(زیر نظر مضمون جنوری 2025ء میں شائع کیے گئے آرٹیکل کا دوسرا حصہ ہے - قسط نمبر 9)
گذشتہ قسط میں اس بات کو زیر بحث لایا گیا کہ خدا کے وجود کو تسلیم کیے بغیر انسان بلند فکر اور اعلیٰ اخلاق کا حامل شخص نہیں بن سکتا گو کہ صدیوں سے بے دین اور الحاد کے نظریے کو ماننے والے یہ دعویٰ کرتے آ رہے ہیں کہ انسان خدا کے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔ مگر حقیقت اس کے برعکس ہے کیونکہ خدا کو تسلیم کیے بغیر انسان فانی اور کھوکھلی زندگی تو گزار سکتا ہے مگر حقیقت سے بیگانہ ہوتا ہے۔ وجود باری تعالیٰ سے انکار، مادہ پرستی، دولت سے لطف اندوزی اور محض عیش و عشرت کی تلاش انسان کو بالآخر بیزاری کی طرف دھکیلتی ہے اور وہ زندگی میں کبھی بھی اطمینان نہیں پاسکتا۔
انسان خدا کی ایک منفرد اور بے مثال تخلیق ہے خدا نے ہمارے وجود میں ابدیت کا جو سافٹ وئیر انسٹال کیا ہوا ہے وہ ہماری روحانی و اخلاقی بلندی سے ہی اپ ڈیٹ رہ سکتا ہے۔ اسی لیے لازوال منزل کا شعور صرف خدا کے وجود پر یقین کے ساتھ ہی تکمیل پاسکتا ہے۔
1۔ خدا کے وجود کو ماننے والا انسان مایوس نہیں ہوتا
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی کے خطابات 2024ء سے ہماری زندگی پر یہ اثر مرتب ہوتا ہے کہ ہم مایوسی اور نااُمیدی کی دلدل سے نجات حاصل کرتے ہیں۔
جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے
لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللّٰهِ ؕ
(الزمر، 39: 53)
’’تم اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہونا‘‘
مومن اس شان کا حامل ہوتا ہے۔ اسکے مزاج میں کبھی ناامیدی واقع نہیں ہوتی کیونکہ
وہ اس رب کا ماننے والا ہے جس کا مذکورہ فرمان ہے۔ خدا کے وجود کو ماننے والے پر یہ
محاورہ فٹ آتا ہے: Never Give Up’’کبھی ہمت نہ ہارو‘‘
وہ اپنے مزاج کو شگفتہ، وسیع اور ہر دم تازہ دم رکھتا ہے۔ اس کے اندر کچھ کرنے کا جذبہ
ہر وقت بیدار رہتا ہے۔ سستی، ناکامی او ر کمزوریوں کو خود سے دور رکھتا ہے کیونکہ وہ
ایسے معبود پر یقین رکھتا ہے‘ جو زمین و آسمان کے تمام خزانوں کا مالک ہے۔ اللہ پر
توکل اور بھروسہ اس کی روحانی تازگی کو مزید جلا بخشتا ہے وہ ہمہ وقت پر عزم پر عزم
اور بلند ہمت رہتا ہے۔
جدید معاشرتی زندگی میں یہ ایک عام نظریہ ہے کہ ہم نے محنت، کوشش اور کاوش کرکے جو کمایا ہے اس پر صرف ہمارا ہی حق ہے۔ عقل، علم اور ٹیکنالوجی کے بل بوتے پر ہم نے چلنا ہے اور اگر اسی پر بھروسہ کرینگے تو آگے چل سکیں گے ورنہ نہیں۔ انسان اپنی عقل اور صلاحیت پر اتنا بھروسہ کر بیٹھا ہے کہ خدا کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتا اور پھر یہی بھروسہ اور لوگوں سے قائم کی جانے والی لمبی لمبی اُمیدیں انسان کو بالآخر مایوسی کا شکار کر دیتی ہیں۔
انسان خدا کی ایک منفرد اور بے مثال تخلیق ہے خدا نے ہمارے وجود میں ابدیت کا جو سافٹ وئیر انسٹال کیا ہوا ہے وہ ہماری روحانی و اخلاقی بلندی سے ہی اپ ڈیٹ رہ سکتا ہے۔ اسی لیے لازوال منزل کا شعور صرف خدا کے وجود پر یقین کے ساتھ ہی تکمیل پاسکتا ہے۔
نبی کریم ﷺ داعی الی اللہ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے نہ صرف ہمارا تزکیہ و تصفیہ فرمایا بلکہ ہمیں نظریۂ حیات عطا فرمایا ہے۔ اس لحاظ سے ہم ایک نظریاتی امت ہیں وہ نظریہ جس نے ہماری سوچوں کے رُخ بدل دیئے ہیں اور وہ یہ ہے کہ کوشش کرنا انسان کے ذمے ہے باقی ہونا وہ ہے جو رب تعالیٰ نے چاہنا ہے۔
