرمایا: "جہاں میرے گھوڑے بندھے ہیں، وہاں میرا کھجوروں کا غلہ پڑا ہے؛ اپنے تمام اونٹ لے جاؤ اور جتنا بھر سکتے ہو بھر لو۔" وہ سائل کہتا ہے کہ میں نے تمام اونٹ اس قدر بھر لیے کہ مزید جگہ باقی نہ رہی۔ جب میں اپنے شہر کو لوٹ رہا تھا تو میرا دل پکار رہا تھا کہ کریم ایسے ہوتے ہیں جو ناپ تول کر نہیں دیتے اور جن کی عطا میں کبھی کمی نہیں آتی۔

تاجدارِ کائنات ﷺ کی سخاوت کی سنت ان شہزادوں میں بھی بدرجہ اتم جھلکتی نظر آتی ہے کہ ضرورتیں ختم ہو جاتی تھیں مگر ان کی عطا ختم نہ ہوتی تھی۔ آپ علیہ السلام کی سخاوت صرف مال تک محدود نہ رہی، بلکہ مال کی سخاوت کرتے کرتے آپ علیہ السلام نے اپنے پورے خاندان کی جانوں کا نذرانہ بھی پیش کر دیا۔ آپ علیہ السلام کی غریب پروری کی وجہ سے آپ کا ایک لقب "ابو المساکین" (مسکینوں کے باپ) مشہور ہو گیا تھا، کیونکہ جو مسکین آپ کے در پر آ جاتا، وہ لاوارث نہیں رہتا تھا۔

آپ ارشاد فرماتے ہیں:"جب کوئی شخص تمہارے سامنے دستِ سوال دراز کرتا ہے، تو وہ اپنی عزت تمہارے حوالے کر دیتا ہے۔ اب تم پر واجب ہے کہ اسے خالی ہاتھ نہ لوٹاؤ تاکہ اس کا بھرم رہ جائے۔

ایک مرتبہ سیدنا امام حسن علیہ السلام کسی باغ سے گزر رہے تھے، وہاں ایک غلام کو بیٹھا دیکھا۔ اس کے سامنے ایک کتا تھا۔ اس غلام کے پاس ایک روٹی تھی؛ وہ ایک لقمہ خود کھاتا اور ایک لقمہ کتے کو ڈال دیتا۔ امام حسن علیہ السلام یہ دیکھ کر حیران ہوئے اور پوچھا: "اے غلام! یہ تم کیا کر رہے ہو؟" اس نے عرض کیا: "اے ابنِ رسول! دو آنکھیں (کتے کی) مجھے کھاتے دیکھ رہی ہیں، مجھے یہ گوارا نہیں ہوا کہ میں اکیلا کھاتا رہوں، اس لیے کچھ خود کھا رہا ہوں اور کچھ اسے کھلا رہا ہوں۔

" امام حسن علیہ السلام کو اس غلام کی یہ ادا اتنی پسند آئی کہ آپ علیہ السلام نے اس کے مالک سے وہ غلام بھی خرید لیا اور وہ باغ بھی۔ پھر آپ نے واپس تشریف لا کر غلام سے فرمایا: "میں نے تمہیں آزاد کیا اور یہ باغ تمہیں ہبہ (تحفہ) کیا۔" امامِ عالی مقام کی ایک نگاہِ کرم نے غلام کو باغ کا مالک بنا دیا۔ وہ غلام پکار اٹھا: "اے امام! جس عمل کی وجہ سے آپ نے مجھ پر یہ کرم فرمایا ہے، میں اس کے شکرانے میں یہ باغ اللہ کی راہ میں صدقہ کرتا ہوں۔"

حسنین کریمین علیہم السلام کے ایسے بے شمار واقعات ہیں کہ کبھی کسی حاجت مند سے سودا کرتے اور اگر خبر ہو جاتی کہ اس نے اپنی ضرورت کی وجہ سے سامان بیچا ہے، تو اسے پیسے بھی دے دیتے اور اس کا سامان بھی واپس کر دیتے۔ ایسی بے مثال سخاوت کسی بڑے سے بڑے ولی کی زندگی میں بھی نظر نہیں آتی کہ اپنا دیا ہوا مال اور بیچا ہوا سامان دونوں ہی سائل کو لوٹا دیے جائیں۔

