جویریہ ابراہیم

رمضان المبارک کی آمد آمد ہے اور ہر سال کی طرح اس کا استقبال بھرپور طریقے سے کیا جاتا ہے اس مہینے میں خصوصاً گھریلو خواتین کی ذمہ داریوں میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

اس ماہ میں گھر کی ساری روٹین بدل جاتی ہے، خواتین کو سحری اور افطاری کی مناسبت سے خصوصی اہتمام کرنا، رمضان المبارک میں گھر کی صفائی ستھرائی کے ساتھ ساتھ روزوں اور عبادات کے فرائض بھی انجام دینا ہوتے ہیں۔ اس مہینے میں عام طور پر ہماری گھریلو اور معاشی مصروفیات میں تبدیلی ضرور آتی ہے۔

اس تبدیلی کی وجہ سے ہمارے نظام انہضام پر بھی گہرا اثر پڑتا ہے، جس کے تدارک کیلئے ضروری ہے کہ سحر و افطار میں ایسی غذاؤں کا استعمال کیا جائے جو معدے میں جاکر کسی پریشانی کا باعث نہ بنیں۔
اس حوالے سے ماہرین صحت نے اس ماہ مقدس میں بھرپورغذائیت اور صحت مند رہنے سے متعلق چیدہ چیدہ نکات مرتب کیے ہیں تاکہ روزہ دار اس مقدس مہینہ میں صحت مند رہنے کے ساتھ ساتھ مکمل روحانی بالیدگی سے بھی لطف اندوز ہوسکیں۔

سحری و افطار کا بہترین طریقہ

ماہرین کے مطابق پورا دن روزہ گزارنے کے بعد ضروری ہے کہ افطار کے وقت درکار تمام غذائی اجزاء کو یقینی بنانے کے لیے مناسب طریقے سے روزہ افطار کریں، اس کی کلید متوازن غذا ہے۔

افطاری میں سب سے پہلے پانی پینے اور پھر کچھ کھجوریں کھانے سے بلڈ شوگر کو مستحکم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ سُوپ کا استعمال بھی اس ضمن میں اہم ہے کیونکہ وہ روزے کے دوران میں جسم میں کم ہونے والی کیلوریز کو دوبارہ حاصل کرنے سمیت نظام ہاضمہ کو برقرار رکھنے میں مدد کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق میٹھے مشروبات سے حتی الامکان گریز کریں کیونکہ ان میں شکر اور کیلوریز کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، روزہ کھولتے وقت پانی ہائیڈریشن کا پہلا ذریعہ ہونا چاہیے، روزہ افطار کے بعد اور سحر کے وقت تک پانی کے استعمال پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

جہاں تک بنیادی کھانے کی بات ہے تو افطار کے دسترخوان میں سبزیوں کے علاوہ لحمیات (پروٹین) اورنشاستہ دار (کاربوہائیڈریٹس) غذائیں اس میں شامل ہونا چاہییں۔ ان غذاؤں کے اچھے آپشنزمیں کینو، چنے، دال، پھلیاں، پورا اناج، براؤن پاستا، اوربراؤن چاول شامل ہیں۔

یہ غذائیں پیچیدہ کاربوہائیڈریٹس وٹامنز، منرلز اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو جسم کو روزے کے اوقات کے بعد درکار توانائی مہیّا کرتے ہیں۔ بنیادی کھانے میں لحمیات کو بھی شامل ہونا چاہیے جیسے مچھلی، مرغی کا گوشت، چھوٹا گوشت، دہی، انڈے اور پنیر کو بھی کھانے کا حصہ ہونا چاہیے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ افطار کرنے بعد بھی پھل یا شوگر لیول بہتر رکھنے کی غذا کھانے کی کوشش کرنی چاہیے اس کے علاوہ افطار ہو یا سحر کوئی بھی کھانا نہ چھوڑیں اور بالخصوص روزہ رکھتے وقت سحری کا کھانا بھی متوازن ہونا چاہیے، جس میں دہی، کھیرا اور کیلا بھی اچھے آپشن ہیں کیونکہ روزے سے پہلے پوٹاشیم کا استعمال بھی ضروری ہے، سحر کے کھانوں کے دیگر اختیارات میں روٹی کے ساتھ دال یا ڈیری مصنوعات کے ساتھ کوئی بھی پروٹین والی غذائیں ہوسکتی ہیں۔

