خود اعتمادی ایک ذہنی کیفیت کا نام ہے جس میں انسان کو اپنی ذات پر مکمل یقین اور بھروسہ ہوتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ اس میں سب کچھ کرنے کی صلاحیت ہے وہ اعتماد سے گفتگو کرتا ہے اور اس کے ہر عمل میں یقین ہوتا ہے۔ خود اعتمادی کو انگریزی میں Self confidence کہا جاتا ہے۔
خود اعتمادی کا مفہوم
خود اعتمادی اور خود انحصاری مترادفات ہیں اور ان کا لفظی معنی اپنے آپ پر انحصار اور اعتماد کرنا ہے۔ اصطلاح میں اپنی صلاحیتوں کو پہچاننا، ان کا ادراک کرنا اور اپنی طاقت، قوت اور صلاحیت پر بھروسہ کرنا خود اعتمادی کہلاتا ہے۔
اسلام انسان کو بہت سے اخلاق و اوصاف کو اپنانے کی تلقین کرتا ہے جن میں عزم و ہمت، حوصلہ، خود انحصاری اور خود اعتمادی سرفہرست ہیں۔ اسلام انسان کو کم ہمتی اور محتاجی سے بچنے کی تلقین کرتا ہے اور ناسازگار حالات و مواقع پر عزم و ہمت سے کام لینے اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے کا درس دیتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
فَاِذَا عَزَمْتَ فَتَوَکَّلْ عَلَی اﷲِ۔
(آل عمران،۳: 1۵۹)
’’جب آپ کسی بات کا عزم کرلیں تو اللہ پر توکل کریں۔‘‘
اہمیت و فضیلت
خود اعتمادی انسان کے بہترین وصف کا نام ہے۔ کوئی بھی انسان چاہے مرد ہو یا عورت، جب وہ کوئی بڑا کام انجام دینا چاہے تو اس میں اعتماد کا ہونا بہت ضروری ہوتا ہے کیونکہ خود اعتمادی انسان کی وہ خوبی اور طرزِ عمل ہے جو اس کے لیے عظیم مقاصد کو حاصل کرنا آسان بنادیتی ہے۔خود اعتمادی اور خود انحصاری انسان کے اندیشوں، خوف اور شکوک و شبہات کو دور کرکے انسان میں اعتماد اور امید پیدا کرتی ہے اور انسان کی جدوجہد، کوشش اور کامیابی کے امکانات کو روشن کردیتی ہے۔
قرآن مجید میں اہل علم مردو خواتین کی جو صفات ذکر ہوئی ہیں ان میں خود اعتمادی اور توکل علی اللہ سرفہرست ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ اہل ایمان مرد و خواتین پر جب کوئی مشکل یا مصیبت آتی ہے تو وہ کم ہمتی اور بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرتے اور اللہ پر توکل کرتے ہوئے ہمت، حوصلے اور خود اعتمادی سے ان مشکلات کا سامنا کرتے ہیں۔ توکل علی اللہ ایک ایسی صفت ہے جو خود اعتمادی اور خود انحصاری سے پیدا ہونے والے تکبر سے بچاتا ہے اور انسان خود اعتمادی سے اپنے معاملات کو احسن طریقے سے انجام دے سکتا ہے۔ خود اعتمادی کسی بھی قوم، نسل یا قبیلے کی اجتماعی عزت و آبرو کا باعث ہوتی ہے۔
خود اعتمادی کے معاشرتی فوائد
خود اعتمادی کی وجہ سے انسان کو بہت سے معاشرتی فوائد حاصل ہوتے ہیں جن میں سے چند ایک درج ذیل ہیں:
1۔ خود اعتمادی انسان کو خاص طور پر خواتین کو اندیشوں، خوف اور شکوک و شبہات سے محفوظ رکھتی ہے۔
2۔ خواتین کے لیے کامیابی کے امکانات کو روشن کردیتی ہے اور وہ بغیر کسی سہارے کے اپنی دانشمندی اور صلاحیتوں کی بناء پر پیش آمدہ مسائل کو حل کرسکتی ہیں۔
خود اعتمادی اور نبی کریم ﷺ کا طرزِ عمل
اسلام دین فطرت ہے اور اپنے ماننے والوں کے تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے۔ اسلام میں مردو خواتین کو عزت عطا کی گئی ہے۔
