شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری ایک نام ایک تاریخ، آفاقی قائد، نامور فقیہ، عظیم المرتبت محدث علوم اسلامیہ پر کامل دسترس رکھنے والے دانشور، دلوں پر حکومت کرنے والے بے تاج بادشاہ، ایک قلب میں لاتعداد علوم کا بحرِ ذخار لیے ہوئے ہیں اور سب سے بڑھ کر عشق رسول ﷺ کی سرشاری لیے ہوئے علامہ کے لفظوں میں:
فطرت نے مجھےبخشے ہیں جوہر ملکوتی
خاکی ہوں مگر خاک سے رکھتا نہیں پیوند
(علامہ محمد اقبال (2018)، کلیات اقبال، بال جبریل، اقبال اکادمی پاکستان، لاہور، ص: 357)
شیخ الاسلام کی اصلاح معاشرہ اور خدمات دین کی ہمہ جہت خدمات کے متعلق ڈائرکٹر فرید ملت ریسرچ انسٹی ٹیوٹ محمد فاروق رانا لکھتے ہیں:
’’شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی خدمات کا دائرۂ کار اور حلقۂ اثر صرف مذہبی و اَخلاقی یا علمی وفکری سرحدوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ آپ کی خدماتِ جلیلہ کی وقعت و وسعت قومی و ملی اور ریاستی و بین الاقوامی جہات تک پھیلی ہوئی ہے۔ آپ کی کاوشیں ملّی بھی ہیں، عالمِ اِسلام کے لیے بھی ہیں، حتیّٰ کہ پورے عالَم اِنسانیت کے لیے ہیں۔ بلا شبہ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری ایک فرد نہیں ہیں بلکہ علم و فکر کی ایک درخشاں کائنات ہیں۔ آپ کی خدمات اَطراف و اَکنافِ عالم میں ہمہ جہت اور متنوّع ہیں۔ ‘‘ (رانا، محمد فاروق، (فروری 2023) عالمی سطح پر شیخ الاسلام کی علمی و فکری کاوشیوں کا اعتراف، ماہنامہ منہاج القرآن، لاہور)
خدمت دین و اصلاح معاشرہ میں شیخ الاسلام کی ہمہ جہت خدمات
اصلاح معاشرہ میں شیخ الاسلام کی ہمہ جہت خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد جامی لکھتے ہیں:
پندرہویں صدی ہجری (بیسویں اور اکیسویں صدی عیسوی) موجودہ دور ہے۔ اس دور میں سائنسی ترقی اور اس میں مغربی افکار کی کوکھ سے جنم لینے والے مختلف نظاموں کے نفاذ سے جدید مسلم ذہن پر جو اثرات مرتب ہوئے اور اسلام کے نتیجہ خیز اور قابلِ عمل نہ ہونے اور موجودہ نظاموں کا مقابلہ نہ کرسکنے کی افواہیں تجدد پسند طبقے کی طرف سے اٹھیں۔ ان تمام کا تحقیقی جائزہ لینے کیلئے اسلامی مفکرین متوجہ ہوئے، کچھ نے مغربی افکار کے تضادات کو واضح کیا، کچھ نے اس کے مثبت نتائج سمیٹنے کی کوشش کی اور کچھ نے اسلامی نظام کے قابلِ عمل ہونے کے متعلق دلائل دیئے لیکن ان افکار و نظریات سے متعین ہونے والے مثبت اور منفی اثرات کا صحیح جائزہ اور اسلام کو پیش کرنے کی صحیح تعبیر کی سعادت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کو حاصل ہوئی۔ (جامی، شبیر احمد، ڈاکٹر، (فروری 2021) شیخ الاسلام کی ہمہ جہت تجدیدی خدمات، ماہنامہ منہاج القرآن، لاہور)
