عصری چیلنجز کے حل میں شیخ الاسلام کا کردار

ڈاکٹر فوزیہ سلطانہ

عہد حاضر جسے پرفتن عہد قرار دیا جاتا ہے اس میں امت مسلمہ کو گونا گوں مسائل، مشکلات اور سوالات کا سامنا ہے۔ عالم اسلام اس وقت ہمہ گیر مسائل و زوال کا شکار ہے دنیا کے جس کونے میں دیکھیں۔

؎برق گرتی ہے تو بچارے مسلمانوں پر

کی مثل صادق آتی ہے زوال چونکہ ہمہ گیر ہے تو چیلنجز بھی ہمہ گیر نوعیت کے ہیں۔ زود فہمی کے لیے انھیں درج ذیل دو بڑے عنوانات کے تحت جانچنا قدرے آسان ہوجاتا ہے۔

1۔ اندرونی (داخلی) چیلنجز

2۔ بیرونی (خارجی) چیلنجز

اندرونی (داخلی) چیلنجز

یہ انسان کے باطن سے تعلق رکھتے ہیں جن میں اہم ترین تعلق باللہ میں کمزوری، ربط رسالت کی کمی۔ قرآن مجید سے دوری، عقائد و معاملات میں افراط و تفریط، فرقہ واریت، لسانی و نسلی و علاقائی تعصب، فتنہ وطن پرستی، زندگی کی بے مقصدیت عدم برداشت، اخلاقی انحطاط، جزئیت پرستی، دنیا پرستی، فکری جمود، قرآن و حدیث کی من مانی تاویلات تعبیرات وتشریحات وغیرہ شامل ہیں۔

علاوہ ازیں سستی و کاہلی اور بے عملی، تحقیق و تفکر اور سوچ و بچار کی کمی، فرسودہ روایات کی اندھی تقلید اور ظاہری چکا چوند میں الجھاؤ کا شکار ہوکر غیر متوازن غذاؤں کے استعمال سے ذہنی و قلبی سکون سے عاری ہونا شامل ہے۔

اندرونی (داخلی) چیلنجز اور شیخ الاسلام

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے عالم اسلام کو درپیش اندرونی چیلنجز کے لیے نہ صرف فکرو فلسفہ پیش کیا بلکہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باقاعدہ عملی جدوجہد کا بھی ہر سطح پر آغاز کیا۔ بچوں، خواتین، طلبہ طالبات اور ملازمت پیشہ طبقے کو معاشرے میں تعمیری کردار ادا کرنے کے لیے الگ الگ پلیٹ فارم مہیا کیے ہیں۔ ان کا کوئی کام بھی ریسرچ کے بغیر نہیں ہوتا بلکہ ہر قدم پر گہرا شعور کار فرما ہوتا ہے۔ ذیل میں چند کا ذکر کیا جارہا ہے جو داخلی چیلنجز سے متعلق ہیں۔

1۔ تعلق باللہ کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے انھوں نے محافل ذکرو فکر، شب بیداریوں کا سلسلہ بھی شروع کیا ہے اور اس پر تحریری و تقریری عملی مواد بھی فراہم کیا ہے۔

2۔ ربط رسالت ﷺ کی بحالی کے لیے گھر گھر میلاد النبی ﷺ کی محافل، عالمی میلاد کانفرنس، گوشہ درود، حلقات درود و فکر عملی طور پر قائم کیے اور اس سلسلے میں تحریر و تقریر کا ایسا حق ادا کیا ہے کہ تحریک منہاج القرآن فروغ عشق رسول ﷺ کا پوری دنیا میں استعارہ بن گئی ہے۔

3۔ امت کی قرآن مجید سے دوری کو رجوع الی القرآن سے بدلنے کے لیے نہ صرف علمی، تفسیری اور تقریری کام کیا بلکہ شہر شہر، قصبہ دورۂ قرآن اور دروسِ قرآن کا وسیع و عریض جال بچھادیا۔

