شیخ الاسلام دامت برکاتھم العالیہ صبر و شکر کی عملی تصویر

ڈاکٹر محمد اِقبال چشتی

تمہید

اسلام کی تاریخ گواہ ہے کہ دین کا چراغ ہمیشہ انہی ہستیوں کے ہاتھوں روشن ہوا جنہوں نے صبر، برداشت اور شکر کو اپنا شعار بنایا۔ یہ اوصاف محض وعظ و نصیحت تک محدود نہیں رہے بلکہ عملی زندگی میں مشکلات، مخالفتوں اور آزمائشوں کے باوجود حق پر قائم رہنے کی طاقت بنے۔ یہ بات بھی روزِ روشن کی مانند عیاں ہے کہ کبھی بھی سلطان اور دینِ حق کا مبلغ ایک جگہ پر نہیں رہے۔ علمائے ربانیین نے ہمیشہ اعلائے کلمۃ الحق کیا اور اس کی پاداش میں اُن کو وہ سزائیں، صعوبتیں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کہ انسانی روح و جسم سُن کر کانپ جاتے ہیں۔ کسی پر کفر کا فتوٰی لگا تو کوئی اُس دور کے سلطان کی غلط بات نہ مان کر صعوبتوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ علیٰ ہذا القیاس یہ معاملہ تب سے جاری و ساری ہوا جب سے اسلامی تعلیمات اِس کائنات میں منظرِ عام پر آئیں۔ ہر زمانے کے محدث، مجدد یا دین کے علمبردار کو دین کی حفاظت کے لیے قیمت ادا کرنا پڑتی ہے۔ اسلام کی تاریخ میں دین کی حفاظت اور اس کے پیغام کو عام کرنے کے لیے علماء، محدثین اور مجددین نے بے شمار قربانیاں دیں۔ ان کی زندگیاں مشکلات، آزمائشوں اور صعوبتوں سے بھری ہوئی ہیں، لیکن ان کے اخلاص اور استقامت نے دین کو محفوظ رکھا اور آج بھی ان کے نام زندہ و جاوداں ہیں۔ عصرِ حاضر میں اگر کسی شخصیت میں صبر، برداشت، تشکر جیسے اوصاف عملی صورت میں جلوہ گر نظر آتے ہیں تو وہ ڈاکٹر محمد طاہر القادری ہیں، جن کی زندگی صبر، شکر اور برداشت کا زندہ نمونہ ہے۔

علمائے حق پر دین کی حفاظت: ایک عظیم ذمہ داری

اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں دین کی حفاظت کے لیے ایسے افراد پیدا کیے جو نہ صرف خود دین پر قائم رہے بلکہ اس کی اشاعت اور حفاظت کے لیے اپنی جان و مال، عزت و آبرو سب کچھ قربان کر دیا۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

يحمل هذا العلم من كل خلف عدوله، ينفون عنه تحريف الغالين، وانتحال المبطلين، وتأويل الجاهلين.

’’ہر دور میں اس علم کو عادل لوگ اٹھاتے ہیں، جو اس سے غلو کرنے والوں کی تحریف، باطل پرستوں کی جعل سازی اور جاہلوں کی تاویل کو دور کرتے ہیں۔ ‘‘

(طبرانی، مسند الشامیین، جلد1، ص 344، رقم: 599، قرطبی، الجامع لاحکام القرآن، جلد1، ص 36)

دینِ اسلام کی حفاظت کوئی اتفاقی عمل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ایک دائمی نظام ہے، جس کے تحت ہر دور میں ایسے علمائے حق پیدا ہوتے ہیں جو علمِ دین کے امین اور محافظ ہوتے ہیں۔ یہ حضرات نہ صرف کتاب و سنت کے صحیح فہم کو اپنی زندگی کا مقصد بناتے ہیں بلکہ دین میں غلو کرنے والوں کی تحریفات، باطل نظریات گھڑنے والوں کی جعل سازی اور کم علمی یا جہالت پر مبنی غلط تاویلات کا علمی، فکری اور عملی ردّ بھی کرتے ہیں۔ ان کی جدوجہد محض وعظ و نصیحت تک محدود نہیں ہوتی بلکہ تحقیق، تدریس، تصنیف، مناظرہ اور عملی استقامت کے ذریعے دین کی اصل صورت کو محفوظ رکھتے ہیں۔ یوں یہ علمائے ربانی دین کے قافلے کے وہ امین راہبر بنتے ہیں جو امت کو افراط و تفریط کے اندھیروں سے نکال کر اعتدال، حق اور سنتِ نبوی ﷺ کی روشن شاہراہ پر قائم رکھتے ہیں، اور یہی ان کی سب سے بڑی ذمہ داری اور سب سے عظیم خدمت ہے۔

