شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری عصر حاضر کی ان نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ہیں جن کی پہچان کسی ایک میدان تک محدود نہیں۔ وہ بیک وقت عالم، مفکر، محقق، مصنف، مقرر، سماجی مصلح اور سیاسی بصیرت رکھنے والے رہ نما کے طور پر معروف ہیں۔ یہ ہمہ جہت اوصاف انھیں ایک ہمہ گیر فکری رہنما بناتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد طاہرالقادری منفرد اوصاف کے حامل ہیں۔ اُن کی فکری تشکیل ایسے ماحول میں ہوئی جہاں دینی اقدار اور علمی روایت کو مرکزی مقام حاصل تھا۔ انھوں نے اپنی تعلیم کو محض اسناد کے حصول تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ علم کو فہم و شعور اور عمل کے ساتھ جوڑا۔ قرآن حکیم، حدیث، فقہ اور سیرت جیسے بنیادی اسلامی علوم میں نہایت گہری بصیرت اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ وہ روایت اور تحقیق کے امتزاج پر پختہ یقین رکھتے ہیں۔
ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی علمی فکرو بصیرت کا ایک نمایاں وصف یہ ہے کہ انھوں نے عصر حاضر میں پھر دین کو متحرک نظام کے طور پر پیش کیا۔ انھوں نے عوام و خواص کی فرد، معاشرہ اور ریاست تینوں سطحوں پر رہ نمائی فراہم کی۔ ان کی تحریروں اور خطابات میں یہ تصور نمایاں ہے کہ دین کا اصل مقصد انسان کی اخلاقی تربیت، معاشرتی عدل اور فکری توازن ہے۔
ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی خطابت ان کی شخصیت کا ایک نہایت موثر پہلو ہے۔ ان کا انداز بیان پُر اثر، مدلل، فکری گہرائی و بصیرت اور جوش و جذبے سے لبریز ہوتا ہے۔ مذہبی موضوعات پر تحقیق کی روشنی میں وہ واضح اور بھرپور موقف اختیار کرتے ہیں۔ ان کی تقاریر اس طرح سے مدلل ہوتی ہیں جو سامعین کو متاثر تو کرتی ہی ہیں بلکہ سوچنے کی طرف مائل بھی کرتی ہیں۔
تصنیف و تالیف کے میدان میں ڈاکٹر طاہرالقادری کی خدمات زریں حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں۔ ان کی تحریروں میں دینی گہرائی اور عصری شعور جھلکتا ہے۔ بالخصوص امن، رواداری، انتہا پسندی اور بین المذاہب رواداری جیسے موضوعات پر ان کی کاوشیں عالمی سطح پر نمایاں حیثیت رکھتی ہیں۔ انھوں نے اقوام عالم پر واضح کیا کہ اسلام تشدد نہیں بلکہ امن، احترام اور انسان دوستی کا دین ہے۔
تعلیم کے حوالے سے شیخ الاسلام کا وژن نہایت واضح اور جامع ہے۔ وہ تعلیم کو محض ذریعہ معاش نہیں گردانتے بلکہ اسے فکری، اخلاقی اور سماجی اصلاح کا بنیادی ستون جانتے ہیں۔ ان کے نزدیک نصاب تعلیم کو ان بنیادوں پر استوار کیا جانا ضروری ہےجو جدید علوم کے حصول کے ساتھ ساتھ کردار سازی، اخلاقی تربیت اور سماجی ذمہ داری کا شعور بیدار کرے۔ اسی فکر کے تحت انھوں نے تعلیمی اداروں کے ذریعے علم اور اخلاق کے امتزاج کو فروغ دینے کے بھرپور عملی اقدامات کیے ہیں۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری عصر حاضر کی ان نابغۂ روزگار شخصیات میں سے ہیں جن کی پہچان کسی ایک میدان تک محدود نہیں۔ وہ بیک وقت عالم، مفکر، محقق، مصنف، مقرر، سماجی مصلح اور سیاسی بصیرت رکھنے والے رہ نما کے طور پر معروف ہیں۔ یہ ہمہ جہت اوصاف انھیں ایک ہمہ گیر فکری رہنما بناتے ہیں۔۔۔
ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے سماجی اصلاح کا بیڑا بھی اٹھا رکھا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کا یہ پہلو بھی قابل توجہ اور لائق تحسین و ستائش ہے۔ وہ معاشرے میں پائے جانے والے تعصب، فرقہ واریت، عدم برداشت اور تشدد کے رجحانات کے خلاف مسلسل آواز بلند کرتے ہیں۔ ان کا پیغام ہمیشہ اعتدال، مکالمے اور برداشت پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ اس امر پر زور دیتے ہیں کہ پائیدار امن طاقت کے بل بوتے پر نہیں بلکہ انصاف شعور اور باہمی احترام سے قائم ہوتا ہے۔
ڈاکٹر صاحب نے سیاست کے حوالے سے ہمیشہ اصولوں پر بات کی ہے۔ ان کی سیاسی سوچ کا مرکز عوامی حقوق، آئینی بالادستی اور نظام کی اصلاح ہے۔ وہ سیاست کو اقتدار کے حصول کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی خدمت اور معاشرتی بہتری کا وسیلہ سمجھتے ہیں۔ ان کا موقف ہے کہ جب تک نظام شفاف منصفانہ اور جواب دہ نہیں ہوگا معاشرے میں حقیقی تبدیلی ممکن نہیں۔
ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی دینی سوچ، فکری وژن اور اصلاحی مشن کا عملی اظہار منہاج القرآن انٹرنیشنل ہے۔ منہاج القرآن محض ایک تنظیم نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر فکری و اصلاحی تحریک ہے۔ جس کی بنیاد علم، امن، رواداری اور کردار سازی پر رکھی گئی ہے۔ یہ ادارہ ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی فکر کو عملی شکل دینے کا ذریعہ بنا اور اب وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ ایک عالمی شناخت اختیار کرچکا ہے۔ اس ادارے کے قیام کا مقصد دین اسلام کی اصل روح کو عام کرنا تھا جس میں اعتدال، توازن اور انسان دوستی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے عوام و خواص میں یہ شعور بیدار کیا کہ دین صرف مسجد و مدرسہ تک محدود نہیں۔ یہ رہبانیت سے پا ک ہے اور انسان کی انفرادی زندگی کے ساتھ ساتھ اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں بھرپور رہنمائی کا فریضہ سرانجام دیتا ہے۔
تعلیم منہاج القرآن کے مشن کا ایک اہم ستون ہے۔ اس ادارے کے تحت قائم تعلیمی نظام میں دینی اور جدید علوم کو یکجا کردیا گیا ہے تاکہ علمی و اخلاقی طور پر باشعور اور مضبوط نسلِ نو تیار کی جاسکے۔ منہاج القرآن نے سماجی خدمت کے میدان میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔ فلاحی سرگرمیاں، رفاہی منصوبے، اخلاقی تربیت اور معاشرتی شعور کی بیداری اس تحریک کا اہم حصہ ہے۔ ڈاکٹر صاحب کا یہ تصور رکھتے ہیں کہ کوئی بھی دینی تحریک اس وقت تک بااثر نہیں ہوتی جب تک وہ معاشرے کے کمزور طبقات کا عملی سہارا نہیں بنتی۔
امن اور بین المذاہب رواداری منہاج القرآن کے فکری ڈھانچے کا بنیادی جزو ہے۔ اس پلیٹ فارم سے اسلام کو ایک من پسند مذہب کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف ان کی علمی و عملی جدوجہد نے منہاج القرآن کو عالمی سطح پر ایک معتبر اور امن تحریک کے طور پر پیش کیا ہے۔ اس ادارے کی بنیاد اصولوں پر کھڑی ہے جو طویل المدت اصلاح اور مثبت تبدیلی کے ضامن ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ تحریک منہاج القرآن نے مختلف ممالک اور ثقافتوں میں اپنی جڑیں مضبوط کی ہیں اور فلاحِ انسانیت کا فریضہ سرانجام دینے میں مصروف ہے۔
