خاندانی نظام کو درپیش چیلنجز اور حل

ایم اے زیب رضا خان

ریاست کے بہت سے اداروں میں سے خاندان ریاست کا پہلا اور اساسی ادارہ ہے۔ جو نسل نو کی تعلیم و تربیت میں اہم کرد ار ادا کرتا ہے۔ خاندان کی بلند اور مستحکم اخلاقی اقدار معاشرتی ا ستحکام وتعمیر میں مدرگار ثابت ہوتی ہیں۔ یعنی معا شرے کے استحکام پر اور خاندان کا استحکام افراد خانہ کی تربیت پرمبنی ہے۔ اور گھر ہی وہ مرکز ہے جہاں افرادی قوت تیار ہوتی ہے۔

خاندان کی اہمیت:

خاندان کی اہمیت کااندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کسی مضبوط معاشرتی نظام کا تصور مضبوط خاندانی نظام کےبغیر ممکن نہیں ہو سکتا۔ یہ ایک ایسا ادارہ ہے جس پر کسی بھی قوم کی ترقی کا انحصار ہوتا ہے۔ معاشرت انسانی کی بقاء کے لیے خاندانی نظام کی بقاء لازمی امر ہے۔ دور جدید کا ترقی یافتہ انسان ذہنی طور پر جس قرب میں مبتلا ہے اس کی بڑی وجہ اس کی جائے تسکین کا بگاڑ کا شکار ہونا ہے۔

پاکستان کا خاندانی نظام:

پاکستان کے خاندانی نظام کی اساس ہمارے دین اور تاریخی و ثقافتی ورثہ پر رکھی گئی ہے۔ ہمارے خاندانی نظام کی ساخت میں بہت سے عوامل کارفرما ہیں۔ جس میں علاقائی، معاشی، تہذیبی و تمدنی اور تاریخی روایات کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ بہت سے اسبا ب و محرکات ایسے بھی ہیں جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ خاندانی نظام کی ساخت اور وظائف پر اثر ڈالتے ہیں۔ اوراس خاندانی ادارہ میں تغیر ہو رہا ہے۔

پاکستان کے خاندانی نظام کی اقسام:

بلحاظ ساخت پاکستان میں دو اقسام کے خاندانی نظام موجود ہیں۔

1۔ مشترکہ خاندانی نظام

2۔ جداگانہ خاندانی نظام یا سادہ خاندان

مشترکہ خاندان:

مشترکہ خاندان کی بھی دو اقسام ہیں۔

پہلی قسم:

اس میں ماں باپ اور بچوں کے علاوہ ان کے قریبی رشتہ دار جن میں دادا دادی، نانا نانی، چچا چچی، ساتھ رہتے ہیں۔ یہ خاندان دراصل دو خاندانوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ جس میں والدین اپنے بچوں کی شادیاں کرنے کے بعد ان کے ساتھ رہتے ہیں۔ اسی طرح اگر شوہر شادی کے بعد اپنی بیوی کے ہمراہ سسرال میں رہے تو یہ بھی مشترکہ خاندان کہلاتا ہے۔ پاکستان میں یہ خاندانی نطام بکثرت دیہاتوں میں نظر آتا ہے اس کی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے دیہاتوں کی معیشت کا زیادہ تر انحصار رزعی پیداوار پر ہے۔ اس لیے وہاں مشترکہ خاندانی نظام پایا جاتا ہے۔

دوسری قسم:

اس قسم کے خاندان میاں بیوی، والدین اور بچوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ عمومی طور پر ایسے خاندانوں کی تعدا د پاکستان میں زیادہ ہے۔

جداگانہ خاندانی نظام:

س طرح کے خاندان میں والدین شامل نہیں ہوتے۔ صرف میاں بیوی اور ان کے بچے ہی خاندان کی تشکیل کرتے ہیں۔

خاندانی نظام کو درپیش چیلنجز

خاندانی نظام کسی بھی معاشرتی ڈھانچے کا بنیادی ستون ہوتا ہے، جو نسلوں کی تربیت، اقدار کی منتقلی اور سماجی ہم آہنگی کا ضامن ہے۔ ایک مضبوط خاندانی نظام نہ صرف انفرادی بلکہ اجتماعی سطح پر بھی استحکام پیدا کرتا ہے۔ تاہم، جدید دور میں خاندانی نظام کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، جن میں معاشی دباؤ، سوشل میڈیا کا اثر، خاندانی اقدار کی زوال پذیری، ذہنی دباؤ، اور والدین و اولاد کے درمیان فاصلے جیسے مسائل نمایاں ہیں۔