(4) علمی مقام

وہ جلیل القدر اہلِ علم کا دور تھا اور اس دور میں اپنا علمی مقام منوانا بہت بڑی بات تھی۔ اس زمانے میں بھی اپنے ہوں یا پرائے، سبھی امامِ عالی مقام علیہ السلام کے علم اور فہم و فراست کے معترف تھے۔ حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اہلِ شام میں سے کوئی شخص مدینہ منورہ آتا، تو آپ اسے فرماتے: "جب تم مسجدِ نبوی میں داخل ہو گے تو تمہیں وہاں ایک حلقہ نظر آئے گا جس میں لوگ نہایت سکون اور سنجیدگی سے سر جھکائے درس سن رہے ہوں گے۔ وہ امام حسین علیہ السلام کا علمی حلقہ ہوگا، جہاں لوگ ایسے بیٹھتے ہیں جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔"

صحابہ کرام علیہم الرضوان بھی مسائل کے حل کے لیے حسنین کریمین علیہم السلام کی بارگاہ میں حاضر ہوتے تھے۔ اگرچہ آقاﷺ کے وصال کے وقت آپ سنِ طفلی میں تھے اور دیگر صحابہ نے جوانی تک حضور ﷺ سے فیض پایا تھا، مگر حسنین کریمین علیہم السلام کی فہم و فراست کا عالم یہ تھا کہ بڑی عمر کے صحابہ کرام رضی اللہ عنہ بھی آپ سے علم کے موتی سمیٹتے تھے، اس لیے کہ وہ جانتے تھے کہ فیضِ مصطفی کا منبع و سرچشمہ یہی ہستیاں ہیں۔

ایک مرتبہ ایک جنازہ میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور امام حسین علیہ السلام نے اکٹھی شرکت کی۔ نماز جنازہ کے بعد جب واپسی ہوئی تو امام حسین علیہ السلام کو تھکاوٹ محسوس ہوئی اور آپ ایک جگہ تشریف فرما ہو گئے۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، جن کے تذکرے کے بغیر حدیث کی کتب مکمل نہیں ہوتیں، وہیں زمین پر بیٹھ گئے اور اپنی چادر سے امامِ عالی مقام کے نعلینِ مبارک (جوتوں) سے مٹی صاف کرنے لگے۔ امامِ عالی مقام نے دیکھ کر فرمایا: "اے ابوہریرہ! یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟" سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: "اے امام! مجھے یہ خدمت کرنے دیجیے؛ اللہ کی عزت کی قسم! اگر لوگ وہ جان لیں جو میں آپ کی عظمت کے بارے میں جانتا ہوں، تو وہ آپ کو زمین پر پاؤں نہ رکھنے دیں بلکہ اپنے کندھوں پر اٹھا کر گھومیں!"

(5) ادب و احترام

سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما کے باغ میں ایک روز امام حسن اور امام حسین علیہم السلام تشریف لے گئے۔ ملاقات کے بعد جب آپ رخصت ہونے لگے تو سیدنا ابنِ عباس رضی اللہ عنہما خود آگے بڑھے اور دونوں شہزادوں کی سواریوں کی رکابیں تھام لیں۔ انہوں نے پہلے امام حسن اور پھر امام حسین علیہم السلام کو نہایت ادب سے سوار کروایا اور روانہ کیا۔ یہ دیکھ کر ان کے غلام پوچھنے لگے: "اے ابنِ عباس! آپ تو عمر میں ان شہزادوں سے بڑے ہیں، پھر اتنی عاجزی؟" آپ نے جواب دیا: کیا تم نہیں جانتے کہ یہ رسول اللہ ﷺ کے شہزادے ہیں؟ آج ابنِ عباس اپنی قسمت پر ناز کر رہا ہے کہ اسے ان شہزادوں کی رکاب تھام کر سوار کرنے کی سعادت نصیب ہوئی۔