پروٹین انسانی غذا اور جسمانی نشونما کے لیے اہم اور بنیادی جز ہے جس کی کمی کے نتیجے میں صحت سے متعلق متعدد مسائل جنم لیتے ہیں، پروٹین کا استعمال روزانہ کی بنیاد پر کیا جانا چاہیے مگر دوران رمضان اس کے استعمال سے جہاں دیگر فوائد حاصل ہوتے ہیں وہیں یہ روزہ نہ لگنے کا سبب بھی بنتا ہے۔ چنے کی سلاد کی ریسیپی آپ کی لیے پیش کی جا رہی ہے۔

پروٹین سے بھرے سادہ سے چنے اپنے خواص میں بہترین ہیں اور گوشت کا شاندار نعم البدل سمجھے جاتے ہیں۔ سبزی خور افراد کے لئے چنے کھانا صحت و توانائی کی ضمانت ہے۔ چنے کی سلاد توانائی اور ذائقے کا بہترین امتزاج ہونے کے باعث سبزی خور اور وِیگن ڈائیٹ پر عمل کرنے والے خواتین و حضرات میں نہایت مقبول ہے۔ چنے کی سلاد کو آپ اپنے پسندیدہ کھانے کے ساتھ سائیڈ ڈش کے طور پر بھی کھا سکتے ہیں اور چاہیں تو اس مزے دار سلاد کو بغیر کسی دوسرے پکوان کی آمیزش کے بھی کھایا جا سکتا ہے

پروٹین سے بھرپور سلاد منانے کی ترکیب:

اجزاء

بند گوبھی کٹی ہوئی (آدھی)، گاجرلمبائی میں کٹی ہوئی (دو عدد)، پیازدرمیانے سائز کے (دو عدد)، کھیرا (دو عدد)، ٹماٹرلمبائی میں کٹے ہوئے (ایک عدد)، مایونیز (ایک کپ)، چنے اُبلے ہوئے (ایک کپ)، لیموں کا رس (ایک کھانے کا چمچ)، تیل (دو عدد کھانے کے چمچ)، نمک (حسبِ ذائقہ)، کالی مرچ (ایک چائے کا چمچ)، سرسوں کا پیسٹ (ایک چائے کا چمچ)، زیتون کا تیل (ایک چائے کا چمچ)، دھنیا سجاوٹ کے لئے رمضان المبارک کی مناسبت سے قارئین کے لیے ایک اور ریسپی شیئر کی جا رہی ہے۔

ترکیب:

ایک باؤل میں دیئے گئے تمام اجزاء مکس کریں کالی مرچ اور حسبِ ذائقہ نمک شامل کرکے اچھے طریقے سے مکس کریں۔ دھنیے سے گارنش کرکے سرو کریں۔

آلو پاپڑی چاٹ

درکار اجزاء:

آلو۔ آدھا کلو (چھوٹے)، پاپڑی۔ چھ عدد (چورا کی ہوئی)، دال سیو (ایک پیکٹ)، تیل (ایک چوتھائی کپ)، کڑی پتے (آٹھ سے دس عدد)، زیرہ (ایک کھانے کا چمچ)، رائی (آدھا چائے کا چمچ)، نمک( حسب ذائقہ)، لال مرچ (ایک چوتھائی چائے کا چمچ)، ہلدی(ایک چائے کا چمچ)، املی کا گودا(ایک چوتھائی کپ)، چاٹ مصالحہ(ایک چوتھائی چائے کا چمچ)، ہری مرچ (چار عدد)

ترکیب:

پہلے آلوؤں کو چھیل کر اُبال لیں۔ اب ایک پین میں ایک چوتھائی کپ تیل گرم کرکے اس میں کڑی پتہ، زیرہ اور رائی ڈال کر فرائی کریں۔ ساتھ ہی اس میں نمک، لال مرچ، ہلدی اور املی کا گودا ڈال کر تھوڑا بھونیں۔ اس کے بعد اس میں آلو، چاٹ کا مصالحہ اور ہری مرچ شامل کرکے مکس کریں اور پھر اُتار لیں۔ اب اسے ڈش میں نکال کر چورا کی ہوئی پاپڑی اور دال سیو ڈال کر پیش کریں۔