عائشہ صدیقہ

(زیرِ نظر مضمون جنوری 2025ء میں شائع کیے گئے آرٹیکل کا دوسرا حصہ ہے)

سید علی ہجویریؒ کا دقت مطالعہ:

آپ کا معمولِ زندگی یہ تھاکہ آپ اپنے سامان زیست کا بندوبست بھی خود ہی کرتے اس لیے کسی ایک ملک میں قیام کا دورانیہ ایک سال سے تین سال یا پانچ سال تک ہونا بعید از قیاس نہیں لگتا۔

اس لیے سفر کو اور ممالک میں قیام کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے یہ اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ آپ نے 20 تا 25 سال سیاحت کی ہے جبکہ ایک روایت کے مطابق 21 سال تک آپ ابھی غزنی میں تھے۔ اور یہی قریب قیاس ہے کہ آپ 21 تا 22 سال کی عمرمیں سفر پر نکلے ہوں گے۔ گویا 45 تا 50 سال کی عمر تک آپ سفر پر رہے ہوں گے اور اس طرح 45 سے 50 سال کی عمر آپ نے مطالعہ و عبادت میں گزاری۔

علوم ظاہری کی تحصیل کے بعد آپ نےحصول علم اور تزکیہ نفس کے لئے سفر کا ارادہ فرمایا اور طویل عرصہ سفر میں رہے اور بزرگان دین اور مشائخ طریقت سے آداب کی تعلیم لیتے رہے یہاں تک کہ ملک شام میں آپ کی ملاقات شیخ ابو الفضل محمد بن حسن ختلیؒ سے ہوئی اور پھر انہیں کے ہوکر رہ گئے۔ ان سے شرف بیعت حاصل کیا اور خدمت میں رہے۔ آپ نے ان کا ذکر یوں کیا ہے۔

’’زینتِ او تاد شیخ عباد ابو الفضل محمد بن الحسن الختلیؒ طریقت میں میرے پیرومرشد ہیں، آپ علم تفسیر وروایات کے جید عالم تھے۔ تصوف میں حضرت جنید ؒ کے مسلک کے پیروکار تھے۔ حضرت مصریؒ کے مرید اور محرم راز تھے ابو عمر قزدینی اور ابو الحسن سالبہؒ کے ہم زمان تھے، ساٹھ سال تک گوشہ نشین رہے۔ یہاں تک کہ لوگوں کو آپ کا نام بھی فراموش ہوگیا۔ اکثر وقت آپ نے لکام نامی پہاڑ پر گزارا۔ طویل عمر پائی بے شمار روایات وبراہین کے مالک تھے۔ ‘‘

(ہجویری، سید علی داتا گنج بخش، (2012ء)، کشف المحجوب، (مترجم محمد احمد قادری)، لاہور، مرکز معارف اولیاء داتا دربار کمپلیکس، ص: 175)

اساتذہ:

1۔ حضرت ابو العباس بن محمد شقانی 479ءھ

2۔ حضرت ابو القاسم بن علی بن عبداللہ گرگانی 464ھ

3۔ حضرت عبدالکریم القاسم بن ہوازن القشیری 465ھ

4۔ حضرت ابو جعفر محمد بن مصابح صدلانی

5۔ حضرت ابو سعید ابو الخیر فضل اللہ بن محمد الہینی 440ھ

6۔ حضرت ابو احمد المظفر بن احمد بن حمدان

7۔ حضرت ابو الفضل محمد بن الحسن الختلی 460ھ

8۔ حضرت ابو عبداللہ محمد بن علی الداغستانی

(ہجویری، سید علی داتا گنج بخش ، ، (2012ء) ، کشف المحجوب، (مترجم محمد احمد قادری)، لاہور، مرکز معارف اولیاء داتا دربار کمپلیکس ، ص:47)

(ب)ہم عصر مشائخ :