یوں تو اللہ تعالیٰ نے حضور شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کو بہت سی خوبیوں کا مرقع بنایا ہے۔ مگر مقالہ ھذا میں آپ کی اصلاح معاشرے کے لیے عملی جد جہد کو اختصار سے بیان کرنے کی سعی کروں گا۔
فکر انگیز دروس و خطابات
شیخ الاسلام ایک فصیح البیان اور رطب اللسان خطیب ہیں۔ اندرون پاکستان اور بیرون پاکستان ہزارہا علمی و فکری خطابات کیے۔ آپ کا انداز خظابت اتنا مؤثر ہے کہ سننے والا نہ صرف سر دھنتا ہے بلکہ آپ کا گرویدہ ہو جاتا ہے۔
’’شیخ الاسلام نے اصلاح معاشرہ اور خدمت دین میں پاکستان میں اور بیرون ملک خصوصاً اسلامی ممالک میں اسلام کے مذہبی و سیاسی، روحانی و اخلاقی، قانونی و تاریخی، معاشی و اقتصادی، معاشرتی و سماجی اور مختلف النوع موضوعات پر ہزاروں خطبات کے علاوہ دنیا کے مختلف یونیورسٹیوں میں وقتاً فوقتاً مختلف علمی و فکر ی اور عصری موضوعات پر فکر افروز لیکچرز دیئے ہیں۔ آپ کے لیکچرز پاکستان عالم عرب اور مغربی دنیا کے مختلف ٹی وی چینلز پر بھی نشر کیے جاتے ہیں۔ ‘‘ (عثمانی، محمد مسعود احمد، (2009ء)
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری ایک تعارف، محمد زاہد لطیف، عرفان القرآن اہل علم و دانش کی نظر میں، ص: 1، تحریک منہاج القرآن سندھ
آپ کے دروس و خطابات اور لیکچرز کی ایک طویل فہرست ہے۔ بطور حوالہ ان میں سے چنداہم درج ذیل ہیں:
خدمت دین میں ڈاکٹر صاحب نے 17 اکتوبر 1980ء میں شادمان لاہور میں پندرہ روزہ درس قرآن کا آغاز کیا جو ایک عرصہ تک رحمانیہ مسجد شادمان میں جاری رہا۔ اسی اثنا میں کراچی، اسلام آباد، کوئٹہ اور پشاور میں بھی دروس قرآن کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ 19 فروری 1982ء میں جامع مسجد اتفاق ماڈل ٹاؤن میں خطبہ جمعۃ المبارک کا آغاز کیا جو مارچ 1989ء تک تقریبًا سات سال تک جاری رہا، بعد ازاں جمعۃ المبارک کا خطبہ منہاج القرآن کی مرکزی جامع مسجد میں ہونے لگا۔ 11 اپریل 1982ء کو سلسلہ وار پندرہ روزہ دروس تصوف کا آغاز ہوا۔ 11 اپریل 1983ء کو پاکستان ٹیلی ویژن پر آپ کا پروگرام فہم القرآن کے عنوان سے جاری شروع ہوا۔ 1992-93 ء متعدد قرآنی اور اسلامی موضوعات پر متحدہ عرب امارات ٹیلی ویژن پر انگریزی زبان میں خطابات ہوئے۔ 1980ء اور 1990ء کی دہائی میں جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن کے طلبہ کو قرآن، تفسیر، اصول تفسير، حدیث، اصول حديث، سیرت و فضائل، عقائد، فقہ، اصول فقہ اور اقتصادیات و سیاسیات جیسے جدید موضوعات پر گرانقدر محاضرات دیئے۔ (منہاجین، محمد یوسف (فروری 2018ء) علمی، فکری و اصلاحی خدمات، ماہنامہ منہاج القرآن، لاہور) مارچ 1991ء میں منہاج القرآن علماء کونسل کے زیر اہتمام 150سے زائد مندوبین علماء کو عقائد، تصوف اور ایمانیات کے موضوعات پر دراسات دیئے۔ اسی طرح شیخ الاسلام نے پوری دنیا کی اصلاح اور خدمت دین کے لیے پوری دنیا میں مختلف موضوعات پر علمی، فکری، اور اصلاحی لیکچرز دیے۔ (منہاجین، محمد یوسف (فروری 2018ء) علمی، فکری و اصلاحی خدمات، ماہنامہ منہاج القرآن، لاہور)
علمی وتحقیقی خدمات
ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی ہمہ گیر شخصیت کا ایک روشن اور تابناک پہلو ان کی کثرت تصانیف ہے۔ اسلام کے مذہبی اور تقابلی پہلوؤں پر مشتمل مختلف النوع موضوعات پر بہت سی تصانیف لکھیں، آپ کی تصانیف کی تعداد ہزار سے زائد ہے، جن میں سے 600سے زائد کتب اردو انگریزی، عربی اور دیگر زبانوں میں طبع ہو چکی ہیں۔ جبکہ مختلف عصری موضوعات پر بھی آپ کی متعدد تصانیف دنیا کی بڑی زبانوں میں منتقل ہو رہی ہیں۔ (رانا، محمد فاروق، (فروری 2018ء) شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری قدم بہ قدم، ماہنامہ منہاج القرآن، لاہور)
ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے انسانی زندگی کے بیسیوں موضوعات پر 1000 سے زائد کتب تحریر فرمائی ہیں جس میں سے 640سے زائد شائع ہوچکی ہیں، جبکہ باقی اشاعت کے مختلف مراحل میں ہیں۔ انہوں نے مختلف موضوعات پر 6000 سے زائد ایمان افروز خطابات فرمائے۔ دنیا بھر میں اسلام کے ہر ہر پہلو پر لیکچرز دیے، ہزار ہا لائبریریز اور سیل سینٹرز قائم کیے گئے۔ حدیث، تصوف، فقہ اور عقائد اِسلامی کے خلاف اٹھنے والے ہر فتنے کا ڈٹ کر مقابلہ کیا گیا۔ قرآن مجید کا جدید علمی، فکری، سائنسی اور تفسیری شان کا حامل ترجمہ کیا گیا جبکہ تفسیر پر کام تیزی سے جاری تھا۔
پانچ ہزار سے زائد موضوعات پر 8 جلدوں پر مشتمل قرآنی انسائیکلوپیڈیا معاشرے میں قرآنی علوم کے فروغ کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ اسی طرح علم حدیث میں عنقریب شائع ہونے والا 60 جلدوں پر مشتمل انسائیکلوپیڈیا آف حدیث تدوین حدیث کے باب میں 14 سوسالہ اسلامی تاریخ میں غیر معمولی کام ہو گا۔ اس کی اہمیت کے اتنا ہی کافی ہے کہ جس کا مقدمہ جو ’’الموسوعۃ القادریۃ في العلوم الحدیثیۃ‘‘ کے نام سے اٹھ جلدوں میں منظر عام پر آچکا ہے۔ (مرتضی علوی (فروری 2020ء) - ماہنامہ منہاج القرآن، شیخ الا سلام کی ہمہ جہت خدمات کے اثرات، لاہور) جس سے معاشرے میں حدیث کے کلچر کو حقیقی فروغ ملے گا۔ الغرض تحریکِ منہاج القرآن نے اس طویل علمی جدوجہد کے ذریعے نہ صرف دینی علوم کو زندہ کیا بلکہ تحقیق کے نئے دروازے کھولے۔