نبی کریم ﷺ کی حیات مبارکہ خواتین کے ساتھ حسن سلوک اور اچھے تعامل کی آئینہ دار ہے۔ آپ ﷺ جیسے مردوں کے ساتھ شفقت و انسیت کا مظاہرہ فرماتے ویسے ہی نبوی شفقت خواتین کو بھی عطا فرماتے تھے۔ آپ ﷺ خواتین کی نہ صرف تربیت فرماتے تھے بلکہ ان کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آتے تھے تاکہ ان میں خوداعتمادی اور خود انحصاری پیدا ہوسکے۔ آپ ﷺ اپنی رضاعی ماؤں کا بہت احترام فرماتے تھے۔ اسی طرح اپنی کنیزوں اور باندیوں کو بھی عزت دیتے تھے جس کی وجہ سے ان خواتین میں خوداعتمادی اور خود انحصاری حد درجہ موجود تھی اور وہ معاشرے میں سر اٹھاکر چلتی تھیں۔ حضرت عائشہ صدیقہؓ فرماتی ہیں کہ
’’رسول اللہ ﷺ نے کبھی بھی اپنے ہاتھ سے کسی عورت اور خادم کو نہیں پیٹا۔‘‘
آپ ﷺ نے امت کی تربیت کے دوران خواتین کی تربیت کا خصوصی اہتمام فرمایا تاکہ خواتین کی عزت میں اضافہ ہو اور وہ خود اعتمادی کے ساتھ معاشرے میں مردوں کے شانہ بشانہ کھڑی ہوسکیں۔
دینِ اسلام کا خواتین کو عزت و وقار دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ اسلام خواتین کو پُراعتماد اور پُروقار دیکھنا چاہتا ہے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات بھی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ اسلام میں خواتین کو خوداعتمادی کے وصف سے ہمکنار کرنے کی ہر ممکن کوشش کی گئی ہے۔ مردوں کے برابر معاشرتی و معاشی حقوق دیئے گئے ہیں۔ بطور ماں، بہن، بیٹی، بیوی خواتین کے حقوق اس کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے ہر رشتے کا احترام کرنا سکھایا اور امت کے مردوں کو بھی خصوصی تلقین کی کہ وہ خواتین کے حقوق احسن طریقے سے ادا کریں تاکہ وہ خود اعتمادی کے ساتھ اپنے فرائض کی تکمیل کرسکیں۔
سیرت طیبہ ﷺ سے ثبوت
آپ ﷺ کا تمام ازواج مطہرات کے ساتھ بہت پیار، محبت، الفت اور احترام کا تعلق تھا جب آپ ﷺ مدینہ طیبہ میں موجود ہوتے تو روزانہ عصر کی نماز کے بعد تمام ازواج مطہرات کے پاس تشریف لے جاتے تھے ان کے پاس بیٹھتے، گفتگو فرماتے، گھر کے کاموں میں ان کی مدد فرماتے، کبھی آٹا گوندھ دیتے کبھی صفائی کردیتے اور ہر ایک کی ضرورت کا پوچھ کر اس کی ضرورت پوری فرماتے تھے۔
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ آپ ﷺ ان کی سہیلیوں کے ساتھ بھی شفقت فرماتے تھے جب وہ حضرت عائشہؓ کے ساتھ وقت گزارنے کے لیے آتی تھیں تو آپ ﷺ ان کے ساتھ خندہ پیشانی سے پیش آتے تھے اور کسی معاملے میں روک ٹوک نہ فرماتے تھے۔
نبی کریم ﷺ خواتین کی تعلیم و تربیت میں ان عوامل کو ملحوظ رکھتے تھے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات میں خود اعتمادی اور خود انحصاری کے ساتھ ساتھ توکل علی اللہ پر بھی زور دیا گیا ہے کیونکہ اہل ایمان پر جب مشکل یا پریشانی کا وقت آتا ہے تو وہ کم ہمتی اور بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے خوف کا شکار نہیں ہوتے بلکہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی خود اعتمادی اور توکل علی اللہ کی بہترین مثال ہے۔
جب آپ ﷺ کسی سفر پر روانہ ہوتے تھے تو ازواج مطہرات کے درمیان قرعہ اندازی فرماتے جس کا نام نکل آتا اسے سفرمیں ساتھ لے جاتے۔ ایک سفر میں سیدہ عائشہؓ نبی کریم ﷺ کے ساتھ تھیں پیدل دوڑ میں آپ ﷺ کے ساتھ ان کا مقابلہ ہوا تو وہ حضور ﷺ سے آگے نکل گئیں۔ اس کے کچھ عرصہ بعد جب دوبارہ حضرت عائشہؓ کا حضور ﷺ کے ساتھ مقابلہ ہوا تو آپ ﷺ جیت گئے۔ اس وقت آپ نے فرمایا یہ تمھاری اس جیت کا جواب ہوگیا۔
حضور ﷺ کے خواتین کے ساتھ حسن سلوک سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنے ساتھ تعلق رکھنے والی تمام خواتین کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ انہیں عزت واحترام دیں، ان کے حقوق کو پورا کریں تاکہ ان میں خوداعتمادی پیدا ہوسکے اور وہ اپنے معاشرتی فرائض احسن طریقے سے ادا کرسکیں۔
