ڈاکٹر جویریہ حسن

غیر معمولی تعلیمی و تخلیقی صلاحیت کے ہمرکاب شبانہ روز سعی و جدوجہد ہی کسی فرد یا قوم کو ترقی کی منازل پر فائز کرتی ہے۔ تاریخ کے جھروکوں میں جھانکیں تو کئی قومیں اور شخصیتیں علم کے مینار ہ پر جگمگاتی دکھائی دیتی ہیں جواپنا فطری دورانیہ حیات مکمل کرنے پر افق سے غائب ہو جاتی ہیں اور انکی جگہ نیا طلوع ہونے والا سورج لے لیتا ہے بالکل اسی طرح جیسے ہر صبح کے بعد شام اور ہر شام کے بعد نئی صبح کا سورج ایک نئی امید کے ساتھ طلوع ہوتا ہے۔

آفاق علم پر طلوع ہونے والا ایک نئی صبح کا آفتاب زرتاب ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نوجوان محقق ومصنف ہیں۔ یوں تو انکی متنوع معاشرتی، اخلاقی، قانونی اور عصرِ حاضر سے متعلقہ موضوعات پر کثیر تصانیف منصح شہود پر آچکی ہیں مگر حالیہ جس تصنیف نے حلقہ علم و ادب میں نمایاں مقام حاصل کیا اور اپنی طباعت کے فوری بعد کئی کاپیز ہزاروں اہلِ علم کے ہاتھوں میں پہنچیں اور یہی غیر معمولی رجحان راقمہ کی توجہ اس جانب مبذول کرنے کا باعث بنا وہ ’’دستورِ مدینہ اور فلاحی ریاست کا تصور‘‘ ہے۔

علم کی اس قدر پذیرائی بالخصوص اس معاشرے میں جہاں تخلیق و تحریر کا رجحان ترقی یافتہ معاشروں سے نسبتاً کم ہو اہل علم و دانش کے لیے یک گونہ آسودگی کا باعث بنتا ہے۔

زیرِ نظر تصنیف کے امتیازات و تفردات پر روشنی ڈالی جائے تو کتاب کے کثیر مشتملات توجہ کا مرکز بنے چونکہ میثاقِ مدینہ یا دستورِ مدینہ پر یہ پہلی جامع اور کثیر الجہات تجزیاتی تحقیق ہے۔ مصنف موصوف نے انتہائی عرق ریزی سے ریاست مدینہ کی جزئیات انتظامی، معاشی، عدالتی، قانونی، جنگی و دفاعی قوانین، انسانی حقوق، آزادی اظہارِ رائے، بین الاقوامی تعلقات ومعاہدات کے لیے وضع کردہ اصول و ضوابط کو ٹھوس اور مستند حوالہ جات کے ساتھ بیان کیا ہے۔

مستشرقین کے پیش کردہ اشکالات کا ازالہ کرنے کے بعد روایتی فکر سے قطع نظر میثاق مدینہ کو فقط ایک معاہدہ کی بجائے کائنات انسانی کے پہلے تحریری دستور کے طور پرEstablishکروانا؛ زیر مطالعہ تصنیف کا تنہا یہی کارنامہ میدان علم و فن میں اپنا نام پیدا کرنے کے لیے کافی ہے۔ تصنیف کے مشتملات کی تصدیق و توثیق پر عالم اسلام کی ممتاز یونیورسٹی جامعۃ الازہر کی تقاریظ بھی اس کا امتیازی وصف ہے۔ سرسری مطالعہ کتب سے ہی یہ امر مترشح ہے کہ مصنف نے رسمی و روایتی انداز سے قطع نظر نہایت عمیق نظری سے جن مباحث کو احاطہ قلم میں لایا ہے وہ آج کے کثیر التہذیبی منظر نامے میں اقوام عالم کو امن و استحکام کی نئی جہتیں روشناس کروا سکتے ہیں۔

بنیادی مبحث اگرچہ دستور مدینہ کی آئینی و قانونی حیثیت ثابت کرنا اور اسے دور ِموجود سے متعلق کرتے ہوئے استفادہ کی صورتیں تلاشنا تھا مگر کئی ہمہ پہلو موضوعات جیسے دستور ِمدینہ کی توثیق و تصدیق میں درج کردہ روایات و آرٹیکلز کی تخریج، راویوں کے احوال اور حدیث مرسل کی حجیت پر جامع ابحاث نے اس کتاب کو ابتدائی، امہات، مصادر کتب کے درجہ میں جگہ دے دی ہے جو شرعی علوم کے ماہرین کے لیے نادر ذخیرہ علمی ہے۔

المختصر مصنف موصوف نے اس تحقیق کے واسطے سے خود کو شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری جیسی مایہ ناز علمی شخصیت کا فرزندِ ارجمند اور عالمی سطح پر علم کی وارث تحریک منہاج القران کا رہنما ہونا بلا شبہ ثابت کر دیا ہے۔

