انصاف محض ایک قانونی اصطلاح نہیں بلکہ انسانی تہذیب کی وہ بنیادی اینٹ ہے جس کے بغیر کسی معاشرے کی عمارت دیرپا قائم نہیں رہ سکتی۔ یہ وہ میزان ہے جس پر اقوام کے عروج و زوال کے فیصلے ہوتے ہیں اور یہ وہ چراغ ہے جس کی روشنی میں تمدن اپنے راستے تلاش کرتے ہیں۔ عدل سے ظلم کی تاریکی چھٹتی ہے اور اقوام کو اپنے وجود کو باوقار طریقے سے قائم و دائم رکھنے کے لئے روشنائی مہیا ہوتی ہے۔ جب انصاف قائم ہوتا ہے تو معاشرہ ایک مربوط اکائی بن جاتا ہے اور جب انصاف مفقود ہو جائے تو اجتماعی زندگی انتشار، بداعتمادی اور شکست و ریخت سے دو چار ہو جاتی ہے، جہاں انصاف ہو گا، وہاں اعتماد ہو گا اور جہاں ناانصافی ہوگی، وہاں مایوسی ہو گی۔ انسانی زندگی کا کوئی بھی شعبہ انصاف کے بغیر نمو نہیں پا سکتا۔ عدل ہی ایک ایسی قوت ہے جو اقوام کو زندہ اور باوقار بناتی ہے۔ حضور نبی اکرمﷺ نے ہجرت مدینہ کے فوراً بعد مختلف المذاہب قبائل کے درمیان میثاقِ مدینہ کیا۔ اس معاہدہ کی روح شفاف نظامِ عدل ہے یعنی آپﷺ نے معاہدہ پر دستخط کرنے والے تمام قبائل کو انصاف کی گارنٹی دی یعنی آپﷺ نے اس معاہدہ کے ذریعے تاقیامت یہ تعلیم دی کہ انصاف کی فراہمی اور انصاف کے تحفظ کو ہر چیز پر مقدم رکھا جائے۔ اسلامی تاریخ بے شمار واقعات سے بھری ہوئی ہے جہاں خلیفۂ وقت کو عام سائل کے مقابل نظامِ عدل کے سامنے سر جھکانا پڑا۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پچھلی اقوام اس لئے دردناک عذاب اور تباہی سے دو چار ہوئیں کہ طاقتوروں کے جرائم پر چشم پوشی کر لیتی تھیں اور کمزوروں پر قانون کا بے رحم کوڑا برساتی تھیں یعنی جو اقوام انصاف کا دامن چھوڑ دیں گی تباہی ان کا مقدر بن جاتی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری ’’دستور مدینہ اور فلاحی ریاست کا تصور‘‘ کتاب کے مصنف ہیں۔ انہوں نے دستور مدینہ کے تمام آرٹیکلز کو اس کتاب میں تفصیلاً بیان کیا ہے۔ ان آرٹیکلز میں ان تمام مختلف مذاہب کے قبائل کے نام اور تفصیلات درج ہیں جن کے حقوق کے تحفظ اور عدل کا تحریری اعلان اس میثاق میں کیا گیا۔ اس سے پیغمبر اسلام ﷺ کی انصاف کے متعلق تعلیمات کا پتہ چلتا ہے۔
تاریخ اس حقیقت پر شاہد ہے کہ اقوام کی ترقی کا سفر ہمیشہ عدل کے سائے میں پروان چڑھا اور زوال کی وادیوں میں وہی اقوام گریں جنہوں نے انصاف کو طاقت، مفاد اور تعصب کے ہاتھوں گروی رکھ دیا۔ انصاف کی عدم موجودگی دراصل ایک ایسے سماج کی تشکیل کرتی ہے جہاں قانون موجود تو ہوتا ہے مگر روح سے خالی، عدالتیں قائم تو ہوتی ہیں مگر حق کی خوشبو ناپید اور فیصلے صادر تو ہوتے ہیں مگر ضمیر کی آواز کہیں دب کر رہ جاتی ہے۔
اسلام نے انصاف کو محض ریاستی نظم کا حصہ نہیں بنایا بلکہ اسے ایمان کی روح میں شامل کر دیا ہے۔ قرآن مجید نے عدل کو تقویٰ اور دیانت کے ساتھ جوڑ کر یہ واضح کر دیا کہ انصاف صرف ایک سماجی ذمہ داری نہیں بلکہ ایک روحانی امتحان بھی ہے۔ یہاں عدل کا تصور کسی طبقاتی یا معاشی امتیاز کا پابند نہیں بلکہ یہ ایک ایسی ہمہ گیر حقیقت ہے جو فرد، معاشرہ، عدالت اور ریاست سب کو اپنی گرفت میں لیتی ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ عصرِ حاضر میں انصاف کا تصور بتدریج کمزور ہوتا جا رہا ہے۔ طاقتور کے لیے قانون کی تعبیر بدل جاتی ہے اور کمزور کے لیے قانون کی سختی بڑھ جاتی ہے۔ نتیجتاً معاشرہ دو واضح طبقات میں تقسیم ہو جاتا ہے: ایک وہ جو کسی نہ کسی طرح انصاف حاصل کر لیتا ہے اور ایک وہ جن کی عمریں حصولِ انصاف کی جدوجہد میں ختم ہو جاتی ہیں مگر وہ انصاف سے محروم رہتے ہیں۔