عقیدہ توحید ماننے کا ایک ثمر یہ بھی ہے کہ رب تعالیٰ جو چاہے گا، جتنا چاہے گا جس کو چاہے گا اپنے فضل سے عطا فرمائے گا۔ نبی کریم ﷺ نے مکمل محنت کا حکم دیا جدوجہد کی تعلیم دی، ہمت پکڑنے کی ترغیب دی۔ لیکن فرق یہ ہے کہ غیر مسلم اسباب سے نتیجہ چاہتا ہے مومن کی شان یہ ہے کہ وہ محنت کر کے نتیجہ اپنے رب کریم پر چھوڑ دیتا ہے۔ مسلمان کی توجہات کا مکمل مرکز اللہ رب العزت کی ذات ہوتی ہے۔ہمیں یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم نے اپنا ہر معاملہ رب تعالیٰ کے سپرد کر دینا ہے۔
حضور ﷺ فرماتے ہیں کہ اگر تم رب پر بھروسہ کرو گے تو وہ تمہیں ویسے ہی رزق دے گا جیسے پرندے کو دیتا ہے۔
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
لَوْ أَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَوَكَّلُونَ عَلَى اللّٰهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ لَرُزِقْتُمْ كَمَا يُرْزَقُ الطَّيْرُ تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا.
(ترمذي، الصحيح، كتاب الزهد، باب في التوكل على الله، 4/373، الرقم/2344، أحمد بن حنبل، المسند، 1: 30، الرقم: 205)
’’اگر تم اللہ پر ویسے بھروسہ کرو جیسا کہ بھروسہ کرنے کا حق ہے تو تمہیں ایسے رزق دیا جائے جیسے پرندوں کو رزق دیا جاتا ہے۔وہ صبح خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو آسودہ حال واپس آتے ہیں۔‘‘
رسول اللہ ﷺ ہمیں اس بات کی ترغیب دے رہے ہیں کہ ہم دنیا اور دین سے متعلق تمام کاموں میں نفع حاصل کرنے اور نقصان سے بچنے کے معاملے میں اللہ پر مکمل بھروسہ کریں جبکہ ہمارا سارا توکل بندوں پرہے۔
2۔ خدا کا تصور انسان کو پُرعزم اورحوصلہ مند بناتا ہے۔
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی کے خطابات 2024ء سے ہماری شخصیت اور مزاج پر جو ایک گہرا اثر مرتب ہوتا ہے وہ یہ کہ خدا کو ماننے والا کبھی شکوہ نہیں کرتا اور زندگی میں آنے والے مصائب و آلام کو اللہ رب العزت کی طرف سے آزمائش سمجھ کر خندہ پیشانی اور صبر سے برداشت کرتا ہے۔سورہ تغابن میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:
مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ ؕ وَ مَنْ یُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ یَهْدِ قَلْبَهٗ ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
[التغابن، 64: 11]
’’(کسی کو) کوئی مصیبت نہیں پہنچتی مگر اللہ کے حکم سے اور جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے تو وہ اُس کے دل کو ہدایت فرما دیتا ہے، اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔‘‘
جو شخص اللہ پر ایمان لاتا ہے وہ اس کے دل کو سکون عطا کر دیتا ہے۔ اس کی طبیعت اور مزاج میں تلخی نہیں رہتی۔ کسی دنیاوی دکھ اور تکلیف میں اسے شکایت نہیں رہتی کہ دل کی بے قراری و بے چینی، اضطراب و شش و پنچ الغرض یہ سارا پیچ و تاب جو آدمی کھاتا رہتا ہے، وجود خدا پر ایمان لا کراس کی رضا کے متلاشی کو مقام رضا کے ذریعے اس سے نجات مل جاتی ہے۔یعنی جب بندہ اپنی مرضی اللہ تعالی کی مرضی میں گم کردیتا ہے تو اس کے کئی لا ينحل عقدے حل ہو جاتے ہیں۔ اسی لئے اقبال نے کہا ہے:
برون کشید ز پیچاک ہست و بود مرا
چہ عقدہ ہاکہ مقامِ رضا کَشود مرا
(زبور عجم)
اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ذریعے مجھے ہست و بود کے سارے چکروں سے نکال لیاہے۔ مقامِ رضا نے میرے کیا کیا مشکل اور پیچ پڑے معاملات (عقدے) حل کر دیئے۔
اللہ کی رضا پر راضی رہنا درحقیقت وجودِ باری تعالیٰ پر ایمان کے ثمرات میں سے اعلی درجے کا ثمرہ ہے۔ خدا کے ہونے کا یقین انسان کو ان وسوسوں سے نجات دلاتاہے کہ یہ کیوں ہو گیا؟ یہ کیسے ہو گیا؟ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا!اس نے میراکام بگاڑ دیا. یہ ساری چیزیں ختم ہو جاتی ہیں صرف اس یقین سے کہ جو ہوا اللہ کے حکم سے ہوا۔ وہ ہر مصیبت اور تکلیف کو اللہ کی طرف سے آزمائش اور امتحان سمجھتا ہے۔ یہ یقین انسانی زندگی کابہت بڑا انعام اور فائدہ ہے۔
اہل ایمان کی صلاحیتوں کو نکھارنے اور ان کے درجات کی ترقی کے لیے امتحانات اور
آزمائشیں آتی رہتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ بندۂ مومن کو تکلیف میں ڈال کر اس میں نکھار پیدا
کرتا ہے تاکہ اس کے اندر کا جوہر نکھر جائے اور ہیراچمک جائے۔
اس امتحان اور آزمائش پر پورا اترنے کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ یہ تکالیف آزمائشیں اور
مصیبتیں درجہ بدرجہ انسان کی دینی،ایمانی، روحانی ترقی کا ذریعہ بنتی ہیں۔ جتنا اس
میں صبر، یقین ہو گا اتنا ترقی کرتا چلا جائے گا۔ دنیا میں تکالیف بڑے نفع کا سودا
ہے۔ یہ تکالیف انسان کے لیے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں۔
اللہ تعالیٰ پر ایمان اور یقین کی وجہ سے ایک بندۂ مومن بڑی سے بڑی تکلیف اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی نہ تو دل میں شکوہ کرتا ہے اور نہ ہی حرفِ شکایت زبان پر لاتا ہے ‘ بلکہ وہ ہر حال میں پیکر تسلیم و رضا بنا رہتا ہے کہ اے اللہ ! میری بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے : بِیَدِكَ الْخَیْر! تیری طرف سے میرے لیے خوشی آئے یا غم‘ مجھے قبول ہے ‘ تیری جو بھی رضا ہو اس کے سامنے میرا سر تسلیم خم ہے۔
دکھ درد اور تنگی تکلیف کے بارے یہ حقائق اگر سامنے رہیں تو پھرکوئی تکلیف اور مصیبت انسان کو گرنے نہیں دیتی۔ کیونکہ ایک رب کو ماننے والا انسان عزم و حوصلہ اور صبر و استقامت کا پہاڑ ہوتا ہے۔ وہ جو کام بھی کرتا ہے رب کی رضا کیلئے کرتا ہے لہذا وہ الله کی رضا کے لئے بڑے سے بڑے کام بھی سر انجام دینے کے لئے اٹھ کھڑا ہوتاہے جبکہ اس کے برعکس خود غرضی اور دنیاوی لالچ انسان کو تھکا دیتے ہیں اور لاغر کردیتے ہیں۔
3۔ ایک خدا کو ماننا بے نیازی اور قناعت پیدا کرتا ہے
شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی کے خطابات 2024ء سے انسانی زندگی پر یہ اثرات مرتب ہوتے ہیں کہ وہ بے نیازی و قناعت کا پیکر بن جاتا ہے۔ وہ ہر وقت توکل الی اللہ کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیتا ہے اور اس کے دل میں یہ یقین پختہ ہو جاتا ہے کہ توکل سے ہی اطمینان حاصل ہوتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ پر توکل و بھروسہ اور یقین سے محروم ہے، وہ دن رات بے چین اور مضطرب رہتا ہے اور ہر وقت شکوہ کناں رہتا ہے کہ مجھے زندگی میں یہ نہیں ملا؟ اگر میں اس وقت ایسا کرلیتا تو اس نقصان سے بچ جاتا! اگر میرا فلاں دوست عین وقت پر ایسا نہ کرتا تو ایسا نہ ہوتا! کاش میں یوں کرلیتا! کاش‘ اے کاش! … گویا انسان اگر مقام تسلیم و رضا سے ناآشنا ہو تو چھوٹے چھوٹے واقعات بھی اس کے دل کا روگ بن جاتے ہیں اور اس کے پچھتاوے کبھی ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔
میرا يقین ہے کہ شیخ الاسلام دامت برکاتہم کے خطابات 2024ء سننے کے بعد ہر شخص اس بات کا قائل ہوگا کہ ایک خدا اور ایک مذہب کو نہ صرف ماننا بلکہ اپنانا ضروری ہے۔ اگر خدا کے وجود کا انکار کر دیا جائے تو پھر یہ معاشرہ حیوانی معاشرہ بن کر رہ جائے گا جہاں فساد اور قتل و غارت گری اور شکوک و شبہات کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
جب انسان کے اندر یہ عقیدہ پختہ ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں اور تمام جہاں اُس کا محتاج ہے۔ تو یہ عقیدہ اس کے اندر قناعت پیدا کرتاہے۔ اس کے اندر شانِ بے نیازی اور انسان بناوٹی زندگی نہیں برتتا بلکہ اس کے مزاج اور طبیعت میں انتہاء کی سادگی پیدا ہوتی ہے۔ وہ ذاتِ باری تعالیٰ کی طرف رجوع کرتا ہے اور کسی اور کی پرواہ نہيں کرتا۔ جب ذہنوں میں یہ بات راسخ ہو جاتی ہے کہ عزت وقوت اللہ کے ہاتھ ميں ہے تو ایسے لوگ اپنے رستوں کا تعین خود کرتے ہیں اور ہواؤں کے رُخ پھیر دینے کی قوت رکھتے ہیں۔
دو عالم سے کرتی ہے بیگانہ دل کو
عجب چیز ہے لذتِ آشنائی
4۔ خدا کے وجود کو ماننے والا قوانین کی پابند کرتاہے
کسی بھی ملک کی ترقی و تنزلی کا راز اس کے قوانین کی پابندی میں مضمر ہوتا ہے۔ ہمارا دین اسلام ہے اور اسلام اللہ جل جلالہ کا عطا کیا ہوا ایسا نظام زندگی ہے جس کی پابندی ہم پر فرض ہے۔
ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَ لَا تَعْثَوْا فِی الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ
(البقرۃ، 2: 60)
’’اللہ کی زمین میں فساد پھیلانے والے مت بنو‘‘
چونکہ قانون توڑنے اور اصول و ضوابط کا احترام نہ کرنے سے افراتفری پھیل جاتی ہے جس کی بنا پر نہ صرف افراد کاسکون تہہ و بالا ہو جاتا ہے بلکہ پورے معاشرے اور قوم کی زندگی متاثر ہو جاتی ہے۔ اس لئے مذہب اسلام مسلمانوں کو قانون کا احترام اور پابندی کی تاکید کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ایک طرف رب تعالیٰ کو ماننے، ایثار و سخاوت اور اکرام مسلم کا درس دیتا ہے تو دوسری طرف ان میں آخرت کی جوابدہی کا شعور پیدا کرتا ہے اور یہ احساس دلاتا ہے کہ اگر وہ اپنے اثر و رسوخ یا دھوکے فریب سے دنیا میں قانون کی خلاف ورزی کی سزا سے بچ بھی گئے تو آخرت میں انہیں خدا کی گرفت سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔
اس ضمن میں شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری مدظلہ العالی کے خطابات 2024ء سے معاشرتی اعتبار سے بہت مثبت اثرات مرتب ہوں گے کہ جس انداز سے انہوں نے رب تعالیٰ کے وجود کو ماننے پر عقلی و سائنسی دلائل دیئے ہیں اس سے یقیناً ہر ذی شعور خدا کے وجود کا اقرار کئے بغیر نہیں رہ سکتا یہ اقرار ہر شخص کے اندر جوابدہی کا تصور اور اس بناء پر قانون کی پابندی سیکھاتا ہے اور ایسے معاشرے میں رہنے والا ہر انسان یہ سمجھتا ہے کہ زندگی کو نظم و ضبط دینے کے لیے ایک قانون سازی کی ضرورت ہے جسے ہر سطح پر قبول کیا جانا چاہیے۔ سماجی سطح پر مختلف معیارِ زندگی، رسم و رواج، طور طریقے، روایات اور ضابطے متعین ہوتے ہیں۔ تجارتی زندگی میں بھی قواعد و ضوابط، معیارات اور کچھ طور طریقے مقرر ہوتے ہیں۔ خدا کو ماننے والا الله کے قانون کا پابند ہوتا ہے‘ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ الله ہر ظاہری اور خفیہ چیز کو جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر حال میں اسے دیکھتا ہے۔ لہٰذا وہ کوئی ایسا کام نہیں کرتا جو رب کی نافرمانی کا باعث ہو۔ جس طرح ریاست کے باشندوں کو اپنے ملک کے بنائے ہوئے قانون کے مطابق ہی اپنی زندگی بسر کرنا پڑتی ہے اسی طرح وجودِ الٰہی پر ایمان رکھنے والوں کے لئے اس کے دیئے ہوئے مذہب کو تسلیم کرنا انسانی زندگی کی فکری، نظریاتی، عملی، اعتقادی اور انتظامی ضرورت ہے۔ اسلامی معاشرے میں قانون کا احترام نہایت ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول ﷺ کی اطاعت کا حقیقی مفہوم اور اس کی اصل روح یہ ہے کہ قانون کا احترام اور پابندی کی جائے۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ
[ محمد، 47: 33]
اے ایمان والو! تم اللہ کی اطاعت کیا کرو اور رسول ( ﷺ ) کی اطاعت کیا کرو اور اپنے اعمال برباد مت کرو۔
اسلام امن و سکون اور سلامتی کا مذہب ہے۔ مذہب کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر معاشرے، ہرقوم اور ہرملک کے کچھ قوانین اور ضوابط ہوتے ہیں، پُرامن اور پُر سکون زندگی گزارنے کے لیے ان کی پابندی از حد ضروری ہے۔ قانون توڑنے اور اُصول وضوابط کا احترام نہ کرنے سے پورے معاشرے اور قوم کی زندگی متأثر ہوجاتی ہے جبکہ ایک خدا کا وجود ماننے والا اپنے خالقِ حقیقی کا مطیع اور فرماں بردار ہوتا ہے وہ کبھی قانون کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔
شیخ الاسلام دامت برکاتہم العالیہ نے اپنے اہم خطابات کے بارے خود فرمایا:
’’ان خطابات کو بار بار سنیں۔ اس سے ایمان والوں کا ایمان مضبوط ہوگا، شکوک و شبہات کا شکار ایمان کی طرف پلٹ آئیں گے اور جو انکار کی حد تک چلے گئے ہیں انہیں اللہ پاک اپنی معرفت اور ایمان کا راستہ دکھا دے گا۔‘‘
(اقتباس از خطاب شیخ الاسلام، خطاب نمبر: خطاب نمبر: Ca-17 ،6 اپریل 2024ء)
اللہ تعالیٰ پر ایمان اور یقین کی وجہ سے ایک بندۂ مومن بڑی سے بڑی تکلیف اور مشکل سے مشکل حالات میں بھی نہ تو دل میں شکوہ کرتا ہے اور نہ ہی حرفِ شکایت زبان پر لاتا ہے ‘ بلکہ وہ ہر حال میں پیکر تسلیم و رضا بنا رہتا ہے کہ اے اللہ ! میری بھلائی تیرے ہاتھ میں ہے : بِیَدِكَ الْخَیْر! تیری طرف سے میرے لیے خوشی آئے یا غم‘ مجھے قبول ہے ‘ تیری جو بھی رضا ہو اس کے سامنے میرا سر تسلیم خم ہے۔
کفر والحاد اور بے دینی کا شکار ہونے والی نئی نسل کے لئے شیخ الاسلام کے خطابات مردہ اجسام میں روح ڈالنے کے مترادف ہیں۔
میرا يقین ہے کہ شیخ الاسلام دامت برکاتہم کے خطابات 2024ء سننے کے بعد ہر شخص اس بات کا قائل ہوگا کہ ایک خدا اور ایک مذہب کو نہ صرف ماننا بلکہ اپنانا ضروری ہے۔ اگر خدا کے وجود کا انکار کر دیا جائے تو پھر یہ معاشرہ حیوانی معاشرہ بن کر رہ جائے گا جہاں فساد اور قتل و غارت گری اور شکوک و شبہات کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔
(جاری ہے)