جنہیں ان کی عظمتوں کا ادراک تھا، ان کا یہی وطیرہ تھا۔

صحابہ کرام اور تابعین کے دلوں میں حسنین کریمین علیہم السلام کی عظمت و احترام اپنے کمال پر موجود تھی۔ ایک مرتبہ ایک صحابی کعبۃ اللہ کے صحن میں بیٹھے تھے کہ دور سے ایک سایہ آتا دیکھا۔ انہوں نے اپنے ساتھیوں سے کہا: "یہ جس کا سایہ ہے، وہ اہلِ زمین اور اہلِ آسمان کی نظر میں سب سے زیادہ محبوب شخص ہے۔" جب وہ ہستی قریب آئی، تو وہ امامِ عالی مقام سیدنا امام حسین علیہ السلام تھے۔

حسنین کریمین جب کعبہ معظمہ میں تشریف لے جاتے، تو طواف کرنے والے طواف چھوڑ کر آپ کی طرف لپک آتے۔ لوگ آپ کی عقیدت میں سر جھکا کر کھڑے ہو جاتے اور آپ کے دستِ مبارک کا بوسہ لیتے۔ اہلِ مدینہ کے درمیان آپ کی مقبولیت کا یہ حال تھا کہ جہاں تشریف لے جاتے، وہاں عقیدت مندوں کا اس قدر ہجوم ہوجاتا کہ وہاں سے نکلنا مشکل ہو جاتا تھا۔

(6) پیکرِ شفقت و محبت

امامِ عالی مقام سیدنا امام حسین علیہ السلام کے بارے میں منقول ہے کہ جب آپ پیدل حج کے لیے تشریف لے جاتے تو معروف شاہراہ کے بجائے غیر معروف راستوں کا انتخاب فرماتے۔ جب آپ علیہ السلام کے رفقاء نے اس کی وجہ پوچھی تو آپ کی شرافت، نرم دلی اور بے نیازی دیکھیے؛ آپ نے ارشاد فرمایا: "اگر میں معروف راستے سے جاؤں گا تو لوگ مجھے دیکھ کر بادلِ نخواستہ اور محض میری عقیدت میں پیدل چلنا شروع کر دیں گے، جس سے انہیں تکلیف ہوگی۔ میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کوئی شخص مجبوری محسوس کرے، اس لیے میں راستہ بدل کر جاتا ہوں تاکہ کسی پر بوجھ نہ بنوں۔"

امت کی تکلیف کا اتنا احساس کرنے والے امام صرف 72 جانثاروں کے ساتھ کربلا کی طرف روانہ ہوئے۔ اس لیے کہ جو اپنے ساتھیوں کو حج کے سفر میں پیدل چلنے جتنی تکلیف دینا بھی گوارا نہیں کرتے تھے، وہ کیسے گوارا کرتے کہ اُن کی وجہ سے لوگوں کو جسمانی تکلیف پہنچے۔ یہی وجہ تھی کہ عاشورہ کی رات آپ نے چراغ گل فرما کر اپنے ساتھیوں کو واپس جانے کی اجازت دے دی تھی، کیونکہ جس امام کو لوگوں کے پاؤں کی تھکن گوارا نہ تھی، وہ ان کا خون بہتا کیسے دیکھ سکتے تھے؟

(7) عبادت و ریاضت

امامِ عالی مقام کی سخاوت کے ساتھ ساتھ آپ کی عبادت، ریاضت اور تقویٰ بھی اپنی مثال آپ تھا۔ آپ عظمتوں کے اس مینار پر فائز تھے کہ دونوں شہزادوں نے اپنی زندگی میں 25، 25 مرتبہ پیدل حج کی سعادت حاصل کی۔ امام حسنe سے کسی نے پوچھا کہ "آپ مدینہ منورہ سے مکہ معظمہ تک یہ طویل سفر پیدل کیوں طے فرماتے ہیں؟" آپ نے جواب دیا: "مجھے اللہ کے حضور اس طرح حاضر ہوتے ہوئے حیا آتی ہے کہ میں سواری پر سوار ہو کر جاؤں، اس لیے پیدل جانا پسند کرتا ہوں۔"