4۔ قرآن و حدیث کی زبردست تاویلات و تعبیرات اور تشریحات کرکے وحدت امت کا شیرازہ جس طرح بکھیرا جارہا تھا، اس کے آگے لازوال و بے مثال علمی و تحریری کام کے ذریعے ایک مضبوط بند باندھ دیا۔

انسائیکلو پیڈیا آف قرآن، انسائیکلوپیڈیا آف حدیث پر کتب لکھیں، دروس حدیث، ڈھائی سو سے زائد علوم حدیث پر کتب ختم بخاری کے ذریعے امت کی شیرازہ بندی اور قرآن و حدیث کی صحیح رہنمائی کا شاندار فریضہ ادا کیا۔

5۔ امت مسلمہ کے اخلاقی انحطاط کو دور کرنے کے لیے تعلیمات تصوف کے فروغ کو لازمی قرار دیا۔ تصوف کی سمجھ بوجھ اور اسے عملی زندگی پر لاگو کرنے کے ہزارہا طریقے متعدد تصوف کورسز کے ذریعے سکھائے۔ انھوں نے اپنی ابتدائی کتب میں لکھا کہ صرف عقلی غذا دینے سے انسانی طبیعت کو مثالی شخصیت میں نہیں بدلا جاسکتا بلکہ اس کے لیے قلبی غذا کی بھی ضرورت ہے کہ اصل فساد تو قلوب میں واقع ہوگیا ہے۔ پھر انھوں نے فساد قلب پر تفصیلی گفتگو کی اور بتایا کہ فساد قلب کو صرف تین طریقوں 1۔ صحبتِ صالحہ، 2۔ عشق، رسول ﷺ اور 3۔ کثرتِ ذکرِ الہٰی سے دور کیا جاسکتا ہے اور یہ سارا راستہ تصوف کا راستہ ہے۔ انھوں نے اسلاف کی اصل تعلیمات تصوف کو اجاگر کیا اور رسمی تصوف کی رسوم و رواج پر کھل کر تنقید کی۔

6۔ آپ نے فرقوں اور مسالک میں بٹی ہوئی امت مسلمہ کو اتحاد امت کا نہ صرف درس دیا بلکہ درد مندی کے ساتھ اس پر عملی کام بھی کرکے دکھایا۔ تمام مسالک کے مابین فروعی اختلافات کو ختم کرنے کی تلقین کرتے ہوئے انھیں اصل چیلنجز کا ادراک دیا اور ان سے نمٹنے کے طریقے سکھائے تاکہ امت مسلمہ اپنے اسلاف کے راستے پر چلتے ہوئے اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرسکے۔

7۔ شیخ الاسلام نے لسانی، علاقائی، نسلی تعصبات اور فتنہ وطن پرستی و قوم پرستی کی نہ صرف سائنسی وجوہات بیان کیں بلکہ ان کو دور کرنے کے لیے ضروری اقدامات بھی تجویز کیے۔ یہ تعصبات کیسے اور کیوں ابھرے، امت مسلمہ کا شیرازہ کیوں اور کیسے بکھیرا۔ ہر ایک کی وجوہات کو بیان کیا۔

8۔ امت مسلمہ کی اکثریت جس بے مقصدیت کا شکار تھی، اسے غلبہ دین حق کی بحالی کے عظیم مقصد کی طرف رہنمائی کی اور اس مقصد کی طرف رہنمائی کی اور اس مقصد کے حصول کے لیے ایک عظیم تحریک بپا کی۔ جس کا اولین ہدف پاکستان میں مصطفوی معاشرے کا قیام عمل میں لانا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ صرف اندرونی و داخلی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے شیخ الاسلام کی خدمات کا ہی جائزہ لیا جائے تو دفتر کے دفتر درکار ہوں گے، بنظر غائر جائزہ لیا جائے تو ان کی ذات ایک امت کا کام کرتی نظر آتی ہے۔

شیخ الاسلام نے امتِ مسلمہ کو مفکرِ اسلام علامہ اقبالؒ کی فکر سے روشناس کروایا۔ بقول اقبال

اپنے من میں ڈوب کر پا جا سراغِ زندگی
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن

تہذیب مغرب کی ظاہری چکا چوند سے اقبال نے بھی روکا تھا اور شیخ الاسلام نے بھی مغربی تہذیب کے برے اثرات سے بچنے کی تلقین کی ہے۔ وہ خود وہاں رہ کر مثالی عملی تفسیر بن کر نہ صرف ان کی اصلاح کررہے ہیں بلکہ مسلم امت کو بھی ان کی اچھی چیزوں پر عمل کرنے اور غلط اقدار سے روکنے کی سعی کررہے ہیں۔ علامہ اقبال نے آج سے کئی سال پہلے کہہ دیا تھا۔

حرارت ہے بلا کی بادہ تہذیب حاضر میں
بھڑک اٹھا بھبوکا بن کے مسلم کا تن خاکی

لیکن آپ نے اپنے نور ایمان سے اہل مغرب کے دل بھی روشن کردیئے ہیں۔ آج امت مسلمہ نے من کی دنیا مار دی ہے غورو غوض ترک کردیا ہے۔ علامہ اقبال کی مشہور نظم زمانہ حاضر کا انسان ہی اصل میں فکرِ شیخ الاسلام ہے۔

عشق ناپید و خردمے گزدش صورت مار
عقل کو تابع فرمان نظر کر نہ سکا

ڈھونے والا ستاروں کی گذرگاہوں کا
اپنے افکار کی دنیا میں سفر کر نہ سکا

اپنی حکمت کے خم و پیچ میں الجھا ایسا
آج تک فیصلہ نفع و ضرر کر نہ سکا

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی نے امت مسلمہ کے من کو جھنجھوڑ کر اس بھٹکے ہوئے آہو کو سوئے حرم چلنے پر مجبور کررہے ہیں۔ آپ کی تعلیمات کا نچوڑ بھی یہی ہے کہ

کی محمد ﷺ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا، لوح و قلم تیرے ہیں

بیرونی و خارجی چیلنجز

بیرونی و خارجی چیلنجز میں درج ذیل شامل ہیں:

1۔ فکری و نظریاتی چیلنجز، اس میں الحاد (Atheism) اور سیکولرازم (Secularism) کا فروغ، اسلامی اصولوں پر جدید فلسفوں اور نظریات کی تنقید وغیرہ شامل ہیں۔

2۔ تعلیمی و سائنسی چیلنجز میں دینی و عصری علوم کے درمیان ٹیکنالوجی کے ساتھ دینی تعلیمات کی تطبیق کا چیلنج، بے خبری کا بحران عصری چیلنجز کا سامنا کرنے کے طریقے سے ناآشنائی وغیرہ شامل ہیں۔

3۔ معاشرتی و ثقافتی چیلنجز، اس میں مغربی تہذیب و ثقافت کی اندھا دھند تقلید، اسلام کے خاندانی نظام پر حملے، نوجوان نسل کی دینی بے راہ روی وغیرہ شامل ہیں۔

4۔ سیاسی و اقتصادی چیلنجز: اس میں مسلم ممالک میں عدم تعاون اور عدم استحکام، مغربی طاقتوں کی مداخلت اور نوآبادیاتی ورثے کے اثرات اور سودی معیشت کے مقابلے میں اسلامی معیشت کے قیام میں مشکلات پیش آنا۔ علاوہ ازیں نااہلوں کا صاحب اقتدار ہونا اور قابل و اہل عوام کا درد کی ٹھوکریں کھانا بھی شامل ہے۔

5۔ اسلاموفوبیا: اس میں مغربی دنیا کی اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش، مسلمانوں کے خلاف تعصب اور منفی پروپیگنڈہ، پیغمبر اسلام ﷺ اور قرآن مجید کی اہانت کی کوششیں وغیرہ شامل ہیں۔