ڈاکٹر محمد طاہرالقادی حقوق نسواں کے تحفظ و تبلیغ کے ایک موثر داعی بھی ہیں۔ انھوں نے ویمن امپاورمنٹ کے لیے جو عملی اقدامات کیے وہ اپنی مثال آپ ہیں۔ انھوں نے ہمیشہ یہ کوشش کی ہے کہ عورت کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں خود مختاری عطا کی جائے۔ سماج میں اس کا وہ حقیقی مقام عطا کیا جائے جو اسلام کا طرہ امتیاز ہے اور دیگر مذاہبِ عالم میں ناپید ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے انھوں نے عورتوں کے خودمختار عظیم الشان تعلیمی ادارے قائم کیے اور ان اداروں کو مردوں کے مساوی سہولیات سے مزین کیا اور تعلیم کے مکمل مواقع فراہم کیے۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کا کامل یقین ہے کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی میں خواتین کلیدی کردار ادا کرتی ہیں جو معاشرے خواتین کی حیثیت سے انحراف کرتے ہیں۔ وہ ترقی کے دھاروں سے جدا ہوجاتے ہیں۔ منہاج القرآن ویمن لیگ نے ڈاکٹر صاحب کی علمی و فکری بصیرت کی روشنی میں خواتین کے لیے کئی ادارے قائم کیے ہیں۔ منہاج القرآن ویمن لیگ کے شعبہ ’’وائس‘‘ کے قیام کا مقصد معاشرے کی نادار خواتین کو پاؤں پر کھڑا ہونے کے عملی تعاون کی فراہمی ہے۔
ڈاکٹر محمد طاہرالقادری خواتین سے امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے سخت مخالف ہیں۔ انھوں نے تقریر و تحریر میں اسلامی تعلیمات کی روشنی میں عورت کے مقام کو بڑے پر اثر پیرائے میں بیان کیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب کے اس مشن کو منہاج القرآن ویمن کے مختلف شعبہ جات ’’الہدایہ‘‘، ’’ایگرز‘‘ اور ’’مصطفوی سسٹرز‘‘سے آگے پھیلانے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسی طرح منہاج القرآن ویمن لیگ ایشیا کی سب سے بڑی منظم تحریک ہے جو شب و روز خواتین کی تعلیم و تربیت کا فریضہ سرانجام دینے میں مصروف ہیں۔
بین الاقوامی تناظر میں دیکھا جائے تو ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی شخصیت ایک ایسے اسلامی مفکر کی سی ہے جو پوری دنیا کے سامنے اسلام کا ایک معتدل اور پرامن چہرہ پیش کرتا ہے۔ انھوں نے مختلف عوامی فورمز پر اسلام کے متعلق گردش کرتے غلط تصورات کا مدلل جواب دیا اور یہ واضح کیا کہ اسلام کا اصل پیغام امن، انسانیت اور اخلاقی اقدار پر مشتمل ہے۔ ان کے خطابات اور تحریریں مختلف مذاہب اور تہذیبوں کے درمیان مکالمے کو فروغ دیتی ہیں۔
مجموعی طور پر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں جن کی زندگی علم، فکر، عمل اور اصلاح معاشرہ کے امتزاج کی ایک مضبوط و مستحکم علامت ہے۔ وہ ایسے رہ نما ہیں جنھوں نے علم کو عمل سے اور فکر کو خدمت سے جوڑا۔ ان کی شخصیت اور حیات ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ حقیقی قیادت وہ ہی ہے جو علم، اخلاق اور انسان دوستی کی بنیاد پر معاشرے میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے ہمہ وقت مصروفِ عمل رہے۔