1. حضرت ابو الفضل بن اسد

2. حضرت اسماعیل الشاشی

3. حضرت شیخ سالار طبری

4. حضرت ابو عبداللہ محمد بن الحکیم

5. حضرت سعید بن ابی سعید العیار

6. حضرت ابو العلاء عبدالرحیم بن احمد سعدی

7. حضرت اوحد قسورہ بن محمد گردیزی

8. حضرت ابو طاہر مکشوف

9. حضرت خواجہ طاہر مکشوف

10. حضرت خواجہ حسین سمنانی

11. حضرت شیخ سہلکی

12. احمد بن شیخ خرقانی

13. حضرت ادیب کمندی

14. حضرت شیخ ابوعبداللہ جنید

15. حضرت بادشاہ تائب

16. حضرت شیخ شفیق

17. حضرت ابو الحسن سالبہ

18. حضرت ابو طالب

19. حضرت ابو اسحاق

20. حضرت ابو العباس سرمغانی

21. حضرت ابو جعفر محمد بن علی الجولینی

22. حضرت ابو جعفر ترشیزی

23. خواجہ محمود نبشاپوری

24. حضرت محمد مشعوق

25. حضرت سید مظہر ابن شیخ ابو سعید

26. حضرت احمد حماد سرخسی

27. حضرت احمد بخار سمرقندی

28. حضرت ابو الحسن علی بن ابی علی الاسود

29. حضرت ابو جعفر محمد بن الحسین الحرمی

30. حضرت ابو محمد باثفری

31. حضرت محمد ایلاقی

32. حضرت علی بن الحسین السیر کانی

33. حضرت زکی بن علا

34. خواجہ عارف

35. حضرت علی بن اسحاق

36. حضرت محمد بن سلمہ

37. حضرت ابو جعفر محمد بن المصباح

38. حضرت ابو القاسم اسدسی

(ہجویری، سید علی داتا گنج بخش ، (2012ء) ، کشف المحجوب، (مترجم محمد احمد قادری)، لاہور، مرکز معارف اولیاء داتا دربار کمپلیکس ، ص:47)

علمی تحقیقی کا جاری رکھنا:

آپ کی زندگی کا بیشتر حصہ سیر و سیاحت میں گزرا۔ اس کے باوجود سفر و حضر میں تحقیق و تصنیف اور درس و تدریس کے مشاغل جاری رہے آپؒ نے علمی تحقیق کے لئے جو مصیبتیں اٹھائی ہیں انکا ذکر کشف المحجوب میں کئی مقام پر ملتا ہے۔ آپ کا ہر سفر تحصیل علم یا کسی علمی مسئلہ کا حل تلاش کرنے کے لئے ہوتا تھا مثلاً: صحبت کے آداب کے باب میں لکھتے ہیں کہ:

"ایک دفعہ میں نے دو درویشوں کے ساتھ ابن المعلا کی زیارت کے لئے دمشق سے رملہ کا ارادہ کیا۔ راستے میں ہم نے طے کیا کہ ہر شخص دل میں کوئی ایسی بات سوچ لے جس کا حل درکار ہوتا کہ وہ شیخ ہمارے باطن سے مطلع ہو کر عقدہ حل کر دیں۔ میں نے کہا کہ میں ان سے حسین بن منصور الحلاج کے اشعار و مناجات کی درخواست کروں گا۔ دوسرے نے کہا کہ میں دعا کراؤں گا کہ میرا مرضِ طحال چلا جائے۔ تیسرے نے کہا کہ میں صابونی حلوہ کھانا چاہوں گا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو کچھ ایسا ہی ہوا کہ وہ ہمارے باطن سے آگا ہ تھے۔ انہوں نے حکم دیا کہ وہ جزو میرے سامنے رکھ دیا جائے جس میں حسین بن منصور کے اشعار و مناجات ہیں۔ دوسرے درویش کے پیٹ پر ہاتھ پھیر دیا جس سے اس کا مرض طحال کم ہو گیا۔ تیسرے سے فرمایا کہ صابونی حلوہ تو سپاہیوں کی غذا ہے اور تو نے تو اولیاء کا لباس پہن رکھا ہے۔ اولیاء کے لباس میں سپاہیوں کی طلب ٹھیک نہیں ان دونوں میں سے کسی ایک کو اختیار کرو۔ "

(ہجویری، سید علی داتا گنج بخش، (2012ء) ، کشف المحجوب ، (مترجم محمد احمد قادری)، لاہور، مرکز معارف اولیاء داتا دربار کمپلیکس ، ص:542)

ماہر علوم:

کشف المحجوب کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؒ قرآن مجید، علم حدیث، علم تفسیر، علم فقہ میں بدرجہ کمال رکھتے تھے۔ شعر و ادب میں ان کے کمال کا ثبوت ان کا دیوان ہے جسے کسی نے چرا لیاتھا۔ دسویں حجاب کو منکشف کرتے ہوئے مختلف علوم کی اصطلاحات پر جو بحث کی ہے اس سے آپ کہ ہمہ دانی کا پتہ چلتا ہے کہ آپ کس قدر ماہر علوم و فن تھے۔ آپ لکھتے ہیں کہ:

"بعض اصطلاحات اہل لغت نے اپنے لئے مخصوص کر لی ہیں جیسے فعل ماضی، فعل مستقبل، صحیح، معتل، اجوف و لفیف اور ناقص وغیرہ۔ اہل نحو کی اپنی مخصوص اصطلاحات ہیں جیسے رفع و ضم، نصب و فتح، کسرہ و جر، خفص و جزم اور منصرف و غیر منصرف وغیرہ۔ اہل عروض کی اپنی اصطلاحیں ہیں جیسےبحورو دوائر، سبب و تد اور فاصلہ وغیرہ۔ ریاضی دانوں نے اپنی اصطلاحیں مخصوص کر رکھی ہیں جیسے ضرب و تقسیم، کعب و جذر، اضافت اور جمع و تفریق وغیرہ۔ اہل فقہ نے بھی بعض اصطلاحات خود سے مخصوص کرلی ہیں جیسے علت و معلول، قیاس و اجتہاد وغیرہ۔ محدثین کی بھی مخصوص اصلاحیں ہیں جیسے مسند و مرسل، احادو متواتر اور جرح و تعدیل وغیرہ۔ متکلمین نے بھی بعض اصطلاحیں مخصوص کر رکھی ہیں جیسے عرض و جوہر، کل و جزو، جسم و حدث اور تحیر و قوالی وغیرہ۔ اسی طرح بعض عبارتوں سے علم طب اور کیمیا کے بھی اشارے ملتے ہیں۔ "

(ہجویری، سید علی داتا گنج بخش، (2012ء) ، کشف المحجوب، (مترجم محمد احمد قادری)، لاہور، مرکز معارف اولیاء داتا دربار کمپلیکس، ص:542)

حضرت گنج بخش ؒ تمام علوم کی غوطہ زنی کے بعد اس نتیجے پر پہنچے تھے اور سالک کو بتاتے ہیں کہ:

"جان لو کہ علوم بہت ہیں اور انسان کی عمر کم ہے اس لئے تمام علوم و فنون کا سیکھنا لوگوں پر فرض نہیں مثلاً علم نجوم و طب۔ علم حساب اور علم بدیع کے صنائع کا تا ہم ان میں سے ہر علم میں اتنا ادراک ہو نا ضروری ہے کہ شریعت کے تقاضے کما حقہ پورے کئے جا سکیں۔ علم نجوم کا اتنا ہی سیکھنا کافی ہے کہ رات کو وقت کی شناخت کر سکیں۔ علم طب کی اتنی ہی ضرورت ہے کہ نقصان سے بچا جا سکے۔ حساب کا اتنا ہی سیکھنا کافی ہے کہ وراثت کے مائل کو سمجھ سکیں اور مدت عدت کا حساب لگا سکیں۔ غرضیکہ علم کا سیکھنا اسی قدر فرض ہے کہ بندہ اپنے اعمال درست رکھ سکے۔ "

(ہجویری، سید علی داتا گنج بخش، (2012ء) ، کشف المحجوب، (مترجم محمد احمد قادری)، لاہور، مرکز معارف اولیاء داتا دربار کمپلیکس ، ص: 175)

فقہی مذہب:

فقہی مذہب کے اعتبار سے آپؒ حنفی تھے۔ آپؒ امام اعظم ابو حنیفہ ؒ کے مقلد تھے اور ان سے بے پناہ محبت و عقیدت رکھتے تھے۔ کشف المحجوب میں جہاں بھی امام ابو حنیفہ کا ذکر آیا آپؒ نے بڑے معزز القابات کے ساتھ ان کا ذکر کیا ہے جس سے اس عقیدت اور احترام کا پتہ چلتا ہے جو امام ابو حنیفہؒ کے بارے میں آپؒ کے دل میں تھا۔