تاریخ گواہ ہے کہ مفکر صرف اور صرف فکر دیتا ہے۔ اسے عملی جامہ بعد میں کوئی اور آکر پہناتا ہے۔ ایسا کبھی نہیں ہوا کہ مفکر فکر دینے کے ساتھ ساتھ اسے عملی جامہ پہنانے کی سعی بھی خود ہی کررہا ہو مثلاً کارل مارکس اپنی کتاب Das Kapitall لکھ کر دنیا سے رخصت ہوگیا مگر اسے عملی جامہ لینن اور اسٹالن اور ماوزے تنگ نے پہنایا، کیپٹلزم پر کتب ایڈم سمتھ اور ڈاڈ ریکارڈو نے لکھیں مگر عملی جامہ مغربی سیاستدانوں نے پہنایا۔ دو قومی نظریہ کے تحت الگ ریاست فکر علامہ اقبال نے دی اور اسے دنیا کے نقشے پر لانے کا کام محمد علی جناح نے سرانجام دیا مگر شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری وہ واحد شخصیت ہیں کہ آپ نے ان چیلنجز پر نہ صرف فکری و نظریاتی کام کیا ہے بلکہ عملاً بھی بے مثال اداروں کے قیام کی جدوجہد کی ہے۔ آپ اپنے نظریات و فکر کو عملی جامہ پہنانے کے لیے انتہائی جرأت و حکمت کے ساتھ قدم بہ قدم اپنی طے کردہ منزل کی طرف رواں دواں ہیں بلکہ متعدد قافلوں کے سالار کی شکل میں پورے عالم اسلام کی رہنمائی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی جمیع کتب اور خطابات سے یہ بات عیاں ہے کہ آپ نے عصر حاضر کے چیلنجز کا نہ صرف ادراک کیا بلکہ سائنسی انداز میں ان کی درجہ بندی اور تدریج و ترتیب کے ذریعے اصل امراض امت کی تشخیص کی اور پھر ان امراض کا شافی و وافی علاج اور طریق علاج بھی دریافت کیا۔

بیرونی (خارجی) چیلنجز کا مقابلہ قائد انقلاب کے افکار کی روشنی میں

امت مسلمہ کو درپیش بیرونی و خارجی چیلنجز کی جتنی طویل فہرست ہے اسی طرح ہر ہر چیلنج کے مقابلے میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی خدمات بھی ایک طویل ترین فہرست ہر جگہ موجود ہے۔ عام انسان حیران و ششدر رہ جاتا ہے کہ شیخ الاسلام ہر ہر چیلنج کے مقابل کھڑے نظر آتے ہیں، چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے شیخ الاسلام کے چند اقدامات پیش خدمت ہیں:

1۔ نظریاتی و فکری چیلنجز

اس دور میں فتنہ الحاد کو لیں تو اس کے مقابل وہ خدا کو کیوں مانیں اور مذہب کو کیوں اپنائیں؟ کے لیکچرز کے ساتھ منفرد مقام پر نظر آتے ہیں۔ اسلامی اصولوں پر جدید نظریات اور فلسفوں کی تنقید کا وہ تقریباً اپنی ہر کتاب اور ہر خطاب میں جواب دیتے نظر آتے ہیں۔ سیکولرازم کے مثبت تصورات کو قبول بھی کرتے ہیں اور اس کے منفی رخ کو رد بھی کرتے ہیں۔ آپ جدیدیت اور انفرادیت پسندی کا قرآن و سنت کی روشنی میں جائزہ لے کر خالص قرآنی سائنسی انداز میں اس کے ردو قبول کا تفصیلی فیصلہ کرتے ہیں۔ ان کے ہاں اجتہاد ایک زندہ قوت ہےوہ لفظی فتووں سے زیادہ عملی فتویٰ دیتے ہیں اور قدیم و جدید کے حسین امتزاج سے ہر حوالے سے ایک نئے طریقے کی بنیاد رکھتے ہیں۔

2۔ تعلیمی و سائنسی چیلنجز

اس مد میں امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا بھی شیخ الاسلام نے بھرپور انداز سے جواب اور حل پیش کیا ہے۔ دینی و عصری علوم کے درمیان خلا کو پر کرنے میں جس قدر کام شیخ الاسلام نے کیاہے کوئی دوسرا اس کا عشر عشیر بھی سامنے نہیں لاسکتا۔