امامِ عالی مقام علیہ السلام کی عبادت کا عالم یہ تھا کہ آپ ساری زندگی اپنے نانا تاجدارِ کائنات ﷺ کی عبادت و ریاضت کا عملی عکس رہے۔ یہاں تک کہ معرکہ کربلا میں شمشیر و سناں کے سائے میں بھی آپ کی نماز قضا نہ ہوئی۔ یہ وہ ماحول تھا جہاں سر گر رہے تھے اور اپنوں کا خون بہ رہا تھا۔ جس پریشانی میں انسان کو اپنا ہوش نہیں رہتا، وہاں بھی آپ نماز کی تلقین فرما رہے تھے۔

آپ کے ایک ساتھی وقت پر نماز کی طرف متوجہ نہ ہوئے تو آپ نے اسے فرمایا: "کیا تمہیں اللہ کی نماز کا خیال نہ آیا؟" پھر اسے نماز کی طرف متوجہ کر کے یہ دعا دی: "اللہ تعالیٰ تمہیں عمر بھر نماز پر قائم رکھے۔"

آپ نے یزیدیوں سے جو ایک رات کی مہلت مانگی تھی، اس کا مقصد بھی یہی تھا کہ کیوں نہ زندگی کی یہ آخری رات بھی اپنے رب کے حضور سجدہ ریزی میں گزار لی جائے۔ یہ ان کا اپنے ناناﷺ کے دین اور اللہ کی عبادت سے سچی محبت کا اظہار تھا۔

دین کے ساتھ جینے کا پیغام

جب ہم کربلا کا ذکر کرتے ہیں تو جرأت، شجاعت، حریت اور دینِ مصطفیٰ ﷺ پر مٹ جانے کی بات کرتے ہیں؛ لیکن ہمیں یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ امامِ عالی مقام نے صرف دین پر مٹنا ہی نہیں بلکہ دین کے ساتھ جینا بھی سکھایا ہے۔ آپ کی بارگاہ سے یہ دونوں درس میسر آتے ہیں کہ پہلے عملی طور پر دین کے مطابق زندگی گزار کر دکھاؤ، پھر دین پر مرنے کا مرحلہ آئے گا۔ پہلے نماز قائم کرو، صداقت اپناؤ، عبادت و ریاضت کو زندگی کا حصہ بناؤ، قرآن کو سینے سے لگاؤ اور تقویٰ، طہارت و حیا کو اپنا زیور بناؤ۔ جب انسان دین کے ساتھ جینا سیکھ لیتا ہے، تو اسے دین پر مرنا بھی آ جاتا ہے۔

چنانچہ ضروری ہے کہ ہر عاشورہ پر جہاں ہم دین پر مرنے کا تذکرہ کرتے ہیں، وہاں امامِ عالی مقام کے 'دین پر جینے' کا تذکرہ بھی کیا کریں۔ آپ نے جس طرح قرآن کو اپنایا، جس طرح سیرت و اخلاقِ مصطفیٰ ﷺ کو حرزِ جان بنایا اور جس طرح اخلاقِ حسنہ کا پیکر بن کر غریبوں، مسکینوں اور یتیموں کی پرورش فرمائی، لوگوں کے عیبوں پر پردہ ڈالا، انکساری برتی، غلاموں کو آزاد کیا اور دشمنوں کے ساتھ بھی نرمی و شفقت سے پیش آئے اسے بھی بیان کرنا چاہیے اور آپ کے اس سیرت و کردار پر عمل بھی کرنا چاہیے۔