خاندانی نظام کو درپیش ان چیلنجز کا سامنا کیسے کیا جائے؟ ان مسائل کی نوعیت کیا ہے اور ان کا عملی حل کیا ہو سکتا ہے؟ یہ تمام پہلو نہایت غور و فکر کے متقاضی ہیں، تاکہ ہمارا خاندانی ڈھانچہ اپنی اصل روح کے ساتھ برقرار رہے اور مستقبل کی نسلیں ایک متوازن اور پرامن زندگی گزار سکیں۔

جدید ٹیکنالوجی نے جہاں دنیا کو گلوبل ویلج بنایا ہے، وہیں سوشل میڈیا اور اسمارٹ فونز نے خاندانی روابط کو کمزور کر دیا ہے۔ والدین اور بچے ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے بھی ایک دوسرے سے دور ہو چکے ہیں۔ کھانے کی میز پر بھی ہر فرد اپنے موبائل میں مصروف نظر آتا ہے۔ نتیجتاً، خاندان کے افراد میں قربت اور مکالمہ ختم ہوتا جا رہا ہے، جس سے رشتوں میں دراڑیں پڑ رہی ہیں۔ اس کا حل یہی ہے کہ گھروں میں ڈیجیٹل ڈیٹوکس کا رجحان اپنایا جائے، خاندانی نشستوں کو فروغ دیا جائے اور والدین بچوں کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزاریں تاکہ ورچوئل دنیا کی بجائے حقیقی دنیا میں رشتے مضبوط ہوں۔

خاندانی نظام کی بقاء کے لیے فلاحی، تعلیمی اور دینی ادارے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان اور دنیا بھر میں ایسے کئی ادارے موجود ہیں جو خاندانی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان میں منہاج القرآن انٹرنیشنل ایک نمایاں نام ہے، جو تعلیم، اخلاقیات، اور دینی شعور کو اجاگر کرکے معاشرے میں خاندانی استحکام کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی قیادت میں یہ ادارہ نوجوان نسل کی اخلاقی اور روحانی تربیت پر خصوصی توجہ دے رہا ہے، تاکہ وہ جدید چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے اپنی خاندانی اقدار کو محفوظ رکھ سکیں۔

مشترکہ خاندانی نظام، جو ہمارے ثقافتی اور معاشرتی اقدار کا اہم جزو تھا، آہستہ آہستہ ختم ہو رہا ہے۔ اس کی جگہ جوہری خاندانی نظام نے لے لی ہے، جہاں والدین اور بچوں کے علاوہ کوئی اور شامل نہیں ہوتا۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف رشتے کمزور ہو رہے ہیں بلکہ والدین کے لیے بڑھاپے میں سہارا بھی ختم ہوتا جا رہا ہے۔ اس کی بڑی وجہ معاشی مسائل اور مہنگائی بھی ہے، جس کی وجہ سے ہر فرد اپنی الگ شناخت بنانے میں مصروف ہے۔ خاندان کے افراد کو چاہیے کہ وہ معاشی تعاون اور مدد کے اصول کو اپنائیں تاکہ مشترکہ خاندانی نظام برقرار رہے۔

گزشتہ چند دہائیوں میں طلاق کی شرح میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ ازدواجی زندگی میں عدم برداشت، عدم اعتماد، اور غیر ضروری توقعات کی وجہ سے رشتے کمزور ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا، ماڈرن ازم، اور مغربی ثقافت کے اثرات نے خاندانی نظام پر منفی اثر ڈالا ہے، جس کے باعث چھوٹی چھوٹی باتوں پر رشتے ختم ہو جاتے ہیں۔ اس مسئلے کے حل کے لیے قبل از شادی رہنمائی کو فروغ دیا جانا چاہیے، والدین کو بچوں کو تحمل اور برداشت کی تربیت دینی چاہیے، اور خاندانی مسائل کے حل کے لیے مشاورت کو عام کیا جانا چاہیے تاکہ ازدواجی زندگی میں استحکام پیدا ہو سکے۔