سیر و سیاحت:

سیر و سیاحت محض وقت گزارنے کے لئے نہیں ہوتی بلکہ محبوبانِ خدا سیر و سیاحت کے لمحات میں سخت مشکلات اور آزمائش سے دو چار ہوتے ہیں اور پیر کامل کی تلاش میں سختیاں جھیلتے ہوئے سفر کی منازل طے کرتے ہیں اور پھر خوش نصیب اپنے پیر کامل کی صحبت کو پا لیتا ہے۔ سیر و سیاحت میں مناظر قدرت اور عجائبات قدرت کا مشاہدہ بھی تقویت ایمان اور ایقان میں بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

چنانچہ سید علی ہجویریؒ نے بھی اپنی زندگی کا بہت بڑا حصہ سیر و سیاحت میں گزارا اور اپنے دور کے اکابر صوفیاء اور اولیاء اللہ کی زیارت کی، ان کی صحبت سے فیضیاب ہوئے اور روحانی کسب فیض و کمال کیلئے آپؒ نے تقریباً تمام اسلامی ممالک شام، عراق، بغداد، آذربائیجان، طربستان، خوزستان، کرمانستان، خراسان، طوس، ماوراءالنہر، ترکستان اور حجاز کا سفر کیا اور ان میں رہائش پذیر اولیائے کرام کی صحبتوں سے فیض یاب ہوئے۔ آپؒ اگرچہ چالیس سال مسلسل سفر میں رہے لیکن کبھی بھی با جماعت نماز نہیں چھوڑی اور نہ ہی جمعہ، ہمیشہ جمعہ کسی نہ کسی قصبے میں ادا فرماتے۔

مزاراتِ اولیاء پر حاضری:

سید علی بن عثمانؒ سیر و سیاحت کے دوران ہم عصر مشائخ و اولیائے کرام سے فیوض و برکات حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ اولیاء کے مزارات پر بھی حاضری دیتے اور اکتساب فیض کرتے رہے۔ حضرت بایزید بسطامیؒ کے مزار پر تین ماہ تک مجاور بن کر مجاہدہ کرتے رہے۔ اسی طرح شیخ ابو سعیدؒ کے مزار کی بھی زیارت کے لئے تشریف لے گئے۔

مجاہدے اور ریاضتیں:

سلوک و تصوف کی منازل طے کرنے کے لئے سفر کے دوران آپؒ نے بڑی بڑی سختیاں جھیلیں، مجاہدے کئے اور نفس کو زیر کرنے کے لئے اپنے آپ کو طرح طرح مشکلات میں ڈالا، کہیں سوکھی روٹی پر گزارا ہو رہا ہے اور کہیں فاقے، کہیں آپ کا تمسخر اڑایا جا رہا ہے اور کہیں آپؒ پر آوازیں کسی جا رہی ہیں، کہیں آپؒ کو حقیر ترین گردانا جا رہا ہے اور آپؒ اس کیفیت کو بسرو چشم قبول کر لیتے ہیں۔ اس نفس کشی کے انعام میں آپؒ کو وہ کشف نصیب ہوا جو بایزید بسطامیؒ کے دربار پر تین ماہ مجاور بن کر خدمت کرنے سے بھی حاصل نہیں ہوا تھا۔

دوران سفر حاجت مندوں کی امداد فرماتے یہاں تک کہ آپؒ خود مقروض ہو جاتے۔ اتنے طویل سفر مین زاد راہ فقط ایک چمڑے کا لوٹا، ایک عصا اور مصلیٰ ہوتا تھا ظاہراً آپؒ زمیں پر سفر کر رہے ہوتے اور باطنی اعتبار سے رو حانی سفر میں صبر، شکر، توکل، اور رضا جوئی کی منازل سے گزر رہے ہوتے تھے۔ پھر وہ وقت آ ہی گیا جب آپؒ سلوک و تصوف اور طریقت و معرفت کے اس مقام تک جا پہنچے جہاں آپؒ نے سالکانِ راہ طریقت کے ساتھ ساتھ اکابر اولیاء کی بھی رہبری کرنی تھی اور ظلمت کدہ ہند میں ہر سو توحید و رسالت کے انوار کا اجالا کرنا تھا۔