کربلا: بیداریِ لاجواب

کربلا کے معرکے پر غور کریں تو یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امامِ عالی مقام وہاں کسی دنیاوی جنگ کے لیے تشریف نہیں لے گئے تھے، کیونکہ کوئی جنگ کے لیے اپنے چھوٹے بچوں اور مستورات کو ساتھ نہیں لاتا۔ کربلا کا معرکہ درحقیقت "بیداریِ لاجواب" کا نام ہے۔ کربلا نے سوئی ہوئی انسانیت کو جگایا اور دینِ اسلام کو قیامت تک کے لیے نئی زندگی عطا کر دی۔

ظاہراً معرکہ کربلا میں خاندانِ رسول ﷺ نے جامِ شہادت نوش فرمایا، لیکن یہ ایک ایسی 'داستانِ لاجواب' ہے جس نے تاریخ کا دھارا بدل دیا۔ ذرا غور کیجیے، اس دور میں یزید کے برے اعمال پر پردہ ڈالنے اور اس کی حمایت میں تاویلات گھڑنے والے کتنے زیادہ ہوں گے؟ لوگ کہتے ہوں گے کہ یزید کوئی برا شخص نہیں، وہ ایک صحابی کا بیٹا ہے، اس نے شاید براہِ راست کوئی غلط حکم نہیں دیا ہوگا یا یہ اس کے وزراء کی غلطی ہوگی۔ ایسی تاویلات کرنے والے اس دور میں بھی بہت ہوں گے اور آج بھی بہت ہیں۔ چونکہ خلافتِ راشدہ کو گزرے ابھی صرف پچاس سال ہوئے تھے، اس لیے اتنی جلدی کسی حاکم کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرنا اور اسے علی الاعلان غلط کہنا کوئی آسان فیصلہ نہ تھا۔ بہت سے لوگ مصلحت کا شکار تھے اور بہت سے تاویلات کے جھنجھٹ میں گم ہو کر جرأت مندانہ فیصلہ نہیں کر پا رہے تھے۔ لہذا اتنا آسان نہیں تھا کہ یزید کو چیلنج کیا جائے اور اس کے غلط کو غلط کہا جائے۔

بیداری کا یہ معرکہ جیتنے کے لیے اور امت کی آنکھیں کھولنے کے لیے آپe نے ایک فیصلہ کیا۔ امامِ عالی مقام علیہ السلام نے بھانپ لیا تھا کہ امت کا شعور مفلوج ہو چکا ہے۔ چنانچہ آپ نے فیصلہ کیا کہ امت کی آنکھیں کھولنے کے لیے ایک ایسا عظیم اور سنجیدہ واقعہ رونما ہونا چاہیے جس کے بعد یزید کے کفر اور اس کے باطل ہونے پر مہرِ ثبت ہو جائے۔ آپe نے امت پر احسان کرتے ہوئے اپنے خاندان کی قربانی پیش کر دی کہ ویسے تو تمھیں اس میں کوئی برائی نظر نہیں آتی، اب جان لو کہ جو اپنے ناحق اور ظلم و بربریت سے معمور اقتدار کو بچانے کے لیے خاندانِ رسول ﷺ کا قاتل بن جائے، وہ کبھی مسلمان نہیں ہوسکتا اور دین کا خیر خواہ یا حامی و ناصر نہیں ہو سکتا۔ یہی وہ 'بیداریِ شعور' تھی جس کے بعد اہلِ مدینہ، اہلِ مکہ اور اہلِ کوفہ نے بیعت توڑ دی اور بنو امیہ کی ریاست اندرونی طور پر کمزور ہو کر اگلے 5 سالوں میں چار حصوں میں تقسیم ہوگئی۔

یہ بیداری شعور تھی۔ جب امامِ عالی مقامe کی قربانیوں نے کربلا کے میدان میں یزید اور اس کے باطل نظام کا اصل چہرہ دنیا کو دکھا دیا تھا۔ یہی امامِ عالی مقام کی اصل کامیابی تھی کہ اس نظام پر پڑا وہ پردہ ہٹا دیا جس کی طرف اٹھنے والی ہر آنکھ مصلحت کا شکار تھی۔ آپ نے اپنی قربانی سے حق و باطل کے درمیان ایسی مہر ثبت کر دی کہ جس کے بعد کسی ابہام کی گنجائش باقی نہ رہی۔ امت کی آنکھیں کھولنے کے لیے اہلِ بیتِ اطہار کی یہ سخاوت بے مثال ہے۔