شیخ الاسلام نےمختلف اورکثیر الجہات علمی و فکری موضوعات پر ایک تسلسل کےساتھ قلم اٹھایا ہے۔ یہ موضوعات ایک سلسلۃ الذھب ہے۔ آپ نے ہر موضوع کے ساتھ انسانی اور امکانی حد تک کما حقہ انصاف کیا۔
بین المذاہب و مسالک رواداری کے فروغ میں خدمات
اصلاح معاشرہ کا ایک اہم پہلو رواداری کا فروغ ہے۔ اس کے ذریعے سے لوگوں میں وسعت قلبی اور وسعت فکر جنم لیتی ہے۔ شیخ الاسلام نے بین المذاہب رواداری اور بین المسالک ہم آہنگی کے فروغ کے لیے نہ صرف اپنی تقریر و تحریر کے ذریعے کاوشیں کی ہیں بلکہ عملی طور پر بھی کئی ایسے اقدامات کیے جن سے نہ صرف بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ میں قابلِ قدر اضافہ ہوا بلکہ اسلام کی حقیقی اور واضح تعلیمات بھی نکھر کر سامنے آئی ہیں۔ شیخ الاسلام کے اس کام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ابو ایان لکھتے ہیں:
’’اسلام کا دہشت گردی سے اور دہشت گردوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ آپ نے خود کش بمباری اور دہشت گردی کے خلاف دہشت گردی اور فتنہء خوارج کے عنوان سے 600 صفحات پر مشتمل مبسوط تاریخی فتویٰ شائع کیا جو اپنی نوعیت کا واحد فتویٰ اور مستند و معتبر علمی و تاریخی دستاویز کی حیثیت رکھتا ہے۔ عالمِ اسلام کی معروف یونیورسٹی جامعۃالازہر (مصر) نے اس کی توثیق کی ہے۔ اس فتویٰ کی تقریبِ رونمائی 2 مارچ 2010ء کو لندن میں ہوئی۔ برطانوی میڈیا کے علاوہ عالمی میڈیا کے درجنوں نمائندے تقریب میں موجود تھے۔ بعد ازاں دنیا کے دیگر ممالک میں بھی سرکاری طور پر اس فتویٰ کی تقریبات رونمائی منعقد ہوئیں اور پوری دنیا میں اس کی پذیرائی ہوئی۔ ‘‘ (ابو آیان، (فروری 2021ء)، شیخ الاسلام کی بین المذاہب رواداری اور قیام امن کے لیے خدمات، ماہنامہ منہاج القرآن، لاہور)
’’شیخ الاسلام نے فروغ امن اور حضور ﷺ کی شان رحمت پر اندرون و بیرون سیکڑوں لیکچرز دیے ‘‘(ایضاً)
شیخ الاسلام کی رواداری کے فروغ میں خدمات کا احاطہ یہاں ممکن نہیں، آپ نے اس کے علاوہ انٹرنیشنل کانفرنس (گلاسگو)، اسلام میں انسانی حقوق سیمینار (مانچسٹر)، یونیورسٹی آف واروِک (WARWICK) برطانیہ میں دہشت گردی کے خلاف سمر کیمپ، گلوبل پیس اینڈ یونٹی کانفرنس 2011ء اور کثیر المذہبی اَمن برائے اِنسانیت کانفرنس اس کے علاوہ بھی عملی طور پر کئی سیمنار اور تقریبات کے ذریعے سے اسلام کے فلسفہ روداری کو فروغ دینے میں سب سے اہم کردار ادا کیا ہے۔
بیداریٔ شعور کے لیے فقید المثال خدمات