بیعت و خلافت :

طریقت میں علی ہجویریؒ کے شیخ ابو الفضل محمد بن حسن ختلی ہیں۔ آپؒ کا سلسلہ بیعت حضرت جنید بغدادیؒ تک جا ملتا ہے۔ آپؒ کا سلسلہ عالیہ تین واسطوں سے شیخ ابو بکر شبلیؒ تک پہنچتا ہے۔ بایں طور پر آپؒ کے شیخ روشن ضمیر حضرت حضرمی کے مرید اور وہ شیخ ابو بکر شبلی کے مرید تھے۔

صاحب خزینۃ الاصفیا ء لکھتے ہیں کہ:

"محمد بن حسن الختلیؒ کے علاوہ بھی آپؒ نے دیگر مشائخ حضرت ابو الحسن گورگانی، شیخ ابو سعیدؒ اور امام ابو القاسم قشیریؒ جیسے مشائخ عظام کی صحبت سے فیضیاب ہوئے اور روحانی فوائد حاصل کئے۔

"(غلام سرور، (1994ء) ، خزینۃ الاصفیاء، لاہور، مکتبہ نبویہ، ص: 155)

لاہور میں آمد اور قیام:

سید علی بن عثمانؒ اپنے شیخ کے حکم سے خدا کے دین کی تبلیغ و اشاعت کے لیے سلطان محمود غزنوی کے بیٹے ناصر الدین کے زمانے 1030ء تا 1040ء میں لاہور تشریف لائے۔ آپؒ سے پہلے آپؒ کے پیر بھائی حسین زنجانی اس خدمت پر مامور تھے۔ اس لیے جب آپ کو لاہور آنے کا حکم ہوا تو آپؒ فرماتے ہیں کہ میں نے شیخ سے عرض کیا کہ وہاں حسین زنجانی موجود ہیں میری کیا ضرورت ہے؟ لیکن شیخ نے فرمایا، نہیں تم جاؤ۔ فرماتے ہیں کہ میں رات کے وقت لاہور پہنچا اور صبح کو حسین زنجانی کا جنازہ شہر سے باہر لایا گیا۔

تبلیغ اشاعت اسلام:

اللہ والوں کی زندگی کے دورخ نمایاں ہیں ایک اللہ کا ذکر اور اس کی عبادت میں مشغول رہنا اور دوسرا لوگوں کو اللہ کی طرف بلانا اور بارگاہِ ربوبیت کے آداب سکھلا کر انہیں بھی اللہ والا بنا دینا۔ سید علی ہجویری کی حیات مبارکہ کو بلاشبہ دو حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلے حصے میں آپ نے طلبِ فیض کے لئے اسلامی دنیا کا سفر کیا جبکہ دوسرے حصے میں اشاعت اسلام کے لئے ہندوستان کا رخ کیا اور اور دین کی تبلیغ و اشاعت کا کام شروع کیا اورلاہور میں قیام پذیر ہوئے۔

سید علی ہجویریؒ کی تصانیف:

سیدنا علی بن عثمانؒ ایک عظیم المرتبت عالم اور بلیغ النظر محقق کی جامع صفات کے حامل تھے اور اس کے ساتھ ساتھ آپؒ کا باطن بھی نورِ عرفان سے بھر پور تھا۔ آپؒ نے کئی تصانیف لکھیں جن میں سے چند تصانیف کے نام درج ذیل ہیں:

• دیوان (مجموعہ کلام)

• کتاب فنا و بقا

• اسرار الخلق و المونات

• کتاب البیان لابل العیان

• بحر القلوب

• الرعائیۃ الحقوق اللہ

• منہاج الدین

• شرح کلام منصور الحاج

اور سب سے مایہ ناز تصنیف کشف المحجوب ہے۔ لیکن صد افسوس کہ ان میں سے کوئی ایک تصنیف بھی موجود نہیں ہے۔ بعض تصانیف لوگوں نے سرقہ کر کے اپنے ناموں سے منسوب کر لیں جس کا ذکر آپؒ نے خود بڑی حسرت سےکشف المحجوب میں صراحت کے ساتھ کیا ہے۔

وصال:

سید علی بن عثمانؒ کے وصال شریف کے بارے میں مورخین میں اختلاف پایا جاتا ہے۔ محمد احمد قادری لکھتے ہیں۔

’’آپ کا وصال 9 محرم الحرام 465ھ کو ہوا۔ ‘‘

(ہجویری، سید علی داتا گنج بخش، (2012ء)، کشف المحجوب، (مترجم محمد احمد قادری)، لاہور، مرکز معارف اولیاء داتا دربار کمپلیکس، ص: 63)

ڈاکٹر محمدباقر نے دیگر محققین کی نسبت تاریخ وفات پر سیر حاصل گفتگو کی ہے وہ آپ کی کتاب میں درج صوفیاء کرام سے آپ کی ملاقاتوں کے تناظر میں استنتاج کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

’’یہ امر یقینی ہے کہ سید علی ہجویری 500ھ تک بقید حیات تھے۔ ‘‘

(ہجویری، سید علی داتا گنج بخش، (2012ء)، کشف المحجوب، (مترجم محمد احمد قادری)، لاہور، مرکز معارف اولیاء داتا دربار کمپلیکس، ص: 63)

"غلام سرور لاہوری نے خزینۃ الاصفیاء میں تاریخ وصال 464ھ یا 466ھ لکھی ہے۔

"(غلام سرور، (1994ء)، خزینۃ الاصفیاء، لاہور، مکتبہ نبویہ، ص: 34)

"اے ، آر نکلس مترجم کشف المحجوب کے نزدیک وصال باکمال 465ھ یا 469ھ کو ہوا۔ "

(ہجویری، سید علی بن عثمان، (1967ء)، دیباچہ کشف المحجوب، (مترجم نکلسن)، ص: 19)

سید علی بن عثمانؒ کا مزار لاہور میں بھاٹی گیٹ کے پاس تقریبا ایک ہزار سال سے موجود ہے۔ آپؒ کا مزار آج بھی زائرین کے لئے انوار و تجلیات کا مرکز ہے۔ آپ کا روضہ ناصر الدین مسعود کے بیٹے ظہیر الدین الدولہ نے تعمیر کروایا۔ اور خانقاہ کا فرش اور ڈیوڑھی جلال الدین اکبر بادشاہ 1555ء تا 1605 ء کی تعمیر ہیں۔

حضرت داتا گنج بخش ؒ کا عرس ہر سال اسلامی مہینہ صفر المظفر کی 18 سے 20 تاریخ تک منایا جاتا ہے۔

سید علی بن عثمان ؒ اور علامہ اقبالؒ:

علامہ اقبال کو آپؒ سے بے حد عقیدت تھی‘ اقبال اکثر آپؒ کے مزار پر روحانی فیض کے لیے حاضر ہوتے تھے۔ اقبال نے جب اپنا پہلا فارسی شعری مجموعہ اسرارِ خودی شائع کیا تو اُس میں ’حکایتِ نوجوانے از مرو کہ پیشِ حضرت سید مخدوم علی ہجویری رحمتہ اللہ علیہ آمدہ از ستم اعدا فریاد کرد‘ کے نام سے ایک باب شامل کیا۔ علامہ اقبال نے اس نظم میں آپ کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ حضرت سید علی ہجویریؒ امت کے سردار ہیں' آپ کا مزار بہت بڑے بزرگ حضرت خواجہ معین الدین چشتیؒ کے لیے مانند حرم ہے۔ پنجاب کی سر زمین آپ کے دم سے زندہ ہو گئی' ہماری صبح آپ کے آفتاب سے منور ہوئی (مراد برصغیر میں اسلام آپ ہی کی بدولت پهیلا)۔ آپ کی برکت سے ہمارے ہاں وہی دور تازہ ہو گیا جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں اُس وقت کی اسلامی دنیا میں موجود تھا اور ان کے ارشادات سے دینِ حق کا شہرہ عام ہو گیا۔

سيد هجوير مخدوم امم مرقد او پير سنجر را حرم

خاک پنجاب از دم اوزنده گشت صبح ما از مهر او تابنده گشت

عهد فاروق از جمالش تازه شد حق ز حرف او بلند آوازه شد

(محمد اقبال، (1994ء)، کليات اقبال، لاهور، اقبال اکادمى پاکستان، ص:67)

(جاری ہے)