بیویوں کے ساتھ ساتھ آپ ﷺ نے اپنی بیٹیوں کی بھی بہت اعلیٰ تربیت فرمائی۔ آپ ﷺ اپنی تمام بیٹیوں سے بے انتہا محبت فرماتے تھے۔ حضرت فاطمہؓ جو آپ ﷺ کی لاڈلی اور چھوٹی بیٹی تھیں اور جن سے آپ ﷺ کی نسل مبارک چلی، جب بھی آپ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوتیں تو آپ ﷺ ازراہِ احترام و محبت کھڑے ہوجاتے اور شفقت سے ان کی پیشانی کا بوسہ لیتے۔
آپ ﷺ کا یہ عمل امت کی تربیت کے لیے مشعلِ راہ ہے جب بھی آپ اپنی بیوی، بیٹی، بہن یا ماں سے محبت و شفقت کا معاملہ کرتے ہیں تو ان خواتین میں خوداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ ان کی عزت افزائی، ان کی شخصیت میں خود اعتمادی اور خود انحصاری پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خواتین خود کو معاشرے کا اہم فرد سمجھتی ہیں اور معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔
نبی کریم ﷺ کی بارگاہ اقدس میں مسلمان عورتوں کی بہت زیادہ عزت تھی۔ اگر مسلمان عورتیں آپ ﷺ سے ملنا چاہتیں یا اپنا کوئی مسئلہ بیان کرنا چاہتیں تو آپ ﷺ نہ صرف انہیں خصوصی وقت دیتے بلکہ ان کے مسائل کو شفقت سے سنتے اور ان کا حل عطا فرماتے تھے۔ انھیں وعظ و نصیحت فرماتے تھے اور اگر ان کی کوئی حاجت ہوتی تو اسے پورا فرماتے تھے اور ان کی ضرورتوں کی تکمیل فرماتے۔ غیر مسلم خواتین کے ساتھ بھی آپ ﷺ حسن سلوک فرمایا کرتے تھے تاکہ وہ خود اعتمادی اور خود انحصاری کے وصف سے آراستہ ہوکر معاشرے میں اپنے فرائض کو احسن طریقے سے انجام دیں۔
آپ ﷺ نے اپنے وصال سے پہلے امت کو جن چند چیزوں کی تلقین فرمائی اس میں خواتین کے ساتھ حسن سلوک کرنا بھی شامل تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا:
سنو تم عورتوں کے ساتھ بھلائی کرنے کی وصیت قبول کرو۔
آپ ﷺ کے اس فرمان کا مقصد خواتین کو اہمیت دینا، عزت دینا اور ان کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنا تھا۔آپ ﷺ کے صحابہؓ اگر اپنی خواتین کے ساتھ ناروا سلوک کرتے تو آپ ﷺ انہیں حکمت کے ساتھ سمجھاتے تھے اور ان کے رویوں کی اصلاح فرماتے تھے۔ ایسے ہی ایک موقع پر آپ ﷺ نے اپنے صحابہؓ کو سمجھاتے ہوئے فرمایا:
اپنی بیویوں کو مارنے والے اچھے لوگ نہیں ہیں۔
آپ ﷺ کے اس فرمان کا مقصد خواتین کو عزت دینا اور ان کے حقوق کی حفاظت کرنا تھا اور یہی وہ عوامل ہیں جن کی وجہ سے خواتین میں خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ اگر خواتین کے حقوق پورے نہ ہوں اور معاشرے میں ان کی عزت نہ کی جائے تو وہ کبھی بھی اعتماد کے ساتھ معاشرے میں نہیں چل سکتیں اور نہ ہی اپنے فرائض کو پورا کرسکتی ہیں۔
خود اعتمادی کے اسباب و ذرائع
خود اعتمادی خواتین کو ترقی یافتہ بنانے میں اہم کردار ہے۔ خود اعتماد خواتین مشکل سے مشکل صورت حال میں بھی خود کو قائم رکھتی ہیں اور ہوش مندی کے ساتھ بہترین فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ خود اعتمادی کے ساتھ ساتھ عاجزی اور توکل علی اللہ بھی بہت ضروری ہے کیونکہ اگر خود اعتمادی اور خود انحصاری میں تکبرو غرور جیسے منفی جذبات شامل ہوجائیں تو انسان کی ساری کوششیں بے کار ہوجاتی ہیں اور وہ مقاصد کے حصول میں ناکام ہوجاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ خود اعتمادی اور خود انحصاری کو تکبر و غرور جیسے منفی جذبات سے پاک رکھا جائے اور مثبت فکر یعنی عاجزی اور اللہ پر توکل کے جذبات سے مسائل کے حل کی طرف بڑھا جائے تاکہ کامیابی انسان کا مقدر بن سکے۔ ایسے انسان کو لوگ عزت و قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں جو خود اعتماد ہونے کے ساتھ ساتھ عاجز اور اللہ پر بھروسہ کرنے والا ہو۔