اصلاح معاشرہ کے اس میدان میں ڈاکٹرمحمد طاہر القادری نے پاکستانی قوم کی حالت کی تبدیلی اور ملت اسلامیہ کی عظمت رفتہ کی بحالی کے لئے 1979ء میں محاذ حریت کے نام سے ایک تنظیم قائم کی۔ 1980ء میں اس عظیم مقصد کے حصول کے لئے لاہور جیسے تاریخی شہر کو اپنی تحریکی کاوشوں کے لئے منتخب کیا اور اسی سال 17 اکتوبر1980ء بمطابق 7 ذی الحج 1400ھ بروز جمعرات ادارہ منہاج القرآن کا آغاز کیا۔ 17 فروری 1984ءکوماڈل ٹاؤن لاہور میں سیدنا طاہر علاؤالدین القادری الگیلانیؒ کے دست اقدس سے ادارہ منہاج القرآن کے مرکزی سیکرٹریٹ کا سنگ بنیاد رکھا۔ (منہاجین، عبد الستار(2016)۔ ڈاکٹر طاہر القادری، تنقید۔ کارنامے۔ تاثرات، فیصل آباد، ص: 29) مارچ 1987ء کو اسی پرشکوہ عمارت کےسامنےپارک میں پہلی مرکزی منہاج القرآن کانفرنس منعقدہوئی۔ 25 مئی 1989ء کو آپ نے پاکستان عوامی تحریک کے نام سے ایک سیاسی جماعت بنائی جس کا بنیادی ایجنڈا پاکستانی عوام میں سیاسی شعور کی بیداری، بنیادی انسانی حقوق کی فراہمی، خواتین کے حقوق کا تحفظ اور ملکی سیاست سے بدعنوانی اور دولت کے اثرات کا خاتمہ تھا۔ (منہاجین، عبد الستار (2016)۔ ڈاکٹر طاہر القادری۔ تنقید۔ کارنامے۔ تاثرات، فیصل آباد، ص: 29) 1989ء تا 1993ء اسمبلی سے باہر اپوزیشن کا کردار ادا کیا اور ملکی تعلیمی، سیاسی اور معاشی صورت حال پر حکومتِ وقت کو تجاویز اِرسال کیں۔
تعلیمی خدمات
اصلاح معاشرہ کی کلید تعلیمی شعور کو بیدار کرنا ہے۔ فروغ تعلیم کے لیے ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی خدمات قابل تحسین ہیں۔ آپ کا نظریہ تعلیم دو حصوں میں تقسیم ہے: جدید تعلیم آپ پاکستان کے موجودہ تعلیمی نظام پر بات کرتے ہوئے فرماتے ہیں۔
’’ہمارے ہاں اسی فیصد جہالت ہے۔ گورنمنٹ شرح تعلیم پچیس فیصد بیان کرتی ہے۔ یہ حقیقی شرح تعلیم نہیں ہے۔ بیرونی ملک میں شرح تعلیم کا معیار پہلے دس سال کی تعلیم کی بنیاد پر متعین کیا جاتا ہے، جبکہ ہمارے ہاں محض خط و کتابت کی اہلیت کے حوالے سے اعدادو شمار کو اکٹھا کیا جاتا ہے۔ شرح تعلیم کا یہ معیار دنیا کے کسی پیمانے پر پورا نہیں اترتا۔ ہمارے ہاں شرح تعلیم صرف پندرہ فیصد ہے اور اگر میڑک کو معیار بنا کر اس شرح کو نکالا جائے تو یہ دس فیصد بھی نہیں بنتی‘‘۔ (سلیمان بٹ (2000ء)۔ قائد عوام سے قائد انقلاب تک، لاہور، نواز پر تنگ پریس، ص: 139)
اسی طرح شیخ الاسلام نے علوم دینہ کے فروغ کے لیے الگ بورڈ قائم کیا جو روایتی مدارس سے بلک الگ حیثیت رکھتا ہے۔ آپ کے قائم کردہ ’’نظام المدارس ‘‘ کی انفرادیت کا تذکرہ کرتے ہوئے ڈاکٹر ممتاز الحسن باروی لکھتے ہیں:
’’نظام المدارس کے اس جدید اور جامع نصاب میں قدیم اسلامی علمی ورثے کے امین علوم وفنوں، معاصر اسلامی تہذیب وثقافت کے مظہر مضامین اور نو ایجاد عمرانی علوم کی شمولیت جہاں اس نصاب کی ندرت وانفرادیت کا پتہ دیتی ہے وہاں اس نصاب کے مرتب شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی وسعتِ فکر ونظر اور تجدید ی و اجتہادی بصیرت کی شہادت بھی دیتی ہے۔ (باروی، ڈاکٹر ممتاز الحسن، (مئی 2021) نظام المدارس پاکستان کے قیام کی ضرورت و اہمیت، ماہنامہ منہاج القرآن، لاہور)اس کے نصاب میں سیرت وتصوف کے مضامین کو بھی تفصیل کے ساتھ اس نصاب کا حصہ بنایا گیا ہے جس کا مقصد یہ ہے کہ سندِ فضیلت پانے والا ہر فرد علم و عمل کا ایسا پیکر ہو کہ سیرتِ مصطفوی ﷺ کے انوار اور مقربینِ بارگاہ الہ کے فیوض سے روشن دل پذیر ہو۔ ‘‘( باروی، ڈاکٹر ممتاز الحسن، (مئی 2021) نظام المدارس پاکستان کے قیام کی ضرورت و اہمیت، ماہنامہ منہاج القرآن، لاہور)
اس کے ساتھ ساتھ جدید عصری علوم؛ اقتصادیات، سیاسیات، کمپیوٹر سائنس، دعوت وارشاد، تقابلِ ادیان، اسلامی افکارو نظریات، وسطیات اور انگریزی وعربی زبان وادب کو بھی شاملِ نصاب کیا گیا ہے۔ جس کا مقصد یہ ہے کہ اس منہج دراسی کی تکمیل کرنے والے فاضل کی دینی ودنیاوی دونوں آنکھیں کھلی ہوں اور وہ صرف مصلیٰ اور محراب تک محدور رہنے کی بجائے صنعت و حرفت، معیشت و سیاست اور فکر وعمل کے میدان میں بھی بوقتِ ضرورت پامردی اور جرأت رندانہ سے صدائے حق بلند کر سکے۔
سماجی و فلاحی خدمات
ڈاکٹر محمد طاہر القادری سماجی و فلاحی خدمات کے حوالے سے بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ آپ نے 1980ء میں ادارہ منہاج القرآن کی بنیاد رکھی جو بعد ازاں تحریک منہاج القرآن کی صورت میں ایک عالمی تحریک کی شکل اختیار کر گیا۔ آپ اپنی تمام تر سماجی و فلاحی خدمات اسی تحریک کے پلیٹ فارم سے اداکر رہے ہیں۔ منہاج ویلفیئر فاؤنڈیشن اس کا ایک ذیلی فورم ہے جو دکھی اوردرماندہ انسانیت کی خدمت میں شب و روز مصروف عمل ہے۔ شیخ الاسلام کا تعمیر کردہ فلاحی ادارے کا تحت ایک ذیلی فارم یتیم بچوں کی کفالت ہے۔
’’ بچوں کی تعلیم کے لیے آغوش کمپلیکس میں آغوش گرامر سکول کے نام سے ایک انگلش میڈیم سکول قائم ہے، جہاں بچے ماہر اساتذہ کے زیرنگرانی تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ سکول میں بچوں کے لیے لائبریری کے علاوہ کمپیوٹر لیب، فزکس لیب اور کیمسٹری لیب بھی الگ الگ موجود ہیں۔ اس سکول میں علاقے کے عام بچوں کو بھی تعلیم دی جاتی ہے۔ یوں یتیم بچوں کو معاشرے کے عام بچوں کے ساتھ مل کر تعلیم حاصل کرنے کے علاوہ ہم نصابی و تفریحی سرگرمیوں کا موقع بھی ملتا ہے، جس سے انھیں احساسِ کمتری سے نکالنے میں مدد ملتی ہے۔ علاوہ ازیں عام بچوں کی فیسوں کی آمدن یتیم بچوں کے کفالتی اخراجات میں معاون ثابت ہوتی ہے، جسے کسی دوسری مد میں استعمال نہیں کیا جاتا۔ ‘‘ (امجد علی شاه، (اپریل، 2019) شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی مطبوعہ خدمات، ماہنامہ منہاج القرآن، لاہور)