برداشت: فکری اختلاف سے لے کر عملی مخالفت تک

برداشت محض دوسروں کو سن لینے کا نام نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود اخلاق، وقار اور مقصد سے وابستگی برقرار رکھنے کا نام ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے فکری اختلافات، شدید تنقید، سیاسی دباؤ کے باوجود کبھی زبان، قلم اور کردار کو اخلاق کی حدود سے باہر نہیں جانے دیا۔ یہ وہی برداشت ہے جو اسلاف کا امتیاز تھی، جنہوں نے ظلم سہہ کر بھی دعوتِ دین کو ترک نہ کیا اور اپنے کردار کو بلند کیا۔

صبر و شکر: آزمائش میں استقامت، نعمت میں انکسار

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی زندگی کا نمایاں پہلو یہ ہے کہ وہ آزمائش کو صبر اور کامیابی کو شکر میں بدل دیتے ہیں۔ صبر اُنہیں تھکنے نہیں دیتا اور شکر اُنہیں مغرور نہیں ہونے دیتا۔ یہی توازن ہمیں صحابہ کرامؓ، تابعینؒ اور ائمۂ دین کی زندگیوں میں بھی ملتا ہے، جنہوں نے قید و بند، جلاوطنی، فقر اور مصائب کے باوجود دینِ اسلام کی خدمت کو اپنی زندگی کا مقصد بنائے رکھا۔

اسلاف محدثین و مفسرین کی دینِ متین کےلیے عظیم قربانیاں

حضرت امام احمد بن حنبلؒ کو اُس دور کے سلطان نے کوڑے لگوائے، امام ابو حنیفہؒ کو قید و اذیت سہنی پڑی، امام مالکؒ کو مدینہ میں تشدد کا سامنا کرنا پڑا، مگر کسی نے دین کا سودا نہیں کیا۔ ان عظیم ہستیوں نے صبر کو ہتھیار، برداشت کو زینت اور شکر کو سرمایہ بنا کر امت کو علمی و فکری رہنمائی عطا کی۔ یہی تسلسل ہمیں ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی جدوجہد میں دکھائی دیتا ہے، جو جدید فکری چیلنجز کے مدمقابل دین کی حقیقی یعنی علمی و امن پسند تشریح پیش کر رہے ہیں۔

’’بے شک دین کا مجدد وہی ہو سکتا ہے جو ظاہری اور باطنی دینی علوم میں کامل مہارت رکھتا ہو، سنتِ نبوی ﷺ کا پُرزور حامی اور بدعت کا قاطع کرنے والا ہو، اور جس کا علم اپنے زمانے کے اہلِ علم و عوام سب تک پھیل چکا ہو۔ ‘‘

محدثین نے حدیثِ رسول ﷺ کی حفاظت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔ وہ دور دراز سفر کرتے، مشقتیں برداشت کرتے، اور بعض اوقات جان کے خطرات مول لیتے۔ امام بخاریؒ کی زندگی کا مطالعہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ انہوں نے دور دراز کے دیار میں ایک ایک حدیث کو جمع کرنے کے لیے کئی کئی مہینوں کا سفر کیا۔ امام مسلم، امام شافعی، امام مالک اور دیگر اُس دور کے عظیم المرتبت محدثین ائمہ جنہوں نے دینِ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ وفا کی۔ امام مالکؒ کو کوڑے مارے گئے، لیکن انہوں نے حدیثِ رسول ﷺ کے خلاف فتویٰ دینے سے انکار کر دیا۔ ان کی استقامت کی وجہ سے آج بھی ان کا نام عزت و احترام سے لیا جاتا ہے۔

امام احمد بن حنبلؒ کو فتنہ ’’خلقِ قرآن‘‘ کے دوران قید و بند اور کوڑوں کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں، لیکن انہوں نے حق بات کہنے سے انکار نہ کیا۔ یعنی اگر ان محدثین کی کوششیں نہ ہوتیں تو باطل پرست دین پر غالب آ جاتے اور حق و باطل میں فرق نہ رہتا۔