ناانصافی کی ایک مثال سانحہ ماڈل ٹاؤن بھی ہے، آج سے 12سال قبل 17جون 2014ء کے دن منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ پر ناحق اور بلااشتعال پولیس کی بھاری نفری نے ہلا بولا، تشدد کیا، بے رحمی کے ساتھ توڑ پھوڑ کی ،آنسو گیس کی شیلنگ سے پورے علاقے کو اندھیرے میں ڈبو دیا، کارکنان اور عام راہگیروں پر بہیمانہ تشدد کیا گیا۔ اس قتل و غارت گری کے نتیجے میں دو خواتین شازیہ مرتضیٰ اور تنزیلہ امجد موقع پر شہید ہو گئیں اور 14کارکنان طبی امداد ملنے سے قبل ہی شہید ہوگئے اور 100 سے زائد افراد شدید زخمی ہوئے۔ 12 سال مسلسل قانونی چارہ جوئی کی گئی مگر تاحال انصاف کاعمل جوں کا توں ہے۔ انصاف کی اس جدوجہد کے دوران عدالتوں میں حاضر ہونے والے بعض مدعی کارکنان بھی اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں۔ یہ نظام عدل کا ایک ایسا تاریک پہلو ہے جس کی وجہ سے نہ صرف کروڑوں شہری تکلیف میں مبتلا ہیں بلکہ اس سے پاکستان کی بدنامی بھی ہورہی ہے۔ اختیار اور وسائل پر قابض اشرافیہ سانحہ ماڈل ٹاؤن ہو یا کوئی بھی سانحہ، ابلاغ عامہ پر گرفت کی وجہ سے حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرتی اور رائے عامہ کو گمراہ کرتی ہے۔ بعض صحافی اور اینکر حضرات دباؤ میں آ کر سانحہ ماڈل ٹاؤن سے متعلق گمراہ کن اعداد و شمار پیش کرتے ہیں حالانکہ سانحہ ماڈل ٹائون پر جوڈیشل انکوائری ہوئی تھی جو اس وقت کے حکمرانوں نے کروائی تھی، اس انکوائری کے اندر کوئی ایک جملہ بھی ایسانہیں ہے جس میں منہاج القرآن کے کارکنان کا کوئی خلافِ قانون کردار نظر آیا ہو۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اس انکوائری رپورٹ کو حاصل کرنے کے لئے شہداء کے ورثاء کو طویل قانونی چارہ جوئی کرنی پڑی اور پھر سپریم کورٹ کے حکم پر ایک اور اعلیٰ سطحی انکوائری ہوئی جس کی رپورٹ آج تک پیش نہیں کی جا سکی۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہرالقادری ایک پریکٹسنگ وکیل اور پنجاب یونیورسٹی میں پروفیسر آف لاء بھی رہے انہوں نے ہمیشہ آئین اور قانون کی پاسداری کی بات کی اور کبھی اپنے کارکنان کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت نہیں دی۔ شیخ الاسلام کے حکم پر سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کی طویل ترین قانونی جدوجہد جاری ہے۔ شیخ اسلام کی دعوتی مساعی اور تصنیف و تالیف میں انصاف اور نظامِ عدل سرفہرست رہا ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے اپنی فکر کا مرکزی نکتہ ہمیشہ یہی رکھا کہ اسلام محض عبادات کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جس کی بنیاد عدل، رحمت، توازن اور انسانی حقوق کے احترام پر قائم ہے۔ ان کے نزدیک انصاف اسلامی ریاست کی صرف انتظامی ضرورت نہیں بلکہ یہ ایمان کی عملی توجیہہ ہے۔
شیخ الاسلام کا کہنا ہے کہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کے شہداء کے لئے انصاف کی جدوجہد کرنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ اس جدوجہد کو آج کے دن تک جاری رکھا ہوا ہے اور آخری سانس تک جاری رکھا جائے گا۔ معزز و معتبر چیف جسٹس سپریم کورٹ آف پاکستان اور چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے گزارش ہے کہ وہ سانحہ ماڈل ٹاؤن کیس کو ترجیحاً سنیں اور انصاف سے متعلق زیر التواء درخواستیں کو نمٹائیں۔ شہدائے ماڈل ٹاؤن کے ورثا 12 سال گزر جانے کے بعد بھی عدل کے ایوانوں سے انصاف کے منتظر ہیں۔