جدید مصروفیات اور طرزِ زندگی کی تبدیلی نے والدین اور بچوں کے درمیان ایک وسیع خلا پیدا کر دیا ہے۔ والدین کے پاس بچوں کے لیے وقت نہیں اور بچے اپنی دنیا میں مگن ہیں، جس سے ان کے درمیان اعتماد کم ہوتا جا رہا ہے۔ اس فاصلے کو کم کرنے کے لیے والدین کو چاہیے کہ وہ بچوں کے ساتھ معیاری وقت گزاریں، ان کی سرگرمیوں میں دلچسپی لیں اور ان کے ساتھ دوستانہ تعلقات استوار کریں تاکہ وہ اپنے مسائل گھر میں ہی شیئر کریں، نہ کہ باہر غلط راستے اختیار کریں۔

خاندانی نظام کی مضبوطی میں مذہب اور اخلاقی اقدار کا کلیدی کردار ہے۔ تاہم، جدید معاشرتی تبدیلیوں نے روایتی مذہبی اصولوں کو کمزور کر دیا ہے، جس کی وجہ سے نسلِ نو میں اخلاقیات کی کمی دیکھی جا رہی ہے۔ اس کا واحد حل یہی ہے کہ گھروں میں دینی تعلیم اور اخلاقی تربیت کا ماحول بنایا جائے، والدین خود عملی نمونہ بنیں اور بچوں کو دینی اور اخلاقی سرگرمیوں میں شامل کریں تاکہ وہ اپنی اقدار کے ساتھ جڑے رہیں۔

خاندانی نظام کی بقاء کے لیے فلاحی، تعلیمی اور دینی ادارے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ پاکستان اور دنیا بھر میں ایسے کئی ادارے موجود ہیں جو خاندانی نظام کو مستحکم کرنے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ ان میں منہاج القرآن انٹرنیشنل ایک نمایاں نام ہے، جو تعلیم، اخلاقیات، اور دینی شعور کو اجاگر کرکے معاشرے میں خاندانی استحکام کے فروغ کے لیے کام کر رہا ہے۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کی قیادت میں یہ ادارہ نوجوان نسل کی اخلاقی اور روحانی تربیت پر خصوصی توجہ دے رہا ہے، تاکہ وہ جدید چیلنجز کا سامنا کرتے ہوئے اپنی خاندانی اقدار کو محفوظ رکھ سکیں۔

اسی طرح، دیگر رفاہی ادارے جیسے الخدمت فاؤنڈیشن، دارالعلوم دیوبند، جامعہ الازہر، اور اخوت فاؤنڈیشن بھی سماجی بہتری اور خاندانی استحکام کے لیے اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ ادارے تعلیمی، مالی، اور سماجی سطح پر عوام کی رہنمائی کر رہے ہیں تاکہ خاندانی نظام کو درپیش چیلنجز سے نمٹا جا سکے۔

خاندانی نظام کی مضبوطی صرف ایک فرد کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی اجتماعی کوشش سے ممکن ہے۔ والدین، تعلیمی ادارے، مذہبی رہنما، اور حکومت سب کو مل کر کام کرنا ہوگا تاکہ خاندانی اقدار کو بچایا جا سکے۔ اگر ہم ان چیلنجز کو سمجھ کر ان کے حل پر کام کریں، تو ہمارا خاندانی نظام مزید مستحکم ہو سکتا ہے اور ہماری آنے والی نسلیں ایک بہتر، محفوظ، اور پرامن زندگی گزار سکیں گی۔

یہی وہ نظام ہے جو معاشرے کی بقا اور ترقی کی ضمانت فراہم کرتا ہے، اور اس کے تحفظ کے لیے ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا ہوگا۔ منہاج القرآن انٹرنیشنل اور دیگر سماجی و دینی ادارے اس جدوجہد میں رہنمائی کا فریضہ انجام دے رہے ہیں، اور ہمیں بھی ان کوششوں کا حصہ بننا چاہیے تاکہ خاندانی نظام کو درپیش جدید چیلنجز کا کامیابی سے سامنا کیا جا سکے۔