اسی طرح منہاج ویلفیئر فاؤ نڈیشن کے تحت غر یب گھرانوں کے لیے مکمل اجتماعی شادیاں، مجبور اور کمزور طبقہ کے لیے مختلف علاقاجات میں فری ڈسپنسریاں، ایمبولیس سروس، قدرتی آفات سے متاثر ین کی امداد، مفلس محروم اور کم آمدنی والے طبقہ کے لیے فری دسترخوان اور موجو دہ صورتحال کے پیش نظر فلسطین، غزہ کے مسلمانوں کے لیے عملی جدو جہد میں مصروف عمل ہیں۔
اصلاح معاشرہ کے لیے اخلاقی و روحانی خدمات
40 برس قبل جب معاشرہ محفل ذکر، شب بیداری، اجتماعی مسنون اعتکاف، نفلی اعتکاف، تربیتی کیمپس، روحانی اجتماعات جیسے کاموں سے ناواقف تھا اس دور میں شیخ الاسلام نے اپنی مجددانہ جدوجہد کا آغاز دروس تصوف اور ماہانہ شب بیداریوں سے کیا۔ سالانہ مسنون اعتکاف میں ہزارہا افراد 24 گھنٹے عبادت و بندگی میں مصروف رہتے ہیں۔ آنسوئوں اور توبہ کی اس بستی میں اعتکاف کے روحانی مزے لوٹنے و الے خوش نصیب جب معاشرے میں لوٹتے ہیں تو ان کے فکر و عمل کے دھارے بدل چکے ہوتے ہیں۔ کتنے بے نمازی آپ کی صحبت سے نماز کے پابند ہوتے نظر آتے ہیں۔ شیخ الاسلام کے خطابات اور تصانیف نے معاشرے کے اندر صالحیت، تقویٰ اور عبادت و بندگی کے کلچر کو فروغ دیا۔ لاکھوں دلوں میں عشق الہٰی اور عشق رسولa کی شمعیں روشن کیں جنہوں کو سجدوں کی لذت سے آشنا کیا۔ اس پرفتن دور میں لاکھوں افراد کے کردار و عمل میں اس قدر تبدیلی پیدا کرنا یہ سب شیخ الاسلام کی مجددانہ کاوشوں کا نتیجہ ہے۔ اصلاح معاشرہ میں شیخ الاسلام کی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے عین الحق بغدادی لکھتے ہیں:
’’شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے عامۃ الناس کی خصوصی روحانی و اخلاقی تربیت کے لئے سالانہ مسنون اجتماعی اعتکاف کا تربیتی نظام متعارف کرایا ہے جو گذشتہ اٹھائیس سالوں سے تحریک منہاج القرآن کے مرکز پر حرمین شریفین کے بعد دنیا کا سب سے بڑا 10 روزہ اجتماعی اعتکاف کا ایسا تربیتی کیمپ ہوتاہے جس کی مثال کہیں بھی میسر نہیں آتی۔ ملک بھر سے ہزاروں کی تعداد میں لوگ 10 دنوں کے لئے ذکرِ الہٰی کی لذتیں اور شیخ الاسلام کی صحبت سے فیض لینے کے لئے ان کے ہمراہ اعتکاف کرتے ہیں۔ ان دس دنوں میں 24 گھنٹے عبادت، بندگی، قیام اللیل، روزہ، نوافل، تلاوتِ قرآن اور اوراد و وظائف کے ذریعے قلب و روح کو پاکیزگی اور کردار و عمل کو طہارت دی جاتی ہے۔ ‘‘( عین الحق بغدادی، (فروری 2022ء)، شیخ الاسلام کا اصلاح معاشرہ میں علمی و عملی کردار، ماہنامہ منہاج القرآن، لاہور)
مغربی نسل نو کی اصلاح میں ’’الہدایہ‘‘ کا کردار