آپ نے منہاج القرآن کی بنیاد رکھتے ہی دینی و عصری علوم کو یکجا کرکے ایک نئی راہ دکھائی اور اب تو منہاج یونیورسٹی کی شکل میں اس کی روشنی سے ایک عالم منور ہورہا ہے۔ انھوں نے فتنوں کے دور میں اور فتووں کی بوچھاڑ میں بھی جدید ٹیکنالوجی کو ہر طرح مثبت انداز میں استعمال کرنے کا اجتہاد کیا۔ آپ نے بے خبری کے بحران میں صحیح خبروں کی اشاعت و ترویج کی۔ عصری تقاضوں کے پیش نظر مشکلات کا سامنا کرنے کےطریقے سے امت کی ناآشنائی کو فکر صحیح سے آشنا کرکے ایک واضح اور روشن راستہ دکھایا۔

3۔ معاشرتی و ثقافتی چیلنجز

امت کو درپیش معاشرتی و ثقافتی چیلنجز کا بھی کوئی محاذ ایسا نہیں جس پر شیخ الاسلام کھڑے نظر نہ آئیں۔ وہ اپنی عظیم تصنیف قرآنی فلسفہ انقلاب میں امت مسلمہ پر مادیت، اشراقیت، متبنیت اور معرضیت کے حملوں کی سائنسی درجہ بندی کرتے ہیں اور پھر ان چیلنجز سے نبرد آزما ہونے کے طریقے کار کی طرف رہنمائی فرماتے ہیں۔ وہ مغربی تہذیب کے مضر اثرات، اسلامی خاندانی نظام پر مغربی اعتراضات اور نوجوان نسل کی بے راہ روی کا عمیق نظری سے جائزہ لیتے ہیں اور اس کے تدارک کی غیر جذباتی اجتہاد کے ذریعے تدبیر بھی بتاتے ہیں رہنمائی بھی کرتے ہیں اور خود عملاً بھی اس کا نمونہ پیش کرتے ہیں۔

4۔ سیاسی و اقتصادی چیلنجز

یہ بین الاقوامی چیلنجز ہیں جو آج پوری امت مسلمہ بلکہ ہر ملک وقوم کو درپیش ہیں۔ امت مسلمہ کے سیاسی چیلنجز میں مسلم ممالک میں سیاسی عدم استحکام، مغربی طاقتوں کی مداخلت اور نوآبادیاتی (Clonial) ورثے کے اثرات وطن پرستی اور قوم پرستی کے اثرات شامل ہیں۔ گویا سیاست و سماج دونوں ہی کو چیلنجز کا سامنا ہے۔ شیخ الاسلام سیاسی و سماجی انقلاب سے پہلے ذہنی و فکری انقلاب کا فلسفہ پیش کرتے ہیں۔ قرآنی فلسفہ انقلاب میں پہلے وہ فکری سطح پر وقوع پذیر ہونے والے تغیرات کا سائنسی تجزیہ پیش کرتے ہیں۔ پھر علمی سطح پر سیاسی فکر میں برپا ہوجانے والے تغیرات بیان کرتے ہیں۔ اس کے بعد عملی سطح پر سیاسی فکر میں تغیرات کا تجزیہ کرتے ہوئے سیاسی و سماجی انقلاب سے پہلے ذہنی و فکری انقلاب کو لازمی قرار دیتے ہیں۔ اس تناظر میں جب ہم شیخ الاسلام کی سیاسی جدوجہد کا جائزہ لیتے ہیں تو وہ سو فیصد اپنے نظریات کے مطابق سیاست کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کی سیاست کا سارے کا سارا محور بھی ذہنی و فکری شعور پیدا کرنے کے اردگرد رہا ہے، انھوں نے سیاست کو بھی عوامی شعور کی بیداری کے لیے استعمال کیا ہے۔