دینِ اسلام کی خدمات: علم، امن اور اصلاحِ معاشرہ

شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی خدمات محض ایک میدان تک محدود نہیں بلکہ علم، تحقیق، دعوت، امن، بین المذاہب ہم آہنگی اور اصلاحِ معاشرہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ اُن کی تحریریں، خطابات اور عملی جدوجہد اس بات کا ثبوت ہیں کہ صبر و برداشت محض ذاتی اوصاف نہیں بلکہ ایک مکمل فکری منہج ہیں، جو تشدد، انتہا پسندی اور فتنہ انگیزی کا حقیقی توڑ فراہم کرتے ہیں۔ اِن موضوعات پر شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی سیکڑوں کتب ہیں جو فکری تشدد، مذہبی انتہاء پسندی اور فتنہ انگیزی کے لیے بیخ کنی کا کام کرتی ہیں۔

دینِ متین کے لیے مجدّدین کی جدوجہد

ہر صدی کے آغاز میں اللہ تعالیٰ ایسے مجدد پیدا کرتا ہے جو دین کو بدعات اور تحریفات سے پاک کرتے ہیں۔ مجدد وہی ہو سکتا ہے جو دینی علوم کا ماہر ہو، اور پھر بھی شرط یہ ہے کہ اس کا عزم اور ہمت ایسی ہو کہ وہ دن رات سنتوں کو زندہ کرے، انہیں عام کرے، اور دینِ متین کی ایجاد کی گئی بدعات اور محدثاتِ امور کو ختم کرے، یا کتابیں تصنیف کرے، تدریس کرے یا کسی اور طریقے سے دین میں شامل کی گئی بدعات کا قلع قمع کرے۔ یعنی: مجدد وہی ہوتا ہے جو دین کے علوم میں ماہر ہو اور اس کی ساری کوشش سنتوں کے احیاء، بدعات کے خاتمے اور دین کی حفاظت کے لیے ہو۔

علامہ شمس الحق عظیم آبادی مجدد کے متعلق لکھتے ہیں:

إذ المجدد للدين لا بد أن يكون عالـمًا بالعلوم الدينية الظاهرة والباطنة، ناصرًا للسنة قامعًا للبدعة، وأن يعم علمه أهل زمانه...

(شمس الحق العظیم آبادی، عون المعبود، جلد 11، ص 263)

’’بے شک دین کا مجدد وہی ہو سکتا ہے جو ظاہری اور باطنی دینی علوم میں کامل مہارت رکھتا ہو، سنتِ نبوی ﷺ کا پُرزور حامی اور بدعت کا قاطع کرنے والا ہو، اور جس کا علم اپنے زمانے کے اہلِ علم و عوام سب تک پھیل چکا ہو۔ ‘‘

یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ دین کی خدمت ہمیشہ انہی لوگوں کے حصے میں آئی ہے جو آزمائش میں ثابت قدم اور نعمت میں شکر گزار رہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری اسی تسلسل کی ایک روشن کڑی ہیں، جو اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے صبر، برداشت اور شکر کو عملی زندگی میں ڈھال کر امت کو امید، اعتدال اور فکری رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ ایسی شخصیات ہی دراصل تاریخ کے دھارے کو موڑتی اور آنے والی نسلوں کے لیے راستہ ہموار کرتی ہیں۔۔۔

علامہ شمس الحق اِسی طرح ایک اور مقام پر کہتے ہیں:

فظهر أن المجدد لا يكون إلا من كان عالـمًا بالعلوم الدينية، ومع ذلك من كان عزمه وهمته آناء الليل والنهار إحياء السنن ونشرها، ونصر صاحبها وإماتة البدع ومحدثات الأمور ومحوها، وكسر أهلها باللسان، أو تصنيف الكتب والتدريس، أو غير ذلك، ومن لا يكون كذلك لا يكون مجددًا البتة، وإن كان عالـمًا بالعلوم مشهورًا بين الناس مرجعًا لهم.

(العظیم آبادی، عون المعبود، جلد 11، ص 263-264)

’’پس یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ مجدد وہی ہو سکتا ہے جو دینی علوم میں کامل مہارت رکھتا ہو، اور اس کے ساتھ اس کا عزم و ہمت دن رات سنتوں کو زندہ کرنے اور انہیں عام کرنے میں صَرف ہو، رسول اللہ کی سنت ﷺ کی نصرت کرے، بدعات اور نئی گھڑی ہوئی باتوں کو مٹائے اور ختم کرے، اور ان کے ماننے والوں کی اصلاح (اُن کی )زبان کے ذریعے کرے، یا تصنیف و تالیف، تدریس یا کسی اور مؤثر طریقے سے انجام دے۔ جو شخص اِن تمام اوصاف کا حامل نہ ہو وہ ہرگز مجدد نہیں ہو سکتا، خواہ وہ دینی علوم میں کتنا ہی بڑا عالم کیوں نہ ہو، لوگوں میں کتنا ہی مشہور اور ان کے لیے مرجع ہی کیوں نہ سمجھا جاتا ہو۔ ‘‘