دنیا کی پانچ سے زائد زبانوں میں طبع ہونے والی یہ تصنیف نہ صرف دینی علوم و فنون کے ماہرین، قانون دان طبقہ، ریاستی و ادارتی سربراہان بلکہ عالمی اداروں، عدل و انصاف کے لیے کوشاں آزادی اظہار رائے اور تکریم انسانی کی خاطر قائم قومی و بین الاقوامی تنظیمات کے لیے یکساں مفید ومشعل راہ ہے اللہ رب العزت امت مسلمہ کو ڈاکٹر حسن محی الدین قادری جیسے فرزند گانِ ملت سے نوازتا رہے جو ہر دور میں دین پر اٹھتے ابہامات کو رفع کرنے کی سعی جمیلہ میں مصروفِ عمل رہیں۔

مشرقی معاشروں میں تو شاذ ہی جب کہ عرب محققین میں سے کسی نے بھی میثاق مدینہ کو بطور دستور اہمیت دیتے ہوئے اس کے آرٹیکلز کی تحقیق وتنقیح اس اسلوب کے ساتھ پیش نہیں کی جس سے جدید آئینی اصول وضع کیے جا سکیں۔

بیشتر نے آئینی دساتیر کے استنباط تک اپنے تحقیقی جائزے کو محدود رکھا۔ البتہ مستشرقین میں سے رابرٹ بیٹرم سارجنٹ، جو لیس ولہاؤزن، جان وینسک، ولیم منٹگمری، موشے گل اور مائیکل لنگر نے میثاق مدینہ کا تحسینی و تنقیدی مطالعہ تو ضرور کیا مگر دستور مدینہ سے ماخوذ دستوری، حکومتی، آئینی اور سیاسی اصولوں کو نہ تو واضح کیا نہ ہی ان سے اس کی توقع کی جا سکتی ہے۔ مقام تعجب تو یہ ہے کہ عرب محققین نے مستشرقین کی ان کتب سے استفادہ تو درکنار اعتراضات کا جواب دینے کے لیے ان کتب کے تراجم کا بھی اہتمام نہیں کیا زیر نظر کتاب میں اس خلا کو بھی کما حقہٗ پر کیا گیا ہے۔

بطور پہلا اسلامی ریاستی، ٓائینی و قانونی دستور دستور مدینہ کا جدید (امریکی برطانوی اور یورپی) دساتیر سے تقابلی موازنہ زیر نظر تحقیق کا منفرد پہلو ہے۔ریاست کے عناصر ترکیبی، نظام ریاست کے عمومی و تخصیصی اصول و قواعد، حقوق انسانی، حکومتی و ریاستی اختیارات جیسے اہم موضوعات پر قلم اٹھاتے ہوئے معاصر ادوار کے ترقی یافتہ ممالک کے دساتیر سے تقابلی جائزہ پیش کرنے کے ساتھ آج سے 1400 سال قبل نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے وضع کردہ دستور کو مثالی ترین دستور کے طور پر ثابت کرنا گویا اسلام کو از سر نو زندہ کرنے اور اسلامی روایات کو اس کی اصل بنیادوں پر لوٹانے کے مترادف ہے۔

گویا ہر دور کے بدلتے تقاضوں کے عین مطابق ریاستی فلاح و ترقی کا ضامن حضور نبی مکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا عطا کردہ دستور ہے۔ جس نے عالمی سطح پر تہذیبوں کے مابین امن، بقائے باہمی اور خیر و فلاح کا درس دیا۔ وہ نمونہ کمال جس کی اساس پر بین المسالک اور بین الممالک انتشارو فساد کو ختم کر کے جنگ کی بجائے باہم ہم آہنگ نظریات پر صلح جوئی کی جانب پیشرفت کی جا سکتی ہے۔ بلحاظ انسان بنیادی انسانی حقوق میں برابری اور اقلیتوں سمیت تمام افراد معاشرہ کے حقوق کا تحفظ مسلم جمہوری حکومتوں کا بھی فرض ہے نیز یہ ماڈل حقوق انسانی کی عالمی تنظیموں کے لیے بھی نمونہ عمل ثابت ہو سکتا ہے۔

المختصر مصنف موصوف نے اس تحقیق کے واسطے سے خود کو شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری جیسی مایہ ناز علمی شخصیت کا فرزندِ ارجمند اور عالمی سطح پر علم کی وارث تحریک منہاج القران کا رہنما ہونا بلا شبہ ثابت کر دیا ہے۔دنیا کی پانچ سے زائد زبانوں میں طبع ہونے والی یہ تصنیف نہ صرف دینی علوم و فنون کے ماہرین، قانون دان طبقہ، ریاستی و ادارتی سربراہان بلکہ عالمی اداروں، عدل و انصاف کے لیے کوشاں آزادی اظہار رائے اور تکریم انسانی کی خاطر قائم قومی و بین الاقوامی تنظیمات کے لیے یکساں مفید ومشعل راہ ہے اللہ رب العزت امت مسلمہ کو ڈاکٹر حسن محی الدین قادری جیسے فرزند گانِ ملت سے نوازتا رہے جو ہر دور میں دین پر اٹھتے ابہامات کو رفع کرنے کی سعی جمیلہ میں مصروفِ عمل رہیں۔