حق کے عظیم سالار: امام حسین علیہ السلام

امامِ عالی مقام علیہ السلام کے مزارِ اقدس پر آج بھی 'سرخ پرچم' لہراتاہے۔ عام طور پر غم کی علامت سیاہ رنگ کو سمجھا جاتا ہے، مگر وہاں سرخ کیوں ہے؟ اہلِ عرب کی روایت تھی کہ جب دورانِ جنگ حرمت والے مہینے آ جاتے، تو فریقین معرکہ آرائی روک کر یہ طے کرتے کہ ان مہینوں کے بعد جنگ دوبارہ شروع ہوگی۔ اس دوران لشکر کے سالار کے خیمے پر سرخ پرچم لہرا دیا جاتا تھا جو اس بات کی علامت ہوتا کہ جنگ ابھی جاری ہے۔ امامِ حسین علیہ السلام آج بھی اپنے سرخ پرچم کے ساتھ اس قافلہِ حق کی امامت فرما رہے ہیں۔ دنیا کے جس کونے میں بھی یزیدیت کے خلاف حق کی جنگ ہو گی، امامِ عالی مقام علیہ السلام وہاں عظیم سالار کی صورت موجود ہوں گے۔

اسی فکر کے تسلسل میں تحریکِ منہاج القرآن، پاکستان عوامی تحریک اور اس حسینی قافلے کے تمام شرکاء، شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی قیادت اور امامِ عالی مقامe کی روحانی امامت میں اپنی منزل کی جانب رواں دواں ہیں۔ حق و باطل کے معرکے کبھی زور پکڑتے ہیں، کبھی تھم جاتے ہیں اور کبھی بظاہر رک جاتے ہیں، لیکن اعلانِ جنگ ہمیشہ برقرار رہتا ہے۔ یہ جنگ ختم نہیں ہوئی اور نہ ہی کبھی ختم ہوگی؛ جب تک یزیدیت باقی ہے، حسینیت کبھی سرنڈر نہیں ہو سکتی۔

خلاصۂ کلام

امامِ عالی مقام کی زندگی سے ہمیں جو عظیم نصیحتیں ملتی ہیں، ہمیں انہیں اپنا شعار بنانا چاہیے۔ آپ نے سکھایا کہ زبان کی سچائی، سائل کی حاجت روائی، حسنِ اخلاق، احسان کا بدلہ، صلہ رحمی، پڑوسیوں کے حقوق، حقدار کو اس کا حق دینا، مہمان نوازی اور شرم و حیا کو زندگی کا زیور بنانا ہی اصل دین ہے۔

امامِ عالی مقام نے کربلا میں دین پر 'مرنا' سکھایا اور اس سے پہلے پوری زندگی دین کے ساتھ 'جینا' سکھایا۔ آپ نے اپنے ناناﷺ کے عطا کردہ تحفۂ معراج یعنی نماز کی اہمیت کو آخری لمحے تک برقرار رکھا۔ جرأت اور شجاعت کے ساتھ ساتھ عجز و انکساری، بے نیازی، رحم دلی، تقویٰ اور قرآن سے محبت ہی اصل 'پیغامِ حسینیت' ہے۔ محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم اپنی زندگیوں کو ان اخلاقِ حسنہ سے مزین کریں جو حسنین کریمین علیہم السلام کا شیوہ رہے۔ محبت کا ایک تقاضا یہ بھی ہے کہ دین کے لیے جیا بھی جائے، دین کی باتوں پر عمل بھی کیا جائے، پوری زندگی عبادت، ریاضت، اخلاق حسنہ، تقویٰ اور طہارت سے مزین کی جائے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو، ہمارے حال پر اپنا لطف و کرم فرمائے اور ہمیں ان باتوں پر صدقِ دل سے عمل پیرا رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