ان دو مندرجہ اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری نہ صرف اپنی زبان میں بلکہ دیارِ غیر میں اُن کی زبان کے اندر رسول اللہ ﷺ کے دینِ متین کی تبلیغ و ترویج میں کس قدر اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔

دینِ متین کی ترویج کے مختلف طریقے

دین کی حفاظت کے لیے علما ء، صلحاء، محدثین اور مفسرین نے مختلف طریقے اپنائے۔ بعض نے براہِ راست دعوت و تبلیغ کا اپنا شعار بنایا۔ مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کی تبلیغ کی، اپنے نبی ﷺ کی کتاب اور سنت کا دفاع کیا، اور بدعات کے قائلین کا مقابلہ کیا، اس کے لیے جو وسائل اُن کے اختیار میں تھے وہ بروئے کار لائے، جیسے براہِ راست دعوت دینا، خطوط اور مراسلات کے ذریعے تعلیم و ترغیب، تدریس، خطابت اور مناظرے کرنا، اور مختلف دینی علوم میں تصانیف لکھنا۔

بعض لوگوں نے وقت کے پیشِ نظر مناظرے، علمی مباحثے اور بحث و تمحیص کو اپنایا۔ بعض نے تصانیف و تالیفات کو دینِ متین کی تبلیغ کے لیے بطور طریق اپنایا۔

ان تمام طرق کے باوجود جب ہم شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہر القادری کی زندگی پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ آپ نے تمام صلحاء، اتقیاء، اسلاف اور علماءِ دین کے تمام طریقوں کو دورِ جدید میں دین کی ترویج کے لیے اپنایا ہے اور تقریبا دنیا کے 100 ممالک میں سے زائد لوگوں تک رسول اللہ ﷺ کا پیغام پہنچانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ آپ کے خلاف کئی کتابیں بھی لکھی گئیں، آپ پر مختلف اَدوار میں فتوے بھی لگے، آپ کی ذاتِ گرامی کے متعلق بہت کچھ کہا گیا لیکن آپ نے اپنی زندگی میں کسی کو جواب دینے کی بجائے علمی، فنی اور تعلیمی سرگرمیوں پر زور دیا اور دینِ متین کی ترویج کو اَحسن انداز میں کرنے کے لیے اہم اِقدامات کیے۔

برداشت محض دوسروں کو سن لینے کا نام نہیں بلکہ اختلاف کے باوجود اخلاق، وقار اور مقصد سے وابستگی برقرار رکھنے کا نام ہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری نے فکری اختلافات، شدید تنقید، سیاسی دباؤ کے باوجود کبھی زبان، قلم اور کردار کو اخلاق کی حدود سے باہر نہیں جانے دیا۔۔۔

دین کی حفاظت کے لیے ہر دور کے محدثین، مجددین اور علمبرداروں نے بے مثال قربانیاں دیں۔ ان کی استقامت، اخلاص اور جدوجہد کی بدولت آج دینِ اسلام اپنی اصل شکل میں محفوظ ہے۔ ان کے واقعات ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ دین کی حفاظت کے لیے مشکلات برداشت کرنا ہی اصل کامیابی ہے، اور یہی وہ قیمت ہے جو ہر سچے علمبردار کو ادا کرنی پڑتی ہے۔

حاصلِ کلام

یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ دین کی خدمت ہمیشہ انہی لوگوں کے حصے میں آئی ہے جو آزمائش میں ثابت قدم اور نعمت میں شکر گزار رہے۔ شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری اسی تسلسل کی ایک روشن کڑی ہیں، جو اسلاف کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے صبر، برداشت اور شکر کو عملی زندگی میں ڈھال کر امت کو امید، اعتدال اور فکری رہنمائی فراہم کر رہے ہیں۔ ایسی شخصیات ہی دراصل تاریخ کے دھارے کو موڑتی اور آنے والی نسلوں کے لیے راستہ ہموار کرتی ہیں۔ آخر میں دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی دین کی خدمت اور اس کی حفاظت کے لیے استقامت اور اخلاص عطا فرمائے۔ آمین بجاہ النبی الکریم الاَمین۔