5۔ اسلامو فوبیا کا چیلنج

اسلامو فوبیا جس کے تحت مغربی دنیا نے اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کی کوشش کی ہے۔ مسلمانوں کے خلاف تعصب اور منفی پروپیگنڈہ کیا گیاہے۔ قرآن مجید اور پیغمبر اسلام کی بار بار توہین کی گئی ہے۔ اس فتنے کے سامنے بھی سب سے منفرد اور جاندار کردار شیخ الاسلام نے ادا کیا ہے۔ آپ کا دہشت گردی کے خلاف فتویٰ جس نے دنیا کے اسلام کے متعلق غلط فکری اشکالات کو دور کیا۔ ایک شاہکار ہے۔ سیرت النبی ﷺ کا اصل خاکہ پیش کرکے آپ نے ذات نبوی ﷺ سے متعلق فکر مغرب کے توہمات کا ازالہ کیانیز اہانت کے معاملات پر جذباتیت کی بجائے خالص فکری و نظریاتی اور قانونی سطح پر جنگ لڑ کر ڈنمارک میں اہانت رسول ﷺ اور قرآن مجید کی بے ادبی کو قانوناً جرم ڈیکلیئر کروایا۔ اس محاذ پر بھی آپ ہر جگہ نظریاتی دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔

شیخ الاسلام کی انفرادیت صرف یہ نہیں کہ چیلنجز کو سمجھتے بھی ہیں اور ان کے دفاع کی موثر پلاننگ بھی کرتے ہیں بلکہ آپ ہر چیلنج سے نمٹنے کی سائنسی حکمت عملی بھی ترتیب دیتے ہیں۔ وہ توپ سے چڑیا کا شکار نہیں کرتے بلکہ جہاں علمی جدوجہد کی ضرورت ہوتی ہے۔ وہاں علمی انداز اپناتے ہیں۔ جہاں قانونی معاملات ہوں وہاں قانونی جنگ لڑتے ہیں اور جہاں فلسفیانہ موشگافیاں ذہن پراگندہ کررہی ہوں وہاں فلسفہ کی زبان میں جواب دیتے ہیں اور جہاں جذبات کی ضرورت ہو، وہاں جذبات بھی ابھاردیتے ہیں۔ ان کا انداز بیان مکمل حکیمانہ اور سائنٹیفک ہوتا ہے۔ جو ہر جگہ ہر موقع و محل کے مطابق تبدیل ہوتا رہتا ہے۔

خلاصہ کلام

عصر حاضر کے چیلنجز کے بالمقابل شیخ الاسلام کی ذات کو دیکھیں تو انھیں حضرت ابراہیم علیہ السلام کا وہ فیض ملا ہوا نظر آتا ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

اِنَّ اِبْرٰهِیْمَ كَانَ اُمَّةً قَانِتًا لِّلّٰهِ حَنِیْفًا ؕ وَ لَمْ یَكُ مِنَ الْمُشْرِكِیْنَۙ.

(النحل، 16: 120)

’’بیشک ابراہیم (علیہ السلام تنہا ذات میں) ایک اُمت تھے، اللہ کے بڑے فرمانبردار تھے، ہر باطل سے کنارہ کش (صرف اسی کی طرف یک سُو) تھے، اور مشرکوں میں سے نہ تھے۔ ‘‘

احادیث مبارکہ سے بھی یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ عام انسانوں میں سے بھی ایسے لوگ ہوتے ہیں جو تنہا ایک امت کا کام کر جاتے ہیں۔ عصر حاضر کے چیلنجز کے حوالہ سے لیے گئے۔ مذکورہ بالا جائزے کی روشنی میں ہم یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ بلاشبہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے جس علم و حکمت، جرات و بہادری، ترتیب و تدریج اور عزم مصمم کے ساتھ ہر چیلنج کا مقابلہ کیا ہے، وہ تنہا ایک امت کے طور پر اٹھائے جائیں گے۔ ایسے ہی شخصیت کے لیے علامہ اقبال نے فرمایا تھا:

خدائے لم یزل کا دستِ قدرت تو زبان تو ہے
یقین پیدا کر اے غافل کہ مغلوب گماں تو ہے

آج امت مسلمہ اوہام و گماں کا شکار ہے اور شیخ الاسلام جو خدائے لم یزل کے دست و زبان کا مقام پاچکے ہیں۔ انھیں بھی عملی مثالوں سے وہ مقام دلوانا چاہتے ہیں۔