شیخ الاسلام نے اصلاح معاشرہ کے لیے ملی و بین الاقوامی ایشوز کے ضمن میں نوجوانوں میں شعور اجاگر کرنے کے حوالے سے الہدایہ پراجیکٹ کا آغاز کیا گیا جس کے پہلے کامیاب کیمپ کا انعقاد ناروے اور دوسرا سہ روزہ کیمپ 26 تا 28 اگست 2017 کیلی یونیورسٹی انگلینڈ میں ہوا۔ اس کیمپ میں شریک شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے 5 سو سے زائد برٹش مسلم نوجوانوں سے مختلف موضوعات پر خصوصی خطاب کیا۔ آپ کا قائم کردہ یہ ادارہ بین الاقوامی سطح پر لوگوں کی اصلاح کا کام کر رہا ہے۔ شیخ الاسلام نے ’’الہدایہ ‘‘ کے ذریے قرآن اور صاحب قرآن کی فکر کے ساتھ لو گوں کا تعلق استوار کیا۔ وہ لوگ جو دین سے صرف دور نہیں بلکہ بے دینی کا تصور لیے پھرتے تھے انہیں اسلام کی حقیقی فکر سے اگاہ کیا۔ ناروے میں قائم کردہ ’’الہدایہ ‘‘ کیمپ کے متعلق حیات الامیر خان لکھتے ہیں:
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے تصوف، روحانیات کے موضوع پر تفصیلی بات چیت کی۔ انہوں نے اپنی تصوف کے موضوع پر عربی میں لکھی جانے والی ان کتب کے مندرجات کو بھی گفتگو کا حصہ بنایا جو قلب کی صفائی سے متعلق ہیں اور ابھی شائع نہیں ہوئیں۔ انہوں نے اپنے لیکچرمیں بتایا کہ اچھے کام دل کی صفائی اور اسے روشن کرنے میں معاون ہوتے ہیں۔ قرآن پاک کی تلاوت، بکثرت درود شریف کا ورد، انسانیت کی خدمت، احسان، بڑوں کا احترام، اچھے اخلاق کا مظاہرہ دل کی سختی کو دور کرتا ہے۔ (حیات الامیر خان، (اکتوبر 2017)، شیخ الاسلام کا اصلاح معاشرہ میں علمی و عملی کردار، ماہنامہ منہاج القرآن، لاہور)
خلاصہ کلام
اصلاح معاشرہ خدمت دین کے عظیم فریضہ تجدیدِ دین اور احیائے اسلام کے عظیم مقصد کے حصول کے لیے بلاشبہ دورِ حاضر کے چیلنجز سے ہر سطح پر نبرد آزما ہونے کے لیے ایسی جامع شخصیت کی ضرورت تھی، جن کی طبیعت خواجہ نظام الدین ؓ کی تاثیر، حضرت غوث اعظمؓ کی دعوت و خطابت، غزالی ؒ کی تحقیق ‘ مجدد الف ثانی ؒ کی دینی حمیت‘ شاہ ولی اللہؒ جیسی وسعتِ نظر اور اعلیٰ حضرت جیسی کیف ومستی ہو، جو عشق کو کائنات کی جان سمجھے۔ عصرِ حاضر میں ایسی ہی جامع شخصیت شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی ہے جہاں روایت و درایت باہم بغلگیر ہیں، جہاں عقل و نقل ہم آہنگ ہیں، جہاں فکر و مذہب یکجا ہیں، جہاں تضادات کی تطبیق ہے، جہاں دائرہ اطلاق کا تعین ہے، جہاں جزوکل میں مماثلت اجاگر ہوتی ہے، یہ تمام اوصاف ہمیں جس ایک قالب میں ڈھلے نظر آتے ہیں اور جہاں تمام علمی، فکری اور تحقیقی دھارے ایک سمندر کی شکل اختیارکرلیتے ہیں، اس شخصیت کا نام شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری ہے۔