نبی کریم ﷺ خواتین کی تعلیم و تربیت میں ان عوامل کو ملحوظ رکھتے تھے۔ قرآن و حدیث کی تعلیمات میں خود اعتمادی اور خود انحصاری کے ساتھ ساتھ توکل علی اللہ پر بھی زور دیا گیا ہے کیونکہ اہل ایمان پر جب مشکل یا پریشانی کا وقت آتا ہے تو وہ کم ہمتی اور بزدلی کا مظاہرہ نہیں کرتے اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کے خوف کا شکار نہیں ہوتے بلکہ ہمت اور حوصلے کے ساتھ مشکلات کا سامنا کرتے ہیں اور اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ کی پوری زندگی خود اعتمادی اور توکل علی اللہ کی بہترین مثال ہے۔ آپ ﷺ نے مشکل اور ناپسندیدہ حالات میں بھی خود اعتمادی اور خود انحصاری سے کام لیتے ہوئے عزم و ہمت اور استقلال کا مظاہرہ کیا اور آپ ﷺ کا یہ عمل امت کی تمام خواتین و حضرات کے لیے مشعل راہ ہے۔
ہمیں نبی کریم ﷺ کے خواتین کو پراعتماد اور خودانحصار بنانے کے طریقوں کو اپنانا ہوگا اور اس سلسلے میں سب سے پہلی چیز جسے اختیار کرنا ضروری ہے وہ خواتین کے ساتھ حسن سلوک ہے جس کا قرآن و حدیث میں حکم دیا گیا ہے۔
حضور ﷺ کے خواتین کے ساتھ حسن سلوک سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنے ساتھ تعلق رکھنے والی تمام خواتین کے ساتھ حسن سلوک کریں۔ انہیں عزت واحترام دیں، ان کے حقوق کو پورا کریں تاکہ ان میں خوداعتمادی پیدا ہوسکے اور وہ اپنے معاشرتی فرائض احسن طریقے سے ادا کرسکیں۔ یہی اسلام کا طرہ امتیاز ہے کہ وہ خواتین کو عزت و احترام کے ساتھ بنیادی انسانی حقوق عطا کرتا ہے تاکہ خواتین خود اعتمادی ور خود انحصاری کے اعلیٰ مرتبے کو پاسکیں اور اپنے مقام پر رہتے ہوئے اپنی ذمہ داریوں اور فرائض کو احسن انداز سے پورا کرسکیں۔ اس لیے خواتین کو اسلامی تعلیمات کو حاصل کرنا چاہیے اور اپنی معاشرتی زندگی کے لیے رہنمائی لینی چاہیے۔
خود اعتمادی کے اثرات
خود اعتمادی ایک ایسی خوبی ہے جو ایک فرد کو ہمیشہ عزت عطا کرتی ہے۔ اس کا احترام کیا جاتا ہے اور خود اعتماد انسان کی رائے لی جاتی ہے۔ اس کی بات سنی جاتی ہے۔ خود اعتمادی سے انسان کے کام اور گفتگو میں حسن اور نکھار پیدا ہوتا ہے۔ خود اعتمادی کی وجہ سے انسان مشکلات کا سامنا کرنے اور ان سے نکلنے کے قابل ہوتا ہے۔ اس میں فیصلہ کرنے اور عمل کی قوت پیدا ہوتی ہے۔ خود داری اور خود اعتمادی کی وجہ سے انسان میں خود انحصاری پیدا ہوجاتی ہے۔
خواتین کے لیے خود داری، خود اعتمادی اور خود انحصاری کے اوصاف کا حامل ہونا انتہائی ضروری ہے تاکہ وہ معاشرے کی باوقار اور خود انحصار فرد ثابت ہوں۔ اس سلسلے میں خواتین کو قرآن و حدیث سے رہنمائی لینے کی سخت ضرورت ہے۔ قرآن و حدیث میں انسان کو خود اعتمادی و خود انحصاری کے وہ گر سکھائے گئے ہیں جو دنیا کی کسی اور کتاب میں موجود نہیں ہیں۔ قرآن مجید میں اللہ کے مقرب بندوں کی صفات بیان ہوئی ہیں اور ایسے بندوں کو عبادالرحمن کا خطاب دیا گیا ہے۔ ان میں خوداعتمادی و خود انحصاری اہم ترین صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ان صفات کو خود بیان کرنا اور ان کی تعریف کرنا دراصل اس امر کی اہمیت پر زور دینے سے مترادف ہے۔