نگہ بلند سخن دل نواز، جاں پر سوز
یہی ہے رختِ سفر میرِ کارواں کے لیے
الحمدللہ کہ ہمیں شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری مدظلہ العالی کی پچھترویں سالگرہ کی خوشیاں دیکھنا نصیب ہورہی ہیں جو عالمِ اسلام کی ایک عظیم علمی، دینی اور روحانی ہستی اور نابغہ روزگار شخصیت ہیں۔ وہ تاریخ اسلام کے ان چیدہ چنیدہ اشخاصِ جلیلہ میں شامل ہیں جن کا عالم یا متدین ہونا محض اپنی ذات یا اپنے اردگرد کے چند افراد تک محدود نہیں بلکہ اپنے گہرے اور وسیع اثرات کے حوالے سے دنیا بھر کے طول و عرض تک پھیلا ہوا ہے۔ وہ ایک ایسے داعی الی الخیر ہیں جو کئی اعتبار سے کثیرا لجہات (Multidimensional) ہیں۔ انھیں تحریر و تقریر کی یکساں دلپذیر صلاحیتیں عطا ہوئی ہیں۔ وہ معیار اور مقدار دونوں اعتبار سے ایک عظیم مفکر و مصنف، مولف و مترجم، مفسر و شارح اور مرتب و مدون ہیں جن کی شہادت ان کی کم و بیش ایک ہزار کتابیں اور لاتعداد مضامین و مقالات فراہم کرتے ہیں۔ قدرت نے انھیں تکلم و گویائی کے فن سے بھی خوب نوازا ہے اور اس ضمن میں ایک نہایت اہم پہلو یہ ہے کہ وہ تحریر و تقریر دونوں میں کثیر لسانی (Multilingual) ہیں اور انھیں پنجابی، اردو، انگریزی، عربی اور فارسی وغیرہ پر کامل عبور حاصل ہے جو دعوت و تبلیغ کے دائرہ اثر کو وسعت دینے کا نہایت اہم وسیلہ ثابت ہوتا ہے۔
شیخ الاسلام کی دعوت و تبلیغ کا ایک نہایت اہم پہلو تنظیمی ہے۔ تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل کا قیام ان کی انتظامی صلاحیتیوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اس تحریک کی فعالیت کثیرالجہات مظاہر و عوامل میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔ اس عظیم الشان تحریک کے تربیتی مراکز نہ صرف وطن عزیز کے مختلف شہروں اور قصبوں میں بلکہ کم و بیش ایک سو ملکوں کے معروف شہروں میں اسلامی تہذیب و ثقافت کی حفاظت، اہل اسلام کی دینی و سماجی خدمت اور نژادِ نو کی تربیت کا سامان فراہم کررہے ہیں۔
شیخ الاسلام کی دعوت و تبلیغ اور اس سے متعلق تمام اقدامات ہر قسم کے تعصب کی طرح صنفی تعصب (Gender Bais) سے بھی بالاتر ہیں۔ انھوں نے مردوں کی طرح عورتوں کے لیے بھی یکساں طور پر سعی و کاوش کی ہے۔ ان کی کتب و مقالات میں ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور عورت کی دیگر حیثیتوں اور رشتوں کے لیے تربیت کا وافر سامان موجود ہے۔۔۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر اجتماعی قربانی کا اہتمام ہو یاکم وسائل افراد کے لیے اجتماعی شادیوں کا بندوبست، مساکین و یتامیٰ کے لیے آغوشِ محبت و سرپرستی کا وا کرنا ہو یا غربا کے لیے ضروریاتِ زندگی کی فراہمی، ہر پہلو سے تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل کی خدمات مثالی ہیں اور ان سب کا سہرا ہمارے ممدوح شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے سر بندھتا ہے۔
تعلیمی اداروں کا قیام بھی شیخ الاسلام کے کارہائے نمایاں کی ایک روشن جہت ہے۔ چنانچہ سکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطحوں پر قدیم و جدید، مشرقی و مغربی اور دینی و سائنسی علوم کے امتزاج سے عبارت متوازن تعلیم کے فروغ کی لائقِ تحسین کاوشیں کبھی فراموش نہیں کی جاسکتیں۔ مذکورہ ادارے تعلیم دینے کے ساتھ ساتھ تربیت کرنے کا مقدس فریضہ بھی بخوبی انجام دے رہے ہیں۔
عیدالاضحیٰ کے موقع پر اجتماعی قربانی کا اہتمام ہو یاکم وسائل افراد کے لیے اجتماعی شادیوں کا بندوبست، مساکین و یتامیٰ کے لیے آغوشِ محبت و سرپرستی کا وا کرنا ہو یا غربا کے لیے ضروریاتِ زندگی کی فراہمی، ہر پہلو سے تحریک منہاج القرآن انٹرنیشنل کی خدمات مثالی ہیں اور ان سب کا سہرا ہمارے ممدوح شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کے سر بندھتا ہے۔۔۔
شیخ الاسلام کی دعوت و تبلیغ اور اس سے متعلق تمام اقدامات ہر قسم کے تعصب کی طرح صنفی تعصب (Gender Bais) سے بھی بالاتر ہیں۔ انھوں نے مردوں کی طرح عورتوں کے لیے بھی یکساں طور پر سعی و کاوش کی ہے۔ ان کی کتب و مقالات میں ماؤں، بہنوں، بیٹیوں اور عورت کی دیگر حیثیتوں اور رشتوں کے لیے تربیت کا وافر سامان موجود ہے۔ اسی طرح ان کے علمی و تربیتی اداروں میں بھی کسی تفریق کے بغیر خواتین کو نمائندگی دی گئی ہے۔ وہ اس رمز سے پوری طرح آگاہ ہیں کہ قوموں کی تشکیل و تعمیر میں عورتوں کا کردار اساسی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انھوں نے خواتین کی کردار سازسی پر خصوصی توجہ دی ہے۔ اس ضمن میں منہاج ویمن لیگ کا قیام اور ماہنامہ دختران اسلام کا اجرا خاص اہمیت کا حامل ہے۔
اور اب اس خراج تحسین کے آخر میں مجھے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہ اس نے ہمیں شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری کی صورت میں ایک نعمتِ غیر مترقبہ سے نوازا ہے، ان کی صحت و سلامتی اور درازیِ عمر کے لیے دعا کرنی ہے:
تم سلامت رہو ہزار برس
ہر برس کے ہوں دن پچاس ہزار